Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 20
Rate this Novel
Noor-e-Emaan Episode 20
Noor-e-Emaan by Umme Hani
لائبہ مزمل صاحب اور آمنہ بیگم کے ساتھ مری پہنچ گئ تھی مہینہ بھی جنوری کا تھا برف باری اور سردی اپنے عروج پر تھی ۔۔۔۔۔لائبہ کی تو چہرے سے مسکراہٹ نہیں جا رہی تھی ۔۔۔۔گورنمٹ کی طرف ملے گئے دو کمرے کے کواٹر کو لائبہ نے بڑی نفاست سے سجایا ۔۔۔۔ جہاں وہ کواٹز بنے ہوئے تھے ۔۔۔۔وہاں خاصی ابادی تھی ۔۔ لائبہ کا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ ایک ہی دن میں پورا مری گھوم کر دیکھ لے ۔۔۔۔ کھانا مزمل صاحب بازار سے لے آئے تھے ۔۔۔۔ آمنہ بیگم جب سے آئیں تھیں ڈبل رضائی میں گھسی ہوئی سردی سے کپکپا رہیں تھیں ایک ویسے ان کو سردی ذیادہ محسوس ہوتی تھی ۔۔۔۔ پھر اپنے شہر کو چھوڑ کرآئیں تھیں اپنی ملنے ملانے والیوں کے یوں اچانک چھٹ جانے سے بھی دل اداس ملول سا ہو رہا تھا ۔۔۔ لائبہ مزمل صاحب سے ضد کر رہی تھی
“ابو جی اجازت دے دیں نا مجھے باہر جانے کی بس یہی قریب قریب ہی رہوں گئ ۔۔۔۔ ذیادہ دور نہیں جاؤں گی ” گرم گرم چائے پیتے ہوئے آمنہ بیگم نے لاڈلی بیٹی کی فرمائش پوری کرنے سے میان کو منع کیا تھا
” بلکل بھی نہیں مزمل صاحب ۔۔۔۔ اسے اکیلے باہر جانے کی کوئی اجازت نہیں ہے ۔۔۔ اب بڑی ہو گئ ہے یہ ۔۔۔ عقل تو شاید گھٹنوں سے بھی نیچے ہے اسکی ڈوپٹہ ٹھیک اوڑھنا آتا نہیں ہے ۔۔۔ منہ اٹھا کہ باہر گھومنے جانا ہے اس نے ۔۔۔۔ ” آمنہ بیگم کو بیٹی کے بڑے ہونے کا احساس کچھ زیادہ ہی جاگ گیا تھا ۔۔۔۔۔
“امی یہ کیا بات ہوئی ۔۔۔ آپ اگر مجھے یہیں گھر میں قید کر کے رکھنا تھا تو پھر اپنا بہاولپور ہی ٹھیک تھا مری لانے کی کیا ضرورت تھی ” لائبہ روہانسی ہوئی تھی ۔۔۔۔ “بیٹی کی بات سنتے کئ بل انکے ماتھے پر پڑے تھے
” چپکی بیٹھی رہو تم ۔۔۔ خبردار جو باہر جانے کا نام بھی لیا تو ” آمنہ بیگم رضائی کندھوں تک لئے سر پر اونی ٹوپی پہنے سخت لہجے میں بولیں
” کیوں ڈانٹتی رہتی ہو بچی کو چلو لائبہ اپنی جیکٹ پہنوں بیٹا اور قریب قریب ہی رہنا زیادہ دور مت جانا ۔۔۔۔ ” مزمل صاحب نے بیوی کو ٹوکا تھا لائبہ کی بانچھیں کھل گئیں تھیں
