Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 32 (Last Episode Part 2)
Rate this Novel
Noor-e-Emaan Episode 32 (Last Episode Part 2)
Noor-e-Emaan by Umme Hani
حسن کمال آ کر بیڈ پر بیٹھ گئے ۔۔۔۔۔ اصفر اگر ہر حقیقت سے آشنا تھا تو باپ کو بچایا کیوں ۔۔۔۔ ؟
یہ ایک سوال تھا جو انہیں بے چین کیے ہوا تھا لیکن جب صبح ڈائنگ پر پہنچے تو پتہ چلا کہ اصفر جا چکا ہے ۔۔۔
دل میں اب صرف پشیمانی کے ڈیرے تھے ۔۔۔۔ اپنا ہر گناہ انہیں رات بھر بستر پر کروٹ بدلنے پر مجبور کرنے لگا تھا
نئی کمینی کی ہلکی میڈسن لیتے وقت وہ صرف ان کمپنیوں سے ملنے والے بھاری کمیشن کے بارے بات کرتے تھے سیدھی سیدھی سودے بازی تھی جو حسن کمال کرتے تھے اور مریضوں کے ساتھ دھوکے بازی ۔۔۔ کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ میڈسن مریضوں کی صحت پر کیسے آثرات چھوڑیں گئیں ۔۔۔۔۔
ہر رات ایک گناہ بے چین کرتا تھا ۔۔۔۔ پہلے بلڈ پریشر کے کنٹرول کی ادویات میں اضافہ ہوا پھر ڈپرشن کی میڈشن بھی لگ گئ لیکن چین ۔۔۔ چین سکون تو جیسے چھن کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔ حسن کمال کی زندگی میں ہاسپٹل چھوڑ کر گھر بیٹھ گ بیٹھ گئ ہے تھے ۔۔۔۔
اصفر کو صرف حمنہ کی تلاش تھی کئ شہروں اور گاؤں قصبے جو فارم ہاؤس کے قریب تھے وہ دیکھ چکا تھا ۔۔۔۔ حمنہ کو ڈھونڈتا رہا
کئ بار بے بسی سے یوسف کے پاس بھی جا چکا تھا اپنے کیے کی معافی بھی بہت مانگی رو کر گڑگڑا کر اور حمنہ کے بارے میں بھی پوچھتا رہا یوسف نے معاف کر کے اصفر کو گلے ضرور لگا لیا تھا لیکن حمنہ کا پتہ نہیں بتایا ۔۔۔ حمنہ نے وعدہ لیا تھا یوسف سے پھر اپنا پتہ سب سے پوشیدہ ہی رکھا تھا یوسف کوبھی یہ تک نہیں پتہ تھا کہ اسکے دو بچے بھی ہیں بس اتنا ہی جانتا تھا کہ وہ رہتی مری میں ہے ۔صحیح پتہ یوسف کو بھی معلوم نہیں تھا ۔۔۔ عبدالباری کے کیس کے بعد وہ اپنا نمبر تک بدل چکی تھی دوبارہ کبھی یوسف سے رابطہ بھی نہیں کیا تھا ۔۔۔۔۔ یوسف کو اصفر کی حالت زار پر رحم تو بہت آیا تھا ۔۔۔۔ بلکل ٹوٹ کر بکھر کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔ لیکن یہ بھی نہیں بتا پایا کہ حمنہ مری میں رہتی ہے ۔۔۔۔ گل خان نے ہی اسے حسن کمال کے بارے میں وہ سب کچھ بتایا تھا جو انہوں نے حمنہ سے ساتھ کیا ۔۔۔۔ اصفر کو بس اتنا ہی معلوم ہو تھا کہ زہر حمنہ کے وجود سے نکل چکا تھا لیکن وہ جب وہاں سے گئ تھی تب بہت تکلیف میں تھی ۔۔۔۔ نقاہت سے ٹھیک سے چل بھی نہیں پا رہی تھی ۔۔۔۔ اس لئے نہیں معلوم تھا کہ سروایو کر بھی پائی ہے کہ نہیں ۔۔۔۔
پانچ سال اس نے مختلف شہروں میں نوکریاں کی تھی ساتھ ساتھ حمنہ کو تلاش بھی کرتا رہا ۔۔۔۔ مری میں ایک بار کسی دوست سے ملنے کے لئے گیا تھا راستے میں برف باری سے راستے بند ہو چکے تھے اس لئے رات اس نے ایک گیسٹ ہاؤس میں گزاری شام کے وقت اس کمرے کی گیلری سے وہ یونہی باہر دیکھ رہا تھا جب اسکی نظر کافی فاصلے پر کھڑے چند ڈاکٹرز کے گروپ پر پڑی جو ایک کیمپ لگا کر وہاں برف باری کی وجہ سے زخمی ہونے والے مریضوں کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔ لیکن شاید اب اپنی واپسی کے انتظام کر رہے تھے ۔۔۔۔ اصفر کے لئے یہ سب بے معنی سا تھا ۔۔۔۔ بس اس نے یونہی سرسری سا دیکھ کر نظریں ہٹا لیں ایک کوسٹر سڑک کے کنارے کھڑی تھی ڈاکٹرز اب واپسی کی تیاری کر رہے لیکن ایک سائیڈ پر ان میں سے ہی ایک لیڈی ڈاکٹر برف سے ایک اسٹچو بنا رہی تھی ۔۔۔۔ اصفر نے اچٹتی سی نظر اس لڑکی پر ڈال کر ہٹا لی لیکن برف کے بنے اسٹچو کو دیکھ نظریں ہٹانا بھول گیا تھا ۔وہی بدھا سا موٹا سا اسٹیچو ۔۔۔ دل کی دھڑکنیں منتشر سی ہونے لگی تھی ۔۔۔۔ دوسری نظر اس لڑکی پر بڑی بے تابانہ اٹھی تھی ۔۔۔۔۔ وہی تھیں وہ جس کی تلاش میں وہ مارا مارا پھر رہا تھا ۔۔۔ ۔۔۔۔ بلکل وہی ۔۔۔ اتنے فاصلے پر بھی وہ اسے دیکھ کر پہچان گیا تھا ۔۔۔۔
” حمنہ ۔۔۔۔ کم آن یار چلو اب ” ایک لڑکا اسے دور سے پکار رہا تھا ۔۔۔۔
” فارس بس ایک منٹ ” حمنہ اس اسٹیچو پر اپنا مفلر پہنانے لگی ۔۔۔۔
” اصفر کو لگا سینے میں دل دھڑکنا ہی بھول گیا ہے ۔۔۔
” حمنہ ۔۔۔۔۔ ” زیر لب حمنہ کا نام دہرا کر وہ یک دم کمرے سے نکل کر گیسٹ ہاؤس سے باہر نکلا تھا لیکن اس وقت تک حمنہ تیزی سے گاڑی کی طرف بڑھ رہی تھی برف پر تیزی سے چل رہی تھی باقی سب گاڑی میں بیٹھ چکے تھے بس وہی رہ گئ تھی
اصفر تیزی سے اس کے پیچھے بھاگ رہا تھا لیکن اتنی برف پر بھاگنے کا وہ عادی نہیں تھا جتنا کہ وہ تھی اس لئے لڑکھڑا کر گر گیا تھا ۔۔۔۔ حمنہ کا نام بھی پکارا لیکن وہ گاڑی میں بیٹھ کر جا چکی تھی ۔۔۔ اصفر کی کوشش تھی کہ وہ گاڑی کا پیچھا کر سکے برف پر کھڑے ہوتے ہی پھر سے بھاگنے کی کوشش بھی کی لیکن نا کام ہی رہا ۔۔۔۔
اپنی ساری زندگی کی کہانی اسکے ذہن میں کسی فلم کی طرح گھوم رہی تھی ۔۔۔۔ حمنہ سے ملکر بچوں کو دیکھ لگا کہ اب سفر تمام ہو چکا ہے ۔۔۔۔ ان پانچ سالوں میں اللہ کے سامنے کئ بار رو کر گڑگڑا کر اس نے معافی مانگی تھی ۔۔۔۔ اور حمنہ سے ملنے کی دعا توشاید ہر سانس کے ساتھ وہ کرتا تھا ۔۔۔۔ گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے اسے تین گھنٹے گزر چکے تھے لیکن مری سے باہر نہیں جا پایا تھا ۔۔۔۔۔ وہیں انہیں راستوں میں گاڑی چلا رہا تھا ۔۔۔ ۔۔۔۔ پھر بچوں کی آوازوں اور نور کی سسکیوں نے آنکھوں کو آبدیدہ کیا تھا ۔۔۔۔ دھنلائی ہوئی آنکھوں سے وہ سامنے ٹھیک سے دیکھ نہیں پا رہا تھا ۔۔ کہ اچانک سے گاڑی سامنے آنے والی گاڑی سے ٹکرا گئ تھی ۔۔۔۔۔ پل میں گاڑی کی روک تھام اس کے ہاتھ سے چھٹی تھی ۔۔۔۔ دائیں بائیں اسڑنگ وہ گھومانے لگا تھا ۔۔۔۔ لیکن گاڑی پر قابو نہیں پا سکا تھا ۔۔۔۔۔ ایک طرف کھائی تھی اور دوسری طرف پہاڑ کی چٹان گاڑی چٹان سے جا کر ٹکرائی تھی ۔۔۔۔ ایک دھماکے کی آواز اس نے سنی تھی ۔۔۔۔ اس کے بعد ہوش کی دنیا سے بیگانہ ہوا تھا ۔۔
******……
فارس کے غصے کو خاطر میں نا لاتے ہوئے لائبہ اسے غصے سے دیکھنے لگی
” کیا کہا تھا آپ نے آپی کو۔۔۔۔ کیوں رو رہیں تھیں وہ
“
” تم ہوتی کون ہو مجھ سے پوچھنے والی ” فارس اسے غصے سے گھورتے ہوئے پوچھنے لگا
