Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415

Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 4

644.1K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Noor-e-Emaan Episode 4

Noor-e-Emaan by Umme Hani

حمنہ کے کمرے سے باہر جانے کے بعد یوسف نے پیپر ویٹ اٹھا کر اصفر کے سر کا نشانہ باندھا تھا ۔۔۔ اصفر کا قہقہ گونجا تھا

“اب یہ کیا نیا ڈرامہ ہے تمہارا ” یوسف اسے بری طرح گھور رہا تھا

” ارے تھوڑی تفریح ہو جائے یار ۔۔۔ اس مس تمیزودین سے ہم بھی کچھ سیکھ لیں گئے اور بہت کچھ سیکھا بھی دیں گئے ۔۔ ” اصفر نے اپنی آنکھ دبا کر کہا تھا

” اصفر مجھے یہ سب ٹھیک نہیں لگ رہا ۔۔۔۔ اگر کسی کو شک بھی ہو گیا تو تمہارا کیا ہے تم تو چلتے بنو گئے میں پھنس میں جاؤں گا میرے ماتحت کام کرتی ہے وہ ۔۔۔” یوسف نے اپنا خدشہ ظاہر کیا

” ڈونٹ ویری یوسف ایسی نوبت نہیں آئے گی اور ۔میرے پاس کہاں فرصت ہے سب چھوڑ چھاڑ اتنا وقت یہاں تمہاری اس مس حمنہ کے ساتھ گزاروں بس چند دن کی بات ہے میں خود اس لڑکی ایکسکیوز کر لوں گا ۔۔۔ اگر پھر بھی نا مانی تو ایک آدھ لنچ کروا دوں گا اچھے سے ریسٹورنٹ میں اینڈ ڈیس اٹ ۔۔۔ بات ختم ہو جائے گی ۔۔۔۔ ” اصفر کے لئے تو جیسے سب کچھ آسان تھا ۔۔۔ شکل صورت میں وہ اپنے والد کی کاربن کاپی تھا ۔۔۔۔ ہینڈ سم خوش شکل بلا کا دل پھنک نرسیں اور لیڈی ڈاکٹر اسکی کمپنی میں ہمیشہ خوش رہتی تھیں ۔۔۔۔

بڑی معنی خیز گفتگوں تھی اس کی ذو معنی لفظوں کا جیسے کھلاڑی تھا وہ ۔۔۔۔ آنکھوں اور باتوں سے قائل کرنا اس کے لئے کوئی بڑی بات نہیں تھی لیکن اس بار برا پھنسے جا رہا تھا اس بار مقابل میں حمنہ تھی ۔۔۔ ایسی لڑکی جو اپنے اصولوں سے ایک قدم بھی ہٹنے والی نہیں تھی ۔۔۔۔

اپنی تربیت پر جیسے اسے بہت ناز تھا ۔۔۔۔ ماں سادا سی عورت تھی ذیادہ تعلیم یافتہ بھی نہیں تھی والد بھی واجبی سی تعلیم ہی حاصل کر پایا تھا لیکن حمنہ کا ماسٹر مائنڈ ذہن اللہ کی دین تھی ۔۔۔ کتاب کھول کر پڑھتے ہی جیسے سب کچھ ذہن کے پردے پر فٹ ہو جاتا تھا ۔۔۔ یہی وجہ تھی ۔۔۔ شروع سے پہلا انعام حمنہ کے ہاتھ میں ہی آتا تھا ۔۔۔۔

کالج سے ہی وہ سکالر شپ سے پڑھی تھی ۔۔۔ میڈیکل میں کی پڑھائی میں ماں باپ کا پیسہ خرچ کم ہی ہوا تھا ۔۔۔۔ یہاں بھی اس کے ذہانت کام آئی تھی ۔۔۔۔

حمنہ نے گھر کے گیٹ کو چابی سے کھولا گیٹ عبور کرتے ہی کوکر کی سیٹی کی آواز اور اشتعال انگیز خوشبو نے کچن کا رخ کرنے پر مجبور کیا تھا ۔۔۔ اپنی والدہ کے سبک رفتاری سے چلتے ہاتھ پسینے سے شرابور چہرہ دیکھ کر وہ دھیرے سے آگے بڑھی وہ روٹی بیل رہیں تھیں ۔۔۔ حمنہ کی طرف پشت تھی اس لئے اسے دیکھ نہیں پائیں حمنہ نے انہیں پیچھے سے گلے لگایا تھا

” امی ۔۔۔۔ ” وہ یک چونک سی گئ تھیں

” آگئ تم۔۔۔” وہی مسکراہٹ جو اسے دیکھ کر انکے چہرے پر آج جاتی تھی

” نہیں۔۔۔۔ آئی نہیں ہوں لائی گئ ہوں اتنی مزے کی خوشبوں آ رہی ہے کیا پک رہا ہے “

” سرخ لوبیہ ” حمنہ کی امی نے پریشر ککر کے نیچے سے چولہا بند کیا اور پھر ویٹ ہٹائی

” لیکن خوشبوں سے لگ رہا تھا کہ نا جانے کیا شاندار چیز بن رہی ہے “

” تمہاری ماں کے ہاتھ سے جو بھی پکے وہ شاندار ہی ہوتا ہے “

” یہ تو ہے ۔۔۔تبھی تو بھاگی چلی آئی ہوں سیدھا کچن میں کپڑے بھی تبدیل نہیں کیے “

” چلو جاؤں پہلے اپنے کمرے میں منہ ہاتھ دھو کپڑے بدلو تب تک کھانا تیار ملے گا تمہیں “

