Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415

Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 28

644.1K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Noor-e-Emaan Episode 28

Noor-e-Emaan by Umme Hani

حمنہ نجمہ نرس اور لائبہ کے ساتھ فارس کے گھر اس سے ملنے گئ تھی ۔۔۔ وہ لاونج کے صوفے پر ہی لیٹا ہوا تھا بکھرے بال سوجی آنکھیں چہرے پر اداسی کے ڈیرے ۔۔۔ ۔۔۔ سامنے ایش ٹرے سگریٹ سے بھرا ہو تھا اور وہی چائے کے خالی کپ جس میں چائے سوکھ چکی تھی ۔۔۔۔ اپنا ہر غم وہ سگریٹ اور چائے سے ہی مناتا تھا ۔۔۔۔ لائبہ تو آنے کو تیار نہیں تھی لیکن نجمہ نرس اپنے ساتھ اسے بھی کھنچ لائیں تھیں ۔۔۔

ان تینوں کو دیکھ کر وہ اٹھ بیٹھا تھا۔۔۔

” آپ لوگ یہاں ” اسے تو لگا تھا شہروز کے علاؤہ کوئی اسے دیکھنے نہیں آئے گا

” یہ تمہیں کیا ہوا ہے ۔۔۔۔ ” حمنہ کا اسے دیکھ کر دل ضرور دکھا تھا ۔۔۔ شاید وجہ وہی تھی ۔۔۔ فارس نے منہ سے کچھ کہا لیکن آنکھیں شکوہ کناہ تھیں ۔۔۔ حمنہ کو ہی نظریں بدلنی پڑیں۔

” بس کمبخت دل نے کہیں کا نہیں چھوڑا ۔۔۔۔ ” جلے دل سے فارس نے کہا تھا ۔۔۔ البتہ نظریں بدل کر لائبہ پر جا چکی تھیں ۔۔۔ بس یہ ایک محض اتفاق تھا ۔۔۔ کہ کہا اس نے حمنہ سے تھا لیکن کہتے ہوئے اسکی نظروں میں دیکھنا نہیں چاہتا تھا جہاں اسکی اپنی مجبوریوں کے ڈیرے تھے اس لئے نظریں لائبہ پر جا ٹکی تھی ۔۔۔۔ لیکن جمعلہ کچھ ایسا تھا کہ لائبہ کو اپنا دل سینے سے اچھل کر حلق تک پہنچتا ہوا محسوس ہوا تھا ۔۔۔۔

یہ کیا سن لیا تھا اس نے ۔۔۔۔وہ بھی کس کے منہ سے ۔۔۔۔

” تم کیا کرنے آئی ہو یہاں ۔۔۔۔ میری بے بسی کا تماشہ دیکھنے” فارس نے لائبہ پر اب غور کیا تھا ۔۔۔۔ جتناوہ اسے چڑتی تھی اور اسے برا بھلا کہتی تھی ۔۔۔۔ فارس کی سوچ کے مطابق تو لائبہ کو اسکی بیماری کاسن کر جشن منانا چاہیے تھا ۔۔۔۔ نا کہ یہاں اس کی عیادت کے لئے آنا چاہیے تھا ۔۔۔ اس لئے۔ فارس اسے یوں بولا تھا لیکن لائبہ نے اس جمعلے کو پچھلے کہے گئے جملے سے ملا ہوا ہی سمجھا تھا ۔۔۔۔۔ اس لئے جتنا حیران ہو سکتی تھی ہو رہی تھی ۔۔۔

” وہ میرے ساتھ آئی کے فارس ۔۔۔ کیوں اس کے پیچھے پڑے رہتے ہو ۔۔۔ ” حمنہ نے کی بات کارخ بدلنا چاہا ۔۔۔۔

” لائبہ پلیز تم فیور چیک کرو اسکا ۔۔۔ ” حمنہ نے لائبہ سے کہا

” اوہ ۔۔۔ پلیز اسکی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ ٹھیک ہوں میں بلکل ” فارس نے مدافعانہ انداز سے کہا

” جانتی ہوں میں کے کتنے ٹھیک ہو تم ۔۔۔ لائبہ ادھر آؤں اور تھر میٹر ڈالوں اسکے منہ میں ” لائبہ نے بکس میں سے تھرمامیٹر نکالا لیکن فارس نے منع کر دیا

” حمنہ پلیز یہ رعب شوب مجھے مت دیکھایا کروں ذیادہ شوق ہے تو اپنے شوہر کو جا کر دیکھاوں ” دل تو اصل اس بات پر جلا ہوا تھا

” فی الحال تو تمہارا گلا دبا دوں گی اگر تم نے مجھے چیک نہیں کرنے دیا ۔۔۔۔ ” اس سے پہلے فارس مزید کچھ بولتا حمنہ نے لائبہ کے ہاتھ سے تھرمامیٹر لیکر جھاڑ کر فارس کے منہ ڈال دیا مجبورا اسے چپ ہونا پڑا تھا نجمہ نرس بی پی آپریٹر نکال رہی تھیں تا کہ بی پی چیک کر سکیں

