Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 32 (Last Episode Part 1)
Rate this Novel
Noor-e-Emaan Episode 32 (Last Episode Part 1)
Noor-e-Emaan by Umme Hani
اصفر کی پوری رات آنکھوں میں گزری تھی ۔۔۔ فجر کی آذانوں کے وقت اس نے بچوں کو خود سے جدا کیا تھا ۔نور کے ہاتھ سے جھکڑ اپنا کالر بہت آہستہ سے جدا کیا تھا ۔۔۔۔ بچے گہری نیند میں تھے بستر سے اٹھ کر اس نے بچوں کو کمبل اوڑھا دیا ۔۔۔ دراز سے لیٹر نکال کر سائیڈ ٹیبل کے اوپر رکھ دیا تھا ۔۔۔۔ بیگ میں اپنے چند کپڑے رکھے ۔۔۔۔ اور بچوں کو آخری بار پیار کر کے کمرے سے باہر نکل گیا حمنہ کے کمرے میں لائٹ جل رہی تھی لیکن وہ رکا نہیں گھر سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔۔ باہر اب بھی اندھیرا تھا ۔۔۔ اسکی زندگی میں چھائے غموں کے اندھیروں کی طرح ۔۔۔۔ گاڑی اسٹاٹ کر کے وہ وہاں سے چلا گیا یہ نہیں معلوم تھا کہ کہاں جا رہا ہے ۔۔۔۔ کوئی راستہ متعین نہیں کیا تھا ۔۔۔۔ کب قسمت میں ہی مسافت لکھی جا چکی تھی تو فرق کیا پڑتا تھا کہ سفر کو بھی متعین کیا جائے ۔۔۔۔ یا نہیں
*****……
پوری رات حمنہ سو نہیں پائی تھی ۔۔۔۔۔ نور کے رونے کی آواز بہت دیر تک آتی رہی بار بار وہ اصفر کی منتیں کر رہی تھی ۔۔۔۔ رات کی خاموشی میں ذرا سی آہٹ بھی گونجتی ہے وہ تو پھر اسکے بچوں کی آوازیں تھیں۔۔۔ کیسے فرموش کر سکتی تھی
” ڈیڈ پلیز مت جائیں نا ۔۔۔ نور کو نہیں رہنا ہے آپ کے بغیر ۔۔۔۔ آپ کو پتہ ہے نا نور ڈر جاتی ہے ۔۔۔۔ میں کس کا ہاتھ پکڑو گی ۔۔۔۔ڈیڈ میں آپ کو بلکل تنگ نہیں کروں گی نا ۔۔۔ یہ بھی نہیں کہو گی کہ مان بھائی کو ہاریا کیوں نہیں ۔۔۔۔ ڈیڈ پلیز ” وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی حمنہ کے آنسوں جاری تھے سسکیوں سے وہ بھی رو رہی تھی کیوں؟ یہ نہیں جانتی تھی ۔۔۔۔ لیکن اسے چین ایک پل نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔ اصفر بچوں کو بہت پیار سے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا رو بھی رہا تھا ۔۔۔۔ کئ بار جی چاہا کہ اسکے پاس چلی جائے ۔۔۔ اصفر کو روک لے بچوں کے لئے ۔۔۔۔ لیکن پھر فارس کی کی دھمکی جیسے راہ کی رکاوٹ بنی تھی ۔۔۔۔
ایک ڈیر گھنٹے بعد شاید بچے سو چکے تھے خاموشی ہو گئ تھی اس خاموشی میں بس حمنہ کو اپنے رونے اور سسکنے کی آوازیں آ رہیں۔ تھیں ۔۔۔۔ بیڈ پر بیٹھی وہ نا جانے کس بات پر روئے جا رہی تھی ۔۔۔۔ اب نا تو وہ اس سے بچے چھین رہا تھا ۔۔۔ نا ہی اسے اپنے ساتھ باندھ رہا تھا ۔۔۔۔ شاید اسے کل تک آزاد بھی کر دے ۔۔۔۔ سارے راستے اس کے لئے ہموار کر رہا تھا ۔۔۔۔۔ بچے بھی کب تک روتے چند دن رو کر بہل کی جاتے شاید فارس کو فورا سے نہیں تو کچھ عرصے بعد قبول بھی کر ہی لیتے ۔۔۔ ” دل کو بہلانے کی ایک نا کام سی کوشش میں ذہن جیسے ایک نئ سوچ کے آتے ہی باقی سوچوں سے محور ہوا تھا
فارس سے شادی ؟ یہ خیال آتے ہی کسی نے جیسے دل پر بہت زور کا گھونسا مارا تھا ۔۔۔
“شادی ؟ نہیں ۔۔۔۔۔ “اندر جیسے کوئی چلا کر انکار کیا تھا ۔۔۔۔
” کیا یہ آسان ہے کہ کوئی نیا مرد اسکی زندگی میں آئے ۔۔۔۔۔ فارس اب تک ایک دوست تھا ۔۔۔ کولیگ تھا ۔۔۔ اچھا تھا ۔۔۔۔بہت اچھا ۔۔۔ ہر خوبی تھی ۔۔۔۔ لیکن شوہر ؟ نہیں ۔۔۔۔ کیسے اسے ایک شوہر کے طور پر قبول کر سکتی ہوں ؟۔۔۔۔ مطلب شوہر ؟ دل نے صاف انکار کیا تھا ۔۔۔۔۔ اصفر کے نام پر ساری زندگی جینا آسان لگ رہا تھا لیکن اسکی جگہ کسی اور دیکھنا مشکل ۔۔۔۔۔ کیا آسان ہے ایک عورت کے لئے شوہر کے طور پر کسی اور مرد کو چننا ؟ نہیں ۔۔۔۔ بلکل بھی نہیں ۔۔۔۔۔ پہلی بار شادی کے نام پر خوف آیا تھا ۔۔۔ کیا۔۔۔۔۔ عورت کے لئے یہ سب سے بڑی آزمائش ہوتی ہے کسی اور کے سامنے پھر سے دلہن بنکر بیٹھے ۔۔۔ کسی اور کے لئے سجے سنورے کیا کچھ یاد نہیں آتا ہو گا ۔۔۔۔ پہلی بار کی ہر بات دوہرائی جائے لیکن دہرانے والا نیا شخص ؟ نہیں ۔۔۔نہیں ” پورے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی تھی
پھر جس بات سے اختلاف تھا وہ تو اصفر ختم کر چکا تھا ۔۔۔۔ سولہ سے اٹھارہ گھنٹے کی مسلسل ڈیوٹی دے رہا تھا ۔۔۔۔ آپریشن بھی کر رہا تھا اسکی اور بچوں کی ضرورت کے لئے خود کو بلکل بھول کر محنت کر رہا تھا ۔۔۔۔ پھر کیا یہ درست تھا کہ وہ چلا جائے چند دن پہلے ہی اس نے حمنہ کو پچاس ہزار دیے تھے
