Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 31
Rate this Novel
Noor-e-Emaan Episode 31
Noor-e-Emaan by Umme Hani
اصفر کھڑا ہو گیا لیکن چوٹ گھٹنے پر بھی آئی تھی اس لئے چلنے میں دشواری پیش آ رہی تھی ۔۔۔
حیرت اسے یہ تھی فارس نے اصفر کو کھڑا کر کے اس کا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا اسے دھیرے سے اصفر کو چلاتے ہوئے اپنے ساتھ ہاسپٹل کے اندر لے گیا ۔۔۔۔ اپنے روم میں کرسی پر بیٹھا دیا پھر نرس کو بلا کر اسے ٹائٹنس کاانجیکشن منگوایا ۔۔۔۔ اور بیڈیج کاسامان بھی ۔۔۔ پھر نرس کو واپس۔ بھیج دیا ۔۔۔۔ انجیکشن اس نے خود بھرا تھا
پھر اس کے بازو پر لگایا ۔۔۔۔ تا کہ سڑک کی چوٹ سے انفکشن نا ہو ۔۔۔ پھر خود اس کے زخم کو ڈیٹول سے صاف کرنے لگا ۔۔۔۔ اصفر جتنا بھی حیران ہوتا اتنا کم تھا ۔۔۔
” کیاسوچ رہے ہو ۔۔۔ یہی کہ میں تم پر اتنی مہربانی کیوں کر رہا ہوں ۔۔۔۔ بہت سختی ہوں ۔۔۔ یا نرم دل ہوں ۔۔۔ جو اپنے ہی رقیب کی کے ساتھ بھلائی کر رہا ہوں ؟ اصفر کے ذہن میں چلنے والی بات کو وہ بڑے آرام سے لفظ دے رہا تھا ۔۔۔۔ ساتھ ساتھ اسکے زخموں پر دوا بھی لگا رہا تھا ۔۔۔
” ہاں سوچ تو یہی رہا ہوں ۔۔۔۔ کہ دشمن سے مسیحائی کی امید تو نہیں ہوتی ” اصفر نے بھی اعتراف کیا تھا فارس دوا لگا چکا تھا اس لئے اس کے برابر کرسی پر بیٹھ گیا
” مسٹر اصفر حسن کمال ۔۔۔۔ میں ایسا نیک اور رحمدل ہر گز نہیں ہوں ۔۔۔۔ کہ دشمن کی میسحائی کروں ۔۔۔۔ ان سب کی اعلی مثال تو صرف حمنہ ہی ہو سکتی ہے بس سمجھ لو کے اسکے ساتھ رہتے رہتے تھوڑا سا اچھا ہو گیا ہوں ۔۔۔۔ جانتے ہو تمہارے باپ کا آپریشن کس نے کیا تھا اس دن ؟ ” فارس اب بلکل سنجیدگی سے بات کر رہا تھا
” کس نے ” اصفر نے نافہم نظروں سے فارس کی طرف دیکھا
” حمنہ نے ” یہ سن کر اصفر متحیر ضرور ہوا تھا ۔۔۔۔
” تم اسوقت ملنا چاہتے تھے اس ڈاکٹر سے اپنے والد کے بارے میں پوچھنا چاہتے تھے لیکن اس نے لیو لے لی تھی ۔۔۔اس لئے کہ تمہارا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔ اس وقت میں ہر بات سے انجان تھا اس لئے حمنہ کا تم سے اور حسن کمال سے یوں کترانا مجھے بھی عجیب لگا تھا کہ جو لڑکی ہر مریض کے لئے اتنی حساس ہو جاتی ہے کہ انکی تکلیف پر آنسوں ٹپکانے لگتی ہے تمہارے باپ کو دیکھنے تک نہیں آئی ۔۔۔۔ کیوں ؟ ۔۔ لیکن جب حمنہ سے ساری حقیقت معلوم ہوئی تو مجھے حیرت ہوئی تھی حمنہ پر کہ تمہارے باپ نے اسکی ماں کے ساتھ جو کچھ کیا تھا وہ معافی کے قابل تو پر گز نہیں تھا ۔۔۔ اور پانچ چھ سال بعد اللہ نے اسی مقام پر تمہارے باپ کو بھی لا کر بیٹھا دیا جہاں کبھی حمنہ کی والدہ تھیں ۔۔۔ جسے بے دردی سے مارنے سے پہلے تمہارے باپ نے ایک منٹ کے لئے نہیں سوچا ۔۔۔۔
لیکن یہ موقع جب اللہ نے حمنہ کو دیا تو اس نے کیوں بدلہ نہیں لیا ۔۔۔۔ جب تمہارا باپ یہاں لایا گیا تھا وہ اللہ کے بعد پورے کا پورا حمنہ کے رحم کرم پر تھا ۔۔۔۔ اور اگر وہ اس وقت اس کے آپریشن سے انکار کر۔ دیتی تب بھی وہ مر جاتا ۔۔۔۔ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا بلکہ اسی طرح سے اسکی جان بچانے کے لئے وہ ہر کوششیں کی جو ہر مریض کے لئے کرتی ہے ۔۔۔ پچھلے پانچ سال سے میں اسے جانتا ہوں ہر آپریشن کے بعد وہ دو رکعت نفل پڑھ کر ۔مریض کی صحت یابی کے لئے دعا ضرور کرتی ہے اور جب میں حسن کمال کے آپریشن کے بعد اسکے کمرے میں چائے لیکر گیا تھا تب بھی نماز سے فارغ ہوئی تھی ۔۔۔۔ ہے نا عجیب لڑکی ؟ ” فارس نا جانے اسے کیا باورا کرنا چاہ رہا تھا ۔۔۔۔ اصفر کسی مجسمے کی طرح بیٹھا تھا۔۔۔ چپ گم ۔۔۔۔ جیسے اس حقیقت کے بارے
میں کہنے کے لئے اسکے پاس سب لفظ کھو چکے ہوں
” یہ بات مجھے کئ دن تک پریشان کرتی رہی کہ جب اللہ نے۔ حمنہ کو بدلہ لینے کا موقع دیا تو اس نے بدلہ کیوں نہیں لیا جب مجھ سے رہا نہیں گیا تو میں نے اس سے پوچھ ہی لیا ۔۔۔ جانتے ہو اس کا جواب کیا تھا ؟ ۔۔۔۔۔ “فارس کے استفسار پر اصفر کے گلے میں اتنی گرہیں پڑ چکیں تھی بولنا مشکل لگ رہا تھا بولتا کیسے فارس مسکرانے لگا
” تم کیا پوچھوں گئے میں تمہیں بتا دیتا ہوں
اس نے کہا
فارس یہ میرا فرض تھا ۔۔۔۔ شاید میرے رب کی طرف سے میرے ایمان کا امتحان ؟ ۔۔۔۔ وہ میرا مریض تھا اور اللہ نے مجھے اس پر مسیحا بنا کر کھڑا کیا تھا ۔۔۔ میں کیسے نا انصافی کر سکتی تھی ۔۔۔۔ جانتے ہو میرے ابا