لیکن اس کے موبائل سے کال آنے لگی وہ فون سننے لگی فون بند کر کے حمنہ سے بولی

” میم میرا بھائی مجھے لینے آ گیاہے ۔۔۔ میں اب جا رہی ہوں ۔۔۔ “

“او کے آؤں تم ۔۔۔میں تمہیں باہر تک چھوڑ آؤں ۔۔۔۔ ” حمنہ بھی کھڑی ہو گئ

” لائبہ پلیز ایک منٹ بعد اس کا تھرما میٹر نکال کر چیک کر لینا کہ فیور کتنا ہے اور بی پی بھی چیک کرو میں بس ابھی آئی ۔۔۔ “یہ کہہ کر حمنہ نجمہ نرس کے ساتھ باہر چلی گئ ۔۔۔۔ لائبہ ایک تو پہلے ہی فارس سے گھبراتی تھی اس پر اس کی آج کی باتیں ہی وہ سمجھ نہیں پارہی تھی ۔۔۔ اوپر سے دل کا یہ عالم تھا کہ سینہ شگاف کر کے باہر آ جائے گا ۔۔۔۔ پھر وہ دیکھ بھی اسے ہی رہا تھا۔۔۔۔ پہلے کبھی اسکی نظروں سے لائبہ نے ایسا محسوس نہیں ہوا تھاجیسااس وقت

ہورہا ۔۔۔ وجہ فارس کے وہ چند جمعلے تھے جس کا مفہوم وہ غلط لے چکی تھی ۔۔۔ اس لئے کچھ بد حواس تھی چہرے۔ پر پیسنہ بھی نمودار ہونے لگا تھا ۔۔۔ ہاتھوں میں کپکپاہٹ تھی تھرمامیٹر اس کے منہ سے نکال کر دیکھنے لگی

” کتنا فیور ہے ؟” فارس نے پوچھا

” 102″

“اب نبض چیک کرو ۔۔۔؟ پتہ تو چلے کے تم مریضوں کو ٹریٹ کیسے کرتی ہو ” فارس کا انداز عام ساتھا لیکن لائبہ کی سوچ کچھ بدل سی گئ تھی جسے وہ خود بھی سمجھ نہیں پارہی تھی ۔۔۔ اس لئے فارس کی کلائی پکڑتے ہوئے اس کا ہاتھ لرز رہا تھا ۔۔۔ کچھ پل تو فارس غور سے اسکے بدحواس چہرے کو دیکھتا رہا

” ایسے دیکھتی ہو تم مریضوں کی نبض کو ۔۔۔ ؟

ڈاکٹرز کے بارے میں بڑی باتیں کرنی آتی ہیں تمہیں کہ مریضوں کے ساتھ تجربہ کرتے ہیں ۔۔۔ یہ تم کیا کر رہی ہو میرے ساتھ ۔۔۔ ہاتھ اتنے کیوں کانپ رہے ہیں ۔۔۔ “فارس کہ بات پر وہ مزید بد حواس ہوئی تھی

” ن۔نن ۔۔نہیں ۔۔۔ ای۔۔۔ایسی بات نہیں ہے ۔۔۔ وہ مجھے آپ سے ڈر لگتا ہے اس لئے”

” ہممم تو ڈر بھی لگتا ہے تمہیں ۔۔۔ لگنا بھی چاہیے

اس لئے میں تو بہت خطرناک ڈاکٹر ہوں ۔۔۔۔ سوچ رہا ہوں آج کے بعد تمہاری ڈیوٹی اپنے ساتھ ہی لگوا لوں ۔۔۔ یہ جو تمہاری زبان سب کے سامنے کینچی کی طرح چلتی ہے ۔۔۔۔ اسے تو کم از کم۔ بریک لگے گی۔۔۔۔ چلو اب۔ بی پی چیک کرو و بھی ہ ٹھیک سے ” فارس کے رعب دار لہجے پر اس نے سامنے ٹیبل سے بی پی آپریٹر اٹھایا اور بی پی چیک کرنے لگی اتنی دیر میں حمنہ بھی آ گئ تھی

” لائبہ فیور کتنا ہے اسے “

” 105 “جواب فارس نے دیا تھا ۔۔۔ حمنہ کی حیرت سے آنکھیں پھٹی تھی

” اتنا تیز “

” نو میم 102″ لائبہ نے دھیرے سے کہا

” یہ کس نا تجربے کار کے حوالے کر رہی ہو تم مجھے جیسے ٹھیک سے نبض بھی چیک کرنی نہیں آتی ہے ۔۔۔ ہاتھ کانپ رہے ہوتے ہیں ۔۔۔ اور چہرہ دیکھوں اس کا لگتا ہے کسی خوف ناک جن کی شکل دیکھ لی ہو “فارس کے کہنے پر حمنہ ہسنے لگی لائبہ مزید نروس ہوئی تھی

” تم کسی جن سے کم بھی نہیں ہو ۔۔۔ کیوں ہر وقت اسے آنکھیں دیکھاتے رہتے ہو ۔۔۔۔ اس نے تو پریشان ہونا ہی ہے ۔۔۔ کبھی پیار سے بات کر لیا کرو ” حمنہ اب ایک بکس میں سے کچھ میڈسن نکال رہی تھی ۔۔۔

فارس نے ایک نظر لائبہ کی آڑی ہوئی رنگت پر ڈالی

” کیوں لائبہ تم بتاؤں تمہاری حرکتیں ایسی ہیں کہ تم سے پیار سے بات کی جائے؟”فارس کی بات کا لائبہ نے کوئی جواب نہیں دیا تھا

“۔۔۔۔ چلو یہ بتا دو پیار سے کام چل جائے گا تمہارا ؟ ” وہ مزاق کر رہا لیکن لائبہ نروس ہونے کے ساتھ ساتھ پریشان بھی ہونے لگی تھی ۔۔

” میم میں ہاسپٹل جا رہی ہوں ” لائبہ نے راہ فرار ڈھونڈنا چاہی تھی

” ارے بس بس کچھ دیر رکو میں بس اسے میڈسن دیدوں تو پھر اکھٹے ہی چلتے ہیں ۔۔۔ڈاکٹر شہروز

