Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415

Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 17

644.1K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Noor-e-Emaan Episode 17

Noor-e-Emaan by Umme Hani

اصفر نے بے یقنی سے حمنہ کے بے تاثر چہرے کو دیکھا تھا ۔۔۔۔ پھر چلتا ہوا اس کے مقابل کھڑا ہو گیا

” کیا کہا تم نے کہاں کروں گی اگلی ملاقات مجھ سے ” لہجہ متوازن تھا ۔۔۔ لیکن سنجیدگی سے بھر پور

” ٹھیک سے سنا نہیں آپ نے ۔۔۔ اگلی ملاقات کوٹ میں ہو گی ۔۔۔ مجھے خلع چاہیے ۔۔۔ اور اتنے با ظرف تو آپ ہیں نہیں کہ آسانی سے میرا یہ حق مجھے دیدیں ۔۔۔ تو ظاہر ہے کوٹ تو جانا ہی پڑے گا ۔۔۔ ” اتنا اجنبی لہجہ تھا کہ نا چاہتے ہوئے بھی طیش میں آ گیا تھا

” کیا بکواس ہے یہ ” اس سے پہلے کے وہ اسے بازو سے پکڑتا حمنہ پیچھے ہٹ گئ اسے غصے میں دیکھ کر کچھ خوفزدہ بھی ہوئی تھی ۔۔۔ لیکن ۔۔۔ خود کو۔با اعتماد ہی ثابت کر رہی تھی ۔۔۔ اصفر کی والدہ جلدی سے ان دونوں کے بیچ میں آ گئیں

” اصفر کنڑول یور سیلف ۔۔۔۔ ابھی وہ صدمے میں ہے ۔۔۔ اس لئے سمجھ نہیں پا رہی کہ کیا کہہ رہی ہے لیکن تم تو ہوش سے کام لو “

” جی نہیں میں پورے ہوش وحواس میں ہوں اگر یہ یہاں سے واپس نہیں گئے تو میں پولیس کو انفارم کر دوں گی ” حمنہ نے بنا لحاظ کے کہا اصفر نے اسے گھور کر دیکھا تھا

“حمنہ بیٹا کیا ہو گیا ہے تمہیں ۔۔ کیسی باتیں کر رہی ہو ۔۔۔ ہمارے علاؤہ اور ہے کون تمہارا ۔۔۔ اصفر کتنا پیار کرتا ہے تم سے ۔۔۔۔ ہم سب کتنا چاہتے ہیں تمہیں ۔۔۔ ایک اچھی ہیپی لائف ہے تمہاری ۔۔۔

Why do you want to ruin your life?

اصفر کی والدہ نے اسے سمجھانا چاہا

” یہ میری لائف ہے ۔۔۔ جو چاہے کروں ۔۔۔ ” حمنہ نے سخت لہجے سے کہا اصفر نے اپنی والدہ کو بیچ سے پیچھے کیا اور اس کے سامنے کھڑا ہو کر اس کی آنکھوں میں غصے سے دیکھنے لگا

” نو ۔۔۔۔ اٹس ناٹ آ یور لائف ۔۔۔۔ اٹس مائے لائف ۔۔۔

تمہیں عدالت جانا ہے شوق سے جاؤں ۔۔۔۔ خلع کا نوٹس بھیجنے میں اور خلع کا کیس لڑنے میں بہت فرق ہے حمنہ ۔۔۔۔۔ میں دیکھتا ہوں تمہارا یہ بے بنیاد کیس کون سا وکیل لڑنے کے لئے تیار ہوتا ہے ۔۔۔۔۔

ایک بات میری یاد رکھنا ۔۔۔۔ چھوڑو گا تو میں تمہیں کسی قیمت پر بھی نہیں ۔۔۔۔ ایک مہینے کے اندر اندر کیس کی جیت کے ساتھ تمہیں اپنے ساتھ لیکر جاؤں گا ۔۔۔۔

اسکے بعد خیر منانا تم اپنی ۔۔۔۔ اب تک میری صرف محبت دیکھی ہے تم نے ۔۔۔ آج کے بعد ضد دیکھوں گی ” یہ کہہ اصفر نے اپنی والدہ ہاتھ پکڑا اور اسکے گھر سے باہر جانے لگا

” آج تک تم نے بھی عورت کا ایک روپ دیکھا ہے اصفر حسن ۔۔۔۔ ایک محبت کرنے والی فرمابردار بیوی کا ۔۔۔۔۔آج کے بعد دوسرا دیکھوں گئے ۔۔۔۔ چھوڑو گی تو میں بھی نہیں ۔۔۔۔ نا تمہیں نا تمہارے باپ کو ۔۔۔ ” حمنہ چلا کر بولی تھی اصفر اور اسکی والدہ نے پلٹ کر دیکھا تھا ۔۔۔ اصفر اور حمنہ کی نظروں کا تبادلہ ہوا تھا ۔۔۔ ایک کی آنکھوں میں ضد تھی تو دوسرے کی آنکھوں میں صرف نفرت

اپنے باپ کے بارے حمنہ کے منہ سے سن کر وہ اسکی طرف غصے سے بڑھنے لگا تھا ۔۔۔ لیکن اسکی والدہ نے اسے بازو سے پکڑ لیا ۔۔۔۔

” اصفر چلو یہاں سے ” اصفر کی والدہ بھی تماشہ نہیں چاہتی۔ تھیں اصفر اسے غصے سے گھورتے ہوئے باہر چلا گیا

*******……

“ہوتی کون ہے وہ ڈیڈ کے بارے یوں بولنے والی لڑائی مجھ سے تھی تو مجھے بولتی جو بھی بنس تھا ڈیڈ کو بیچ میں لانے کی ہمت بھی کیسے ہوئی اسکی ۔۔۔۔ “

” گھر پہنچ کر بھی وہ غصے سے بپھرا ہوا تھا لاونج کے کے چکر کاٹتے ہوئے وہ بول رہا تھا حسن کمال صوفے پر بیٹھے بیٹے کی اپنے لئے محبت دیکھ کر دل ہی دل میں نہال تھے ۔۔۔ حمنہ سے بھی چھٹکارا مل رہا تھا

