Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 7
Rate this Novel
Noor-e-Emaan Episode 7
Noor-e-Emaan by Umme Hani
“ٹھیک ہے میں آپ کو سب کچھ سچ سچ بتا دیتی ہوں ۔۔۔ لیکن آپ مجھ سے وعدہ کریں کے اصفر کو میرے بارے میں کچھ نہیں بتائیں گئے ۔۔۔ خاص طور پر نور ایمان کے بارے میں ” حمنہ ڈاکٹر بیگ کو سب کچھ بتانے کے لئے تیار ہو گئ تھی تھک چکی تھی اکیلی حالات سے لڑتے لڑتے ۔۔۔۔
باقی تینوں نفوس خاموش تھے ۔۔۔
حمنہ نے بات اصفر سے ہونے والی پہلی ملاقات سے شروع کی تھی ۔۔۔۔
ہڑتال کے چند دن تو بعد کی سب کی تنخواہیں بحال ہو چکیں تھیں ۔۔۔۔ اس گہما گہمی پر کئ لوگ زخمی ہوئے تھے
چند دن بعد زارا بڑی تیزی سے حمنہ کے واڈ میں پہنچی تھی جہاں وہ کسی خاتون کی فائل پکڑے نرس سے اسکی ہسٹری پوچھ رہی تھی ۔۔۔
“حمنہ آج کا اخبار دیکھا تم نے؟ ” زارا کچھ متحیر سی لگ رہی تھی
” زارا یہ ڈیوٹی آوور ہیں ۔۔۔ میرے پاس تو ایسی فضولیات کی فرصت نہیں ۔۔ اور تم بھی یہ سب چھوڑ کر آؤں اور سامنے بیڈ نمبر 9کی ہسڑی لکھوں ڈاکٹر یوسف راؤنڈ پر آگئے تو اچھی خبر لیں گئے تمہاری ” حمنہ کی بات پر زارا نے اخبار کھول کر اسکے سامنے رکھ دیا ۔۔۔ سامنے تصویر دیکھ کر حمنہ کے ہاتھ سے فائنل گری تھی اس نے اخبار پکڑ کر پھر غور سے دیکھا ۔۔۔ وہی تھا بلکل وہی ۔۔۔۔ واڈ بوائے اصفر ۔۔۔۔ حسن کمال کا بیٹا اصفر حسن کمال ۔۔۔۔ جو ڈاکٹر اور سرجن بھی ہے ۔۔۔۔ایک نامور سیاسی شخصیت کا کامیاب آپریشن کرنے کی وجہ سے ان دونوں باپ بیٹے کی تصویر اس سیاسی مشیر کے ساتھ کھنچی گئ تھی ۔۔۔۔ حمنہ کچھ پل تو سوچنے سمجھنے سے قاصر ہوئی تھی ۔۔۔ پچھلے ایک مہینے سے وہ شخص اسے بیوقوف بنا رہا تھا ۔۔۔ گری ہوئی فائل نرس نے اٹھائی تھی ۔۔۔حمنہ کے تو تلوں پر لگی اور سر پر جا کر بجھی تھی ۔۔۔ وہ سیدھی ڈاکٹر یوسف کے روم میں گئ تھی اتفاق تھا کہ وہ اس وقت اکیلے بیٹھے تھے پہلی بار حمنہ بنا اجازت مانگے بڑے غصے سے اندر آئی تھی اخبار ڈاکٹر یوسف کے سامنے رکھا جہاں حسن کمال کے ساتھ اصفر بھی کھڑا مسکرا رہا تھا ۔۔۔ ڈاکٹر یوسف نے دیکھ کر حمنہ سے نظریں چرائیں تھیں
“کیا ہے یہ سب”
” حمنہ پلیز بیھٹو میری بات ذرا تحمل سے سنو ‘
” مجھے کچھ نہیں سننا بس ایک سوال جواب دیدیں ۔۔۔۔ کیا سمجھ کر آپ نے مجھے ایک مزاق کے طور پر استعمال کیا ۔۔۔۔ ؟,” حمنہ نے غصے سے دریافت کیا
” میں نے اصفر کو منع بھی کیا تھا لیکن ” یوسف شرمندہ ہوا تھا
” مجھے چھٹی چاہیے میری ایپلی کیشن آپ کو زار دیدے گی ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر حمنہ وہاں سے نکل گئ تھی ڈاکٹر حسن کمال کے ہاسپٹل کا کیسے نہیں معلوم تھا وہاں سے بس میں بیٹھ سیدھا انکے ہاسپٹل پہنچی تھی ۔۔۔ نئے طرز کا خوبصورت پراویٹ ہاسپٹل تھا صفائی اور خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھا ۔۔۔۔
حمنہ ریسپشن پر پہنچ کر اس نے ڈاکٹر اصفر کے بارے میں پوچھا
” مجھے ڈاکٹر اصفر سے ملنا ہے “
” ایم سوری او پی ڈی کے نمبر ختم ہو چکے ہیں ۔۔۔۔۔ اب تو آخری نمبر چل رہا ہے آپ کل آئیے گا ” ریسپشنر پر کھڑی لڑکی نے رجسٹر دیکھ کر منع کیا