نے سنڈویچ تو کھلا دیے تھے نا تمہیں ؟ حمنہ نے میڈسن فارس کے ہاتھ میں رکھتے ہوئے پوچھا

” کھلا کر کہاں گیا ہے زبردستی سے میرے میں ڈھونس کر گیا ہے ۔۔۔۔ ” فارس نے اکتائے ہوئے جواب دیا حمنہ پانی کا گلاس اسے تھمایا

” میرے سامنے یہ میڈسن کھاؤں ۔۔۔۔ اور ہاں رات کی میڈسن ڈاکٹر بیگ آ کر تمہیں کھلائیں گئے تم جو چھٹیوں کے بہانے بخار چڑھا کر بیٹھ جاتے ہو دیکھو رات کو آ کر کیسے سدھارتے ہیں تمہیں ” حمنہ اب سب کچھ سمیٹ رہی تھی ۔۔۔ فارس نے ساری میڈسن منہ ڈال پانی سے نگل لیں

” اکیلا سا بندہ ہوں ۔۔۔ تنہائی کا شکار ہو چکا ہوں اس لئے بیماری تو اٹیک کرے گی ہی اب اگر کوئی بیوی ہو تو خیال بھی رکھے ۔۔۔ ” فارس نے معنی خیز انداز سے حمنہ کو کہنے کے بعد اس نے لائبہ سے تصدیق چاہی

” کیوں لائبہ ٹھیک کہہ رہا ہوں نا میں ۔۔۔ بیوی ہونی چاہیے نا ؟” لائبہ کے تو اپنے ہوش معطل ہو رہے تھے ۔۔۔ جواب کیا دیتی ۔۔۔ فارس کے مزاج کو سمجھتی بھی نہیں تھی پھر ذو معنی باتوں کے مفہوم کو غلط لے رہی تھی ۔۔۔

حمنہ اٹھ کر کھڑی ہو گئ ۔۔۔

“اب میں چلو گی ۔۔۔ بچے میرا انتظار کر رہے ہوں گئے ۔۔۔ تم اپنا خیال رکھنا فارس ” فارس کی باتوں اور نظروں کو نظر انداز کر کے وہ لائبہ کے ساتھ وہاں سے چلی گئ ۔۔۔ ڈاکٹر بیگ کے گھر بچوں کو لینے گئ تو مسز بیگ نے زبردستی ڈنر پر روک لیا رات کو ڈاکٹر بیگ اصفر سے ہونی والی گفتگوں اس سے کرتے رہے ۔۔۔۔ آپریشن کا بھی پوچھنے لگے ۔۔۔

” سر میں کیا کہہ سکتی ہوں اس کا فیصلہ تو آپ ہی بہتر کر سکتے ہیں ” کھانا کھاتے ہوئے حمنہ نے جواب دیا تھا

” میں تو یہ سوچ رہا کہ ایک چانس دینا چاہیے ۔۔۔ کوئی حرج نہیں ہے جب وہ خود ذمہ داری قبول کرنا چاہ رہا ہے تو ٹھیک ہے ۔۔۔ پھر تمہارا برڈن بھی کم ہو جائے گا ۔۔۔۔ “

” جیسا آپ ٹھیک سمجھیں “

” ٹھیک ہے ۔۔۔۔ لیکن میں یہ چاہوں گا کہ آپریشن کے دوران تم دونوں ساتھ ڈیوٹی دو ۔۔۔ باقی میری کوشش یہی ہے کہ ڈیوٹی آوور ایسے رکھوں کے تمہارا سامنا اصفر سے کم سے کم ہی ہو “

” یہ تو آپ کا احسان ہو گا مجھ پر میں اس کاسامنا زیادہ کرنا بھی نہیں چاہتی “

“گھر پر تمہیں دھمکیا تو نہیں کسی بات پر ؟ ” ڈاکٹر بیگ نے فکرمندی سے پوچھا

” نہیں ابھی تک تو ٹھیک ہی ہے ۔۔۔ “

” حمنہ بیٹا دیکھو اس بار تمہیں اس ڈرنا بلکل نہیں ہے ۔۔۔ وہ ڈر سے تمہیں مات دینا چاہتا ہے

جب تم ہی بے خوف ہو جاؤں گی گی تو خود ہی سدھر جائے گا ” ڈاکٹر بیگ کی باتیں وہ خاموشی سے سن رہی تھی رات دس بجے وہ وہاں سے نکلی تھی لیکن ہلکی ہلکی برف باری سے راستے سلپ سے جو گئے تھے س لئے ہلکی ڈرائیو کرتے ہوئے وہ گھر ایک گھنٹے میں پہنچی تھی

******…….

حمنہ نے کوئی جواب نہیں دیا تھا بس اپنا بازو اصفر کی گرفت سے چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی جو کے ناممکن تھا ۔۔۔

” فارس کے پاس کیوں گئ تھی تم ۔۔۔۔ ؟” وہ اب بھی غصے سے پوچھ رہا تھا

” میں آپ کی جواب دے نہیں ہوں “

” ہو ۔۔۔۔ تم میری جوابدہ ہو حمنہ ۔۔۔ چھ بجے سے تم اسکے گھر پر تھی ۔۔۔۔ اتنے گھنٹے تمہارا اسکے پاس رہنا کیاتمہارے ایمان کو گوارا دیتا ہے ؟غیر محرم ہے وہ تمہارے لئے ۔۔۔۔ “