” امی آپ یہ سب رہنے دیا کریں میں آ کر بنا دیا کروں گی ۔۔۔”

“نہیں حمنہ تم صرف اپنی ڈاکٹری پر دھیان دو ۔۔۔ اپنے ابا کا خواب پورا کرو ۔۔۔ یہ سب کرنے کے لئے عمر پڑی ہے بس تم سب سیکھ چکی ہو یہی کافی ہے ” انہوں پیار سے اس چہرہ تھپتھپا کر کہا ۔۔۔

” انشاء اللہ امی وہ بھی ضرور پورا کروں گی ۔۔۔ لیکن ابھی بہت بھوک لگ رہی ہے ۔۔۔ میں دو منٹ آ رہی ہوں اور آج کھانا آپ کے ہاتھ سے کھوں گی ” ماں کے گلے میں بانہیں ڈالے وہ لاڈ سے بولی

” اچھا بابا۔۔۔۔ اب جاؤں بھی ۔۔۔ کب بڑی ہو گئ تم ” انہوں نے پیار سے اسے آنکھیں دیکھائیں تھیں “

” آپ کے لئے تو کبھی بھی نہیں ” انکے رخسار پر پیار کر کے وہ کمرے میں چلی گئ تھی ۔۔۔

*****……

موبائل فون کی بیل نے جیسے چونکایا تھا حمنہ کو ۔۔۔۔

ماں کے ساتھ بتائے لمحے جیسے قیمی سرمایہ تھے اس کے پاس ۔۔۔

اگر آج زندہ ہوتی تو دیکھتی ۔۔۔۔ کہ انکی بیٹی ان سخت حالات میں بھی اپنی اور اپنے بچوں کے لئے حلال روٹی کو دن رات ایک کر کے کیسے اس روٹی کو حلال کر رہی ہے ۔۔۔۔

فون کسی ان نون نمبر سے آ رہا تھا حمنہ نے فون اٹھایا آگے سے خاموشی تھی ۔۔۔ دو تین بار ہیلو کہہ کر اس نے فون رکھ دیا ۔۔۔ پھر بچوں کے ساتھ ہی لیٹ گئ ۔۔۔۔

صبح فجر کی آذان کی آواز پر جیسے اسکی آنکھ ایسے کھلتی تھی جیسے کسی نے ہلا کر جگایا ہو ۔۔۔ ۔ نماز کے بعد تلاوت قرآن پاک کر کے وہ تیار ہونے لگی بس اسے قدسیہ کا انتظار تھا وہ آئے تو حمنہ بھی جانے والی بنے ۔۔۔۔ لیکن وہ ساڈھے آٹھ بجے پہنچی تھی حمنہ نے اسے گھورتے ہوئے کہا

” قدسیہ کتنی بار سمجھاؤں تمہیں وقت پر پہنچا کروں مجھے آٹھ بجے ہاسپٹل پہنچنا ہوتا ہے ۔۔۔ اور دیکھوں ساڈھے آٹھ یہیں ہو رہے ہیں ” حمنہ نے اسے ہاتھ میں بندھی گھڑی دیکھاتے ہوئے کہا

” باجی میرے بھی تو چھوٹے چھوٹے بچے ہیں تڑکے تو اٹھ جاتی ہوں دوپہر کا کھانا پکا کے رکھ کے میاں کو ناشتہ کروا کے بچوں کے لئے چاہ پراٹھہ بنا کر آتی ہوں ۔۔۔ آج چھوٹا والا بیٹا جلدی اٹھ گیا تھا ضد کرنے لگا کہ اماں آج نا جا ۔۔۔ بیگم صاحبہ بڑی مشکل سے اسے بہلا کے آئی ہوں ” قدسیہ بھی اپنی جگہ ٹھیک تھی حمنہ بس فٹافٹ سے اپنے سینڈل پہنتے ہوئے سن رہی تھی وہ بھی اپنی جگہ مجبور تھی پورا دن بچوں کو گھر چھوڑے وہ اسکے بچے پال رہی تھی

” تم فکر مت کروں نیا سال شروع ہوتے ہی میں ان دونوں کو اسکول میں ایڈمشن کروا دوں گی پھر بے شک تم دیر سے آ جایا کرنا ۔۔۔ لیکن قدسیہ پلیز ابھی کوشش کیا کرو کہ جلدی پہنچ جایا کروں اگر بچہ ضد کرے تو ساتھ لے آنا کوئی حرج نہیں ہے۔۔۔۔ اچھا میں چلتی ہوں “اسے نرمی سے سمجھاتے ہوئے وہ باہر نکل گئ ۔۔۔۔

فارس رات بھر کی ڈیوٹی کر کے گھر لوٹ رہا تھا جب تیزی سے اندر بڑھتی ہوئی حمنہ کو دیکھ رہا تھا اسے دیکھ کر پل بھر کے لئے قدم حمنہ کے بھی رکے تھے اس بار تو پورا مجنوں بنا ہوا تھا شیو بھی بڑھی ہوئی تھی ۔۔۔ آنکھیں بھی کچھ متورم تھی رات بھر ڈیوٹی دینے کی وجہ سے ۔۔۔ شکل سے بھی سنجیدہ سا لگ رہا تھا ۔۔۔ حمنہ سائیڈ سے ہو کر اندر چلی گئ ۔۔۔۔