” میں پیشنٹ نہیں ہوں آپ ان سے کہیں کہ ڈاکٹر حمنہ ان سے ملنے آئی ہے ۔۔۔ ” ریسپشنر نے کال ملائی اور اصفر کو اطلاع دی ۔۔۔۔
” آپ یہاں سے رائٹ چلی جائیں سامنے ڈاکٹر اصفر کاروم ہے ” ریسپشنر نے اسے سامنے لابی کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔ وہ سیدھا اس کے دروازے کے سامنے جا کر رکی تھی جہاں بڑی سے تختی اسکے نام کی لگی تھی دروازہ ناک کر کے وہ اندر گئ تھی اصفر شاید ہر بات سے باخبر تھا اس لئے اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے کھڑا ہوا تھا
” ہیلو ڈاکٹر صاحبہ
ع
وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
کبھی ہم انکو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
۔۔۔ آئیے تشریف رکھیے ” اصفر اس کے غصے کو نظر انداز۔ کرتے ہوئے بولا وہ بیٹھنے کے بجائے اس کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئ ۔۔
” ہر لڑکی آپ کے لئے تفریح کا سامان ہے؟ ۔۔۔ جس سے آپ جب تک چاہیں دل بہلاتے رہیں ” وہ غصے سے بولی تھی
” جی نہیں میں نے آپ کو ایسا کبھی نہیں سمجھا ۔۔۔۔ بس ایک چھوٹا سا مزاق کرنا چاہا تھا وہ بھی صرف چند دن ۔۔ اس کے بعد میرا ارادہ تھا کہ آپ سے ایکسکیوز کر لوں گا ۔۔۔ لیکن مجھے آپ اچھی لگنے لگیں ۔۔۔۔ آپ آج یہاں نا بھی آتیں تب بھی آج میں خود آپ کو حقیقت سے آگاہ کر دیتا ۔۔۔ ” حمنہ نے اس گھورتے ہوئے دیکھا تھا ۔۔۔
” آئندہ مجھ سے ایسا مزاق دوبارہ مت کیجیے گا” حمنہ نے انگلی اٹھا کر کہہ کر وہ جانے لگی تھی
” حمنہ میں چند دن تک اپنی موم ڈیڈ کے ساتھ آپ کے گھر آؤں گا ۔۔۔ ” اصفر کی بات پر وہ دوبارہ اسکی طرف پلٹی تھی
” وہ کیوں ” حمنہ کی نا فہمی پر وہ مسکراتے ہوئے خود اسکے پاس آیا تھا اوورآل کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اسے غور سے دیکھتے ہوئے بولا
” کوئی لڑکا کسی لڑکی کے گھر اپنے ماں باپ کو کیوں بھیجتا ہے؟ ۔۔۔ میرے خیال سے تو جب کوئی لڑکا کسی لڑکی کے معاملے میں بلکل سنجیدہ ہو تو یہ نہایت مہذب طریقہ ہے اپنی پسندیدگی اور محبت کے اظہار کا ۔۔۔۔ میں آپ کو ہمیشہ کے لئے اپنا بنانا چاہتا ہوں ۔۔۔ اپنے پورے نیک جذبات کے ساتھ ” حمنہ یہ سب ہونق بنکر سن رہی تھی وہ اسے خوب باتیں سنانے آئی تھی ۔۔۔ لیکن اس سے اس قسم کا محبت کا اظہار سن کر جیسے سارے لفظ گم ہوئے تھے ۔۔۔۔ جب کچھ نہیں سوجھا تو کمرے سے باہر نکل گئ پہلی بار دھڑکنوں میں بے ترتیبی سی ہوئی تھی ۔۔۔ سیدھا گھر گئ تھی کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھایا رات تک خود کو کاموں
میں الجھائے رکھا ۔۔۔۔ لیکن ذہن پر جیسے کسی کی باتوں کا جادو سا چل گیا تھا ۔۔۔۔۔ اس نے دل لگی نہیں کی تھی ۔۔۔ دوستی کے لئے بھی نہیں کہا تھا نا ہی کوئی گھٹیا سے جمعلے بازی کی تھی ۔۔ کتنے صاف ستھرے لفظوں سے اظہار کیا تھا محبت کے لئے سب سے پہلے عزت کو ترجعی دی تھی ۔۔۔ ڈاکٹر حمنہ جیسی با اصول لڑکی کے لئے دلچسپی کا باعث یہی ایک بات تھی ۔۔۔ لیکن رات کو بستر پر لیٹے ہی جیسے حقیقتوں نے نئے رخ سامنے کیے تھے
