Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 5
Rate this Novel
Noor-e-Emaan Episode 5
Noor-e-Emaan by Umme Hani
چند دن تک تو اصفر حمنہ کی ہر بات مانتا رہا کہ ایک حد تک وہ اسکی نظر اچھا بن جائے اور کافی حد تم کامیاب بھی ہوا تھا ۔۔۔ اب تو حمنہ اسٹاف سے کہہ دیتی تھی کہ اصفر کو ہی دیکھ لیں کتنے اچھے طریقے سے سب سنبھال لیتے ہیں ۔۔۔ اصفر کی حقیقت سے اسٹاف کے کافی لوگ واقف تھے بس یوسف کے کہنے پر منہ بند کیا ہوا تھا ۔۔۔ لیکن نیو ہاؤس جاب کرنے والی لڑکیاں نا وقف تھیں ۔۔۔۔۔
حمنہ کی ہفتے میں دو سے تین بار آپریشن تھیٹر میں ضرور ڈیوٹی ہوتی تھی فی الحال تو صرف دیکھنے کی حد تک یا ایز آ جونئیر ڈاکٹر کی حیثت سے وہاں موجود ہوتی تھی ۔۔۔۔۔ لیکن مریض۔ کو یوں دیکھنا ایک حساس دل حمنہ کے لئے ہمیشہ مشکل امر تھا ۔۔۔ اب ڈاکٹر اس سے اسٹچیز لگوانے لگے تھے کبھی کسی باڈی پارٹ کو کٹ لگانے کو کہتے ۔۔۔ اپنی ساری ہمتوں کو مجتمع کرنے باوجود دل کسی قیدی پرندے کی طرح پھڑپھڑاتا تھا آپریشن تھیٹرز میں وہ ہمیشہ یوسف کے ساتھ ہوتی تھی اس بار یوں ہوا کہ آپریشن کی تیاری مکمل ہونے کے بعد یوسف کی بیوی کی کال آ گئ اسکی والدہ کی اچانک سے طعبت خراب ہوئی تھی ۔۔۔ یوسف تو یہ جانتا تھا کہ اصفر سرجن ہے اپینڈکس کا معمولی سا آپریشن وہ ہینڈل کر لے گا ۔۔ اس لئے حمنہ سے یہ کہہ دیا کہ اصفر آپریشن تھیٹر میں بھی کام کر چکا ہے اس لئے وہ یہ آپریشن خود کرے ۔۔۔ پہلی بار کسی کی رہنمائی کے بغیر آپریشن کرنا کاسوچ بھی حمنہ نا چاہتے ہوئے بوکھلا رہی تھی۔۔۔۔۔
دو ہیلپر نرسیں بھی موجود تھیں جو خاصی تجربہ کار تھیں ۔۔۔ لیکن حمنہ کو لگا کہ یہ اس کا امتحان ہے ۔۔۔۔۔ پھر اس نے ایک نا ایک دن تو خود کرنا ہی تھا پھر آج کیوں نہیں ۔۔۔ آپریشن بھی کوئی کریٹیکل نہیں تھا بہت دفعہ وہ یوسف کی رہنمائی میں کر چکی تھی ۔۔۔ اب بھی کر رہی تھی ۔۔۔ اصفر پہلے تو اسے غور سے دیکھتا رہا ۔۔۔۔
ہاتھوں میں ہلکی ہلکی لرزش تھی ۔۔۔ چہرے پر اعتماد کی جگہ ذر سی بد حواسی تھی ۔۔۔ سمجھ گیا تھا کہ وہ گھبرا رہی ہے اس لئے نرس کو پیچھے ہٹنے کا کہہ کر اسکے پاس کھڑا ہو گیا ۔۔۔
” ڈاکٹر صاحبہ ہاتھ جما کر رکھیں ۔۔۔ یہ مت سمجھیں کہ یہاں سینر ڈاکٹر موجود نہیں اور آپ بلکل اکیلی ہیں ۔۔۔ اپینڈکس کی نس نکالنے کے بعد ہی وہ کچھ پر سکون ہوئی تھی
اسٹچیز لگاتے ہوئے بھی سکن سٹیریلائز کرتے ہوئے وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کیسے کرے ۔۔
“آپ ہٹیں یہ میں کر دیتا ہوں مجھے یہ بہت اچھے سے آتا ہے ۔۔۔۔ اسٹیچز پورے ڈاکٹر اصفر نے ہی لگائے تھے ۔۔۔ آپریشن کے بعد باہر آنے کے بعد بھی وہ فکر مند تھی جب تک کے مریض کو کچھ دیر کے لئے ہوش نہیں آ گیا وہ خطرے بلکل محفوظ نہیں ہو گیا حمنہ کو چین نہیں۔ آیا تھا ایک گھونٹ پانی تک کا اس نے نہیں پیا تھا ۔۔۔ ایک مریض کے لئے اتنا فکرمند ہونا ۔۔۔ پہلی بار وہ کسی ڈاکٹر کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ جیسے وہ مریض اس کا کوئی قریبی رشتے دار ہو۔۔۔۔ اصفر نے حمنہ کی پریشان شکل مریض کی بہتر کنڈیشن کا سن کر کچھ پر سکون دیکھا تو ایک جوس اسے تھما دیا
” اب وہ خطرے سے باہر ہے ۔۔۔ یہ پیں اور خود کو کچھ ریلکس رکھا کریں ۔۔۔ اگر آپریشن تھیٹر میں سرجن ہی بدحوسی دیکھائے گی تو مریض تو بیچارا گیا کام سے۔۔۔۔ ” اصفر نے بات لاپروائی سے کہی