کہا کرتے تھے کہ حمنہ ہم بہت کمزور انسان ہیں نفس کے ہاتھوں بک جانے والے ۔۔۔۔ اس لئے اپنے فرض اور ایمان کا موازنہ جب نفس کے سامنے ہو تو فیصلہ فرض اور ایمان کے حق کر دینا گو کہ یہ بہت مشکل امر ہے ۔۔۔۔ ہم نبیوں اور صحابہ جیسا ایمان ۔۔۔تقوی اور حوصلہ نہیں رکھتے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طائف کے قبیلے کے لوگوں سے زخم کھا کر بھی انکے لئے بد دعا نہیں کی تھی ۔۔۔ بدلہ نہیں لیا تھا اگر ایک عمل بھی ایسا کر جائیں تو کیا خبر اللہ اسی عمل کو کار خیر بنا دے ۔۔۔
اس لئے جب میں آپریشن تھیٹر میں داخل ہوئی تو پہلے میرے کانوں میں حسن کمال کے جمعلے گونجے تھے تکبر سے بھرے ہوئے پھر اس کے بے جان ہوتے وجود پر نظر پڑی جس میں نا دعوا تھا۔۔۔نا تکبر ۔۔۔بس بے بسی تھی لاچاری تھی ۔۔۔۔ پھر اپنی امی کا چہرہ بھی نظر آیا ایسے اسٹیچر پر پڑا ہوا انکا بے جان وجود ۔۔۔ دل خون کے آنسوں بھی رویا ۔۔۔۔ لیکن کانوں میں ابا کا سنائے ہوئے واقعے کی آواز۔ نے جیسے ساری آوازوں کو گم کر دیا ۔۔۔۔۔ پورے آپریشن میں ۔۔۔ میں نے حسن کمال کے۔ چہرے کو نہیں دیکھا ۔۔۔۔ نفس کا امتحان ہر انسان کے لئے ہی مشکل ہے ۔۔۔۔ جب کوئی ہمارے ساتھ ذیادتی کر جائے تو دل شدت سے چاہتا ہے ۔۔۔ کہ اگر مجھے بھی ایسا موقع مل جائے تو پھر بتاؤں انہیں۔۔۔۔ لیکن اسی چیز کو مات دینا اصل جنگ ہے ۔۔۔۔۔ میں بھی نفس کا شیر نہیں بن سکتی تھی فارس ۔۔۔۔ اس لئے اپنا فرض نبھا دیا
یہ تھا حمنہ کا جواب “فارس کی بات نے جیسے اصفر کو پتھر کا کیا تھا ۔۔۔۔ وہ لڑکی واقع اس قابل تھی کہ اسے سامنے جھکا جائے گڑگڑا کر معافی مانگی جائے ۔۔۔۔۔ منت سماجت کی جائے ۔۔۔۔۔اصفر چپ تھا بس فارس ہی بول رہا تھا
” اس لئے میں نے بھی تمہارے ساتھ آج یہ چھوٹی سی نیکی کر لی ۔۔۔ حمنہ کے ساتھ رہ کر بہت کچھ سیکھا ہے میں نے ۔۔۔۔۔ تم میرے رقیب ہو لیکن مفت کا مشورہ دیتا ہوں تمہیں ۔۔۔۔ اسے زبردستی اپنے ساتھ باندھ کر مت رکھو ۔۔۔۔ آذاد چھوڑ کر اسے وہ فیصلہ کرنے دو جو وہ کرنا چاہتی ہے ۔۔۔۔ جس میں اسکی خوشی ہو اسکی رضا ہو ” فارس نے کا لہجہ اس بار تھوڑا سخت ہوا تھا اصفر کے پتھر وجود میں سب سے پہلے آنکھوں میں جنبش ہوئی تھی آنکھوں میں ٹہرے آنسوں پلکوں کی باڑ سے نکل کر گرے تھے ۔۔۔۔ پھر کپکپاتے ہونٹوں سے اس نے بست شروع کی تھی
” ٹھیک کہہ رہے تم ۔۔۔مجھے اسے زبردستی اپنے ساتھ باندھنا نہیں چاہیے آزادانہ فیصلہ کرنے کا پورا حق دینا چاہیے ۔۔۔ اور میری بھی یہی خواہش تھی ۔۔۔۔۔ اسے ہر حقیقت سے آشنا کر دوں پھر اسکی مرضی۔۔۔۔ وہ مجھے منتخب کرے یا۔ چھوڑ دے ۔۔۔ لیکن وہ کچھ سننا ہی نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔ اب بھی کچھ نہیں سن رہی ۔۔۔ میں یہ نہیں چاہتا کہ وہ جذبات میں آ کر ایک غلط فیصلہ کر جائے ۔۔۔ اور بعد میں جب اس پر حقیقت کھلے تو اس کے پاس پچھتاوئے کے علاؤہ کچھ نا ہو ۔۔۔۔ مجھے تو خیر چھوڑ ہی دو ۔۔۔۔لیکن اس کے ایک غلط فیصلے سے ،زندگی صرف حمنہ کی ہی نہیں بہت سے ان لوگوں کی برباد ہو گئ جو اسکے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ۔۔۔۔ حمنہ خود ۔۔۔ ایمان ۔۔۔۔ نور ۔۔۔ اور تم بھی فارس ۔۔۔۔ ” اصفر ہزار ضبط کے باوجود اپنے آنسوں پر بے اختیار تھا بہتی آنکھوں کے ساتھ بات کر رہا تھا
” پانچ سال ہمارے ایک دوسرے کی سنگت میں گزرے ہیں ۔۔۔۔ اس لئے اتنا تو میں بھی اس کے بارے پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اسکا شمار ان عورتوں میں سے ہے جس کا پہلا اور آخری محبوب اس کا شوہر ہوتا ہے۔۔۔۔۔ حمنہ مجھے پہلی نظر میں اچھی لگی تھی محبت بھی میں نے اس سے کی تھی ۔۔۔۔ لیکن شادی کے بعد اگر حمنہ نے کسی کو دل کی شدت سے چاہا ہے تو وہ میں ہوں اس لئے کہ اس کا شوہر ہوں ۔۔۔۔ وہ۔ مجھ سے بد گمان تو ہو سکتی ہے لیکن نفرت نہیں کرتی۔۔۔ بس میرے بارے میں سچ نہیں جانتی جس دن جان جائے اس دن ٹھیک سے فیصلہ کر پائے گی ۔۔۔ ایک مفت کا مشورہ میں بھی تمہیں دیتا ہوں فارس میاں بیوی کے بیچ بد گمانیاں شیشے پر پر چھائی ہوئی اوس کی طرح ہوتی ہیں جس سے دل اور آنکھیں ذراسی دھنلا جاتی ہیں انسان سامنے والے کو ٹھیک سے دیکھ نہیں پاتا اس لئے غلط گمان کر بیٹھتا ہے ۔۔۔لیکن یہ سب وقتی ہوتا ہے ۔۔۔ اوس کے غائب ہوتے ہی آئنہ پھر سے شفاف ہو جاتا ہے
اور اوس کی کی طرح بد گمانیاں بھی کہیں ہوا ہو جاتی ہیں ۔۔۔ بس محبت برقرار رہتی ہے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ عورت پہلی شادی دل کی خواہش اور محبت سے کرتی ہے ۔۔۔ اور دوسری شادی عورت کے لئے محض سمجھوتا اور اسکی مجبوری ہوتی ہے ۔۔۔۔
کیا تم ایسی عورت کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہو جو تمہاری احسان مندی کے ساتھ مجبورا تمہارے ساتھ رہے ۔۔۔۔ تمہیں لگتا کہ حمنہ تم سے محبت کرتی ہے ؟ میرے خیال سے تم بھی اسے آزاد چھوڑ دو اسے اپنے احسانوں میں مقید مت کروں ۔۔۔۔ پھر دیکھوں وہ کس کے حق میں فیصلہ کرتی ہے ۔۔۔۔ ” یہ کہہ اصفر وہاں سے کھڑا ہو گیا لڑکھڑاتے ہوئے اس کے کمرے سے نکل گیا اس بار چپ تو فارس بھی ہو چکا تھا ۔۔۔۔
