Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415

Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 15

644.1K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Noor-e-Emaan Episode 15

Noor-e-Emaan by Umme Hani

“سر آپ سے ملنے ایک صاحب آئے ہیں ۔۔۔ اپنا نام لیاقت چوہدری بتا رہے ہیں کہتے ہیں آپ کے اچھے دوست رہ چکے ہیں “

” لیاقت چوہدری ۔۔۔۔ یاد تو نہیں آ رہا چلو بھیجو انہیں۔۔۔ “اس وقت حسن کمال او پی ڈی سے فارغ ہوئے تھے جب ان کے پی اے انہیں پیغام دیا ۔۔۔۔

ابھی ذہن پر زور ڈال ہی رہے تھے جب اندر آنے والی شخصیت کے چہرے نے انہیں سب کچھ یاد دلا دیا تھا ۔۔۔۔

ان کے پرانے دوست تھے ۔۔۔۔ کئ اکڑ زمینوں کے مالک تھے ۔۔۔۔۔ ایک ہی بیٹا تھا جس کی آگے اولاد بھی حسن کمال کے بتائے گئے نئے جدید طریقے ٹیسٹ ٹیوٹ سے ہوئی تھی ۔۔۔۔

لیاقت چوہدری کو دیکھ کر حسن کمال کھڑے ہو کر خود اس سے بڑے پرتپاک طریقے سے ملے تھے ۔۔۔۔

وہ شخص پنچاب کے ایک گوٹھ کا چوہدری تھا دولت تو بہت تھی لیکن تھا چٹا ان پڑھ آگے بیٹا بھی ،زمینیں ہی سنبھالتا تھا ۔۔۔۔ حسن کمال نے لیاقت چوہدری کا بائے پاس کیا تھا ۔۔۔ اور بدلے میں لیاقت نے اسے لاہور کی ہائی سوسائٹی میں بنگلہ لے کر دیا تھا ۔۔۔۔۔

وہیں سے دوستی کی شروعات ہوئی تھی ۔۔۔ وہ شخص حسن کمال پر لاکھوں نہیں کروڑوں خرچ کرنے پر بھی گھبراتا نہیں تھا ۔۔۔۔

کچھ دیر تو پرانے وقتوں کی یادوں کو دہریا گیا ۔۔۔۔ پھر اصل مدعے پر بات شروع ہوئی

” حسن میرے ہر مسلے کو تو نے چٹکیوں میں حل کیا ہے ۔۔۔ اس بار بھی بڑی آس لیکر آیا ہوں تیرے پاس “وہ شخص پر امید سا تھا

” حکم کریں چوہدری صاحب ” حسن کمال کا لہجہ شیرنی ٹپکا رہا تھا

” میرا پوترا بڑا بیمار ہے بارہ سال عمر ہو گئ ہے اسکی ۔۔۔۔۔ ڈاکٹر کہتے ہیں دونوں گردے۔ خراب ہو گئے ہیں۔۔۔ اگر گردہ نا بدوایا تو وہ مر جائے گا ۔۔۔۔ “لیاقت چوہدری کی آنکھوں میں آنسوں چمکنے لگے تھے

” پریشان کیوں ہو رہے ہیں میں یہ کام بھی کروا دوں گا۔۔۔۔ ” حسن کمال کے لئے تو جیسے سب کچھ ممکن تھا

“حسن میرے بیٹے اور بہو کے ٹیسٹ اس بچے سے میچ نہیں کرتے اس لئے ماں باپ گردہ نہیں دے سکتے اور ۔میری اب اتنی عمر نہیں رہی ۔۔۔ ورنہ اپنے جگر کے ٹکڑے پر یہ بھی وار دیتا

” جی سمجھ سکتا ہوں ۔۔۔آپ فکر مت کریں اپنے پوتے کو یہاں لے آئیں اسکے سارے ٹیسٹ میں اپنی زیر نگرانی میں کروانے گا ۔۔۔۔میرے پاس بہت سے مریض آتے ہیں دیکھوں گا اگر کسی کا گردہ میچ کر گیا تو ۔۔۔ سمجھے مسلہ حل ہو جائے گا ” بڑا اطمینان بھرا جواب تھا

” لیکن کوئی اپنا گردہ کیوں دے گا

” ارے بہت سے لوگ بیچنے آتے ہیں ۔۔۔۔ بس سب کی اپنی اپنی مجبوری ہوتی ہے ۔۔۔۔ آپ آم کھائیں چوہدری صاحب پیڑ کیوں گنتے ہیں ۔۔۔ پہلے بھی تو آپ کو پوتے سے نوازا ہے اب اسے زندگی کی نوید بھی حسن کمال ہی سنائے گا ۔۔۔۔ “وہی غرور وہی گھمنڈ وہ متکبرانا سوچ جیسے وہ نا خدا ہو

