Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415

Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 23

644.1K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Noor-e-Emaan Episode 23

Noor-e-Emaan by Umme Hani

اصفر کے جانے کے کچھ دیر بعد فارس بھی جا چکا تھا ۔۔۔۔ حمنہ اپنے کمرے میں لوٹ آئی سب سے پہلے سوئے ہوئے بچوں کو پیار کرنے لگی ۔۔۔ نیند آنکھوں سے غائب تھی ۔۔۔۔۔ نور کے ساتھ لیٹ کر اس کے نازک سے ہاتھ پکڑ کر چومنے لگی ۔۔۔۔

سوچیں پھر سے ماضی کے دریچوں کو کھول چکیں تھیں ۔۔۔۔۔ زہر کا انجکشن لگوا کر حسن کمال جا چکا تھا ۔۔۔۔۔

حمنہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکی ۔۔۔۔

“تواس لئے مجھے یہاں لایا گیا تھا ۔۔۔۔ تا کہ باپ بیٹا اپنا بدلہ لے سکیں ۔۔۔ پہلے خود اپنی ضد پوری کی اور اب باپ کو بھیج دیا تا کہ وہ بھی اپنا حساب پورا کر لے ۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے موت ہی لکھی تو یہ بھی آ جائے ۔۔۔ یہاں سے بھاگ کر جاؤں گی بھی کہا ۔۔۔۔ حمنہ نے خود کو حالات کے حوالے کر دیا تھا لیکن گل خان فکرمند ہو تھا ۔۔۔۔

” بیگم صاحبہ جلدی سے امارے ساتھ چلو ۔۔۔۔ یہاں ہمارے پاس گاؤں میں ایک چھوٹا سا کلینک ہے چلو آپ ” گل خان بے چین سا ہوا تھا

” نہیں رہنے دو مجھے کہیں نہیں جانا ۔۔۔۔مرنے دو مجھے یہیں ۔۔۔۔ جی کر کیا کروں گی ” حمنہ جیسے مایوس سی ہو کر رہ گئ تھی لیکن گل خان پٹھان کا بچہ تھا ۔۔۔ نمک حرامی اسکے خون میں شامل نہیں تھی

” خدا کا واسطہ بیگم صاحبہ ۔۔۔ آپ امار ے ساتھ چلو ۔۔۔۔ آپ نے میرے بچے کو بچایا تھا ۔۔۔ ام آپکو ایسے نہیں چھوڑ سکتا ۔۔۔۔ ” گل خان ہاتھ جوڑے اسکی منت سماجت کرنے لگا ۔۔۔۔ حمنہ اسکے ساتھ جانے کے لئے تیار ہو گئ لیکن باہر کا چوکیدار حسن کمال کا وفادار تھا ۔۔۔ اس لئے گل نے اسے ایک مردانہ شلوار قمیض لا کر دی ۔۔۔۔

” بیگم صاحبہ آپ اسے پہن کر باہر آؤں ۔۔۔۔ اور یہ گرم کالی شال سے اپنا چہرہ لپیٹ لینا “

گل خان اسے کپڑے دے کر باہر چلا گیا ۔۔۔ حمنہ وہ مردانہ سوٹ زیب تن کیے شال اوڑھ کر باہر آ گئ

گل خان سے اپنے ساتھ مین گیٹ تک لایا تھا ۔۔۔۔

” گل خانہ یہ لڑکا کون ہے ” چوکیدار نے گل خان کے ساتھ منہ چھپائے ایک لڑکے کو دیکھ کر پوچھا

” خان یہ امارا بھائی ہے ۔۔۔ صبح امارے ساتھ آیا تھا تم سو رہا تھا ۔۔۔ اسے بخار ہو گیا ہے مجھے اسے گھر چھوڑنے جانا ہے ” گل خان کی بات سنتے ہی خان نے دروازہ کھول دیا ۔۔۔ بیس پچیس منٹ پیدل چلتے چلتے حمنہ کی آب ہمت جواب دے دینے لگی تھی سانس بہت زیادہ پھولنے لگا تھا چکر بھی سنے لگے تھے انجیکشن اپنا اثر دیکھ رہا تھا ۔۔۔

” گل خان میں اور نہیں چل سکتی ۔۔۔ “

” ایسا مت کہو بیگم صاحبہ ۔۔۔۔ ہمت کروں تھوڑا ہی دور ہے بس تھوڑا اور چل لو ” با مشکل وہ کلینک پہنچی تھی اسی میں وہ بری طرح سے ہانپنے لگی تھی ۔۔۔۔ اندر سے جیسے اس کا وجود ٹوٹ رہا تھا طاقت ختم ہو رہی تھی ۔۔۔ اتنے ہی وہ پسینے سے شرابور ہو چکی تھی ۔۔۔۔

سانس بری طرح سے پھول رہا تھا ڈاکٹر اتنا سینئر نہیں تھا اس لئے دوائیں حمنہ نے اسے بتائی تھیں ۔۔۔۔ گل خان جلدی وہ سب لے آیا تھا ۔۔۔۔ کچھ میڈسن اسنے فورا سے کھائیں تھیں کچھ اس ڈاکٹر نے انجیکشن ڈرپ میں ڈال کر لگا کر دیں تھیں ۔۔۔۔۔ ایک ڈیر گھنٹہ ہی گزرا تھا اسے زہر کا انجکشن لگے ہوئے اس لئے زہرپوری طرح سے جسم میں اثر انداز نہیں ہوا تھا بروقت میڈسن سے وہ خطرے سے باہر تھی ۔۔۔۔ میڈسن سے زہر کافی حد تک نکل چکا ۔۔۔۔ وہ غندگی میں جا چکی تھی

صبح ہوش آئی تو گل خان اور اس کی بیوی اسکے پاس ہی بیٹھے تھے اسکی کھلی آنکھیں دیکھ کر شکر کرنے لگے ۔۔۔۔ دو دن وہ انکے گھر پر وہیں۔ رہی تھی ۔۔۔۔۔ لیکن تیسرے دن حمنہ نے اپنے ابا کی پہنائی ہوئی رنگ گل خان کو دی کہ وہ بیچ کر اسے پیسے لا دے ۔۔۔۔ وہ خود ملازم پیشہ شخص تھا پیسے اسکے اپنے پاس اتنے نہیں تھے کہ وہ۔ انگوٹھی بچنے سے منع کرتا ۔۔۔۔ انگوٹھی بیچ کر اس نے پیسے حمنہ کو لا دئیے حمنہ اس کی بیوی کا لباس پہنے بڑی سے شال اوڑھے وہاں سے بس اسٹاپ چلی گئ گل خان نے روکنے کی بہت کوشش کی کہ اصفر کی واپسی تک وہ گل خان کے گھر ہی رہ سکتی ہے لیکن حمنہ نے انکار کر دیا ۔۔۔۔ بس اسٹاپ پر پہنچ کر یہ نہیں معلوم تھا کہ آگے جانا کہاں ہے ۔۔۔۔ پہلی بس مری کے لئے روانہ ہو رہی تھی اس لئے اسی میں بیٹھ گئ لوکل بس تھی ٹکٹ کے پیسے بھی اس نے بس میں بیٹھ ے کے بعد ادا کیے ۔۔۔۔۔ مری پہنچ۔ کر ایک سستا سا ہوٹل میں کمرہ لیا ۔۔۔۔ پیسے اتنے تھے کہ چند دن گزارے جا سکتے تھے ۔۔۔