” ایسے مت کہیے ۔۔۔ اللہ نا کرے کے کسی مریض کو کچھ ہو ۔۔۔۔ ” جوس پیتے ہوئے اصفر کی اس بات وہ برجستہ بولی تھی ۔۔۔۔
” یہ مریض آپ کا رشتےدار ہے ؟ اپنے ہاتھ میں جوس پکڑے ہوئے اصفر نے پوچھا
” کیوں “
” آپکی حالت دیکھ کر تو ایسا ہی لگ رہا تھا ۔۔۔ “
“نہیں رشتے دار تو نہیں ہے ۔۔۔ لیکن انسان تو ہے ۔۔۔ یہاں آنے والے ہر مریض زندگی اور صحت کی امید لیکر آتا ہے ڈاکٹر اسکی نظر میں اللہ کے بعد دنیا میں سب سے بڑا مسیحا ہوتا ہے ۔۔۔۔
مسیحائی یہ تو نہیں کہ ہم آپریشن کو اپنی زندگی کا ایک تجربہ سمجھ کر آزمائیں۔۔۔۔ اسوقت وہ مریض اللہ کے بعد ہمارے رحم کرم پر ہوتا ہے ۔ ۔۔۔ آپریشن کے باہر انتظار کرتے مریض کے عزیز اقارب کی جان پر بنی ہوتی ہے۔۔۔۔۔ زندگی موت بے شک اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن یہ آزمائش صرف مریض کی ہی نہیں ایک ڈاکٹر کی بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنے پیشے کے ساتھ کیا انصاف کر رہا ہے ۔۔۔” جوس کا پیک ویسے اصفرکے ہاتھ میں ہی رہ گیا وہ لڑکی کم عمر تھی ۔۔۔ تجربے کار بھی نہیں تھی ۔۔۔ لیکن باتیں بڑی گہری کر رہی تھی ۔۔۔ پوری رات وہ حمنہ کی باتوں پر غور کرتا رہا ۔۔۔
” ڈیڈ میرے ہاتھ کپکپاتے ہیں ڈر لگتا ہے کہ کہیں۔۔۔۔۔” پہلی بار جب اصفر نے خود آپریشن کیا تھا تھا تو اسکی بھی یہی حالت تھی ۔۔۔
” کہ کہیں مریض مر نا جائے ؟” حسن کمال نے با آسانی وہ لفظ کہے تھے جو اصفر کہتے ہوئے ہچکچا رہا تھا
” او کم آناصفر حسن کمال کے بیٹے ہو کر یہ سوچتے ہو ۔۔۔۔ میں یہ بلکل نہیں سوچتا ۔۔۔ آپریشن تھیٹر کے اسٹریچر پر لیٹا مریض میرے لئے صرف ایک تجربہ ہے صیحیح ہو غلط ۔۔۔ ارے انسان اپنی غلطیوں سے ہی تو سیکھتا ہے ۔۔ تم کس بات سے گھبرا رہے تھے کیا ہو جائے گا ذیادہ سے ذیادہ وہ مریض مر جائے گا ۔۔۔ بس ۔۔۔۔ زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔۔ اگر مریض مر جائے تو سمجھ لو زندگی اتنی ہی لکھوا کر آیا تھا ۔۔۔ تمہیں ڈرنے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں مائے چائلڈ ۔۔” باپ کی باتیں بہت مختلف تھیں جو کب سے سنتا آ رہا تھا
آج کی کہی ہوئی اس لڑکی بات سے بلکل مترادف ۔۔۔۔
حمنہ کی بات پر توجہ ہٹا کر اب وہ حمنہ کے بارے میں سوچنے لگا ۔۔۔ خوبصورت تھی ۔۔۔ سمجھدار بھی تھی۔۔۔۔ ڈاکٹر بھی تھی ۔۔۔ حسن کمال نے بس اپنی ایک ہی تو ڈیماڈ سامنے رکھی تھی
کہ رنگ نسل ذات پات سب چلے گا بس لڑکی ڈاکٹر ہونی چاہیے۔۔۔۔
چہرے پر مدھم سی مسکراہٹ خود با خود سجی تھی ۔۔۔۔
“ڈاکٹر صاحبہ ۔۔۔۔ آپ نے تو اب میری نیندیں اڑانے لگیں ہیں ” برابر رکھے کشن کو ساتھ لگائے وہ سونے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔ آنکھیں رنگدار نہیں تھیں لیکن غلافی تھیں ۔۔۔۔ ہلکے سے کاجل کے علاؤہ اس لڑکی کا چہرا ہر قسم کی آرائش سے مبرا تھا ۔۔۔۔ پھر بھی ساتھ کھڑی اپنی ساتھی ڈاکٹرز میں وہ نمایاں سی لگتی تھی ۔۔۔ شاید اپنی بارعب شخصیت کی وجہ سے ۔۔۔
ہنستے ہوئے تو اس نے حمنہ کو ابھی تک نہیں دیکھا تھا لیکن مسکراہٹ اس کے چہرے کی ہمیشہ سجی رہتی تھی یہ ایک اور خوبی تھی اسکی ۔۔۔۔ دھیمہ لہجہ وہ مریضوں کے ساتھ اپناتی تھی جو سیدھا دل میں اتر جائے ۔۔۔۔