” پچھلے پانچ سال سے وہی سنبھال رہا ہے مجھے بھی اور بچوں کو بھی ۔۔۔۔ ایک غیر محرم ہوتے ہوتے کسی محرم سے بڑھ کر ہے وہ میرے لئے ۔۔۔۔ محبت کرتا ہے مجھ سے اور محبت کے مطلب کو جو پاکیزہ مفہوم میں نے فارس سے جانا آپ جیسا چھوٹی سوچ کا مالک شخص سمجھ ہی نہیں سکتا ۔۔۔۔۔ “

” میں نہیں سمجھ سکتا ؟ ۔۔۔۔ میں ؟۔۔۔۔۔ ” اصفر نے تاسف سے اسے دیکھا

“ہاں آپ ۔۔۔۔۔” حمنہ کے غصے پر وہ ضبط کرتے ہوئے بولا اس کا بازو چھوڑ دیا تھا

” تمہارا مسلہ پتہ کیا ہے ۔۔۔۔ تمہیں میرے علاؤہ سب ٹھیک لگتے ہیں ۔۔۔ سب کی ہمدردی محبت نظر آتی ہے کبھی یوسف کی کبھی فارس کی ۔۔۔ بس میری ہی محبت نظر نہیں آتی ” لہجہ جیسے ٹوٹ سا گیا تھا ۔۔۔

” محبت ۔۔۔۔۔ ” وہ استزائیہ انداز سے ہنسی تھی

” محبت کا مطلب بھی سمجھتے ہیں آپ ۔۔۔۔ جو چیز اچھی لگی پسند آگئ تو بس حاصل کر لیا اسے اور زبردستی اسے اپنے ساتھ باندھے رہنے کا نام محبت ہر گز نہیں ہے ۔۔۔۔۔ “

” یہ میں نہیں جانتا حمنہ ۔۔۔میری محبت عام مردوں جیسی ہے ۔۔۔۔ میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو دیکھ کر براشت نہیں کر سکتا ۔۔۔۔ خاص طور پر فارس کو تو ہر گز نہیں ۔۔۔۔ تمہارے لئے سب کچھ کر سکتا ہوں چاہو تو آزما سکتی ہو ۔۔۔۔ لیکن بس فارس سے دور رہو

” آپ شاید کانٹریکٹ بھول رہے ہیں ۔۔۔ آپ مجھے میرے عزیز و اقارب سے ملنے سے روک نہیں سکتے

اور فارس میرے عزیزوں میں سے ہی ہے ۔۔۔۔ اگر اپنے ہاتھوں سے لکھی گئ تحریر یاد نہیں تو کانٹریکٹ فریم کروا کر اپنے کمرے میں لگوا لیں

یاد دہانی ہوتی رہے گئ ” یہ کہہ وہ اپنے کمرے میں چلی گئ اصفر اسے دیکھتا ہی رہ گیا تھا ۔۔۔۔

*******…….

لائبہ باقی کا وقت فارس کی ذو معنی باتوں میں ہی الجھی رہی

رات کو یہی سوچتی رہی وہ اس قسم کی باتیں اس سے کیوں کر رہا تھا ۔۔۔ حمنہ شادی شدہ بچوں والی تھی ۔۔۔ اس لئے اسے تو کہہ نہیں سکتا پھر لائبہ کے علاؤہ وہاں کوئی اور تھی بھی نہیں

مطلب وہ اس میں دلچسپی لے رہا ہے ۔۔۔ ” یہ سوچ کر لائبہ یک دم بستر سے اٹھ کر بیٹھی تھی

” مطلب مجھ سے ۔۔۔ محبت کرتے ہیں وہ لیکن کیوں ؟” پہلے حیران ہوئی تھی پھر خوش

“ویسے دیکھنے میں تو اچھے ہیں ۔۔۔۔ پھر ڈاکٹر بھی ہیں ۔۔۔۔ ایسی کوئی برائی بھی نہیں ہے ۔۔۔۔ بس ذرا سا ڈانٹ ہی تو دیتے ہیں خیر ہے اتنا تو چلتا ہے ۔۔۔۔ ” لائبہ مسکراتے ہوئے دوبارہ لیٹ گئ تھی ۔۔۔۔ نئے نئے خواب آنکھوں میں سجانا کسے اچھا نہیں لگتا

چند دن بعد ہی فارس واپس آ چکا تھا ۔۔۔ لائبہ اب اسے دیکھ کر شرمانے لگی تھی وہ بھی اپنا رویہ کچھ بدل چکا تھا ۔۔۔ اس سے آرام سے بات کرتا تھا

کسی چیز میں اسے مشکل پیش آتی تو آرام سے سمجھا دیتا تھا ۔۔۔۔

لائبہ کی ڈیوٹی شام کو آف ہوئی تھی ۔۔۔ لیکن باہر تیز برف باری کی وجہ سے اسکے والد اسے لینے نہیں آ پا رہے تھے ۔۔۔ یہ بھی جانتے تھے کہ اصفر بھی اسی ہاسپٹل میں ہوتا ہے اس لئے اسی کا کال کر کے کہہ دیا کہ وہ لائبہ کو گھر چھوڑ دے کیونکہ انکے پاس بائیک تھی گاڑی نہیں اور اس خراب موسم میں نکلنا مشکل تھا

” آپ بے فکر رہیں مزمل صاحب ۔۔۔۔ میں ابھی آدھے گھنٹے کے لئے فری ہی ہوں میں چھوڑ دیتا ہوں اسے ” اصفر کے جواب پر وہ جیسے مطمئن ہوئے تھے