یہ بات تو حمنہ فارس سے کہہ چکی تھی کہ اگر وہ کبھی فارس کو شریک حیات کے لئے چنتی تو صرف بچوں کی خاطر اپنے لئے ہر گز نہیں ۔۔۔۔
ایک نئ سوچ اگر فارس نے اصفر کے سامنے لا کر رکھی تھی اور ایک نئی سوچ تحفے میں وہ بھی اسے دے کر جا چکا تھا ۔۔۔۔۔
اس وقت قابل رحم صرف حمنہ تھی ۔۔۔۔ جو رشتوں کے الجھے ہوئے دھاگوں میں پھنس کر رہ گئ تھی ۔۔۔۔
گھر پہنچ کر وہ سیدھا اپنے کمرے میں گیا تھا بھوک مر چکی تھی ۔۔۔۔ آج بچوں کے کمرے میں بھی نہیں گیا تھا جو کچھ سن کر آ رہا تھا ۔۔۔۔۔ ایک اذیت تھی اس کے لئے ۔۔۔۔کیاوہ واقع ایسی پاکیزہ اور مضبوط ایمان رکھنے والی عورت کو ڈیزو کرتا تھا ؟
یقینا نہیں ۔۔۔۔ آنسوں کی رفتار میں تیزی آئی تھی ۔۔۔۔ اسکے باپ نے کیا کیا تھا اس کے ساتھ اور بدلے میں حمنہ نے کیا کیا تھا انکے ساتھ ۔۔۔۔ ؟ کیا وہ قابل بھی ہیں کہ حمنہ سے معافی بھی مانگ سکیں ۔۔۔۔ شاید فارس ٹھیک کہتا ہے ۔۔۔۔ میں خود غرضی سے کام لے رہا ہوں ۔۔۔۔ میری محبت آج بھی اسکے لئے خود غرض ہے آج بھی مجھے یہ امید ہے وہ مجھ سے محبت کرتی ہے ۔۔۔۔ کیسے کر سکتی ہے ۔۔۔۔ جس کی ماں کو میرے باپ نے بے دردی سے مار دیا جسے میرے باپ نے زہر کا انجکشن لگانے سے بھی گریز نہیں کیا ۔۔۔۔ وہ کیسے
مجھ سے محبت کر سکتی ہے ۔۔۔۔ ” کسی چھوٹے بچے کی طرح رو رہا تھا ۔۔۔۔
رات بہت اندھیری تھی اور طویل۔ بھی یا شاید اصفر نے جاگ کر گزاری تھی اس لئے اسکی طوالت ذیادہ لگ رہی تھی ۔۔۔
صبح وہ چپ چپ سا تھا ۔۔۔ چوٹوں میں اکڑن سی محسوس ہوئی تو کراہنے پر مجبور ہوا تھا اتنی ہمت نہیں تھی کہ ہاسپٹل جا سکے ۔۔۔ لیکن اپنی ڈیوٹی اسے نبھانی تھی ۔۔۔ با مشکل تیار ہو کر وہ باہر آیا تھا بہت کچھ سوچ چکا تھا ۔۔۔ کہ بہت جلد وہ حمنہ سے بات کرے گا ۔۔۔ اور پھر بنا کسی زور زبردستی کے اسے آزادنہ فیصلے کرنے کے لئے بلکل آزاد چھوڑ دے گا پھر اسکی قسمت کہ اللہ اسے معاف کر کے اسکی محبت اسے لوٹا دے یا پھر اسکے گناہوں کی سزا لیتے ہوئے اسے تہی دامن رہنے دے ۔۔ لیکن اس کے یوں لڑکھڑانے پر دونوں بچے بے چین ہوئے تھے ۔۔۔
” ڈیڈ کیا ہوا آپ کو ” دونوں نے بیک وقت پوچھا تھا حمنہ کے چہرے پر بھی فکرمندی تھی لیکن لب خاموش تھے
” بس ذرا سا ایکسڈنٹ ہو گیا تھا ۔۔۔۔ زیادہ چوٹ نہیں لگی ” پہلی بار وہ سنجیدہ سا بیٹھا تھا ورنہ بچوں سے ہنسی مزاق ضرور کرتا تھا ۔۔۔
” بچوں کو اسکول میں۔ چھوڑ دوں گی ۔۔۔ آپ ناشتے کے بعد آرام کر لیجیے گا ” حمنہ نے پہلی بار سلائس پر جیم لگا کر اسکی پلیٹ میں رکھا تھا ۔۔۔ چہرے سے بھی پریشان۔ لگ رہی تھی ۔۔۔
“نہیں اتنی خطرناک چوٹ بھی نہیں آئی کے گھر بیٹھ جاؤں ۔۔۔ ” پلیٹ سے سلائس اٹھا کر وہ کھانے لگا
” ہاں لیکن چوٹ تو آئی ہے نا ۔۔۔۔ “وہ برجستہ بولی تھی
“ڈیڈ آپ ایک دو دن ریسٹ کر لیں نا ” نور کے معصوم سے چہرے پر فکرمندی سی تھی
” میری جان میں بلکل ٹھیک ہوں ۔۔۔۔ کچھ نہیں ہوا ہے ۔۔۔ مجھے ” اصفر نے نور کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیکر کہا ۔۔۔
” نور ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہے ۔۔۔ دو دن سے کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔۔۔ کبھی بچوں کی بھی مان لینی چاہیے ” حمنہ یہ کہہ کر برتن اٹھانے لگی ۔۔۔۔ جانتا تھا کہ بچوں کے پیچھے یہ آرزو کس کی ہے۔۔۔۔ چہرے پر فکرمندی اور بے چینی تھی ۔۔۔ جب بھی وہ یہ سوچنے لگتا تھا کہ اسے پیچھے ہٹ جانا چاہیے حمنہ کا رویہ اسے کچھ اور ہی سوچنے پر مجبور کرنے لگتا تھا ۔۔۔۔ حمنہ بچوں کے ساتھ جا چکی تھی ۔۔۔۔ ڈاکٹر بیگ کی بھی کال آئی تھی اسکی خیریت ہی پوچھ رہے تھے ۔۔۔۔شاید حمنہ نے بتایا تھا یا فارس نے لیکن وہ بھی اسے دو تین دن ریسٹ کا مشورہ دے رہے تھے ۔۔۔ لائبہ کو جب پتہ چلا کہ اصفر کے چوٹ لگ گئ ہے تو وہ شام کو ہی مزمل صاحب کے ساتھ انکے گھر پہنچ گئ تھی ۔۔۔۔ کافی دیر مزمل صاحب اصفر کے پاس بیٹھے رہے اور لائبہ حمنہ سے باتیں کرتی رہی ۔۔۔ اصفر نے کھانے سے بھی انکار کر دیا تھا ۔۔۔کہ موڈ نہیں ہے اس لئے
رات کو ایک نیم گرم دودھ کا گلاس نور اصفر کے کمرے لائی تھی ۔۔۔۔ وہ بیڈ پر ٹیک لگائے بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا عموما حمنہ بچوں کو اصفر کے کمرے میں بھی جانے نہیں دیتی تھی۔۔۔ نور کو دیکھ اصفر نے سگریٹ ایش ٹرے میں بجھائی تھی۔۔ وہ بہت دھیرے دھیرے سے چل رہی تھی چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے دودھ کا گلاس پکڑے یہ ڈر تھا کہ کہیں گر نا جائے پھر اصفر کے سامنے کر کے بولی
