Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 3
Rate this Novel
Noor-e-Emaan Episode 3
Noor-e-Emaan by Umme Hani
کمال صاحب اب چلنے پھرنے کے قابل ہو چکے تھے ۔۔۔۔رہتے تووہ گھر ہی تھے مگر اب کمرے سے نکل کر باہر لان میں بیٹھ جاتے ۔۔۔۔تازی ہوا میں بیٹھ کر اخبار پڑھ لیتے ۔۔۔۔ملازم ہمہ وقت انکے آگے پیچھے رہتے تھے تا کہ کسی ضرورت کے تحت بھی انہیں اونچی آواز نا دینی پڑے اور یہ آڈر اصفر کی طرف سے ہی جاری ہوا تھا ۔۔۔۔ اصفر کو ایک سفری بیگ کے ساتھ لان میں آتے دیکھ کر حسن کمال صاحب سمجھ گئے کہ اس کے پاؤں میں جو سفر کا چکر بند چکا ہے وہ اسی میں گھن چکر بنا رہے گا روکنے پر بھی نہیں رکے گا ۔۔۔۔ ایک گہری سانس بھر کے اخبار کو لپیٹ کر ایک طرف رکھ دیا ۔۔۔۔اصفر انکے پاس آکر رک گیا سلام کیا انکی مزاج پرستی کی دوائیں وقت پر لینے کی ہدایت کی اور برابر میں کھڑے ملازم لڑکے کو سختی سے تاکید کی کہ کمال صاحب کے دواؤں میں اگر تاخیر ہوئی تو وہ اسے نہیں چھوڑے گا ۔۔۔۔پھر کمال صاحب کی طرف ایک الوادعی نظر ڈال کر جانے کی اجازت مانگنے لگا
“ڈیڈ میں جاؤں” ۔۔۔۔۔کمال صاحب نے ایک گہری نظر اس پر ڈالی
“میرے انکار پر کیا جانے کا ارادہ ملتوی کر دو گئے ” وہ ٹھنڈی آہ بھر کر بولے
“وہ میں نہیں کر سکتا ۔۔۔۔آپ جانتے ہیں” ۔۔۔۔۔وہ بے بسی سے بولا
“پھر پوچھتے کیوں ہو ۔۔۔۔۔یونہی چلے جایا کرو ۔۔۔۔” پیشانی پر کئ بل پڑے تھے
“ڈیڈ اپنا خیال رکھیے گا ۔۔۔۔ اگلے ہفتے ڈاکٹر آفتاب سے میں اپونٹمنٹ لے چکا ہوں سیفی آپ کو لے جائے گا” ۔۔۔۔۔اصفر نے بلیک گلاسز اپنی آنکھوں پر لگائے اور وہاں سے آگے پوچ کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔۔کمال صاحب تب تک اسے دیکھتے رہے جب تک اسکی گاڑی میں گیٹ سے باہر میں نکل گئ ۔۔۔۔۔
کس قدر تھکا دینے والا سفر لکھ دیا ہے میں نے تمہاری زندگی کی راہوں میں اصفر ۔۔۔۔میں تو تمہارا اسقدر گناہگار ہوں کہ معافی بھی بہت چھوٹا لفظ ہے “۔۔۔۔بے اختیار ڈبڈبائی آنکھوں نے سامنے کا منظر دھندلا سا کر دیا تھا ۔۔۔۔۔
*********…………*******
حمنہ صبح چھ بجے فارغ ہوئی تھی ۔۔۔۔ رات بھر ہلکی پھلکی برفباری سے سردی بڑھ گئ تھی ۔۔۔۔۔سوئٹر کے اوپر سے بھی گرم شال اپنے شانوں پر لئے وہ ہاسپٹل سے باہر نکلی تیز سرد ہوا کے استقبال نے پورے وجود میں سنسنی سی دوڑا دی ۔۔۔۔تیز قدموں سے وہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھی تھی ۔۔۔۔۔گھر پہچ کر چابی سے دروازہ کھولا اپنا پرس سامنے لاونج میں رکھے صوفے پر رکھا اور بچوں کے کمرے کا رخ کیا ۔۔۔دونوں بچے سورہے تھے ۔۔۔۔فارس شاید باتھ لے رہا تھا ۔۔۔۔حمنہ نے باری باری دونوں بچوں کو پیار کیا اور کمرے سے باہر آگئ ۔۔۔۔۔۔قدسیہ ابھی تک نہیں آئی تھی ۔۔۔۔اس لئے خود ہی ناشتہ بنانے لگی ۔۔۔۔دو چار لوگوں سے اس نے دن رات کے لئے ایک قابل بھروسہ ملازمہ کا کہہ رکھا تھا مگر اب تک کسی نے بھی تسلی بخش جواب نہیں دیا تھا ۔۔۔۔فارس جب کمرے سے باہر آیاکچن میں آہٹوں کی آواز سے سمجھ گیا کہ حمنہ آ چکی ہے ۔۔۔۔۔کچن کے دروازے سے جھانک کر اسے دیکھا ۔۔۔۔وہ سبک رفتاری سے ناشتے کی تیاری میں مصروف تھی ۔۔۔۔۔انڈے فرائی کر کے پلیٹ میں رکھ رہی ساتھ ہی ساتھ ٹوسٹر سے بریڈ نکال کر دوسری پلیٹ میں رکھنے لگی ایک برنر پر چائے کی کیتلی رکھی تھی جس میں سے بھی دھواں اٹھ رہا تھا ۔۔۔۔