” بہت شکریہ تمہارا بیٹے جیتے رہو ” مزمل صاحب نے فون رکھ دیا ۔۔۔۔ اصفر نے لائبہ کو پیغام پہنچا دیا تھا کہ ڈیوٹی سے فری ہوتے ہی اس سے مل لے ۔۔۔۔ لائبہ جب اس کے پاس پہنچی تو اصفر نے اسے مزمل صاحب کا پیغام دیا ۔۔۔۔ وہ بھی جانے کے لئے تیار ہو گئ دونوں ہی ہاسپٹل سے نکل رہے تھے اتفاق ایساتھا کہ اسی وقت فارس کی بھی ڈیوٹی آف ہوئی تھی وہ بھی گھر ہی جا رہا تھا لائبہ کو اصفر کے ساتھ ہنستے ہوئے باہر نکلتے ہوئے دیکھ کر پہلے تو چونکا تھا

” عجیب ٹھرکی قسم کا شخص ہے ۔۔۔۔ حمنہ کو چھوڑنے کو تیار نہیں ہے اور نرسوں سے الگ فری ہوتا ہے ۔۔۔۔ اور یہ لائبہ ۔۔۔۔ اسے تو میں سیدھا کرتا ہوں ۔۔۔۔ ” وہ تیز چلتا ہوا ان دونوں کے پاس آیا تھا

” لائبہ ” فارس کی پکار پر وہ دونوں ہی رک کر پلٹے تھے ۔۔۔ فارس کو سامنے دیکھ لائبہ کچھ حیران ہوئی تھی

” جی سر “

“ڈیوٹی ختم ہو گی آپکی ؟”

” جی سر گھر ہی جا رہی ہوں “

” اچھا ایسا کروں واڈ نمبر 13میں صرف ایک ہی نرس ہے کچھ دیر تک وہاں ڈیوٹی دیدو ۔۔۔ تھوڑی دیر بعد چلی جانا “

” جی نہیں وہ ابھی جائے گی ۔۔۔ کیونکہ اسکی ڈیوٹی ختم ہو چکی ہے اور میں بھی ابھی ہی فری ہوں اس کے بعد میری ڈیوٹی اسٹاٹ ہو جائے گی پھر اسے چھوڑنے جانا میرے لئے مشکل ہے ۔۔۔”جواب اصفر نے دیا تھاوہ گھڑی دیکھتے ہوئے فارس سے بولا تھا

” تو مس لائبہ آپکی ذمہ داری نہیں ہیں ” فارس نے براہ راست اصفر کو دیکھتے ہوئے پوچھا

” فی الحال تو یہ میری ذمہ داری ہیں ۔۔۔ ” آصفر نے جیب میں ہاتھ ڈال کر کہا

” کیوں ۔۔۔۔ بہن لگتی ہے آپکی ۔۔۔۔ یا کچھ خاص رشتہ ہے ” فارس کا طنز بھلا وہ کیوں سنتا

” وہ دو قدم فارس کی طرف بڑھا اس کے قریب ہو کر اسکا کالر کا کونہ پکڑ کر اسکے قریب ہو کر بولا

” یہ سوال تو میں بھی تم سے کر سکتا ہوں کہ میری بیوی بہن لگتی ہے تمہاری ؟ ۔۔۔۔ جو ہر وقت اسکے آس پاس منڈلاتے رہتے ہو ؟ دور رہا کرو اس سے ورنہ جس دن میرا دماغ گھوم گیا چھوڑو گا نہیں تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ” اصفر اتنے دھیرے سے کہا آواز صرف فارس تک ہی پہنچی تھی

” ہاتھوں پر مہندی تو میرے بھی نہیں لگی ۔۔۔۔اسر ہاتھ اٹھانا مجھے بھی آتا ہے ۔۔۔اس لئے تم میرے منہ کم ہی لگو تو بہتر ہے تمہارے لئے ۔۔۔۔ جاؤں جا کر اپنی ڈیوٹی نبھاؤں ۔۔۔ لائبہ کو میں خود چھوڑ دونگا ” فارس نے غصے سے کہا اپنا کالر جھٹک کر اصفر کے ہاتھ سے الگ کیا تھا ۔۔۔پھر لائبہ سے کہنے لگا

” تمہیں میرے ساتھ جانا ہے یا ان کے ساتھ ؟

” میں ڈیوٹی دے دیتی ہوں سر ۔۔۔ آپ کے ساتھ ہی چلی جاؤں گی ۔۔۔۔ ” لائبہ یہ تو نہیں جانتی تھی کہ دونوں میں ان بن کس بات کی ہے لیکن یہ سمجھ گئ تھی کہ دونوں ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے ۔۔۔۔اگر فارس کے لئے نئے جذبات نا رکھتی تو اصفر کے ساتھ ہی جانے کو ترجعی دیتی ۔۔۔۔ اصفر نے بس ایک نظر ہی لائبہ کو دیکھا تھا فارس تو لائبہ کی جواب پر خوش تھا ۔۔۔۔

پھر مسکرانے لگا

” او کے ٹھیک ہے تمہاری مرضی لیکن گھر پہنچ کر مجھے فون کر کے بتا دینا کہ خیریت سے پہنچ گئ ہو ۔۔۔۔ ورنہ مجھے فکر رہے گئ ” اصفر ایک چنگاری چھوڑ کر ہی وہاں سے گیا تھا فارس کی مسکراہٹ اصفر کے جمعلے سے غائب ہوئی تھی

” یہ موصوف کیا لگتے ہیں تمہارے ؟ ” فارس نے تیوری چڑھا کر لائبہ سے پوچھا تھا

” کچھ نہیں ۔۔۔ بس ابو جی کے جان پہچان کے ہیں اس لئے انہوں نے کہا تھا موسم خراب ہے تو مجھے ڈرپ کر دیں ” لائبہ نے مختصر جواب دیا