” ڈیڈ اسے پی لیں ۔۔۔۔ آپ نے کھانا بھی نہیں کھایا ” اصفر نے اسکے ہاتھ سے گلاس کیا اور سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر نور کر اپنی گود میں بیٹھا لیا ۔۔۔
” پتہ ہے نور ڈیڈ کی دوستی سب سے ذیادہ کس سے ہوتی ہے ؟ اصفر نے اس کا ہاتھ چومتے ہوئے پوچھا
” ہاں مجھے معلوم ہے ۔۔۔ ڈیڈ کی دوستی سب سے ذیادہ نور سے ہوتی ہے ۔۔۔” نور کے معصومانہ جواب پر وہ مسکرانے لگا
” اور نور کی دوستی کس سے ہے ؟ ۔۔۔۔ جلدی سے ڈیڈ کے کان میں بتا دو ” جانتا تھا کہ وہ راز کی باتیں اسکے کان میں کی بتاتی ہے
” ممی سے ” نور نے دھیرے سے اس کے کان میں کہا
” تو ڈیڈ کا کیا قصور ہے ڈیڈ سے بھی دوستی کر لو ” وہ چہرے پر مظلومیت لاتے ہوئے بولا
” او کے کر لیتی ہوں پھر آپ وعدہ کرو مان بھائی کو جتنے نہیں دو گئے ۔۔۔ ” نور نے اپنی شرط بتائی تھی
” او کے آئی ٹرائے مائے بیسٹ ۔۔۔۔ “
“او کے پھر ہم آج کے بعد فرینڈز بھی ہیں ” نور نے اصفر سے ہاتھ ملایا تھا
” ہمم۔۔ فرینڈ شپ میں اپنے فرینڈ سے کچھ چھپاتے نہیں ہیں اور اسکی بات بھی مانتے ہیں ۔۔۔ اس لئے سب سے پہلے یہ بتاؤں کے یہ دودھ کس نے میرے لئے بھیجا ہے “
” میں خود لائی ہوں ” نور نے جھجک کر جواب دیا
” فرینڈ سے جھوٹ نہیں بولتے نور ” اصفر نے اسکا چہرہ اپنی جانب کیا
” اچھا تو پھر کان ادھر لائیں ” نور نے دھیرے سے کہا اصفر اسکے قریب ہو گیا ۔۔۔۔
” ممی نے دیا تھا ۔۔۔ کہا تھا تمہارے ڈیڈ نے کھانا بھی نہیں کھایا ۔۔۔ اس لئے یہ انکو دیدو اور یہ مت کہنا کہ میں نے دیا ہے کہنا کہ نور نے دیا ہے ” نور سادی بات اسکے کان میں بتائی تھی
ابھی وہ نور سے بات کر ہی رہا تھا جب ایمان بھی اسکے کمرے میں آ گیا ۔۔۔ ہاتھ میں زخموں والی ٹیوب پکڑے ہوئے ۔۔۔
“ڈیڈ لائیں میں آپکے ٹیوب لگا دو جلدی سے آرام آ جائے گا ۔۔۔۔ ” ایمان اس کے پاس بیٹھ کر بولا ۔۔۔
اصفر ٹیوب اسکے ہاتھ سے پکڑ لی
” یہ میں خود بھی لگا سکتا ہوں ۔۔۔ تم دونوں یہ دودھ پیو جلدی سے ” اصفر نے دودھ نور کے منہ کے قریب کیا
” نو ڈیڈ یہ آپ کے لئے ہے ” نور نے منع کر دیا
” اتنا سارا میں نہیں پی سکتا اس لئے چلو جلدی سے تھوڑا س تم دونوں پیو “دونوں بچوں کو دودھ آدھا گلاس پلا کر پھر اس نے خود پیا تھا ۔۔۔۔
*******……
دوسرے دن لائبہ کی ڈیوٹی شام کو ختم ہونی تھی لیکن وہ دوپہر کو ہی چھٹی مانگ رہی تھی حمنہ سے اسکی اچھی دوستی ہو چکی تھی اس لئے سوچا کہ حمنہ کے گھر چلی جائے اسکی ہیلپ بھی کروادے گی اور باتیں بھی ہو جائیں گئیں ۔۔۔ لیکن مشکل یہ تھا کہ چھٹی اسے فارس سے لینی تھی ۔۔۔۔ اس کادروازہ ناک کر کے اس نے کھولا اجازت مانگ کر اندر چلی آئی ۔۔۔
” سر مجھے چھٹی چاہیے ” لائبہ نے ہایت موبانہ انداز سے بات شروع کی تھی
” کس خوشی میں “
” خوشی میں نہیں ۔۔۔ غم میں ۔۔۔ مجھے کسی عیادت کے لئے جانا ہے”
” او کے یہاں سائن کریں اور جائیں ” فارس نے تفصیل نہیں پوچھیں تھی ۔۔۔ ایک رجسٹر اسکے سامنے رکھا تھا لائبہ نے سائن کیا اور اسکے کمرے سے نکل گئ ۔۔۔۔ لیکن کوریڈور میں کی اسے ڈاکٹر زینب مل گی
” تم یہاں کیا۔ گھوم رہی ہو جاؤں لیڈیزواڈ میں تمہاری ڈیوٹی ہے نا “
” میں نے چھٹی لے لی ہے ۔۔۔ ڈاکٹر اصفر کے چوٹ لگ گئ تھی پرسوں میں انکی عیادت کے لئے جا رہی ہوں ” لائبہ نے صاف جواب دیا تھا
” اچھاوہ کیسے ” ڈاکٹر زینب نے فکرمندی سے پوچھا ۔۔۔
” ایکسڈنٹ ہو گیا تھا ” لائبہ کے بتانے پر ڈاکٹر زینب فکرمند سی نظر آ رہیں تھیں
” اچھا کچھ دیر رک جاؤں میں بھی تمہارے ساتھ چلتی ہوں “
” آپ کیوں ۔۔۔۔ وہ بھلا آپ کے کیا لگتے ہیں ” لائبہ کو ڈاکٹر زینب کی فکرمندی اچھی نہیں لگ رہی تھی
” تو تم کیوں جارہی ہو تمہارے کیا لگتے ہیں “
” میرے تو ابو جی کے دور کے رشتے دار ہیں اس لئے ۔۔۔۔ اور ویسے بھی وہ شادی شدہ ہیں ۔۔۔ ڈاکٹر حمنہ کے ہسبنڈ ہیں ” لائبہ نے اسے یہ معلومات جان بوجھ کر فراہم کی
” ہاں معلوم ہے مجھے ۔۔۔۔ ویسے اس معاملے حمنہ بڑی لکی نکلی ۔۔۔ تمہیں پتہ بہت بڑے ڈاکٹر کا بیٹا ہونے کے ساتھ ساتھ خود بھی بہت سمجھدار ڈاکٹر ہے اور دیکھنے بھی زبردست پرسنیلٹی کا مالک ہے ایسا جس کی ہر لڑکی آرزو کرے ” ڈاکٹر زینب کی آنکھوں میں ستائش سی تھی پتہ نہیں کیوں لیکن لائبہ کو برا سا لگا تھا
” او کے میں لیٹ ہو رہی ہوں ۔۔۔ خدا حافظ “لائبہ نے تیوری چڑھا کر کہا اور ہاسپٹل سے باہر نکل گئ ۔۔۔۔ وہاں سے کچھ ہی دور لوکل بسیں چلتی تھیں بس کی دس منٹ کی مسافت کے بعد حمنہ کے گھر کا رستہ پیدل کا ہی تھا ۔۔۔۔۔ وہ اس بار اکیلی ہی حمنہ کے گھر پہنچی تھی وہ بچوں کو کھانا کھلا کر فری ہوئی تھی لائبہ کو دیکھ خوش ہو گئ تھی اچھی عادت کی لڑکی ہنس مکھ سی ۔۔۔ دل کی صاف ۔۔۔ اور بہت زیادہ باتونی