شام کو جب گھر واپس آئی تو ایک ادھم سی مچلی ہوئی تھی پارے گھر میں ۔۔۔ دروازہ کھولتے ہی بچوں کے شور کی آواز ہسنے اور قہقہوں سے سمجھ گئ موصوف کا دماغ درست جگہ پر آ چکا ہے ۔۔۔ ہر بار کی طرح ۔۔۔ اس بار بھی ہار فارس نے ہی مانی تھی ۔۔۔۔

حمنہ نے مسکراتے ہوئے دروازہ بند کیا تھا ۔۔۔ پیزے کا بکس گندی پلٹیں کوک خی گلاس سب کچھ ٹیبل پر بکھرا پڑا تھا

بچوں کو اس نے خوب عیاشی کروائی تھی

صوفے پر کشن بکھرے پڑے تھے لاونج کا حشر اچھا خاصا بگاڑ کر اب وہ تینوں کمرے میں تھے ۔۔۔ حمنہ نے گہری سانس لی کافی دنوں بعد بچوں کی کھلکھلانے آوازیں سنی تھیں ۔۔۔

فارس اچھا تھا بہت اچھا اس میں وہ ہر خوبی تھی جو اچھے ایک انسان میں ہوتی ہے ۔۔۔ بس ایک ہی معاملے میں اسے برا لگتا تھا

کیوں اپنی زندگی ایک ایسی عورت کے لئے برباد کر رہا تھا جو اپنی زندگی میں مزید کسی کی گنجائش نہیں رکھتی تھی ۔۔۔۔ اسکے لئے اسکے بچے اور اسکا فرض جو ڈاکٹر کی ڈگری ملتے ہی اس پر لاگو ہو چکا تھا بس وہی اہم تھا ۔۔۔ اس کے علاؤہ کچھ نہیں فارس بھی نہیں ۔۔۔۔اس کے بعد زندگی میں

اگر کچھ تھا اور ایک تلخ اور بہناک ماضی یہی سوچتی ہوئی

وہ کمرے کے دروازے پر پہنچی تو ہسنے کی آوازیں تیز ہوئیں تھیں اس سے پہلے کے وہ نیب گھما کر دروزہ کھولتی دروازہ جھٹکے سے کھلا تھا ۔۔۔۔

سامنے ہنستا ہوا فارس کھڑا تھا حمنہ کو دیکھ یک دم سنجیدہ ہوا تھا ۔۔۔ فارس دروازے پر ایستادہ کیے ہوئے تھا حمنہ دائیں جانب سے اندر جانے لگی وہ دائیں جانب ہو گیاوہ بائیں جانب سے جانے لگی وہ بائیں جانب ہو گیا

” فارس ہٹو پیچھے ” حمنہ نے اسے گھورتے ہوئے کہا

” نو لیڈی ۔۔۔ آج میرا دن ہے ۔۔۔ تم ذرا کمرے سے باہر ہی رہو ۔۔ تمہاری وجہ سے میں اپنے بچوں سے بارہ دن ۔۔۔ پورے بارہ دن دور رہا ہوں ۔۔۔ اس لئے جب تک میں یہاں ہوں تم کمرے میں نہیں جا سکتی ۔۔۔ جاؤں شاباش کچن میں جاؤ۔۔۔۔ اور دیکھوں کیا حشر کیا ہے میں نے کچن کا ۔۔۔۔ ” فارس نے اتراتے ہوئے کہا ساتھ میں مسکرا بھی رہا تھا جیسے سب کچھ جان بوجھ کر کیا ہو

” کیا حشر کیا ہے تم نے ” حمنہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی جو تپا تپا سا۔ بات کر رہا تھا

” خود جا کر دیکھ لو ” یہ کہہ اس نے کمرے کا دروازہ۔ بند کیا لیا

حمنہ تیزی سے کچن میں گئ تھی واقع کچن کا حشر بگڑا پڑا تھا ۔۔۔ کہیں بیسن کا ڈبہ کھلا پڑا تھا کہیں پیاز کے۔ چھلکے۔۔۔ سنک میں برتنوں کا ڈھیر ۔۔۔ کڑاہی چولہے پر رکھی ہوئی تھی شلف پر کہیں پالک کے پتے بکھرے ہوئے کہیں آلو کے چھلکے ۔۔۔ شاید پکوڑے بنائے گئے تھے ۔۔۔

کچپ کا پاؤچ ۔۔۔ اور چلی سوس کی بوتل ۔۔۔ نمک مصالحوں کے ڈبے سب شلف پر تھے ۔۔۔ حمنہ کا جی چاہا جا کر اس کا سر پھاڑ دے لیکن ضبط کر گئ ۔۔۔ پہلے شلفیں صاف کیں اسکے بعد برتن دھوئے ۔۔۔ کچن ٹھیک کر کے لانج کاحلیہ درست کیا ابھی سب کچھ ٹھیک کر کے فارغ ہوئی ہی تھی ڈور بیل سنائی دی اس سے پہلے کی حمنہ دروازہ کھولتی جلدی سے فارس کمرے سے نکلا ۔۔۔ اور حمنہ سے پہلے مین دروزے پر پہنچا ۔۔۔دروازہ کھولا تو ڈلیوری مین ایک ڈیل بکس لئے مسکرا رہا تھا ۔۔۔