“جی ابو میں بس قریب قریب ہی رہوں گی ۔۔۔” یہ کہہ اس نے اپنی جیکٹ اور جوگر پہنے اور کمرے باہر نکل گئ گھر کا دروازہ بند کیا جہاں وہ لوگ رہ رہے تھے لائن سے دس پندرہ کواٹرز بنے ہوئے تھے ۔۔۔۔ کچھ دور جاتے ہی خوبصورت مناظر تھی ۔۔۔۔سڑک کے اطراف گہری کھائیاں اور سامنے خوبصورتپہاڑوں ک سلسلہ ۔۔۔ خواب ناک منظر تھا ۔۔۔۔چلتے چلتے وہ کافی دور نکل آئی تھی اب آگے سڑک کے راستہ کچھ ڈھلان سا تھا ۔۔۔بڑی احتیاط سے قدم جما کر وہ نیچے اتری تو دائیں جانب بہت بڑا میدان تھا جو برف سے ڈھکا ہوا تھا جابجا درخت تھے ۔۔۔۔ سامنے بس ایک لکڑی کا چھوٹا سا کواٹر تھا باقی جگہ خالی تھی بس چند بچے ہی وہاں کھیل رہے تھے وہ بھی سڑک کے راستے کو چھوڑ کر اس میدان میں آ گئ ۔۔۔۔ لیکن پہلا قدم رکھتے ہی پاؤں برف میں جا گھسا تھا بڑی مشکل سے گرتے گرتے بچی تھی ۔۔۔۔
لیکن ایک خوشی کا احساس بھی ہوا تھا۔۔۔۔ اگلا قدم سنبھل کر رکھا تھا ۔۔۔ با مشکل ہی صحیح لیکن وہ ان بچوں کے پاس پہنچ گئ تھی جو برف کے گولے بنا کر ایک دوسرے کو مار تھے
لائبہ کو دیکھ کر وہ بچے سیدھے ہو گئے ۔۔۔ جیسے وہ انہیں ڈانٹ دے گی
” ارے ارے رک کیوں گئے کھیلو کھیلو میں بھی تم لوگوں کے ساتھ کھیلنے ہی تو آئی ہوں ۔۔۔ ” لائبہ نے بڑی خوش اخلاقی کا مظاہرہ کیا ۔۔۔۔
پھر نیچے سے برف اٹھا کر اس کا گولا بنا کر ایک بچے کے اوپر پھنکا ۔۔۔۔ آہستہ آہستہ وہ بچے بھی لائبہ کے ساتھ مانوس سے ہوئے ایک گھنٹہ وہ بچوں کے ساتھ ہنستی کھلتی رہی ۔۔۔ لیکن اب شام بڑھنے لگی تھی سردی کی شدت مزید بڑی گئ تھی ۔۔۔۔۔
” اچھا اب بہت ہو چکا کل میں پھر آؤں گی تو پھر سے کھلیں گئے ٹھیک ہے ” لائبہ نے آسمان پر گہرے ہوتے بادل دیکھ کر کہا
” ٹھیک ہے آپی ۔۔۔ پہلے وہاں سے پانی پی لیتے ہیں ” ایک بچے نے سامنے ایک لکڑی سے بنے کمرے کی طرف اشارہ کیا
” کیا وہ تمہارا گھر ہے ” لائبہ نے اس بچے سے پوچھا ۔۔۔
” نہیں ایک انکل کا ہے لیکن انہوں نے کہا تھا کہ کمرہ لوک نہیں ہے جب بھی بھوک یا پیاس لگے اندر آ کر کھا پی لیا کرنا ۔۔۔۔ وہ انکل بہت اچھے ہیں ۔ہمارے لئے بہت کچھ لا کر اپنے کمرے میں رکھتے ہیں ۔۔۔۔ ” ان میں سے ایک بچے نے کہا
“اچھا واہ یہ تو اچھی بات ہے چلو پھر کچھ کھاتے پیتے ہیں ” لائبہ ان بچوں کے ساتھ سامنے بنے کاٹج نما کمرے میں چلی گئ ۔۔۔ ایک بچے نے باہر سے کنڈی کھولی اور اندر داخل ہوئے تو کمرہ بہت بڑا نہیں تھا نا ہی بہت چھوٹا تھا ۔۔۔۔
ایک سنگل بیڈ تھا ۔۔۔ ایک طرف واش روم تھا سامنے آتش دان تھا لیکن بجھا ہوا بیڈ کی چادر بکھری ہوئی تھی ایک رضاضی تھی لیکن وہ یوں جیسے کسی نے بس اٹھنے کی ہی زحمت کی ہو ۔۔۔۔
کمرہ کچھ بکھرا بکھرا تھا ۔۔۔۔