” اگر ایسا ہو جائے حسن تو ایک بلینک چیک میں تحفے کے طور پر تمہیں دونگا ۔۔۔ “

حسن کمال کے چہرے کی مسکراہٹ ۔۔۔ گہری ہوئی تھی ۔۔۔۔

لیاقت نے تیرا سال پہلے جب یہ حسن کمال سے کہا کہ بیٹے کی شادی کو سات سال بیت گئے ہیں پر اولاد سے محروم ہیں وظائف تعویز گنڈے سب کچھ آزما لئے مزاروں پر منتیں مان لیں ڈاکٹر حکیم سب آزما لئے لیکن اولاد نہیں ہوئی ۔۔۔

” ان سب کی ضرورت کیا تھی۔ چوہدری صاحب

حسن کمال کو یاد کر لینا تھا ۔۔۔۔ “وہی لاپروا داز جیسے سب اپنے اختیار ۔میں ہے

“ایک نیا علاج چلا ہے ٹیسٹ ٹیوب بے بی ۔۔۔۔ سو فیصد کامیاب ہے ۔۔۔ “حسن نے چوہدری کو بتایا

“یہ کیسا علاج ہے “

” ہے ایک طریقے کار آپ کو دس بار بھی سمجھاؤں تو سمجھ نہیں پاؤں گئے ذرا پڑھے لکھے ہی سمجھ سکتے ہیں ۔۔ بس مجھ پر بھروسہ ہو تو ہیٹے اور بہو کو لے آنا ضروری ٹیسٹ کروا لوں گا ۔۔۔ سب کچھ ہو جائے گا ۔۔۔۔ لیاقت دوسرے ہی دن بہو بیٹے کو لے آیا تھا ۔۔۔ خاتون کے سارے ٹیسٹ ٹھیک تھے بس بیٹے میں اولاد پیدا کرنے صلاحیت نہیں تھی۔۔۔۔ جب یہ بات چوہدری کو معلوم ہوئی تو ۔۔۔۔ یہ خبر اپنی اہانت سی لگی بیٹا تو بھڑک ہی اٹھا کہ ڈاکٹر کا دماغ خراب ہو گیا ہے ۔۔۔۔ مرد سے کہاں بات برداشت ہوتی ہے ۔۔۔۔ ۔۔ یہی حال لیاقت اور اسکے بیٹے کا تھا

“حسن اگر یہ بات میرے خاندان ۔میں پھیل گئ تو ساری جائیداد غیروں میں چلی جائے گی ۔۔۔ پھر میرے بیٹے کو طعنے دے دے کے لوگ جینے نہیں دیں اب تو عزت اور غیرت کا مسلہ ہے ۔۔۔ کچھ بھی کروں لیکن اولاد ہونی چاہیے

” ایک طریقہ ہے تو کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا بچہ بھی بہو کو ہو گا ۔۔۔ اگر کہوں تو میں کروا دیتا ہوں علاج۔۔۔۔لیکن چیک دو کڑور لوں گا ” سگار ہاتھ میں لئے اس نے اپنی ڈیمانڈ بتائی تھی

” ارے پیسوں کی فکر مت کر تو بس علاج کر ۔۔۔۔ “

پھر ایسا ہی ہوا تھا ۔۔۔۔ پیسوں کی خاطر ایک غیر مذہبی طریقہ آزمایا گیا تھا ۔۔۔۔ لیاقت کی بہو امید سے تو ہوگئ لیکن کسی اور کے بچے کی۔۔۔ نا اسکی بہو کو خبر کہ وہ کس کی ماں بن رہی ہے نا چوہدری اور اسکے بیٹے کو پتہ ۔۔۔۔ بس ڈاکٹروں نے اپنا تجربہ کامیابی سے آزمایا تھا ۔۔۔۔ لیاقت نے خوش خبری ۔ملتے ہی دو کے بجائے ڈھائی کڑور کا چیک حسن کو دیا تھا ۔۔۔۔

*****۔۔۔۔۔۔۔۔

لاہور کے قریبی گاؤں سے عبدالباری کے والدین اسے چیک اپ کے لئے اسی ہاسپٹل میں لائے تھے ناف کے ذرا نیچے الٹی جانب درد کی وہ اکثر شکایت کرتا تھا ۔۔۔۔

گاؤں کے کسی ڈاکٹر نے کہا اپنڈکس کا درد ہے جلدی سے شہر جاکرآپریشن کروا لو ورنہ اکلوتے بیٹے سے ہاتھ دھو بیٹھوں گئے ۔۔۔۔ “عبد الباری کے والد نے