فارس نے اس سے بکس لیا اور پیسے دیکھ کر دروازہ بند کیا ۔۔۔ پھر حمنہ کی طرف متوجہ ہوا

” بہت تھک گئ ہو گی کام کر کے ” چہرے پر تاثرات ایسے تھے جیسے بڑی فکر مندی ہو

” شٹ اب فارس ” وہ غصے سے بولی

” تمہیں یوں لال پیلا دیکھ کر مت پوچھوں کیسے ٹھنڈ پڑ رہی میرے دل میں ” فارس نے سینے پر ہاتھ رکھ کر یوں کہا جیسے واقع پر سکون ہوا حمنہ بے یقین ہوئی تھی

ایسا رویہ اس نے اسے پہلی بار اپناتے دیکھا تھا

” تم ۔۔۔تم ” وہ غصے سے انگلی اٹھاتے ہوئے اسے تنبیہ کرنے والی تھی کہ فارس نے وہ باکس اسے تھما دیا

” خالی پیٹ غصہ کرنے سے بی پی جلدی شوٹ کر جاتا ہے اس لئے پہلے کچھ کھا لو” فارس کو شاید اسے زچ کر کے مزہ آ رہا تھا

حمنہ وہ بکس سامنے ٹیبل پر پٹخ دیا

” بھوک نہیں ہے مجھے ۔۔۔ بڑے دعوے کیے تھے تم نے دوبارہ بات نہیں کروں گئے مجھ سے جب تک میں نا چاہوں

اب یہاں کیا لینے آئے ہو ” حمنہ نے غصے سے اسے گھورتے ہوئے کہا

” تمہاری طرح پتھر دل نہیں ہوں میں ۔۔۔۔ کتنے دن سے بچوں سے نہیں ملا تھا اس لئے آگیا ۔۔۔” فارس کا انداز مدافعانہ تھا ۔۔۔

” مل لیا بچوں سے ۔۔۔ اب جاؤں یہاں سے ” وہ اب بھی غصے میں تھی

” جا رہا ہوں ۔۔۔ لیکن میری ایک بات اچھی طرح سے سمجھ لو ۔۔۔۔ ” فارس بھی اب کافی سنجیدہ سا ہو کر اس کے قریب آ کر بولا

” شادی میں تم سے ہی کروں گا ۔۔۔ تم خوشی سے مانوں ۔۔۔ یا غصے سے ۔۔۔۔ کیونکہ ان دس دنوں میں ۔۔۔میں یہ اچھی طرح سے جان گیا ہوں کہ میرا گزارا نہیں ہے ۔۔۔۔ نا تمہارے بغیر نا۔بچوں کے بغیر ۔۔۔

چند دنوں میں ڈاکٹر بیگ کے ساتھ آوں تمہارا رشتہ لیکر ۔۔۔ اور تمہیں اپنے نام کی انگوٹھی پہنا کر جاؤں گا یہ وعدہ ہے فارس کا ۔۔۔ اچھی طرح سے سمجھ لو ” فارس اسکی آنکھوں ۔میں آنکھیں ڈالے وہ دو ٹوک انداز سے کہہ کر۔ چلا گیا ۔۔۔ حمنہ نے پہلی بار اس کا یہ روپ دیکھا تھا ۔۔۔۔ ہمیشہ سے اس کا احساس کرنے والا اسکی ہر پریشانی اور تکلیف کو بنا کہے سمجھنے والا فارس ۔۔۔۔ ایسا تو ہر گز نہیں تھا ۔۔۔ جیسا وہ آج نظر آ رہا تھا۔۔۔۔

کچھ پل تو جیسے وہ منجمد سی ہوئی تھی پتھر آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے تھے ۔۔۔۔

*****……

” کیا کروں میں اس لڑکی کا مزمل صاحب ۔۔۔ میری امیدوں پر تو پانی پھیرنے کا سوچے بیٹھی ہے آپکی بیٹی ایف ایس سی کا رزلٹ دیکھا ہے آپ نے صاحبزادی کا ” آمنہ بیگم کا پارہ آخری حدوں کو چھو رہا تھا ۔۔۔ لائبہ سامنے مودبانہ انداز سے سر جھکائے کھڑی تھی۔۔۔ مزمل صاحب کے ماتھے پربھی سلوٹیں کچھ بڑھ گئی تھیں

” لائبہ کیا ہے یہ سب “

” ابو جی وہ۔۔۔۔ ” یہ کہہ وہ رونے لگی تھی ۔۔۔۔ آمنہ بیگم نے صوفے پر بیٹھے بیٹھے اپنا سر پکڑا سمجھ گئیں تھیں کہ بیٹی کے ڈرامے اب شروع ہیں ۔۔۔ مزمل صاحب کے چہرے کا تناو بھی اکلوتی بیٹی کے چار آنسوں دیکھ دم توڑ چکا تھا

” اچھا اچھا رونا بند کروں “اس بار آواز میں سختی کی آمیزش بھی نا ہونے برابر تھی مزمل صاحب نے کچھ نرمی دیکھائی ۔۔۔ لائبہ کا حوصلہ بندھا