” دھمکی دی ہے نا آپ نے انہیں ۔۔۔ میں دروازے کے پاس ہی کھڑی تھی میں نے خود سنا تھا آپ انہیں دھمکی دے رہے تھے ۔۔۔۔ کیوں کر رہے ہیں یوں شرم آنی چاہیے آپ کو اس طرح سے میاں بیوی کے درمیان میں اختلافات ڈالتے ہوئے انہیں ایک دوسرے سے جدا کرتے ہوئے ” لائبہ کی بات پر وہ دو قدم اس کے قریب آ گیا
” جانتی ہی کیا ہو تم میرے اور حمنہ کے بارے ۔میں یااس اصفر کے بارے میں ۔۔۔جو کب سے یوں بکے چلی جا رہی ہو بہت برداشت کر رہا ہوں میں تمہیں ۔۔۔۔پتہ نہیں کیوں ؟۔۔۔ حمنہ نفرت کرتی ہے اس سے طلاق لینا چاہتی ہے ۔۔۔۔
کمینہ زبردستی اسے اپنے ساتھ باندھے ہوئے ہے ۔۔۔ بچوں کو یوز کر رہا ہے اپنے مفاد کے لئے ۔۔۔۔ ” فارس غصے سے بولا لائبہ کچھ پل کچھ سوچتی رہی ۔۔۔ پھر نفی میں سر ہلانے لگی
” نہیں میں نہیں مانتی ۔۔۔۔ کہ آپی سر سے نفرت کرتی ہیں۔۔۔۔ ہو سکتا ہے کوئی غلط فہمی ہو گئ ہو ۔۔۔ آپ معاملہ سلجھانے کے بجائے مزید کیوں بگاڑ رہے ہیں آپ کو کیا ملے گا یہ سب کر کے ” لائبہ کو پھر بھی غلطی فارس کی لگ رہی تھی
” حمنہ ۔۔۔۔۔۔ ” فارس کے جواب پر لائبہ جیسے ششدد سی ہوئی تھی ۔۔۔۔
” آ۔۔۔۔۔۔ آپی ۔۔۔۔۔۔ ” وہ متحیر ہوئی تھی
” ہاں ۔۔۔محبت کرتا ہوں میں اس سے ۔۔۔ اب سے نہیں پچھلے پانچ سال سے ۔۔۔۔ ہمیشہ اسے اپنا سمجھ کر اسکی حفاظت کرتا آیا ہوں اسکے بچوں کو اپناسجھتا رہا ہوں ۔۔۔۔۔ پانچ سال سے وہ چھپ رہی تھی اصفر سے ۔۔۔اچھا انسان نہیں ہے وہ ۔۔۔۔ اس دن جس دن حمنہ ہوسپٹل میں رو رہی تھی تمہارے اس اصفر سر نے اپنی صیحیح اوقات دیکھاتے ہوئے اپنے ہی دونوں بچوں کو اغوا کیا تھا ۔۔۔۔ اور حمنہ سے زبردستی ایک کنٹریکٹ پر سائن کروایا تھا کہ وہ اس کے ساتھ رہے ورنہ وہ بچے لیکر چلا جائے گا ۔۔۔۔
میں حمنہ کو اس شخص سے بچانا چاہتا ہوں۔۔۔ اب سمجھی یااب بھی بھوسہ بھرا ہوا ہے تمہارے موٹے دماغ میں ” لائبہ کو اب بھی فارس کی بات پر یقین نہیں آ رہا تھا اگر ایسی بات ہوتی تو ۔۔۔ حمنہ اصفر کے کردار کی گواہی نا دیتی اسکی برائی کرتی ۔۔۔۔
اس پر اتنا اعتبار کیوں ظاہر کرتی ۔۔۔۔ لائبہ کا ذہن الجھا ہوا تھا ۔۔۔۔ جو کچھ حمنہ کی آنکھوں میں اصفر کے لئے تھاوہ بیزاری اور نفرت ہر گز نہیں تھی ۔۔۔۔۔ نا ہی اسے کبھی حمنہ کی آنکھوں میں فارس کے لئے کوئی اس قسم کے جذبات نظر آئے تھے ۔۔۔۔
نا ہی اس کا رویہ ایسا تھا جس سے ظاہر ہو کہ وہ فارس سے محبت کرتی ہے بس ایک کولیگ ہونے کے ناطے یا پانچ سال ساتھ کام کرنے سے جو بے تکلفی ان میں ہونی چاہیے بس اتنی تھی ۔۔۔۔ حمنہ اور فارس کواس نے آپس میں کئ بار بات کرتے دیکھا تھا لیکن لائبہ یا کسی بھی نرس یاڈاکٹر کے اچانک آ جانے پر وہ کبھی خاموش نہیں ہوئے تھے جیسے ان کے درمیان کی گفتگوں مشکوک ہو وہ دونوں اکثر کسی نا کسی کیس کے مطلق ہی بات ہوتی تھی ۔۔۔۔ عام سی باتیں۔ عام سی ہنسی مزاق ۔۔۔۔۔
لائبہ پھر رکی نہیں تھی وہ سیدھی اپنے گھر چلی گئ ۔۔۔
دوسرے دن جب وہ ہاسپٹل پہنچی حمنہ کی بے تحاشہ سوجی ہوئی آنکھیں دیکھ کر پریشان ہوئی تھی کچھ اس کے بارے میں باتیں سن کر بھی الجھی ہوئی تھی ۔۔۔۔ حمنہ بھی غائب دماغی سے اپنے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی لائبہ ایک مریض کی فائل رکھنے آئی تھی اسے سوچوں میں گم دیکھ کر وہیں اس کے سامنے بیٹھ گئ ۔۔۔۔