اپنی زمین کا چھوٹا سا ٹکڑا جس پر اسکا گزر بسر تھا وہ بیٹے کی خاطر بیچا اور بیٹے کو لاہور علاج کے لئے لے آیا تھا۔۔۔۔ پیٹ کی درد کی شکایت تھی اس لئے اس کا کیس اصفر ہی ہینڈل کر رہا تھا اسی بچے کو چیک کر رہا تھا ۔۔۔۔۔ جب اچانک سے حسن کمال اصفر کے کیبن میں آئے تھے ۔۔۔ بچہ لگ بھگ بارہ سال کا تھاصحت میں بہت اچھا تھا ۔۔۔ اصفر اس کے والد کو چند ٹیسٹ لکھ کر دے رہا تھا باپ کا حلیہ ایک کسان جیسا تھا میلی سے سفید دھوتی کے اوپر ہلکے پیلے رنگ کا کرتی کندھے پر رومال ہلکی سے سفید دھاڑی پاؤں ذراسی ٹوٹی چپل ۔۔۔ بیٹا بھی فروزی شلوار قمیض پہنے اصفر کے سامنے بیٹھا تھا ۔۔۔۔ اصفر اسے لیٹا کر اچھی طرح سے چیک کر چکا تھا اب صرف ڈسکرپشن پیپر پر قلم چلا رہا تھا

” مجھے نہیں لگتا کہ اپنڈکس کا درد ہے ۔۔۔لیکن شک دور کر لینا چاہیے ۔۔۔ آپ یہ کروا لیں پھر ہی کچھ بتا سکتا ہوں ” اس نے ٹیسٹ پیپر اس شخص کے ہاتھ میں پکڑایا

” ڈاکٹرصیب ہم گاؤں سے آئے ہیں اپنی زمین بیچ کے ۔۔۔ میرا اکلوتا پتر ہے عبدالباری۔۔۔ دیکھ اس کا ٹھیک ٹھیک علاج کرنا ۔۔۔۔ اگر یہ بھلا چنگا ہو گیا تو اپنے گاؤں کی خالص گھی کی پنجیری بھیجوں گا آپ کو ۔۔۔ ” بچے کا باپ بہت فکر مند تھا ۔۔۔ اور گاؤں کا سادہ لوح انسان تھا سمجھتا تھا کہ ڈاکٹر کے ہاتھ میں مریض کی زندگی ہے۔۔۔

” آپ دعا کریں کے رپوٹسں ٹھیک ائیں۔۔۔ “

” وہ تو ہر سانس کے ساتھ کرتا ہوں جی ۔۔۔ ایسا کریں ہمیں کمرہ یہیں۔ لے کر دیدیں میرا لاہور میں کوئی اپنا نہیں ہے سب گاؤں میں ہے ۔۔۔ پھر یہ بار بار پیٹ میں درد کی شکایت کرتا ہے ۔۔۔ میں کہاں اسے بار بار یہاں لاؤں گا”

” ٹھیک ہے آپ رپرسپشن پر بات کر لیں “

” اوہ وہ کیا ہوتا ہے جی ” وہ شخص پوچھنے لگا

“جہاں سے آپ نے میرے پاس آنے کی یہ پرجی بنوائی ہے وہاں جا کر کہیں ۔۔۔ بلکہ رکیں میں لکھ دیتا ہوں ۔۔۔ آپکے لئے آسانی ہو جائے گی ۔۔۔۔ ” اصفر کے ایک پیپر پر پوری تفصیل لکھ دی ۔۔۔۔۔

وہ شخص بجے کو۔ لیکر چلا گیا ۔۔۔۔

حسن کمال کی نظر اس بچے پر ہی ٹکی ہوئی تھی بارہ سال کی عمر میں بھی اس کی صحت قابل رشک تھی ۔۔۔

” جی ڈیڈ ” اصفر کے پکارنے پر وہ متوجہ ہوئے تھے پھر جس کام کے لئے آئے تھے وہ پوچھ کر چکے گئے عبدالباری کے باپ نے ایک پراویٹ روم لیا تھا ۔۔۔ اصفر کے کہنے پرنرس نے ایک پین کلر ڈرپ میں ڈال کر لگا دی تھی۔۔۔ تا کہ رات کچھ بہتر گزر جائے گھر جانے سے پہلے حسن کمال اس بچے کے کمرے میں چلے گئے اس کے والد سے یہی کہا کہ وہ اس بچے کو چیک کرنے آئے ہیں ۔۔۔ مزید کچھ ٹیسٹ لکھ کر انہیں کہا یہ سب کروا کر انکے روم میں چیک کروائیں ۔۔۔۔