” مجھ سے نہیں پڑھی جاتیں یہ موٹی موٹی کتابیں ۔۔۔ میں کمپوٹر لینا چاہتی ہوں ابو جی ڈاکڑی میرے بس کی بات نہیں ہے ۔۔۔۔ مجھے کمپوٹر میں دلچسپی ہے ۔۔۔ اب دیکھ لیں جتنے سسٹم مجھے موبائل کے پتہ ہیں نا امی جی کو پتہ نا آپ کو ۔۔۔۔” اپنی طرف سے بہت بڑا جواز اس نے پیش کیا تھا لیکن آمنہ بیگم تپی بیٹھیں تھیں

” یو کہوں بیٹا جی کہ اس موئے موبائل کا سارا بیڑا غرق ہوا ہے ۔۔۔

تم کمپوٹر بھی رہنے دو ایسا کروں موبائل ریپرنگ کا کام سکھ لو ۔۔۔ سسٹم تو تمہیں موبائل کے ازبر یاد ہیں ” آمنہ بیگم کے طنز کو اسنے نافہمی انداز سے لیتے ہوئے خوشی سے سراہا تھا

” ویسے آپ کے مشورے پر سوچا جا سکتا ہے ۔۔۔” لائبہ کے منہ سے یہ سن کر مزمل صاحب کی گھوری تیز ہوئی تھی

” لو سن لئے بیٹی کے نادرخیالات۔۔۔۔ ماں یہاں سرکاری اسکول کی ٹیچر ہے اور باپ محمکہ موسمیات کا ملازم کیسے اپنی خواہشات کو نظر انداز کر کے صرف اس لڑکی کے لئے ایک ایک پائی جوڑ رہے ہیں کہ یہ کچھ بن جائے اور بی گریٹ لیس ہے اس نے ایف ایس سی میں ۔۔۔۔ ناک کٹوا کر رکھ دی میری اس نے میرے سٹاف کے سامنے۔۔۔ سب ٹیچرز کو جب یہ پتہ چلا کہ محترمہ سکینڈ ڈوژن سے پاس ہوئیں ہیں ۔۔۔کتنی باتیں سنائیں ہیں سب ۔نے مجھے۔۔۔۔ ” آمنہ بیگم سبکی میں مبتلہ تھیں

” یہ لاسٹ ورانئگ ہے تمہارے لئے لائبہ ۔۔۔۔ تمہارا رزلٹ اگر اب کی بار خراب ہوا تو ۔۔۔ میں تمہیں میڈیکل ہوسٹل میں بھجوا دوں گا ۔۔۔ ایسی سختی ہے وہاں کہ چودہ طبق روشن ہو جائیں گئے تمہارے ۔۔۔۔ دیکھوں پھر کیسے ڈاکٹر بن کر باہر آتی ہو تم وہاں سے” مزمل صاحب کی سختی پر وہ اپنے کمرے میں چلی گئ

میڈیکل سے اسکی جان جاتی تھی ۔۔۔۔ بوٹنی کے پیریڈ میں وہ باقاعدہ اونگ رہی ہوتی تھی ۔۔۔ برابر بیٹھی لڑکی اسے جھنجھوڑ کر ہوش میں لاتی تھی ۔۔۔۔

زو لوجی کا ہر لیکچر میں بھی وہ جمائیاں لیتے ہوئے سنتی تھی ۔۔۔ لیکن یہ نیند کی کیفت پیریڈ ختم ہوتے ہی بھگ سے بھاگ جاتی تھی ۔۔۔۔ برابر بیٹھی لڑکی نے طنز کیا

” اب بڑی ہشاش لگ رہی ہوں لیکچر کے دروان کون سی نیند کی گولی کھاتی ہو تم ” ساتھ بیٹھی لڑکی نے لائبہ کو دیکھ کر پوچھا

” یار یہ سب سن کر مجھے لگاتا ہے کوئی دھیمے سروں میں ۔مجھے لوری سنا رہا ہے ۔۔۔ پھر ان سب میں دلچسپی کے لائیک ہے کیا تم بتاؤں

مجھے یہ بوٹنی اور زو لاجی پڑھ کر کیا چھانگا مانگا کے جنگلات کے دورے پر جانا ہے ہم نے

اور وہاں جا کر جڑئ بوٹیوں پر رسرچ کریں گئے یا یہ دیکھیں گئے کے کون سے سانپوں کی قسم زہریلی ہے اور کونسی نہیں ۔۔۔

سب بے کار ہے یار ۔۔۔۔ مجھے یہ کتابیں دیکھ کر کوفت ہوتی ہے ۔۔۔ پتہ نہیں لوگ یہ سب پڑھ کیسے لیتے ہیں ۔۔۔ ” لائبہ نے کتاب پرے ڈسک پر پھنکی تھی ۔۔۔۔

لیکن ماں باپ کی خواہش اب سختی بن چکی تھی۔۔۔ چار دن بعد اس کا ٹیسٹ تھا دو دن سے وہ کمرے کی لائٹ جلائے سو رہی تھی تاکہ ماں جو یہی لگے کے بچی ایڈمشن کے ٹیسٹ کی تیاری کر رہی ہے تیسرے دن گوگل کھولے وہ بخار چڑھانے کے طریقے دیکھ رہی تھی سردیوں کی راتیں تھیں وہ رات کو ٹھنڈے پانی سے نہائیں کانپتے ہوئے رضائی میں کھس کر لیٹی تھی پھر سوچ کر مسکرائی کہ اب تو تو پکا صبح بخار چڑھ جائے گا لیکن نہیں ۔۔۔ قسمت اس پر کہاں اتنی جلدی مہربان ہوئی تھی۔۔۔