” میں تو بہت نرم مزاج ہی سمجھتی رہی حمنہ کو لیکن آج جو روپ اس کادیکھا ہے بہت دکھ ہوا مجھے” حسن کمال کے ساتھ بیٹھی اصفر کی والدہ تاسف سے بولیں ۔۔۔۔۔ انہیں حمنہ سے اس قسم کی امید نہیں تھی ۔۔۔

” چلو اچھا ہوا کہ تمہاری بھی آنکھیں کھل گئیں ورنہ تو تمہیں تو حمنہ بہت ہی نیک اور شریف ہی لگتی تھی ۔۔۔ یہ مڈل کلاس لڑکیاں ہوتی ہی بدتمیز اور خود مختار ہیں ۔۔۔ احسان فرموش یہ بھی بھول گئ کہ اسکی ماں کے ساتھ کیا بھلائی کی ہے میں نے “۔۔۔ حسن کمال نے جتاتے ہوئے کہا پھر اصفر کی طرف متوجہ ہوئے

“اصفر اس سے پہلے کے وہ تمہیں عدالت میں گھستے فورا سے طلاق دے دو اسے ” حسن کمال نے پانسہ تو بڑا زبردست پھنکا تھا کہ ایک ہی چال سے چت اور پٹ دونوں ہی اپنے ہاتھ تھے ۔۔۔ لیکن سامنے انہیں کا بیٹا تھا برجسہ انکی طرف دیکھ کر بولا

” او نو ڈیڈ ۔۔۔۔ طلاق تو کبھی نہیں دونگا اسے۔۔۔۔ شوق سے لڑے کیس ۔۔۔ایسی مات دونگا اسے کہ یاد کرے گی ۔۔۔ ” اصفر اس وقت غصے میں تھا

” اصفر وہ لڑکی صرف ہمہیں بدنام کر کے۔ نام کمانا چاہتی ہے ۔۔ عدالت میں تمہارے خلع کا کیس چلنے کا مطلب ہے میڈیا کا بازار گرم کرنا ۔۔۔ میں ایسا کوئی اسکینڈل نہیں چاہتا ” حسن کمال بی

” ڈیڈ آپ فکر مت کریں ۔۔۔ جب غلط ہم نہیں تو پھر فکر کیوں کریں ۔۔۔۔ نا جانے کس بات زعم ہے اس لڑکی کو ۔۔۔ میں بھی جب تک اسے اپنے سامنے جھکا دوں چین سے نہیں بیٹھوں گا ۔۔۔۔”غصے سے کہتے ہوئے وہ اوپر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔

*****……

دوسرے دن حمنہ کا رخ عدالت کی جانب تھا ۔۔۔۔

پہلے وکیل نے جب کیس سنا تو پہلے تو ہاتھ باندھے کچھ دیر حمنہ کو دیکھتا رہا عمر میں وہ اصفر کے برابر تھا ۔۔۔۔ حمنہ اس کے اس طرح سے غور سے دیکھنے پر متذبذب سی ہوئی تھی پھر وہ مسکرانے لگا ۔۔۔۔ پھر مسکراہٹ گہری ہوئی ۔۔۔ پھر اپنی ریوالونگ چیر سے آگے کو ہو گیا ۔۔۔

” آپ کو پتہ مجھے وکالت کرتے ہوئے سات سال ہو گئے ہیں ۔۔۔۔ بہت کیس لڑے ہیں میں نے ۔۔۔ طلاق کے ۔۔ قتل کے ۔۔۔۔ عورتوں پر تشدد کے ۔۔۔ یہاں تک کے ریپ کیس بھی ۔۔۔ اور اللہ کے کرم سے آج تک شکست کا منہ نہیں دیکھا ۔۔۔ لیکن ان سات سالوں میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا کیس ہے جو میں آپ کے منہ سے سن رہا ہوں ۔۔۔۔ ” بڑا استزائیہ سا انداز تھا

” اس میں عجیب کیا ہے مسٹر شاکر ۔۔۔۔ ” حمنہ کی بات وہ ہسنے لگا حمنہ نے اسے گھور کر دیکھا تو وہ سنبھل کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔

‘ ” ایڈوکیٹ شاکر مجید مجھے لگے گا کہ آپ مجھے ایڈوکیٹ شاکر کہیں تو “

“بڑا چھچھورا سا وکیل ہے ” حمنہ نے دل میں سوچا

” او کے آئندہ دھیان رکھو۔ گی ۔۔۔ اب کام کی بات کر لیں؟ ” حمنہ کے لئے دئیے انداز پر وہ کچھ سنجیدہ ہونے لگا یا جان بوجھ کر خود کو سنجیدہ ثابت کرنے لگا

۔۔۔۔ایم سوری ڈاکٹر حمنہ بٹ ۔۔۔ آپ کی بات میں شاید ٹھیک سے سمجھ ہی نہیں پایا ہوں ” وہ یوں انجان بننے کا ناٹک کر رہا ہو حمنہ چپ ہی رہی

” آپ جانتی ہیں کہ ایک عورت کیا چاہتی ہے ۔۔۔

ایک اچھا گھر ۔۔۔ ویل ایجوکیٹ اور اچھی پوسٹ کا شوہر بنک ۔۔۔بیلنس ڈھیر ساری شاپنگ ۔۔۔۔ آسائشیں سہولیات ۔۔۔۔ میرے خیال سے یہ آپ کے ہسبنڈ آپ کو مہیا کر رہے ہیں ۔۔۔ اچھے نامور ڈاکٹر کا بیٹا ہے بنگلہ گاڑی بنک بیلنس کسی چیز کی کمی نہیں ہے آپ کی لائف میں آئی پرفیکٹ لائف آپ کی رہیں ہیں ۔۔۔ یہاں عورتیں ۔میرے پاس ۔۔۔ طلاق لینی کی مختلف وجوہات بیان کرتی ہیں ۔۔۔ شوہر خرچہ نہیں دیتا ۔۔۔ گھر کی اور بیوی بچوں کی ضروریات پوری نہیں کرتا ۔ ۔ مارتا پیٹتا ہے ۔۔۔