امیر اور مشہور ڈاکٹر حسن کمال کا بیٹا ۔۔۔۔ جسے پوراشہر نام سے ہی جانتا پہچانتا ہے اور دوسری جانب حمنہ مصطفی جس کی ابھی کوئی پہچان ہی نہیں تھی ۔۔۔۔ امیری غریبی کی دیوار حائل تھی ۔۔۔۔ بھلا اتنا بڑا ڈاکٹر کیوں اپنے بیٹے کے لئے اسے پسند کرے گا ۔۔۔ آنکھوں میں خواب سجانے سے پہلے ہی حمنہ نے خود کو ڈپٹا تھا ۔۔۔۔ یہ ممکن نہیں شاید یہ بھی اصفر ہو چال ہو تا کہ حمنہ اسے برا بھلا نا کہہ سکے بھلا اسے کیا پتہ میرا گھر کہاں ہے ۔۔۔۔ بیوقوف بنا رہا ہوگا ۔۔۔ وہ خود کو مطمئن کر چکی تھی ۔۔۔۔
ہوش اس دن آڑے تھے جب واقع تین دن بعد اتوار کے دن وہ پائپ لگائے صحن کا فرش جھاڑو سے شپڑ شپڑ دھو رہی تھی کندھے سے ڈوپٹہ لائے کمر پر باندھے شلوار ٹخنوں سے اوپر تک کیے ہوئے ۔۔۔ وہ صحن دھو رہی تھی جب دور بیل ہوئی ۔۔۔۔
“کون ہے “دروازے کے پاس جا کر حمنہ نے پوچھا تھا
” جی میں اصفر دروازہ کھولیے حمنہ میرے پیرنٹس بھی میرے ساتھ ہیں ۔۔۔ ” نام سن کر حمنہ کی جان نکلی تھی آنکھیں پھیلیں تھیں اس وقت تو عجیب وغریب حلیے میں تھی ایک ہاتھ میں جھاڑو دوسرے میں پائپ جلدی سے پہلے دونوں چیزیں ہاتھ سے پھنکیں تھیں پھر فٹافٹ سے ڈوپٹہ کھول کر سر پر لیا تھا پھر اندر سے اپنی والدہ کو بلا لائی۔۔۔ لیکن اس وقت تک گیٹ کے پاس پائپ سے بہنے سے پانی نے ساری جگہ بھر دی تھی حمنہ کی بوکھلاہٹ کے مارے سوج بوجھ گم ہوئی تھی۔۔۔۔ سر پر ہاتھ مارا جلدی سے جا کر نل بند کیا ۔۔۔۔ وائپر سے پانی نالی میں گرایا اور اپنی والدہ کو دروازہ کھولنے کا کہہ کر خود اندر چلی گئ وہ پوچھتی ہی رہ گئیں کہ آیا کون ہے ۔۔۔ کمرے میں آکر اپنی منتشر ہوتی دھڑکنوں کو اعتدال پر لانے لگی
” بھلا اتنی بھی جلدی کیا تھی آنے کی انسان پیغام تو دیتا ہے آنے سے پہلے ۔۔۔ گھر پر دھنگ کی کوئی چیز بھی نہیں ہے سامنے رکھنے کے لئے کیاسوچیں وہ لوگ کہ ہم بلکل ہی کنگلے ہیں ۔۔۔ افف حمنہ سامنے نا جانا ہی بہتر ہے ۔۔۔ پھر اپنے حلیے کا خیال آیا ۔۔۔ کہیں سے ڈاکٹر حمنہ والا حلیہ نہیں تھا اس وقت گھر کے رف سے کپڑے پہنے وہ صفائی ستھرائی میں مصروف تھی ۔۔۔۔ جلدی سے الماری سے استری شدہ ایک کاٹن کا جوڑا نکال کر پہنا ۔۔۔۔ پھر کچن کا رخ کیا ایک جوس پیک نکال کر وہ گلاسوں میں ڈالے اندر لے گئ ۔۔۔ سامنے ہی حسن کمال پینٹ کوٹ پہنے ٹانگ ہے ٹانگ رکھے بیٹھے تھے اور ان کے ساتھ ایک خوبصورت اور اسمارٹ سی خاتون ساڑھی میں ملبوس تھیں اور تیسرا وہ تھا جو اپنے وعدے کا پکا تھا ۔۔۔۔ اب بھی بلیک پینٹ شرٹ میں اسے دیکھتے ہوئے مسکرا رہا تھا ۔۔ پہلی بار حمنہ کے ہاتھ میں لرزش سی ہوئی تھی ۔۔۔ دل کی بے ہنگم دھڑکنوں نے اس کی سننے سے انکار کیا تھا ۔۔۔ کسی کی نظروں نے بدحواسی سی طاری کرنی شروع کی تھی ۔۔۔۔۔ وہ سیدھا اندر داخل ہوئی باری باری جوس کے گلاس سب کو پکڑے تھے ۔۔۔ اور ٹرے سامنے ٹیبل پر رکھ دی
“بیٹھوں بیٹا ” خاتون نے بڑی محبت سے اسے کہا ۔۔۔حمنہ اپنی والدہ کے برابر میں بیٹھ گئ ۔۔۔ جو چپ بیٹھیں تھیں ۔۔۔ کافی سنجیدہ بھی تھیں
” ماشاللہ سے بہت پیاری ہے آپکی بیٹی ” تعریف بھی اس خاتون نے کی تھی ۔۔۔
” بیٹا اصفر بتا رہا تھا کہ آپ نے میڈیکل King Edward Medical University
سے اسکالرشپ پر کیا ہے ؟٫ یہ پہلا سوال تھا جو حسن کمال نے کیا تھا ۔۔۔