جسم میں اب بھی کمزوری سی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔ اگلے روز ناشتے کے بعد اس نے یوسف کو پی سی او سے کال کی تھی وہ اس کی گم شدگی کی رپوٹ تک کرو چکا تھا بے حد پریشان بھی تھا حمنہ سے پوچھنے لگا کہ وہ کہاں ہے ۔۔۔ کسی نے اغوا کیا تھا جو یوں غائب ہو گئ

” یوسف بھائی مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا ۔۔۔۔ میں خود ہی یہاں سے رو پوش ہو گئ تھی ۔۔۔ کیونکہ مجھے لگا کہ میری جان خطرے میں ہے اس وقت مری میں ہوں ۔۔۔ آپ مجھ سے ملنے کی غلطی مت کرنا ابھیایسا کرنا مجھے مصیبت میں پھنسا دے گا ۔۔۔۔۔ میں جہاں بھی ہوں با حفاظت ہوں ۔۔۔۔ آپ کو ایک ایڈریس بتا رہی ہوں۔۔۔ میرے سارے ڈاکومنٹس اور میری چیک بک مجھے بھیجوا دیں ۔۔۔ مجھے پیسوں کی سخت ضرورت ہے ۔۔۔

اور میں بنا چیک بک سے اپنے اکاؤنٹ سے کچھ بھی نکلوا نہیں سکتی ۔۔۔۔” حمنہ نے جان بوجھ کر یوسف کو ہر بات سے انجان ہی رکھا تھا ۔۔۔

” ٹھیک ہے میں کل ہی بھجوا دوں گا۔۔۔۔ تم کہو تو میں آ جاتا ہوں اکیلی کیسے مینج کروں گی ” یوسف نے فکر مندی سے کہا

” آپ بے فکر رہیں ۔۔۔۔ میں سب کچھ کر لوں گی ” حمنہ نے مختصر سی بات کر کے فون بند کر دیا ۔۔۔۔

دودن میں اسی ہوٹل کے ایڈیس پر اس کے ڈاکومنٹس اور چیک بک اسے مل گئ تھی ۔۔۔۔ سب سے پہلے اس نے آبادی سےکچھ دور ایک کاٹج کاایڈوانس دیا تھا ۔۔۔۔ دو کمرے اور ایک مناسب سے لاونج کا کواٹر اسے اتنی قیمت میں مل گیا تھا کہ اسے خریدنے کے بعد اسکے پاس چند لاکھ بچ گئے تھے ۔۔۔ گھر ۔میں مناسب سامان رکھنے کے بعد ۔۔۔۔ اس نے ایک لیپ ٹاپ اور موبائل بھی خریدیا تھا ۔۔۔ اب وہ یوسف سے رابطے میں تھی ۔۔۔۔

پندرہ بیس دن ایسے گزر چکے تھے

کسان کا کیس وہ دوبارہ سے کروانا چاہتی تھی ۔۔۔۔

” حمنہ اب یہ کیسے ممکن ہے ۔۔۔ تم جانتی ہو کہ ایف آئی آر سے آگے معاملہ بڑھ نہیں سکتا ۔۔۔

” میں اس صحافی سے بھی رابطہ کر چکی ہوں ۔۔۔ بس میرا نام نہیں آئے گا لیکن میں حسن کمال کو بے نقاب ضرور کروں گی ۔۔۔۔ پھر کسان ااور صحافی اور یوسف کی کوششوں سے کسان کا کیس میڈیا کے ذریعے سے منظر عام پر آیا تھا اس لئے پولیس کو ایف آئی کاٹنی پڑی ۔۔۔۔ سامنے وہ کسان تھا ۔۔۔ یوسف تھا لیکن سپورٹ حمنہ کی تھی۔۔۔ہر معلومات وہ فراہم کر رہی تھی ۔۔۔ اصفر کی واپسی کی خبر اسے یوسف سے ہی ملی تھی ۔۔۔

حسن کمال جیل کی سلاخوں کے پیچھے جا چکا تھا ۔۔۔۔

لیکن پہلی ہی پیشی پر جیسے کایا پلٹی تھی۔۔۔۔ حسن کمال کے جرم کا الزام اصفر نے اپنے سر لے لیا تھا ۔۔۔۔۔ یہی گواہی دی کہ غلط انجکشن اور بچے کا آپریشن اصفرکے کہنے پر کیا گیا تھا ۔۔۔۔ کیونکہ یہ کیس اسی کا تھا ۔۔۔ اسکے ڈسکرپشن پیپر کسان سے موصول ہوئے تھے ۔۔۔۔ پھر ویڈیو فوٹیج پر بھی پہلی بار کسان کا اپنے بیٹے کو اصفر کے روم میں لے جا رہا تھا ۔۔۔ کسان کا اعتراف

سارے ثبوت بھی اصفر کے خلاف تھے ۔۔۔ گواہ بھی ۔۔۔ پھر خود سے جرم کو قبول کر لینا ہی اسے مجرم ٹہرانے کے لئے کافی تھا ۔۔۔۔

اپنے جرم کو خود قبول کرنے پر اصفر کو پھانسی کی سزا نہیں ہوئی تھی عمر قید سنائی گئی تھی ۔۔۔ میڈیا پر بہت شور اٹھا تھا ۔۔۔۔ اصفر کی تصویروں والے بینرز بیچ چوپائے پر جلائے گئے ۔۔۔۔ ہائے ہائے اور

ڈاکٹر اصفر قاتل کے نعرے اور گالیاں دیں گئیں ۔۔۔۔

حسن کمال کا جیسے نام ڈوبنے لگا تھا اس کے ہاسپٹل سے لوگ دور ہونے لگے تھے ۔۔۔ کئ ڈاکٹرز نوکریاں چھوڑ چکے تھے ۔۔۔۔ حسن کمال کا ہوسپٹل ویران سا ہونے لگا تھا ۔۔۔۔

میڈیا کی خبریں ۔۔۔۔ وہ دیکھ کر لیپ ٹاپ بند کر دیتی تھی اصفر اپنے باپ جیسا ہی نکلا تھا ۔۔۔ حمنہ کا دل اس دن خون کے آنسوں رویا تھا جس دن اصل حقیقت سے پردہ اٹھا تھا ۔۔۔۔ایک مہدوم سی امید تھی کہ شاید وہ انجان ہو ۔۔۔ لیکن اس نے تو خود اس بچے کا کیس لیا تھا ۔۔۔۔ پھر اسے اپنے ہاسپٹل میں ایڈمٹ کرنے کے لئے باقائدہ تحریری بیان لکھ کر ریسپشن پر دیا تھا سارے ریکوڈ حاصل ہو چکے تھے ۔۔۔۔ میڈیا نے ایک ایک بات کئ زاویوں سے دیکھایا تھا

۔۔۔۔ ڈیڑ ماہ گزرنے کے بعد حمنہ کو اپنی طعبیت میں بدلاؤ کا احساس ہوا تھا ۔۔۔ ہر چیز کی خوشبوں سے جی متلانے لگتا تھا ۔۔۔ پہلا خوف اپنے ۔پریگنٹ ہونے کا لاحق ہوا تھا ۔۔۔۔ ایک وقت تھا اسے یہ شدت سے خواہش تھی کہ وہ ماں کے درجے پر پہنچے لیکن اب یہ دعا تھی کہ یہ سب جھوٹ ہو ۔۔۔۔۔ ایک ایسا شخص جو اپنے باپ کے ہر جرم میں شریک تھا ۔۔۔۔ اسے اپنے باپ کی ہر بات کا علم تھا تو اسکی ماں کے ساتھ جو کچھ حسن کمال نے کیا وہ بھی معلوم ہو گا ۔۔۔۔ اتنی بڑی سازش اتنا بڑا دھوکہ کھا چکی تھی شادی اور محبت کے نام پر