“یہ رکھ لو اپنے اور بچوں کی شاپنگ کر لینا ۔۔۔ میں جانتا ہوں کم ہے لیکن اس سے ذیادہ کی میری استطاعت نہیں ہے۔۔۔۔ گزارا کر لو “
” ہو جائے گا ۔۔۔ اتنے بھی کم نہیں ہیں لیکن یہ آئے کہاں سے ” حمنہ نے پیسے پکڑ کر پوچھا
” اس ایک ویک میں چار سے پانچ سیزر کیس تھے۔۔۔ اور ڈاکٹر بیگ سیزر کے چارجز میں صرف ہاسپٹل کے ایکپنسو ہی مائنس کرتے ہیں خود کچھ نہیں رکھتے مجھے ہی دے دیتے ہیں اس لئے یہ آج ہی مجھے دیے تھے چاہو تو تصدیق کر لینا ان سے ۔۔ ” وہ اپنے کندھے بار بار اپنے ہاتھوں سے دبا رہا تھا شاید شدید تھکن کی وجہ سے ۔۔ نا جانے کیوں حمنہ کو لگا کہ اب وہ ذیادتی کر رہی ہے ۔۔۔ وہ تھکا ہوا رات کو لوٹتا ہے پھر خود ہی اپنا کھانا گرم کرتا ہے اب بھی وہ پانی پینے ہی باہر آئی تھی وہ لاونج میں بیٹھا کھانا کھا رہا تھا ۔۔۔۔ حمنہ پانی پی کر واپس جانے لگی تو اسے پکار کر بس پیسے اسے پکڑا دیے ۔۔۔ پھر واپس ٹیبل کے پاس جا کر اپنے برتن اٹھانے لگا
نا جانے کیوں حمنہ کا دل اسکی طرف مائل ہونے لگا تھا ۔۔۔
واپس پلٹ کر وہ اس کے پاس آ گئ
” میں یہ برتن رکھ دیتی ہوں ” ٹیبل سے برتن اٹھانے لگی لیکن اصفر نے منع کر دیا
” نہیں تم آرام کرو میں کر لوں گا یہ سب ” یہ کہہ کر سب کچھ خود ہی کچن میں رکھنے لگا حمنہ بھی کچن میں آ گئ وہ اپنے۔ برتن دھو کر رکھ رہا تھا
” کافی بنا دوں ؟” پتہ نہیں کس بات کی بے چینی تھی ۔۔۔ اصفر نے سنک کا نل بند کرتے ہوئے اسے دیکھا تھا ۔۔۔
” بس آدھا کپ ” یہ کہہ کر وہ کچن سے باہر جانے لگا
“آدھا کیوں ۔۔۔ آپ تو پورا پیتے تھے ” حمنہ کے پوچھنے پر وہ دو قدم الٹے لیکر اسکے مقابل کھڑا ہو گیا
“ہاں ۔۔پیتا تھا جب تم میرے ساتھ میرے کپ اور میری شال میں میرے ساتھ بیٹھ کر پیتی تھی تب ۔۔۔۔ اب تو پانچ سال گزر گئے ۔۔۔۔ آدھے کپ سے ذیادہ پی نہیں جاتی “یہ کہہ کے وہ اسے دیکھتے ہوئے شاید پھر سے کچھ یاد دلانا چاہتا تھا ۔۔۔ ان دونوں کے بیچ صرف تلخیاں ہی تو نہیں گزریں تھیں بہت سا حیسن وقت بھی ایک دوسرے کے ساتھ بتایا تھا
پھر صرف لڑائیوں اختلافات کو ہی کیوں یاد رکھا جائے ۔۔۔۔ ان لمحوں کو بھی ذہن میں دہرانا چاہیے جو اچھے اور خوشگوار گزرے تھے ۔۔۔۔ تو شاید طلاق نامی عذاب اس تیزی سے زندگیوں کو پچھتاوئے کی بھنٹ نا چڑھا پائے ۔۔۔۔
۔۔۔۔” دل کی دہائیاں شروع ہوئیں تھیں ۔۔۔۔ آج دل کسی ضدی بچے کی طرح سے اصفر کو روک لینے ضد کر رہا تھا ۔۔۔۔
گاڑی کے ٹائر کی چرچرانے کی آواز پر جیسے وہ ہوش میں آئی تھی بے چین ہو کر باہر نکلی تھی جھٹ سے دروازہ کھولا تھا سرد موسم بھی جیسے اس کے وجود پر بے اثر تھا۔۔۔۔ دل کی بے اختیاری نے سوجھ بوجھ گم کی تھی ۔۔۔۔ لیکن وہ جا چکا تھا ۔۔۔۔ گاڑی کی بیک لائٹ بہت دور سے دیکھائی دے رہیں تھیں ۔۔۔۔ آنسوں بہہ بہہ کر گلے سے بھی نیچے آ چکے تھے ۔۔۔۔ پتہ نہیں کیا پانے جا رہی تھی اور کیا کھو رہی تھی ۔۔۔۔
دروازہ بند کر کے وہ اسکے کمرے میں آئی تھی دونوں بچے سو رہے تھے ۔۔۔۔ نور سوئی ہوئی اب بھی سسک رہی تھی ۔۔۔۔ نور کی آنکھیں بری طرح سے سرخ تھیں ۔۔۔۔۔
حمنہ نور کے ساتھ بیٹھ گئ اس کی آنکھوں کو چومنے لگی ۔۔۔۔ ایمان بے خبر سو رہا تھا ۔۔۔ ہلکی ہلکی روشنی کمرے میں پھیلنے لگی سائیڈ ٹیبل پر رکھا لیٹر دیکھ کر بڑی بے تابی سے اس نے پکڑا تھا ۔۔۔ جلدی سے کھولا تھا
” حمنہ میں نے بہت چاہا تمہیں سچ بتاؤں تا کہ تم اپنی زندگی کا فیصلہ ٹھیک سے کر سکوں لیکن شاید تم کچھ سننا نہیں چاہتی ہو ۔مجھے ایک بھی موقع اپنی صفائی کا دینا نہیں چاہتی اگر تم ایسا چاہتی ہو ٹھیک ہی ہے ۔۔۔۔ شاید میں اس قابل ہی نہیں ہوں مجھے موقع دیا جائے ۔۔۔۔ میں نے کبھی اولاد کی خواہش نہیں کی تھی ۔۔۔۔ اس لئے کہ میں اسوقت یہ جانتا ہی نہیں تھا اولاد ہوتی کیا چیز ہے ۔۔۔۔ یہ بات اس وقت پتہ چلی جب پہلی بار یہ جانا کہ نور اور ایمان میرے بچے ہیں ۔۔۔۔ کیسے پل میں میرے دل اور جذبات بدلے میں سمجھ نہیں پایا ۔۔۔۔ تڑپنا کیا ہوتا۔؟۔۔ اولاد کو سینے سے لگا کر سکون کیسے ملتا ہے ؟ یہ میں نے بعد میں جانا تھا ۔۔۔۔ اگر پتہ ہوتا اپنے بچے ہوتے کیا ہیں؟ انکا ڈیڈ کہنا …سینے کے ساتھ لگنا۔۔۔ گود میں بیٹھنا ۔۔۔پیار کرنا حق جمانا کتنا انوکھا سا پیارا سا جذبہ ہے تو خدا کی قسم کبھی contraceptive pills تمہیں نا کھلاتا ۔۔۔۔ میرے ماحول یہ سب نہیں تھا حمنہ ۔۔۔ بس کرئیر کی بھاگ دوڑ تھی ۔۔۔۔ اسپشلائز اور پیسوں کی خاطر سچی اور حقیقی خوشیوں سے دوری تھی ۔۔۔ اور اسی کو کامیابی کا نام دیا گیا ۔۔ میں بھی اسی ماحول میں پرورش پا کر بڑا ہوا تھا ۔۔۔۔ پتہ نہیں تم سے محبت کیوں کر بیٹھا ۔۔۔۔ وہ ایسی کے مجھے تمہارے علاؤہ کچھ سجھائی ہی نہیں دیتا تھا ۔۔۔۔ تمہیں پانے کے بعد بھی میری محبت تم سے کبھی کم نہیں ہو پائی ۔۔۔ میں نے کبھی یہ سوچا ہی نہیں تھا کہ تمہارے بنا اگر جینا پڑ جائے تو کیا کروں گا ۔۔۔ لیکن یہ تب جانا جب تم میری زندگی سے جا چکی تھی ۔۔۔۔
تم میرے کیا ہو یہ شاید میں تمہیں بتا نہیں سکتا میری محبت ہمیشہ تمہارے لئے ایسی رہے گی میری چاہت میں تمہارے علاؤہ کسی کا نا کل کوئی نا کبھی کسی ہو سکتا ہے ۔۔۔۔ یہ شاید میرے بس میں نہیں کہ تمہارے علاؤہ کسی کو تمہاری جگہ دے سکوں نا دل میں نا زندگی میں ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اب یہ باتیں بے معنی ہیں ۔۔۔۔ تمہاری زندگی واقع آگے بڑھ چکی ہے اس لئے بہتر ہے کہ تم کبھی پیچھے پلٹ کر مت دیکھوں ۔۔۔۔ پہلے میری یہ آرزو تھی کہ تمہیں اپنے ہجر کے ہر لمحے کی داستان سناتا لیکن اب یہ خواہش ہے کہ کاش تم کبھی یہ جان نا پاؤں ۔۔۔ کبھی میرا خیال تمہارے دل پر نا گزرے ہمیشہ خوش رہو اپنے فارس کے ۔۔۔۔۔۔۔ سا۔۔۔۔تھ ۔۔۔۔۔ میرے ۔۔۔۔۔نور ۔اور ایمان ۔۔۔ کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔
تمہیں طلاق نامہ کل تک اسی پتے پر بھیج دونگا ۔۔۔۔
اصفر “
آخری کی سطرروں کی سیاہی آنسوں سے گھلی ہوئی تھی ۔۔۔۔
حمنہ کے آنسوں اب بھی بہہ رہے تھے ۔۔۔۔ جیسے آنکھوں میں آنسوں کی جھڑی لگ گئ ہو ۔۔۔۔۔
خط اس نے واپس دراز میں رکھ دیا ۔۔۔۔
پتہ نہیں دل کا بوجھ کم کیوں نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔ کیسی تڑپ تھی جو چین نہیں لینے دے رہی تھی ۔۔۔۔
صبح بچے اسکول کے لئے اٹھے تو اصفر کو نا پا کر نور نے پھر سے رونا شروع ہو گئ تھی ۔۔۔ لیکن ایمان چپ تھا ۔۔۔
” ایسا کروں آج اسکول مت جاؤں ۔۔۔۔ “متورم آنکھوں سے بہتے آنسوں صاف کرتے ہوئے حمنہ نے نور کو ساتھ لگا کر کہا
” کیوں نا جائیں ۔۔۔ ہم جائیں گئے ممی ۔۔۔ نور تمہیں بھی رونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ ہم پہلے بھی تو انکے بغیر کی رہ رہے تھے ۔۔۔ اب بھی رہ لیں گئے ۔۔۔۔ وہ چلے گئے تو کیا ہوا میں ہوں نا میں کبھی تمہیں اور ممی کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گا ۔۔۔ ” ایمان نے کمال ہمت دیکھائی تھی ۔۔۔۔
نور آنسوں صاف کر کے اسکول کے لئے تیار ہونے لگی ۔۔۔۔ ناشتہ کر کے حمنہ انہیں اسکول چھوڑ کر ہاسپٹل چلی گئ ۔۔۔۔
********………
گاڑی چلاتے ہوئے اصفر پھر سے ماضی کے خیالوں میں کھو گیا تھا
غالب کی جس دن پیشی تھی اس نے رات کا کھانا نہیں کھایا تھا ۔۔۔۔ اور پیشی سے پہلے بھی الٹیاں کرتا رہا تھا ۔۔۔۔ اصفر کو اسکی حالت دیکھ کر رحم آنے لگا
” اگر جانا ضروری نہیں ہے تو مت جاؤں غالب تمہاری طعبت مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی “
” آج کیوں نا جاؤں یارا آج تو عید ہے میری ۔۔۔ ٹھیک ہوں میں بلکل فکر نشتا ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر وہ چلا گیا ۔۔۔۔۔ شام تک لوٹ کر آیا تھا اور اسکے اتے ہی جتنے لڑکے اس کے ساتھ نشہ کرتے تھے سب اسکے آس پاس منڈلانے لگے تھے ۔۔۔۔ وہ سیدھا واش بیسن میں کیا تھا پھر حلق میں انگلی مار کر الٹی کرنے لگا کچھ ہی دیر میں پاڈر کی بند پڑیاں اسکے منہ سے نکلنے لگیں ۔۔۔۔ اصفر دیکھ کر دنگ سا رہ گیا تھا ۔۔۔ عقل سوچنے سے قاصر ہوئی تھی ۔۔۔۔ غالب کا رات کا کھانا چھوڑنا اور صبح اپنا معدہ خالی کرنا اب اسکی سمجھ میں آ رہا تھا وہ اپنے پیٹ کو اسمگل کے طور پر یوز کر رہا تھا ۔۔۔۔۔ چرس افیون گانجا ۔۔۔ پورڈ کی شکل میں پلاسٹک کے دو تین پیکٹ میں پیک تھے اور پلاسٹک کے پیک کو گلے سے نگلنا آسان ہوتا ہے ۔۔۔۔ اس لئے اس نے خالی معدہ یہ سب کیا تھا ۔۔۔۔ لیکن یہ اس قدر رسکی کام تھا کہ اگر کچھ بھی کھا پی لیتا تو سب کچھ اسکے اندر ڈیزلو ہو جاتا ۔۔۔۔ اور نتجہ اسکی موت تھی ۔۔۔۔ لیکن شاید یہ پہلی بار نہیں کیا گیا تھااس لئے وہ عادی تھا۔۔۔۔۔ کچھ پل تو اصفر کی عقل کام کرنا چھوڑ گئ تھی ۔۔۔۔۔ قابل حیران کن بات تھی ۔۔۔۔ ان سب پیکٹ کو پانی سے دھونے کے بعد اسے سب نشی لوگ اپنے اپنے حصے کے پیکٹ اٹھانے لگے ۔۔۔۔ اصفر انہیں بس تاسف سے ہی دیکھ سکتا تھا ۔۔۔ نشے کی لت بھی کتنی بری چیز ہے جسے لگ جائے وہ بڑے بڑے رسک اپنی جان پر کھیل جاتا ہے اس کا نظارہ وہ اس بند قید خانے میں دیکھ چکا تھا
غالب جیسے ہی واش روم سے باہر نکلا اصفر باہر کھڑا اسے کی دیکھ رہا تھا ۔۔۔ غالب کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی ۔۔۔
” کیوں ڈاکٹر صاحب لگا دیا نا جھٹکا ۔۔۔۔ تیری سالوں کی پڑھی ڈاکڑی نے یہ سبق تجھے سالوں میں سیکھایا ہو گا جو مجھ جیسے سڑک چھاپ اور انگوٹھا چھاپ مجرم کو جیل کی قید نے چند مہینوں میں سیکھایا ہے ۔۔۔۔ یہ پیٹ نہیں یارا تجوری ہے تجوری ” غالب نے پیٹ پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
” تمہیں اندازہ ہے اگر تمہیں کچھ دیر اور باہر لگ جاتی تو تم مر بھی سکتے تھے ” اصفر کو اس پر افسوس ہورہاتھا
“سب پتہ ہے یارا ۔۔۔۔ پر کمخت عشق ہو یا نشہ جس تن لگ جائے تو پھر کچھ بھی کروا لیتا ہے ۔۔۔۔
ایسا کر ایک پڑی تو بھی سونگھ کے دیکھ لے ۔۔۔۔ ہر غم بھول جائے گا ۔۔۔۔ ساری تلخ یادیں دو ۔۔۔ دو سکینڈ میں بھلانے کی طاقت رکھتی یہ ایک پڑی ” غالب نے چٹکی بجاتے ہوئے اپنی طرف سے اس نشے کے پاؤڈر کی افادیت بتائی تھی
” جب تک تم خود اس زہر کو چھوڑنے کاارادہ نہیں کر لیتے تم اسے کبھی چھوڑ ہی سکتے غالب سیدھی موت ہے یہ ۔۔۔۔ “
” چھوڑنا کون کم بخت چاہتا ہے ۔۔۔ پتہ پھانسی کی سزا سن کر آ رہا ہوں وہی پندرہ دن بعد ایک ایسے قتل کی سزا پانے والا ہوں جو میں نے کیا ہی نہیں ۔۔۔ اس لئے آج جشن مناؤں گا دو پڑیاں اکھٹی سونگھوں گا ۔۔۔۔
بس آج کی رات ہے زندگی کل ہم کہاں تم کہاں ” وہ خوشی سے جھوم کر گنگناتا ہوا چلا گیا ۔۔۔۔
پتہ نہیں کون سا غم کے اسے جو اسے زندگی جیسی۔ نعمت سے اتنی دور لے آیا ہے ۔۔۔۔ ۔۔۔
ایک بار اصفر نے غالب سے پوچھ ہی لیا
” کسب معاش میری جان ۔۔۔۔ سب سے بڑا روگ ہے ۔۔۔۔ حلال کی روٹی خون پسینہ ایک کر کے ۔ملتی ہے اور پیٹ کا دوزخ بھی پورا نہیں بھرتی ۔۔۔۔ ذمہ دار کووووون ؟ اس ملک کا حکمران ۔۔۔ اور اسکی چکی میں پس رہا کووووون ؟ ہم جیسا غریب طبقہ
جانتے ہو پیچس فی صد آبادی کچرے کے ڈھیر سے اپنا پیٹ بھرنے پر مجبور ہے ۔۔۔۔ ۔۔۔ ذمہ دار کوووون ؟ اس ملک کا وہ حکمران جس کے پینے کا پانی بھی فرنگیوں کے ملک سے آتا ہے اور یہاں کی عوام ۔۔۔۔ گٹر اور پانی کی پائپ لائن پھٹ جانے کی صورت میں ایسا مشتبہ پانی پینے پر مجبور ہے جس کے صاف ہونے کا بھی یقین نہیں ہے ۔۔۔۔ پوچھنے والا کوووون ؟کوئی نہیں ۔۔۔۔ ” اصفر اسکی شکل دیکھ رہا تھا اور وہ اسے حقیقت کی تلخ تصویر بھی بڑی ترنگ میں کوووون کووووون کر کے بتا رہا تھا
بیمار ہو جاؤں تو گورنمنٹ ہاسپٹل کے قصائوں کے ہاتھوں تجربے کون بنتا ہے۔۔۔ اس ملک کا غریب طبقہ ۔۔۔۔ جس کی شرح میں روز با روز اضافہ ہو رہا ہے ۔۔۔ پوچھنے والا کوووون ؟ کوئی نہیں ۔۔۔۔
“روٹی چرا کھانے سے بچے کو مار مار کر چور کہنے والے سب ہیں ۔۔۔۔ لیکن میں پوچھتا ہوں ڈاکٹر دن بھر کی محنت کے بعد بیباھر وہ بچہ روٹی جتنے پیسے بھی نا کما سکے تو کیا قصور ہے اس بھوکے بچے کا ۔۔۔۔
کیڑے مکوڑے ہیں ہم پاکستان کی سر زمین کے جو گند میں پیدا ہو کر گند میں زندگی گزار کر گند میں مر کھپ جاتے ہیں ۔۔۔۔۔ کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔۔ ” وہ اپنا منہ اصفر کے قریب کر کے ہاتھ کو نفی ہلاتے ہوئے بولا
” میں نے بھی ایسی زندگی گزاری ہے یارا ۔۔۔۔ دن رات گاڑیاں صاف کی لیکن لوگ پیسے دینے کے بجائے گاڑی آگے بڑھا کر چلے جاتے تھے ۔۔۔۔ پورا دن کام کر کے بھی میرے پاس ایک روٹی کے پیسے نہیں ہوتے تھے ۔۔۔ پھر روٹی نا۔چراتا تو کیا کرتا ۔۔۔