ایک سائیڈ پر واقع بسکٹ کیک چپس وغیرہ کے پیکٹ موجود تھے ساتھ جوس وغیرہ بھی رکھے تھے ۔۔۔ لائبہ نے ایک طائرانہ نظر دوڑائی پھر بچوں کے ساتھ بسکٹ اور باقی چیزیں اٹھانے لگی ۔۔۔۔ لیکن اتنی دیر میں بچوں نے ہلا سا بول دیا تھا فٹا فٹ سے چیزیں اٹھا کر کمرے سے نکل گئے اس سے پہلے کے لائبہ باہر نکلتی بچوں نے کمرے کا دروازہ باہر سے بند کر دیا تھا اور باہر سے کنڈی بھی لگا دی ۔۔۔۔
لائبہ بچوں کی اس قسم کی حرکت پر حیران و پریشاں ہوئی تھی ۔۔۔۔ اس نے دروازہ بجانا شروع کیا ۔۔۔۔ لیکن کسی نے نہیں کھولا ۔۔۔کھڑکی طرف چلی گئ
کھڑکی تو کھل گئی تھی لیکن باہر لوہے کی سلاخیں لگیں ہوئیں تھیں باہر نکلنا نا ممکن تھاوہ بچے بھاگتے ہوئے وہاں سے جا رہے تھے لائبہ نے بہت آوازیں دیں لیکن وہ بچے رکے نہیں ۔۔۔ لائبہ حد درجہ پریشان ہونے لگی تھی خود بھی غصہ اور افسوس ہونے لگا کہ بچوں کے کہنے پر کیوں کسی کے کمرے میں گھس گئ رات کا۔ بڑھتا ہوا اندھیرا دیکھ کر اسکی جان نکلنے لگی تھی اس کے ماں باپ تو پریشان ہو رہے ہوں گئے اور ماں تو پہلے ہی منع کر رہیں تھیں ۔۔۔۔ پتہ نہیں کس کا کمرہ ہے کون ہو گا ۔۔۔ اس کے ساتھ کیا کرے گا ۔۔۔ یہ ایک الگ پریشانی لا حق تھی ۔۔۔ آنسوں ٹپ ٹپ گرنے لگے تھے ۔۔۔۔ پہلے خاموش آنسوں نکلے پھر منہ سے سسکیاں برآمد ہونے لگیں اس کے بعد وہ باقاعدہ آواز سے رونے لگی تھی ۔۔۔۔
ستم یہ ہوا کہ برف باری بھی شروع ہو گی ۔۔۔ سردی اس قدر بڑھ گئ تھی کہ وہ موٹے کپڑوں اور جیکٹ میں بھی کانپ رہی تھی ۔۔۔
امی امی کی رٹ لگائے رو رہی تھی کھڑی کھوئے ہی کھڑی تھی ۔۔۔جب سامنے سے ایک شخص دور سے آتا ہوا دیکھائی دیا رخ اس کا اسی کمرے کی جانب تھا اب تو لائبہ کی جان لبوں پر آئی تھی ۔۔۔۔ کیا کرے کیا نا کرے ۔۔۔ فٹا فٹ سے سوچنے لگی۔۔۔ ادھر ادھر کمرے میں نظریں گھمانے لگی ۔۔۔۔ آتش دان میں بجھی ہوئی لکڑیوں میں سے ایک لکڑی کا لمبا سا ٹکڑا اٹھایا ۔۔۔ اور دروازے کے پیچھے چھپ گئ کہ اگر کوئی اندر داخل ہوا تو اسکے سر کو نشانہ بنا کر خود باہر بھاگ جائے گی کمرے کی کنڈی کھلی تھی لائبہ بھی وار کرنے کے لئے تیار تھی ۔۔۔۔ لیکن دروازہ کھلتے ہی اس شخص نے فورا سے اس کی کلائی پکڑ کر اس کا وار روکا تھا ۔۔۔ شاید وہ جان چکا تھا کہ کوئی اندر موجود ہے ۔۔۔۔ سیاہ پینٹ شرٹ پر جیکٹ پاؤں میں لونگ شوز ہاتھوں میں دستانے پہنے وہ شخص بڑے خطرناک تیوروں سے اسے دیکھ رہا تھا
” کون جو تم ۔۔۔۔۔ ” غصے سے اسے گھورتے ہوئے پوچھنے لگا لائبہ کے رہے سہے اوسان بھی گم ہوئے تھے