حمنہ کے لئے یہ۔ بھی شوکنگ نیوز تھی ۔۔۔ گھر کا پتہ اصفر کو معلوم تھا مگر کیسے ۔۔وہ ابھی یہ گھتی ہی سلجھا نہیں پائی تھی کہ یہ دوسرا دھچکا تھا ۔۔۔ اس کے بارے اتنی معلومات وہ جمع کیے بیٹھا تھا ۔۔۔ اور وہ بے خبر تھی
” جی “
“زبردست ۔۔۔۔ دیکھنے میں بہت کم عمر لگتی ہو اور سرجری ۔۔۔۔ہاؤس جاب ٹو مچ ” حسن کمال کے منہ سے اپنی تعریف سن رہی تھی ۔۔۔۔ توصیفی نگاہوں کے احاطے میں خود کو دیکھنا ۔۔۔۔ سب سے اچھا شاید آج ہی لگ رہا تھا ۔۔۔۔
” یوسف بھی تعریف کر رہا تھا تمہاری ۔۔۔ اس لئے میں تو مزید سوال وجواب کیے بنا ہی اس رشتے پر رضامندی دیتا ہوں ۔۔۔ باقی سب آپ سب خواتین آپس میں مل کر لیں کہ معاملات طے کیسے کرنے ہیں اصفر انگوٹھی پہناؤں بھئ ہماری بہو کو ” حسن کمال کی بات سن کر حمنہ کے ساتھ ساتھ اسکی والدہ بھی حیرن ہوئیں تھیں ۔۔۔ اس طرح سے کب رشتے طے ہوا کرتے ہیں
” لیکن بھائی صاحب ۔۔۔ ابھی تو آپ آئیں ہیں رشتہ لیکر ۔۔۔ ہمہیں کچھ تو سوچنے کا موقع دیں ” حمنہ کی والدہ نے برجستہ کہا تھا
” سوچنے کا موقع ۔۔۔۔ “حسن کمال کا قہقہ گونجا تھا
” تو میں یہ مزاق سمجھوں جو آپ نے ابھی کہا ؟ ۔۔۔ حسن کمال کو دنیا جانتی ہے ۔۔۔ آپ کا شاید میڈیکل سے واسطہ نہیں پڑا لیکن حمنہ کے لئے تو میں انجان ہر گز نہیں ہوں گا کیوں حمنہ ؟” حسن کمال کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ تھی ۔۔۔ فخر تھا یا غرور گھمنڈ حمنہ سمجھ نہیں پائی تھی لیکن یہ سچ تھا کوئی بھی میڈیکل اسٹوڈنٹ ایسا نہیں تھا جو حسن کمال کے نام سے انجان ہو
“جی میری امی سادہ سی خاتون ہیں اسلئے ذیادہ مشہور ہستیوں کو نہیں جانتیں ” حمنہ نے دھیرے سے اعتراف کیا تھا
” ہاں مجھے بھی ایسا ہی لگا تھاورنہ اس قسم کا سوال مجھ سے ہر گز نا کرتیں ۔۔۔۔ حسن کمال کے بیٹے کے لئے کسی بھی بیٹی کی ماں کو سوچنے کے ضرورت ہر گز نہیں ہے ۔۔۔ سوچنے کا کام میرا تھا وہ میں سوچ چکا ہوں ۔۔۔ انگوٹھی کا مقصد منگنی ہر گز نہیں ہے ۔۔۔ بس سمجھ لیں یہ رشتہ پکا ہو گیا ہے ۔۔۔ منگنی تو اصفر کی جب میں کروں گا تو دنیا دیکھے گی ۔۔۔ ” اس بار بھی لہجے میں رعونیت تھی اصفر اور اسکی والدہ البتہ صرف مسکرا ہی رہے تھے ۔۔۔۔
” حمنہ کیا تم انہیں اچھے سے جانتی ہو ؟ ۔۔۔۔ مجھے کیوں نہیں بتایا بیٹا؟ ” حمنہ کی والدہ نے دھیرے سے حمنہ کی جانب دیکھا کر کہا تھا جو خود ابھی تک متذبذب تھی۔۔۔ سب کچھ اچانک سے ہوا تھا ۔۔۔ ابھی خود کو ہی کہاں یقین دلا پائی تھی پھر گھر ۔میں کوئی مرد ہوتا تو بات بھی کرتا ماں بیٹی کہاں حسن کمال کا مقابلہ کر سکتیں تھیں
” امی میں آپ سے بعد ۔میں بات کروں گی ” حمنہ نے دھیرے سے ماں سے کہا
” لیکن بیٹاوہ انگوٹھی پہنانےکا بول رہے ہیں بھلا ایسے کیسے ؟ “حمنہ کی والدہ کی پیشانی پر بلوں کا جال تھا ۔۔۔۔ حسن کمال انکی ناگواری کو محسوس کر کے بولے
” اینی پرابلم حمنہ ” ڈاکٹر حسن کمال یوں حمنہ سے بات کر رہے تھے جیسے پہلے سے کچھ بے تکلف ہوں یا اسے اچھے سے جانتے ہوں
” ہمارے ہاں رشتے یوں طے نہیں ہوتے ہیں پھر میں خود بھی نہیں جانتی تھی کہ آپ لوگ اچانک سے آ جائیں گئے ” ہمت کر کےحمنہ نے ہی بات شروع کی تھی
انہوں نے گھور کر اصفر کی جانب دیکھا تھا وہ گڑبڑا سا گیا تھا ۔۔۔ باپ سے ڈرتا تھا ۔۔۔ اس لئے بات کور کرنے لگا