اصف کا ر نیند کی آغوش میں آکر بھی ذہن حمنہ کی جانب ہی مبذول تھا
******…….
” امی اس ڈاکٹر کے بچے نے پتہ نہیں کون سی ڈرپ لگائی ہے مجھے ۔۔۔ ناک بند ہو گئ ہے میری سانس ٹھیک سے نہیں آ رہا اوپر سے کتاب کھولتے ہی سر چکرانے لگتا ہے ” لائبہ کو ناٹک کرنا بھاری پڑھ گیا اب وہ سچ میں بیمار ہونے لگی تھی
” جانتی ہوں تمہاری بہانے بازیاں چلو پڑھوں جا کے میں اسکول جارہی ہوں خبردار جو تم موبائل کے کر بیٹھی تو ” آمنہ بیگم نے اسے تنبیہ کی اور خود چلی گئیں لائبہ نے سکون بھری سانس لی پہلے تو کچن میں جا پراٹھہ اور آملیٹ بنایا ۔۔۔ اس کے بعد چائے کا بڑا مگ بنا کر صحن میں ہی آگئ سردیوں کی دھوپ کا بھی اپنا مزہ ہوتا ہے اور سردیوں کی دھوپ میں بیٹھ کر چائے پینے کا لطف بھی الگ ہی آتا ہے ۔۔۔ وہ ابھی آدھا پراٹھہ ہی کھا پائی تھی جب فون کی بیل بجی تھی اپنے ابو کا نمبر دیکھ کر اس نے فون اٹھایا تھا ۔۔۔
” لائبہ تمہاری امی کا ایکسڈنٹ ہو گیا ہے ٹانگ پر چوٹ آئی ہے ۔۔۔۔ ” لائبہ کو جھٹکا ہی تو لگا تھا
” امی کا وہ کیسے ابو ۔۔۔ کہاں ہیں وہ ” لائبہ کی جان پر بنی تھی
” ہاسپٹل میں ہیں میں وہیں جا رہا ہوں ۔۔۔۔ کچھ دیر میں تمہیں لینے آؤں گا تیار رہنا ۔۔۔۔ ” فون بند ہو گیا تھا لائبہ کے آ نسوں جاری ہوئے تھے ۔۔۔۔ ماں باپ ہی تو اسکی کل کائنات تھے ۔۔۔۔ ناشتہ وہیں چھوڑ چھاڑ وہ رونے لگی تھی ۔۔۔ پتہ نہیں کتنی چوٹ آئی تھی ۔۔۔۔ کیا ہوا تھا شام کو جب اسکے والد گھر آئے وہ خود بھی بے حد پریشان تھے ۔۔۔۔
” گھٹنے کی ہڈی پر فیکچر آیا ہے ” مزمل صاحب کے منہ سے یہ سن کر لائبہ کی جان لبوں پر آئی تھی آنسوں پھر سے بہنے لگے
” ہائے ابو اب کیا امی بلکل چل نہیں۔ پائیں گئیں “
” ابھی تو تم چلو میرے ساتھ بار بار تمہیں پکار رہی ہے اور ہاں وہ پہلے تکلیف میں ہے تم یوں روتے ہوئے اسکے پاس جاوں گی تو وہ اور پریشان ہو گی ۔۔۔۔ شاباش چپ کروں اور چادر اوڑھو اپنی ” لائبہ پورے راستے خود کو مضبوط ثابت کرتی رہی
لیکن ماں کی ٹانگ پر بندھا پلستر دیکھ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھی ۔۔۔ آمنہ بیگم کا بھی یہی حال تھا لائبہ کے گلے لگ کر رونے لگیں تھیں ۔۔۔
گورنمنٹ ہاسپٹل تھا آپریشن کی تاریخ دو ماہ بعد کی ملی تھی
” دو ماہ بعد ” مزمل صاحب پریشان ہوئے تھے
” یہ تو بہت دور کی ہے بھائی دو مہنے پلستر میں رہنا پھر آپریشن کے بعد بھی دو تین مہنے کی احتیاط۔۔۔ کچھ جلدی کا انتظام نہیں ہو سکتا “
” کسی سے سفارش کروا دو تو شاید نمبر لگ جائے ورنہ تو بھائی دو ماہ انتظار کروں ” مزمل صاحب کے ہاتھ میں ایک پرچہ تھما وہ شخص انہیں جانے کا اشارہ کرنے لگا ۔۔۔ پیچھے اور بھی لوگ لائن پر لگے تھے ۔۔۔ جب یہ بات لائبہ کو پتہ چلی تو وہ تلملا سی گئ تھی
” ابو ہم امی کو اتنی تکلیف میں نہیں رکھ سکتے میں کرتی ہوں ڈاکٹر سے بات ۔۔۔۔ ” لائبہ ڈاکٹر کے روم کی طرف جانے لگی
“ارے ابھی مت جاؤں ڈاکٹر کا کمرہ بند ہے ۔۔۔۔ باہر کھڑاواڈ بوائے کہہ رہا تھا ڈاکٹر صاحب اندر بہت مصروف ہیں “
“ارے ایسے کیسے مصروف ہیں میں جا کر بات کرتی ہوں ” یہ کہہ کر اس نے نا آؤں دیکھا نا تاؤ سیدھی ڈاکٹر کے کمرے کا نیب گھما کر دروازہ کھول دیا سامنے ڈاکٹر صاحب ایک نرس کے ساتھ قابل اعتراض حد تک قریب تھے ۔۔۔۔ یہ سب دیکھ کر لائبہ کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا آنکھیں ابلنے کی حد تک باہر نکلی ہوئی تھیں ۔۔۔۔ ڈاکٹر جھٹ سے پیچھے ہٹا تھا نرس بھی خجل سی ہوئی تھی ۔۔۔
“بنا ناک کیے آپکی ہمت کیسے ہوئی اندر آنے کی ” ڈاکٹر غصے سے ڈھاڑا تھا “
” میری ماں درد سے تڑپ رہی ہے اور آپ یہاں عشق فرما رہے ہیں وہ بھی ایک نرس سے ۔۔۔۔ ” لائبہ کہاں چپ رہنے والوں میں سے تھی واڈ بوائے بھی اندر آ چکا تھااورمزمل صاحب بھی ۔۔۔۔
” اے لڑکی زبان سنبھال کر بات کرو ” ڈاکٹر غصے سے چلایا
” آپ کو گورنمنٹ سے ہمارے علاج کی فیس ۔ملتی ہے۔۔۔ یا علاج کے نام پر رنگ رلیاں منانے کی ؟ “
” اے لڑکی منہ بند کروں ورنہ ” ڈاکٹر تو اسکی تیز طرار زبان سے زچ ہوا تھا ۔۔۔ کافی مریض باہر کھڑے سن رہے تھے ڈاکٹر کی عزت کا جنازہ اس نے دو منٹ میں نکال دیا تھا لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ انہیں وہاں سے اپنی والدہ سمیت نکلنا پڑا ۔۔۔