لوگوں نے بہت مارا ۔۔۔۔ خون و خون کر دیا ۔۔۔ لیکن میں نے بھی روٹی ہاتھ سے نہیں چھوڑی ۔۔۔۔ جب سب مار وار کر چلے گئے تو نمکین خون کے ساتھ نمکیں روٹی کھائی تھی ۔۔۔ یہ میری پہلی چوری تھی ۔۔۔۔ تین دن بعد پیٹ بھر کے روٹی کھائی تھی میں نے ۔۔۔۔ پھر تو جیسے چوری کی عادت ہو گئ ۔۔۔۔
تو بتا ڈاکٹر ۔۔۔۔ کیا میں چور تھا ۔؟۔۔ میں نے محنت کی تھی ۔۔۔گاڑیاں بھی صاف کیں پھر میرا حق مجھے کیوں نہیں دیا گیا ۔۔۔۔ اب جب حق نہیں دو گئے تو محنت کرنے والا تو مانگے گا نا ۔۔۔۔ نہیں دو گئے تو چھین لے گا ۔۔۔ میں نے بھی یہی کرنا شروع کر دیا ۔۔۔۔ چھینا چھانی شروع کر دی ۔۔۔۔ چوری شروع کر دی ۔۔۔۔ جب نوکری نہیں دو گئے تو چوری تو کرنی پڑے گی نا یارا ۔۔۔۔ ہم محنت کش لوگ ضرور ہیں لیکن معاوضہ اتنا نہیں ملتا جتنی ہماری ۔محنت ہے ۔۔۔ اگر ہمہیں پیسے اتنے مل جائیں جتنا ہم حق رکھتے ہیں تو برائی کی طرف جانے کا کس کا جی چاہتا ہے ۔۔۔۔ کیاقصور وار میں ہوں یارا یا ہمارا نظام ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر غالب ہسنے لگا
” اسلامی مملکت پاکستان ۔۔۔۔ جس ملک کو دین کی خاطر آذاد بھی ہم نے خون بہا کر کیا ۔۔۔۔ وہیں دین سے ہٹ کر غنڈا راج قائم ہے ۔۔۔۔ پسینہ غریب کا بہتا ہے ۔۔۔ جیب امیر کی بھرتی ہے ۔۔۔۔ اگر سب انصاف سے چلیں تو غریب بھوکا کیوں مرے ۔۔۔۔ کیا ہمارے اوپر زبردستی مسلط کیے گئے حکمرانوں سے سوال نہیں ہو گا کہ روٹی چوری کرنے کی نوبت ہی کیوں آئی ۔۔۔ روٹی چور کہنا آسان ہے۔۔۔ اسے مارنا بھی آسان بس اسے روٹی کھلانا مشکل ہے یارا ۔۔۔ شادی میں میزوں پر رکھی پلیٹوں میں بچے کھانے کچرے دانوں میں پھینکنا آسان ہے کسی غریب کا پیٹ بھرنا مشکل ہے ۔۔۔ ہم جیسوں کو تو اپنا حق ایسے ہی ملے گا نا ۔۔۔۔ کبھی چوری کر کے کبھی کچرے سے ڈھونڈ کے ۔۔۔ پیٹ بھی تو بھرنا ہے ۔۔۔۔ اپنے گھروں میں چین کی نیند کیسے سو جاتے ایسے لوگ جو غریب کا حق مارتے ہیں ۔۔۔۔ ” اصفر کو لگا غالب کی بات سے چوٹ اس کے اندر کہیں لگی ہے ۔۔۔۔ وہ اس ہاسپٹل کے مالک کا بیٹا تھا جہاں غریب اور امیر کی ایک ہی فیس تھی ۔۔۔۔ جن سے پیسے برابر لوٹے جاتے تھے ۔۔۔۔ بلکہ امیروں کو زندگی کی نوید سنانے کے لئے غریبوں کے وجود کے اجزا بیچے جاتے تھے ۔۔۔۔ دل یکبارگی سے دھڑکا تھا ۔۔۔۔۔ کہیں نا کہیں اپنا آپ بھی غالب کا مجرم لگا تھا ۔۔۔۔ اصفر کے دل کی حالت بدلی تھی ۔۔۔۔غالب اپنے ہی خیال میں بول رہا تھا
“س س سب اپنی زندگی میں مست ہیں اور جب ہمہیں کچھ بھی اچھا نہیں ملتا تو ہم نشے کاانتخاب کرتے ہیں تا کہ ایک سوٹا لگا کر ایک رات کے لئے دنیا کی بادشاہت کا مزہ ہم بھی لوٹ لیں ۔۔۔۔ اب زندگی پر اتنا حق تو ہمارا بھی بنتا ہے نا یارا ” غالب کی باتیں خون کے آنسوں رلا دینے والی تھیں ۔۔۔۔ آنکھوں کرب اور چہرے پر مسکان لیے اپنی زندگی کے چند دن بھی یوں گزار رہا تھا جیسے سب کچھ اسی کا ہو ۔۔۔۔۔
ایک سچی حقیقت تھی ۔۔۔راستوں سے گزرتے ہوئے کئ بار اصفر نے پل کے نیچے گندے نالے پر رہنے والے لوگوں کو کئ بار ناگواری سے دیکھا تھا
،جن کے پھٹے ہوئے خیموں کے پاس کچرے کا ڈھیر لگا رہتا تھا اور گندے میلے ادھورے پٹے کپڑے انکے بچوں کا تن چھپانے کے لئے ناکافی ہوتے تھے
لیکن کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ کیسے زندگی بسر کر رہے ہیں یہ لوگ ۔۔۔۔ اس وقت تو اپنی زندگی کا چارم تھا اسی کو لوٹ لینے کا جذبہ تھا ۔۔۔پروا کسے تھی کہ گندی نالی پھٹے خیموں میں بسنے والے سانس لیتے انسان ہیں ۔۔۔ جینے کے حقدار بھی ہیں ۔۔۔۔ چودہ دن بڑے مزے سے غالب نے گزارے تھے لیکن جس دن اسکی پھانسی ہونی تھی صبح سے چپ تھا نشے کاسوٹا بھی نہیں لگایا تھا ۔۔۔۔۔ چہرے کا سفید رنگ
موت کے خوف سے پیلا پڑ چکا تھا ۔۔۔۔ جانتا تھا کہ رات قبر میں گزرے گی ۔۔۔۔ موت سے پہلے مر جانے کی اذیت جیل میں بیٹھا وہ قیدی جسے سزائے موت سنا دی جائے جانتا ہے یا ہاسپٹل کے بستر مرگ پر لیٹا وہ مریض جس سے ڈاکٹر نا امیدی کی خبر سنا چکے ہوں وہ جان سکتے ہیں کہ کتنا درد ناک ہوتا ہے لمحہ لمحہ موت کے قریب ہونا کیسے گزرتا ہے وہ دن جو دنیا میں آخری ہو ۔۔۔۔ غالب کے چہرے پر وہی خوف تھا ۔۔۔۔ نا ڈھنگ سے کھا رہا تھا نا پی رہا تھا جب جیلر اسے لینے آیاتو سب کے گلے لگا ۔۔۔۔بڑی کوشش کی کہ ہنس کر جان دے دے مگر کہاں ممکن تھا زندگی کسے عزیز نہیں ہوتی؟ مرنا کون چاہتا ہے؟ وہ بی دوسرے کی موت ؟