” حمنہ میں نے کہا تو تھا آپ سے کہ میں چند دن میں آؤ گا “
” جی لیکن میں نے حامی تو نہیں بھری تھی “
” انکار بھی تو نہیں کیا تھا ۔۔۔ پلیز اب یوں تو مت کیجیے میں بہت مان سے اپنے پیرنٹنس کو لایا ہوں ” جتنی لجاجت سے وہ بات کر رہا تھا حمنہ کے ساتھ ساتھ اسکی والدہ بھی چپ سی ہو گئیں ۔۔۔
” جی بتائیے بہن انگوٹھی پہنائے یا واپس چلے جائیں ” حسن کمال کا لہجہ ویسا ہی تھا بے لچک سا
” جی آپ پہنا دیں انگوٹھی لیکن ہمارے ہاں لڑکا خود سے لڑکی کو انگوٹھی نہیں پہناتا بلکہ رشتہ لیکر کر۔ بھی خود نہیں آتا ” حمنہ کی والدہ کی اس قسم کی دقیا نوسی بات سن حسن کمال اچھنمبے میں آئے تھے
” واٹ ۔۔۔۔۔” غصیلی نظریں پھر سے اصفر کی جانب اٹھیں تھی
“یہ سب پرانے دور کی باتیں بہن جی۔۔۔ اب یہ سب کون دیکھتا ہے ” اصفر کی والدہ نے مسکرا کر کہا شوہر کے تپے ہوئے چہرے کو دیکھ کر بات کو سنبھالنے کی کوشش کی تھی
“لیکن ہم لوگ دیکھتے ہیں ” حمنہ کی والدہ اپنے موقف پر قائم تھیں
” او کے اٹس ناٹ کا بگ ایشو موم حمنہ کو رنگ آپ پہنا دیں ” اصفر اب کافی سنجیدہ لگ رہا تھا ۔۔۔۔ حسن کمال مسلسل بیٹے کو گھور رہے تھے ۔۔۔۔ جس نے پچھلے چار دن سے اس لڑکی کی تعریف میں زمین و آسمان ایک کر دئیے تھے۔۔۔ کہ مجبورا انہیں ہی ہار ماننی پڑی
ایک تو تھرڈ کلاس قسم کے لوگ اس پر حسن کمال کے سامنے اپنی شرطیں رکھدہے تھے ۔۔۔۔ حسن کمال کو کہاں یہ سب برداشت تھا
اصفر کی والدہ نے اپنے پرس سے انگوٹھی نکال کر حمنہ کو پہنا دی ۔۔۔۔ جوس کا گلاس اصفر اور اسکی والدہ نے تو آدھا آدھا پھر بھی پیا تھا لیکن حسن کمال نے ہاتھ تک نہیں لگایا تھا ۔۔۔۔ کچھ دیر بعد جب وہ لوگ چلے گئے تب ساری بات حمنہ نے اپنی والدہ کو مختصر سی بتائی تھی
” حمنہ تمہیں مجھے تو بتانا چاہیے تھا بیٹا ۔۔۔ نا انکے سامنے کچھ ڈھنگ رکھنے کو تھا ۔۔۔ نا سمجھ آ رہی تھی بات کیا کریں پھر اتنے امیر لوگ ہیں میں تو سوچ سوچ کے پریشان ہوں کیسے میل ملاپ نبھاؤں گی ان سے ۔۔۔ جو انا فانا رشتہ بھی جوڑ گئے ہیں تم سے ۔۔۔۔”
” امی مجھے کیا پتہ تھا کہ وہ سچ میں آ جائیں گئے ۔۔۔ مجھے لگا یونہی کہا ہو گا ‘” حمنہ خود ابھی تک شوکڈ تھی
” چلو اب جو ہونا تھا ہو گیا ۔۔۔ وہ حسن صاحب تو بڑی سی منگنی کا کہہ رہے ہیں ۔۔۔ اور انگوٹھی بھی مہنگی پہنا کر گئے ہیں تمہیں ۔۔۔۔۔ ظاہر ہے مجھے بھی ایسا ہی کچھ کرنا پڑے گا ” حمنہ کی والدہ کو ایک نئ فکر ستائی تھی
” امی مجھے فکر نہیں پڑتا بے شک انکار کر دیں رشتے سے۔۔۔۔۔ ” حمنہ کو خود یہ افراتفری سمجھ نہیں آئی تھی
” ہاں اگر انکی ڈیمانڈیں ہماری حیثیت سے باہر ہوئیں تو معذرت کر لوں گی ۔۔۔ حمنہ کیا نمبر ہے تمہارے پاس اس لڑکے کا ؟ سب کچھ اتنا اچانک ہوا کہ اسکی امی کا نمبر میں لے نہیں پائی ۔۔۔۔
انہیں ایک بار بلاؤں گی صاف بات کروں گی پھر انکی مرضی رشتہ رکھیں یا ختم کر دیں اپنی چادر سے باہر پاؤں نہیں پھیلا سکتی ۔۔۔۔”حمنہ کی والدہ اس رشتے کو لیکر مطمئن سی نہیں تھیں
” جی امی میں نمبر لیکر آپکی بات کروا دوں گی “
حمنہ کو مناسب نہیں لگا کہ فورا سے اصفر کو فون کرے
وہ سو رہی تھی جب موبائل کی رات کو بارہ بجے بیل مسلسل بجنے سے اسکی آنکھ کھلی