*******……..
حمنہ جب ہاسپٹل پر پہنچی ۔۔۔ سب ڈاکٹر جھنڈے ہاتھ میں لئے باہر کھڑے تھے تین ماہ سے گورمنٹ سے ڈاکٹر اور دیگر اسٹاف کو فیسیں نہیں ملیں تھیں ۔۔۔۔ اس لئے آج اتجاج کے طور پر بائیکاٹ کے نعرے لگائے جا رہے تھے ڈاکٹر یوسف بھی انہیں میں شامل تھا اور نرسنگ اسٹاف بھی ۔۔۔
مریض الگ پریشان تھے ۔۔۔
حمنہ ہاسپٹل کے اندر جانے لگی تو اسے زارا نے روک دیا
“کیا کر رہی ہو تم آج کوئی بھی کسی مریض کو ٹریٹ نہیں کرے گا
بلکہ تب تک نہیں کرے گا جب تک کہ تنخواہیں نہیں مل جاتیں “
” کیوں تنخواہیں کیا مریضوں نے روک رکھی ہیں ۔۔۔ حکومت کی غلطی کی سزا میں مریضوں کو کیوں دوں ہٹو پیچھے ” یہ کہہ وہ اندر چلی گئ ۔۔۔۔ کافی مریض جمع تھے مگر دیکھنے والی صرف وہ ایک اکیلی تھی مشکل یہ تھی کہ نرسنگ کا کام بھی اسے ہی کرنا پڑ رہا تھا اس لئے اصفر کے نمبر پر کال کی یہ نمبر اسی نے اسے دیا تھا ۔۔۔ وہ اس وقت او پی ڈی میں تھا ۔۔۔۔ بس دو مریض ہی رہتے تھے ۔۔۔ جن اسے معائنہ کرنا تھا
” جی کون “
“میں حمنہ بات کر رہی ہوں “
” جی ڈاکٹر صاحبہ حکم؟
” حکم نہیں ایک درخواست ہے ۔۔۔ یہاں سب ڈاکٹر اور اسٹاف اسٹرئک پر ہیں اگر آپ کو زحمت نا ہو میری ہیلپ کے لئے آ سکتے ہیں۔۔۔۔ میں اکیلی مریضوں کو دیکھ نہیں پا رہی ہوں “
” ڈاکٹر یوسف کہاں ہیں ” اصفر نے پوچھا
“وہ بھی چھٹی منا رہے ہیں “
” تو پھر آپ کیو اپنی نازک سی جان کو ہلکان کر رہیں ہیں ۔۔۔ تین مہنے سے تنخواہ کے نام پر ایک روپیہ تو مل نہیں رہا ۔۔۔ آپ بھی یہ خدمت خلق چھوڑ دیں “
” میں نے آپ سے ہیلپ مانگی ہے مشورہ نہیں اور بیفکر رہیں آپ کو آپکی ہیلپ کی فیس میں ضرور دوں گی ۔۔۔۔ باقی آپکی مرضی ہے ” حمنہ کو افسوس سا ہوا تھا سبھی ایک جیسی سوچ رکھتے تھے۔۔۔۔ حکومت سے بات منوانے یہ کون سا طریقہ تھا ۔۔۔۔ کون سے حکمرانوں کے بچے باہر لائن لگائے کھڑے تھے ۔۔۔۔۔ بڑے بڑے عہدے داروں کو چھنک۔ بھی آ جائے تو امریکہ بھاگے دوڑے جاتے ہیں ۔۔۔۔ بائل کھڑی عوام تو بے قصور ہے بے بس ہے ان کا کیا قصور ہے ۔۔۔ حمنہ نے سر جھٹکا اور دوسرے مریض کو چیک کرنے لگی
اصفر نے بند موبائل کو کچھ دیر غور سے دیکھا تھا
جس قدر وہ حمنہ کے بارے میں سوچتا تھا ایک نیا انکشاف تھا جو اس پر کھلتا تھا ۔۔۔ دو مریضوں سے فارغ ہو کر قدم گورنمنٹ ہاسپٹل کی جانب اٹھے تھے ۔۔۔۔ گاڑی کافی پیچھے کھڑی کر کے وہ نب ہاسپٹل کی جانب گیا تو کافی زخمی کیس آئے تھے روڈ ایکسڈنٹ کے لیکن کوئی بھی انہیں اندر نہیں جانے دے رہا تھا ۔۔۔۔ اصفر سیدھا یوسف کے پاس آیا تھا ۔۔۔
” کیا ہے یہ سب “
” تمہیں جیسے نہیں پتہ اور تم کیوں آ گئے آج وہ بھی اتنی جلدی “
” وہ حمنہ نے بلایا ہے ۔۔۔ “
” اس نے بلایا اور تم آگئے ۔۔۔۔ کیوں بھئ ” یوسف کو حیرت ہوئی
” اب تم ہرتال مناؤں گئے تو وہ بیچاری اکیلی کہاں تک مریض سنبھال سکتی ہے ۔۔۔ خیر انہیں تو آنے دو یار خون سے لت پت مریض ہیں ۔۔۔ ” اصفر کی بات وہ منہ کھولے سن رہا تھا وہ مریضوں کو اندر لے جانے کا کہہ رہا تھا ۔۔۔۔ اتنا انسانیت کا درد شناس تو وہ پہلے کبھی نا تھا ۔۔۔