” آئندہ اگر تمہیں ایسی مشکل ہو تو مجھ سے کہنا ۔۔۔ یہ آدمی اچھا نہیں ہے ۔۔۔۔ دور رہا کرو اس سے ” فارس اپنی جیلسی میں کہہ رہا تھا ۔۔۔ لیکن لائبہ آجکل کسی اور ہی خیالوں میں تھی فارس کا یوں ریکٹ کرنا اسے مزید ہواؤں میں اڑا گیا تھا ۔۔۔۔ اس بار وہ اسے گھر کے اندر بلانے لگی چاہے۔ بھی پلوائی اور اپنے امی ابو سے بھی ملوایا ۔۔۔۔۔

******……=

اس دن کی بحث کے بعد اصفر نے دوبارہ حمنہ سے الجھنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔۔۔

ناشتے پر اصفر نے ڈارکٹ حمنہ سے بات شروع کی تھی

“میں سوچ رہا کہ بچوں کو اب اسکول میں داخل کروا دینا چاہیے ۔۔۔۔ “

چائے پیتے ہوئے حمنہ نے اثبات میں سر ہلایا تھا ۔۔ بات بچوں کی تھی اور یہ تو وہ چاہتی تھی ۔۔۔

” ہاں میں اسکول تو دیکھ چکی ہوں ۔۔۔۔ یہی سوچ رہی تھی کہ اب بچوں کو اسکول بھیجنا چاہیے ۔۔۔ “

“ٹھیک ہے میں ڈاکٹر بیگ سے کہہ دوں گا کہ کل ہم لیٹ آئیں گئے کل سب سے پہلے اسکول ہی جائیں گئے ۔۔۔۔ انہیں لیکر ۔۔۔ ” اصفر نے اپنارویہ نارمل ہی رکھا تھا ۔۔۔ دونوں بچے خوش تھے ۔۔۔۔

“واہ ڈیڈ اب ہم اسکول جائیں گئے ۔۔۔۔ ؟ نور نے مسکراتے ہوئے کہا

” ہاں بلکل “

” پھر میں وہاں سب بچوں کو یہ بتاؤں گا کہ میرے بھی ڈیڈ ہیں ۔۔۔۔ باقی بچوں کی طرح ۔۔۔ میرے ممی اور ڈیڈی دونوں ہیں ۔۔۔۔ ” ایمان نے بھی خوش ہوتے ہوئے کہا وہ حمنہ کے برابر میں بیٹھا ہوا تھا

” ایمان یہ کس قسم کی بات ہے ۔۔۔ ممی ڈیڈی سب کے ہی ہوتے ہیں ” حمنہ کو ایمان کی بات کچھ عجیب سی لگی تھی

” نہیں ممی سب کے نہیں ہوتے ۔۔۔ یہ اویس ہے نا جو ہمارے گھر کی طرف رہتا تھا بار بار مجھے کہتا تھا ۔۔۔۔ میرے پاپا مجھے اتنا کچھ لا کر دیتے ہیں بہت پیار کرتے ہیں ۔۔۔ تمہارے پاس تو پاپا ہی نہیں ہیں ۔۔۔۔ جو تمہارے نخرے اٹھائیں ۔۔۔۔ اب میں بھی اسے بتاؤں گا کہ میرے بھی ڈیڈ ہیں ۔۔۔۔ ” نا جانے کس جذبے کے تحت لیکن وہ اپنی کرسی سے اتر کر اصفر کی گود میں جا بیٹھا تھا ۔۔۔ اصفر نے بھی اسے ساتھ لگا لیا اسکی پیشانی کو چومنے لگا

” ہاں بلکل سب کو بتاؤں کے تمہارے ڈیڈ ہیں جو اپنے ایمان کے لئے اپنی جان بھی دے سکتے ہیں ” اسے سینے لگائے اصفر نے فرحت محبت سے کہا تھا

” نہیں ڈیڈ جان نہیں دینا ۔۔۔۔ جان دینے سے انسان مر جاتا ہے ۔۔۔۔ مجھے آپ چاہیے ہو ۔۔۔ ہمیشہ ۔۔۔۔” یہ کہتے ہوئے اس نے اصفر کو بینچ لیا تھا ۔۔۔ حمنہ کے لئے یہ بات ایک انکشاف ہی تھی ۔۔۔۔ ایسی بات ایمان نے حمنہ کو پہلے کبھی نہیں بتائی تھی کہ بچے اسے کیا کیا کہتے ہیں ۔۔۔ ہاں اکثر وہ اویس نامی بچے سے کھیلنے سے کتراتا تھا یا منع کر دیتا تھا کہ مجھے اس بچے کے ساتھ نہیں کھیلنا ۔۔۔۔ جس طرح سے وہ اصفر کے ساتھ لگا ہوا تھا ۔۔۔ پہلی بار لگا کہ اسکے بچوں کو صرف ماں کی ضرورت نہیں تھی ۔۔۔۔ باپ کی بھی تھی ۔۔۔۔ اچانک سے اسکی بھوک مٹی تھی ۔۔۔۔ چائے رکھی رکھی ٹھنڈی ہو چکی تھی ۔۔۔۔ نور تو لا ابالی تھی لیکن ایمان سمجھدار تھا اور حساس بھی ۔۔۔۔ حیرت یہ تھی کہ اپنے دل کی بات اس نے ماں سے بھی نہیں کی تھی ۔۔۔۔ جو اب اپنے باپ سے کر رہا تھا ۔۔۔