“اچھا ہوا تم آ گئ ۔۔۔ تمہارے آنے سے میرا جی لگ جاتا ہے ۔۔۔۔ “حمنہ نے خوش دلی سے اس کا استقبال کیا تھا ۔۔۔۔ بچے اپنے کھیلنے میں مصروف تھے حمنہ کچن میں ڈنر کے ساتھ ساتھ اصفر کے لئے سوپ بھی بنا رہی تھی لائبہ بھی وہیں آ گئ ۔۔۔
سلاد کا سامان شلف پر دیکھ کر خود بھی ۔۔۔ شلف پر ہی چڑھ کر بیٹھ گئ ۔۔۔ اور چھری سے کھیرا کاٹنے لگی حمنہ کی نظر اس پر پڑی تو کھسیا سی گئ
” ایم سوری مجھے نا کچن میں سب سے ذیادہ مزہ شلف پر بیٹھنے میں آتا ہے ۔۔۔ ” لائبہ نے اپنی مجبوری بتائی حمنہ مسکرانے لگی
” اٹس او کے۔۔۔ لیکن تم سلاد مت بناؤ میں خود بنا لوں گی ” حمنہ نے اسے کھیرا کاٹتے دیکھ کر کہا
” یہ کون سا مشکل کام ہے ۔۔۔ مجھے آپ سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔ آپ کو پتہ یہ ڈاکٹر زینب ہے نا ۔۔۔ بلکل اچھی نہیں ہے ” لائبہ کھیرا چھیل چکی تھی اب اس کے گول گول کتلے کاٹتے ہوئے بتانے لگی “
” ڈاکٹر زینب ۔۔۔ کیوں بھئ ۔۔۔ بہت اچھی تو ہیں ۔۔۔ تمہیں کیوں اچھی نہیں لگیں ” حمنہ کو لائبہ کی بات پر حیرت تھی
” آپ نا بہت بھولی آپی آپ کو نہیں پتہ نظر رکھتی سر پر ۔۔۔۔ آج بھی کہہ رہیں تھیں حمنہ بہت لکی ہے ۔۔۔ ڈاکٹر اصفر کی پرسنیلٹی بہت اچھی ہے ۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ ” لائبہ تپے ہوئے بتا رہی ساتھ ہی ساتھ کٹے ہوئے کھیرے بھی کھا رہی تھی ۔۔۔
” اس میں برا کیا ہے لائبہ ۔۔۔ ” حمنہ سوپ میں چمچہ چلاتی ہوئی کہنے لگی ۔۔۔
” لو جی آپ کو یہ بھی نہیں پتہ ۔۔۔ آپی ۔۔۔ چیل کی نظر رکھا کریں ڈاکٹر زینب پر ۔۔۔۔ کیونکہ یہ شوہر ذات ہے نا ۔۔۔ اس معاملے میں بلکل بھروسے کے قابل نہیں ہوتے ۔۔۔ یہاں کسی لڑکی نے مسکرا کر دیکھا نہیں تو دل اچھل کر اس کے پہلو میں جا گرتا ہے ان مردوں کا ۔۔۔ اس لئے بیویوں کو بہت ہوشیاری سے رہنا چاہیے ” لائبہ کی بات سن کر حمنہ کی ہنسی بے ساختہ تھی لائبہ تقریبا کٹا ہو پورا کھیرا کھا چکی تھی۔۔۔
” آپ ہنس رہی ہیں آپی ؟۔۔۔۔ “لائبہ کو حمنہ کی ہنسی پر حیرت تھی ۔۔۔۔ وہ شلف سے اتر کر حمنہ کے برابر جا کر کھڑی ہو گئ
” تم بھی نا لائبہ ۔۔۔۔ بات ہی ایسی کرتی ہو ” حمنہ نے مدافعانہ انداز سے کہا
” ارے میں سچ کہہ رہی ہوں ۔۔۔ بڑی حسرت بھری نظروں سے سر کو دیکھتی ہے وہ اور ٹھنڈی آہیں بھی بھرتی ہے ۔۔۔۔ آپ کو چاہیے اسے گھور گھور کر دیکھا کریں ۔۔۔۔ اس عمر میں بھی اگر کوئی عورت ابو جی کو دیکھ لے توامی ایسے گھورتی ہیں کہ جیسے زندہ نگل لیں گی ۔۔ سیدھی ہو جاتیں ہیں ایک دم سے ۔۔۔ اور ابو بھی گھبرا جاتے ہیں ۔۔۔
آپ بھی سر پر نظر رکھا کریں ابھی تو ویسے بھی جوان جہان ہیں اوپر سے اسمارٹ بھی ہیں ۔۔۔ ” لائبہ کسی داناؤں کی طرح حمنہ کو نصیحت کر رہی تھی ۔۔۔ لیکن حمنہ اسکی باتوں کو صرف انجوائے ہی کر سکتی تھی ۔۔۔ یا ہنس سکتی تھی ۔۔۔ جو وہ کر رہی تھی ۔۔۔
” آپ ہنس کیوں رہیں ہیں ۔۔۔۔۔ میرے خیال سے تو آپ کو غصہ آنا چاہیے ” لائبہ کی سمجھ سے حمنہ کی ہنسی بلکل بلا تر تھی
” اس لئے کہ تم اصفر کو جانتی نہیں ہو ۔۔۔۔ وہ ایسے ہر گز نہیں ہیں ۔۔۔ ٫”
” یہی ۔۔۔۔ یہی بات تو عورت کو بعد میں رونے پر مجبور کرتی ہے ۔۔۔۔ اس کا اندھا اعتماد ۔۔۔۔ امی کہتی ہیں یہ مرد بڑے گھنے میسنے ہوتے ہیں ۔۔۔ بیوی کے سامنے بڑے نیک اور شریف بنتے ہیں اور اس کے پیچھے چاروں طرف نظریں گھومتی ہیں انکی ۔۔۔۔ ” لائبہ اب دوسرا کھیرا کاٹ کر ساتھ کے ساتھ کھاتی بھی جا رہی تھی شاید غصے میں اسے کھانے کی عادت تھی ۔۔۔۔
” ایک عورت اپنے مرد کی ہر نظر کو بہت اچھے سے پہچانتی ہے لائبہ ۔۔۔۔۔ یہاں تک کے اگر وہ کسی دوسری عورت کی سنگت میں وقت گزار کر آئے تو سب سے پہلے خبر بیوی کو ہوتی ہے ۔۔۔ شوہر کی آنکھیں دیکھ کر کھٹکا سا ہو جاتا ہے کہ کچھ گڑبڑ ہے ۔۔۔۔
اور اگر صرف اپنی بیوی کا ہی ہو تو تب بھی جان جاتی ہے ۔۔۔۔ اصفر کے بارے میں یہ بات تو میں آنکھیں بند کر کے کہہ سکتی ہوں کہ وہ آنکھ بھر کر کسی دوسری لڑکی کو دیکھتے بھی نہیں ہوں گئے ۔۔۔۔ اس لئے تم فکر مت کروں ۔۔۔ اور یہ سوپ اپنے سر کو دے آؤں ” ایک سوپ کا پیالہ اس کی طرف بڑھا دیا
” میں کیوں یہ کام آپ کا ہے ۔۔۔۔ آپ جائیں اور اپنے ہاتھوں سے جا کر پلائیں بڑا اچھا اثر پڑتا ہے صحت پر ۔۔۔ ” لائبہ کی بات پر حمنہ چپ سی ہوئی تھی ۔۔۔
” کھانا میں دیکھ لوں گی ٹیک یور ٹائم ” وہ مسکراتے ہوئے بولی ۔۔۔ حمنہ ہاتھ میں پیالہ پکڑے سوچ رہی تھی کہ کیا کرے پہلے تو بچوں کے ہاتھ ہی سب کچھ بھیج رہی تھی لیکن لائبہ کے سامنے اسے خود ہی جانا پڑا تھا ۔۔۔۔