“حمنہ میں جا رہا ہوں” ۔۔۔ فارس نے کچن کے باہر سے ہی کہا اور جانے کے لئے پلٹنے لگا
“نہیں فارس بس دو منٹ رکو ناشتہ تیار ہے ۔۔۔کر کے جانا ۔۔۔”
“رہنے دو ۔۔۔۔ویسے بھی بھوک نہیں لگی” ۔۔۔۔حمنہ نے فارس کو پلٹ کر باغور دیکھا کچھ روٹھا روٹھا لہجہ تھا اور چہرے پر شوخی کی جگہ سنجیدگی تھی ۔۔۔۔۔۔
“تمہیں بھوک نہیں ہے؟ ۔۔۔کیوں ایسا کیا کھایا ہے تم نے ۔۔۔۔ذیادہ نخرے مت دیکھاوں ۔۔۔اور یہ پکڑو ٹیبل پر رکھو میں چائے لیکر آتی ہوں” ۔۔۔۔۔ناشتے کی ٹرے فارس کے ہاتھ میں تھما کر وہ فلاسک میں چائے ڈالنے لگی ۔۔۔۔فارس باہر چلا گیا ۔۔۔۔جب حمنہ چائے لیکر آئی تب بھی وہ خاموش ہی بیٹھا تھا حمنہ نے خود ہی ایک پلیٹ میں فرائی ایگ ڈال کر اسکے سامنے رکھا ۔۔۔
اور بریڈ کاسلائس اسکی طرف بڑھا کر بولی
“اگر تم یہ سمجھ رہے ہو کہ میں تمہارے نخرے برداشت کرو گی تو منہ دھو کر رکھو اپنا ۔۔میرا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔ایسی امیدیں تم اپنی بیوی کے لئے سنبھال رکھو” ۔۔۔۔۔فارس نے خشمگیں نظریں اس پر ڈالیں اور بریڈ اسکے ہاتھ سے لے لی
“مجھے معلوم ہے میرے اور تمہارے درمیان ایسا کوئی تعلق نہیں ہے کہ تم مجھے مناؤں یا میرے نخرے اٹھاؤں ۔۔۔۔۔مگر ایسا بھی نہیں ہے حمنہ کہ ایسا کوئی رشتہ قائم نہیں ہو سکتا ۔۔۔ “
“فارس” حمنہ کا نوالہ ہاتھ میں ہی رہ گیا تھا وہ اس کے اس موضوع سے عاجز آ چکی تھی
“بس آج مجھے بولنے دو ۔۔۔ہر بار چپ کے بندھ باندھ دیتی ہو ۔۔۔۔کیوں ۔۔۔۔؟” وہ بھی دل جلائے بیٹھا تھا اس لئے تپ کر جواب دے رہا تھا
“اس لئے کہ میرے پاس تمہارے جذبات کے لئے کوئی احساس نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔میں تمہارے ساتھ کوئی منافقت کارشتہ قائم نہیں کر سکتی بلکہ میں کوئی رشتہ قائم کر ہی نہیں سکتی ۔۔۔۔سمجھ لو کہ بہت بڑی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہوں ۔۔۔بار بار اس قسم کی باتیں کر کے مجھے تکلیف مت دیا کرو ۔۔۔” وہ بھی ضبط سے گزر رہی تھی اپنے ۔ناشتے کی پلیٹ حمنہ نے پیچھے کھسکا دی فارس نے بھی اپنے ہاتھ میں پکڑی بریڈ واپس پلیٹ میں رکھ دی تھی
“رات بھر میں تمہارے گھر ہر رہا ہوں ۔۔۔۔اور ایسی کئ راتیں یہاں گزاری ہیں ۔۔۔۔مان اور نور کے ساتھ اس لئے کہ پیچھے ان کا خیال رکھنے والا کوئی موجود نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔دنیا کی نظر میں کیا حثیت ہے میرے یہاں رکنے کی ۔۔۔۔۔؟” ایک سچ تھا جو فارس کی زبان پر تھا حمنہ نے نظریں چرائیں۔ تھیں
“میں نے کہا تو ہے کسی ملازمہ کے لئے ۔۔۔۔بیفکر رہو ڈاکٹر بیگ سے میں بات کرو گی کہ رات کی ڈیوٹی اب میں بلکل نہیں دے سکتی ۔۔۔۔تمہیں آج کے بعد زحمت نہیں ہو گی “۔۔۔حمنہ کچھ شرمندہ سی ہونے لگی تھی فارس کی بات بلکل درست تھی ۔۔۔۔ایک اکیلے مرد کا اس کے گھر رکنا اسے سب کی نظر میں مشکوک بھی کر سکتا تھا
“مجھے تمہاری عزت بہت عزیز ہے حمنہ ۔۔۔۔۔مگر یہ حل نہیں ہے تم مان کیوں نہیں لیتی کہ تمہیں کسی ملازمہ کی نہیں ایک ساتھی کی ضرورت ہے ۔۔۔۔ان پانچ سالوں میں کتنی ملازمہ آئیں اور چلی گئیں ۔۔۔۔۔یہ مستقل حل نہیں ہے ” اس بار وہ سنجیدگی سے بات کر رہا تھا
“جو تم چاہتے ہو وہ ممکن نہیں ہے “۔۔۔۔حمنہ اب بھی اپنی بات پر قائم تھی فارس اٹھ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔باہر جانے لگا تو حمنہ کی پکار کر رک گیا