اصفر نے شیشے کا ڈور کھولا اور ایمرجنسی مریضوں کو اندر منتقل کرنے لگا ۔۔۔۔ حمنہ اسے دیکھ کر مسکرائی تھی ۔۔۔ اصفر کو لگا یہ بازی اب وہ جیت چکا ہے ۔۔۔ پورا دن ایک بعد ایک ایمرجنسی کیس دونوں نے مل کر ہینڈل کیے تھے ۔۔۔۔
شام کو تھک کر جیسے ہی وہ باہر نکلے باپر کھڑے لوگوں نے ڈاکٹروں کی ہرتال سے تنگ آ کر پھتراو شروع کر دیا تھا ۔۔۔ ایک بھگڑ سی مچ گئی تھی ایک پتھر سیدھا حمنہ کے سر پر لگا تھا ۔۔۔۔ فوراسے خون بہنے لگا ۔۔۔سب ڈاکٹر اپنے بچاؤں کے لئے ہسپتال کے اندر بھاگے تھے اصفر نے جب حمنہ کی پیشانی سے خون بہتا دیکھا اسکا خون کھولا تھا اسے کور کرتے ہوئے وہ اس کا ہاتھ تھامے اندر لے آیا تھا ۔۔۔ ڈاکٹرز نے اندر داخل ہوتے ہی مین گیٹ بند کیا تھا پھر لوئے کا جنگلہ بھی بند کر دیا اورخود کمروں میں بند ہو گئے ۔۔۔کچھ ہی دیر میں پولیس کی گاڑیوں کا سائرن بجنے لگا باہر سے شور کی آوازیں اندر تک آ رہی تھیں ۔۔۔
حمنہ نے رومال پرس سے نکال کر سر پر رکھا تھا
ایمرجنسی وارڈ میں پہنچ کر اصفر نے اسکاہاتھ چھوڑا ۔۔۔
” اندھے ہیں سب کے سب ۔۔۔ اسی کو زخم دیتے ہیں ۔۔۔ جو صبح سے دوسروں کے زخموں کی دوا کر رہا ہے ۔۔۔ اور تم ۔۔۔۔بہت شوق ہے تمہیں ۔۔۔۔ ان لوگوں سے ہمدردی کرنے کا ” اصفر کو اتنے غصے میں اس نے پہلے نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔
” دیکھیں ۔۔۔ آپ ” ۔۔۔۔ حمنہ نے ابھی لب کھولے ہی تھے کہ وہ چلا اٹھا ۔۔۔
” ایک دم چپ ۔۔۔۔ ایک لفظ نہیں بولو گی تم ” آپ۔۔۔ سے ۔۔۔تم ۔۔۔ڈاکٹر صاحبہ۔۔۔ اور سارے تکلفات جیسے ایک دم سے سائیڈ ہوئے تھے ۔۔۔۔ حمنہ کی زبان کو یک دم بریک لگی تھی ۔۔۔ وہ بے شک اس سے عمر میں بڑا تھا لیکن تھا تو واڈ بوائے ۔۔۔۔ یوں اس پر رعب ڈالنا اسے کھل رہا تھا ۔۔۔۔ اب وہ کارٹن سے اس کی پیشانی سے خون صاف کر رہا تھا ۔۔۔۔
پھر پاٹیوڈین لگانے لگا
” ذرا سا اور زور سے لگتا تو اسٹیچز لگانے پڑتے ۔۔۔۔۔ذراسی بھی پروا ہے تمہیں اپنی ؟” اصفر نے اس پر کاٹن رکھ ٹیپ لگائی تھی ۔۔۔ حمنہ اس کے چہرے پر فکرمندی اور سنجیدگی دیکھ کر کچھ متحیر تھی ۔۔۔۔
باہر سے شیشے ٹوٹنے کی آواز پر وہ دونوں ہی باہر نکلے تھے ۔۔۔ ہاسپٹل کو لوہے کے جنگلے سے بند کر دیا گیا تھا باہر پولیس والوں نے لاٹھی چارج شروع کر دیا تھا ۔۔۔ لوگ پھتر سے اپنا بچاؤں کر رہے تھے ۔۔۔ ہاسپٹل کی کئ کھڑکیوں کے کانچ ٹوٹ گئے تھے ۔۔۔ کئ جگہ لوگوں نے آگ بھی لگا دی تھی ۔۔۔ حمنہ کے نمبر پر اسکی والدہ کی کال آنے لگی۔۔۔۔ اس نے فون اٹھا وہ بے حد پریشانی کے عالم میں بول رہیں تھیں
” حمنہ تم کہاں ہو بیٹا ٹی وی پر تمہارے ہاسپٹل میں آگ لگائی جارہی ہے ۔۔۔ “
” امی ہم سب ڈاکٹر ہسپتال میں ہی بند ہیں ۔۔۔محفوظ ہیں ۔۔۔۔ پولیس روک تو رہی ہے جیسے ہی سب کچھ بہتر ہو گا میں فورا سے یہاں سے نکل جاؤں آپ پریشان مت ہوں میں ٹھیک ہوں ” حمنہ انہیں تسلی دینے لگی ۔۔۔۔ اسکا فون بند ہوا تو اصفر کے فون پر حسن کمال کی کال آنے لگی ۔۔۔ وہ حمنہ سے کچھ دور ہو کر انکی کال سننے لگا
