Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 1
Rate this Novel
Noor-e-Emaan Episode 1
Noor-e-Emaan by Umme Hani
پر کیف ہوا ۔۔۔۔۔
نم ہوا کا جھونکے کے ساتھ ۔۔۔ کئ چھوٹی چھوٹی بوندیں اس کے چہرے سے ٹکرائیں تھی سرد ہوا نے کپکپانے پر مجبور کیا تھا
آسماں سے موتیوں کی مانند برستی بارش اور اسکے ساتھ چھوٹے چھوٹے سفید موتیوں جسے برف کے شفاف اولے گویا یوں معلوم ہوتا تھا جیسے موتیوں سے پیروئی مالا کے نازک سے دھاگے سے چھن سے ٹوٹ کر زمیں پر گرے ہوں ۔۔۔آن ہی آن میں تواتر سے برستے ہوئے موتی باہر باغیچے کی گھاس پر گرنے ہی غائب ہو گئے ۔۔۔۔سارے آسمان کوسرمئ بادلوں نے اپنی اوٹ میں چھپا لیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
اس نے کھڑی سے باہر ہاتھ بڑھا دیا ہتھیلی پر گرتے ہوئے چھوٹے سے اولے سفید شفاف موتیوں کی طرح اسکے ہاتھ سے گر کر کچھ زمین پر گرنے لگے اور کچھ اسکی ہتھیلی پر ٹہر گئے۔۔۔۔ لیکن چہرہ بے تاثر تھا ۔۔ یہ خوبصورت منظر بھی آنکھوں کو بھلا نہیں لگ رہا تھا
منظر کاتعلق دل سے بہت گہرا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔دل اگر اداس اور مغموم ہو تو دیکھنے والی آنکھ اسے الگ نظریے سے دیکھتی ہے
یہی سرمئ بادل ۔۔۔۔کالے بادلوں کا روپ دھار لیتے ہیں ۔۔۔۔موتیوں جیسے برستی بارش یک دم آنکھوں سے برسنے والے آنسوں کے مترادف لگنے لگتی ہے ۔۔۔۔۔۔یوں لگتا ہے گویا پورا آسمان اس کے غم میں آنسوں بہا رہا ہے بادلوں کی گرج دل سے اٹھنے والی دبی دبی سسکیوں کو ہوا دینے لگتی ہے ۔۔۔۔۔۔بجلی کے تیز چمک آسمان کو چیرتی ہوئی دل کے سلے کچے زخموں کو ادھیڑنے لگی ہے ۔۔۔۔لگتا آسمان کے بڑے سے سینے پر برسوں سے چھپے کئ زخم جیسے اس تیز چمکتی دھار دار بجلی نے چیر کے رکھ دیے ہوں اور پورا آسماں بھی تڑپ کر آنسوں بہانے پر مجبور ہو گیا ہو اس وقت آسماں مضطرب اور وحشت ناک لگتا ہے۔۔۔۔ہر انسان باہر کے موسم کا اپنے دل سے موازنہ کرتا ہے اگر وہ خود خوش ہے تو چلچلاتی دھوپ بھی سردیوں کی سرد اور میٹھی دھوپ لگتی ہے ۔۔۔۔اگر دل افسردہ ہے تو بہاروں کے رنگ برنگے پھول بھی خزاں کا رنگ اوڑھے نظر آتے ہیں ۔۔۔۔لیکن حمنہ کے لئے موسم جیسے ٹہر سے گئے تھے ۔۔۔۔۔پچھلے چھ سالوں سے نا دل کی کیفیت میں کوئی لمحہ گلاب ہوا نا ہی مری جیسے خوبصرت شہر کا ہی اس پر کچھ اثر ہوا ۔۔۔۔۔اس پرسکون ماحول میں بھی اس نے خود کو اتنا مصروف رکھا تھا کہ کئ کئ دن وہ کھڑی سے باہر بھی نہیں دیکھتی کہ دن ہے یا رات ۔۔۔۔۔۔
******…….
سخت سردیوں کی رات۔ ۔۔۔۔۔بلکل اندھیری رات گھپ اندھیرا ۔۔۔۔اس نے کھڑی سے پردا ہٹایا ۔۔۔۔باہر ہر چیز برف سے ڈھکی ہوئی نظر آنے لگی حد نظر تک برف ہی برف ۔۔۔۔۔کمرے میں واحد جلتا آتشدان بھی اب کمرے کے سرد ماحول کو اپنی گرم حدت دینے میں نا کام ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔اسکی چلتی ہوئی آگ مسلسل پڑنے والی برف باری کے باعث اور سردی کی بڑھتی ہوئی شدت سے کافی حد تک بجھنے کے قریب تھی ۔۔۔۔۔کمرے کے ایک طرف رین کوٹ ٹنگا ہوا تھا ۔۔۔۔آتشدان کے قریب ایک راکنگ چیر پر کتاب رکھی تھی کچھ ہی فاصلے پر ایک سنگل بیڈ ۔۔۔۔۔اور دو پٹ کی دیوار گیر الماری ۔۔۔۔۔اس نے گہری سانس لی اور دوبارہ آتش دان کے پاس آکر بیٹھ گیا اپنے دونوں سرد ہاتھوں کو آتش دان کے قریب کیا لیکن اگلے ہی پل اپنی ہتھیلیوں کو آپس میں رگڑتے ہوئے کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔۔اپنے واحد سنگل بیڈ پر لیٹ کر ڈبل رضائی اپنے اوپر کھنچ کر لی اور سونے کی کوشش کرنے لگا رات کی تاریخ میں آتشدان کی ہلکی سی مدھم روشنی ایک نائٹ بلب کی کمی پوری کر رہی تھی اس نے آنکھیں بند کیں اور سونے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔۔ نیند ان چھ سالوں ۔میں بہت کم ہی اس پر مہربان ہوئی تھی۔۔۔۔