ساس سسر ظلم کرتے ہیں ۔۔۔ کام کرواتے ہیں ۔۔ بے جا پابندیاں وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ مگر آپ کے ساتھ ایسا کچھ نہیں کیا گیا ۔۔سیم آئی ۔ رائٹ ؟ ۔۔۔۔ “

“جی میرے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا ۔۔ لیکن میں جانتی ہوں میرے ہسبنڈ کی کمائی جائز نہیں ۔۔۔۔ میں ایسے شخص کے ساتھ نہیں رہ سکتی جس کی کمائی مشتبہ ہو ۔۔۔ ” حمنہ سنجیدگی سے جواب دے رہی تھی

” جو وجوہات آپ بتا رہیں ہیں یہ تو اب ایک سسٹم بن چکا ہے ہر جگہ یہی ہوتا ہے ۔۔۔ تقریبا اسی فیصد ڈاکٹر یہی کر رہے ہیں تو کیا آپ کی نظر میں اسی فیصد ڈاکٹر حرام کما رہے ہیں ؟۔۔۔ ” وکیل نے اسی سے سوال کیا

“جی ہاں جو جو ڈاکٹر بلاوجہ کے ٹیسٹ مریضوں کو لکھ کر دے رہے ہیں ۔۔۔ اور لیب سے کمیشن اٹھا رہے ہیں لوگوں کی جانوں اور مالوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں وہ حرام ہی کما رہے ہیں ” حمنہ کا لہجہ تلخ ہوا تھا

” لیکن آج تک آپ کے علاؤہ تو کسی ڈاکٹر کی بیوی ایسا کیس لیکر نہیں آئی ۔۔۔ کسی بیوی کو نا شوہر کا مال ناجائز لگ رہا ہے اور نا ہی اس بنا پر وہ طلاق کا مطالبہ کرنے آئی ہے پھر پ کو یہ خیال کیوں کر آنے لگا “

” میں سب کے ایمان کی جوابدہ نہیں ہوں ۔۔۔۔ ہر شخص اپنے ایمان کے ساتھ قیامت کے دن اٹھے گا ۔۔۔۔ میں رب کے سامنے شرمندہ نہیں ہونا چاہتی ” حمنہ کی بات وکیل نے غیر سنجیدہ انداز سے لی تھی

” قبر کا حال تو مردہ ہی بہتر جانتا ہے حمنہ جی ۔۔۔۔ دنیا میں ایسا کوئی قانون ہے نہیں ہے اور پاکستان میں بھی ایسا کوئی قانون نہیں ہے “

” میں خلع لینا چاہتی ہوں اور یہ میرا شریعی حق ہے ” حمنہ اپنے موقف پر قائم تھی

” جی بلکل شریعی حق ہے ۔۔۔ لیکن عدالت وجہ مانگتی ہے ۔۔۔ آپ عدالت میں حلف اٹھا کر یقینا جھوٹ تو نہیں بولیں گئیں آپ کا ایمان اس بات کی اجازت نہیں دے گا ؟” وکیل نے جیسے یہ بات تمسخرانہ انداز میں کی تھی

” جی ظاہر ہے میں کیوں چھوٹی قسم کھاؤں گی “

“دیکھیں یہاں آپ کو ایسے خلع نہیں ملے گی ۔۔۔ جھوٹ بولنا پڑے گا کہ آپ کے شوہر کا دوسری عورت سے تعلق ہے وہ آپ کو مارتا پیٹتا ہے ظلم کرتا ہے اگر آپ یہ سب بول لیں تو خلع دوسری پیشی پر لے دونگا آئی پرومس “

‘ نہیں میں جھوٹ نہیں بول سکتی ” صاف انکار ہوا تھا

” میں معذرت چاہتا ہوں ڈاکٹر حمنہ ۔۔۔۔ میں آپ کا کیس نہیں لڑ سکتا ۔۔۔ اور میں کیا کوئی بھی آپ کا کیس نہیں لے گا ۔۔۔۔ ” وکیل نے صاف ہاتھ جھاڑے تھے ۔۔۔۔ اس نے ہی نہیں بہت سے وکیلوں نے کیس لینے سے انکار کیا تھا۔۔۔۔۔ شام پانچ بجے تک وہ مختلف وکیلوں کے پاس دھکے کھا کر تھک ہار کر گھر پہنچی تھی تو گھر کے سامنے یوسف کی گاڑی کھڑی تھی اسکی بیوی اور بچے بھی ساتھ تھے

“سر آپ “

” جی حمنہ کل میں آ نہیں سکا آپکی والدہ تعزیت کے لئے ۔۔۔ اصفر سے سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا ” یوسف خفگی سے بولا یوسف کی بیوی آگے بڑھ کر حمنہ سے گلے ملی ۔۔۔ افسوس بھی کیا حمنہ نے گھر کا تالا کھولا انہیں اندر بلایا ۔۔۔۔ وہ لوگ بیٹھ گئے ۔۔۔ حمنہ نے اس سے کچھ بھی نہیں چھپایا تھا ہر بات کہہ دی یوسف تو سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔۔۔ اس کی بیوی بھی پریشان سی ہو گئ تھی ۔۔۔

” افف۔۔۔ حسن انکل پیسے کے لالچی ہیں یہ میں جانتا تھا ۔۔۔۔ اس لئے اصفر کے ہزار بار کہنے پر بھی اس کے ہاسپٹل میں نے جاب نہیں کی ۔۔۔ کیونکہ وہاں پیسوں کی قدر ہے انسانوں کی نہیں ۔۔۔ لیکن وہ اس حد تک گرے ہوئے بھی ہو سکتے ہیں یہ میں نہیں جانتا تھا کہ ایک جان ہی لے لیں گئے ۔۔۔۔ ورنہ با خدا تمہاری شادی کبھی بھی اصفر سے نا ہونے دیتا ” یوسف اسی بات پر شرمندہ تھا

“قسمت کی بات ہے سر آپ کیوں نادم ہو رہے ہیں ” حمنہ نے اسکی خفت دور کرنی چاہی

“مجھے تواصفر پر بھی غصہ آ رہا ہے ۔۔۔ ایسا تو نہیں ہے باپ کی کالی کرتوتوں سے انجان ہو ۔۔۔ بس پردہ ڈالے ہوئے ہے ۔۔۔۔ گھٹیا شخص ” یوسف تاسف سے بولا