برابر میں اسکی والدہ سو رہی تھی اس نے بنا دیکھے ہی فون اٹھایا تھا کہ کہیں بیل سے اسکی والدہ کی نیند خراب نا ہو جائے ۔۔۔
” ہیلو جی کون ” وہ دھیرے سے بولی
” اصفر بول رہا ہوں کیسی ہیں ڈاکٹر صاحبہ ” وہ بڑی ترنگ میں بات کر رہا تھا جیسے فریش مائیڈ ہو
” اس وقت کال کی آپ نے خیریت ؟” حمنہ نے با مشکل آنکھیں کھولے موبائل پر ہی ٹائم دیکھا تھا
” کیوں اس وقت کیا ہے ۔۔۔۔ بارہ ہی تو بجے ہیں “
” جی کہیے کوئی ضروری بات تھی ؟” حمنہ کمرے سے باہر نکل آئی تھی کہ کہیں والدہ کی آنکھ نا کھل جائے
” جی ہاں بہت ضروری ۔۔۔۔ بہت ساری باتیں کرنی ہیں اتنی کے شاید صبح ہو جائے ۔۔۔۔ ” جس شوخ میزاجی سے وہ بات کر رہا تھا حمنہ سمجھ گئ تھی کہ وہ کون سی باتیں کرنے کے لئے بے تاب ہے اس کی نظروں میں اپنی پسندیدگی دیکھ چکی تھی لیکن اپنی ولیوز کو چھوڑ نہیں سکتی تھی
” لیکن مجھے صبح ڈیوٹی پر جانا ہے ” اس لئے اس نے بست ڈالنے کی کوشش کی
” وہ تو مجھے بھی جانا ہے جب میں آپکے لئے اپنی نیند کی قربانی دے سکتا ہوں تو آپ کیوں نہیں “
” اصفر مجھے راتوں میں باتیں کرنے کی عادت بھی نہیں ہے ” حمنہ نے اکتائے ہوئے کہا
” لیکن مجھے تو ہے ۔۔۔ اور مجھے آپ سے ڈھیر ساری کرنی بھی ہیں ۔۔۔۔ دیکھیں شادی میں تب کروں گا جب تک کہ آپکی ہاؤس جاب پوری نا ہو جائے ۔۔۔۔ اور اس میں ابھی ایک سال باقی ہے ۔۔۔ ایک سال میں اپنے اس رشتے کے چارم کو خوب انجوائے کرنا چاہتا ہوں ۔۔ آپ سے روز فون پر بات کیا کرو۔ گا ۔۔۔۔ اور اس میں کوئی ایکسکیوز بھی نہیں سنو گا “اسکے خیالات سن کر حمنہ نے کان سے فون ہٹا کر فون کو یوں گھورا جیسے اصفر کو گھور رہی ہو پھر فون کان پر لگا کر سخت لہجے میں بولی
” لیکن میں تو اس طرح سے بات نہیں کر سکتی امی کو پسند نہیں ہے پھر غیر مناسب سا لگتا ہے ۔۔۔ ۔۔ اور ابھی بہت کچھ طے ہونا باقی ہے ۔۔۔۔ میری امی آپکی والدہ سے بات کرنا چاہتی ہیں ” حمنہ کو یہ تک نہیں معلوم تھا کہ یہاں اسکی شادی ہو بھی پائے گی کہ نہیں
” ہاں تو کر لیں بات ۔۔۔۔روکا کس نے ہےمعاملات کو طے کرنا بڑوں کا کام اور انڈسٹنڈنگ ڈولپ کرنا میرا اور آپکا کام ہے ۔۔۔۔ہمہیں ایک دوسرے کو جاننے کا حق ہے حمنہ “
” میں یہ سب ضروری نہیں سمجھتی ۔۔۔۔۔ ان سب کے بنا بھی زندگی اچھی گزر جاتی ہے ” حمنہ کی بات پر وہ بے یقینی سے بولا
” واٹ ۔۔۔۔ نو حمنہ خاموش منگنیاں
مجھے بلکل پسند نہیں ۔۔۔۔ منگنی کاایک اپنا چارم ہوتا ہے ۔۔۔ ایک دوسرے کو گفٹس دینا باتیں کرنا ۔۔۔ ہوٹلنگ کرنا ۔۔۔ مجھے تو آپ کے ساتھ اہناہر رشتہ انجوائے کرنا ہے بھر پور طریقے سے “
” اصفر میں اس وقت سونا چاہتی ہوں ۔۔۔ مجھے صبح جلدی اٹھنا ہے ۔۔۔۔ ” حمنہ نے مدافعانہ انداز اپنایا تھا
” او کے آج سو جائیں کیونکہ کل میری باتوں سے آپکی نیندیں اڑنے والی ہیں ۔۔۔۔ جیسی آپ نے آجکل میری اڑا رکھیں ہیں ” اصفر کی بات پر حمنہ نے برجستہ فون بند کیا تھا سمجھ گئ تھی کہ وہ اس سے کس قسم کی گفتگوں کرنا چاہ رہا ہے ۔۔۔۔
کمرے میں واپس آ کر وہ لیٹ گئ ۔۔۔۔ کبھی اپنی امی کی باتیں سوچنے لگی کبھی اصفر کی باتیں ۔۔۔۔ کافی دیر بعد اسے نیند آئی
*******……
گھر لوٹ کر حسن کمال نے تیکھی نظروں سے اصفر کو نوازہ تھا ٹائی کی نیٹ ڈھیلی کر کے وہ صوفے پر ڈھے گئے تھے ۔۔۔۔