“فارس ۔۔۔۔تم کسی اور سے شادی کر لو “۔۔۔فارس نے اپنا غصہ ضبط کیا اور پلٹ کر دیکھے بنا باہر چلا گیا ۔۔۔۔
حمنہ کا ناشتے سے دل اچاٹ ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔دونوں ہاتھوں میں سر لئے اپنی سلگتی ہوئی کنپٹیاں دبانے لگی ۔۔۔قدسیہ اندر داخل ہوئی تو سیدھی حمنہ کے پاس آ کر سلام کرنے لگی ۔۔۔
“بی بی جی فارس صاب رات یہیں رکے تھے ۔۔۔اس کا مطلب آپ صبح ہی آئی ہوں گئ ؟۔۔قدسیہ فارس کو جاتے دیکھ چکی تھی۔۔۔ قدسیہ کا انداز اور لہجہ سادہ سا تھا مگر حمنہ کو اندر تک پھانس کی طرح چبھ سا گیا
“جب معلوم ہے تو پوچھ کیوں رہی ہو” ۔۔۔۔حمنہ کے لہجے میں تلخی سی گھل گئ حالانکہ یہ اس کے مزاج کا حصہ نہیں تھی ۔۔۔وہ تو بہت نرم خو اور محبت سے بات کرنے کی عادی تھی ۔۔۔۔۔آسیہ کچھ گڑبڑاسی گئ فورا ناشتے کے برتن اٹھانے لگی ۔۔۔
میں سونے جا رہی ہوں اگر بچے اٹھ جائیں تو انہیں ناشتہ کروا دینا ۔۔۔۔حمنہ اپنے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔۔
*****……
پرانی قیام گاہ میں پہنچنے میں آدھی رات بیت چکی تھی مگر ابھی بھی وہ سفر میں تھا وہ جب لاہور سے نکلا تھا تو اچھا خاصا دن نکلا ہوا تھا اصفر کو یقین تھا کہ وہ رات تک اپنی مزل مقصود تک پہنچ جائے گا مگر ۔۔۔۔پھر مری کے راستے پر گاڑی ڈالتے ہی برفباری کی وجہ سے گاڑیوں کی لمبی قطار اور انتظار کی خفت اصفر کو مزید تھکانے لگی تھی ۔۔۔۔۔گاڑیوں کی ٹی ٹی سے سر میں الگ درد سا ہونے لگا ۔۔۔۔۔ٹریفک کا اژدھا سرکتے سرکتے اصفر کو صبح ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔اصفر نے شاٹ کٹ کے چکر میں گاڑی دائیں جانب موڑ لی کیونکہ بائیں طرف گاڑیوں کی کافی لمبی قطار کی وجہ سے راستہ بلاک تھا ۔۔۔۔گاڑی تووہ موڑ چکا تھا مگر بلکل غیر ارادہ طور پر ۔۔۔۔راستے سے بلکل انجان تھا ۔۔۔۔تھوڑا آگے جاتے ہی اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا وہ روڈ آگے جا کر بند ہو چکا تھا اور سامنے ایک چھوٹے سے کاٹج کے علاؤہ اور کچھ نہیں تھا ۔۔۔۔ گاڑی بھی مسلسل کئ گھنٹوں سے چل رہی تھی اس لئے وہ بھی اب چلنے سے انکاری ہو گئ تھی ۔۔۔۔کئی بار اسٹاٹ کرنے پر بھی گاڑی اسٹاٹ نہیں ہوئی ۔۔۔۔اصفر نے غصے سے اسٹیرنگ پرزور سے ہاتھ مارا ۔۔پھر باہر نکل کر گاڑی کو دھکا دے کر ل ایک کونے میں گائی لاہور سے نکلتے وقت تے اس نے صرف چائے کا ایک کپ پیا تھا اور راستے میں بھی کچھ نہیں کھایا تھا ۔۔۔اور اب یہ عالم تھا کہ بھوک کے مارے پیٹ میں بل سے پڑنے لگے تھے سامنے کاٹج کے باہر بنے خوبصورت سے باغیچے میں دو چھوٹے بچے کھیل رہے تھے ۔۔۔۔۔اصفر نے ایک اچٹتی سی نظر ان کے ڈالی پیاس کی وجہ سے حلق میں بھی کانتے چبھ رہے تھے اس نے گاڑی میں جھانک کر دیکھا تو پانی کی بوتل بھی خالی ہوچکی تھی ۔۔۔۔اصفر نے بے دلی سے بوتل باہر نکالی اور اس کاٹج کی طرف چل پڑا سامنے چھوٹا سا لکڑی کا سفید گیٹ تھا ۔۔۔۔اصفر نے ان دونوں بچوں کو متوجہ کرنا چاہا
آئے شش ۔۔۔۔شش بات سنو ۔”۔۔۔اصفر نے دروازے سے انہیں ہاتھ ہلا کر پکارنے کی کوشش کی دونوں بچے جو فٹ بال کھیلنے میں مصروف تھے اصفر کو دیکھ کر وہیں رک گئے
“بات سنو بیٹا ۔۔۔۔ادھر آؤں “۔۔۔۔۔اصفر نے بلند آواز سے کہا مگر دونوں اپنی جگہ سے ہلے ہی نہیں
“بیٹا مجھے اس بوتل میں پانی بھر دو پلیز” ۔۔۔اصفر نے بوتل ہاتھ میں اوپر کر کے لہرا کر کہا ان دونوں بچوں میں سے چھوٹا بچہ اسکی طرف بڑھنے لگا لیکن وہ بچی بول پڑی