اصفر کے گلے لگ کر بے اختیار رویا تھا۔غالب ۔۔۔۔۔
” یارا جا رہا میں ۔۔۔اگر کبھی تیرا جی میری سے دکھا ہو تو معاف کر دینا ” آنسوں اصفر کے بھی بہہ رہے تھے۔۔۔۔ غالب کے بے قصور مر جانے قلق اسے بھی تھا ۔۔۔۔
لیکن ہم سب بے بس تماشائی ہیں ۔۔۔ جو روتے دھوتے بھی صرف چپ چاپ تماشہ دیکھتے ہیں
یہی ہوا تھا غالب جا چکا تھا ہمیشہ واپس نا آنے کے لئے ۔۔۔۔۔ اصفر کے دن رات یونہی گزر رہے تھے ۔۔۔۔
کسان کے دن میں جانے کیا رحم آیا کہ سال کے بعد ہی ۔۔۔۔ اس نے معافی نامہ جمع کروا دیا تھا ۔۔۔ اصفر کی رہائی ہو چکی تھی لیکن ساتھ ہی ساتھ دل کی دنیا بھی بدل چکی تھی ۔۔۔۔ حسن کمال کی تو خوشی کی انتہا نا تھی ایک سال بعد بیٹے کی شکل دیکھی تھی ۔۔۔۔
اصفر چپ چپ سا تھا دوسرے ہی دن گاڑی لیکر سب سے پہلے اپنے بنک بیلنس میں سے سارے پیسے نکلوا کر کسان کے پاس لے کر پہنچا تھا ہاتھ جوڑ کر پیسے کسان کے حوالے کیے تھے کہ وہ لینے سے انکار نا کرے ۔۔۔۔۔
باپ کاہاسپٹل وہ بلکل چھوڑ چکا تھا ۔۔۔۔ کسی دوسرے ہاسپٹل میں نوکری شروع کر دی تھی۔۔۔۔ کھانا بھی اپنا الگ کھانے لگا تھا بس رہتا ایک ہی گھر میں تھا ۔۔۔۔ اپنی تخواہ سے اپنا خرچہ الگ کر کے باقی کے پیسوں سے کبھی کپڑے تو کبھی کھانے کی چیزیں وہ وہیں پل کے نیچے نالے پر بیٹھے لوگوں کے لئے لے جاتا تھا انکے میلے بچوں کو اپنے ہاتھوں سے کپڑے دیتا تھا کبھی انہیں گود میں بھر لیتا ۔۔۔۔ انکے ساتھ ہی وہیں فٹ پاتھ پر بیٹھ جاتا ۔۔۔۔ کبھی ادوایات لے جاتا جو بیمار ہوتا اسے چیک کرتا دوائیں بھی اپنی طرف سے دینے لگتا ۔۔۔۔ انکے چہرے پر خوشی کی لہر دیکھ کر انکے لبوں سے دعائیں سن کر دل یوں شاد ہوتا جیسے دنیا بھر کی خوشی مل گئ ہو ۔۔۔۔پہلی بار یہ احساس ہوا تھا کہ حمنہ سو روپے کے ٹوکن میں چار چار گھنٹے کیوں مریضوں سے سر کھپاتی تھی ۔۔۔۔۔ پیسہ دولت ۔۔۔ شہرت عزت مقام ۔۔۔ بڑے بنگلے ۔۔۔۔ قیمتی بستر ۔۔۔۔ نا نیند دے سکتے ہیں نا دل کا چین۔۔۔ جو کسی غریب کے دل سے اور لبوں سے بے اختیار نکلنے والی دعا دے سکتی ہے
دو ماہ تو حسن کمال اصفر کی بیگانگی کو نظر انداز کرتے رہے مگر کب تک ۔۔۔ ایک بار انہوں نے دعا کی سالگرہ بڑی پیمانے پر آرگنائز کی ۔۔۔ چاہتے تھے دوست احباب پھر سے اکھٹے ہوں ۔۔۔ تا کہ اصفر کی دوسری شادی کروا سکیں ۔۔۔۔ اصفر کی نظر وہاں پر ضائع کیے جانے سے کھانوں پر تھی ۔۔۔۔ جو لوگ بے دریغ کر رہے تھے
لوگ آدھا کھارہے تھے اور آدھا پلیٹوں میں چھوڑ رہے تھے ۔۔۔۔ پھر بچا ہوا کھانا کچرے کے ڈبوں میں ڈالا جا رہا تھا ۔۔۔۔ اور وہاں کچرے دان میں ۔۔۔۔
حسن کمال نے اپنے بہت سے دوستوں کی بیٹیوں سے اصفر کا تعارف کروانا چاہا لیکن وہ کسی سے مل نہیں رہا تھا ۔۔۔۔ جس شخص کو کھانے پر معمور کر رکھا تھا اس نے پوچھنے لگا کہ بقیہ بچے ہوئے کھانے کا کیا کیا جائے گا
” حسن سر نے کہا کہ کچرے میں پھنکوا دو ” اس شخص نے اصفر کو بتایا
” تم یہ سب پیک کر دو ” پاڑی ابھی اپنے عروج پر تھی ۔۔۔۔ لیکن وہ کھانا بھروا کر وہیں نالے کے پاس پہنچ گیا ۔۔۔۔ سارا کھانا ان لوگوں میں بانٹ دیا اس کے چہروں پر آنے والی خوشی دیکھنے لگا ۔۔۔۔ ان کے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر وہیں انکے ساتھ کھانے کھانے لگا ۔۔ اپنے ہاتھوں سے ان بچوں کو کھانا لھ لو آ رہا تھا جن کے ہاتھ اور منہ مٹی سے اٹے ہوئے تھے بال بکھرے ہوئے تھے ۔۔۔۔ میلے سے بچوں سے نااسے ناگواری محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔ نا ہی کراہت ۔۔۔۔ بلکہ اپنا وجود ان کے سامنے بے معنی سا لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔ کیونکہ وہ غریب تھے ب۔۔۔ اور غریب ہونا نا گالی ہے نا ہی گناہ ۔۔۔۔اور وہ ۔۔۔ وہ حرام خوری کے زمرے میں آتا تھا ۔۔۔ جو گناہ ہے ۔۔۔
غالب کی باتیں ۔۔۔۔ اس کے دل پر وہ اثر چھوڑ گئیں تھیں کہ غریبوں کے ساتھ بیٹھ کر انکی دکھ تکلیف سن کر انکی مدد کر کے اسے لگتا تھا کہ شاید وہ غالب کو خوش کرنے کے کوشش کر رہا ہے یاعبدالباری جیسے بچوں کے ساتھ وقت گزار کر شاید اپنے باپ کے گناہ کی تلافی کر رہا ہے