صبح سورج بھی ایسے نکلا کہ جیسے اسکا زمین سے پردہ ہو ۔۔۔۔یا کوئی باحیا لڑکی کسی اجنبی کو پردے کی اوٹ سے دیکھ رہی ہو ۔۔۔۔سورج کی مدھم اور بادلوں کے دھند سے با مشکل نکلتی کرنیں اب زمیں پر پہنچتے خود بھی بادلوں کو اوڑھ چکی تھیں اس نے کسمسا کر کروٹ لی کمرے میں اب بھی ہلکی روشنی تھی لیکن آتشدان بجھ چکا تھا سورج کی مدھم روشنی کمرے کی واحد کھڑکی پر ٹنگے پرانے سے پردے سے کمرے کو اتنا ہی روشن کر پائی تھی دن ہونے کا ہلکاسااحساس ہونے لگے وہ اٹھ بیٹھا تھا ۔۔۔ کمرے کاایک اچٹتی نظر سے جائزہ لیا پھر رضائی کو ایک طرف پھنکا ہاتھ منہ دھو کر اپنی موٹی جیکٹ اور لونگ شوز پہنے باہر جانے لگا ۔۔۔۔۔کمرے کے دروازے کے کھلتے ہی اسکی چرچراہٹ کی آواز باہر پڑی برف کی وجہ سے جلد ہی دم توڑ گئ تھی ۔۔۔دروازہ ذراساکھل کر اب مزید نہیں کھل رہا تھا ۔۔۔۔۔شاید برف کی وجہ سے ۔۔۔۔۔مگر ذرا سا دھکا دینے پر وہ کھل گیاباہر چاروں طرف سفید برف کسی سفید روئی کے گالوں کی طرح ہر سو پھیلی ہوئی تھی جیسے زمین نے سفید پوشاک پہن لی ہو ۔۔۔سامنے لگے درخت جو رات کو ایک خوف ناک منظر پیش کر رہے تھے اب برف کی سفیدی سے ڈھکے ہوئے تھے۔۔ لیدر کی موٹی جیکٹ ہاتھوں میں چمڑے کے موٹے دستانے پاؤں میں بھی لونگ شوز اور سر پر گرم ٹوپی کے باوجود سرد ہوا پورے جسم میں سنسنی سے دوڑارہی تھی جسے بجلی کی روڈ پورے وجود میں گھومنے لگی ہو وہ جھرجھری لے کر رہ گیا ۔۔۔۔۔۔چہرے پر پڑتی یخ بست ہوا نے اسکے چہرے کو پل بھر میں برف کی ماند ٹھنڈا کر دیا ۔۔۔۔اس نے ایک گہری سانس کھنچ کر لی منہ سے دھواں نکلا ہونٹ کپکپائے اور وہ دونوں ہاتھ اپنی جیبوں میں ڈالے آبادی کی طرف روانہ ہو گیا ۔۔۔۔ہر قدم پر اسکے پاؤں برف کی تہہ میں گھسنے لگتے تھے وہ بامشکل ہی خود کا توازن برقرار رکھ پا رہا تھا ۔۔۔۔پھر وہ یہاں کا رہائشی تو تھا بھی نہیں جو اس طرح کے موسم کو با آسانی فیس کرتا ۔۔۔۔مگر بہر حال وہ رکے بغیر بس احتیاط سے قدم رکھتے ہوئے اب قریب کے ایک ہوٹل تک پہنچ گیا۔۔۔۔۔وہاں پر زیادہ تر رہائشی لوگ موجود تھے ۔۔۔۔گورے چٹے رنگ روپ اور اور مضبوط اعصاب کے مالک پٹھان ۔۔۔۔وہاں کا مالک اسے پہچانتا تھا ۔۔۔۔اسے دیکھ کر مسکرانے لگا ۔۔۔ اسکے سامنے رکھے چائے کے بڑے سےدیچکے سے دھواں اٹھ رہا تھا ۔۔۔۔۔اندر ڈھابے نما ہوٹل کا ماحول باہر سے قدرے گرم تھا
“پردیسی بابو۔۔۔۔۔ آو۔۔۔۔آو بیٹھو ہم تم کو آج اسپیشل والا چائے پلائے گا سونف الائچی والا “۔۔۔۔۔اس نے اس پٹھان کی بات کا جواب بس اپنی خفیف سی مسکراہٹ سے دیا ۔۔۔۔اور پورے ہال میں نظریں گھمائیں ۔۔۔۔چند ٹیبل کے علاؤہ سبھی ٹیبل خالی تھے ۔۔۔۔وہ ایک کونے کے ٹیبل پر بیٹھ گیا ۔۔۔ جہاں وہ رہتا تھا وہ جگہ یہاں سے کافی فاصلے پر تھی اس لیے یہاں تک پہنچنے تک وہ کافی تھک چکا تھا اور سانس بھی پھول رہا تھا کچھ سردی اس قدر لگ رہی تھی کی اسکو اپنے دانت بجتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے ۔۔۔۔۔اس شہر میں وہ پچھلے پندرہ دن سے تھا ۔۔۔۔کئی سالوں بعد اس نے اسکی یہیں ایک جھلک دیکھی تھی ۔۔۔۔ وہ بھی بس ایک پل کے لئے ۔۔۔۔۔حالانکہ وہ بہت فاصلے پر تھی ۔۔۔۔بس پل میں ہی آن کے آن غائب بھی ہو گئ ۔۔۔۔اس کے پیچھے بھاگتے ہوئے وہ کئ بار اس برف پر اپنا توازن کھو کر گرا تھا مگر پھر بھی اسے اس کے کھو جانے کاڈر بھاگنے پر مجبور کرتا رہا ۔۔۔وہ شاید یہاں کے موسم اور راستوں پر چلنے کی عادی ہو چکی تھی اس لیے تیزی سے نا جانے کہاں غائب ہو گئ ۔۔۔ نا جانے وہ یہاں موجود بھی تھی یا یہ بھی اس کا کوئی قیاس تھا۔۔۔۔۔کئ بار وہ اسے اپنے خیالوں میں اپنے ارد گرد دیکھتا تھا ۔۔۔۔یا اس سے مشابہ کوئی لڑکی نظر آجاتی تودیوانہ وار اس کے پیچھے بھاگنے لگتا ۔۔۔۔اور جب اسے قریب سے دیکھتاتو مایوسی سے واپس پلٹ جاتا ۔۔۔ مگر اس بار اسے یہ اپنا خیال نہیں لگا رہا تھا نا ہی کوئی مشابہ شکل ۔۔۔۔۔وہ وہی تھی ۔۔۔ورنہ اس سے نظریں ملتے ہی وہاں سے تیزی سے بھاگتی نہیں وہ اس کا خیال یا مغالطہ نہیں تھی سوفیصد وہی تھی وہ اتنا بڑادھوکہ نہیں کھا سکتا تھا ۔۔۔۔ پندرہ دن پہلے اس نے اسے یہاں دیکھا تھا اور اسکے بعد وہ یہاں سے واپس جا ہی نہیں پایا جہاں اسے دیکھا تھا وہیں آس پاس میں ایک پرانا سا کمرہ کرایے پر لیکر اس نے اپنی رہائش گاہ بنا لیا تھا ۔۔۔ وہ قریب کے سبھی علاقوں کو دیکھ چکا تھا ۔۔۔۔مگر وہ ۔۔۔۔دوبارہ اسے نظر نہیں آئی ۔۔۔۔ لڑکے نے ایک کپ چائے ٹیبل پر رکھا وہ چونک گیا ۔۔۔سوچوں کا تسلسل یک دم ہی چھناک سے ٹوٹا تھا ۔۔۔