” سر میں اپنا گھر بیچ رہی ہوں ۔۔۔ آپ کے پیسے جلد لوٹا دوں گی ” حمنہ کی بات پر اسکی بیوی برجستہ بولی

” کیوں غیروں والی بات کر رہی ہو حمنہ ۔۔۔ ہم پیسے مانگنے آئے ہیں کیا ؟۔۔۔ نہیں حمنہ ۔۔۔ گھر مت بیچو ۔۔۔ تمہارے ماں باپ کی نشانی ہے ۔۔۔ “وہ بڑی اپنایت سے بولیں

” میں بھی یہی کہنے آیا تھا تم سے کہ مجھے میری رقم واپس نہیں چاہیے ” یوسف نے بھی خفیف سی مسکراہث سے کہا

” سر اس کی ضرورت نہیں ہے “۔”

“حمنہ سر نہیں یوسف بھائی کہو گی تو مجھے ذیادہ اچھا لگے گا ۔۔۔۔ اور تم نے اپنا سمجھ کر ہی اتنے مان سے مجھ سے پیسے مانگے ۔۔۔ اچھا لگا مجھے ۔۔ کے برے وقت میں تمہیں میرا خیال آیا ۔۔۔

اگر مزید بھی کسی چیز کی ضرورت ہو تو بلا تکلف مجھ سے کہہ دینا یا اپنی بھابی سے کہہ دینا ایک ہی بات ہے ” یوسف کی بات پر اسکی بیوی نے بھی اثبات میں سر ہلایا

” میں تو کہتی ہوں یوسف اسے اپنے ساتھ لے جاتے ہیں یہاں اکیلی کیسے رہے گی ” یوسف کی بیوی نے فکر مندی سے کہا

” نہیں بھابی یہاں کے سب پڑوسی بہت اچھے ہیں ہر مشکل میں ساتھ دینے والے ۔میرا پورا بچپن انہیں لوگوں میں رہ کر گزرا ہے ۔۔ میں اکیلی نہیں ہوں ۔۔۔ امی کے بیڈ پر سوتے ہوئے لگتا ہے ماں کی گود میں سو رہی ہوں اس لئے کہیں نہیں جاؤں گی ۔۔۔” حمنہ نے نم آنکھوں سے کہا

” ٹھیک ہے حمنہ جیسا تم مناسب سمجھوں ۔۔۔ ہمہیں اب اجازت دو ۔۔۔۔ “یوسف کچھ ہی دیر میں جاچکا تھا ۔۔۔ حمنہ نے فریج سے کھانا نکالا اور گرم کر کے کھانے لگی ۔۔۔

سوچوں کی یلغار تھی ۔۔۔۔ اب تک کسی وکیل نے اس کا کیس لینے کی ہامی نہیں بھری تھی ۔۔۔

بھوک تو ویسے ہی اسکی مر چکی تھی اس لئے زہر مار کر کے چند نوالے ہی اندر ڈالے اور چائے بنا کر صحن میں بیٹھ گئ ۔۔۔ جب دروازے پر دستک ہوئی

دروازے کو کھولا تو سامنے ڈاکٹر غفور تھے ۔۔۔

“سر آپ آئیے نا اندر تشریف لائیں ” وہ اندر داخل ہو گئے ۔۔۔

” مجھے آج ہی پتہ چلا آپکی والدہ کے بارے میں ۔۔۔ بہت افسوس ہوا ۔۔۔ اور اس سے بڑھ کر افسوس اس بات کا ہوا کہ حسن نے مجھے اطلاع دینا بھی ضروری نہیں سمجھا چلو تمہاری تو ماں تمہیں کہاں ہوش رہی ہو گی تمہیں ان باتوں کی ۔۔ لیکن اصفر اور حسن تو بتا سکتے تھے ۔۔۔

” سر آپ چھوڑیں انہیں ۔۔۔۔ ہر انسان کو اپنے دکھ کا بوجھ خود ہی اٹھانا پڑتا ہے ۔۔۔ مجھے کسی سے شکوہ نہیں ہے “

“میں نے سنا ہے کہ آپکی والدہ کا آپریشن حسن نے کیا تھا ؟” ڈاکٹر غفور کی بات پر جیسے حمنہ کا زخم ہرا ہوا تھا منہ سے کچھ نہیں بولی بس اثبات میں سر ہلا گئ

” امیزنگ “انہوں نے تعجب کا اظہار کیا

” ڈاکٹر حسن تو آنکھیں بند کر کے بھی آپریشن کرے تو غلط نہیں کر سکتا ۔۔ پھر تمہاری والدہ کا معاملہ سمجھ نہیں آیا ۔۔۔۔ “

” ایک قانون اللہ کا بھی ہے سر ۔۔۔۔ جس کے آگے ہماری سائنس ٹیکنالوجی ہر چیز فیل ہے ۔۔۔ کن فیا کن کا پورا اختیار اس ذات نے اپنے ہاتھوں میں رکھا ہے ۔۔۔۔ میں اور آپ تو بس کوشش ہی کر سکتے ہیں ” حمنہ حسن کمال نام بھی سننا نہیں چاہتی تھی اپنی ماں کے ساتھ کی گئ ما انصافی کو اللہ کے سپرد کر چکی تھی ۔۔۔

” جی بے شک ۔۔۔ “

” سر میں کل سے ڈیوٹی جوائن کر لوں گی ” حمنہ بات پر ڈاکٹرغفور نے نرمی سے کہا

“ارے نہیں بیٹا چند دن اور گزار لوں ۔۔۔ میں تو صرف تعزیت کے لئے آیا تھا ۔۔۔ “

” گھر بیٹھ کر کیا کروں گی “۔

” چلو جیسے تمہاری مرضی ۔۔۔ بیٹا اگر کسی بھی قسم کی ضرورت ہو تو بلا جھجک کہہ دینا ۔۔۔ “