وہ کافی دیر سے گھر لوٹا تھا حسن کمال کا صبر جواب دے گیا تھا ۔۔۔۔
اصفر کابڑے غصے سے انتظار کر رہے تھے وہ اندر داخل ہوا تھا ۔۔۔۔
حسن کمال کو غصے سے بپھرے دیکھ کر نظر انداز کرتے ہوئے اوپر کا زینہ چڑھنے لگا
“اصفر ۔۔۔۔ کہاں سے واپس آ رہے ہو اس وقت ” وہ غصے سے بولے
” پل کے پاس جو پرانہ نالا ہے وہاں گیا تھا ” وہ لا پروائی سے بولا
” کون سے پل کے پاس وہ جہاں کچرے کا ڈھیر لگا رہتا ہے اور نا جانے کیسے لوگ رہتے ہیں ؟
” جی بلکل وہیں گیا انہیں کے پاس بیٹھا تھا “
” تمہارا دماغ تو درست ہے کن لوگوں میں بیٹھنے لگے ہو تم جن کو ہم دیکھنا بھی پسند نہیں۔ کرتے ” حسن کمال نے نا گواری سے کہا
” ڈیڈ اگر آپ کی پیدائش بھی انہیں لوگوں میں ہو جاتی تو آپ کیا کرتے ؟”اصفر بھی زینہ اتر کر انکے مقابل کھڑا ہو کر سنجیدگی سے پوچھنے لگا
” یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم ” حسن کمال کاسن پر پارہ ہائی ہوا تھا
” ٹھیک تو کہہ رہا ڈیڈ ۔۔۔۔ ہم اپنی پیدائش پر تواختیار نہیں رکھتے۔۔۔۔ میں نے کئ بار ان لوگوں کو کچرے کے ڈھیر سے کھاتے دیکھا تھا ۔۔۔۔ پھر سوچا کہ نا جانے کچرے کے ڈھیر کے باسی کھانے کا ذائقہ کیسا ہوتا ہے ۔۔۔۔ اس لئے سوچا آج جا کر چکھ کر دیکھ لوں ۔۔۔۔۔ اس لئے وہی سے کھا کر آ رہا ہوں ۔۔۔۔” یہ سن کر حسن کمال کا جی متلایا تھا
” کیا بک رہے ہو تم ۔۔۔؟ پاگل ہو گئے ہو گھر کا صاف ستھرا کھانا چھوڑ کر تم اس غلیظ جگہ پر کرنے کیا گئے تھے “
” مجھے اس گھر کے کھانے میں کچرے کے باسی کھانے سے ذیادہ بو آتی ہے ڈیڈ ۔۔۔۔ لگتا ہے ٹیبل پر سجے کھانوں سے ثور کے سڑے ہوئے گوشت کی باس اٹھ رہی ہو ۔۔۔۔ جانتے ہیں کیوں۔۔؟ کیوں کہ ان کھانوں میں غریبوں سے لئے گئے ان کے خون پیسنے کے وہ پیسے شامل ہیں جو ہم نا جائز طور پر ان سے وصولتے ہیں ۔۔۔۔ حرام ہے یہ سب بلکل ویسے ہی جیسے ثور کا گوشت حرام ہے۔۔۔ شراب حرام ہے ۔۔۔۔” وہ چلا کر بولا یہ سب سن کر حسن کمال کا دماغ کھولنے لگا تھا
” میں یہ کچھ بھی سننا نہیں چاہتا ۔۔۔۔ کل سے ہاسپٹل جانا شروع کرو دن با دن ہاسپٹل خسارے میں جا رہا ہے ” حسن کمال نے اصفر کو حکمیہ انداز سے کہا
” عبدالباری جیسے لوگوں کی آہیں جس ہاسپٹل کو لگ جائیں وہ کیسے پھل پھول سکتے ہیں ڈیڈ ۔۔۔۔ میں اب وہاں کام نہیں کر سکتا ۔۔۔۔ ” اصفر کے صاف انکار پر تو وہ ہتھے اکھڑ گئے تھے
” اصفر ” وہ چلا کر بولے
” مت بھولوں کہ میں نے تم لوگوں پر پیسہ پانی طرح بہایا ہے ۔۔۔ تم لوگوں کی پرورش میں کوئی کمی نہیں چھوڑی ہر عیاشی تم لوگوں کو دی ہے ۔۔۔۔ ” حسن کمال نے اپنے احسانات جتانے شروع کیے
“جی ہاں ۔۔۔۔ لیکن سب حرام کی کمائی سے ؟ ڈیڈ آپ نے ہمارے ساتھ ذیادتی کی ہے ۔۔۔۔۔ ظلم کیا ہے ۔۔۔۔ ظالم ہیں آپ ؟ جانتے ہیں آپ کا دل اتنا سخت کیوں ہے ؟ کیونکہ آپ کی رگوں دوڑنے والا خون حرام کے کھانے سے بنا ہے ۔۔۔۔ اسی لئے توآپ کو پیسہ نظر آتا ہے ایک انسانی جان کے کیلئے درد کبھی محسوس نہیں ہوا ۔۔۔ یہ جو آپ میں بے حسی ہے نا ڈیڈ یہ سب اس لئے ہے کہ آپ نے حرام اور نا جائز کو ترجعی دی ۔۔۔۔ اپنے ساتھ تو جو کیس سو کیا ہمہیں بھی انجانے میں اسی پیسوں سے پالتے رہے اسی پیسے کی اہمیت ہمارے دلوں میں ڈالتے رہے ۔۔۔ اور اسی کو حق حلال کہتے آئے ۔۔۔۔ کیوں ڈیڈ ؟ کیوں کیا آپ نے ہمارے ساتھ ظلم ؟۔۔۔ اسے بہتر تھا کہ آپ ہمہیں ان سب سہلوتوں کے بجائے وہ کھلاتے جو جائز تھا ۔۔۔ حلال کی ترغیب دیتے ۔۔۔۔ لیکن آپ نے تو ۔۔۔۔ آپ تو ” اصفر کاصبر جیسے جواب دے گیا تھا وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا حسن کمال چپ سے ہو گئے ۔۔۔ کچھ نہیں بولے اصفر آج پھٹ ہی تو پڑا تھا
” مجھے اپنے وجود گھن آتی ہے ڈیڈ ۔۔۔۔
میری رگوں میں دوڑنے والا خون حرام کی کمائی
سے بنا ہے ۔۔۔۔ جو جنت کے بجائے جہنم کا مستحق ہے