حمنہ تو جیسے ٹوٹ چکی تھی۔۔۔۔ خود سے گھن سی محسوس ہونے لگی کس شخص کی سنگت میں اتنے سال گزار لئے تھے ۔۔۔۔ایک قاتل کی ۔۔۔۔محبت بھی کیسے کر لی اس سے جو اللہ کے معصوم بندوں کو موت کی بھنٹ چڑھانے والے جلاد تھا ۔۔۔ اس پر یہ ستم کے اب وہ اسی کے بچے کی ماں بننے والی تھی شیطان نے پھر سے اپنا جال بچھانا شروع کیا تھا انسان جب کسی سے بری طرح سے دھوکہ کھائے ۔۔۔ یا ٹوٹ جائے تو شیطان اسکی کمزوری کو گناہ کی طرف مائل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے ۔۔۔ تا کہ اسے رب کا ناشکرا اور نا فرمان کر سکے

” ایک قاتل کے بچے کو اپنی پاکیزہ وجود کا حصہ بناؤں گی حمنہ ؟ جس نے ایک معصوم بچے کی جان لے لی ۔۔۔۔ قتل کر دیا اس نے اس بچے کو ۔۔۔۔ تم بھی اسکے بچے کو مار ڈالو ایک گناہگار کی اولاد کو کیسے پالو گی ۔۔۔۔ اپنا آبوشن کروا لوں ۔۔۔۔۔

اپنی زندگی اور اپنے کیریر کے بارے سوچوں ۔۔۔۔ اسکی اولاد کی پیدائش اور پرورش میں خود کو ہلکان مت کرو” حمنہ کا یہ سوچ کر پورا وجود پسینے سے شرابور ہوا تھا ۔۔۔۔ چہرے پر بدحواسی تھی

پھر ضمیر وکیل بن کر اس کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔

” حمنہ یہ گناہ ہے قتل ہے ۔۔۔۔ اگراصفر نے کسی کی جان لی ہے تو یہ اس کا اپنا ذاتی معاملہ ہے ۔۔۔۔ اگر تم بھی آبوشن کروا لو گی تو قتل ہی کرو گی ۔۔۔ قاتل ہی بن جاو گی ۔۔۔۔ پھر کیا فرق رہ جائے گا تم میں اور اصفر میں ۔۔۔۔ وہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئ

جب کچھ سجھائی نہیں دیا تو وضو کر کے جائے نماز پر بیٹھ گی نوافل پڑھ کر رو کر اپنے رب سے صراط مستقیم پر چلنے میں مدد طلب کرتی رہی

ایمان کا راشتہ بے شک نفس کی خواہش کے خلاف ہے ۔۔۔۔۔۔ لیکن ایمان کا نور اسی کو ملتا ہے جو نفس کو زیر کرنے کی اذیت کو سہے اور اسوقت حمنہ اسی اذیت کو سہہ رہی تھی ۔۔۔۔۔ اپنی ہی کوک میں ایک قاتل شخص کے اولاد کو پالنے کی اذیت جسے ایک معصوم جان کو مارنے پر رحم نہیں آیا تھا ۔۔۔۔

نا جانے ایسے کتنے قتل وہ کر چکا تھا ۔۔۔۔

اصفر کی محبت بھری باتیں یاد آنے پر اس کی قربت کا سوج کر حمنہ کو اپنا وجود ناپاک سا لگنے لگتا تھا ۔۔۔ جی چاہتا تھا خود کو ختم کر لے ۔۔۔۔

ایسا کون سا گناہ سرزرد ہوا تھا اس سے جو ایسا جیون ساتھی ملا اور اگر یہ آزمائش تھی تو بڑی گھٹن آزمائش تھی ۔۔۔۔ کئ بار اسے سوتے ہوئے اصفر کے خیالات ستانے لگتے کبھی لگتا وہ اسے دیکھ رہا ہے ۔۔۔ مسکرا رہا ۔۔۔ ہنس رہا ہے ۔۔۔ یہ کہہ رہا کہ دیکھو کیسا بیوقوف بنایا تمہیں ۔۔۔۔ تم نے میرے ساتھ فون پر بات کرنے کو گناہ سمجھا تھا میرے ساتھ ریسٹورنٹ پر جانے کو شرعی حدود کے خلاف سمجھا تھا ایک قبیح گناہ سمجھا ! ۔۔۔۔۔ لو دیکھوں میں تمہارے پورے وجود کو اپنے گناہگار وجود کا عادی بنا دیا یہاں تک کہ تمہارا دل اب بھی میرت نام کی مالا جپتا ہے ۔۔۔۔۔ میری ہی اولاد کو تم پیدا کرنے اور پالنے پر مجبور ہو ” ایسے خیالات آتے ہی وہ کبھی خود کو نوچنے لگتی رات کو سخت سرد راتوں میں نہانے چلی جاتی ۔۔۔۔ اپنے ہاتھ پاؤں چہرہ رگڑ رگڑ کر دھونے لگتی جیسے کوئی غلاظت اسے وجود کے ساتھ چپک گئ ہو اور وہ اسے نوچ کر اتار رہی ہو ۔۔۔ پھر جب اپنے پاگل پن کااحساس ہوتا تو رونے لگتی ۔۔۔۔۔ بلکنے لگتی

بڑی مشکل سے وہ اپنی کیفت پر قابو پا سکی تھی ہر وقت باوضو رہنے لگی تھی ۔۔۔ ذہنی اذیت کاعلاج اس نے یہ نکالا اپنے ہی کوٹج کے ایک کمرے میں کلینک کھول لیا ۔۔۔ دن بھر مریضوں کو دیکھنے لگی ۔۔۔

جب بھی کسی چھوٹے بچے کو دیکھتی جس کی عمر دس سے بارہ سال کی ہوتی ہوتی عبدالباری کاچہرہ سامنے آنے لگتا ۔۔۔۔ ساتھ ہی اصفر کا چہرہ ۔۔۔ تنفس جیسے پل میں منتشر ہونے لگتا تھا ۔۔۔۔ چہرے پر پسینہ سا آنے لگتا ۔۔۔۔۔

“جسے دل کی شدتوں سے چاہا ہو اس کا مکرو اور گھناؤنا چہرہ اگر سامنے آ جائے تو اس سے نفرت کرنا بھی ایک کھڑا امتحان لگتا ہے ” اور اس کڑے امتحان سے وہ گزر رہی تھی اپنے جذبوں کو جیسے وہ روز مارنے کی کوشش کرتی تھی خود کو مصروف رکھنے کی کوشش میں وہ کلینک کے اوقات بڑھا دیتی تھی ۔۔۔۔۔ نو ماہ میں تخلیق اسکے وجود کے اندر ہی نہیں ہوئی تھی ۔۔۔۔ اس نے اپنے جڑواں بچوں کے ساتھ ایک نئ حمنہ کو بھی جنم دیا تھا۔۔۔۔

ہوسپٹل میں بی پی ہائی ہونے کی وجہ اسکا فوری آپریشن کرنا پڑا تھا دو دن بعد وہ ہوش میں آئی تھی ۔۔۔۔