” جی ضرور ” ڈاکٹر غفور بھی اٹھ کر چلے گئے

کئ دن کی وکیلوں کی بھاگ دوڑ کے بعد دوبارہ اسی وکیل کو حمنہ نے اصفر کے ساتھ بات چیت کرتے دیکھا تھا ۔۔ اصفر اسی کے کیبن سے نکل رہا تھا دونوں ہنس کر بات کر رہے تھے ۔۔۔ حمنہ ذرا سا پیچھے ہٹ گئ ۔۔۔ تا کہ اصفر کی نظر اس پر نا پڑ جائے پھر اپنی فائل اپنے چہرے کے سامنے رکھ لی کیونکہ وہ دونوں وہیں سے گزر رہے تھے “

” اصفر صاحب آپ فکر ہی نا کریں پہلی پیشی ہی کافی ہے ۔۔۔ بے بنیاد سا کیس ہے ۔۔۔ سمجھ میں کے جیت سو فیصد آپکی ہے ” وکیل بڑا جوش اور ولولے دیکھا رہا تھا

” وکیل صاحب بس کیس کو ایسے ختم کریں کے میری بیوی دوبارہ خلع کے بارے میں سوچ بھی نا سکے ۔۔۔ فیس کی فکر مت کیجے گا ابھی جو پانچ لاکھ کا چیک میں نے دیا ہی تو معمولی سی پیشگی ہے میری طرف سے ۔۔۔ جس دن جج نے فیصلہ میرے حق میں کر دیا ۔۔۔ خوش کر دونگا آپ کو ” وہ پیسوں کارعب ۔۔۔ حرام کی کمائی تھی جتنی چاہتا اڑاتا پوچھنے والا کون تھا

سمجھ لیں کے فیصلہ آپکے حق میں ہو گیا ۔۔۔ جج کے فیصلے بھی ہماری ہی جیبوں میں ہوتے ہیں ۔۔۔ کس جج کو کیسے ٹیکل کرنا ہے یہ سب ہم وکیل جانتے ہیں ۔۔۔ پھر وہ ایک کمزور سی خاتون ہے ۔۔ کیس اس سے بھی زیادہ نا پاہید ہے ۔۔۔ بس بے فکر ہو کر جائیں اور بیگم کی آنے کی تیاری کریں ” وکیل کی تسلیاں جاری تھی اسکے برابر سے دونوں اپنی باتوں میں مگن گزر چکے تھے ۔۔۔ حمنہ پل بھر کے لئے ہمت ہار بیٹھی تھی ۔۔۔ گھر آ کر بہت روئی تھی ۔۔۔ اصفر کے پاس جانے کے تصور نے جیسے اسکی جان ہوا کی تھی ۔۔۔ اسکے ایک جنون کو وہ دیکھ چکی تھی ۔۔۔ جس دن مولوی صاحب کے پاس گئ تھی ۔۔۔۔ اور اب تو کھلی دھمکی دے کر گیا تھا ۔۔۔ دل ڈر سے کانپ سا گیا تھا نا جانے اب کیا کرے گااس کے ساتھ ۔۔۔۔ کوئی راستہ اسکے سامنے نہیں تھا جیسے اندھیر نگری تھی ۔۔۔۔ بڑی شدت سے اپنی امی یاد آنے لگیں تھیں

” امی یہ ہر وقت کون سے وظیفے پڑھتی رہتی ہیں آپ ۔۔ کھانا بناتے ہوئے گھر کے کام کرتے ہوئے فارغ بیٹھے ہوئے آپ کے ہونٹ مسلسل حرکت کرتے رہتے ہیں ” ماں کے ساتھ لگ کر وہ پوچھ رہی تھی

” تمہارے لئے ہر وقت دعا گو رہتی ہوں ۔۔۔ اللہ سے کہتی ہوں میری بچی پر آنے والی ہر مصیبت ٹل جائے ۔۔۔۔ گرم ہوا بھی نا چھوئے تمہیں ” حمنہ کے رخسار کو چومتے ہوئے وہ بڑی محبت سے بولیں تھیں فرحت محبت سے حمنہ نے اپنا سر انکے سینے پر رکھ لیا اور بانہوں کو انکے گلے کا ہار بنا لیا ۔۔۔

” امی اتنی کامیاب تو ہو گئ ہوں میں۔۔۔ اب بس بھی کر دیا کریں ۔۔۔۔ آپکی دعاؤں کی اب ضرورت نہیں رہی مجھے بڑی خوشحال زندگی گزار رہی ہوں ” حمنہ نے ماں کی طرف دیکھا

“ایسا نہیں کہتے بیٹاماں تو ہر وقت اپنے بچوں کے لئے دعا کرتی ہے ۔۔۔ اللہ تمہاری ساری زندگی کو خوشیوں سے بھر دے ۔۔۔ ساری رکاوٹوں کو دور کر دے” حمنہ کے رونے میں تیزی آئی تھی ماں کی باتیں یاد آتے ہی دل تڑپ سا گیا تھا

جب تک ماں زندہ تھی سارے راستے پھولوں کی سیج لگتے رہے ۔۔۔ وہ سب یقینا ماں کی دعاؤں کا ثمر تھا اور اب لگتا تھا ہر قدم پر ڈگمگا جائے گی ۔۔۔

وضو کر کے جائے نماز پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔ نوافل پڑھ کر

سجدے میں گڑگڑانے لگی

” یا اللہ میں بلکل تنہا ہو چکی ہوں کوئی نہیں ہے میرا یہاں ۔۔۔ مجھے اس وقت ماں کی گود کی طلب ہے جہاں سر رکھ کر میں ہر غم بھول جاؤں لیکن میں اس نعمت سے محروم ہو چکی ہوں ۔۔۔ مجھے اسوقت باپ کے کندھے کی ضرورت کے جس پر سر رکھوں اور وہ میرے سر پر ہاتھ رکھ کر تسلی دیں میری بدنصیبی یہ ہے میں میرے پاس یہ دونوں نعمتیں نہیں ہیں بس تو ہے ۔۔۔ اللہ میں تھک گئ ہوں پہلے ہی قدم پر لگتا ہے گر جاؤں گی ۔۔۔ تو اپنے بندوں سے ماں سے ذیادہ محبت کرتا ہے شہ رگ سے قریب ہے ۔۔۔ سانسوں کا مالک ہے ۔۔۔کالی رات میں کالے پہاڑ کے کالے پتھر کے اندر رہنے والے کیڑے کو بھی تو دیکھ سکتا ہے اسے رزق دیتا اسکے رینگنے کو سن سکتا ہے ۔۔۔ تو پھر میں تو پھر انسان ہو ۔۔۔ عورت ہوں ۔۔۔۔ دنیا کی نظر میں کمزور ہوں تو