*******…….

“اصفر کیا ہوا ہے میری امی کو ” حمنہ کی جان لبوں پر آئی تھی ۔۔۔

” حمنہ پلیز پریشان مت ہو ۔۔۔ جا کر دیکھتے ہیں کیا ہوا ہے ۔۔۔ ” وقتی طور پر دونوں اپنی لڑائی بھول بیٹھے تھے ۔۔۔۔ جب گھر پہنچنے تو آس پڑوس کی خواتین انہیں ہوش دلانے کی کوشش کر رہیں تھیں اصفر نے فورا سے نبض چیک کی تھی حمنہ تو بے تحاشہ رونے لگی تھی اس وقت اس پوزیشن میں نہیں تھی کہ ماں کو چیک کر سکے ۔۔۔ محلے کے چند لڑکوں کے ساتھ ملکر اصفر نے انکی گاڑی کی بیک سیٹ پر لیٹایا ۔۔۔۔ حمنہ کے ساتھ ہی وہ اپنے ہاسپٹل پہنچا تھا ۔۔۔۔ انہیں ہارٹ اٹیک ہوا تھا ۔۔۔۔ حمنہ کا رو رو کے برا حال تھا وہ اب تک ہوش ۔میں نہیں آئیں تھیں ۔۔۔ ۔۔۔ دھڑا دھڑ اصفر انکے ٹیسٹ کروا رہا تھا ٹرٹمنٹ بھی بہترین کی جا رہی تھی ۔۔۔ دل کی ساری نسیں بلاک کو چکیں تھیں آپریشن ہی واحد حل تھا جو چند دنوں کے اندر ہو جاتا ۔۔۔۔ اصفر جب آئی سی یو سے باہر آیا تو حمنہ ایک کونے میں جائے نماز بچھائے سجدے میں رو رہی تھی ۔۔۔ اسکی ماں اس کے لئے سب کچھ تھی ۔۔۔۔اسے کھونے کا حوصلہ اس میں نہیں تھا سجدے میں رب سے اپنی ماں کی لمبی عمر کی دعا کر رہی تھی ۔۔۔ اصفر چلتے ہوئے اس کے پاس پہنچا تھا۔۔۔ نیچے پنجوں کے بل بیٹھ گیا

” حمنہ ” بڑے پیار سے اس نے پکارا تھا حمنہ نے سجدے سے سر اٹھایا ۔۔۔۔ چہرہ آنسوں سے تربتر تھا

” ہمت سے کام لو کیا ہو گیا ہے تمہیں ۔۔۔ ٹھیک ہو جائیں گی وہ بی پی کافی حد تک کنٹرول ہو چکا ہے اب تو ہارٹ بیٹ بھی ٹھیک چل رہی ہے ۔۔۔ ” بڑی اپنایت سے وہ بات کر رہا تھا دکھ ہی ایسا تھا اس وقت تو قابل رحم حالت میں تھی ۔۔۔ ایک پل بھی اس کے آنسوں نہیں رک رہے تھے ۔۔۔۔

” اصفر ۔۔۔ وہ بچ تو جائیں گئیں نا ؟…انہیں کچھ ہو گا تو نہیں نا ؟۔۔۔ آپ جانتے ہیں میں امی کے بغیر نہیں رہ سکتی ۔۔۔ ” اصفر کے ساتھ لگ کر وہ رونے لگی تھی آنکھیں تو اسکی بھی نم تھیں جتنا وقت بھی اصفر کا حمنہ کی والدہ کے ساتھ گزرا تھا بہت اچھا گزرا تھا ۔۔۔۔ حمنہ کو ساتھ لگائے وہ بہلانے لگا تھا ۔۔۔

” بلکل ٹھیک ہو جائیں گی ۔۔۔ ڈیڈ ہیں نا خود آپریشن کریں گئے انکا ۔۔۔۔ دیکھ لینا چند دن میں اٹھ کر بیٹھ جائیں گئیں۔۔۔۔ تم اکیلی تو نہیں ہو یار

میں ہوں نا تمہارے ساتھ ۔۔۔ ڈیڈ ہیں ہم سب ہیں ۔۔۔ چلو اب اٹھو کچھ کھا لو ۔۔۔۔رات سے پانی تک نہیں پیا ہے تم نے “” بہت اپنایت سے وہ حمنہ سے بات کر رہا تھا ۔۔۔ اسے جائے نماز سے کھڑا کیا

” نہیں مجھے بھوک نہیں ہے پیاس بھی نہیں لگی ۔۔۔۔ ” وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔۔۔ اسی وقت اصفر کی والدہ وہاں پہنچ گئیں حمنہ انکے گلے لگ کر رونے لگی

” بس بس بیٹا چپ ہو جاؤں ۔۔۔ مجھے تو صبح اصفر کی کال آئی ہے سن کر مجھ سے رہا نہیں گیا ۔۔۔ اس لئے فورا سے حسن کے ساتھ ہی آگئ ۔۔۔۔ تم فکر مت کرو۔ ٹھیک ہو جائیں گی تمہاری امی ” حمنہ کو ساتھ لگائے وہ بہت محبت سے کہہ رہی۔ تھیں ۔۔۔۔

” موم میں بھی اسے یہی سمجھا رہا ہوں ۔۔۔ نا کچھ کھا رہی ہے پی رہی ہے بس روئے جا رہی ہے ۔۔۔ آپ ہی سمجھائیں اسے “اصفر نے اپنی والدہ سے کہا

” تم جاؤں چائے اور سنڈویچ منگواں میں خود اپنی بیٹی کو کھلاتی ہوں ۔۔۔۔ ” اصفر کی والدہ حمنہ کے آنسوں پونچتے ہوئے کہا