” آپی ۔۔۔۔۔ ” لائبہ نے اسے پکارا لیکن وہ ہر چیز سے بے خبر ہی بیٹھی رہی
” آپی ” اس بار لائبہ نے اسکاہاتھ پکڑ کر کہا وہ بری سے چونکی تھی
” اصفر ” بے اختیار منہ سے اصفر کا نام نکلا تھا ۔۔۔۔ اسی کے بارے سوچ رہی تھی ۔۔۔۔
شادی کے بعد جس طرح سے اصفر نے حمنہ پر اپنی محبت نچھاور کی تھی جس طرح سے اس کا خیال رکھا تھا ۔۔۔۔ وہ سب فراموش کے قابل نہیں تھا ۔۔۔۔۔ وہ یہ کہہ ہی نہیں سکتی تھی کہ اس کی محبت میں کوئی کھوٹ یا دیکھلاوا ہو ۔۔۔۔ جو اختلافات تھے اب بے معنی لگ رہے تھے ۔۔۔۔
” اصفر کیوں آپی ۔۔۔۔ فارس کہیں نا ” لائبہ کی بات پر حمنہ کی نظر اب لائبہ پر پڑی تھی ۔۔۔۔ اپنی آنکھوں کے آنسوں صاف کرنے لگی ۔۔۔۔
” رو کیوں رہیں آپی ۔۔۔۔ کیاسر نے اب بھی چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے ؟ ” لائبہ کی بات سن کر کچھ دیر اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
” کیا بول رہی ہو لائبہ “
” وہی جو آپ سن کر آ رہی ہوں ۔۔۔۔ڈاکٹر فارس کہتے ہیں کہ آپ سر سے نفرت کرتی ہیں ۔۔۔۔ انہیں چھوڑنا چاہتی ہیں بس وہ آپ کو اپنے ساتھ زبردستی باندھے ہوئے ہیں ۔۔۔ کیا یہ سچ ہے آپی سر نے آپ کو زبردستی اپنے ساتھ باندھا ہے؟ ” لائبہ کے سوال کا کیا جواب دیتی ۔۔۔۔ نا جانے اصفر نے باندھ رکھا تھا یا اسکی محبت نے ۔۔۔۔ ” حمنہ نے نظریں چرائیں تھیں
” آپی آپ ڈاکٹر فارس سے محبت کرتی ہیں ؟ ” لائبہ کے اگلے سوال پر حمنہ نے نفی میں سر ہلایا تھا
” نہیں ۔۔۔۔ محبت نہیں کرتی ۔۔۔۔ وہ اچھا ہے۔۔۔۔ بس اس کے احسانات مجھ پر بہت ہیں ۔۔۔۔ بڑے کڑے وقت میں اس نے میراساتھ دیا ہے ۔۔۔ بدلے میں کبھی مجھ سے کچھ مانگا بھی نہیں ۔۔۔۔ بس بنا کسی غرض کے سب کچھ کرتا تھا بس ایک ہی بات کرتا تھا مجھ سے محبت کرتا ہے میراساتھ چاہتا ہے ۔۔۔۔
لیکن میں ہی ہمیشہ انکار کرتی رہی ۔۔۔۔ ” وہ دھیرے دھیرے بات کر رہی تھی ۔۔۔ جیسے اندر کی ٹوٹ پھوٹ سے تھک گئ ہو
” کیوں آپی ۔۔۔ انکار کیوں کرتی رہیں کیاوجہ تھی “
” اصفر کے نکاح میں تھی اس لئے نکاح پر نکاح نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔۔ ” اس کے بعد حمنہ نے لائبہ سے کوئی بات نہیں چھپائی تھی نا اپنی نا اصفر کی نا فارس کی ۔۔۔۔ لائبہ نے ساری بات سنجیدگی سے سنی تھی۔۔۔۔۔ آنسوں تو اسکے بھی بہنے لگے تھے ۔۔۔۔
” آپ کو لگتا ہے آپی کے آپ نے سب کچھ ٹھیک کیا ہے؟ ۔۔۔۔ کیا لوٹ کے آنے والے کو ایک بھی موقع نہیں دینا چاہیے ؟ ایک بار بھی اس کی بات نہیں سننی چاہیے ؟ ۔۔۔ ہو سکتا ہے آپ کے ہر سوال کا جواب انکے پاس موجود ہو ؟ ” لائبہ نے۔ ٹی رسانیت سے کہا تھا
” میں اس کے ساتھ رہ نہیں سکتی شاید ۔۔ کیونکہ وہ اپنے باپ کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا اور میں اس شخص کی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتی جو میری ماں کا قاتل ہے ” حمنہ اب بھی رو رہی تھی