“صاب جی چائے “۔۔۔۔وہ لڑکا کپ رکھ کر چلا گیا
******…….
ایمبولنس کی آوازوں کی گونج اسکے لئے کوئی نئ بات تو نہیں تھی ۔۔۔۔جس فیلڈ سے وہ تعلق رکھتی تھی وہاں دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں کئی بار انہیں آوازوں کی بازگشت میں رہنا پڑتا تھا ۔۔۔۔۔مگر جب بھی یہ آواز اسکے کانوں میں پڑتی اسکے اعصاب پورے آب وتاب سے جاگ جاتے ۔۔۔۔چاہے وہ بارہ گھنٹے کی ڈیوٹی سے تھک کر گہری نیند میں ہی کیوں نا سوئی ہوتی ۔۔۔۔ اب بھی وہ مسلسل چودہ گھنٹوں سے جاگ رہی تھی اور مسلسل ایک کے بعد ایک کیس دیکھ کر تھکن سے چور ہو کر کچھ دیر آرام کے غرض سے آ کر لیٹی تھی رات کے تین بج رہے تھے مگر وہ ایمبولنس کی آواز پر چوکنا سی ہو کر اٹھ بیٹھی اس وقت اس چھوٹے سے علاقے کے واحد ہاسپٹل میں وہ ہی سنئر ڈاکٹر کے طور پر موجود تھی ۔۔۔۔جلدی سے واش روم جا کر اس سرد موسم میں بھی ٹھنڈے پانی سے منہ دھو کر گویا خود کو مزید جگانے کے لئے تیار کیا تھا ۔سفید رنگت پر یخ پانی نے اچھا اثر ڈالا تھا۔۔۔ وہ خود کو کچھ تروتازہ محسوس کر رہی تھی ۔پھر اپنا اوور آل پہن کر کمرے سے باہر نکل گئ ۔۔۔۔باہر کی گہما گہمی واڈ بوائے اور نرسوں کے بھاگ دوڑ سے ہی سمجھ گئ کہ اب اس کا الرٹ ہونے کا وقت آچکا ہے ۔۔۔۔ایک کار ایکسڈنٹ کا کیس تھا ادھیڑ عمر شخص بری طرح زخمی حالت میں اسڑیچر پر لایا گیا تھا ۔۔۔۔۔ڈاکٹر فارس آن دا ڈیوٹی تھے ۔۔۔۔اسلئے وہ کچھ مطمئن ہو کر واپس اپنے کمرے میں آ گئ ۔۔۔۔ابھی اپنی کرسی پر بیٹھے اسے کچھ ہی دیر ہوئی تھی ایک نرس نے اندر آنے کی اجازت مانگی
“یس کم ان “
“ڈاکٹر صاحبہ ڈاکٹر فارس آپ کو بلا رہے ہیں ۔۔۔ “
“او کے آپ جائیں میں آتی ہوں ۔۔۔۔ جلدی سے اپنا اسٹیتھو سکوپ ہاتھ میں لیا اور عجلت سے راہداری سے ہوتے ہوئے ایمرجنسی وارڈ کی طرف چلنے لگی ہمیشہ کی طرح اب بھی کسی مریض کی تشویش ناک حالت کے بارے میں سوچتے ہی اسکی دھڑکنیں تیز ہونے لگتی تھی ڈاکٹرفارس کا بلاوا اس بات کا گواہ تھا کہ ۔مریض کی حالت یقینا خطرے میں ہے ۔۔۔۔۔وہ ایمرجسی واڈ کے شیشے کے دروازے کے اندر ہی داخل ہوئی سامنے اسڑیچر پر لیٹے مریض کو دیکھ کر اس کے قدم وہیں جم گئے ۔۔۔۔۔ کانوں میں گونجتی آوازیں جیسے قدموں کی وقتی زنجیر بنی تھیں
“تم اگر اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئی تو مجھے یقینا انتہائی قدم اٹھانا پڑے گا ۔۔۔۔اوروہ تمہاری موت بھی اگر ہوا نا لڑکی تو حسن کمال اس سے بھی گریز نہیں۔ کرے گا “سامنے اسڑیچر پر لیٹے خون سے لت پت مریض کو دیکھ کر اس کے کانوں میں ان کے کہے ہوئے جمعلوں کی باز گشت گوجنے لگی ۔۔۔۔۔ڈاکٹر فارس اسے دیکھتے ہی اسکے قریب آ گیا
“ڈاکٹر حمنہ ہمیں انکا فوری طور پر آپریٹ کرنا پڑے گا اٹس ارجنٹ کانچ ٹوٹ کر انکے پیٹ میں گھس چکا ہے ۔۔۔۔میں اسٹاف کو کہہ چکا ہوں ۔۔۔اپ بھی فرش ہو کر آجائیں” ۔۔۔۔ وہ تو جیسے بت بنی ایک ٹک اس شخص کودیکھے جارہی تھی جیسے ذہنی طور پر وہاں موجود ہی نا ہو ۔۔۔۔ ڈاکٹر فارس کی باتیں جیسے بے معنی سی لگ رہیں تھیں
“ڈاکٹرحمنہ” ۔۔۔۔۔ڈاکٹرفارس نے اسے کندھے سے ہلایاوہ چونک سی گئ
“آر یوآل رائیٹ ۔۔۔۔” ڈاکٹر فارس کی بات کا جواب اس نے با مشکل دیا تھا
“یس ۔۔۔۔۔ایوری تھنک از آل رائٹ ۔۔۔۔آپ پیشنٹ کو آپریشن تھیٹر میں منتقل کروائیے میں بس کچھ دیر آتی ہوں “۔۔۔۔۔حمنہ وہیں سے الٹے قدم پلٹ گئ ۔۔۔۔اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے خود کو کرسی پر گرا لیا اسٹیتھوسکوپ گلے سے اتار کر ٹیبل پر پٹخا دونوں کہنیوں کو ٹیبل پر رکھ کر ہاتھوں سے اپنے سر کی کنپٹیاں دبانے لگی ۔۔۔۔جو اس وقت درد کی شدت اختیار کر چکی تھیں