” نہیں موم مجھ سے کچھ نہیں کھایا جائے گا ۔۔۔ ” حمنہ نے انکار کیا تھا

“حمنہ بیٹا ایسے تو نہیں کرتے نا تم خود ڈاکٹر ہو ۔۔۔ اتنا چھوٹا حوصلہ تو نہیں ہونا چاہیے تم کھاؤں گی ٹھیک رہو گی جبھی اپنی امی کو بھی سنبھال سکو گی ۔۔۔۔ ” اصفر کی والدہ نے خود اسے ناشتہ کروایا تھا ۔۔۔۔ بہت دیر تک اسکی دل جوئی کرتی رہیں بڑی مختلف مزاج کی خاتون تھیں حسن کمال سے بلکل مختلف ۔۔۔ احساس کرنے والی ۔۔۔ محبت کرنے والی ۔۔۔ ان پانچ سالوں میں۔ انہوں نے نا تو حمنہ کی زندگی میں آج تک دخل اندازی دی تھی نا کبھی دعا کو ہی کچھ کہا تھا ۔۔۔۔

حسن کمال نے اصفر کو اپنے کمرے میں بلوایا تھا حمنہ کی والدہ کی ساری رپورٹس ان کے سامنے رکھیں ہوئیں تھیں ۔۔۔۔

” ڈیڈ مے آئی۔ ان ” اصفر نے دروازہ ناک کر کے اجازت مانگی

” اوہ یس اندر آؤں ” حسن کمال سگار پیتے ہوئے ریوالونگ چیر سے ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے اسی حالت میں بیٹھے رہے اصفر اندر آکر انکے سامنے کرسی پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔

“ڈیڈ آپ نے رپورٹس دیکھیں ۔۔۔۔ ؟”اصفر کو لگا کہ حسن کمال حمنہ کی والدہ کے متعلق بات کرے گئے

” اس کے علاؤہ کیا سب ختم ہو چکا ہے کوئی کام نہیں ہے ۔۔ تم ابھی تک او پی ڈی میں کیوں نہیں گئے ” لہجہ سخت ہوا تھا

” ڈیڈ آپ جانتے تو ہیں کہ اس وقت۔ ہم سب کس ٹریجڈی سے گزر رہے ہیں ۔۔۔ “۔اصفر نے تاسف سے باپ کو دیکھا تھا

“واٹ آ ربش اصفر ۔۔۔۔ اب تم کیا چاہتے ہو سارا ہاسپٹل چھوڑ کر سارے اسٹاف اور ڈاکٹر تمہاری ساس کی خدمت گزاری میں لگ جائیں ۔۔۔۔ ” وہ سخت لہجے سے بولے

” لیکن ڈیڈ “

“ڈونٹ ایکسکیوز جاؤں تم جا کر ڈیوٹی دو اپنی اور حمنہ کو میرے پاس بھیجوں ۔۔ رپورٹس میں دیکھ چکا ہوں ۔۔۔۔ بس کچھ پیپرز پر اس کے سائن چاہیے آج ہی اسکی والدہ کا سیزر کر دونگا ۔۔۔۔ ڈونٹ وری ” اصفر کی ساری خفگی والد کے آخری جمعلے سے ختم ہو گئ تھی ۔۔۔۔

” تھنکس ڈیڈ۔۔۔ لو یو سو مچ ” وہ خفیف سا مسکرایا تھا

“او کے ۔۔۔ او کے ۔۔۔ جاؤں اب ” بڑا لاپروا اور معدافعانہ انداز تھا ۔۔۔۔۔

کچھ دیر بعد حمنہ اجازت طلب کر کے اندر آئی تھی ۔۔۔۔ سوجی سرخ آنکھیں چہرے پر پژمردگی۔۔۔۔ بے بس سی۔۔۔ بے حال سی ۔۔۔ اسے اس بکھری حالت میں دیکھ کر حسن کمال کی انا کو جیسے بڑی تسکین ملی تھی ۔۔۔۔

ہمدری کس چڑیا کا نام ہے یہ حسن کمال کہاں جانتا تھا ۔۔۔۔

“آؤں حمنہ ہیو آ سیٹ ” وہی فارمل سا رویہ حمنہ سامنے کرسی پر بیٹھ گئ۔۔۔۔

ایک بار بھی سر پر ہاتھ رکھ کر یہ نہیں کہا تھا کہ پریشان مت ہو ہم ہیں تمہارے ساتھ ۔۔۔۔ لیکن ایسا تکلف سامنے بیٹھے شخص نے بلکل نہیں برتا تھا

حمنہ کے آنسوں اب بھی بہہ رہے تھے

” حمنہ تمہاری والدہ کی رپورٹس میں پڑھ چکا ہوں تمہیں جھوٹے دلاسے بلکل بھی نہیں دوں گا ۔۔۔ اس کام کے لئے اصفر اور اسکی موم ہی کافی ہیں ۔۔۔ اور تم ایک عام عورت تو ہو نہیں ۔۔۔ جسے تسلیوں کی ضرورت ہو ۔۔۔۔ ڈاکٹر ہو سمجھدار ہو ۔۔۔” بڑا لیا دیا انداز تھا حمنہ چپ ہی رہی اس وقت تو بے بس اور مجبور تھی