” جو کچھ تم نے کیا ہے اصفر ۔۔۔ مجھےتم سے ہر گز یہ امید نہیں تھی ۔۔ “
” ڈیڈ غلطی میری ہی تھی میں نے حمنہ سے آج آنے کا ذکر نہیں کیا تھا”اصفر نے صاف گوئی سے کام لیا
” بہرحال میں بحث نہیں چاہتا ۔۔۔ اس لڑکی کو اچھی طرح سمجھا دینا کہ اپنے طور طریقے اپنے گھر چھوڑ کر آئے ۔۔۔۔ یہاں صرف حسن کمال کی بات چلتی آئی ہے اور اسی کی چلے گی منگنی میں ایک مہینے بعد بہت بڑے ہوٹل میں آرگنائز کروں گا ۔۔۔ جس طرح کے وہ علاقے میں رہتے ہیں
صرف لڑکی اور اسکی ماں کے علاؤہ انکا کوئی رشتےدار اور محلے دار مجھے ہال میں نظر نا آئے۔ ۔۔۔ ” یہ کہہ کر وہ اپنے کمرے میں چلے گئے اصفر کا رکا ہواسانس بحال ہوا تھا
” موم پلیز ڈیڈ کو کچھ سمجھائیں ناں ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ وہ لوگ کسی کو نا بلائیں ” اصفر اب ماں کی منت کرنے لگا
” او کے فکر مت کروں ابھی غصے میں ہیں میں سمجھا دوں گی ۔۔۔۔ تم نے بھی اسکے معیار سے ہٹ کر لڑکی ڈھونڈی ہے اور پھر انکی بات پر انہیں بلیک میل بھی کیا ہے ۔۔ کہ ڈیڈ آپ نے ڈاکٹر لڑکی کی شرط رکھی تھی اور وہ لڑکی ڈاکٹر ہی ہے ۔۔۔ کہاں انکی ایک بھی سنی تم نے ۔۔۔ ” اصفر کی موم نے پیار سے اسکا کان کھینچتے ہوئے کہا ۔۔۔
” بیکوز آئی لو ہر سو مچ موم ” وہ ان کے کندھے پر سر رکھ کر لاڈ سے بولا ۔۔۔ رات کو حمنہ سے بات کرنے کے لئے دل نے دہائی ڈالی تھی ۔۔۔ لیکن اسکے روکھے سوکھے مزاج نے جیسے ابھرتے ہوئے ارمانوں پر اوس کی ڈال دی تھی۔۔۔ شام کو وہ گورنمٹ ہاسپٹل میٹھائی لیکر یوسف کے پاس پہنچا تھا جس نے حسن کمال کے سامنے اصفر کی فل سفارش کی تھی حم ہ کاسارا ریکوڈ سننے رکھ دیا تھا اور وہ ایمپریس بھی ہوئے تھے ۔۔۔۔
اتفاق ایسا تھا کہ حمنہ سمیت اس کا سارا گروپ یوسف کے روم میں تھا ۔۔۔ انکی ڈیوٹی ختم ہو چکی تھی اور وہ انکے واپسی کی اجازت مانگنے ہی آئیں تھیں جب اصفر اندر داخل ہوا ۔۔۔۔
حمنہ اسے دیکھ کر پتہ نہیں کیوں کنفوژ سی ہوئی تھی پھر اس نے یوسف کے سامنے میٹھائی رکھتے ہوئے حمنہ سے رشتہ طے ہو جانے کی خبر بھی سب کے سامنے سنائی تھی زارا سمیت سب لڑکیاں حیران ہو کر حمنہ کو دیکھ رہیں تھیں ۔۔۔ حمنہ نے تو کسی سے ذکر تک نہیں کیا تھا ۔۔۔ اور وہ ۔۔۔۔۔ نا جانے کس بات کی جلدی تھی اس شخص کو ۔۔۔۔ اسکی ماں رشتے کولیکر ابھی تک تردد میں تھیں اور وہ شخص ہر جگہ اعلان کیے ہوئے تھا سب نے میٹھائی لگاتے ہوئے حمنہ کو مبارک باد دی تھی ۔۔۔ وہ بیچاری بری طرح سے نروس ہو رہی تھی بس وہاں سے جانے کی جلدی تھی لیکن اصفر کوئی اور پروگرام بنائے گھر سے نکلا تھا ۔۔۔۔
حمنہ بھی اپنی باقی دوستوں کے ساتھ ہاسپٹل سے باہر نکلنے لگی تھی لیکن اصفر نے بڑے بے تکلفانہ انداز سے اس کا ہاتھ تھاما تھا ۔۔۔ سب کے سامنے اصفر کی یہ حرکت حمنہ کو بری سی لگی تھی ۔۔ ایک سینئر ڈاکٹر کو یہ سب باتیں تو زیب نہیں دیتی تھیں ۔۔۔ جو وہ کر رہا تھا
” حمنہ آپ کو میں ڈرپ کر دوں گا مجھے آپ سے بہت سی باتیں کرنی ہیں ” وہ مسکراتے ہوئے حمنہ کو اور بھی برا برا لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔ پھر اسکی باقی دوستوں سے مخاطب ہوا