” تم کیا سمجھتی ہو …..تم ایک معمولی سی لڑکی۔۔۔۔اس شہر کے بڑے اور نامور ڈاکٹر کو شکست دے سکتی ہے ۔۔۔میرا ایک اشارہ تمہیں صفحہ ہستی سے مٹا سکتا ہے “۔۔۔۔۔وہیں آوازیں جن سے وہ کبھی پیچھا نہیں چھڑوا پائی تھی ۔۔۔۔۔نرس جب کمرے میں داخل ہوئی تو حمنہ نے سر اٹھا کر نرس کو استفہامیہ انداز سے دیکھا
“ڈاکٹر فارس آپ کا انتظار کر رہیں ڈاکٹر حمنہ “
حمنہ اٹھ کر کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔
تم جاؤں میں آتی ہوں” ۔۔۔۔۔حمنہ نے گرین کوٹ آپریشن کے لئے پہنا کر گلوز اور ماسک پہنا اور آپریشن تھیٹر میں داخل ہو گئ ۔۔۔۔۔ڈاکٹر فارس پہلے سے وہاں موجود تھا اور ان کے ساتھ ایک دو جونیر ڈاکٹرز بھی تھے ۔۔۔۔حمنہ جب قریب آئی تو پہلی بار اسے مریض کی حالت پر ترس نہیں آیا ۔۔۔اسوقت وہ اسکے رحم کرم پر ہوش کی دنیا سے بے خبر تھا ۔۔۔ پیٹ سے کان کے ڑے ٹکڑے نکسل دیے گئے تھے ۔۔۔ لیکن ،زخم اتناگہراتھا جگر کو ہلگا سا زخمی کر گیا تھا ۔۔۔ پہلی بار حمنہ کی نا دل کی دھڑکنوں میں کوئی ارتعاش پیدا ہوا ۔۔۔۔۔نا ہی ہر بار کی طرح حمنہ نے دل ہی دل میں اللہ سے اس مریض کی لمبی زندگی کی تہہ دل سے دعا کی ۔۔۔۔۔ہاں مگر عادتا لبوں سے ہر بار کی طرح بسم اللہ کہنا نہیں بھولی تھی آپریشن شروع کرنے سے پہلے ۔۔۔۔وہ بسم اللہ ضرور پڑھتی تھی ۔۔۔۔اس کے ترجمعے کو اپنے دل میں پورے یقین سے دوہراتی تھی شروع اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا ہے ۔۔۔۔ایے میرے اللہ اس وقت یہ مریض سب سے ذیادہ تیری رحمت کا طلبگار ہے ہے اور میں بلکل بے بس اور معمولی سی انسان ہوں تیری مدد کے بغیر بے شک میں نا کام ہوں بس تو میری مدد فرما اور اس مریض پر رحم فرما ۔۔۔ یہ لفظ اب بھی ادا ہوئے مگر لفظ رحم پر وہ یہ سوچنے لگی کہ کیا واقع یہ شخص رحم کا حقدار ہے ۔۔۔۔۔پھر ایک لمبی گہری سانس لی اور آپریشن شروع کر دیا ۔۔۔۔حمنہ نے قصدا اس شخص کے چہرے کی طرف ایک بار بھی نہیں دیکھا بس سبک رفتاری سے اپنا کام ایمانداری سے کرتی رہی اسے معلوم تھا کہ اگر نظر اس کے چہرے پر پڑ گئ تو شاید اپنی ڈیوٹی غیر جانبداری سے نہیں نبھا پائے گی ۔۔۔۔۔
******……
موبائل کی مسلسل بجتی ہوئی بیل کو وہ اپنے کمرے میں بیڈ پر اوندھا لیٹا کب سے نظر انداز کر رہا تھا ۔۔۔ ۔باہر پھر سے برف باری کا سلسلہ جاری تھا ۔۔۔۔پہلے تو اس کا دل چاہا فون اٹھا کر دیوار پر دے مارے ۔۔۔۔۔مگر نا جانے کیوں فون اٹھا کر تڑخ کر بولا
“کیا مصیبت ہے تمہیں سیفی ۔۔۔۔کیوں فون کیا ہے تم نے “
“اصفر ۔۔۔۔۔اصفر ڈیڈ کا ایکسڈنٹ ہو گیا ہے “۔۔۔۔ وہ کافی گھبرایا ہوا بول دیا تھا
“واٹ ۔۔۔۔۔کب ۔۔کہاں۔۔۔۔ کیسے” ۔۔۔۔اصفر گھبرا کر اٹھ بیٹھا
“وہ کل ہی اپنے دوست سے ملنے مری گئے تھے ۔۔۔۔واپسی پر برفباری کی وجہ سے شاید گاڑی سلپ ہو گئ ۔۔۔۔ابھی بھی مری کے ایک ہاسپٹل سے کال آئی ہے ۔۔۔۔میں لاہور سے نکل چکا ہوں ۔۔۔۔تم کہاں ہو “سیف الرحمن نے عجلت میں پوچھا
“میں مری سے قریب ہی ایک چھوٹے قصبے میں ہوں تم مجھے بتاؤںکہ کس ہاسپٹل میں ہیں ۔۔۔” اصفر نے فکرمندی سے پوچھا
سیف نے اسے ایڈریس بتایا ۔۔۔۔صبح کا ملجگا سااندھیرا چھایا ہوا تھا فجر کی آذانیں کب کی ہو چکی تھیں ۔۔۔۔اصفر نے سردی کی پروا کیے بغیر اسی وقت وہاں سے نکلنے کا فیصلہ کیا ۔۔۔۔۔