“اب اصل بات کی طرف آ جاتے ہیں ۔۔۔ تمہاری والدہ کا آپریشن جتنی جلدی ہو جائے اتنا ہی انکے لئے بہتر ہے ۔۔۔ “

“جی میں جانتی ہوں ” وہ گوگیر لہجے سے بولی

اگر تم میرے ہاسپٹل میں ایز آ ڈاکٹر ہوتی تو میں ضرور اپنی فیس میں توسیع کر دیتا یا کمی کر دیتا ۔۔۔۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے تو امید بھی مت رکھنا ” حمنہ نے بڑی حیرانگی سے حسن کمال کی جانب دیکھا تھا ۔۔۔۔ کس قسم کا شخص تھا ۔۔۔ انسانیت پاس سے نہیں گزری تھی

“پھر تم اصفر سے خلع بھی لینا چاہتی ہو مطلب مجھے رشتے داری کا پاس بھی رکھنا نہیں پڑے گا ۔۔۔۔ ویسے یہ بہت اچھا ڈسیزجن ہے تمہارا ۔۔۔۔ میں بہت خوش ہوں تمہارے اس فیصلے سے ۔۔۔گڈ ” حسن کمال جیسے حمنہ کی بدلتی رنگت اور کیفیت سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔۔۔۔

“آپ اپنی فیس بتائیں ” بڑے مشکل سے اپنے آنسوں پر ضبط باندھے کر وہ بولی تھی

” دس لاکھ ۔۔۔ ویسے تو میں بارہ سے کم نہیں لیتا لیکن چلو تم دس ہی دے دو “احسان جتانے والا انداز تھا ۔۔۔

“ریسپشن پر جمع کروا دو تو میں ایک گھنٹے میں آپریشن کر دوں گا ۔۔۔۔ ” حمنہ کو لگا ہے سی گراہیں گلے میں پڑی ہوں

“ابھی تو میرے پاس نہیں ہیں ۔۔۔ لیکن میرااپناگھر ہے کلینک ہے میں وہ بیچ کر آپکی فیس چکادوں گی ۔۔۔ “

” گھر نا جانے کب بکے گا یہ بات مہینوں پر چلی جائے گی ۔۔۔۔ کیا ہے نا حمنہ کہ میں آدھار بلکل نہیں رکھتا کیش اینڈ ہینڈ پر یقین رکھتا ہوں “

” میں وعدہ کرتی ہوں آپ سے میں دس کے بجائے بارہ لاکھ ادا کر دوں لیکن اس وقت میری امی کی جان بچانا بہت ضروری ہے میں آپکے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں اس وقت میری والدہ کو بچا لیں ” حمنہ کے جوڑے ہوئے ہاتھ دیکھ تو حسن کمال کا دل جھوم سا گیا تھا ابھی کچھ دن پہلے یہ لڑکی اکڑتی ہوئی اس کے پاس سے گئ تھی ۔۔۔۔ اور آج کیسے وقت اسے اسی کے سامنے ہاتھ جوڑنے پر مجبور کر رہا تھا

حسن کمال کا جی تو چاہا کہ قہقے مار کے ہنسے ۔۔۔ اسکی بے بسی پر ۔۔۔۔۔

“اگر میں یوں بھلا کرنے لگ گیا تو چلا لیا میں نے اپنا ہاسپٹل ۔۔۔۔

میں حسن کمال تمہیں زبان دیتا ہوں تم میری قیمت ابھی ٹیبل پر رکھو تمہاری ماں کی زندگی کی گارنٹی میں تمہیں دیتا ہوں ۔۔۔۔کل زندہ سلامت ہوش وہوس میں ملے گی تمہیں “

” پلیز ڈیڈ میری بات کا بھروسہ کریں ۔۔۔ میں آپ کی ایک ایک پائی واپس کر دوں گی ۔۔۔ لیکن ابھی میرے پیسے نہیں ہیں ” گرم گرم آنسوں بے بسی سے بہے تھے

” نو نو حمنہ ۔۔۔۔ اس وقت میں ڈیڈ نہیں ہوں تمہارا ایک ڈاکٹر ہوں

مجھ سے پروفشنل انداز میں بات کرو ۔۔۔۔۔ ایک اور بھی آپشن ہے میرے پاس تمہارے لئے اگر تم مان لو تو فیس بھی نہیں مانگوں گا تم سے اور تمہاری ماں کی زندگی کی گارنٹی بھی اپنی جگہ قائم رہے گی ۔۔۔۔”

“کیسا آپشن ” وہ ہاتھ سے آنسوں پونچتے ہوئے بولی

“ایک آپریشن کرنا پڑے گا ” حسن کمال کی بات اسے اتنی بھی بری نہیں لگی آپریشن کوئی نئ بات تو نہیں تھی حمنہ کے لئے