******……..
اصفر کو پیاس لگی تھی لیکن پانی کا جگ خالی تھا ۔۔۔ اس لئے خود ہی اٹھ کر لڑکھڑاتے ہوئے چل کر کمرے سے باہر آیا لیکن کچن میں حمنہ کے ساتھ کسی کی آوازیں بھی آرہیں تھیں ۔۔۔ کچھ موضوع بحث بھی وہی تھا ۔۔۔۔ لائبہ کی باتیں عام روائتی مردوں کے مطلق ہی تھی جیساعام طور پر تبصرہ ہوتا ہے ۔۔۔ حمنہ کے جواب نے اسے پل بھر کے لئے ساکت سا کیا تھا ۔۔۔۔ وہ اس پر اعتبار کرتی تھی ۔۔۔۔ اس کے کردار کی اچھائی کو بھی مانتی تھی ۔۔۔ ورنہ اگر ہمہیں کسی سے نفرت ہو تو اسکی اچھائی بھی برائی ہی لگتی ہے ۔۔۔ ہم اس کی اچھی بات کا کبھی اعتراف نہیں کرتے اسے بھی برائی کے چشمے سے ہی دیکھتے ہیں ۔۔۔۔
وہ وہیں سے پلٹ کر واپس کمرے میں آ گیا تھا ۔۔۔ کچھ ہی دیر حمنہ اسکے کمرے میں سوپ لیکر آئی تھی ۔۔۔۔۔
مجبورا ہی صحیح لیکن وہ اسکے پاس سوپ رکھ کر وہیں بیٹھ گئ ۔۔۔۔ اصفر نے ایک نظر حمنہ طرف دیکھا وہ متذبذب سی تھی ۔۔۔ پھر سوپ کا پیالہ ٹرے سمیت اپنے سامنے رکھ لیا کہنوں پر رگڑ لگنے سے اکڑن سی تھی بازو موڑنے تکلیف ہوتی تھی
اس لئے سوپ پینے میں وہ با مشکل ہی چمچ منہ تک لے جا پا رہا تھا ۔۔۔ حمنہ کی نظر پڑی تو نا جانے کیوں ترس سا آنے لگا تھا تکلیف کے آثار اسکے چہرے پر دکھ رہے تھے ۔۔۔ بازو ہلانے جلانے سے کہنوں سے ہلکا سا خون رسنے لگا تھا جو شرٹ کے بازو سے نظر آ رہا تھا ۔۔۔۔ بے اختیار ہی حمنہ نے چمچ اسکے ہاتھ سے لیا تھا ۔۔۔۔
” میں ۔۔۔ کھلا دیتی ہوں ” چمچ سے وہ اسے سوپ پلانے لگی تھی ۔۔۔۔
” ایکسڈنٹ کیسے ہوا تھا ؟” حمنہ نے ہی سوال کہ ابتدا کی تھی
” کیوں فارس نے نہیں بتایا ” نا چاہتے ہوئے بھی وہ لفظوں کی تلخی چھپا نہیں پایا تھا ۔۔۔
” فارس کے سامنے ہوا تھا ؟ ” حمنہ کے چہرے پر نا فہمی دیکھ وہ بات بدل گیا تھا
” جو ہونا تھا ہو گیا ۔۔۔۔۔ اب بار بار کیا ذکر کروں ۔۔۔
” حمنہ میں تم سے کچھ باتیں کرنا چاہتا جنہیں جاننا تمہارے لئے بہت ضروری ہے ” اصفر کو حمنہ اکیلے میں کم ہی نظر آتی تھی ۔۔۔ اور بچوں کے سامنے وہ یہ باتیں کرنا نہیں چاہتا تھا نور تو خیر لاپرو،ا تھی لیکن ایمان ہر بات کو غور سے سننے اور سمجھنے کی کوشش کرتا تھا ۔۔۔
” اگر ان باتوں کاتعلق ماضی سے ہے تو مجھے کچھ نہیں سننا ۔۔۔ ہاں بچوں کے حوالے سے ہے تو سن لوں گی ۔۔۔۔ ” آخری چمچ وہ اسکے منہ ڈال کر بولی
” میری اور تمہاری زندگی کے بارے میں۔ جس کا تعلق ماضی سے ہے لیکن اسے جان کر ہمارا مستقبل شاید بدل جائے ۔۔۔۔ ” حمنہ نے پیالہ سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا ۔۔۔ اور دراز کھول کر ٹیوب نکال کر اسے دینے لگی
” یہ اپنے زخموں پر لگا لیں ۔۔۔ خون رس رہا ہے ” حمنہ نے اسکی کہنیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
” میں نے کچھ پوچھا ہے تم سے “
” مجھے کچھ نہیں سننا اصفر ۔۔۔۔ ان سے میری زندگی بہت آگے بڑھ چکی ہے ۔۔۔ ماضی میرے لئے صرف ایک تلخ یاد کے علاؤہ کچھ نہیں ہے ۔۔۔۔ ” اصفر کے ہاتھ میں ٹیوب رکھ کر وہ اٹھنے لگی تھی لیکن وہ ہاتھ پکڑ چکا تھا
” اگر زحمت نا ہو تو پلیز تم یہ دوا لگا دو مجھ سے لگتی نہیں ہے ” اسے روکنے کے لئے بھی اصفر بہانے تراشنے پڑتے تھے ۔۔۔
حمنہ نے اس کے بازو سے شرٹ فولڈ کر کے دوا لگانے لگی ۔۔۔
کافی ذیادہ رگڑیں لگیں تھیں پورے بازو ہی زخمی تھے ۔۔۔
” کمر پر بھی ہے اور وہاں میرا ہاتھ نہیں جاتا ” اصفر کی بات پر کچھ دیر وہ اسے دیکھتی ہی رہ گئ
*****……
لائبہ ہانڈی کے نیچے ہلکی آنچ کر کے بچوں کے ساتھ ہی بیٹھ کر پزل حل کرنے میں انکی مدد کرنے لگی جب باہر کے دروازے پر دستک ہوئی تھی
لائبہ دروازے کے پاس آ کر پوچھنے لگی
” جی کون ؟”
” میں فارس ” آگے فارس کی آواز سن کر لائبہ حیران ہونے کے ساتھ ساتھ پریشان بھی ہوئی تھی
“یہ یہاں بھی پہنچ گئے ” منہ میں بڑبڑا کر اس نے دروازہ کھولا ۔۔۔ اپنے سامنے لائبہ کو دیکھ کر فارس کا موڈ بگڑا تھا
اندر آتے ہی اس سے پوچھنے لگا
” تم یہاں کیا کر رہی ہو “
“میں ڈاکٹر حمنہ سے ملنے آئی تھی ” وہ برجستہ بولی
” بیمار کی عیادت کا جھوٹا بہانا بنا کر تم یہاں خوش گپیاں لگانے آتی ہو ۔۔۔ کل دیکھوں ڈاکٹر بیگ کے سامنے تمہاری شکایت لگاتا ہوں ” فارس نے اسے دھمکی دی ۔۔۔
” انکل آپ ” دونوں بچے فارس کے پاس آ گئے
” کیسے ہو تم لوگ ۔۔۔ ” فارس کارویہ روکھاسا تھا
” بلکل ٹھیک آپ اب ہم سے ملنے کیوں نہیں آتے ” نور نے شکوہ کیا تھا
” تم لوگ کون سا مجھے مس کرتے ہو ” فارس نے جلے دل سے کہا
” ایسی بات نہیں ہم تو آپ کو اب یاد کرتے ہیں ۔۔۔ بس ڈیڈ کی وجہ سے ذرا کم کرتے ہیں ایمان نے صاف گوئی اپناتے ہوئے کہا تھا
” ممی کہاں ہے تمہاری “فارس کو حمنہ کہیں نظر نہیں آ رہی تھی ۔۔۔
” کچن میں ہوں گی ” ایمان نے کندھے اچکا کر کہا ” “نہیں وہ کمرے میں ہیں سر کے پاس ” لائبہ فورا سے بولی ۔۔۔
” کون سر ؟”
” ڈاکٹر اصفر ” لائبہ نے دھیرے سے بتایا اصفر کا یہ سن پارہ چڑھنا شروع ہوا تھا
” کس کمرے میں “
“وہ سامنے والے ” لائبہ نے ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا فارس اس کمرے کی جانب بڑھنے لگا لیکن لائبہ تیزی سے آ کر اسکے سامنے کھڑی ہو گئ