پورا دن وہ چپ چپ ہی رہی تھی ۔۔۔۔ دن با دن بچے اصفر سے بہت قریب ہوتے جا رہے تھے ۔۔۔ جیسے کوئی عجیب سی کشش ہو اس میں یا وہ خون کی کشش تھی جو بے اختیار تھی جوشوہ باپ کے لئے محسوس کرتے تھے ۔۔۔ عام دونوں میں تو جلدی سو جاتے تھے لیکن اتوار کا پورا دن بچوں کا اصفر کے ساتھ گزرتا تھا ۔۔۔۔ باہر برف کے ساتھ کھلتے ہوئے ۔۔۔ اپنے پزل گیمز کے مشکل ٹاسک وہ اصفر کے ساتھ ہی حل کرتے تھے ۔۔۔ چند ہی دنوں میں بچے اسکول بھی جانے لگے تھے ۔۔۔۔ رات کو بچوں کو سلاتے ہوئے حمنہ نے ایمان کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا

” مان “

” جی ممی “

” اویس تم سے تمہارے بابا کے بارے ایسا کچھ کہتا تھا ۔۔۔ تو تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا “

” ممی میں آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔ اگر میں بتاتا تو آپ پریشان ہوتیں ” حمنہ کچھ دیر تو ایمان کو غور سے دیکھتی رہی اپنی عمر سے بڑی باتیں تھیں اسکی ۔۔۔۔ اتنا سا ہو کر کتنا کچھ دل میں رکھتا تھا وہ۔۔۔ بے اختیار ہی اسے سینے لگا لیا۔۔۔

” اتنے سے ہو تم اتنی بڑی بڑی باتیں کیسے کر لیتے ہو تم ۔۔۔ میری اتنی فکر تھی تمہیں ” حمنہ کو جی بھر کر اس پیار آیا تھا

” آپ بھی تو ہمارے لئے اتنا کچھ کرتی ہیں ۔۔۔ممی میں آپ کو پریشان نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔۔ ” وہ بھی ماں کے ساتھ لگا کہنے لگا۔۔۔۔

پہلی تنخواہ اصفر نے ڈنر کے دوران حمنہ کے سامنے رکھی تھی ۔۔۔

” یہ پچیس ہزار ہیں رکھ لو گھر کے خرچے کے لئے ۔۔۔ اور کوشش کرنا کہ مہینہ اسی میں گزر جائے ۔۔۔ ملے تو چالیس ہزار ہیں لیکن دس ہزار گھر کا کرایہ ہے اور باقی بجلی وغیرہ کا بل وغیرہ “

حمنہ نے پیسے پکڑ لئے۔۔۔۔۔

“پہلی بار پیسے دیتے ہوئے اصفر نے یہ کہا تھا پورا مہینہ اسی میں گزرے ۔۔۔۔ ورنہ لاکھوں اسے صرف شاپنگ کے لئے دیتے ہوئے یہی کہتا تھا کہ اور پیسے چاہیے ہوں تو لے لینا ۔۔۔

حلال اور محنت سے کمائے گئے پیسے شاید ایسا ہی خدشہ رکھتے ہیں کہ بس مہینہ عزت سے گزر جائے اسے اپنے ابا یاد آئے تھے جو ایسا ہی کچھ حمنہ کی والدہ کو پیسے دیتے ہوئے کہتے تھے اور بے شمار لوگ ایسا ہی کچھ کہتے ہیں ۔۔۔۔ وسائل جب گھر کے مسائل سے بڑھنے لگیں تو مرد عورت دونوں ہی سوچ میں پڑ جاتے ہیں ۔۔۔بچوں کی ذمہ داریاں بھی بڑھ رہیں تھیں انکی اسکول کی فیس تھی ۔۔۔۔ مزید بڑھتے ہوئے خرچے تھے

” حمنہ میں چاہتا ہوں تم شام چھ بجے کے بجائے بس ایک بجے تک ڈیوٹی دیا کروں ۔۔۔ بچوں کو اسکول پر واپسی پر اپنے گھر آنا چاہیے ۔۔۔۔ ہمارے بچے مسز۔ بیگ کی ذمہ داری تو نہیں ہیں ۔۔۔ اور میں کوئی ملازمہ ابھی افورڈ نہیں کر سکتا جو بچوں کی دیکھ بھال کرے ۔۔۔”

” لیکن میں افورڈ کر سکتی ہوں ۔۔۔” حمنہ نے کھانے کے دوران جواب دیا

” حمنہ بچوں کو تمہاری ضرورت ہے کسی میڈ کی نہیں ۔۔۔۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس میں کسی اختلاف کی ضرورت ہے ۔۔۔ رہ گئ بات تمہارے پیسوں کی تو وہ تمہارے ہیں ۔۔۔۔ مجھے اچھا لگے گا اگر تم میری تنخواہ میں ہی سب کچھ پورا کرنے کی کوشش کروں ۔۔۔ میں ویسے بھی اب شاید بارہ بجے تک ڈیوٹی دیا کروں ۔۔۔ اگلے مہنے اس سے ذیادہ تنخواہ ہو گی تو تمہیں بھی مشکل نہیں ہو گئ ۔۔۔ ” کھانا ختم کر کے وہ برتن اٹھا کر کچن میں رکھنے لگا ۔۔۔۔ حمنہ بھی چپ سی ہو گئ

*****……

” ڈاکٹر حسن مردہ آباد ڈاکٹر حسن مردہ آباد ” کی آوازیں حسن کمال کو بے چین کرنے کے لئے کافی تھیں

حسن کمال ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے تھے۔۔۔ پورا جسم پسینے سے شرابور تھا ۔۔۔۔ ٹھنڈ میں بھی انہیں گھٹن محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔ انکا ماضی جیسے انکے لئے عذاب سا بنتا جا رہا تھا