*******…….
حمنہ آنسوں کے ساتھ ہچکیوں سے رونے لگی تھی
رات سے صبح ہو چکی تھی ڈاکٹر بیگ کی بیگم نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا ۔۔۔۔
سامنے صوفے پر ڈاکٹر بیگ اور فارس بیٹھے اسے بے یقنی سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔ دیکھنے میں وہ بہت کم عمر اور نازک سی تھی ۔۔۔۔ لیکن کیا کچھ نہیں جھیلا خود پر ۔۔۔۔
“چپ ہو جاؤں حمنہ ۔۔۔۔ آنسوں تو ڈاکٹر بیگ کی وائف کے بھی بہہ رہے تھے ۔۔۔۔ ڈاکٹر کے روپ میں کالے بھیڑے کی داستانے تو بہت سن رکھی تھی لیکن کسی کی آپ بیتی بہلی بار کسی کی زبان سے سن رہیں تھیں ۔۔۔ وہ بھی ایک ڈاکٹر کے منہ سے
فارس کایہ حال تھا کہ بناایک لمحہ ضائع کیے اس روتی لڑکی کے سارے غم اندر سمیٹ لے ۔۔۔۔ اسکے آنسوں کو اپنی پلکوں سے چن لے ۔۔۔۔ اگر وہ اپنے شوہر کو مردہ کہتی تھی تو ٹھیک ہی کہتی تھی ۔۔۔۔ وہ زندہ مرد کہلانے کے قابل ہی نہیں تھا ۔۔۔۔ پھر اصفر کا چہرہ نظروں میں گھومتے ہی دل میں اشتعال سا اٹھنے لگا ۔۔۔۔
کس حق سے وہ اب اسے اپنی بیوی کہہ رہا تھا کیوں ڈھونڈ رہا تھا اسے ۔۔۔ شاید پھر سے اسے اپنی ضد کے بھینٹ چھڑہانا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔ ڈاکٹر بیگ نے ایک گہری سانس بھری اور صوفے سے اٹھ کر حمنہ کے پاس آکر کھڑے ہو گئے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا ۔۔۔۔
” بیٹا بہت کچھ سہہ ہے تم نے اتنی سی عمر میں کئ روپ دیکھے ہیں ۔۔۔۔اب تم بے فکر رہو اصفر کو تمہارے پاس پہنچنے سے پہلے مجھ سے ملنا پڑے گا ۔۔۔۔
میں تم پر آنچ بھی آنے نہیں دونگا یقین کروں میرا ۔۔۔۔۔ ” وہ بہت دل گرفتگی سے کہہ رہے تھے ۔۔۔ دکھ اور افسوس تو انہیں بھی بہت ہوا تھا ۔۔۔۔
” سر آپ اسے یہ نہیں بتائیں گئے کہ میں یہاں ہوں ۔۔۔ بلکہ میری یہاں سے جانے میں میری مدد کر دیں مجھے نہیں رہنا یہاں میرے بچے میری کل کائنات ہیں ۔۔۔ اگر اصفر کو انکے بارے میں پتہ چل گیا تو وہ چھین۔ لے انہیں مجھ سے ۔۔۔۔ ” وہ روتے ہوئے بولی
” ایسے کیسے چھین لے گا ۔۔۔۔ جان سے مار ڈالوں گا اسے اگر اس نے ایمان اور نور کی طرف دیکھا بھی تو ” فارس طیش میں بولا تھا ۔۔۔۔۔
” بلکل حمنہ ۔۔۔اب ہم اسے تمہارے ساتھ ذیادتی نہیں کرنے دیں گئے ۔۔۔۔ تم پریشان مت ہو اور کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔ بلکہ میرے بہت سے دوست وکیل ہیں اس کے خلاف خلع کا مقدمہ دوبارہ سے درج کرواتا ہوں جلد از جلد تمہاری اس سے خلاصی دلواتا ہوں ۔۔۔۔۔
اس بار تم اکیلی نہیں ہو کہ وہ جو چاہے کر لے ہم ہیں تمہارے ساتھ ۔۔۔”ڈاکٹر بیگ نے شدت جذبات سے کہا ۔۔۔۔
” نہیں سر آپ اسے نہیں بتائیں گے کہ میں یہاں ہوں ۔۔۔ مقدمہ کرنے سے مجھے اس کاسامنا کرنا پڑے گا جو میں کرنا نہیں چاہتی ۔۔۔۔
” تم اب آرام کروں ۔۔۔۔ اور بے فکر ہو جاؤں ڈر ڈر کر جینا بھی کوئی جینا تو نہیں ہے ۔۔۔۔ بے خوف ہو جاؤں کچھ نہیں بگاڑ سکتا اب وہ تمہارا ۔۔۔۔ میں اب ہاسپٹل جاؤں گا مجھے یقین ہے کہ وہ آج ضرور آئے گا ۔۔۔۔ فی الحال تو اس سے کہہ دونگا کہ تم سے سارے رابطے ختم ہو چکے ہیں تمہارے ملنے کی بھی کوئی امید نہیں یقینا یہ سن کر وہ لوٹ جائے گا۔۔۔۔ ” ڈاکٹر بیگ نے حمنہ کو تسلی دی اور خود تیار ہونے چلے گئے حمنہ کو ڈاکٹر بیگ کی بیگم اس کے کمرے میں لے گئیں تا کہ وہ کچھ آرام کر لے ۔۔۔ فارس بھی اٹھ کر واپس چلا گیا ۔۔۔۔