” صرف یہی ایک وجہ ہے سر کو چھوڑ دینے کی ۔۔۔ جو اپنا سب کچھ آپ کے لئے۔ چھوڑ چکے ہیں ۔۔۔۔ ” لائبہ کی باتیں حمنہ کو مزید الجھا رہیں تھیں
” آپی ڈاکٹر فارس کوصرف اس لئے اپنا رہی۔ ہیں کہ انکے احسانات کا بدلہ چکا سکیں ۔۔۔ یہ تو آپ ڈاکٹر فارس کے ساتھ ذیادتی ہی کر رہیں ہیں
وہ آپ سے محبت کرتے ہیں بدلے ۔میں محبت کے ہی طلبگار بھی ہیں ۔۔۔۔ اور آپ کے پاس انہیں دینے کے لئے کیا ہے آپی ؟ ۔۔۔ ایک دل بھی نہیں ۔۔۔۔ کیا یہ انکے ساتھ منافقت نہیں ہوگئ ۔۔۔ آپ ڈاکٹر فارس کے اخلاص کو احسان کا نام دے کر انکی محبت کو دھوکہ دے رہی ہیں ۔۔۔۔ ” لائبہ کی بات پر حمنہ بےجڈےہ بولی
” میں نے اس سے کبھی نہیں کہا کہ
میں اس سے محبت کرتی ہوں ۔۔۔ وہ بچوں سے بہت اٹیچ تھا مجھے لگابچوں کو باپ مل جائے گا،اور یہ بات بھی میں نے فارس سے بہرحال کہی ہے ۔۔۔۔ اس نے وعدہ لیا تھا
مجھ سے۔۔۔ میں اپنے وعدے کی پابند ہوں لائبہ ۔۔۔۔ مکر نہیں سکتی ۔۔۔۔ اللہ وعدہ خلافی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا میں نے آج تک بہت کم کسی سے۔ وعدے کیے ہیں اور کبھی وعدے کی خلاف ارضی نہیں کی ۔۔۔۔ ” حمنہ کی آنکھیں مسلسل بہہ رہیں تھیں
” مطلب اگر وہ آپ کو اپنے وعدے سے آذاد کر دیں اور آپ کو آپکی خواہش پر چھوڑ دیں تو آپ کافیصلہ ڈاکٹر فارس کے حق میں کیا ہوگا آپی ۔۔۔۔ ہاں یا ناں “
” میں اس سے کبھی محبت نہیں کر سکتی لائبہ ۔۔۔۔ کبھی بھی نہیں ۔۔۔۔ یہ میرے بس میں نہیں ہے ۔۔۔۔ورنہ ان پانچ سالوں میں کر لیتی ۔۔۔۔ محبت بے اختیار سا جذبہ ہے ۔۔۔۔ ہو جائے تو پل میں ہو جائے نا ہو تو مدتوں ساتھ رہتے ہوئے بھی نہیں ہوتی پھر
ہم لڑکیاں ہوش سنبھالتے ہی اپنے ہر خواب صرف ایک شخص کے لئے سنبھال کے رکھتی ہیں لائبہ۔۔۔۔ اور وہ ہوتا ہے ہمارا شوہر ۔۔۔ کچی عمر سے ۔ یہی سوچتی ہیں ہماری محبت کا حقدار ایک ہی شخص ہے عمر کا ایک حصہ خواب بننے میں گزار دیتی ہیں کہ جب شادی ہو گی تو شوہر سے اپنے ہر جذبے اظہار کریں گئے ۔۔۔ میں بھی ایسی ایک عام سی سوچ رکھنے والی لڑکی ہی تھی
اور میاں بیوی کارشتہ بھی کچھ ایسا ہے کہ محبت لازمی ہو جاتی ہے ۔۔۔ پھر اصفر ۔۔۔۔” ایک سسکی سی اٹھی تھی
” اسکی محبت پر شک تو کبھی نہیں کر سکتی ۔۔۔۔ اب تو بچے بھی اسکے لئے روتے ہوئے مجھ سے دیکھے نہیں جاتے۔۔۔۔ کیا کروں بہت برے طریقے سے پھنس چکی ہوں میرا انکار فارس کا مجھ پر اعتماد ختم کرتا ہے ۔۔۔۔ پتہ نہیں کیا کر بیٹھے گا خود کو اگر ۔یرہ وجہ غلط قدم اٹھا بیٹھا تو خود کو کبھی معاف نہیں کر پاؤں گی ۔۔۔ اور دوسری طرف میرے بچے ۔۔۔۔ ” حمنہ رونے لگی تھی
” آپی روئے تو مت ۔۔۔۔۔ ” لائبہ کو وہ بھی بے قصور ہی لگ رہی تھی
” لائبہ ۔۔۔۔ نور کی رو رو کر آنکھیں سوج گئ ہیں ۔۔۔ میری بچی آج سے پہلے کبھی اتنا کسی کے لئے نہیں روئی ۔۔۔ جتنا رات بھر میں اپنے باپ کے ساتھ لگ کر روئی ہے ۔۔۔۔ ” حمنہ کے آنسوں رک نہیں رہے تھے ۔۔۔۔
٫ آپ کہیں تو میں بات کروں ڈاکٹر فارس سے ۔۔۔۔ ” لائبہ کا جی چاہا کہ حمنہ کے لئے کچھ کر سکے ۔۔۔ جو کچھ بھی ہو رہا تھا ۔۔۔ غلط ہورہا تھا ۔۔۔