“مان بھائی ممی نے اجنبی لوگوں سے بات کرنے کو منع کیا ہے ۔۔۔۔چلو نا مان بھائی اندر چلتے ہیں ۔۔۔۔” نور نے ایمان کا ہاتھ پکڑا تھا اصفر نور کی بات سن چکا تھا
“بیٹا میں کوئی برا انسان نہیں ہوں آپ کسی بڑے کو باہر بلا دو میں ان سے کہہ دیتا ہوں” ۔۔۔۔ ایمان اپنا آپ نور سے چھڑوا چکا تھا وہ فورا اندر کی طرف چلی گئ مگر مان اسکے قریب پہنچ گیا ۔۔۔۔کالی موٹی جیکٹ اور لونگ بلیک شوز میں وہ اصفر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا
“یہ مت سمجھنا کہ میں برے اور بدمعاش لوگوں سے ڈرتا ہوں ۔۔۔۔اور نا یہ سمجھنا کہ ممی اور نور اکیلی ہیں تو ہم ڈر جائیں گئے ۔۔۔۔میں ایمان ہوں اور بہت بہادر بچہ ہوں ۔۔۔لائیں اپنی بوتل دیں اور دروزے سے ذراپیچھے ہٹ کر کھڑے ہوں “۔۔۔۔اصفر اس بچے کی کمال جرت پر مسکرائے بنا نہیں رہ سکا تھا با مشکل پانچ سال کا وہ بچہ اسکی ٹانگ کے برابر بھی نہیں تھا ۔۔۔ مگر بات ایسے کر رہا تھا کہ جیسے کوئی بچاؤ سالہ مضبوط مرد ہو ۔۔۔۔پانی کی بوتل اسے پکڑا کر خود چند قدم پیچھے ہٹ گیا ۔۔۔۔ وہ بچہ اسکی آنکھوں آنکھیں ڈال کر بڑے رعب سے بولا تھا
“کیوں بگ باس اتنا کافی ہے یا اور پیچھے ہٹ جاؤں ۔۔۔۔” اپنے دونوں ہاتھ اوپر کر کے وہ مسکرا کر بولا ۔۔ پہلی نظر میں وہ بچہ متاثر کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا تھا ایمان نے جب دیکھا کے وہ خاصے فاصلے پر جا کر کھڑا ہو گیا تھا تو پھر اسکے ماتھے پر پڑے بل کچھ کم ہوئے تھے
“ہاں یہاں ٹھیک ہے ۔۔۔۔دیکھوں میرے جاتے ہی قریب مت آنا ۔۔۔آپ کو شاید پتہ نہیں ہے میں غصے کا بہت خراب ہوں” ۔۔۔۔۔وہ ماتھے پر دوبارہ تیوری چڑھائے سخت انداز میں کہتے ہوئے اندر جانے لگا اصفر متعجب تھا اتنی دیر میں ایک ہاپتی کانپتی عورت اس بچی کا ہاتھ پکڑے باہر آ گئ ۔۔۔۔۔کچھ بھاری وجود کی تھی اور بھاگتی ہوئی آئی تھی اس لئے سانس پھولا ہوا تھا ۔۔۔۔
“مان ادھر آؤں تم ورنہ بیگم صاحبہ کو تمہاری شکایت لگادونگی” ۔۔۔۔۔وہ وہیں دروازے سے چلا کر بولی ۔۔۔۔
پھر اصفر کی طرف دیکھنے لگی
“ہاں بھئ بولوکس سے ملنا ہے ۔۔۔۔” قدسیہ نے اصفر سے پوچھا
“مسافر ہوں بی بی مہربانی کر کے اس بوتل میں پانی بھر دیں” ۔۔۔۔۔۔ اصفر میں بلند آواز سے کہا وہ بچہ اب اس عورت تک پہنچ چکا تھا ۔۔۔۔۔اس نے بوتل اس بچے سے لی اور اندر چلی گئ وہ بچی بھی اس کے ساتھ اندر کی طرف بھاگ گئ مگر وہ بچہ وہیں اپنی جیب میں ہاتھ ڈالے اصفر کو گھورتا رہا ۔۔۔۔اصفر کو نا جانے کیوں اس کا یہ انداز بھانے لگا تھا اتنی چھوٹی سی عمر میں بھی وہ کسی پختہ مرد کی طرح ریایکٹ کر رہا تھا ۔۔۔۔جیسے اپنے گھر کا واحد نگہبان ہو اور اپنی فیملی کی حفاظت اسی کے ذمے ہو ۔۔۔۔اصفر کا جی چاہا وہ اسکے قریب جا کر اسے گود میں بھر لے۔۔۔۔۔وہ عورت پانی کی بوتل لے آئی اور گیٹ تک دینے بھی آئی اصفر نے آگے بڑھ کر بوتل لیتے ہوئے کہا
‘”شکریہ جی” ۔۔۔۔۔اصفر نے مؤدب انداز میں کہا اور پانی کی بوتل لیکر منہ لگا کر پینے لگا ۔۔۔۔پیاس اتنی شدت کی تھی کہ لمحہ بھر بھی انتظار کیے بغیر بوتل کو منہ لگا گیا تھا
“آپ کو کسی نے یہ نہیں بتایا کہ پانی ہمیشہ بیٹھ کر بسم اللہ پڑھ کر تین گھونٹ میں پینا چاہیے ۔”۔۔۔اس بچے کی بات سن کر اصفر نے فورا بوتل نیچے کر لی ۔۔ وہ پچہ اسے حیران کرنے پر تلا ہوا تھا ۔۔۔ بڑی دلچسپ سی گفتگوں لگ رہی تھی اسکی ۔پھر مسکرا کر اسے دیکھا اپنا کان پکڑ کر آنکھ دبائی