“مبارک ہو حمنہ اللہ نے تمہیں رحمت اور نعمت دونوں سے نوازہ ہے” ۔۔۔۔۔حمنہ نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو دو معصوم بچے اسکے برابر میں لیٹے سو رہے تھے ۔۔۔۔۔دو دن بعد وہ ہوش میں آئی تھی ۔۔۔۔۔۔زندگی اور موت کی جنگ لڑتے ہوئے موت کو شکست دینے میں اسے دو دن لگ گئے تھے ۔۔۔۔۔نقاہت اور تکلیف کے باوجود ۔۔۔۔اپنے معصوم سے بچوں کو دیکھ کر وہ اپنے سارے غم جیسے بھول گئ تھی ۔۔۔۔۔ڈاکٹر نے اسکے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور باہر چلی گئ کچھ دیر بعد ایک نرس آ کر اسکی ڈرپ چینج کرنے لگی

“بی بی اللہ نے بڑا کرم کیا ہے آپ پر ورنہ ڈاکٹر توامید کھو بیٹھے تھے کہ آپ کو ہوش بھی آئے گا کہ نہیں ۔۔۔دو دن آپکے بچوں نے بڑاتنگ کیا ہے جی مجھے ۔۔۔۔ویسے کوئی تو ہو گا آپ کا ؟” ۔۔۔۔نرس نے ہمدردانہ لہجے میں پوچھا

“نہیں کوئی نہیں ہے ۔۔۔۔۔” وہ دھیرے سے بولی آنکھوں کے کنارے بھیگے تھے

“ان بچوں کا باپ ۔۔۔۔وہ کہاں ہے ؟”

“وہ بھی نہیں ہے ۔۔۔۔گزر گیا ہے “۔۔۔۔حمنہ نے بامشکل کہا

“اوہ بڑا دکھ ہوا سن کر ۔۔۔۔۔باپ کے بغیر دو دو بچوں کی پرورش ۔۔۔بڑاکٹھن امتحان ہے بی بی۔۔۔۔

“اللہ ہے میرے ساتھ ۔۔۔۔پھر اور کسی کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے ۔۔۔۔۔میں اکیلی تو ایسی نہیں جس کے ساتھ ایسا ہوا ہو بہت سے عورتیں اپنے بچوں کو اکیلا پالتی ہیں ۔۔۔” حمنہ با مشکل ٹیک لگا کر بیٹھی تھی

“ہاں بی بی یہ تو ہے ۔۔۔۔ویسے نام کیا رکھو گی بچوں گا “

“نور …ایمان ۔۔۔۔۔میں چاہتی ہوں میرے دونوں بچے ایمان کے نور سے منور رہیں” ۔۔۔۔۔حمنہ نے بہت فرط محبت سے ان دونوں سوئے ہوئے بچوں کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔ اس وقت سے وہ صرف ماں تھی ایمان اور نور کی ماں باقی ہر رشتہ وہ بول جانا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔ اسکی جینے کی وجہ اسے ۔مل گئ تھی۔۔۔ بچے جب چند ماہ کے ہوئے تو ایک بر نے پھر حمنہ کی زندگی میں طوفان سا بھرپا کیا۔۔۔۔

وہ خبر تھی اصفر کی رہائی جو کسان کے معافی نامے پر ہوئی تھی ۔۔۔۔ دل میں نفرت کے جذبات ابھرے تھے ۔۔۔۔ ایک نظر لیپ ٹاپ پر اس نیوز پر ڈالی سامنے اصفر کی تصویر بھی تھی ۔۔۔ لمبے بکھرے بال شیو بے حد بڑھی ہوئی چہرے پر پژمردگی ۔۔۔۔ رنگ پیلی اور آنکھوں کے گردگہرے ہلکے ۔۔۔ دل میں ایک ٹھیس سی اٹھی تھی ۔۔۔ حمنہ نے آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔

دل کے درد کی وجہ نا جانے کیا تھی اصفر کو اس حال میں دیکھنا یا اس کی سزا کا معاف ہو جانا۔۔۔۔ اس نے لیٹ ٹاپ بند کر دیا ساتھ ہی اپنی زندگی کا اصفر نامی باب بھی

حمنہ اب اس قابل ہو گئ تھی کہ زندگی میں آگے کی جانب قدم بڑھاتی اس لئے پہلے تو ایک ملازمہ کا انتظام کیا کلینک کو خیر آباد کیا اور ڈاکٹر بیگ سے ہاسپٹل کو جوائن کیا۔۔۔۔ وہ ایک سرجن تھی صرف کلینک کر کے اپنی صلاحیتوں کو زنگ نہیں لگا سکتی تھی ۔۔۔۔

ڈاکٹر بیگ اس کے ڈاکومنٹس دیکھ کر بے حد خوش تھے ۔۔۔ ایک چھوٹے سے ہاسپٹل کی ابتدا انہوں نے اپنے ہی بل بوتے پر کی تھی ۔۔۔ وہاں پر ذیادہ تر ڈاکٹر انکے اسٹوڈنٹ ہی تھے جو ان سے پڑھ چکے تھے اور قابل ڈاکٹر بھی بن چکے تھے ۔۔۔ ڈاکٹر بیگ کی اپنی تو کوئی اولاد نہیں تھی لیکن اپنے اسٹوڈنٹ کو بچوں کی طرح ہی عزیز رکھتے تھے ۔۔ انکا ذیادہ چہتا اسٹوڈنٹ فارس تھا ۔۔۔۔ والد اس کے تھے نہیں ماں گاؤں میں رہتی تھی اس لئے کھانے پر وہ اکثر انکے گھر بن بلائے مہمان کی طرح پہنچ جاتا تھا ۔۔۔۔ میم کے کھانوں کی تعریف کرتے ہوئے اس کا ڈنر ختم ہوتا تھا ۔۔۔ وہ بھی اولاد کی ترسی ہوئیں خاتون تھیں ۔۔۔ اس لئے انہیں شاگروں کو کسی نا کسی موقع پر دعوت دے کر گھر میں رونق سی لگا لیتی تھیں ۔۔۔۔ اگر انکےہاسپٹل میں کمی تھی تو ایک سرجن کی گائنا کالوجسٹ تو موجود تھیں لیکن باقی آپریشنز کے لئے انہیں ہمیشہ ایمرجنسی کیسز دوسرے ہاسپٹل ہی بھجنے پڑتے تھے تھے پھر ان کا ہاسپٹل میں مری سے کافی الگ روٹ پر تھا ۔۔۔۔ وہاں کوئی بھی سرجن کام کرنے تیار کو تیار نہیں ہوتا تھا اور اگر ہوتا بھی تھا تو فیس بہت زیادہ مانگتا تھا ڈاکٹر بیگ نے ہاسپٹل کی فیس مناسب ہی رکھی تھی ۔۔۔۔

تا کہ انسانیت کی خدمت ذیادہ سے ذیادہ ہو سکے ۔۔۔ اس لئے اپنے شاگرودں کو بھی وہ مناسب تنخواہیں ہی دیتے تھے ۔۔۔ حمنہ کا ایک اچھے ہاسپٹل کو چھوڑ کر اس ہاسپٹل کا انتخاب کرنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ اسکی گمنام سی زندگی گمنام ہی رہے ۔۔۔۔ کسی بڑے ہاسپٹل کے حوالے اسکی پہچان کبھی بھی میڈیا کی نظر میں نا آئے ۔۔۔۔