بیوی کی وفات کے بعد تو جیسے ناکامی نے حسن کمال کا چہرہ دیکھ لیا تھا ۔۔۔۔

ایک کے بعد ایک نا کام آپریشن ۔۔۔۔ انکے ہاسپٹل میں موت کی شرح بڑھنے لگی تھی ۔۔۔۔ دعا کے کیس بھی خراب ہونے لگے تھے لوگ اب انکے پاسپٹل میں آنے سے گھبرانے لگے تھے ۔۔۔۔ پھر اوپر کا پورشن جو ابھی زیر تعمیر تھا ایک رات اچانک سے گر گیا

لاکھوں پیسے پل میں مٹی کا ڈھیر ہوئے تھے ۔۔۔۔ نا جانے قصور کس کا تھا لیکن اس نقصان میں حسن کمال کی کمر توڑ دی تھی ۔۔۔ پھر اصفر سے حسن کمال جتنی بار بھی جیل میں ۔ملاقات کے لئے گئے تھے اصفر نے ملنے سے انکار کر دیا تھا ۔۔۔۔ نا باپ سے مل رہا تھا نا وکیل سے ۔۔۔۔ عمر قید کو جیسے اس نے دل سے مان لیا تھا ۔۔۔۔ لیکن حسن کمال کو ایک پل چین نہیں تھا ۔۔۔۔ کیوں کہ قصور وار وہ تھے اور سزا اصفر بھکت رہا تھا ۔۔۔۔ پھر چین کہاں سے آنا تھا ۔۔۔۔ اس لئے عبدالباری کے والد کا پتہ ہاسپٹل کے ریکارڈ سے نکلوا کر اسکے گاؤں پہنچ گئے ۔۔۔۔ دونوں میاں بیوی زندہ لاش کی طرح زندگی گزار رہے تھے ۔۔۔ پہلی بار حسن کمال نے اس مزدور کے پاؤں تک کو ہاتھ لگانے سے بھی گریز نہیں۔ کیا تھا

” خدا کے لئے میرے بیٹے کو بچا لو وہ مر جائے گا ۔۔۔ اور اسکے بغیر میں مر جاؤں گا ۔۔۔ تم جتنے پیسے چاہتے ہو وہ میں تمہیں دینے کو تیار ہوں بس تم گواہی دے دو کے تم نے کیس واپس لے لیا ” روتے ہوئے حسن کمال اپنی تمام تر دولت اور نام عزت وقار رکھتے ہوئے بھی اس غریب مزدور کے سامنے بے بس تھا ۔۔۔۔

” ڈاکٹر صاحب آپ بیٹا بیٹا ہے اور میرا بیٹا ؟ وہ کیا تھا ۔۔۔ ایک تجربہ ۔۔۔۔ ہم بھی اسکے بغیر مر مر کے ہی جی رہے ہیں ۔۔۔۔ پیسہ لیکر ہم نے کیا کرنا ہے ۔۔۔ پیسہ کی طمع لالچ توآپ جیسوں کو ہوتی ہے میں تواپناسب کچھ بیچ کر اپنے بچے کی تکلیف دور کرنے آپ کے پاس آیاتھا۔۔۔ آپ نے کیا کیا اس کے ساتھ ۔۔۔۔ جیسے ہم مر کے جی رہے ہیں آپ بھی جی لینا ۔۔۔۔ ” کسان نے ناگواری سے کہا ۔۔۔۔

حسن کمال کا تنفس بری طرح سے بگڑا تھا ۔۔۔۔وہ اپنے بیڈ سے اٹھ کر کمرے میں سے نکل کر گیلری میں آ گئے ۔۔۔۔ سرد ہوا میں لمبےلمبے سانس لینے لگے ۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں طعبت کچھ بحال ہوئی تھی ۔۔۔۔ اپنا ہی کمرہ اپنا ہی گھر ایک قید خانہ سا لگ رہا تھا ۔۔۔۔ کمرے میں آ کر موبائل پکڑ کر اصفر کو کال ملائی رات کے دو بج رہے تھے شاید سو رہا تھا بہت دیر بعد اس نے فون اٹھایا تھا ۔۔۔

” ہیلو ڈیڈ ۔۔۔ سب ٹھیک تو ہے ۔۔۔۔ اس وقت کال کی آپ نے ” وہ فکرمندی سے بولا

” اصفر تم واپس آ جاؤں ۔۔۔۔ ” اپنے آنسوں اور گھبراہٹ کو ضبط کرتے ہوئے وہ بولے

” ڈیڈ آپ ٹھیک تو ہیں “

” بس تنہائی سے گھبرا گیا ہوں ۔۔۔۔ سیف اور دعا بھی امریکہ چلے گئے ہیں اور تم ۔۔۔۔ تم تو جیسے الگ ہی دنیا بسا بیٹھے ہو “

” سیف اور دعا بھابی امریکہ جا چکے ہیں مگر کیوں ڈیڈ اپنے کیوں جانے دیاانہیں ” اصفر نے حیرت کا اظہار کیا

” میری حیثیت ہی کیا رہ گئ ہے ۔۔۔۔ نا تم میری سنتے ہو نا وہ ۔۔۔۔ تم بتاوں کے کب آؤں گئے “

” ڈیڈ ابھی مشکل ہے ۔۔۔۔ میں کوشش کروں گا کے آ جاؤں ” اصفر نے بہانہ بنایا تھا ۔۔۔

” اصفر میں کل یہاں آ رہا ہوں ۔۔۔ یہاں لاہور میں رہا تو شاید دم گھٹ جائے گا میرا ” حسن کمال بے بسی کی آخری حد پر تھے ۔۔۔ اصفر کی جیسے نیند ہی اڑ گئ تھی