“سوری بھول گیا تھا “۔۔۔پھر وہیں سڑک پر دو زانوں بیٹھ کر گھونٹ گھونٹ کر کے پانی پیا ۔۔۔۔اور پھر گاڑی کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔
“قدسیہ مجھے سیب لا کر دیں” ۔۔۔۔وہ بچہ گیٹ کے پاس ہی کھڑا اصفر کودیکھنے لگا ۔۔۔۔
“مان بیٹا آپ اندر آکر کھا لیں ” قدسیہ ایمان کو اندر لے جانا چاہتی تھی
“آپ لا کر دیں نا ۔۔”۔۔وہ وہیں کھڑابولاتو قدسیہ اندر چلی گئ اصفر نے اپنی گاڑی کا بونٹ کھولا دیکھنے لگا کہ گاڑی کے ساتھ مسلہ کیا ہے ۔۔۔۔۔گاڑی کافی ہیٹ اپ ہوچکی تھی ۔۔۔اصفر نے گاڑی میں پانی ڈالا تو شن کی آواز سے دھواں اڑنے لگا ۔۔۔۔اب وہ بچہ بڑی دلچسپی سے اصفر کو گاڑی کی میکنکنگ کرتے دیکھ رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ سیب کھا رہا تھا ۔۔۔اصفر گاڑی کو ٹھیک کرنے کے ساتھ ساتھ اس بچے ہر بھی چور نظر دوڑا لیتا ۔۔۔۔
“ایے انکل بات سنو ۔۔”۔۔اصفر نے ایمان کے پکارنے پر اسکی طرف دیکھا اسے لگا شاید کسی اور کو بلا رہا ہے پھر دائیں بائیں جانب دیکھا لیکن وہاں اسکے علاؤہ کوئی نہیں تھا پھر اپنی طرف انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے پوچھنے لگا
“میں ۔۔۔مجھے بلایا آپ نے “
“ہاں ہاں آپ ۔۔۔۔ادھر آئیں ذرا ۔”۔۔۔اصفر کو یہ سب بہت دلچسپ سا لگ رہا تھا ۔۔۔۔وہ اس بچے کی طرف آتے ہوئے گیٹ کے قریب آ کر پوچھنے لگا
“جی بولیے “
“آپ کیا بھوکے اور ندیدے ہیں جو مجھے سیب کھاتے ہوئے یوں دیکھ رہے ہیں “۔۔۔۔اب تو اصفر کا قہقہ بے اختیار تھا وہ تھوڑا جھک کر اسکے برابر ہو کر بولا
“ندیدا تو نہیں ہاں بھوکا ضرور ہوں کل سے کچھ نہیں کھایا “۔۔۔۔۔۔بڑی معصومیت سے اس نے کہا
“کیوں ۔۔۔۔کیوں نہیں کھایا “
“بس بہت غریب ہوں پیسے نہیں تھے کھانے کے میرے پاس ۔”۔۔۔وہ چہرے پر مصنوعی مظلومیت سجائے بولا
“اچھا آپ غریب ہیں ۔۔۔۔” اس نے تعجب سے اصفر کی جانب دیکھا
“جی بہت غریب ہوں “
“پھر ایسا کریں یہ سیب آپ کھا لیں ۔۔۔۔” ایمان نے اپنا سیب اسکی طرف بڑھا دیا
“سچی میں کھا لوں؟ ” اصفر نے تعجب دیکھا
“ہاں ممی کہتی ہیں کسی غریب اور بھوکے کو اپنے گھر سے ایسے ہی نہیں لوٹانا چاہیے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں” ۔۔۔۔ بچے کی بات پر اصفر نے مسکراتے ہوئے شکریہ کے ساتھ اس سے وہ سیب لے لیا ۔۔۔۔اصفر نے گاڑی کا بونٹ بند کیا اور سیب کھاتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی اسٹاٹ کی اس بار گاڑی اسٹاٹ ہوگئ تھی ۔۔۔۔۔وہ گیٹ پر کھڑے پچے کو ہاتھ ہلا کر الودع کرتے ہوئے وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔کل کی تھکن کوفت بیزاری نیند بھوک ہر چیز پر جیسے اوس سی پڑ گئ تھی ۔۔۔۔کچھ دیر ہی سہی اس بچے کی وجہ سے کافی فریش ہو گیا تھا ۔۔۔۔باقی کا رستہ بس اسی کے بارے میں سوچتا رہا ۔۔۔۔۔
بچے بھی اللہ کا انمول تحفہ ہیں پل میں ہی ساری توجہ اپنی جانب کھنچ لیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اپنے اسی پرانے سے کمرے میں کے سامنے جا کر اصفر نے چابی سے دروازہ کھولا ۔۔۔۔کمرے میں عجیب حبس کا احساس ہوا کافی دن سے کمرہ بند تھا شاید اس لئے ۔۔۔۔وہ اندر جا کر اپنے بیڈ پر لیٹ گیا ۔۔۔۔دو دن کی تھکن تھی کچھ ہی دیر میں گہری نیند سو گیا ۔۔۔۔۔