” جی ڈیڈ”
” ہو کہاں تم ۔۔۔ رات کی او پی ڈی اسٹاٹ ہو چکی ہے۔۔۔ اور تم غائب ہو ۔۔۔ سیفی بتا رہا تھا کہ تم کئ گھنٹوں سے ہاسپٹل میں نہیں ہو “
” ڈیڈ میں ابھی نہیں آ سکتا بہت برے طریقے سے پھنس چکا ہوں ۔۔۔۔ میں یوسف سے ملنے آیا تھا اور یہاں ہاسپٹل میں ہنگامہ شروع ہو گیا ۔۔۔ اس وقت تو باہر پولیس کا لاٹھی چارج چل رہا ہے “
“تم ۔۔۔ تم ۔۔۔ کیا کرنے گئے تھے وہاں یہ سب تو صبح سے جاری تھا ۔۔۔ ” وہ سخت لہجے سے بولے تھے
۔” ڈیڈ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ سب اتنا بڑھ جائے گا
” او شٹ اب اصفر ۔۔۔۔ تم نے پریشان کر کے رکھ دیا ہے مجھے ۔۔۔ ” آواز میں فکرمندی تھی
” ڈیڈ میں بس کچھ دیر میں وہاں سے نکلتا ہوں بہت جلد سب ٹھیک ہو جائے گا “
” او کے تم گھر پہنچو بات کرتا ہوں تم ۔ سے ” فون غصے سے۔ بند ہوا تھا
سب ہی ڈاکٹر اپنی جگہ پریشان تھے دو گھنٹے بعد جا کر راستہ کچھ ہموار ہوا تو اندر بیٹھے اسٹاف نے شکر کا کلمہ پڑھا تھا ۔۔۔۔
باہر نکلنے سے پہلے حمنہ اصفر کے پاس آ کر رک گئ اپنے پرس سے پانچ سو نکال کر اسکی طرف بڑھا دیے وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگا
” یہ آپ کی فیس ۔۔۔۔ بہت شکریہ آپ میرے ایک کہنے پر یہاں آ گئے “
” یہ آپ رہنے دیں “
” نہیں یہ۔۔ آپکا حق ہے ۔۔۔ محنت کی ہے آپ نے ” ۔اصفر نے ہاتھ پیچھے باندھ لیے
“میں آپ سے پھر کبھی اپنا حق لے لوں گا ۔۔۔ فی الحال اسے اپنے پاس رکھیے ۔۔۔۔ ” یہ کہہ وہ ہاسپٹل سے باہر نکل گیا تھا ۔۔۔ اس بار اس نے حمنہ کی بس کا پیچھا کیا تھا جس میں وہ بیٹھی تھی حمنہ کے گھر پہنچنے تک وہ اصفر کی نظروں کے حصار میں تھی ۔۔۔ لیکن بے خبر تھی ۔۔۔ ایک مناسب سا علاقہ تھا ۔۔۔۔ جہاں وہ رہتی تھی ۔۔۔۔ گھر پہنچ کر حسن کمال کی ڈانٹ کھا کر ہی اسے رات کا ڈنر ملا تھا ۔۔۔۔
” آج کے بعد تم یوسف سے ملنے ہاسپٹل نہیں جاؤں گئے ۔۔۔ اسے کہنا وہ ملنے آ جایا کرے تمہیں ۔۔۔۔ اگر آج کی اس ہنگامہ آرائی میں تمہیں۔ چوٹ لگ جاتی پھر ؟ باپ کی ڈانٹ میں بھی محبت اور فکرمندی تھی
” ڈیڈ جو آپ کا حکم ۔۔۔۔ آج کے بعد نہیں جاؤں گا خوش ” سینے پر ہاتھ رکھ کر اس نے ادب سے کہا تھا باپ کا موڈ تو وہ پل بدلنا جانتا تھا ۔۔۔
” جانتا ہوں تمہاری ساری فرمابردایوں کو۔۔۔۔ ” حسن کمال کے غصے میں کمی نہیں آئی تھی
” ڈیڈ آپ جانتے ہیں میں آپکی بات نہیں ٹالتا ” اصفر نے مسکرا کر کہا وہ اسے خشمگیں نظروں سے ہی اسے گھور رہے تھے
******…..
حمنہ جب گھر پہنچی اسکی والدہ مصلہ بچھائے بیٹھیں تھیں ۔۔۔ اسے دیکھ کر ہی خوش ہوئیں تھیں
” شکر ہے بیٹا تم خیر سے پہنچ گئ ۔۔۔ اور یہ سر پر کیا ہوا ہے ” حمنہ کے سر کی چوٹ دیکھ کر وہ پریشان ہوئی تھیں
” کچھ نہیں امی ذراسی چوٹ لگ گئ تھی اب ایسے ہنگاموں میں ایسا ہو جاتا ہے ۔۔۔۔ ” اس نے جوتے اتارے ۔۔۔۔ اور کمرے میں جانے لگی