میرے درد کی ٹھیس کو محسوس کر سکتا ہے

میرا ہاتھ اگر تو تھام لے تو تیری عزت کی قسم میں کہیں بھی ڈگمگا نہیں سکتی ۔۔۔۔ میری زبان کو اپنے قابو میں رکھ لے ۔۔۔ اس پر ان لفظوں کو جاری کر دے جو حق و سچ ہے تو کوئی وکیل میرا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔۔۔۔ تو یکتا ہے ۔۔۔ واحد ہے ۔۔۔ اپنے بندوں کو بے آسرا نہیں چھوڑتا ۔۔۔۔ مجھے اپنی پناہ میں لے لیں میرے اللہ ۔۔۔۔ میں ایسے شخص کے ساتھ کیسے زندگی گزار لوں جس کا رزق مشکوک ہے ۔۔۔۔ میرے پیٹ کو حرام کے کھانے سے بچا لے ۔۔۔۔

میری مدد فرما ” بہت دیر تک وہ روتی رہی ۔۔۔۔

صبح ایک خاتون وکیل نے اس کا کیس تو لے لیا لیکن کوئی بھی اچھی امید نہیں دلائی تھی ۔۔۔۔

پہلی پیشی پر وہ بہت گھبرا رہی تھی ۔۔۔۔ وکیل کی باتیں درست ہی تھیں اگر فیصلہ اصفر کے حق میں ہو گیا تو کیا کرے گی ۔۔۔۔ اسکے ساتھ کیسے اس گھر میں جا سکتی ہے جہاں اس کی ماں کا قاتل موجود ہے۔۔۔۔

کٹہرے پر کھڑی اس نے حلف اٹھایا کہ سچ بولے گی ۔۔۔

” خاتون وکیل نے جج سے اپنا تعارف کروایا اور اصفر کی جانب سے وہی وکیل تھا حمنہ کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا جیسے پہلی ہی باری میں اسے شکست کا مزہ چکھا دے گا ۔۔۔

” جناب والا سیدھا سیدھا خلع کا مقدمہ ہے ۔۔۔ عورت کو یہ حق ہمارے دین نے بھی دیا ہے کہ وہ اگر کسی شخص کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو اس سے علیحدگی اختیار کر سکتی ہے ۔۔۔۔ ” خاتون وکیل نے بات کی ابتدا کی لیکن فورا سے شاکر نے بات کاٹ دی

” جناب والا میری ساتھی وکیل شاید یہ بھول رہیں ہیں کہ وہ علماء کرام کی مجلس کے بجائے کمرہ عدالت میں موجود ہیں ۔۔۔ اسلامی احکامات کی پاسداری اپنی جگہ قائم ودائم ہے لیکن قانون وجوہات کو جاننا چاہتا ہے ۔۔۔ جناب والا اگر اجازت ہو تو میں خاتون سے چند سوالات کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔ ” وکیل نے نہایت مہدب انداز سے بات کو آگے بڑھایا ۔۔۔

” جی اجازت ہے ” جج کی اجازت ملتے ہی وہ وکیل حمنہ کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔۔۔

” جی تو محترمہ ڈاکٹر حمنہ صاحبہ ۔۔۔ میرا پہلا سوال یہ ہے کہ آپ اپنے خاوند سے طلاق کیوں لینا چاہتی ہیں ۔۔۔ کیا ہاتھ اٹھاتے ہیں آپ پر ؟کبھی مار پیٹ کی ہے آپکے ساتھ

٫جی نہیں “

“تو پھر تنگی دیتے ہیں ۔۔۔ آپ کے نان نفقے کا خیال نہیں رکھتے ۔۔۔ پہنے اوڑھنے اور دیگر جائز اخراجات دینے کنجوسی دیکھاتے ہیں ۔۔ لڑتے جھگڑتے ہیں “

” نہیں ایسا بھی کچھ نہیں ہے “

” پھر گالی گولچ کرتے ہی آپ سے ۔۔۔ “

“نہیں بلکل نہیں ” حمنہ نے جھوٹ نہیں بولا تھا

“تو کیا شوہر کا حق ادا کرنے کے قابل نہیں ہے ۔۔ مطلب کوئی جنسی مسلہ ہے انکے ساتھ جس کی وجہ سے آپ یہ قدم اٹھا رہی ہیں ” ایک غیر متوقع سوال تھا حمنہ کی شرم سے نظریں جھکیں تھیں ۔۔۔ بھری عدالت میں وکیلوں کے سامنے کھڑے ہو کر اس قسم کے سوالوں کا سامنا بھی کرنا پڑے گا یہ نہیں سوچا تھا ۔۔۔

” جی محترمہ آپ نے جواب نہیں دیا ۔۔۔ ” وکیل نے دوبارہ دہرایا

” جی ۔۔نہیں ” بامشکل حمنہ نے کہا

” پھر غیر عورتوں سے تعلقات ہیں ہوں گئے اصفر صاحب ۔۔۔ ؟ “

” ہر گز نہیں ” حمنہ نے برجستہ کہا تھا سامنے بیٹھا اصفر اس کی اس بات پر اسے دیکھنے لگا۔۔۔ جس بے ساختی سے وہ بولی تھی ۔۔۔ اسے یہ جاننے میں مشکل نہیں ہوئی تھی کہ اب بھی وہ اس کے دل میں کیا مقام رکھتا ہے ۔۔۔ نظریں کچھ بدلنے لگیں تھیں ۔۔۔۔ غصے کی شدت کم ہونے لگی تھی

” پھر طلاق کی وجہ کیا ہے محترمہ جب میرے مؤکل آپکی ہر قسم کی ضروریات کو بخوبی ادا کر رہے ہیں تو اور آپکو طلاق بھی دینا نہیں چاہتے تو آپ کیوں نہیں رہنا چاہتیں “