*****……..
اصفر کھانے کے لئے جاتے ہوئے اکثر دروازے کو تالا نہیں لگاتا تھا بس باہر سے کنڈی لگا جاتا تھا ۔۔۔ پھر کمرے میں ایسا کچھ بھی قیمتی تھا بھی نہیں جس کے چوری ہونے سے اسے فرق پڑتا ۔۔۔ لیکن اس بار اس نے کھانا ہوٹل میں کھانے کے بجائے پیک کروا لیا تھا ۔۔۔ واپسی پر اسے دور سے لگا کہ اسکے کمرے کی کھڑی کا پردہ ہٹا ہوا ہے اور کوئی کمرے میں موجود کھڑکی سے باہر جھانک رہا ہے ایک ہیولا سا دیکھا تھا یہ معلوم نہیں تھا کہ ہے کون ۔۔۔ مرد یا عورت۔۔۔۔ کمرے کی کنڈی کھولنے سے پہلے اس نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا تھا ایک لڑکی آتشدان سے لکڑی اٹھا رہی تھی شاید اسی پر حملہ کرنا چاہتی تھی ۔۔۔ چہرہ انجان سا تھا ۔۔۔ پھر اس کے کمرے میں کیا کر رہی تھی ۔۔۔۔۔ کمرے کادروازہ کھولنے سے پے وہ خود کو تیار کر چکا تھا اس لئے اندر داخل ہوتے ہی وہ اس لڑکی کی کلائی پکڑ چکا تھا تا کہ وہ اس پر وار نا کر سکے ۔۔۔۔۔
” میرے کمرے ۔میں کیا کر رہی ہو ” اس کے ہاتھ سے لکڑی کا ٹکڑا پکڑا اس نے دور پھنکا تھا اس کا ہاتھ بھی چھوڑ دیا
لائبہ نے فواد سے باہر نکلنا چاہا لیکن وہ اسکے سامنے کھڑا ہو گیا غصے سے اسے دیکھ رہا تھا
” کہاں بھاگ رہی ہو تم ۔۔۔۔ پہلے بتاؤں کون ہو تم ” اصفر کے بپھرے ہوئے لہجے پر وہ باآواز بلند رونے لگی ۔۔۔۔
” وہ میں ۔۔۔ چور نہیں ہوں ۔۔۔۔ “
” تو یہاں کمرے ۔میں۔ کیا لینے آئی تھی “
” میں تو صرف برف سے کھیلنے آئی تھی ۔۔۔ لیکن وہ خیبث بچے مجھے یہاں کمرے میں بند کر کے چلے گئے ۔۔۔ ” وہ روتے ہوئے بتانے لگی اصفر نے ایک سرسری نظر اسے سر سے پیر تک دیکھا
“اتنی بڑی ہو تم اور بچے تمہارا ہاتھ پکڑ کر یہاں بند کر کے چلے گئے اور تم بڑے آرام سے بند بھی ہوگئ ۔۔۔ اگر میں تمہیں کھڑکی سے نا دیکھتا تو اس وقت تم میرا سر پھاڑ چکی ہوتی اور اس سے میں مر بھی سکتا تھا سیدھا سیدھا قتل کرنے کا پروگرام بنائے تم اب پکڑے جانے پر یہ۔ بے بنیاد سے بہانے تراش رہی ہو رکو ابھی پولیس کو فون کرتا ہوں ۔۔۔” اصفر کے منہ یہ سب سن کر لائبہ کے اوسان خطا ہوئے تھے اصفر نے دروازہ بند کر کے لوک کیا اور موبائل سے فون کرنے لگا لائبہ اس کے پاس آکر ہاتھ جوڑنے لگی
” اللہ پاک کی قسم میں آپکو قتل کرنے کے لئے ڈنڈا نہیں مار رہی تھی بس بے ہوش کرنا چاہتی تھی تا کہ یہاں سے بھاگ جاؤں ۔۔۔ “
” ہاں تمہیں تو جیسے پتہ ہے کتنے زور سے ڈنڈا مارنے پر سامنے والا بے ہوش ہو گا یا مر جائے گا