پھر دوستوں کے مشورے سے دوپہر میں بغل میں پیاز لیکر چھت پر دھوپ میں بیٹھ گئ ۔۔۔ لیکن مجال ہے جو بخار چڑھ کر دیا ہو ۔۔اگلے دن ٹیسٹ تھا اور وہ جانتی تھی کہ دو موٹے موٹے صفر آنے ہیں اس لئے گرم گرم چائے پی کر سر درد اور بخار کا بہانہ بنایا پھر تھرما میٹر منہ میں ڈال کر دیکھاوہ ایک سو دو بخار بتا رہا تھا ماں کا تھرما میٹر دیکھ کر کلیجے

میں ہاتھ پڑا تھا اور لائبہ نے چین کا سانس لیا تھا

(یہ بخار والے نسخے صرف کہانی کی حد تک ہے پلیز ایسے تجربے اپنی ذات پر مت آزمائیے گا ۔۔۔۔ )

” اتنا تیز بخار کیوں ہو گیاتمہیں ” آمنہ بیگم پریشان ہوئیں تھیں۔

” چار دن سے دن رات ٹیسٹ کی تیاری کر رہی تھی امی شاید تھکن ہو گئ ہے ” جان بوجھ کر وہ کھانسنے لگی تھی مزمل صاحب بھی چھٹی لیکر گھر پہنچے تھے ۔۔۔ ایک اچھے سے پراویٹ ہوسپٹل لے گئے۔۔۔ ڈاکٹر نے فورا سے ٹائفیٹ کا شبہ ڈال دیا ۔۔۔۔

“۔ ہائے میرے اللہ ٹائی فیٹ کیسے ہو گیا ” آمنہ بیگم کا سینے پر ہاتھ گیا تھااور دوسری طرف مزمل صاحب کا ہاتھ اپنی جیب میں طرف سامنے بیٹھے ڈاکٹرنےایک ڈرپ اور مختلف قسم کے اینی بائیوٹک انجکشن کی لمبی لسٹ مزمل صاحب کو تھمائی تھی

” یہ جلدی سے لیکر آئیں تین سے پانچ دن انہیں یہیں ایڈمیٹ کرنا پڑے گا ۔۔۔۔

بہت تیز بخار ہے آپ جنرل واڈ کی فیس جمع کروادیں ۔۔۔ اور یہ سب سیٹ کروانے پڑیں گئے “یہ سب سن کر لائبہ کے ہوش اڑے تھے۔۔۔۔ماں باپ دونوں ہی گھبرا گئے تھے ۔۔۔

ماں باپ کے باہر جاتے ہی لائبہ ڈاکٹر کے پاس آئی

” دیکھیں میری بات سنے مجھے کوئی بخار وخار نہیں ہے میں صرف اپنے پیرنٹس کے ساتھ مزاق کر رہی تھی ۔۔۔آئی ایم او کے ۔۔۔ مجھے کچھ نہیں ہوا

” ڈاکٹر میں ہوں یا آپ دیکھیں بی بی ہمہیں اپنا کام کرنے دیں ” وہ لیڈی ڈاکٹرسختی سے کہہ کر نرس کو ڈرپ لگانے کا کہنے لگی لائبہ حیرت سے ان سب کی شکل دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ کہ کس قسم کا ہاسپٹل ہے ۔۔۔ جہاں بنا بیماری کے ہی وہ ٹائی فیٹ کا ٹریٹمنٹ کیا جارہا تھا ۔۔۔ لائبہ کو مجبورا وہ ڈرپ لگوانی پڑی ۔۔۔۔۔دو دن جنرل واڈ میں بھی رہنا پڑا ۔۔۔ خوب سارے ٹیسٹ بھی ہوئے جو ڈاکٹر نے بعد میں کہا کہ سب ٹھیک ہے موسمی بخار تھا ۔۔۔ لیکن ان دوائیاں کاریایکشن یہ ہوا کہ وہ ناک بند رہنے لگا تھا ۔۔۔۔ سر بھی بھاری بھاری رہتا تھا ۔۔۔

******…..

اصفر کا گزر پھر اسی راستے سے ہوا جہاں ایمان سے ملاقات ہوئی تھی ایمان کا خیال آتے ہی چہرے پر مسکراہٹ سی سج گئ تھی۔۔۔ اس بار وہ ایک چوکلیٹ کیک لیکر وہاں پہنچا تھا ۔۔۔ شام کے وقت بچے وہیں کھیل رہے تھے اصفر نے گاڑی کا ہارن بجایا ۔۔۔ ایمان اور نور دونوں اصفر کی طرف متوجہ ہوئے تھے ۔۔۔۔

لیکن اسکے قریب نہیں آئے وہیں کھڑے رہے وہ خود ہی گاڑی سے اتر کا کیک ک ڈبہ اوپر کر کے دیکھانے لگا

” بیٹا یہ آپ کے لئے ہے یہ رکھ لیں ۔۔۔ “اصفر کے کہنے پر ایمان اسکی طرف بڑھ گیا اس بار نور بھی ایمان کے ساتھ چل پڑی تھی ۔۔۔