********………********
فجر کی نماز حمنہ نے اپنے کمرے میں ہی پڑھی۔۔۔۔حمنہ جائے نماز تہہ کر رہی تھی جب ڈاکٹر فارس نے کمرے کادروازہ ذراسانوک کیا اور پھر اندر ایک ٹرے پر دوکپ چائے کے سجائے لا کر ٹیبل پر رکھ دیے حمنہ نے جائے نماز ایک طرف رکھا اور خود اپنی کرسی پر بیٹھ گئ
“آپ نے کیوں زحمت کی ڈاکٹر فارس ۔۔۔۔کسی نرس سے کہہ دیتے” ۔۔۔۔حمنہ نے ٹرے سے ایک کپ اٹھا کر کہا فارس بھی اسکے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ چکا تھا
“بس میں نے سوچا اتنا کامیاب آپریشن کرنے کے بعد آپ کا حق بنتا ہے کہ میرے ہاتھ کی چائے پیے ۔۔۔۔قسم سے حمنہ میں نے یہ چائے اپنے ہاتھوں سے بنائی ہے خاص آپ کے لئے ۔”۔۔۔۔۔فارس کافی خوشگوار موڈ میں بولا ۔۔۔۔حمنہ مسکرا بھی نہیں سکی بس کپ اپنے لبوں پر لگا لیا
اور چائے کے چھوٹے چھوٹے گھونٹ پینے لگی
“کیا بات ہے آج آپ کافی چپ چپ ہیں ۔۔۔۔ورنہ تو ہر مریض کے آپریشن کے بعد اس کا پورا بائیوڈیٹا جاننے کا کافی تجسس ہوتا ہے تمہیں ۔۔۔۔اور آج کی شخصیت توویسے بھی بڑی نامور ہے” ۔۔۔۔فارس شاید خود ہی اس نامورشخصیت کی تفصیل بتانے کے لئے کافی بے تاب تھا
“جانتی ہوں لاہور کے بہت مشہور ڈاکٹر اوربڑے سرجن ہیں یہ ۔۔۔۔لیکن مجھے نامور شخصیتوں کے بارے ۔میں جاننے کی ذرا سی دل چسپی نہیں ہے” ۔۔۔۔حمنہ کے اسپاٹ اور دو ٹوک انداز کر فارس کچھ ۔تحیر سا ہو گیا چائے کا خالی کپ ٹیبل پر رکھ کر اس نے ایک تہہ شدہ پیپر فارس کے سامنے رکھتے ہوئے نہایت مہذب لہجے میں کہا
” ڈاکٹر فارس پلیز آپ ڈاکٹر بیگ سے کہہ دیجیے گا میں چند دن کی چھٹی لینا چاہتی ہوں اور یہ میری درخواست بھی ان تک پہنچا دیجیے گا ۔۔۔”۔حمنہ نے اپنی ایپلی کیشن فارس کے سامنے رکھ دی اور اپنی گاڑی کی چابی لی اور وہاں سے اٹھ کر چلی گئ ۔۔۔۔فارس بس اسے یوں جاتے ہوئے دیکھتارہ گیا پھر ایک نظر اس درخواست پر ڈالی ۔۔۔۔
“یہ لڑکی کبھی میری میری سمجھ میں نہیں آ سکتی ۔۔۔۔۔۔ہر مریض کو وہ یوں ٹریٹ کرتی جیسے وہ اس کا بہت قریبی واقف کار اور عزیز ہو ۔۔۔۔اتنا نرم ملائم لہجے سے بات کرتی کہ سب کے دل موہ لیتی تھی ۔۔۔۔ہر مریض کی بات بہت سکون اور غور سے سنتی تھی ۔۔۔۔۔مگر یہ پہلا ہی کیس ایسا تھا جس میں حمنہ کی دلچسپی نا ہونے کے برابر تھی ۔۔۔۔فارس نے کندھے اچکائے اور اپنی چائے پینے لگا
******……
اصفر صبح سات بجے کے قریب اپنے مطلوبہ ہاسپٹل میں پہنچا تھا تیزی سے ریسپشن پر بیٹھی لڑکی سے بولا
“ڈاکٹر حسن کمال ۔۔۔۔”
“جی وہ ابھی آئی سی یو میں ہیں ۔۔۔۔ آپ یہاں سے لیفٹ جائیں گئے تو سامنے ہی آئی سی یو ہے ۔۔۔۔”۔اصفر فورا سے لابی سے ہوتا ہوا کوریڈور سے سیدھا آئی سی یو کی طرف بڑھنے لگا ۔۔۔۔۔سامنے ہی ڈاکٹر فارس کسی نرس کو انسٹرکشن دے رہے تھے ۔۔۔۔اصفر سیدھا انہیں کے پاس چلا گیا
“مجھے ڈاکٹر حسن کمال سے ملنا ہے ” اصفر نے ڈاکٹر اصفر سے کہا
“آپ ۔؟۔۔۔۔”
“میں بیٹا ہوں ان کا ۔۔۔۔ڈاکٹر اصفر حسن کمال ۔۔۔۔میرے والد کی کنڈیشن اب کیسی ہے ” اصفر نے فکرمندی سے پوچھا
“اوہ ۔”۔۔۔ڈاکٹر فارس نے سر سے پیر تک ایک نظر اصفر کا جائزہ لیا ۔۔۔۔ملجگی سی پینٹ شرٹ ۔۔شرٹ بھی آدھی پینٹ سے باہر اور آدھی اندر تھی اور سے موٹی لیدر کی کالی جیکٹ ۔شیور بڑھی ہوئی اور الجھے بکھرے سے بالوں والا شخص اسے کہیں سے نا تو ڈاکٹر لگ رہا تھا نا ہی لاہور کے نام ور ڈاکٹر حسن کمال کا بیٹا لگ رہا تھا ۔۔۔۔