یہاں کام کرنے اور ڈاکٹر بیگ کے دوستانہ رویے سے وہ بہت مانوس سی ہو گئ تھی ۔۔۔۔

پھر سب ہی ڈاکٹرز گھلنے ملنے والے اور ہنس مکھ تھے۔۔۔۔ فارس سے پہلی ملاقات ۔۔۔۔ ہاسپٹل کو جوائن کرنے کے ٹھیک ایک ماہ بعد ہوئی تھی وہ اپنی والدہ کے انتقال کی خبر سن کر اپنے گاؤں گیا تھا جب واپس آیا تو ایک نئ ڈاکٹر نے اسے پہلی نظر میں متاثر کیا تھا ۔۔۔ لیکن اسکی کم گوئی اور لئے دئیے رویے کو ختم کرنے میں فارس کو ایک سال لگ گیا تھا ۔۔۔۔۔ پھر اس کے چھوٹے بچے ۔۔۔۔ فارس کو اپنی جانب کھینچنے لگے ۔۔۔۔۔ حمنہ کی عادات اسے بھانے لگیں تھیں۔۔۔۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ خود کو حمنہ کے گھر کا ایک اہم حصہ ہی سمجھنے لگا تھا ۔۔۔۔

جیسے وہ بھںی ایک فرد کی حثیت رکھتا ہو ۔۔۔۔ حمنہ سے پہلی بار اظہار محبت اس نے تب کیا جب نور اور ایمان کی پہلی سالگرہ پر حمنہ کے لاکھ منع کرنے پر فارس سے خود سب کچھ سجایا تھا سب کو دعوت نامے بھی خود ہی دئیے تھے صبح دس بجے سامان کے ساتھ وہ اسکے گھر پہنچ گیا تھا ۔۔۔ حمنہ اسکے شاپنگ بیگز سے لدے دیکھ کر حیرت سے دروازے سے پیچھے ہٹی تھی ۔۔۔ وہ اندر داخل ہوتے ہی سارے شوپر ٹیبل پر رکھنے لگا ۔۔۔ پھر گہری سانسیں بھرنے لگا

” یہ سب کیا ہے فارس ” حمنہ نے اتنے شاپنگ بیگز دیکھ کر پوچھا

” میرے بچوں کی سالگرہ ہے ۔۔۔ اس لئے آج کا دن بچوں کے نام ” فارس نے بڑے بے تکلفانہ انداز اپنایا تھا ۔۔۔

” اس سب کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔۔ “

” دیکھوں جی یہ میرا اور نور ایمان کا معاملہ ہے اس لئے نو کاپرومائز ۔۔۔ تم بس یہ شاپر پکڑو اس میں چکن ہے اور ککنگ کی دیگر اشیاء کھانے کا ڈپاٹمنٹ تمہارا ہے میں بلکل ہیلپ نہیں کر سکتا کیوں

مجھے چائے کے علاؤہ کچھ بھی بنانا نہیں آتا ۔۔۔۔

” اتنا سارا سامان کرنا کیا تھا تم نے ہم دو تین لوگ کتنا کھا سکتے ہیں “

اچھا خاصا سامان دیکھ کر وہ پوچھنے لگی

“ایک دو تین کیوں ؟ میں تو ڈاکٹر بیگ سمیت سب ڈاکٹرز کو بلایا ہے یہاں تک نرسنگ اسٹاف کو بھی اس لئے جلدی سے کچن میں گھسوں ۔۔۔اور اس صغریٰ کو بھی اپنے ساتھ لگاوں۔۔۔۔ باقی گھر میں خود سجا لوں گا نور اورمان کو بھی سنبھال لوں گا ٫

” تم نے بنا مجھ سے پوچھے سب کو دعوت بھی دیدی ۔۔۔ عجیب ہو تم” حمنہ کو فارس کی عجلت اور د ل اندازی پر حیرت تھی

” بچوں کی پہلی سالگرہ ہے اور تم کتنی بور ہو حمنہ ۔۔۔۔ بس مجھے کچھ نہیں سننا جلدی جاؤں اور اپنے ہاتھوں کا جادو جگاوں۔۔۔ اور ہاں مرچ ذرا ٹھیک سے ڈالنا ۔۔۔۔ بریانی سپاسی اچھی لگتی ہے ” مرچ کے بہانے وہ اسے اپنی فرمائش بھی بتا چکا تھا۔۔۔ حمنہ شام تک ہی کچن سے فارغ ہوئی تھی

جب کچن سے نکلی تو لاونج کا نقشہ ہی بدلہ ہوا تھا دیواروں پر رنگ برنگی لڑیاں غبارے سجے ہوئے تھے ایمان اور نور کا نام لکھا ہوا تھا ۔۔۔۔ دونوں بچے ہلکا ہلکا چلنے لگے تھے ۔۔۔ ایک کمرے سے فارس کے ساتھ فیری فارک میں نکلتی نور کسی ارٹفشل ڈول کی طرح لگ رہی تھی۔۔۔ اور ایمان تھری پیس سوٹ میں گڈا ہی لگ رہا تھا ۔۔۔۔ فارس بھی پینٹ شرٹ میں تیار تھا ۔۔۔۔ دونوں بچوں نے دونوں جانب سے فارس کی انگلی پکڑی ہوئی تھی ۔۔۔ حمنہ کی نظریں ہٹانا مشکل ہوا تھا ۔۔۔۔۔

غبارے اور رنگا رنگ جھنڈیاں دیکھ کر بچے خوش ہو رہے تھے۔۔۔۔ کپڑے تک وہ خود لایا تھا ۔۔۔

پہلی بار اس نے فارس کو بڑے غور سے دیکھا تھا ۔۔۔ جو بچوں کے ساتھ بچہ بنا ہوا تھا ۔۔۔۔ دونوں کے ہاتھ پکڑے چلاتے ہوئے اس نے صوفے پر بیٹھا دیا اور انکے ہاتھ میں غبارے پکڑا دیے ۔۔۔

وہ رنگا رنگ غباروں سے کھیلنے لگے فارس چلتا ہوا

حمنہ کے پاس آیا تھا جو اب بھی بچوں کو بڑی محبت سے دیکھ رہی تھی فارس کے چٹکی بجانے پر چونکی تھی ۔۔۔

“ابھی کچھ ہی دیر میں سب پہنچ جائیں گئے تمہارا ڈریس تمہارے کمرے کمرے میں موجود ہے ۔۔۔۔ اب جلدی جاؤں اور چینج کر کے آؤں ۔۔۔۔ “

” میرے لئے لانے کی کیا ضرورت تھی میں کچھ بھی پہن لیتی فارس اتنا کچھ تم نے میرے بچوں کے لئے کیا ہے یہی کم نہیں تھا ۔۔۔ ” حمنہ کے لہجے میں احسان مندی تھی

” مجھے فارمل لوگ بلکل پسند نہیں ہیں ۔۔۔ میں نے یہ صرف اپنی خوشی سے کیا ہے اور مجھے بہت خوشی ہو گی اگر تم وہ لباس پہنوں جو میں تمہارے لئے لایا ہوں ۔۔۔۔ ” حمنہ اپنے کمرے میں چلی گئ ڈارک گرے رنگ کا ہلکا سا فینسی ڈریس تھا برتھڈے کی مناسبت سے بلکل پرفیکٹ ۔۔۔۔ لیکن حمنہ کو ایسے لباس چھوڑے ہوئے سال سے ذیادہ عرصہ بیت چکا تھا وہ صرف سمپل سے کپڑے پہنتی تھی ذیادہ تر سادے اور ہلکے رنگ کے ۔۔۔ لیکن وہ اب اسکے بچوں کے لئے اتنا کچھ کر چکا تھا کہ اس لئے وہ وہی جوڑا پہن کر باہر آ گئ لیکن میک اپ بلکل نہیں گیا تھا ۔۔۔ اسکاف وہ ویسے ہی باندھے رکھتی تھی ۔۔۔۔