” مجھے پتہ ہے ۔۔۔ کہ انسان سر پر کتنی زور کی ضرب لگنے سے۔ بے ہوش ہوتا اور کس پر مر جاتا ہے ۔۔۔ آپ نے مجھے سمجھ کیا رکھا ہے نرس ہوں میں اور نرسنگ بڑے اچھے نمبروں سے پاس کی تھی میں نے۔۔۔۔ ایک سال کا نرسنگ کا تجربہ بھی ہے ۔۔۔۔ بیوقوف تھوڑی ہو۔ جو نا حق قتل کروں آخر اللہ کو بھی جواب دینا ہے ۔۔۔ وہ تو ان کمینے بچوں نے مجھے پھنسا دیادھوکے سے ۔مجھے کمرے میں لائے تھے یہاں رہنے والے انکل نے ہمارے لئے بسکٹ اور چیزیں رکھیں ہیں اور کھانے کی اجازت بھی دی ہے ۔۔۔کھیل کھیل کر مجھے بھی بھوک لگنے لگی تھی سوچا میں کھا لیتی ہوں لیکن ابھی میں نے صرف دو چپس کے پیکٹ ہی پکڑے تھے کہ وہ بچے اپنی چیزیں اٹھا کر باہر بھاگ گئے اور دروازہ بند کے کنڈی لگا دی ۔۔۔
میں۔ انہیں آوازیں دیں لیکن کم بختوں نے ایک نہیں سنی ۔۔۔ میں آپ سے سچ کہہ رہی ہوں مجھے پولیس کے حوالے مت کریں مجھے یہاں سے جانے دیں میرے امی ابو پریشان ہو رہے ہوں گئے ۔۔۔۔۔ ہم آج ہی مری میں شفٹ ہوئے ہیں ۔۔۔۔”
” اچھا بس بس ۔۔۔ جاؤں یہاں سے ۔۔۔ ” اصفر مزید کہانی سننے کے موڈ میں نہیں تھا
” شکریہ جی بہت بہت’ ۔۔۔ یہ کہہ لائبہ باہر جانے لگی لیکن جب لائبہ نے کمرے کادروازہ کھولا تو برف باری اچھی خاصی تیز ہو چکی تھی ہوا کا زور بھی بہت تھا اپنے انجوائے مینٹ کے چکر میں سر پر ٹوپی بھی نہیں پہنی تھی نا ہاتھوں میں دستانے ۔۔۔۔ہوا سے زور سے برف اسکے چہرے اور سر پر گرنے لگی تھی ٹھنڈ نے ایک منٹ میں اسکی کلفی جمانی شروع کی تھی اس نے دروازہ بند کیا اور کانپنے لگی ۔۔۔ اصفر نے جب اسے پھر سے وہیں دیکھا تو گھورنے لگا
“گئ نہیں تم “
” دیکھیں باہر بہت سردی ہے میں تو یہ میدان پار کرتے ہی سڑک تک پہنچتے ہوئے ہی انا للہ ہو جاؤں گی ۔۔۔ “اصفر نے خشمگیں نظروں سے اس بےبےعقل لڑکی کو دیکھا تھا ۔۔۔ پھر اپنارین کوٹ اتار کر اسے دیا
” پہنوں اسے میرے پاس گاڑی ہے چلو تمہیں چھوڑ آؤں ” لائبہ کے لئے یہی بہت بڑی غنیمت تھی جلدی سے رین کوٹ پہنا ۔۔۔ اصفر نے اپنے دستانے اتار کر لائبہ کو دے دیے ۔۔۔۔کافی حد تک وہ کور ہو چکی تھی لیکن گاڑی تک پہنچتے پہنچتے اسکے ہونٹ نیلے ہونے لگے تھے کپکپاہٹ الگ سے طاری تھی
گاڑی میں بیٹھتے ہی اصفر نے اسے بری طرح سے کانپتے دیکھا توہیٹر ان کر دیا ۔۔۔ راستہ لائبہ کو اچھی طرح سے یاد تھا۔۔۔۔ دس منٹ کی ڈرائیو پر گاڑی اسکے کواٹر کے سامنے کھڑی تھی آمنہ بیگم پریشانی سے دروازے پر ہی کھڑی تھیں لائبہ فورا گاڑی سے اتر ماں کے گلے لگ کر رونے لگی ۔۔۔۔
” ارے کم بخت کہاں چلی گئ تھی دو گھنٹے سے ہماری جان سولی پر لٹکائے رکھی ہے تم نے ” آمنہ بیگم نے اسکی کمر پر تھپکی لگا کر کہا
” امی میں گم ہو گئ تھی ۔۔۔۔ راستہ بھٹک گئ تھی ۔۔۔۔ ” اتنی دیر میں اصفر بھی گاڑی سے اتر گیا اس لڑکی کو فراٹے سے جھوٹ بولتے دیکھ کر متحیر ہوا تھا ۔۔۔ کچھ دیر میں مزمل صاحب بھی وہیں پہنچ گئے ۔۔۔ جو اسے ڈھونڈنے نکلے ہوئے تھے ۔۔۔ اصفر کو دیکھ کر کچھ متذبذب سے ہوئے
” اسلام علیکم سر ” سلام کے لئے ہاتھ اصفر نے بڑھایا تھا اب آمنہ بیگم کی نظر بھی اصفر پر تھی
مزمل صاحب نے اس سے ہاتھ ملایا ۔۔۔