“مجھے منظور ہے ” حمنہ نے برجستہ جواب دیا

” پہلے میری بات مکمل ہونے دو ” حسن کمال نے اسے ہاتھ سے ٹوکتے ہوئے کہا

” ایک بارہ سالہ بچے کااپریشن کرنا پڑے گا ۔۔۔ بظاہر یہ ایک اپینڈکس آپریشن ہو گا ۔۔۔ لیکن اصل میں اسکی لفٹ کڈنی نکالنی ہے ڈاکٹر ارشد تمہارے ساتھ ہوں گئے یہ کام جتنی رازداری سے ہو گا اتنا ہی تمہاری والدہ کے لئے بہتر ہے اس بچے کی فیملی کو یہی لگنا چاہیے کے آپریشن اپینڈکس کا ہوا ہے ” یہ بات سن کر جیسے حمنہ کا ہوش اڑا تھا

” آپ مجھے کڈنی چوری کرنے کے لئے کہہ رہے ہیں کیسے کر سکتے ہیں آپ سب ۔۔۔۔ میں یہ ہر گز نہیں کروں گی ” حمنہ نے صاف انکار کیا تھا

“او کے پھر اپنی والدہ کو مرتے ہوئے دیکھوں ۔۔۔اور دس منٹ کے اندر لے جاؤں اسے یہاں سے کل رات سے اب تک کا بل بیس ہزار بھر کے جانا یہاں سے ۔۔۔ اور یہ بھی اچھی طرح سے جان لو کہ آئی سی یوں میں جو ٹرٹمنٹ تمہاری ماں کو مل رہا ہے ۔۔۔۔ اگر چند لمحے کے لئے۔ بھی روکا گیا تو

She mey even die

تمہارے پاس وقت نہیں ہے حمنہ ۔۔۔۔ تمہاری تاخیر تمہاری ماں کی جان لے سکتی ہے اچھی طرح سے سوچ لو ۔۔۔۔۔ “یہ کہہ کر ایک پیپر حسن کمال نے حمنہ کے سامنے ٹیبل پر رکھا تھا

دس منٹ ہیں تمہارے پاس اگر آپریشن کرنے کاارادہ ہو تو یہاں سائن کر دو ۔۔۔۔ ورنہ دس منٹ بعد تمہاری ماں کا ٹرٹمنٹ روک دیا جائے گا انکی موت کی زمہ دار تم ہو گی ہم نہیں ۔۔۔۔۔۔ “

حمنہ چپ گم صم سی بیٹھی تھی ایک طرف ماں تھی جو اسکاواحد سگا خون کا رشتہ تھی سہارا تھی ۔۔۔ دوسری طرف گناہ ۔۔۔۔۔ ایک معصوم بچے کے ساتھ بہت بڑی ذیادتی ۔۔۔۔۔ شش وپنج میں وہ مبتلہ ہوئی تھی ۔۔۔۔۔

******……

لیاقت چوہدری کے جاتے ہی حسن کمال کی نظر ایسے مریضوں پر تھی جو گاؤں قصبوں سے علاج کروانے آئے تھے اور بیوقوف اور ان پڑھ تھے ۔۔۔۔ ایسے لوگوں کو دھوکا دینا آسان تھا کیونکہ جب تک انہیں آگاہی ہوتی ہے بات پرانی ہو چکی ہوتی ہے اور ایسے لوگوں کو مطمئن کرنا بھی آسان ہوتا ہے

اتفاق یہ تھا کہ سب مریضوں میں سے عبدالباری کا بلڈ گروپ اور باقی کے ٹیسٹ چوہدری لیاقت کے پوتے سے میچ ہوئے تھے ۔۔۔۔۔

حسن کمال نے پہلے تو اس بچے کا کیس اصفر سے لیکر ڈاکٹر راشد کو دیاتھا ۔۔۔

” ڈیڈ یہ ڈاکٹر راشد کا کیس نہیں ہے وہ کڈنی اسپشل ہیں ۔۔۔ ” جب حسن کمال نے اصفر سے عبدالباری کے بارے میں بات کی تو اس نے صاف منع کیا تھا

” جس جگہ وہ بچہ پین کی شکایت کر رہا ہے مجھے اپینڈکس ہی لگ رہا ہے اور یہ سیزیر راشد کر سکتا ہے

” نو ڈیڈ مجھے نہیں لگتا ۔۔۔۔ اپینڈکس کی پین لفٹ سائیڈ پر نہیں ہوتی رائیڈ سائیڈ پر ہوتی ہے ۔۔۔ اور بہت شدت سے ہوتی ہے ۔۔۔۔ اور کڈنی ایشو بھی نہیں ہے ۔۔۔۔آئی تھنکس small intestine کا مائنر سا ایشو ہے ۔۔۔ میڈسن سے ہی کور ہو جائے گا ۔۔۔۔ ” اصفر نے اپنا خدشہ بتایا تو کافی حد تک درست تھا

” تم اس کیس کو چھوڑ دو راشد ہینڈل کر لے گا” حسن کمال کے حتمی انداز پر اصفر نے کندھے اچکائے تھے ۔۔۔۔ حسن کمال کا اصل مقصد کچھ اور تھا