” امی جلدی روٹی رکھ دیں بہت بھوک لگ رہی ہے “
*****…..
رات تو واوقع فارس ڈاکٹر بیگ کے ہمراہ حمنہ کے گھر پر موجود تھا ۔۔۔۔ حمنہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ فارس اس حد تک بھی جا سکتا ہے اسے لگا یونہی دھمکیاں دے رہا ہے ۔۔۔۔
مجبوراً ہی سہی لیکن اس نے چائے بنا کر انکے سامنے رکھنی پڑی چائے کے کپ انکے ہاتھوں میں دے کر ۔۔۔۔ خود بھی انکے سامنے صوفے پر پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔ایک نظر فارس پر غصے سے ڈالی وہ بھی اسے کن انکھیوں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ ڈاکٹر بیگ نے ایک سپ چائے کا پی کر کپ دوبارہ سامنے ٹیبل پر رکھ دیا
“حمنہ میں تم دونوں کا ہی سینئر ہوں ۔۔۔۔ اور آپ دونوں نے ہی میری چھوٹے سے ہاسپٹل کو اس قابل بنایا دیا کہ لوگ اب اس سے کافی مستفید ہونے لگیں ہیں ۔۔۔ آپ دونوں کے ہی والدین حیات نہیں فی الحال میں ہی تم دونوں ک بڑا ہوں ۔۔۔ اگر میرے دل کی بات پوچھوں تو مجھے تم دونوں اپنے بچوں کی طرح عزیز ہو ۔۔۔۔ اور یقینا تم بھی میری دل سے ایسی ہی عزت کرتی ہو جیسے اپنے ماں باپ کی ؟
” جی سر بلکل ” وہ دھیرے سے بولی ۔۔۔۔
” دیکھوں بیٹا فارس کو میں پچھلے سات آٹھ سال سے جانتا ہوں اور تم بھی پانچ سال سے میرے سامنے ہو ۔۔۔۔
میں مانتا ہوں کہ زندگی میں حادثے ہوتے ہیں لیکن زندگی کو ان حادثات کے حوالے کر دینا تو عقلمندی نہیں ہے ۔۔۔۔
جو فارس کی خواہش ہے وہ میری بھی دلی خواہش ہے میں بڑی امید اور مان سے تمہارے پاس آیا ہوں مجھے پورا یقین ہے حمنہ تم مجھے انکار نہیں کروں گی” بیگ صاحب نے بڑی اپنایت سے بات کی تھی
“سر میں یہ نہیں کر سکتی سمجھ لیں کہ انکار کرنے پر مجبور ہوں ۔۔۔۔ ” یہ کہہ وہ رونے لگی تھی ۔۔۔۔ ڈاکٹر بیگ کے ساتھ ساتھ فارس بھی اسے یوں اچانک رونے پر متحیر ہوا تھا
ڈاکٹر بیگ اٹھ کر اسکے پاس جا کر بیٹھ گئے ۔۔۔۔
اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر تھپتھپایا
” حمنہ بیٹا کیا بات ہے ۔مجھ سے کہو جو بھی تمہارے دل میں ہے ” بڑی شفقت سے وہ حمنہ سے بات کر رہے تھے اپنے اندر کے الاؤ کو کب تک باندھ سکتی تھی ۔۔۔۔ اس لئے آنسوں کا سہارا لینا پڑا
اپنے زخموں کو یوں سب پر عیاں نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔ بس اس لئے چپ تھی ۔۔۔ کہ سچ بولتے ہی بات پھیل جائے گی اور اس شخص تک پہنچے گی جس کے وہ سامنا بھی نہیں آنا چاہتی تھی ۔۔۔ اس لئے چپ ہی اس کی گم نامی کاسبب تھی اور اسی
۔ اس میں اسکی زندگی کا سکھ چین تھا ۔۔۔۔ اور اب جھوٹ کا سہارا لینا پڑ رہا تھا
” سر میں ۔۔۔۔ میں اپنےشوہر سے بہت محبت کرتی ہوں۔۔۔۔ کسی کو بھی وہ مقام نہیں دے سکتی ۔۔۔ فارس کو۔ بھی نہیں ۔۔۔۔ میں پہلے بھی اسے کئ بار انکار کر چکی ہوں ۔۔۔ پھر ایسے رشتے کا کیا فائدہ جو میں دل سے نبھا نا سکوں میری لائف میں میرے بچوں کے علاؤہ کوئی دوسرا اہمیت نہیں رکھتا ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ آج شاید فارس یہ سب وقتی جذبے تحت کر رہا لیکن ہو سکتا کل اسے پچھتاوا ہو “
” ایسا کبھی نہیں ہو گا یہ میرا وعدہ ہے ۔۔ بے شک قسم لے لو مجھ سے ۔۔۔۔ ” اس بار جواب فارس نے دیا تھا
” میں پھر بھی نہیں کر سکتی ” حمنہ جیسے بے بس ہوئی تھی
” حمنہ بیٹا اتنی جلدی انکار نہیں کرنا چاہیے ۔۔۔۔ بے شک تمہاری رضامندی بہت لازمی ہے ۔۔۔۔ تم سوچ لو چلو اپنے لئے نا سہی اپنے بچوں کے لئے ہی سہی ۔۔۔ انہیں باپ کی ضرورت ہے ۔۔۔۔