” مجھے انکی کمائی کے جائز ہونے پر شک ہے ۔۔۔ “

“بات کی وضاحت کریں گئیں آپ ” وکیل نے کہا

” یہ فیس ذیادہ لیتے ہیں ۔۔۔۔” اسکی بات پر ہسنے کی دبی دبی آوازیں کمرہ عدالت میں گونجنے لگیں

” میرے خیال سے یہ کوئی جرم نہیں ہے ہر ڈاکٹر کی اپنی مرضی ہے کہ وہ مریضوں کو چیک کرنے کی فیس کتنی لیتا ہے ۔۔۔ “

ہاسپٹل میں آنے والے مریضوں کواس بات کا پابند کیا جاتا ہے کہ وہ ڈاکٹر کے دیے گئے ٹیسٹ اسی ہاسپٹل میں کروائیں گئے ۔۔۔ اور لیباٹری میں انکااپنا کمیشن ہوتا ہے ۔۔۔ اسی طرح ہاسپٹل سے منسلک میڈیکل اسٹور پر ایسی ادوایات رکھیں جاتی۔ ہیں جو عام میڈیکل پر نہیں ملتیں اور ڈاکٹرز اسی میڈیکل اسٹور میں ادوایات لکھنے کا پابند ہے اس لئے کے انکی قیمتوں میں بھی ڈاکٹرز اور ہاسپٹل کے آنر کا کمیشن ہوتا ہے جو کے ناجائز ہے ۔۔۔۔

پھر مریضوں کی معمولی بیماری کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے انہیں ایڈمیٹ ہونے کا مشورہ دیا جاتا ہے ۔۔۔۔ دونوں ہاتھوں سے فیسیں لوٹی جاتی ہیں بجا قسم کے بے شمار ٹیسٹ کی لمبی لسٹیں ہوتی ہیں ۔۔۔ جو بلا جواز لئے جاتے ہیں ۔۔۔۔ “

“یہ کام تو تقریبا ہر پراویٹ ہاسپٹلوں میں ہو رہا ہے

پھر باقی ڈاکٹرز کی بیگمات میں سے کسی نے آج تک کیس فائل کیوں نہیں کیا ۔۔۔ اور صرف ڈاکٹر ہی کیوں ہر عام انسان اپنے فائدے کے لئے یہ سب کر رہا ہے ایک معمولی سا پھل فروش بھی کچے اور داغی پھل کو ٹھیک کہہ کر بیچ دیتا ہے اور پھل کی قیمت بھی اپنی مرضی کی لیتا ہے تو آپ کی نظر میں وہ بھی جھوٹا اور غلط ہوا اسکی کمائی بھی نا جائز ہوئی ۔۔۔۔ اور ہم وکیل ہم بھی اپنے ہر کیس کی فیس اپنی مرضی سے لیتے ہیں اور یہ بات بھی ڈھکی چھپی نہیں کہ جھوٹ کے بغیر ہمارا گزارا ہے ۔۔۔ تو آپکی نظر میں ہم بھی حرام کھا رہے ہیں ۔۔۔ اسی طرح مارکیٹ میں بیٹھے دوکاندار خراب مال بھی اس کے عیب چھپا کر بیچ رہا ہے تو آپ کا خیال ہے وہ بھی نا جائز کر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ جناب والا ڈاکٹر حمنہ ایک با شعور خاتوں ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ڈاکٹر اور سرجن بھی ہیں ۔۔۔ اور اپنے پورے ہوش وحواس میں پاکستان کی اٹھارہ کڑور عوام پر یہ الزام لگا رہی۔ ہیں کہ سب کے سب اس وقت حرام اور نا جائز کما کھا رہے ہیں ۔۔۔ ” وکیل باتوں کھلاڑی تھا ۔۔۔۔ اپنا داؤ بڑی عمدگی سے چل چکا تھا خاتون وکیل چپ تھیں

” عام کاروبار میں بھی جھوٹ فریب دھوکہ منع ہے ۔۔۔۔

اگر ہم صحابہ کرام کی زندگیوں کو دیکھیں تو انہوں نے اپنے تجارتی مالوں کو ہمیشہ عیب بتا کر بیچا ہے ۔۔۔۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے ۔۔۔ کہ ملک پاکستان کا وجود اسلامی ریاست کی بنیاد پر رکھا گیا ۔۔۔۔لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان ۔۔۔ کے قوانین آج بھی اسلام اور شریعت کے برخلاف ہیں ۔۔۔ بنا ولی کے عورت کو کورٹ میرج کرنے کی اجازت ہمارے مذہب میں بلکل بھی نہیں ہے لیکن قانون میں ہے سود حرام ہے رشوت نا جائز ہے لیکن پھر بھی ہر کوئی جیبیں بھر رہا ہے ۔۔۔ سچ اور جائز کو چھوٹ کا لبادہ پہنانے کے لئے ۔۔۔ پیسے ہی کافی ہو چکے ہیں ۔۔۔ ایسی طرح حرام کی کمائی پر کوئی قانون نہیں بنایا گیا ۔۔۔ میں ہر ایک کی زمہ دار تو نہیں ہوں لیکن اپنے ایمان کی ضرور ہوں

۔۔۔۔ شریعت کی رو سے میں بنا وجہ کے بھی خلع لینے کی حقدار ہوں ۔۔۔

اگر بیوی کے دل میں کسی وجہ سے نفرت پیدا ہوجائے اور وہ شوہر کے ساتھ نہ رہنا چاہے تو وہ حقِ خلع استعمال کر سکتی ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ يُقِيْمَا حُدُوْدَ اﷲِ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيْمَا افْتَدَتْ بِه.

پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ دونوں اﷲ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے، سو (اندریں صورت) ان پر کوئی گناہ نہیں کہ بیوی (خود) کچھ بدلہ دے کر (اس تکلیف دہ بندھن سے) آزادی لے لے۔

البقرة، 2: 229

حضرت حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا جو حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں کسی وجہ سے دل میں نفرت پیدا ہوئی تو بارگاہِ نبوت میں حاضر ہو کر علیحدگی کا مطالبہ کر دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حق مہر میں ملا ہوا باغ واپس لے کر حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کو لوٹا دیا اور ان کے درمیان علیحدگی کروا دی۔ حدیث مبارکہ میں ہے:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ أَتَتْ النَّبِيَّ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اﷲِ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ مَا أَعْتِبُ عَلَيْهِ فِي خُلُقٍ وَلَا دِينٍ وَلَکِنِّي أَکْرَهُ الْکُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اﷲِ: أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ رَسُولُ اﷲِ: اقْبَلْ الْحَدِيقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ عالیہ میں آ کر کہنے لگی یا رسول اﷲ میں نہ ثابت بن قیس کے اخلاق سے ناراض ہوں اور نہ ان کے دین پر عیب لگاتی ہوں، مگر میں اسلام میں آ کر کفرانِ نعمت پسند نہیںکرتی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کا باغ (جو حق مہر میں تم نے لیا تھا) واپس کرو گی؟ وہ بولیں جی ہاں۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: باغ لو اور اسے ایک طلاق دے دو۔

بخاري، الصحيح، 5: 2021، رقم: 4971، بيروت، لبنان: دار ابن کثير اليمامة

میں اپنے شوہر پر کوئی نا جائز الزام نہیں لگا رہی

ٹھیک ہے جو اعتراض مجھے ہے اسکی اگر قانون میں دری برابر بھی اہمیت نہیں تب بھی

میری آپ سے عاجزانہ درخواست ہے کہ مجھے اس شخص سے علیحددگی دلوا دی جائے۔۔۔۔” حمنہ کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے تھے اس سے پہلے جج جذبات میں واقع تنیسخ نکاح کا حکم نامہ جری کرتا ۔۔۔ اصفر کھڑا ہو گیا

” میں کچھ کہنا چاہتا ہوں پلیز مجھے اجازت دی جائے ” جج نے ایک گہری سانس بھری

” جی کہڑے پر تشریف لائیے “

” جج صاحب میں اپنی بیوی کو طلاق نہیں دینا چاہتا ۔۔۔ ابھی یہ جذبات میں فیصلہ کر رہی ہے ۔۔۔ اگر اسے مجھ پر کوئی شک وشبہات ہیں بھی تو مجھے مہلت ملنی چاہیے ۔۔۔۔ میاں بیوی کے رشتے میں گنجائش نکل ہی آتی ہے ۔۔۔ اگر انسان چاہے تو ۔۔۔ یہ چھ ماہ میرے ساتھ رہ کر دیکھ لے شاید کے مصلحت کی کوئی صورت پیدا ہو جائے ۔۔۔ اگر شریعت کو بھی سم ے رکھا جائے تواسلام بھی یک مشت تین طلاقیں دینے کے خلاف ہے ۔۔۔ صرف س لئے کے میاں بیوی کے رشتے کو مہلت دی جاسکے صلح کی کوئی صورت نکالی جاسکے ۔۔۔ ” بڑی مسکنت اور مظلومیت چہرے پر سجائے وہ یوں بات کر رہا تھا جیسے بڑا دین کا پاسدار ہے

” نہیں میں ہر گز نہیں چاہتی ” حمنہ نے فورا سے انکار کیا تھا وکیل اور جج کے درمیان نظروں کی اشارے بازیاں ہوئیں تھیں ۔۔۔ پھر جج نے پلکیں اثبات میں ہلائیں تھیں پلکوں سے اشارے دیے گئے تھے حمنہ سمجھ گئ تھی ۔۔۔ کہ جب جی یں پیسوں سے بھر جائیں ایمان سے خالی دل کہاں اسکی پکار سنیں گیے

“میرے خیال سے ایک موقع دیا جانا چاہیے ۔۔۔۔

بی بی آپ کو اپنے شوہر کے ساتھ رہ کر غلط فہمیاں دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔۔۔ اگر چھ ماہ بعد بھی آپ کو لگے کے آپ یہ رشتہ قائم نہیں رکھ سکتیں تو فیصلہ آپکے حق ۔میں ہو جائے گا ۔۔۔ ” جج کا فیصلہ پیسوں کی نظر ہوا تھا ۔۔۔ حمنہ کٹہرے سے اتر کر کمرہ عدالت سے باہر نکل گئ اپنے پیچھے ہی شوز کی آواز سے سمجھ گئ کے اصفر اسی کے پیچھے آ رہا ہے ۔۔۔اس لئے اپنی رفتار بڑھانے لگی دل کی دھڑکنیں قدموں کی رفتار کے ساتھ ساتھ بڑھ رہیں تھیں کوٹ سے باہر نکلتے ہی اس نے حمنہ کو بازو سے پکڑ کر روکا تھا ۔۔

“اصفر میرا ہاتھ چھوڑیں ” حمنہ رو دینے کو تھی

” کیوں ڈاکٹر صاحبہ چھ مہینے کا وقت ملا ہے مجھے آپکی ہر شکایت دور کرنے کے لئے ۔۔۔۔ میں تو لمحہ بھی برباد نہیں کرنا چاہوں گا تمہاری غلط فہمیاں آج سے دور کرنا شروع کر دوں گا ۔۔۔ اس لئے چپ چاپ چلو میرے ساتھ ۔۔۔ ” اسے وہ اپنی گاڑی تک لے گیا

” مجھے نہیں جانا آپ کے ساتھ کہیں بھی ” اپنا بازو وہ چھڑوا کر بولی

” ٹھیک مت جاؤں میرے ساتھ ۔۔۔ کوٹ کے آڈر لیکر میں تمہارے گھر پہنچ جاؤں گا ۔۔۔۔ لیکن یہ وعدہ ہے میرا کہ آج رات تم میرے ساتھ گزاروں گی ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ کر چلا گیا ۔۔۔ کئ آنسوں اسکی آنکھوں سے بہے تھے ۔۔۔۔

وہ بس اسٹاپ تک پہنچی تو سامنے فٹ پاتھ پر اسے وہی دھاتی شخص نظر آیا لیکن اجڑی ہوئی حالت میں ۔۔۔۔ مٹی سے بھری دھوتی اور کرتا بال بھی مٹی سے اٹے ہوئے شیو بھی ہوئی سر جھکائے وہ بیٹھا تھا ۔۔۔۔

حمنہ کی مطلوبہ بس آ چکی تھی ۔۔۔

لیکن وہ روڈ کراس کر کے اس شخص کے پاس پہنچ گئ