فارس اسی میں خوش تھا کہ وہ اسکی پسند کے لباس میں ملبوس ہے۔۔۔۔ سب مہمان بھی آ چکے تھے ۔۔۔۔۔ اسکے بچوں کی پہلی خوشی کوئی اتنی دھوم دھام کر بھی منائے گا اس نے سوچا نہیں تھا ۔۔۔۔ سب نے ہی بچوں کو ہاتھوں ہاتھ لیا تھا ۔۔۔۔

حمنہ کے کھانے کی تعریف بھی سب نے کی تھی ۔۔۔۔

آہستہ آہستہ سب ہی جا چکے تھے سوائے فارس کے بچے بھی تھک کر سو چکے تھے حمنہ نے انہیں چینج کروا کر بیڈ پر لیٹا دیا صغری رات دن کے لئے تھی اس لئے کچن سمیٹنے لگی ۔۔۔

” چائے پیو گئے” فارس کو ابھی تک گھر پر دیکھ کر حمنہ کو مروتا ہی پوچھنا پڑا “

“اوہ یس” وہ صوفے پر بیٹھ گیا

حمنہ نے چائے بنائی اور باہر آ کر ایک کپ اسکی طرف بڑھا دیا ۔۔۔ اور اسکے برابر رکھے کشن ہر بیٹھ گئ

” تھنک یو سو مچ فارس ۔۔۔۔”

“فار واٹ “

“میرے بچوں کی خوشی کو یوں چار چاند لگانے کے لئے “”میں نے یہ سب نور ایمان کو اپنے بچے سمجھ کر سیلربریٹ کیا ہے ۔۔۔۔ “فارس کی معنی خیز بات کو حمنہ نے یونہی نارمل سے انداز سے لیا تھا

“چلو پھر اس کا مطلب اپنا شکریہ واپس لے لینا چاہیے ” چائے سپ لیتے ہوئے حمنہ نے مسکرا کر کہا

“بلکل”

فارس کچھ دیر اسے دیکھتا رہا سوچ رہا تھا کہ بات کیسے کرے

” حمنہ میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں “

” ہاں کہو ۔۔۔”

” میں تمہیں ۔۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔ ” اسکا یوں ہچکچنا حمنہ سمجھ نہیں پا رہی تھی وہ خاصا بولڈ قسم کا لڑکا تھا شرمانہ ہچکچانا اسکے مزاج میں نہیں تھا

” حمنہ ول ہو میری می ؟ ” اپنی آنکھیں مچے اس نے اگلے لمحے میں جیسے حمنہ کے ہوش اڑائے تھے ۔۔۔۔

کچھ پل وہ ہونق بنی اسے دیکھتی رہی

لیکن جیسے ہی فارس نے آنکھیں کھولیں اس کا ٹرانس ٹوٹا تھا فورا سے کھڑی ہو گی

“تم ہوش میں۔ تو ہو کہ کیا کہہ رہے ہو “

” ہاں پورے ہوش و حواس میں ہوں ۔۔۔ ” فارس کو حمنہ کا ناراض ہونا یا سختی سے جواب دینا غیر مناسب سا لگا تھا

” میں نہیں کر سکتی کسی سے شادی “

” کیوں “

“اس لئے کہ میں شادی شدہ ہوں ” حمنہ کے منہ سے بے اختیار نکلا تھا

“لیکن شوہر حیات نہیں ہے تمہارا ۔۔۔۔ ساری زندگی ایک ہی غم کو سنبھالے رکھنا تو زندگی نہیں ہے حمنہ “

“پلیز فارس تم یہاں سے جاسکتے ہو ۔۔۔۔۔ مجھے کسی سے بھی شادی نہیں کرنی ۔۔۔۔ ” حمنہ کے اس قدر سخت رویے پر اسوقت تو فارس چلا گیا ۔۔۔۔ لیکن اس بار کا پیچھا اس نے کبھی نہیں چھوڑا تھا ۔۔۔۔ پھر بچوں کو بھی وہ بے حد چاہتا تھا ۔۔۔۔

صبح کی اذان کی آواز پر حمنہ چونکی تھی پوری رات آنکھوں کٹی تھی ۔۔۔۔

*****…….

” نجمہ باجی ۔۔۔ آپ ڈاکٹر حمنہ کے ساتھ ہر بار آپریشن کے لیے آپریشن تھیٹر میں جاتی ہیں ” لائبہ نے بڑے اشتیاق سے پوچھا تھا

نجمہ ایک سینئر نرس تھی اور۔ ہر بار آپریشن تھیٹر پر اسی کی ڈیوٹی ہوتی تھی اس وقت بھی ایک آپریشن کے لئے وہ اپنے گلوز پہن رہی تھی

” ہاں میری پہ ڈیوٹی ہے ۔۔۔۔ “

” اس بار میں بھی چلوں قسم سے مجھے نا بڑا شوق ہے کسی مریض کا آپریشن سامنے دیکھنے کا ” لائبہ نے پیاری بھری منت کی تھی ۔۔۔

” ہر گز بھی نہیں ڈاکٹر حمنہ اور سر بیگ اس کے سخت خلاف ہیں کہ کسی نئ نرس کو آپریشن تھیٹر بھیجا جائے ۔۔۔۔ جس کے لئے سب کچھ نیا ہو ۔۔۔ ” اب وہ ماسک پہنتے ہوئے بولی

” یہ بات کیا بات ہوئی بھلا نیا اسٹاف جائے گا دیکھے گا تبھی تو سیکھے گا نا ۔۔۔ ” لائبہ مایوس ہوئی تھی ۔۔۔۔

” ایسا کرو ڈاکٹر فارس سے پوچھ لو اگر وہ مان گئے تو پھر تمہیں کوئی نہیں روکے گا ۔۔۔۔” نجمہ نرس یہ کہہ کر اسٹاف روم سے نکل کر آپریشن تھیٹر میں چلی گئ آپریشن میں ابھی وقت تھا ۔۔۔ لائبہ شوق کے ہاتھوں مجبور ہو کر ڈاکٹر فارس کے روم کے باہر پہنچ کر رک گئ تھی ۔۔۔۔ جس دن سے فارس کی ڈانٹ سنی تھی وہ اس کے سامنے جانے سے کتراتی ہی تھی ۔۔۔۔ لیکن اب شوق کی وجہ سے وہاں تک پہنچی تھی ۔۔۔۔۔

دل کی دھڑکنوں پر سینے پر ہاتھ رکھ کر قابو پایا جو ڈر سے دھڑدھڑا رہیں تھیں ۔۔۔ ایک منٹ آنکھیں بند کر کے آیت کرسی پڑھ کر خود پر پھونکی تھی کہ پھر دل ہی دل میں دعا کی تھی کہ اس کا یہ شوق بھی پور ہو جائے ۔۔۔ اس لئے آنکھیں کھول کر دروازے پر دستک دی

” یس کم ان ” اندر سے ڈاکٹر فارس کی آواز آئی

لائبہ اندر داخل ہوئی

” سر میں اندر آ سکتی ہوں ” اندر آ کر دروازہ بند کر کے لائبہ نے پوچھا فارس سامنے کرسی پر بیٹھا کسی مریض کی فائل چیک کر رہا تھا