******…..
“ممی آپ کو پتہ ہے مان بھائی نے آج ایک اجنبی سے بات کی” ۔۔۔۔حمنہ ایمان اور نور کو کھانا کھلا رہی تھی تو نور نے حسب عادت گزرے ہوئے دن کی روداد حمنہ کو سنانی شروع کر دی ۔۔۔۔حمنہ نے ایک گھورتی نظر ایمان پر ڈالی ۔۔۔۔
“ایمان “
“ممی مسافر تھا پھر غریب بھی تھا اوپر سے بھوکا بھی ۔۔۔آپ نے خود توکہا تھا غریب لوگوں کی مدد کرنی چاہیے “۔۔۔۔ایمان نے اپنا دفاع شروع کر دیا اور ایک سانس میں اپنی بات ختم بھی کر دی ۔۔۔۔حمنہ نے نوالہ ایمان کے منہ میں ڈالا ۔۔۔۔
“ممی غریب لوگوں کے پاس گاڑی بھی ہوتی ہے ۔”۔۔۔نور کے معصومانہ سوالوں کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا ۔۔۔۔
“نہیں بیٹا’ ۔۔۔ حمنہ نے پیار سے جواب دیا
“مگر ان انکل کے پاس گاڑی تھی وہ بھی اتنی بڑی ۔۔۔” نور نے دونوں بازو پھیلا کر بتایا
“لیکن ممی اس کے پاس پیسے نہیں تھے “۔۔۔ ایمان جلدی سے بولا ۔۔۔۔حمنہ نے قدسیہ کو آواز دی قدسیہ کچن میں برتن دھونے میں مصروف تھی ۔۔۔۔۔ حمنہ کی آواز پر ڈوپٹے سے ہاتھ پونچتی ہوئی باہر آ گئ
“آج باہر کون آیا تھا تھا قدسیہ
“بی بی جی کوئی مسافر تھا ۔۔۔۔گاڑی خراب ہو گئ تھی اسکی بس ایک بوتل پانی کی مانگ رہا تھا ۔۔۔ میں نے دیدیا کچھ ہی دیر میں چلا گیا تھا ۔۔۔۔۔”
“کتنی بار تمہیں سمجھانا پڑے گا کہ کوئی بھی آئے تم بچوں کو باہر مت نکالا کرو ۔۔۔۔بچے کیوں گئے تھے باہر ۔۔۔۔”وہ سختی سے بولی
“بی بی جی وہ تو باہر باغ میں کھیل رہے تھے جب وہ اجنبی آیا تھا ۔۔۔۔”قدسیہ گھبرا سی گئ تھی
“اچھا بچے باہر کھیل رہے تھے تو تم کہاں تھی اس وقت” ۔۔۔۔حمنہ کا لہجہ خود با خود ہی سخت ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔
“میں جی وہ گھر کی صفائی کر رہی تھی قدسیہ کھسیا کر بولی
“میں تمہیں پہلے بھی کئ بار سمجھا چکی ہوں کہ جب بچے باہر کھیل رہے ہوں تو تم بھی انکے پاس رہا کرو اکیلا مت چھوڑا کرو انہیں ۔۔۔۔قدسیہ تمہاری لاپروائی سے اگر میرے بچوں کو کوئی نقصان ہوا تو میں” ‘۔۔ ۔۔حمنہ غصے سے بول رہی تھی پھر بات ادھوری چھوڑ کر ہونٹ بیچ کر رہ گئ
جاؤں یہاں سے ۔۔۔۔آسیہ فورا کھسک گئ
اور حمنہ نے کن آنکھیوں سے گھور کر دونوں بچوں کو دیکھاوہ دونوں ہی نظریں جھکا گئے
“آئندہ اگر تم دونوں میں سے کسی نے بھی کسی انجان شخص سے بات کرنے کی کوشش کی ۔۔۔۔میں بہت سختی سے پیش آؤں گی ۔۔۔۔سن رہے ہو نا مان “۔۔۔۔حمنہ کے سخت لہجے پر مان نے فورا سر جھکا لیا اور اثبات میں ہلا دیا ۔۔۔۔
*******……..*********
کافی دن سے فارس کا موڈ آف تھاوہ حمنہ سے ٹھیک سے بات نہیں کر رہا تھا ۔۔۔۔ حمنہ کی بات کا جواب بھی لئے دئے انداز سے دے رہا تھا ۔۔۔
” فارس واٹ ہیپنڈ ودیو ” حمنہ فارس کے اجنبی رویے سے زچ سی ہو گئ تھی