گیٹ سے کچھ دور ہی ایمان کھڑا ہو گیا

” یہ کیا ہے انکل ” ایمان میں ہاتھ میں پکڑ کیک کاڈبہ دیکھ کر پوچھا

” بیٹا اس دن آپ نے مجھے سیب کھلایا تھا ۔۔۔ آج میں نے سوچا آپ کو کیک دے دوں “

” وہ تو آپ غریب تھے اس لئے میں نے دیدیا میں کوئی غریب تھوڑی ہوں جو آپ سے یہ لوں ” ایمان نے صاف انکار کیا تھا

“ارے نہیں بیٹا میں نے یہ سوچ کر نہیں لیا تھا میں تو آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا ۔۔۔

اس دن میں بھوکا تھا پیاسا تھا آپ نے مجھے پانی بھی دیااور سیب بھی۔۔۔ میں یہ تحفے کے طور پر لایا ہوں ۔۔”۔ قدسیہ بھی وہیں پہنچ گئ تھی ۔۔۔ وہ بی چپ کھڑی تھی ۔۔۔

” تحفے سے تو انکاد نہیں کرنا چاہیے اس سے ایک دوسرے سے محبت۔ بڑھتی ہے ” اصفر نے بڑی محبت سے کہا

” کیسے مان لیں کہ آپ اچھے انسان ہیں آجکل پتہ ہے آپ کو لوگ ایسے ہی جھوٹ سمجھ کر بیوقوف بناتے ہیں نشے والی چیز کھلا کر پھر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں ہاتھ پاؤں توڑ کر بھیک منگواتے ہیں ۔۔۔ ایمان بیوقوف نہیں ہے انکل آپ یہ واپس لے جاؤں “پانچ سالہ بچے کے منہ یہ سب سن کر وہ حیران کن تھا ۔۔۔۔

ماں باپ نے بڑی اچھی تربیت کی تھی اسکی ابھی اتنی سی عمر میں اسے ان سب چیزوں کے بارے میں بتایا تھا ۔۔۔ ورنہ اس عمر کے بچے کسی سے دو روپے کی ٹوفی بھی مل رہی ہو تو لینے سے گریز نہیں کرتے ۔۔۔ اصفر نے بڑی رشکبھری نگاہ سے اسے دیکھا تھا ۔۔۔ اسکے ماں باپ کر بھی رشک س آیا تھا جن کا وہ چشم چراغ تھا ۔۔۔

کیا انمول ہیرا اللہ نے دیا تھا ۔۔۔ اصفر نے کیک کاڈبہ کھولا کیک کا ایک پیس ہاتھ سے توڑ کر پہلے خود کھایا ۔۔۔

” اب تو ٹھیک ہے نا بگ باس اس ۔میں کوئی نشہ نہیں ہے ۔۔۔۔ آپکے پیرنٹس نے بہت اچھا سمجھایا ہے آپکو ۔۔۔ لیکن میں واقع ایسا نہیں ہوں مجھے آپ اچھے لگے تھے اور بچے چوکلیٹ کیک شوق سے کھاتے ہیں اس لئے میں لے آیا ۔”۔۔ ایمان نے قدسیہ کی طرف دیکھا قدسیہ نے آگے بڑھ کر لکڑی کے چھوٹے سے گیٹ کے باہر ہاتھ بڑھا کر وہ کیک لے لیا ۔۔۔

اصفر الٹے قدم لینے لگا ۔۔۔۔ ہاتھ ہلا کر بائے بائے کہتے ہوئے گاڑی کی طرف بڑھ گیا

کیک بہت مزے کا تھا بچوں نے تھوڑا تھوڑا ہی کھایا تھا ۔۔۔ اس کے بعد سارا کیک قدسیہ کو دے دیا کہ وہ اپنے گھر لے جائے ۔۔۔ لیکن اس شرط پر کے وہ حمنہ سے ذکر نہیں کرے گی ۔پتہ تھا ماں اس معاملے میں بہت سخت ہے ۔۔۔ ایسا کچھ سنتے ہی ڈانٹ دے گی ۔۔۔۔

اس بار نور نے بھی کیک مزے لیکر کھایا تھا ۔۔۔ اس لئے ایمان کی بات مان گئ تھی ۔۔۔۔ ورنہ وہ سب سے پہلے شکایت لگاتی تھی

اصفر کو نا جانے کیوں اس بچے میں عجیب سی کشش محسوس ہونے لگی تھی ۔۔۔ دوسری ملاقات نے جیسے اسکی طلب اور بڑھا دی تھی آج تو اسکی جڑوا بہن جو ایک جاپانی گڑیا سی لگ رہی تھی ۔۔۔وہ ساتھ کھڑی تھی ۔۔۔ مشابہت تو نہیں ملتی تھی دونوں کی لیکن قد میں دونوں برابر تھے ۔۔۔۔

دونوں بچے ہی پہلی بار میں متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے یا پھر اسکے دل کی حالت انہی دیکھ کر عجیب ہوئی تھی ۔۔۔۔ بچے کا بات کرنے کا انداز چھ سے سال پیچھے لے گیا تھا ماضی کے جھروکوں میں وہ پہلی ملاقات جو حمنہ سے ہوئی تھی کسی حسین خواب جیسی ہی تو تھی