پھر وہ فارس سے اٹیچ بھی بہت ہیں۔۔۔۔ میں پھر آؤں گا تمہارے پاس تم اچھے طرح سے سوچ لو ۔۔۔ اور بیٹا پلیز اتنا سخت نہیں بنتے اللہ اگر تمہیں خوشیاں اور آسانیاں دینا چاہتا ہے تو کیوں تم تہی دامن رہنا چاہتی ہو ۔۔۔ میں اس امید سے جا رہا ہوں کہ اگلی بار تم۔مجھے مایوس نہیں لوٹاوں گی ” یہ کہہ کر ڈاکٹر بیگ اور فارس جا چکے تھے ۔۔۔ حمنہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی ۔۔۔۔ ایک راستہ بچا تھا اس کے پاس کہ فارس کو سچائی سے آ گاہ کر دے ۔۔۔۔
*******………
گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے اصفر کو ہاسپٹل کا خیال آنے لگا جہاں کمال حسن کا آپریشن ہوا تھا ۔۔۔ سوچا جب تک یہاں ہے کیا حرج کے وہ کچھ وقت اس ہاسپٹل کو دے دیا کرے ۔۔۔۔۔
اس نے گاڑی ہاسپٹل کی جانب موڑ لی ۔۔۔۔ ہاسپٹل کے اندر وہ سیدھا ڈاکٹر بیگ کے کمرے میں گیا تھا ۔۔۔۔
سامنے تین چار ڈاکٹر اور لیڈی ڈاکٹر بھی کھڑی تھیں ۔۔۔۔۔
” اوہ ایم سوری میں نے شاید آپ کو ڈسڑب کر دیا “
” ارے نہیں ڈاکٹر پلیز کم ان ” ڈاکٹر بیگ نے مسکرا کر کہا ۔۔۔ وہ اندر آ گیا ۔۔۔
” اکیچلی میری انیورسری ہے آج اور یہ بچے باز نہیں آتے سو دفعہ کہہ چکا ہوں کہ بھائی میں اب بڈھا ہو چکا ہوں ۔۔۔۔ سوٹ بوٹ پہن کر کیک کاٹتا کیا اچھا لگوں گا لیکن یہ مانے تب نا ۔۔۔۔ سب ملکر میری جیب کو آگ لگانے کے سوچ رہے ہیں ” ڈاکٹر بیگ مسکرا کر بولے خاصے خوشگوار موڈ میں تھے
” سوٹ بوٹ نہیں ۔۔۔اس بار تو ہم نے ڈاکٹر بیگ کو شیراونی پہنانی ہے اور میم کو شادی کا لہنگا “فارس کی بات پر سب ہی ہنسے تھے لیکن سب سے اونچا قہقہ ڈاکٹر بیگ کا تھا ۔۔۔
” بچو کچھ دن صبر کر لو یہ شیروانی بہت جلد میں تمہیں پہنانے والا ہوں ۔۔۔ ” ڈاکٹر بیگ کی معنی خیز بات فارس سب کے سامنے کھسیا سا گیا
” کیا مطلب ہے ڈاکٹر بیگ ۔۔۔۔ ” شہروز کو ان دونوں میں رازدانہ مسکراہٹ کے تبادلے سے شک ہوا تھا
” ابھی نہیں بتاؤں گا لیکن کچھ دن میں ایک بہت بڑی نیوز ہے میرے پاس آپ لوگوں کے لئے ۔۔۔۔باقی رہ گئ میری اینورسری تو رات کا ڈنر پکا ہے تم لوگ یوں میری جان نہیں چھوڑو گئے ۔۔۔ اور ہاں ڈاکٹر اصفر آپ بھی ضرور آئیں گئے ۔۔۔ “ڈاکٹر بیگ نے اصفر کو بھی شامل کیا تھا جو سب میں الگ تھلگ سا لگ رہا تھا
” جی کوشش کروں گا ابھی تو آپ سے کچھ اور کہنے آیا تھا “
” جی کہیں۔”
“میں سوچ رہا تھا کہ میں فی الحال مری میں ہوں اس لئے کچھ وقت آپ کے ہاسپٹل میں دے دیا کروں اگر آپ کو اعتراض نا ہو تو ؟” اصفر کی بات پر ڈاکثر بیگ حیران ہوئے تھے
” ارے یہ تو ۔میرے لئے آنر کی بات ہو گی ۔۔۔ ڈاکٹر حسن کمال کے بیٹے ہیں آپ ۔۔۔ ” انہوں نے خوش دلی کا اظہار کیا تھا
” نہیں پلیز یوں مت کہیں آپ مجھ سے بڑے ہیں اور میرے والد کی جس طرح یہاں کیر کی گئ ہے ۔۔۔ میں آپ کا احسان مند ہوں ۔۔۔ ” ابھی وہ بات کر ہی رہا تھا ڈاکٹر بیگ کا کمرہ کھلا تھا یک دم ہی سب کی نظریں ادھر ہی اٹھیں تھیں
” اسلام علیکم ایوری ون ” حمنہ نے مسکراتے ہوئے سلام کیا لیکن اگلے لمحے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر پتھر کی ہوئی تھی یہی کیفیت اصفر کی۔ بھی تھی ۔۔۔۔ چھ سال بعد اسے دو با رو دیکھا تھا ۔۔۔ دل سینے تھم چکا تھا ۔۔۔ آنکھیں اب بھی بے یقین تھیں ۔۔۔ حمنہ کو لگا پورا کمرہ گھوم سا گیا ہے ۔۔۔۔ جس وقت سے اب تک بچتی اور جس شخص سے چھپتی ہوئی یہاں تک پہنچی تھی وہی سامنے کھڑا تھا ۔۔۔۔ یک دم جیسے جمود ٹوٹا تھا اس نے اسی زور سے دروازہ بند کیا اور کوریڈور سے باہر کی جانب بھاگنے لگی پیچھے سے ایک آواز کی باز گشت تھی وہ تھی اصفر کی وہ اسے پکار رہا تھا
“حمنہ ۔۔۔۔ حمنہ رکو ۔۔۔ ” وہ اسی کے پیچھے بھاگ رہا تھا