” یو نو ویری ویل ڈاکٹر حمنہ ” وہ اب بھی پوری سنجیدگی سے بات کر رہا تھا وہ سمجھ گئی کہ وہ اسی بات کو لیکر سیریس ہے
” فارس یہ کوئی وجہ نہیں ہے ناراض ہونے کی ۔۔۔ میں اپنی زندگی پر حق رکھتی ہوں ۔۔۔۔ “
“جی ہاں تمہارے نزدیک تمہاری زندگی ہی تو ہے ۔۔۔
بس تم خوش رہو ۔۔۔ یو نو حمنہ خوش ہونے والے تمہارے جیسے نہیں ہوتے ۔۔۔۔ جیسے تم زندگی جینا کہہ رہی ہو جینے کا نام ہی نہیں وہ صرف زندگی کو ایک مردہ وجود کی طرح گھسٹنے کس نام ہے ۔۔۔ لیکن تم خوش ہو ” وہ استزائیہ ہنسی ہنسا تھا حمنہ چپ ہی رہی لیکن فارس کے اندر تلخی بھری پڑی تھی
“۔۔ بچے اپنی زندگی میں کیا کمی محسوس کر رہے ہیں ۔۔۔ تمہیں یہ بھی نظر نہیں آتا ۔۔۔۔ تمہاری وجہ سے میں کہاں کھڑا ہوں تمہیں اس کا بھی احساس نہیں ہے پانچ سال۔۔۔ پانچ سال سے میں تمہارا منتظر ہوں ۔۔۔ تمہاری ایک رضامندی کا ۔۔۔۔ لیکن تمہارے رویے میں ذرا سی بھی لچک نہیں ہے ۔۔۔ ” فارس کے شاید صبر کا پیمانہ لب ریز ہوا تھا
” فارس میں تمہیں بہت دفعہ کہہ چکی ہوں کہ تم شادی کر سکتے ہو ۔۔۔۔ تمہیں اگر سمجھ نہیں آتا تو میں کیا کر سکتی ہوں ۔۔۔ روبی ۔۔اور نایاب دونوں تمہیں پسند کرتی تھیں ۔۔۔ خود سے کئ بار اظہار بھی کر چکیں تھیں ۔۔۔ لیکن تمہارے صاف انکار وجہ سے انہوں نے اپنا ہمسفر کسی اور کو چن لیا ۔۔۔ نا تو انہوں نے اپناوقت ضائع کیا۔۔۔۔ اور تمہارے انکار کو انکار ہی سمجھا ہے ۔۔۔ پھر میرے انکار کو کیسے تم غیراہم سمجھ سکتے ہو رہ گئ بات بچوں کی تو میں ہی انکی ماں ہوں اور باپ بھی ۔۔۔ انہیں کسی باپ کی ضرورت نہیں ہے ” حمنہ کے اس قدر بے حسی پر وہ تاسف سے دیکھ رہا تھا ۔۔
” او کے ٹھیک ہے ۔۔۔ آج سے میری تمہاری راہیں الگ ہیں تم سے آج کے بعد مجھے آواز اس وقت دینا جب تمہیں لگے کہ تمہاری زندگی میں میری کمی تمہیں اتنی محسوس ہونے گی ہے کہ تم خود کو میرے ساتھ مکمل سمجھو ” فارس کا لہجہ بھی سخت ہوا تھا اپنا اوورآل ٹیبل سے پکڑے اس نے اپنے بازو پر لٹکایا اور اس کے کیبن سے باہر نکل گیا
” عجیب پاگل شخص ہے ۔۔۔ سمجھتا ہے میں جیسے مری جا رہی اس کے بغیر ۔۔ مت کرے بات ۔۔۔ ہنہ” حمنہ واپس اپنی کرسی پر بیٹھ گئ ۔۔۔ اس کے بعد تو حمنہ بھی اسے دیکھ کر کترا کر گزر جاتی تھی ۔۔۔ دس دن وہ گھر بھی نہیں آیا تھا ۔۔۔ ہر دوسرے دن بچے اس کا پوچھتے تھے
” ممی انکل فارس کیوں نہیں آ رہے ” دونوں بچے اب اس کاانتظار کر کر کے تنگ آنے لگے تھے کچھ اداس اور بجھے بجھے سے بھی لگ رہے تھے ۔۔۔۔ حمنہ نے پرس میں سے دو۔ چوکلیٹ نکال کر دونوں کی طرف بڑھا دیں
” بچوں نے بڑی خاموشی سے پکڑ لیں ۔۔۔ “
” وہ آجکل بہت بزی ہیں اس لئے نہیں آ سکتے ۔۔۔۔ ” حمنہ نے بہانہ بنایا وہ دنوں اداس سے ہو گئے تھے پھر اپنے کمرے میں چلے گئے ۔۔۔
حمنہ نے کھانے کے بعد انہیں کیرم کھیلنے کے لئے کہا