دوسرے دن وہ عصر کے بعد عام سے لباس میں ہاسپٹل پہنچا تھا ۔۔۔۔

یوسف سے پوچھ کر وہ اس واڈ میں گیا جہاں حمنہ کی ڈیوٹی تھی ۔۔۔۔

” اسلام علیکم مس حمنہ ” اصفر نے اسے متوجہ کرنے کے لئے کہا وہ کسی خاتون کو بچے کی کیر کے بارے میں ضروری ہدایات دے رہی تھی فارس کی بات سن کر اسکی طرف متوجہ ہوئی ۔۔۔ پھر گھڑی دیکھی

” پورے دس منٹ لیٹ ہیں آپ ” اس نے گھور کر اصفر کی طرف دیکھ کر کہا

” ایم سوری مس حمنہ ۔۔۔۔ میں کل سے ٹائم پر آوں گا ” وہ کچھ خجل ہونے کی اداکاری کرتے ہوئے سر کھجاتے ہوئے بولا

” ڈونٹ کال مس حمنہ ۔۔۔۔ ڈاکٹر صاحبہ کہا کریں مجھے ” یہ دوسرا آڈر تھا لہجہ بے لچک تھا ۔۔۔ پہلی بار وہ اپنی جونئیر ڈاکٹر سے یہ سب سن رہا تھا ۔۔۔ لیکن غصے کے بجائے ہنسی آئی تھی۔۔۔ اس نے ضبط کر کے صرف مسکرانے پر اکتفا کیا تھا

” جی میں آئندہ سے دھیان رکھوں گا ۔۔”

” او کے بیڈ نمبر 13 پر جو بچہ لیٹا ہے ۔۔۔ اسے ڈرپ لگانی ہےآئیے میرے ساتھ میں دیکھوں کے آپ کیسے ڈرپ لگاتے ہیں ۔۔۔ دیکھیں یہ چھوٹے بچے ہیں بہت آرام اور نرم ہاتھ سے یہ کام کرنا چاہیے ۔۔۔۔ اگر ڈرپ لگانے سے پہلے بچوں کو تھوڑا سمجھا دیا جائے تو وہ ضد نہیں کرتے ۔۔۔ ” وہ ساتھ اسے سمجھا رہی تھی ساتھ چل بھی رہی تھی ۔۔کچھ دیر بعد ہی وہ بیڈ نمبر تیرہ پر پہنچ گئ ۔۔۔

ڈرپ اس نے بلکل ٹھیک سے ہی لگائی تھی ۔۔۔ حالانکہ اپنے ہاسپٹل میں یہ کام چھوڑے ہوئے بہت وقت گزر چکا تھا وہ تو بس آڈر دیتا تھا ۔۔۔

اس مزاق کے چکر میں ایک گھنٹے نے اسے چکرا کر رکھ دیا تھا ۔۔۔۔ کسی کو انجکشن کسی کو ڈرپ لگانا کسی کا بلڈ سمپل لینا ۔۔۔ کسی بچے کو نمبولائز کروانا ۔۔۔ ایک گھنٹے کی ڈیوٹی دے کر اس نے یوسف کے کیبن میں آ کر سانس بحال کیا تھا ۔۔۔ اصفر کی حالت دیکھ کر یوسف کی ہنسی نہیں رک رہی تھی ۔۔۔ ساری کہانی وہ اصفر سے سن چکا تھا

” مزہ تو آیا ہو گا تمہیں ۔۔

“۔ بہت شوق تھا تمہیں واڈ بوائے بننے کا وہ بھی ڈاکٹر حمنہ کی شاگردی میں ۔۔۔”ڈاکٹر یوسف کی ہنسی بند نہیں ہو رہی تھی اور اصفر اسے سخت نظروں سے گھور رہا تھا

” بہت دانت نکل رہے ہیں تمہارے ۔۔۔ منہ بند کروں اپنا ۔۔۔ورنہ اٹھا کر کچھ مار دوں گا تمہارے سر پر ” اصفر نے اسٹیتھو سکوپ اٹھا اسے مارنے لگا تھا یوسف کی ہنسی بند نہیں ہو رہی تھی اصفر نے پیج وتاب کھاتے ہوئے اسٹیتھو سکوپ واپس ٹیبل پر پٹخا

” ویسے تمہیں حمنہ جیسی بیوی ملنی چائیے اصفر ۔۔۔ جتنے تو ٹہرے ہو۔۔۔ تیر کی طرح سیدھا کر دے گی تمہیں ۔۔۔۔ ” یوسف نے نئے مشورہ سے نوازہ تھا

” بک بک کم کیا کرو ۔۔۔ ابھی تو شروعات ہے چند دن رک جاؤں ۔۔۔ تمہاری یہ ڈاکٹر صاحبہ کو جب اصفر حسن نے اپنا جلوہ دیکھایا نا ۔۔۔ اس دن بھول جائے گی سب کچھ ۔۔۔ جسٹ ویٹ اینڈ واچ ” غصے سے یہ کہتا ہوا وہ اٹھ کر چلا گیا ۔۔۔ یوسف اب بھی ہنس رہا تھا جانتا تھا غصہ اسے نہ پر آ رہا تھا لیکن یہ سب اس نے خود اپنے سر لیا تھا ۔۔۔۔