لائبہ کی بات پر اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا

” میرے خیال سے آپ اندر آ چکی ہیں ” فارس کے یاد دلانے پر جیسے وہ بوکھلائی تھی

‘” اوہ ۔۔۔ میں تو بھول ہی گئے تھی” اپنے سر پر ہاتھ مار کر بولی

” جس پیشے سے آپکا تعلق ہےس لائبہ وہاں بھولنے کی گنجانش نہیں ہے ۔۔۔ ایسی بوکھلاہٹ اور بد حواسی کے ساتھ تو آپ مریض کے ساتھ کچھ بھی غلط کر سکتی ہیں ۔۔۔ ٹیک از ایزی ” فارس اسکے چہرے پر چھائی بد حواسی دیکھ کر بولا لائبہ نے خود کو با اعتماد سا بنانے کی چند لمحوں میں کوشش کی ۔۔۔

” ایسی بات نہیں ہے میں مریضوں کے سامنے بلکل کونفڈینٹ رہتی ہوں باقی ڈاکٹر سے بھی ٹھیک سے بات کر لیتی ہوں بس آپ کے سامنے ۔۔۔۔۔۔ذرا ۔۔۔۔۔۔۔” آخری جمعلہ پر لائبہ دھیرے سے کہہ کر خاموش ہو گئ اب اپنے منہ سے کہنا مجھے آپ سے ڈر لگتا ہے ۔۔۔ لائبہ کے اصولوں کے خلاف تھا

” پھر میرے سامنے آپ یہ ہونق شدہ شکل لیکر کیوں آتی ہیں ۔۔۔۔ جہاں تک مجھے اپنے بارے میں معلوم ہے ۔۔۔ میں ایک ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خوش شکل اور ہینڈسم نوجوان ہوں ۔۔۔

اور خواتین سے بات بھی بہت پولائٹلی کرتا ہوں ۔۔۔

بس بدتمیز اور ڈھیٹ مریضوں سے میرا رویہ ذراسخت ہے ” فارس جان گیا تھا کہ وہ کیوں اس سے خوف کھاتی ہے جہاں وہ موجود ہوتا تھا لائبہ بوتل کے جن کی طرح غائب ہوتی تھی

” جی وہ تو میں دیکھ چکی ہوں “

“گڈ ” فارس نے مسکرا کر کہا

” اس وقت یہاں آنے کی وجہ ؟”فارس نے ہی اس سے پوچھا

” سر مجھے آپریشن دیکھنے کا بہت شوق ہے اگر آپ مجھے آپریشن تھیٹر جانے کی اجازت دے دیں تو میرا یہ شوق بھی پورا ہو جائے گا ۔۔۔ ” لائبہ غیر متوقع بات پر وہ متحیر ہوا تھا

” یہ کیسا شوق ہے ۔۔۔۔۔ ‘”

” سر وہاں پر ہیلپر نرس اور واڈ بوائے کی ضرورت تو ہوتی ہے ۔۔۔ آپ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں میں بھی وہ سب کام پوری ذمہ داری سے با خوبی سر انجام دے سکتی ہوں جو نجمہ نرس دے سکتی ہے ۔۔۔ ” لائبہ نے قائل کرنے کی کوشش کی کچھ دیر تو فارس سوچتا رہا ۔

” سر پلیز ؟ “لائبہ نے پھر سے التجا کی

” او کے چلو جاؤں جا کر گلوز اور ماسک وغیرہ پہنوں ” لائبہ جیسے یہیں سننا چاہتی تھی

“تھنک یو سو مچ سر آپ بہت اچھے اللہ آپکی من کی مرادیں پوری ۔۔۔ جیسے آپ نے میری مراد پوری کی ۔۔ ہائے کتنا شوق تھا مجھے کسی مریض کو چیر پھاڑ کرتے ہوئے دیکھوں ۔۔۔۔ ” لائبہ کی گل فشانیاں سن کر وہ اسے متحیر ہو کر دیکھنے لگا اور وہ یہ کہتے ہی خوشی خوشی کمرے سے نکل گئ ۔۔۔ وہ تیار شیار ہو کر کسی پروفشنل سرجن کے انداز سے سب نرسوں کو اتراتے ہوئے یہ بتا کر باہر نکلی کے وہ آپریشن کرنا بھی سیکھ لے گئ ۔۔۔۔۔ بڑے کنفڈنس سے وہ آپریشن تھیٹر کے اندر داخل ہوئی تھی ۔۔۔۔۔وہسں اسٹیچرز پرایک بچہ تھا بلکل چار پانچ سال کا ۔۔۔اسکے پیٹ میں حرنیاں تھیں جن کا آپریشن ہونا تھا ۔۔۔۔

پہلے تو چھوٹے سے بجے کو اسٹیچرز پر بےہوش ہاسپٹل کے گاون میں دیکھ کر اسے ترس سا آیا تھا۔۔۔۔

وہاں ڈاکٹر حمنہ اور ڈاکٹر فارس کے علاؤہ نجمہ نرس اور ایک واڈ بوائے تھا ۔۔۔ وہ بھی سئنر تھا ۔۔۔۔

لائبہ بھی نجمہ نرس اور فارس کے برابر میں کھڑی ہو گئ ۔۔۔

لیکن جیسے اس بچے کے پیٹ کے نچلے حصے پر کٹ لگایا گیا لائبہ کا دل کپکپایا تھا ۔۔۔ جیسے جیسے اس کا آپریشن ہوتے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ اس کا دماغ چکرانے لگا تھا جتنا اسے آپریشن دیکھنے کا شوق تھا ۔۔۔ اب لگ رہا تھا پورا آپریشن تھیٹر ہی گول گول گھومنے لگا ہے ۔۔۔۔

اسکی دائیں جانب فارس کھڑا تھا اور فارس کے برابر میں حمنہ جو آپریٹ کر رہی تھی اور لائبہ کے بائیں جانب نجمہ نرس تھی جو فارس کو سرجیکل انٹسرومنٹ پاس کر رہی تھی ۔۔۔۔

لائبہ نے پہلی بار قریب سے یہ سب دیکھا تھااس لئے تاب نہیں لا پاتے ہوئے چکرا کر وہ فارس پر ہی گری تھی ۔۔ یک دم سے حمنہ ہاتھ رکا تھا دھیان بٹا تھا ۔۔۔ فارس خود بری طرح سے بوکھلا گیا تھا ۔۔۔ نجمہ نرس نے لائبہ کو سنبھالا تھا ۔۔۔

” اسے اندر کس نے آنے دیا؟ ۔۔۔ نجمہ افضل لیکر جاؤں اسے باہر ” حمنہ کے سخت لہجے پر وہ دونوں لائبہ کو سنبھالتے ہوئے باہر لے گئے “

باقی کے اسٹیچز کمپلیٹ کر کے ۔۔۔ حمنہ نے ۔۔۔ فارس کو گھورا تھا

” اس لڑکی نے تو ابھی جوائن کیا ہے اسے آ پریشن تھیٹر میں آنے کی پرمیشن کس نے دی تھی ۔۔۔۔ تم نے یاڈاکٹر بیگ نے؟ ۔۔۔ وہیں واش بیسن سے ہاتھ دھوتے ہوئے نہایت سنجیدگی اور غصے سے وہ فارس سے پوچھ رہی تھی ۔۔ کیونکہ آپریشن کے لئے ایک ٹف اور سئنیر اسٹاف کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔ اس لئے کوئی بھی عام سے نرس یا بوائے وہاں بنا پرمیشن کے خود نہیں آ سکتا تھا ۔۔۔

” میں نے ہی دی تھی وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ آپریشن کیسے ہوتا ہے ۔۔۔ بار بار ضد کر رہی تھی مجھے کیا پتہ تھا کہ بے ہوش ہو جائے گی ” فارس حد درجہ شرمندہ ہو رہا تھا ۔۔ حمنہ ٹاول سے ہاتھ صاف کرتے ہوتے نہایت کڑے تیوروں سے فارس کو گھورا تھا