” جی راستے میں روتے ہوئے ملیں تھیں ۔۔ اس لئے میں آپ کا گھر ڈھونڈتے ہوئے یہاں تک پہنچا تو انہیں اپنا گھر یاد آ گیا ۔۔۔ ” لائبہ کے بہانے کو ہی اس نے آگے ںڑھایا تھا اتنی لمبی تفصیل کرنے کے موڈ میں وہ بھی نہیں تھا
“او اچھا بہت شکریہ تمہارا بیٹا ۔۔۔ اصل میں آج ہی یہاں پہنچے ہیں ۔۔۔ یہ ذراگھومنے پھرنے ضد کر رہی تھی ۔۔۔ میں نے کہا بھی تھا کہ دور مت جانا ” مزمل صاحب نے اب لائبہ کو گھورتے ہوئے بولے تھے وہ جو چور آنکھوں سے کبھی باپ کو تو کبھی اصفر کو دیکھ رہی تھی باپ کے گھورنے پر پھر سے ماں کے ساتھ لگ گئ
” جی ویسے رہنا تو قریب قریب چاہیے تھا ۔۔۔ لیکن یہاں کی خوبصورتی ہی کچھ ایسی ہے انسان دیکھتے دیکھتے کہیں کا کہیں نکل جاتا ہے ۔۔۔ خیر میں اب چلتا ہوں” اصفر کے بات مختصر کی
” ارے نہیں بیٹا تم نے تو بہت بڑا احسان کیا ہے ہم پر ورنہ نا جانے یہ کہاں بھٹکتی پھرتی ۔۔۔ آؤں چائے تو ضرور پی کر جاؤں ۔۔۔” مزمل صاحب کو لائبہ پر بار بار غصہ آ رہا تھا ۔۔۔ بھلا یہ بھی کوئی بات تھی کہ رستہ بھول گئ حالانکہ وہ جانتے تھے لائبہ ایک بار جو جگہ دیکھ لے بھولتی نہیں ہے ۔۔۔ اصفر کےمنع کرنے پر بھی مزمل صاحب اسے اندر لے آئے چائے پینے کے دوران ہی باتوں باتوں میں وہ جان چکے تھے کہ وہ ڈاکٹر ہے ۔۔۔ آمنہ بیگم بھی وہیں بیٹھی تھیں ۔۔۔۔ انہیں بھی وہ کافی سوبر اور سلجھا ہوا لگا ۔۔۔ اور شریف بھی ۔۔۔ چائے پیتے ہی وہ جانے کی اجازت مانگنے لگا
” آتے جاتے رہنا ۔۔۔ بہت دلچسپ باتیں کرتے ہو ۔۔۔ میں یہاں کسی کو جانتا بھی نہیں ہوں ۔۔۔ سب کچھ اجنبی اجنبی سا لگ رہا “مزمل صاحب بھی اصفر کے ساتھ ہی کھڑے ہو گئے
” میں یہیں کارہائشی نہیں ہوں بس کسی بہت ضروری کام سے آیا تھا ۔۔۔ اب لگتا ہے وہ بھی ممکن نہیں رہا شاید واپس لاہور چلا جاؤں لیکن جب تک یہاں ہوں آپ سے ملنے ضرور آؤں گا ۔۔۔۔ “
اصفر ان سے ہاتھ ملاتے ہوئے بولا اور پھر چلا گیا ۔۔۔۔
دوسرے دن وہ ہاسپٹل میں ڈاکٹر بیگ سے ملنے
چلا آیا ۔۔۔۔ اس بار انکا رویہ ذرا کھنچا کھنچا سا تھا ۔۔وہ ۔ ٹھیک سے اصفر سے بات بھی نہیں کر رہے تھے
” ڈاکٹر بیگ میں شاید چند دنوں تک واپس چلا جاؤں ۔۔۔” اصفر نے ان کے لئے دیے انداز سے بات کو مختصر کیا
” ویسے یہی بہتر رہے گا کیونکہ حمنہ سے رابطہ نہیں ہو پارہا ۔۔۔ شاید یہاں لوٹ کر نا آئے ۔۔۔ ” ڈاکٹر بیگ کی بات سن کر اس نے سرد آہ بھری تھی
” جی ہاں مجھے بھی یہی لگتا ہے ۔۔۔۔ لیکن اگر کبھی اس سے آپ کا رابطہ ہوا پلیز مجھے ضرور انفارم کیجیے گا “
” جی کیوں نہیں ۔۔۔۔ اگر لاہور گئے تو حسن صاحب سے میری بات ضرور کروانا ذرا خیر خیریت ہی ہو جائے گی ۔۔۔” ڈاکٹر بیگ نے یہ بات جان بوجھ کر کہی تا کہ اصفر کا لاہور پہنچ جانا کنفرم کو جائے “
” جی ضرور اب اجازت دیں ” اصفر کھڑا ہو گیا
ڈکٹر بیگ نے بھی کھڑے ہو کر ہاتھ ملایا ۔۔۔۔ اصفر نے اپنے بلیک گلاسز پہنے اور باہر نکل گیا