“تمہیں لگتا ہے وہ کچھ سنے گا ۔۔۔۔ اگر لگتا ہے تو ٹھیک ہے کر لو اس سے بات ” حمنہ ابھی بات کر ہی رہی تھی جب نرس بھاگتے ہوئے اس کے کمرے میں آئی تھی
“ڈاکٹر حمنہ ایکسڈنٹ کیس ہے ۔۔۔دو گاڑیوں کا بہت بری طرح سے ایکسڈنٹ ہوا ہے ۔۔۔۔ چار لوگ بری طرح سے زخمی ہیں ۔۔۔۔ ” نرس نے عجلت سے خبر دی تھی ۔۔۔۔
” او کے میں آ رہی ہوں ۔۔۔ ” حمنہ کے ساتھ لائبہ بھی اٹھ کر کھڑی گئ ۔۔۔۔ ایمبولنس سے مریضوں کو اسٹیچرز پر منتقل کر کے ایمرجنسی وارڈ میں تیزی سے لے جایا جارہا تھا ۔۔۔ ایک گاڑی کو آگ لگ گئ تھی ۔۔۔۔ لیکن موقعے پر لوگوں نے ایمبولنس بلا لی تھی اور گاڑی سے زخمیوں کو نکال چکے تھے ۔۔۔۔ جب اصفر کو گاڑی سے نکالا تو اس اسکے کپڑوں میں آگ لگ چکی تھی اصفر کی جیب سے موبائل کی بل بج رہی تھی ۔۔۔ ایک شخص نے موبائل نکالا تو حسن کمال کی کال آ رہی تھی ۔۔۔ اس آدمی نے کال اٹھا کر بتا دیا کہ اس کا ایکسڈنٹ ہو گیا ہے ۔۔۔۔ اور اب وہ انہیں ہاسپٹل لے جا رہے ہیں ۔۔۔۔ حسن کمال کے تو یہ سن کر پیروں سے زمیں نکلی تھی ۔۔۔۔
” کیا ہوا ہے میرے اصفر کو ۔۔۔۔ کس ۔۔۔کس ہاسپٹل میں لے کر جا رہے ہو ” انکے منہ سے الفاظ ادا نہیں ہو رہے تھے ۔۔۔۔
” جو بھی قریبی ہاسپٹل ملا لے جائیں گئے میں وہاں پہنچ کر آپ کو ہاسپٹل کا نام بتا دوں گا ” اس آدمی نے یہ کہہ کر فون رکھ دیا ۔۔۔۔
ایمبولنس کے پہنچتے ہی ۔۔۔۔ فوراسے انہیں ڈاکٹر بیگ کے ہاسپٹل ہی لے جایا گیا تھا ۔۔۔۔
فارس بھی وہیں موجود تھا ۔۔۔۔ ایکسڈنٹ کافی خطرناک قسم کا ہوا تھا ۔۔۔ ایک گاڑی میں تین لڑکے تھے اور دوسری گاڑی میں صرف ایک مسافر چاروں کی حالت تشویش ناک تھی ۔۔۔
حمنہ ۔۔۔ فارس کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر بیگ بھی ایمرجنسی کی طرف گئے تھے ۔۔۔۔ چاروں مریضوں کے سر سے خون نکل رہا تھا تھا لیکن چوتھے مریض کی گاڑی کو آگ لگنے کی وجہ سے دونوں پاؤں بری طرح سے متاثر ہوئے تھے ہاتھ اور گردن سرخ تھیں آگ کی تپش کے آثرات گردن کو سرخ کر گئے تھے ۔۔۔۔۔ چہرے اور سر سے خون بھی بہہ رہا تھا ۔۔۔ حمنہ اصفر کو دیکھ وہیں منجمد ہوئی تھی لائبہ بھی وہیں تھیں ڈاکٹر بیگ اور فارس دوسرے مریضوں کو دیکھ رہے تھے ان کی نظر اصفر پر نہیں پڑی تھی ۔۔۔۔
” اص۔۔۔فر ” حمنہ کو لگا جیسے بے جان سی ہو گئ ہو ۔۔۔۔۔ وہ دیوانہ وار اسکے اسٹچرز کی طرف بھاگی تھی ۔۔۔۔
“اصفر ۔۔۔ اصفر کیا ہوا ہے آپ کو ۔۔۔۔ ” اسکے خون سے لت پت چہرے کواپنے ہاتھوں میں لئے تڑپ ہی تو گئ تھی
۔۔۔ فارس حمنہ کو دیکھ کر بے ساختہ وہاں پہنچا تھا ۔۔۔۔ اصفر کو دیکھ کر خود بھی پریشان ہو گیا تھا ۔۔۔۔
لائبہ فورا سے نبض چیک کروں اسکی ہری اپ ۔۔۔ ” فارس نے سنجیدگی سے کہا
کیونکہ وہاں لائے گئے مریضوں میں سے ایک ایکسپائر ہو چکاتھا اور ایک اور کی حالت بھی تشویش ناک تھی ۔۔۔۔۔ لائبہ جلدی سے اسٹیتھو سکوپ سے اصفر کی دھڑکن سنے لگی جو بہت سلو چل رہی تھی ۔۔۔۔ جلدی سے واڈ بوائے کی مدد سے اسے بیڈ پر شفٹ کیا تھا ۔۔۔۔ڈاکٹر بیگ بھی اصفر کو چیک کرنے لگے تھے حمنہ بے تحاشہ تو رہی تھی ۔۔۔۔ فارس دوسرے مریضوں کو اسٹاف کے ساتھ ملکر انکی ٹرٹمنٹ کر رہا تھا حمنہ کی اپنی حالت ایسی نہیں تھی کہ کچھ بھی کر سکتی ۔۔۔۔ اصفر کی ڈوبتی دھڑکنوں کو دیکھ کر اسے لگ رہا تھا وہ بھی مر جائے گی ۔۔۔۔ اپنے ڈوپٹے سے اس کے چہرے پر بہتا خون صاف کر رہی تھی