” تمہیں احساس ہے ہم یہاں کیا کرنے آتے ہیں ۔۔۔۔ آپریشن کے وقت ساری بات کنسٹرکشن کی ہوتی ہے ۔۔۔ ذرا سی بھی بھول چوک ایک انسان کی جان لے سکتی ہے شکر کروں کے جس وقت وہ بے ہوش ہوئی میں اسٹچیز لگا رہی تھی اگر کچھ دیر پہلے ہو جاتی تو توجہ بٹنے سے نا جانے کون سی نس مجھ سے ہی کٹ جاتی ؟

تم اتنے غیر ذمے کیسے ہو سکتے ہو فارس ۔۔۔۔۔ ہاؤ کڈ ٹو ڈو دس ” حمنہ جس قدر غصے میں تھی فارس اندر ہی اندر خود پر لعنت ملامت کر رہا تھا کہ اس بیوقوف لائبہ کی بات مانی ہی کیوں

” حمنہ ایم سوری ” فارس اپنی حرکت پر نادم تھا

” سوری ۔۔۔۔ تمہارے نزدیک ایک انسانی جان پر اس قسم کی حماقت کرنے کی تلافی صرف ایک سوری کے ۔۔۔ اگر تمہاری اس غلطی کی وجہ سے اس بچے کو کچھ ہو جاتا تو میں زندگی بھر تمہیں معاف نہیں کرتی خود جا کر تمہارے خلاف کیس کر دیتی ۔۔۔ ” غصے سے یہ کہتی ہوئی وہ آپریشن تھیٹر سے باہر نکل گئ تھی ۔۔۔۔۔

لائبہ کو تو بخار چڑھ گیا تھا ہوش میں آتے ہی چلانے لگی تھی ۔۔۔ ڈاکٹر بیگ کے ہاتھوں فارس کی اچھی خاصی کھچائی ہوئی تھی لائبہ کو مزمل صاحب ا کر اپنے ساتھ گھر لے گئے تھے دو دن سے حمنہ فارس سے بات تک نہیں کر رہی تھی ۔۔۔۔ تیسرے دن فارس دونوں بچوں کو شاپنگ کروانے کے بہانے زبردستی حمنہ کو بھی اپنے ساتھ بازار لے گیا ۔۔۔۔

” انکل اس بار میں بڑی والی ڈول لوں گی ” نور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے فارس کی گود میں بیٹھی۔ فرمائش کر رہی تھی ایمان برابر میں حمنہ کی گود میں بیٹھا تھا

” انکل مجھے اس بار گن چاہیے ۔۔۔ اور سپائیڈر مین بھی ” ایمان نے اپنی چوائس بتائی تھی

” ہاں ہاں چو چاہے لے لینا ۔۔۔ ” فارس کا سارا دھیان حمنہ پر تھا جو لا تعلق ہو کر کھڑی سے باہر دیکھ رہی تھی

” حمنہ ایم سوری یار ۔۔۔ آئندہ ایسی غلطی ہر گز بھی نہیں ہو گی ۔۔۔ موڈ تو ٹھیک کروں اپنا ” وہ دو دن سے اس کی منت سماجت کر رہا تھا

” تم کچھ دن مجھ سے بات ناہی کروں تو بہتر ہے ” حمنہ کے رویے میں ذرا بھی بدلاؤ نہیں آیا تھا

” یہ کہوں نا کہ فارس کچھ دن جینا چھوڑ دوں ۔۔۔۔ ” فارس کی بات پر اس نے خشمگیں نظروں اسے دیکھا تھا

” یہ ڈائیلاگ تم مجھے تو مت سنایا کروں ۔۔۔ تم سے میں اس قسم کی غلطی ایکسپکٹ ہی نہیں کر سکتی تھی فارس “

” کہا نا ایم سوری اب کیا کان پکڑ لوں اپنے” فارس نے اسٹیرنگ سے ہاتھ ہٹا کر کانوں کو ہاتھ لگایا

” فی الحال۔ تو گاڑی دھیان سے چلاؤں ورنہ بچوں کو لیکر یہیں اتر جاؤں گی ” آڑے ٹہرے راستوں پر وہ ڈرائیور کر رہا تھا ۔۔۔ وہاں بھی ذرا سی چوک موت کے گھاٹ اتار سکتی تھی ۔۔۔ پریشانی میں فارس سے غلطیاں ذیادہ ہی ہوتی تھیں ۔۔۔۔ اور اسوقت اسکی سب سے بڑی پریشانی حمنہ کی ناراضگی تھی ۔۔۔۔ کچھ دیر میں وہ لوگ مین مری کی مارکیٹ میں ایک بڑی سے شاپ پر رکھے تھے ۔۔۔۔ حمنہ نے کچھ گروسری کرنی تھی اور بچوں نے اپنے ٹووائز خریدنے تھے ۔۔۔۔۔

کافی دیر سے نور نظر نہیں آ رہی تھی ۔۔۔۔ فارس نے ہی نور کو پکارا تھا ۔۔۔۔

“نور کہاں ہو تم “

” آئی انکل ” نور نے وہیں سے آواز لگائی ۔۔۔۔

“او کے کیک والے انکل تھنک یو ” اصفر کا شکریہ ادا کرتے نور اپنی ڈال پکڑے وہاں سے بھاگتے ہوئے گئ ۔۔۔ اصفر مسکرانے لگا پھر اپنی ٹرالی لیکر کر کاؤنٹر پر جاتے ہوئے اس کے قدم تھمے تھے سامنے حمنہ کاؤنٹر پر فارس کے ساتھ کھڑی بل بنوا رہی تھی دونوں ہی آپس میں باتوں میں مگن تھے ۔۔۔۔ اصفر کو اپنے اندر کچھ ٹوٹ پھوٹ سی محسوس ہوئی تھی ۔۔۔۔ وہ پیچھے ہٹ جانا چاہتا تھا ۔۔۔ تا کہ حمنہ اسے وہاں دیکھ نا لے ۔۔۔۔ وہ تواپنی زندگی کا فیصلہ جیسے کر ہی چکی تھی اصفر کو ایک موقع تک نہیں دیا تھا کہ وہ اپنی صفائی میں کچھ کہہ سکے ۔۔۔۔ اس سے پہلے وہ ٹری بیک کرتا ۔۔۔۔ نور اور ایمان ہاتھوں میں کھیلونے پکڑے ان کے پاس پہنچے تھے ۔۔۔۔

” ممی ۔۔۔ ممی دیکھیں نا یہ ڈول کتنی کیوٹ ہے ۔بلکل نور کی طرح ۔۔۔۔ “نور حمنہ کواپنی ڈول دیکھا رہی تھی ۔۔۔ ایمان انکل انکل کہہ کر فارس کو اپنی گن اور سپائیڈر مین دیکھا رہا تھا ۔۔۔ پھر ممی کہتے ہوئے حمنہ کے پاس چلا گیا

” حمنہ تم ان دونوں کو گاڑی میں لیکر بیٹھوں میں۔ بل بنوا کر آتا ہوں ” فارس کے کہنے پر حمنہ بچوں کو دوکان سے باہر کر گئ ۔۔۔۔ اصفر کو لگا پتھر کا ہو گیا ہو ۔۔۔۔

“ممی ؟۔۔۔۔ حمنہ ۔؟۔۔۔۔۔ “