“آپ لوگ جا سکتی ہیں ” سب ہی معنی خیز مسکراہٹ لئے چلی گئیں حمنہ کو لگا جیسے اسکی تربیت پر مزاق اڑا ہو
” یہ بات آپ بنا ہاتھ پکڑے بھی کہہ سکتے تھے ۔۔۔ ہاتھ چھوڑیے میرا “حمنہ کے یک دم بدل جانے والے رویے پر وہ حیران ہوا تھا اس کا ہاتھ بھی چھوڑ دیا
” واٹ ۔۔۔۔ اینی پرابلم حمنہ ” اسکے یک دم روٹ ہو جانے پر اصفر کو یقین نہیں آ رہا تھا
” میرے ڈیوٹی آوور ختم ہو چکے ہیں ۔۔۔ مجھے گھر جانا ہے ۔۔۔” بڑا بے لچک سا رویہ تھا ۔۔۔
” میں آپ کو چھوڑ دوں گا ۔۔ مجھے کچھ بات کرنی ہے آپ سے میرے خیال سے میں اتنا بھی انجان نہیں ہوں آپکے لئے کہ ہم ایک اچھے سے ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر بات نا کر سکیں ۔۔۔ کل ہی تو میرے نام کی انگوٹھی پہنی ہے آپ نے ” اصفر نے جیسے اپنے نئے رشتے کے بارے میں جتایا تھا
” اگر کسی سے رشتہ طے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ میں آپ کے ساتھ بلا تکلف ریسٹورنٹ میں گھومتی رہوں ۔۔۔۔ اور میری پک اینڈ ڈراپ کی ذمہ آپ کی ہو چکی ہے تو یہ غلط ہے ۔۔۔۔ میرے خیال سے رشتہ طے ہو جانے کی شریعی کوئی ایسی حیثیت نہیں ہے کہ ہم یوں بے تکلف ہوں ” حمنہ کے منہ اس قسم کی دقیانوسی بات کی توقع اصفر کو تو ہر گز نہیں تھی
” مطلب کیا اس بات کا ۔۔۔ میں آپ کو کوئی ان میچور سڑک شاپ عاشق نظر آتا ہوں حمنہ ۔۔۔۔ کل میرے پیرنٹنس نے آکر آپکی اور آپکی والدہ کی پوری رضا مندی سے سب کی موجودگی میں یہ رشتہ طے کیا ہے ۔۔۔۔ آپ کو کیا لگتا ہے جو کچھ کل ہوا وہ جھوٹ تھا ۔۔۔ڈرامہ تھا ۔۔۔ یا میرے نزدیک رشتوں کی اہمیت نہیں ہے ۔۔۔ یا پھر میں نے آپ کے ساتھ وقت گزاری کے یہ گھٹیا طریقہ آزمایا ہے ۔۔۔۔ اس شہر کے سب سے بڑے نامور ڈاکٹر اور سرجن حسن کمال کا بیٹا ڈاکٹر اصفر حسن کمال اس قسم کی گھٹیا حرکت کرے گا آپکی سوچ پر افسوس ہے مجھے ۔۔۔ ” وہ غصے سے غرا کا بولا تھا باپ والا غرور اور گھمنڈ اسکی آنکھوں اور انداز سے چھلکا تھا
” آپ میری بات کو غلط رنگ دے رہے ہیں ” وہ سنجیدگی سے بولی صفر تاسف سے
اسے دیکھ رہا تھا
” اوہ آئی سی ۔۔۔ تو میں غلط سوچ رہا ہوں او کے تو بتائیں کہ صحیح کیا ہے ڈاکٹر صاحبہ ” وہ تپے ہوئے لہجے سے بولا
” دیکھیں میں آپ سے پہلے بھی کہہ چکی تھی ۔۔ کہ میرے اور آپ کے ماحول میں زمین وآسمان کا فرق ہے ۔۔۔۔۔ میں اپنی فیملی ولیوز کے خلاف نہیں چل سکتی ۔۔۔ جب تک شادی نا ہو جائے میں آپ کے ساتھ کہیں بھی جانا مناسب نہیں سمجھتی ۔۔ اور اگر آپ کو یہ غیر مناسب لگتا ہے تو اپنے فیصلے پر دوبارہ نظر ثانی کر سکتے ہیں آپ۔۔۔۔ ابھی ہمارے درمیان ایسا کوئی رشتہ نہیں کہ ہم سوچ نا سکیں ۔۔۔۔ ” حمنہ نے اپنے ہاتھ سے انگوٹھی اتار کر اصفر کے سامنے کر دی ۔۔۔ بڑے تاسف سے وہ اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ انگوٹھی کو پکڑا تک نہیں
” میں نے ابھی اس بارے سوچا نہیں ہے کہ جس لڑکی کو بڑی عزت اور محبت سے میں کل یہ انگوٹھی پہنا کر آیا ہوں آج اسی کے ہاتھ سے واپس لے لوں ۔۔۔۔ اسے ابھی اپنے پاس رکھیے میرا فیصلہ چند دن تک آپ کو مل جائے گا ۔۔۔ پھر بے شک اسے میرے منہ پر مار دیجیے گا ۔۔۔ ” غصے سے یہ کہتا ہوا وہ وہیں سے پلٹ گیا تھا ۔۔۔۔