” اصفر خدا کے اٹھ جاؤں بس ایک بار ۔۔۔ اٹھ جاؤں پلیز ۔۔۔ ” اسکی بند آنکھوں کو دیکھ وہ رورہی تھی ۔۔۔۔
” حمنہ پلیز سنبھالو خود کو ” ڈاکٹر بیگ نے اس کی غیر ہوتی حالت دیکھ کر کہا
” باہر جاؤں تم ۔۔۔ تمہاری کنڈیشن ایسی نہیں کہ تم اسے ٹریٹ کر سکو ۔۔۔۔ ” ڈاکٹر بیگ خود بہت پریشان تھے ۔۔۔۔ دو ماہ میں اصفر اپنا آپ ڈاکٹر بیگ کے سامنے منںوا چکا تھا ۔۔۔۔
” نہیں ۔۔مجھے کہیں نہیں جانا ہے ” حمنہ نے صاف انکار کیا تھا
” حمنہ ٹرائے ٹو انڈرسٹنڈ ” حمنہ سے یہ کہہ کر وہ لائبہ کی طرف دیکھ کر بولے
” بی پی بہت لو رہا ہے اس کا فورا سے انجکشن بھر کر دیں مجھے اٹس ٹو مچ ارجنٹ ” ڈاکٹر بیگ نے لائبہ سے کہا فارس دونوں مریضوں کو ٹریٹ کر چکاتھا اب وہ کچھ بہتر حالت میں تھے واڈ بوائے ان کے اسٹچیز لگا رہے تھے اب وہ تیزی سے اصفر کی طرف بڑھا تھا “
” فارس پلیز پہلے حمنہ کو باہر چھوڑ کر آؤں ۔۔۔۔ ” ڈاکٹر بیگ نے فارس سے کہا حمنہ کی موجودگی میں اور جس طرح سے وہ رو رہی تھی کچھ بھی کرنا مشکل تھا حمنہ اب بھی اصفر کا ہاتھ پکڑے ہونٹوں سے لگائے رو رہی تھی ۔۔۔۔
” خدا کے لئے اصفر۔ مجھے چھوڑ کے مت جانا ۔۔۔۔ ” فارس نے حمنہ کو بازو سے پکڑا تھا
” حمنہ پلیز باہر آؤں ” اسوقت تو وہ بھی پریشان تھا
” ” نہیں فارس مجھے نہیں جانا کہیں بھی ۔۔۔ چھوڑو مجھے ” وہ اپنا ہاتھ فارس سے چھڑوارہی تھی ۔۔۔
” حمنہ کیا ہو گیا ہے تمہیں ۔۔۔ ایک ڈاکٹر ہو کر تم یوں کروں گی تو ” ڈاکٹر بیگ حمنہ کی ضد سمجھ نہیں پا رہے تھے لائبہ نے ڈاکٹر بیگ کو انجکشن بھر کر دیا تھا
” نہیں ہوں میں ڈاکٹر ۔۔۔۔ نہیں نبھانا مجھے کوئی فرض تھک چکی ہوں میں اپنے فرائض کی چکی پستے پیستے ۔۔۔ اسوقت میں صرف ایک بیوی ہوں ۔۔۔۔ خدا کے لئے مجھے اصفر کے پاس رہنے دو ” بے بس سی ہو چکی تھی ۔۔۔۔ تھک بھی چکی تھی ماں کو فرض کے ہاتھوں کھو چکی تھی اور اب شوہر سے ایک پل کی دوری جان لیوا لگ رہی تھی ۔۔۔ فارس نے لائبہ سے کہا
” لائبہ اسے باہر لیکر جاؤں یہ یہاں رہے گی تو کچھ بھی کرنے نہیں دے گی اصفر کے سر سے بہت خون بہہ رہا ہے ۔۔۔۔ غلام علی اگر مریض کو اسٹیچز لگ چکے ہیں تو فورا سے یہاں آؤں ” ایک ہی سئنر واڈ بوائے تھا ۔۔۔۔ پہلے تو حمنہ سب سنبھال لیتی تھی لیکن اس وقت اسے سنبھالنا مشکل ہورہا تھا ۔۔۔۔ لائبہ حمنہ کو زبردستی اپنے ساتھ باہر لیکر گئ تھی ۔۔۔۔
بظاہر وہ ٹھیک تھا لیکن خون بہت بہہ چکا تھا ۔۔۔ باقی مریضوں کے لواحقین پہنچ گئے تھے ۔۔۔ اس لئے انکے لئے خون کا بندوبست بھی کر چکے تھے ۔۔۔۔
اصفر کے لئے ڈاکٹر بیگ بلڈ ارینج کرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔۔۔ لیکن کہیں سے کوئی انتظام ہوتا نظر نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔
حمنہ جائے نماز بچھائے رو رہی تھی ۔۔۔ اسوقت تو یہ بھی ہوش نہیں تھی بچے اسکول میں اکیلے ہوں گئے ۔۔۔۔ ایک لائبہ تھی جو سب کچھ ہینڈل کر رہی تھی۔۔۔۔ اس نے مزمل صاحب کو کال کی