(((((نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:وہ گوشت جنت میں نہ جائے گا جس کی پرورش حرام مال سے ہوئی ہو اور ایسا حرام گوشت دوزخ کا زیادہ مستحق ہے۔(ترمذی،ج 2،ص118، حدیث: 614، مشکوٰۃ،ج 2،ص131، حدیث:2772) (2)فرمایا:”حرام خور کی دعا قبول نہیں ہوتی۔“(مسلم، ص393، حدیث:2346) (3)فرمایا:”حرام مال کا کوئی صدقہ قبول نہیں کیا جائے گا۔‘‘(مسلم،ص115 حدیث: 224) (4)فرمایا:”رشوت لینے والا، دینے والا جہنمی ہے۔“(معجم اوسط،ج 1،ص550،حدیث:2026) (5)فرمایا:رشوت دینے والے اور لینے والے پر اللہ کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے لعنت بھیجی ہے۔ (ابوداؤد،ج 3،ص420،حدیث:3580) (6)حرام کھانے والے کی عبادت و نماز قبول نہیں ہوتی۔(اتحاف السادۃ المتقین،ج 452،ص6) (7)تجارت میں جھوٹ بولنے والے اور عیب چھپانے والے کے کاروبار سے برکت مٹادی جاتی ہے۔(بخاری،ج2،ص14،حدیث:2082) (8)مزدور کی مزدوری مارنے والے کے مقابلے میں قیامت کے دن نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اس مزدور کی حمایت میں ظالم کے خلاف کھڑے ہوں گے۔(بخاری،ج2،ص52،حدیث:2227))))
“کہاں جاؤں میں ڈیڈ؟ ۔۔۔ کہاں جاؤں؟ کیسے پاک کروں خود کو؟ ۔۔۔۔ میرا پورا وجود نا پاک ہو چکا ہے ۔۔۔۔ آپ کو کیا پتہ میں کس اذیت میں ہوں ۔۔۔۔ مجھے لگتا ہے میرا وجود باسی اور سڑے ہوئے مردے سے زیادہ بدبو دار ہے ۔۔۔۔ ” وہ چلا رہا تھا رو تھا ۔۔۔۔ اس کے چہرے پر ایسا کرب تھا کہ جیسے کوئی ناقابل برداشت اذیت سہہ رہا ہو
“مجھے یہ بات چین نہیں لینے دیتی کہ جو اب تک میں کھا چکا ۔۔۔ اسے کیسے اپنے وجود سے جدا کروں ۔۔۔۔ ” وہ ہزیانی سے کیفت میں مبتلہ ہو رہا تھا روتے ہوئے اپنے ہاتھوں اور بازوں کو دیکھنے لگا
پھر باپ کو دیکھنے لگا
” کاش کے مجھے پھانسی کی سزا ہو جاتی ۔۔۔۔ کاش ۔میں مر جاتا ۔۔۔۔ ڈیڈ کاش آپ کی حقیقت مجھ سے پوشیدہ رہتی ۔۔۔۔ مجھے شرم آتی ہے یہ سوچ کر کہ میں آپ کا بیٹا ہوں ۔۔۔ایک معصوم بچے کے قاتل کا ۔۔۔۔حمنہ کی والدہ کو قیامت کے دن کیا منہ دیکھاوں گا میں ۔۔۔۔۔ کہ میں نے کس بے حس کے سامنے انہیں تڑپنے کے لئے چھوڑ دیا ۔۔۔۔ ” وہ گڑگڑا کر رونے لگا تھا
” کیا جواب دوں گا ڈیڈ ۔۔۔۔ حمنہ سے کیسے معافی مانگوں گا کہ اس کا شوہر ہو کر بھی میں نے اپنے باپ کے گھٹیا عزائم سے اسکی حفاظت نہیں کی ۔۔۔
ڈیڈ دعا کریں کے حمنہ زندہ ہو ۔۔۔۔ اگر اسے کچھ ہو گیا تو سمجھ لیجے گا کہ آپ کے لئے اصفر بھی مر چکا ” روتے ہوئے وہ حسن کمال کی ہر سچائی انہیں سنا چکا تھاوہ تو یوں تھے کے کاٹے تو لہو نا نکلے ۔۔۔اب تک ۔ سمجھ رہے تھے کہ بیٹا اب تک ان کے ہر فعل سے انجان ہے ۔۔۔۔ لیکن وہ تو انہیں وہ آئینہ دیکھا گیا تھا کہ جس میں انکا چہرہ سب سے ذیادہ بد نما دکھ رہا تھا ۔۔۔ چپ چاپ سے مرے ہوئے قدم اٹھاتے ہوئے وہ اپنے کمرے میں آ گئے
*******…….
لائبہ حمنہ کے گھر سے نکل پیدل ہی اسٹاپ تک جا رہی تھی جب راستے فارس کی گاڑی اسے نظر آئی وہ گاڑی ایک کنارے پر کھڑی کیے باہر گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے سگریٹ پی رہا تھا
لائبہ اس کے پاس آ کر کھڑی ہو گئ
” مجھے آپ سے بات کرنی ہے ” لائبہ کچھ کچھ تو سمجھ گئ تھی کہ ضرور فارس کی وجہ سے ہی حمنہ رو رہی تھی ۔۔۔
” لیکن مجھے نہیں کرنی ۔۔۔ اس وقت میں بہت غصے میں ہوں خواہمخواہ تمہیں کھری کھری سنا دوں گا اس لئے نکلو یہاں سے ” فارس نے سخت نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا
” جیسے ابھی حمنہ آپی کو سنا کر آئے ہیں ۔۔۔۔ رو رہیں۔ تھیں ۔۔۔وہ بھی آپ کی وجہ سے ۔۔۔ اس بات کااحساس ہے آپ کو ” لائبہ بھی تپے ہوئے لہجے سے بولی
” تم ہوتی کون ہو مجھ سے اس لہجے میں بات کرنے والی ۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔ یہ میرا اور حمنہ کا معاملہ ہے ۔۔۔بہتر ہو گا کہ دور رہو اس معاملے سے ۔۔۔۔ اور اب نکلو یہاں سے ” وہ سگریٹ پیتے ہوئے بولا
” آپ زیادتی کر رہے ہیں ان دونوں کے ساتھ ۔۔۔۔ آپ کی وجہ سے حمنہ آپی اور سر کے درمیان کشیدگی سی ہونے لگی ہے ۔۔۔۔ آپ کو ضرورت کیا تھی حمنہ آپی سے اس لہجے میں بات کرنے کی کون یوں بے دھڑک کسی میاں بیوی کے کمرے میں یوں جاتا ہے ۔۔۔ اور یوں دوسرے کی بیوی پر رعب ڈال کر بات کرتا ہے “
” او شٹ اپ ” فارس نے گاڑی کے بونٹ پر زوردار ہاتھ مار کر کہا تھا کسی ہنکی بلتی زبان بند ہوئی تھی