” یہ آپ کہاں گھسے چلے جا رہے ہیں ۔۔۔۔ بری بات ہے ” لائبہ کو فارس کا یوں بے دھڑک اندر جانا مناسب نہیں لگ رہا تھا
” یہ تم مجھے بتاؤں گی کیا اچھی بات ہے اور کیا بری بات ہٹو پیچھے ” فارس نے یہ کہہ دائیں جانب سے اندر جانا چاہا لیکن لائبہ پھر سے اسکے سامنے آگئ
” اتنے بڑے ہو کر آپ کو یہ سمجھ آتی کے میاں بیوی کے کمرے میں یوں بنا اجازت کے نہیں جاتے ” لائبہ کی بات پر اسے تپ سی چڑھنے لگی تھی
” اگر تم چاہتی ہو کہ میں تمہارا سر نا پھاڑ دوں تو ہٹو میرے سامنے سے ” فارس کے غصے کو دیکھتے ہوئے وہ ہٹ گئ
فارس نے بس دو بار ہی ناک کیا تھااور دروازے کا نیب گھوما کر دروازہ کھول دیا ۔۔۔۔ اتفاق تھا اسوقت اصفر بنیان پہنے ہوئے تھا اور حمنہ اسکے کندھے سے کچھ نیچے لگے زخم پر دوا لگا رہی تھی ۔۔۔ یوں اچانک سے دروازہ کھلنے پر دونوں ہی چونک گئے تھے اور فارس کا تو یہ دیکھ غصے سے برا حال ہوا تھا ۔۔۔۔ لائبہ بھی اس کے پیچھے کھڑی تھی ۔۔۔ فارس کو دیکھ کر حمنہ نے فورا سے اپنا ہاتھ پیچھے کیا تھا ۔۔۔
” کتنی بار تم سے کہا کے حمنہ کے جب کمرے میں آیا کرو۔ تو دروازہ ضرور لاک کیا کرو ” اصفر فارس کے غصے کو بھانپ گیا تھا لیکن اس پر بہت کچھ جتانا چاہتا تھا ۔۔۔۔ دل میں شکر کر رہا تھا اچھا ہے کہ اسوقت یہاں آ گیا شاید یہ دیکھ کر پیچھے ہٹ جائے
“فا۔۔۔ ر س ۔۔۔ تم” حمنہ تواس سچویشن کو ہی سمجھ نہیں پا رہی تھی ۔۔۔
” پانچ منٹ میں باہر آؤں مجھے بات کرنی ہے تم سے ” قہر برساتی نظروں۔ سے یہ کہہ وہ دھاڑ سے دروازہ بند کے گھر کے باہر جا کر کھڑا ہو گیا تھا ۔۔۔۔
ااصفر شرٹ پہنے لگا ۔۔۔ حمنہ نے ٹیوب وہیں چھوڑی اور کمرے سے باہر نکل گئ ۔۔۔ لائبہ باہر ہی کھڑی تھی حمنہ کو دیکھ کر صافئسں دینے لگی
” میں نے تو بہت کہاں تھاان سے کے یوں منہ اٹھا کے کمرے میں نہیں جانا چاہیے لیکن وہ تو جی “لائبہ کی بات حمنہ نے مدافعانہ انداز سے سنی تھی
“کہا ہے وہ ” حمنہ نے لاونج میں فارس کو نا پا کر پوچھا
” باہر چلے گئے ” لائبہ نے باہر کے دروازے کی اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔ حمنہ تیزی سے باہر نکل گئ وہ باہر ہی کھڑا تھا “
“فارس ” حمنہ اس کے پاس آ کر بولی فارس غصے سے بھپرے ہوئے بولا
” کیا تھا یہ سب حمنہ ” غصے کے مارے اسکا سانس پھول رہا تھا
“کچھ بھی نہیں تھافارس میں صرف دوا لگا رہی اور بس “
“حمنہ میں کچھ نہیں جانتا ۔۔۔ بہت ہو چکا ۔۔۔۔ تمہارے وعدے کے سہارے میں سالوں نہیں گزار سکتا ۔۔۔۔ اگر کل تک تم نے اس سے پیچھا نہیں چھڑوایا تو میرا مرا ہوا منہ دیکھوں گی ۔۔۔۔ اور میری موت کی زمہ دار بھی تم ہوگی سمجھی”
فارس کی آنکھیں خون برسا رہی۔ تھی وہ ہونق بنی اسے جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی
*******………
اصفر جب کمرے سے باہر آیا تو لائبہ بچوں کے ساتھ موجود تھی ۔۔۔۔
” حمنہ کہاں ہے ” وہ بھی غصے سے پوچھ رہا تھا
” باہر ” جواب لائبہ نے دیا تھا
وہ بھی با مشکل چلتے ہوئے باہر گیا تھا ۔۔۔۔ لیکن اس وقت تک فارس گاڑی میں بیٹھ کر جا چکا تھا ۔۔۔۔
حمنہ واپسی پلٹی تو اصفر کھڑا تھا
” کیا چاہتے ہیں آپ مجھ سے ۔۔۔ کیوں مجھے چھوڑ نہیں دیتے میری زندگی کو مزید مشکل ترین بنا کر رکھ دیا ہے آپ نے ۔۔۔۔ اصفر میں ہاتھ جوڑتی ہوں آپ کے سامنے خدا کے لئے چلے جائیں یہاں سے میری اور میرے بچوں کی زندگی سے بہت دور ۔۔۔۔ خدا کے لئے ” اصفر کے سامنے وہ ہاتھ جوڑے رو رہی تھی ۔۔۔۔۔
وہ پہلے تو چپ چاپ اسے دیکھنے لگا پھر اسکے دونوں ہاتھ تھام لئے
” چلا جاؤں گا دور ۔۔۔تمہاری اور بچوں کی زندگی سے بہت دور ۔۔۔۔ کبھی لوٹ کر نہیں آؤں گا ۔۔۔۔ بس تم روں مت ۔۔۔۔۔ میں صرف تمہیں سچائی سے آگاہ کرنا چاہتا تھا حمنہ ۔۔۔ لیکن تم نہیں جاننا چاہتی تو ٹھیک ہے ۔۔۔۔ کل تمہیں نظر نہیں آؤں گا ” یہ کہہ کر وہ اندر چلا گیا ۔۔۔۔ لائبہ کو سب کچھ عجیب سا لگ رہا تھا ۔۔۔۔ حمنہ کا اندر آتے آنسوں صاف کرنا مطلب وہ رو رہی تھی فارس کاغصہ کرنا اصفر کارویہ ۔۔۔۔نا جانے کیا چل رہا تھا تینوں کے بیچ میں ۔۔۔۔ اپنا آپ اسے آکوڈ سا لگنے لگا ۔۔۔ اس لئے حمنہ سے جانے کا کہہ کر وہاں سے چلی گئ ۔۔۔۔ حمنہ اپنے کمرے میں چلی گئ تھی ۔۔۔ اور اصفر اپنے کمرے میں ۔۔۔۔ بچے ماں کو روتا دیکھ کر پریشان ہوئے تھے ۔۔۔۔
رات ڈنر پر ماں کی بھی آنکھیں سوجی ہوئیں اور باپ کی بھی۔۔۔ لگ رہا تھا کہ اپنی اپنی جگہ دونوں رو دھو کر باہر آئے ہیں ۔۔۔ کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھا رہے تھے بچے الگ پریشان تھے ۔۔۔ ذرا سا کھانا کھا کر اصفر اٹھ کر کھڑا ہو گیا
میں کل صبح چلا جاؤں گا ۔۔۔۔ بس آج کی رات نور اور ایمان کو میرے پاس رہنے دو ” آواز میں واضع نمی تھی ۔۔۔۔ یہ کہہ کر وہ اپنے کمرے میں چلا گیا تھا ۔۔۔۔۔ حمنہ کے آنسوں نہیں رک رہے تھے ۔۔۔۔ بار بار آنسوں صاف کر رہی تھی
” ممی آپ کیوں رو رہی ہیں ؟ ایمان نے حمنہ کے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا
” کچھ نہیں بس یونہی ۔۔۔ تم دونوں آج اپنے ڈیڈ کے ساتھ سو جانا ۔۔۔۔ “یہ کہہ کر وہ برتن اٹھانے لگی ۔۔۔ نور اور ایمان ایک دوسرے کو نا فہم انداز سے دیکھنے لگے ۔۔۔۔
پھر اٹھ کر اصفر کے کمرے میں آ گئے جو شاید کچھ لکھ رہا تھا ۔۔۔۔ ساتھ ساتھ رو بھی رہا تھا ۔۔۔ ایسا کیا ہوا تھا جو ماں باپ دونوں ہی اپنی اپنی جگہ رو رہے تھے ۔۔۔۔
بچوں کو دیکھ کر اصفر نے فورا سے آنسوں صاف کیے اور وہ پیپر تہہ کر کے دراز میں رکھ دیے دونوں بچے سہمے سے تھے چپ چاپ باپ کے پاس آ کر بیٹھ گئے ۔۔۔۔ اصفر کا آج خود پر اختیار نہیں تھا ۔۔۔۔ دونوں بچوں کو سینے سے لگا کر رونے لگا ۔۔۔۔ دونوں بچے ہی حیران پریشان تھے ۔۔۔۔
” ڈیڈ کیا ہوا ہے ۔۔۔۔ممی سے لڑائی ہوئی ہے ۔۔۔ وہ رو رہی ہیں آپ کو بھی کیا ہوا ہے ڈیڈ ۔۔۔ “ایمان نے ہی پوچھا تھا ۔۔۔اصفر ان دونوں سے پیچھے ہٹ گیا ۔۔۔ پھر اپنے آنسوں صاف کرنے لگا ۔۔۔ ۔
” ایمان ۔۔۔ نور ۔۔۔ میں کل واپس جارہا ہوں ہمیشہ کے لئے ” یہ خبر دونوں بچوں کے لئے کسی دھماکے سے کم نہیں تھی “
” کیوں ڈیڈ ” دونوں نے بے چینی سے بیک وقت کہا تھا ۔۔۔ابھی تو باپ کی محبت سے ٹھیک سے سیراب بھی نہیں ہوئے تھے
” بس میں یہاں رہ نہیں سکتا ۔۔۔ ” وہ بے بسی سے بولا ور ہ دل کہاں تھا کہ اپنے بچوں سے دور جائے
” ڈیڈ آپ کہیں نہیں جائیں گئے ۔۔۔۔ ” نور رونے لگی تھی
” نور کو نہیں رہنا ہے اپنے ڈیڈ کے بغیر ۔۔۔ نور کو ڈیڈ کے ساتھ رہنا ہے ۔۔۔ ” پل میں نورکی ہچکیاں بندھی تھی آنسوں ایمان کی آنکھوں سے بھی جاری تھے ۔۔۔
“اصفر نے نور کو سینے سے لگا لیا ۔۔۔۔۔ وہ با آواز رونے لگی تھی ۔۔۔ سسکیوں سے
” ڈیڈ آپ کہیں نہیں جائیں گئے ” ایمان اپنے آنسوں بار بار صاف کر رہا تھا ۔۔۔
” ایمان تم تو بریو بوائے ہو نا ۔۔۔ تم تو سمجھنے کی کوشش کروں ” اصفر کا دونوں بچوں سنبھالنا اور سمجھانا مشکل ہو رہا تھا ۔۔۔۔
” نو ۔۔۔نہیں ہوں میں بریو ۔۔۔۔ آپ کیوں جا رہے ہیں ۔۔۔۔ اگرآپ کو واپس جانا تھا تو آئے کیوں تھے “
ایمان تپا ہوا بات کر رہا تھا ۔۔۔ نور اب بھی اصفر کے سینے سے لگی رو رہی تھی ۔۔۔۔
” نور پلیز چپ کرو ۔۔۔ ” بچوں آنسوں دل کو تڑپا رہے تھے ۔۔۔۔وہ کبھی نور کے آنسوں پونچ رہا تھا کبھی ایمان کے تو کبھی اپنے ۔۔۔۔
” ایمان بس یہ سمجھ لو کہ تمہارے ڈیڈ ایک برے انسان ہیں ۔۔۔۔ اتنے برے کے وہ تم جیسے اچھے اور پیارے سے بچوں کو ڈیزو نہیں کرتے ۔۔۔ تمہارے ڈیڈ کی سزا ہے کہ وہ تم دونوں سے دور رہیں ۔۔۔۔۔ بس تم ایک وعدہ کرو مجھ سے تم اپنی ممی اور نور بہت خیال رکھوں گئے اور اپنی ممی کی ہر بات مانوں ۔۔۔ ان سے کوئی سوال نہیں کروں گئے ۔۔۔ جو وہ کہیں تمہارے لئے اس کا ماننا فرض ہے ” اصفر کی بات پر وہ روتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگا
” ڈیڈ آپ کہیں نہیں جائیں گئے آپ اچھے ہیں بہت اچھے ہیں ۔۔۔۔ آپ کے ساتھ ہماری لائف ہیپی ہے ۔۔ آپ کے بغیر نہیں ” ایمان غصے سے چلا کر بولا ۔۔۔ شاید اپنی تکلیف کو وہ غصے سے بیان کر رہا تھا ۔۔۔ رو دھو کے نہیں
” ایمان ادھر آؤں ” اصفر نے اس بازو پکڑ کر اسے بھی اپنے ساتھ لگا لیا ۔۔۔۔
” تم میرے بہت بہادر اور سمجھدار بیٹے ہو ۔۔۔۔ میرے آنے سے پہلے بھی تم اپنی ممی اور نور کا خیال رکھتے تھے ۔۔۔ ایک بہادر بچے کی طرح ۔۔۔ پھر فارس انکل ہے ناں بہت پیار کرتے ہیں تم لوگوں سے ۔۔۔ بہت جلد بھول جاؤں گئے
مجھے “
” ڈیڈ وہ انکل ہیں ۔۔ آپ ڈیڈ ہیں ۔۔۔ ہمہیں انکل نہیں ڈیڈ چاہیے ۔۔۔۔ ہمہیں آپ چاہیے ۔۔۔۔ سمجھ میں کیوں نہیں آتا ہے آپ کو اگر آپ ہمہیں چھوڑ کر چلے گئے تو میں۔ آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گا ۔۔۔ کبھی بھی نہیں “وہ اسکے سینے سے لگا اپنے ہاتھ سے اس کے سینے پر مکے مار رہا تھا ۔۔۔ لڑ رہا تھااپناحق جتنا استعمال کر سکتا تھا کر رہا تھا ۔۔۔
” میں ہوں ہی اس قابل کہ تم لوگ
مجھ سے ناراض ہو جاؤں ۔۔۔ مجھ سے کبھی بات نا کرو ۔۔۔ مجھ سے نفرت کرو۔ ۔۔۔۔ یہی میری سزا ہے
نا ختم ہونے والی سزا ۔۔۔۔ کوئی معافی نہیں ہے میری ” وہ روتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔۔
ایمان نے اس کے بعد کچھ نہیں کہا ۔۔۔ لیکن اسکے سینے سے بھی جدا بھی نہیں ہوا ۔۔۔ ہے دیر اسکے ساتھ لگا رہا ۔۔۔ نور چپ نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔ رو رو کر اسکی آنکھیں۔ سوج گئیں تھیں ۔۔۔۔ رات بھی باپ کے سینے پر سر رکھے دونوں بچے روتے روتے سوئے تھے نور سوئے ہوئے بھی سسکیاں لے رہی تھی اسکے کندھے پر سر رکھے سینے ہاتھ رکھے اسکی شرٹ کو کس کے پکڑے ہوئے کہ کہیں رات سوئے ہوئے وہ انہیں چھوڑ نا جائے ۔۔۔ دوسری طرف ایمان آدھا اسی کے اوپر ہی لیٹا ہوا تھا بچوں کے اندر یہ خوف تھا کہ بات انکی سے فایدہ اٹھا کر کہیں پھر غائب نا ہو جائے
لیکن اصفر کی آنکھوں میں نیند کہیں نہیں تھی ۔۔۔۔ بار بار کبھی نور کا ہاتھ چومتا کبھی ایمان کا چہرہ ۔۔۔۔
زندگی اتنی حسین شاید نہیں تھی کہ ہر بار اس پر مہربان ہوتی ۔۔۔۔۔ آج رات بس اسکی رب سے یہ دعا تھی کہ رات کبھی ختم نا ہو ۔۔۔۔ آنسوں آنکھوں کے کناروں سے بہہ رہے تھے تکیہ بھگو رہے تھے