“آپ کے والد اب خطرے سے باہر ہیں ۔۔۔۔ایکسڈنٹ تو کافی خطرناک نوعیت کا ہوا تھا ۔۔۔۔۔گاڑی کا فرنٹ شیشہ ٹوٹ کر انکے پیٹ میں بری طرح پیوست ہو چکا تھا ۔۔۔۔مگر شکر ہے کہ ذیادہ نقصان نہیں ہوا ۔۔۔۔” ڈاکٹر فارس نے مختصر سی تفصیل بتائی
“میں ان سے ملنا چاہتا ہوں “
“ابھی تو وہ ہوش میں نہیں ہیں ۔۔۔۔لیکن آپ جا کر دیکھ سکتے ہیں” ۔۔۔ ڈاکٹر فارس اسے اپنے ساتھ آئی سی یو میں لے گئے ۔۔۔۔اصفر نے انہیں ڈاکٹری انداز سے دیکھنے لگا ۔۔۔ڈاکٹر فارس سے پوچھنے لگا پھر آپریشن کے بارے میں بھی ساری انفارمیشن ایک پروفیشنل ڈاکٹر کے انداز سے ہی پوچھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر فارس کو اس سے بات کر کے اپنی پچھلی سوچ کی تردید کرنی پڑی ۔۔۔۔۔۔۔ وہ بہت ڈیپلی ہر بات پوچھ رہا تھا ۔۔۔
“آپ سرجن بھی ہیں”؟ ۔۔۔۔اصفر نے ڈاکٹر فارس سے پوچھا
“نہیں ۔۔۔۔۔۔ایکچلی ہمارا ہاسپٹل اتنا بڑا اور جدید سہولتوں سے آراستہ نہیں ہے ۔۔۔۔اور انکا آپریٹ میں نہیں ایک لیڈیز سرجن نے کیا ہے ہاں لیکن میں انکے ساتھ ہی موجود تھا ۔۔۔ “ڈاکٹر فارس نے بتایا
“ٹھیک ہے ۔۔۔۔مگر میں سیٹسفائے نہیں ہوں آپ پلیز میرے والد کو ڈسچارج کر دیں میں انہیں کچھ ہی دیر میں لاہور لے جانا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔” اب وہ اپنے موبائل پر کسی کو کال ملاتے ہوئے فارس سے بولا
“دیکھیں ۔۔۔۔آپ اس کنڈیشن میں پیشنٹ کو نہیں لے جا سکتے ۔۔۔۔۔ڈاکٹر بیگ بس آنے ہی والے ہیں ۔۔۔۔انکی پرمیشن کے بغیر میں آپ کو اجازت نہیں دے سکتا ۔”۔۔۔۔ڈاکٹر فارس کو اصفر کی ذہنی حالت پر شبہ سا ہونے لگا ایک آئی سی یو میں بے ہوش مریض ۔۔۔۔جو ابھی کچھ ہی گھنٹوں پہلے آپریشن سے فارغ ہوا تھا ۔۔۔۔کسی بھی قسم کے سفر کا متحمل تو ہر گز نہیں تھا اور وہ کیسے اسے لاہور کے جاسکتا تھا ۔۔۔۔” اصفر ایک زریک نظر اس پر ڈالی اور فون ڈسکنکٹ کیا
“ٹھیک ہے آپ بلائیے اپنے سینیر ڈاکٹر کو اور انہیں بھی جنہیں آپ نے سرجن سمجھ کر میرے والد کو تجربے کے لئے سامنے پیش کر دیا ۔۔۔۔آپ کو شاید اندازہ نہیں ہے کہ اگر میرے والد کو کچھ ہو گیا تو میں کیا کر سکتا ہوں آپ کے ساتھ ” ۔۔۔۔اصفر اشتعال میں بات کرنے لگا ۔۔۔۔
“کول ڈاؤن مسٹر ۔۔۔۔آپ کے والد اب خطرے سے باہر ہیں۔۔۔۔ کل شام تک انہیں ہوش بھی آ جائے گا ۔۔۔۔ میں ڈاکٹر بیگ کو کال کرتا ہوں ۔”۔۔۔ ڈاکٹرفارس کو اصفر کا یہ انداز بہت برا لگا ۔۔۔ابھی وہ کال کرنے ہی والا تھا کہ سامنے سے ڈاکٹر بیگ چلے آ رہے تھے
“وہ آ گئے ڈاکٹر بیگ” ۔۔۔۔۔اصفر اور ڈاکٹر فارس دونوں ہی انکی طرف لپکے ۔۔۔۔۔ڈاکٹر فارس نے
ساری بات ڈاکٹر بیگ کے گوش گزار کر دی۔۔۔۔وہ اصفر کو اپنے کمرے میں لے گئے انہیں سامنے بیٹھایا اور بہت متانت سے سمجھانے لگے
“دیکھیں اصفر آپ خود ڈاکٹر ہیں ۔۔۔۔ اور سمجھ سکتے ہیں کہ آپ کے والد فی الحال اس کنڈیشن میں نہیں ہیں کہ لاہور تک ٹریول کر سکیں ۔۔۔۔۔ہمارے ڈاکٹر اور سرجن بہت ذمہ دار ہیں ۔۔۔۔انہوں نے ذرا سی بھی کوتاہی نہیں برتی ہو گئ ۔۔۔۔۔ “”لیکن میں مطمئن نہیں ہوں ۔۔۔ میں اس سرجن سے ملنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔میں خود ایک سرجن ہوں اس لئے اپنی تسلی کے لئے مجھے آپکی سرجن سے ملنا ہے” ۔۔۔اصفر اس چھوٹے سے علاقائی ہاسپٹل اور یہاں کے نظام سے مطمئن نہیں تھا ۔۔۔۔نا جانے آپریشن کس انداز سے کیا گیا تھا ۔۔۔۔اور کیا کیا ٹریٹمنٹ ہوا تھا یہ سب وہ جاننا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔ڈاکٹر بیگ نے اثبات میں سر ہلایا اور سامنے کھڑے ڈاکٹر فارس سے کہا