******…….
حمنہ ہاسپٹل نہیں جا رہی تھی ۔۔۔۔ ڈاکٹر بیگ کے گھر پر ہی تھی رات کو فارس پھر وہاں موجود تھا
دروازہ حمنہ نے ہی کھولا تھا لیکن فارس سے بات نہیں کی تھی ۔۔۔۔ نور اور ایمان بھاگتے ہوئے اس کے پاس پہنچے تھے ۔۔۔
انہیں باری باری گود میں لئے وہ ان سے پیار کرنے لگا ۔۔۔۔ پھر جیب سے چوکلیٹ بھی نکال کر دی ۔۔۔۔
کچھ دیر سن سے باتیں کرتا رہا ۔۔۔ ان کی آپس میں ہونے والی لڑایاں سنتا رہا ہنستا رہا ۔۔۔ نور ہمیشہ اس کی گود میں چڑھ کر بیٹھتی تھی ۔۔۔۔
اور ایمان کی شکایت لگا کر فورا سے فارس کے کان میں یہ بھی بتاتی تھی کہ وہ اسے سزا کیا دے
” انکل کل آپ مان بھائی کے لئے چوکلیٹ مت لانا “
وہ اثبات میں سر ہلا دیتا تھا ۔۔
حمنہ کچن میں مصروف تھی ۔۔۔ میم بھی وہی کھڑی سلاد بنا رہی۔ تھیں ۔۔۔ جب فارس کچن کے دروازے پر کھڑا ہوا ۔۔۔۔
” حمنہ پلیز کچھ وقت چاہیے تمہارا بات کرنی ہے تم سے ” حمنہ نے ایک نظر اسے دیکھ کر نظریں بدلیں تھیں ۔۔۔ دوبارہ سے ہانڈی میں چمچہ ہلانے لگی
” حمنہ تم جاؤں میں یہ میں دیکھ لوں گی ۔۔۔” میم نے چمچہ حمنہ کے ہاتھ سے لے لیا ۔۔۔۔
وہ کچن سے نکل کر لاونج میں آکر بچوں کے ساتھ بیٹھ گئ
” یہاں نہیں کچھ دیر باہر چلتے ہیں واک بھی ہو جائے گی بات بھی ۔۔۔۔ ” فارس کی بات پر اس نے خشمگیں نظروں سے اسے نوازہ تھا
“پلیز حمنہ ۔۔۔ ” اسکے روت آمیز لہجے پر وہ کھڑی ہو گی ۔۔۔ گھر سے باہر نکل کر سڑک کے کنارے چلنے لگی ۔۔۔
کچھ دیر خاموشی کی نظر ہو گئے تھے ۔۔۔
“حمنہ ایم سوری ” بات کا آغاز فارس نے کیا تھا ۔۔
“سوری فار واٹ “
“میں نے جو بھی کیا وہ غلط تھا مجھے تمہاری بات سننی چاہیے تھی ” وہ نادم سا لگ رہا تھا
” اٹس او کے ” حمنہ مختصر جواب دیا رویہ بھی لیا دیا تھا ۔۔۔
” حمنہ ۔۔۔ فار گاڈ سیک یار ٹھیک کرو اپنا موڈ ۔۔۔ تمہارے اتنے خطرناک تیور دیکھ کر تو بات نہیں ہو سکتی ” فارس اسکے رسمی سے انداز سے زچ ہوا تھا حمنہ نے پہلے اسے غصے سے دیکھا ۔۔۔ وہ کان پکڑے اسکی منت کرنے لگا ۔۔۔ اسکی حرکتیں حمنہ کا غصہ ختم کر ہی دیتی۔ تھیں ۔۔۔ وہ مسکرانے لگی تو فارس نے سکوں کا سانس لیا ۔۔۔۔
” اوہ یس ۔۔۔ ایسے اچھی لگتی ہو ۔۔۔”
” تم جیسے شخص کے ساتھ کوئی بھی زیادہ دیر سنجیدہ نہیں رہ سکتا پورے کارٹون ہو تم”حمنہ نے مسکراتے ہوئے کہا
” چلو تمہیں ہنسا تو دیتا ہوں ۔۔۔ کاٹون بن کر ہی سہی ۔۔۔۔ “
“اچھا اب کیا کہنا چاہتے ہو بولو “
” ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں تم سے ۔۔۔۔ جوں بھی چاہیے ” اب فارس سنجیدہ سا ہو گیا تھا
” ہاں پوچھوں “
” اگر تم اصفر سے خلع لینے میں کامیاب ہو جاتی ۔۔۔ تو کیا میرے پرپوز پر تمہارا جواب ہاں ہوتا ؟۔۔۔۔ ” فارس کے سوال پر وہ خاموش سی ہو گئ تھی ۔۔۔۔۔
کیا جواب دیتی ۔۔۔۔۔۔ یہ سمجھ نہیں پا رہی تھی ۔۔۔