حمنہ نے اب تک جتنے آپریشن بھی ہاسپٹل میں کیے تھے ۔۔۔۔ ان میں سے ایک بھی نا کام۔نہیں ہوا تھا حالانکہ کہ وہ گائناکالوجسٹ نہیں تھی لیکن دعا کے ہاتھوں بگڑے کیس بہت طریقے سے سنبھال چکی تھی ۔۔۔۔ ڈاکٹر راشد کے اکیلے کے بس کی بات نہیں تھی یہ آپریشن کرنا ۔۔۔۔ اور قدرت نے یہ موقع حسن کمال کو دے دیا تھا جس سے وہ حمنہ کی مجبوری کا فایدہ اٹھا سکتے تھے

*****……..

لائبہ پروایٹ روم میں ڈرپ چینج کرنے آئی وہاں ایک پندرہ سالہ بچی ایڈمٹ تھی ۔۔۔ لائبہ کے اندر داخل ہوتے ہی اس بچی نے اپنے آنسوں پونچے تھے ۔۔۔۔ بڑی نروس سی تھی ۔۔۔۔

“کیا بات ہے ۔۔۔۔ اتنی بڑی ہو کر انجیکشن لگوانے سے ڈر لگ رہا ہے ” سرنج میں انجیکشن بھرتے ہوئے لائبہ نے مسکرا کر پوچھا ۔۔۔۔ وہ گھبراتے ہوئے سر نفی میں ہلانے لگی

“پھر کیا بات ہے ۔۔۔۔ اتنی خوفزدہ کیوں لگ رہی ہو ” لائبہ اس کے بازو پر انجیکشن لگاتے ہوئے بولی ۔۔۔

” کچھ نہیں آپی ۔۔۔۔ امی پورا دن کے لئے گھر چلی جاتی ہیں میں اکیلی ہوتی ہوں ۔۔۔۔ ” لائبہ اسکی بات سن کر مسکرائی تھی اب اس کے منہ میں تھرما میٹر لگائے ہاتھ میں بندھی گھڑی سے ٹائم نوٹ کر ے لگی

” تو کس نے کہا تھا پراویٹ روم لینے کو سمی پراویٹ لے لیتی تا کہ ساتھ والی مریضہ سے غیبت چغلی کرنے کا موقع بھی مل جاتا دل بھی لگا رہتا “لائبہ نے بات مزاق میں ٹالی تھی لیکن وہ اس قدر گھبرائی ہوئی تھی کہ مسکرا بھی نہیں سکی تھرما میٹر دیکھ اس۔ ے فسحل پر ریڈنگ لکھی پھر اس کا بلڈ پریشر چیک کرنے لگی وہ ںی نارمل تھا اسکی ریڈنگ بھی فائنل پر لکھ کر اس نے فائنل بند کی

” چلو میری ڈیوٹی ختم ہو چکی ہے ۔۔۔۔ ادھاگھنٹہ میں تمہیں وقت دے دیتی ہوں کیا یاد کروں گی کس سخی سے پالا پڑا تھا ” اسکی ڈرپ چینج کر کے وہ اس کے بیڈ کے ساتھ رکھی کرسی پر بیٹھ گئ ۔۔۔ ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگی کہ اچانک بنا ناک کیے ایک ڈاکٹر کمرے کے اندر داخل ہوا۔۔۔ لائبہ کو دیکھ کر یک دم گھبرا گیا تھااور وہ بچی اس ڈاکٹر کو دیکھ کر بد حواس ہوئی تھی ۔۔۔ لائبہ ڈاکٹر کو دیکھ کر احتراماً کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔۔۔

” آپ اسوقت یہاں “

“یس سر میری ڈیوٹی آف ہو چکی ہے اس لئے سوچا یہ بور ہو رہی ہیں تو ذرا گپ شپ لگا لوں ” لائبہ نے مسکرا اس بچی کو دیکھا جو ڈاکٹر کو دیکھ حد درجہ نروس ہو رہی تھی

” ٹھیک ہے ابھی باہر جاؤ مجھے اس بچی کو چیک کرنا ہے “وہ ڈاکٹر چالیس سال کے لگ بھگ تھا ۔۔۔ بچی کو بڑی عجیب نظروں سے دیکھ رہا تھا جیسے ڈرانا چاہتا ہو

“ٹھیک ہے تو کر لیں ۔۔۔ لیکن میرے باہر جانے کا کیا جواز ہے ۔۔۔ میرے سامنے چیک کر لیں ۔۔۔ یہ انکی فائل ہے ۔۔۔ بی پی ٹمپریچر بھی نارمل ہے ۔۔۔ ” لائبہ نے فائل آگے کر دی لیکن جن نظروں سے وہ اس بچی کو دیکھ رہا تھاوہ سہم سی گئ تھی سرسری سی نظر فائل پر ڈال کر وہ باہر نکل گیا اسکے باہر جاتے ہی وہ بچی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔

لائبہ کچھ متحیر سی ہوئی تھی ۔۔۔ ایسی کیا بات تھی کہ وہ ڈاکٹر سے اتنا گھبرا رہی تھی ۔۔۔