“آپ پلیز ڈاکٹر حمنہ کو کال کر کے بلائیں” ۔۔۔۔اصفر اپنی سوچوں میں گم تھا ۔۔۔۔پھر بار بار سیف کی کال بھی آ رہی تھی ۔۔۔۔اصفر نے فون اٹھا کر اسے تسلی دی کہ وہ پہنچ چکا ہے ۔۔۔۔۔سیف بھی راستے میں تھا ۔۔۔۔بس کچھ ہی دیر میں پہنچنے والا تھا ۔۔۔۔ڈاکٹر فارس ڈاکٹر بیگ کے کمرے سے باہر آ گیا اپنے موبائل سے حمنہ کو کال کرنے لگا کافی دیر رنگ کے بعد حمنہ نے فون اٹھایا اور اس وقت شاید وہ نیند میں تھی ۔۔۔۔
“ہیلو “
“ہیلو مادام “
“فارس تم ۔۔۔ میں سو رہی تھی ” وہ خمار آلود لہجے سے بولی
“جی جناب فارس ۔۔۔۔گستاخی معاف آپ کی نیند میں خلل ڈالنے کے لئے لیکن آپ کو کچھ دیر کے لئے ہاسپٹل آنا پڑے گا ۔۔۔۔ڈاکٹر بیگ نے بلایا ہے ۔۔”۔۔
“فارس آپ نے میری ایپلی کشن نہیں دی انہیں” ۔۔۔۔وہ نیند کی خماری میں بول رہی تھی
“او ایم سوری میں بلکل بھول گیا تھا ۔۔۔۔لیکن حمنہ ایک مسلہ ہو گیا ہے تمہیں آنا پڑے گا ۔”۔۔۔فارس اب سنجیدگی سے بات کرنے لگا
م
“کیا پروبلم ہے “
“یار وہی جو خاصے مشہور ڈاکٹر حسن کمال کا آپریٹ تم نے کیا تھا انکا بیٹا بہت شور کر رہا ہے وہ شاید مطمئن نہیں ہے ۔۔۔۔تم سے کچھ ڈسکس کرنا چاہتا ہے ۔۔۔۔تمہیں آنا پڑے گا “
“میں نہیں آ سکتی ۔۔۔ اس وقت تو بلکل نہیں ۔۔۔ ویسے بھی ساری انفارمیشن میں انکی فائل میں لکھ چکی ہوں ۔۔۔وہ خود بھی ڈاکٹر ہیں تو سمجھ سکتے ہیں ” وہ لاپروائی سے بولی
“مگر حمنہ وہ پھر بھی تم سے بات کرنا چاہتے ہیں”
“فارس مجھے کسی سے بات نہیں کرنی “اب وہ کوفت میں مبتلہ ہوئی تھی
“یار تم سمجھ نہیں رہی ہو ۔۔۔۔۔تم ذرا آ کر انہیں اطمینان دلا دو گئ تو سب ٹھیک ہو جائے گا ورنہ وہ اپنے پیشنٹ کو اس کنڈیشن میں لاہور لے جانا چاہتے ہیں جو کہ بہت رسکی ہے “۔۔۔ فارس نے پوری بات کلیر کی اسے پوری امید تھی کہ حمنہ آ جائے گی ۔۔۔۔مگر حمنہ نے صاف انکار کردیا
“میں نہیں آ سکتی ۔۔۔۔اگر وہ مطمئن نہیں ہیں تو بے شک اپنے پیشنٹ کو اپنی رسپونسبلٹی پر لے جائیں “
“ہاؤ ڈیر توٹاک دس یار ۔۔۔۔تم تو ویسے ہی ہر مریض کے لئے بہت ٹچی ہوتی ہو ۔۔۔ٹرائے ٹوانڈسٹینڈ حمنہ بس کچھ ہی دیر کی تو بات ہے “
“فارس میں سو رہی ہوں اور پلیز سب مجھے ڈسٹرب مت کرنا “۔۔۔۔فون ڈسکنیکٹ ہو گیا تھا ۔۔۔۔اتنا روڈ ہو کر تو حمنہ نے کبھی بات نہیں کی تھی خاص طور پر مریضوں کے معاملے میں پچھلے پانچ سال سے وہ اس ہاسپٹل میں تھی فارس کو نہیں یاد کہ کسی مریض کی ذرا سی بات پر حمنہ نا پہنچی ہو ۔۔۔۔حالانکہ کئ بار ایسا بھی ہوا کہ وہ خود بخار میں ہوتی تھی مگر مریض کی ذرا سی کنڈیشن کی خرابی کا سن کر فورا سے چلی آتی تھی ۔۔۔۔۔لیکن اس بار ۔۔۔۔فارس سمجھ نہیں پا رہا تھا ایک گہری سانس اس نے لی اور ڈاکٹر بیگ کے کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔
“سر وہ نہیں آ رہیں … اپنی ایپلی کیشن وہ دے کر گئ تھیں ۔۔۔۔چند دن کی لیو ہر ہیں” ۔۔۔فارس نے جیب سے ایپلی کیشن کا پیپر نکال کر بیگ صاجب کے سامنے رکھ دیا
“واہ.. اچھی رسپنسبل سرجن ہے آپکی ۔۔۔۔جسے اسوقت یہاں ہونا چاہیے تھا وہ اسوقت گھر پر چھٹی منا رہیں ہیں ۔۔۔۔ ” اصفر غصے سے تپا ہوا اور استزائیہ انداز سے بولا تھا
“ایسی بات نہیں ہے شی از ویری رسپونسبل ۔۔۔ اگروہ نہیں آئی تو ضرور کوئی بڑی وجہ ہو گی ورنہ وہ کبھی لیو نہیں لیتی میں خود چیک کرتا ہوں ڈاکٹر حسن کو”… ڈاکٹر بیگ اسٹیتھوسکوپ لیے کھڑے ہو گئے اصفر بھی اپنی کرسی سے کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔۔
******………
اپنے کمرے کی راکنگ چیر پر نیم وا آنکھوں سے وہ بہت مضمحل سی بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر حسن کمال۔۔۔۔۔ڈاکٹر حسن کمال ذہن میں اسی نام کی بازگشت گونج رہی تھی
“سنو حمنہ ۔۔۔۔۔تم ڈاکٹر کس شخصیت سے
متاثر ہو کر بننا چاہتی ہو۔۔۔۔” اپنے میڈیکل کو شاندار نمبروں سے پاس آؤٹ کر کے جب اس نے زارا سے یہ کہا کہ وہ ایک ڈاکٹر ہونے ساتھ ساتھ سرجن بھی بننا چاہتی ہے تو اس نے بڑی دلچسپی سے یہ سوال کیا تھا
“یہ کیسا بے تکا سا سوال ہے زارا ۔۔۔۔۔”
“ارے بھی کوئی تو آئیڈیل ہوگا کہ تم فلاح کامیاب ڈاکٹر کی طرح بننا چاہتی ہو” ۔۔۔۔۔زارا نے کوک کا سپ لیتے ہوئے پوچھا حمنہ مسکرانے لگی
“میں آج کل کے کسی ڈاکٹر سے مرعوب نہیں ہوں ۔۔۔۔۔بس میری خواہش ہے کہ میں ڈاکٹر بن کر اپنے مرحوم ابا کی خواہش پوری کرو۔۔۔۔جانتی ہو جب میں نے میڈیکل میں داخلہ لیا تھا ابا نے تب ہی میرے لئے ایک کلینک کی جگہ خرید لی تھی ۔۔۔۔مگر ابا کے انتقال کے بعد امی نے اسے ایک میڈیکل اسٹور کے طور پر کرائے پر چڑھا دیا ۔۔۔۔۔۔بس مجھے ڈاکٹر بن کر اسی اسٹور وو دوبارہ کلینک بنانا ہے ۔۔۔۔”حمنہ نے اپنی درینہ خواہش اسے بتائی
“ہمم جانتی ہو حمنہ مجھے ڈاکٹر حسن کمال جیسی کامیابی کی خواہش ہے ۔۔۔۔ عجیب جادو ہے انکے ہاتھوں میں۔۔۔۔۔ ہارٹ کے بہت بڑے سرجن ہیں ۔۔۔۔ آج تک ایک کیس بھی ان سے۔ خراب نہیں ہوا اور حب الوطنی کا عالم ہے کے باہر سے اتنی آفرز آئیں ہیں انہیں بڑے بڑے ہاسپٹلرز سے لیکن یہیں رہنے کو ترجیح دی ہے انہوں نے ۔۔۔
۔۔۔۔۔اور بلا کا اعتماد ہے حمنہ انہیں ۔۔۔۔اور یقین جانو ۔۔۔۔جو کہتے ہیں کر گزرتے ہیں میرے کزن کا ہارٹ کا آپریشن انہوں نے ہی کیا تھا پیدائشی دل میں کئ جگہ ہول تھا ۔۔۔ بہت ڈاکٹرز نے تو جواب دے دیا تھا ۔۔۔ مگر ڈاکٹر کمال نے تو کمال ہی کر دیا۔۔۔۔ پورے دس لاکھ لئے تھے لیکن نا ممکن کو ممکن بنا کر دیکھا دیا تھا “۔۔۔۔زارا کے تفاخر آمیز لہجے پر حمنہ بس مسکرا ہی سکی ۔۔۔۔۔یعنی اگر اللہ تمہارے ہاتھ میں بھی ایسی شفا دیدے تو تم بھی ایسے پیسوں سے تولو گی ؟ ۔۔۔۔۔”حمنہ نے ایک تاسف سی نظر زارا پر ڈالی
“کیا مطلب “
“شفا اللہ کے ہاتھ میں ہاتھ میں ہوتی ہے زارا۔۔۔۔کبھی کبھی وہ اپنے بندوں کو آزمانے کے لئے وقتی طور پر انہیں ایسی نعمتوں سے نواز دیتا ہے ۔۔۔۔یہ دیکھنے کے لئے کہ وہ اللہ کی رضا کے لئے استعمال کرتے ہیں یا اپنی غرض کے لئے ۔۔۔۔۔”
“اپنا معاوضہ لینا کوئی غلط بات تو نہیں ہے حمنہ “
“ہاں بلکل غلط نہیں ہے مگر ۔۔۔۔اس معاوضے کی کوئی حد بھی ہوتی ہے تمہارے کزن کے پیرنٹس کے پاس اگر اتنا پیسہ دینے کے لئے نا ہوتا تو کیا تمہارے یہ آئیڈیل ڈاکٹر صاحب مفت میں ان پر یہ عنایت کرتے ؟ “۔۔۔۔حمنہ کی بات پر زارا خاموش سی ہو گئ ۔۔۔۔۔
“ممی ۔۔۔۔۔ممی ۔۔۔۔مجھے ڈر لگ رہا ہے “۔۔۔۔حمنہ اپنی سوچوں کے گرداب سے لوٹ آئی تھی سامنے کھڑی نور اپنی ڈول کو ایک ہاتھ سے گلے لگائے ۔۔۔کچھ خوفزدہ سی حمنہ کے سامنے کھڑی تھی
“کیوں نور ۔۔۔کیو ڈر لگ رہا تھا میری گڑیا کو “۔۔۔۔حمنہ نے اسے اپنی گود میں بھر لیا ۔۔۔۔۔اپنے سینے سے لگا کر پیار کرنے لگی ۔۔۔۔
“ممی آپ جو میرے پاس نہیں تھی اس لئے “۔۔۔وہ معصومیت سے بولی
“ہاں مگر مان بھیا تو آپ کے پاس ہی سو رہا تھا ۔۔۔۔بھائی کا ہاتھ پکڑ لیتی ڈر نہیں لگتا تمہیں ” ۔۔۔۔حمنہ نے اسکے رخسار کو چومتے ہوئے کہا
“نہیں ممی بس آپ اٹھیں مجھے آپ کے ساتھ سونا ہے “۔۔۔۔نور اسکی گود سے اتر گئی ۔۔۔۔حمنہ بھی اسکے ساتھ اٹھ کر انکے کمرے میں آگئ ۔۔۔۔۔