“ابو جی آپ بچوں کو اسکول سے واپس لے آئیں آپی کو تو ہوش نہیں ہے کسی چیز کی ۔۔۔۔ سیدھا ہاسپٹل ہی پہنچ جائیے گا ۔۔۔۔ ” لائبہ نے اپنے والد سے بچوں کو اسکول سے لانے کےلئے کہا تھا ۔۔۔۔
*****..۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکول سے چھٹی ہوتے ہی کچھ ہی دیر اسکول خالی ہو چکا تھا بس اسکول کے پرنسپل اور چوکیدار ہی رہ گئے تھے پرنسپل بھی اس لئے وہاں موجود تھا کہ اس کی ذمہ داری تھی کہ جب تک اسکول میں موجود ہیں تب تک وہ ذمے دار ہے ۔۔۔۔ حمنہ کے نمبر پر پرنسپل کال کر چکے تھے لیکن اسے ہوش کہاں تھی۔۔۔۔
اصفر کا نمبر بند جا رہا تھا ۔۔۔۔ دونوں بچے اسکول کے اندر لان کے بینچ پر بیٹھے حمنہ کاانتظار کر رہے تھے
” مان بھائی ۔۔۔۔ میرا دل گھبرا رہا ہے ۔۔۔۔ ” نور بے چین سی تھی
” کیوں پریشان ہو رہی ہو ۔۔۔ آ جائیں گی ممی ” گھبراہٹ تو ایمان کو بھی ہو رہی تھی لیکن بہن کو تسلی دے رہا تھا
” وہ بات نہیں ہے مان بھائی ۔۔۔ مجھے ڈیڈ کی فکر ہو رہی ہے ۔۔۔۔ پتہ نہیں کیوں ۔۔۔ دل چاہتا ہے اڑ کر ڈیڈ کے پاس چلی جاؤں ” نور کا دل باپ کے لئے تڑپا تھا ایمان بھی اسکی طرف دیکھ کر بولا
” سچ کہوں نور ۔۔۔۔ میرا بھی دل چاہتا ہے اڑ کے ڈیڈ کے پاس چلا جاؤں ۔۔۔۔ انکا ہاتھ پکڑ لوں ۔۔۔ ان سے کہوں کے ہمہیں چھوڑ کے کہیں مت جائیں ۔۔۔۔ اگر ہم اچھے بچے ہیں تو پھر کیوں ہمارے ساتھ نہیں رہنا چاہتے ۔۔۔۔۔ ” ایمان نے اپنی آنکھوں کو مسلا تھا ۔۔۔ آنکھوں میں آنے والی نمی کو بہن سے چھپانے کی کوشش کی تھی جانتا تھا اسکی آنکھوں میں آنسوں دیکھ کر نور کارونا بند نہیں ہو گا ۔۔۔ ٹیونس بچے اپنے ساتھ پیدا ہونے والے بہن بھائی کے احساسات جذبات اور سوچ کو دوسرے بہن بھائیوں کی نسبت زیادہ سمجھتے اور محسوس کرتے ہیں یہ ایک فطری سی بات ہے ۔۔۔ اس لئے ایمان نور کی کئ باتیں اس کے کہے بناسمجھ جاتا تھا ۔۔۔۔ وہ ایمان کے مقابلے میں کچھ کمزور تھی ۔۔۔۔ دل بھی ننھا سا سینے میں رکھتی تھی ۔۔۔ بہت جلد خوفزدہ ہو جاتی تھی ۔۔۔۔ اگر نور کی کوئی طاقت تھی تو وہ تھا اس کا بھائی ایمان ۔۔۔۔ نا جانے کیا بات تھی کہ ایمان کے تسلی بخش چند جمعلے نور کے لئے انرجی ٹانک کا کام دیتے تھے ۔۔۔۔ لیکن اگر کسی بات پر ایمان گھبرا جاتا یارو دیتا پھر تو نور کا حوصلہ ہی ٹوٹ جاتا تھا پھر اسکے آنسوں نہیں تھمتے تھے ۔۔۔۔ اس لئے ایمان نور کے سامنے ہمیشہ بہادر بھائی ہی بنا رہتا تھا ۔۔۔۔ اس وقت بھی اس کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھا ۔۔۔۔
جانتا تھا کہ جب تک نور کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں ہے ۔۔۔ نور خود کو محفوظ سمجھتی ہے ۔۔۔۔
اسکول کے باہر بائیک کھڑی ہوئی تھی اس پر مزمل صاحب کو دیکھ وہ دونوں کھڑے ہو گئے انہیں جانتے پہچانتے تھے مزمل صاحب نے پرنسپل صاحب سے اپنا تعارف کروایا پھر وجہ بھی بتائیں پرنسپل نے ایمان سے تصدیق کرائی تھی کہ کیا واقع وہ مزمل صاحب کو جانتا ہے ۔۔۔ ایمان کی رضا مندی پر ہی پرنسپل نے بچوں کو مزمل صاحب کے حوالے کیا تھا ۔۔۔۔