” چلو میں کیرم سیٹ کرنے لگی ہوں تم لوگ جلدی سے آ جاؤں ۔۔۔
” نہیں ممی فارس انکل کے بغیر مزہ نہیں آتا ” ایمان نے صاف انکار کیا تھا ۔۔۔
” مان بھائی ٹھیک کہہ رہا ممی ۔۔۔ آپ فارس انکل سے کہنا کہ نور ان سے ناراض ہے ۔۔۔ بات نہیں کرے گی ” نور نے اپنی ڈول گود سے پرے پھنکی جو فارس نے اسے لا کر دی تھی ۔۔ اوراٹھ کر اپنے بیڈ پر لیٹ گئ ۔۔۔ نور کی اٹچمنٹ فارس سے ذیادہ تھی ایمان بھی چپ چاپ بیڈ پر لیٹ گیا حالانکہ سونے کاوقت نہیں تھا لیکن وہ سونے کے لئے لیٹ چکے تھے
” ممی لائٹ آف کر دیں ” دونوں نے بیک وقت کہا ۔۔۔
دونوں بچے مرجھا سے گئے تھے حمنہ کے پاس اول تو انکے لئے سے ہی نہیں ہوتا تھا جو تھوڑا بہت ہوتا بھی تھا تو اس میں وہ اس سے ذیادہ بات نہیں کرتے تھے پھر وہ وقت سے پہلے ہی اتنی سنجیدہ ہو چکی تھی کہ ہسنا بھوک بیٹھی تھی
زندگی جس تلخیوں سے گزری تھی ۔۔۔ وہ چاہ کر بھی اپنے ماضی کی تلخ یادوں سے باہر نہیں نکل پا رہی تھی۔۔۔۔
اس ستم گر نے کہیں کا نہیں چھوڑا تھا اسے ۔۔۔ مردوں پر بھروسہ کیا کرتی ۔۔۔
ایک ہی شخص نے اپنے اتنے روپ دیکھائے تھے کہ ہر وقت ہنستا مزاق کرنے والا ڈاکٹر اصفر حسن کمال اسکے کے ساتھ ایسا کھیل کھیل جائے گا کہ وہ کسی پر بھی بھروسہ نہیں کر پائے گی ۔۔۔ آنسوں اب کہاں اسکی آنکھوں سے نکلتے تھے ۔۔۔خشکںہو چکے تھے ۔۔۔ بس آنکھیں اب نم ہی ہوا کرتی تھیں ۔۔۔
اب بھی ایسی کیفت میں مبتلہ تھی ۔۔۔ پھر سے ماضی نے اسے جھکڑا تھا
ہاؤس جاب کا پہلا سال ختم ہونے کو تھا جب گورنمنٹ ہاسپٹل میں زارا کے ساتھ اسکی ڈیوٹی بچوں کے واڈ میں تھی ۔۔۔
ایک بچہ انجکشن لگوانے سے منع کر رہا تھا ۔۔۔
زارو قطار رو رہا تھا ۔۔۔ نرس کے قابو سے باہر تھا ۔۔۔
حمنہ اس کے قریب آ گئ اس بچے کی والدہ اسے زور سے جکڑنے کی کوشش کر رہی تھی تاکہ انجکشن لگوایا جاسکے لیکن وہ قابوسے باہر ہو رہا تھا ۔۔۔
” ایک منٹ یہ آپ کیا کر رہیں ہیں ۔۔۔ جیسے یہ بے قابو ہے۔۔ اس طرح تو انجکشن کے دوران سرنج ٹوٹ کر انکے اندر رہ سکتی ہے ۔۔۔ ” حمنہ نے اسکی والدہ سے کہا
” یہ ہر بار ایسے ہی چیختا ہے جی ۔۔۔ لیکن ہوتا وتا کچھ نہیں ہے ۔۔۔ ۔۔۔ ابھی وہ بات کو سن سمجھ ہی رہی تھی جب نرس نے اس بچے کے بازو پر انجیکشن گھونپتے ہوئے لگایا اور دو سکینڈ میں پورا انجکشن اس کے اندر خالی کر۔ کے سرنج نکال باہر کی وہ بچہ زور سے چلانے لگا ۔۔۔ حمنہ کا دیکھ پارہ ہائی ہوا تھا ۔۔۔۔ وہ نرس پر بے ساختہ چلائی
” تم انسان ہو یا جانور ۔۔۔ایسے لگاتے ہیں انجکشن ۔۔۔ ” حمنہ کے چلانے پر وہ نرس ذرا سا گھبرا گئ اچھی خاصی عمر کی تھی ۔۔۔
” یا پھر جانوروں کے ڈاکٹر سے ٹرینگ لے کر آئی ہو۔۔۔ بچہ ہے وہ ۔۔۔ روئے بلبلائے گا نہیں تو اور کیا کرے گا ” نرس منہ سے کچھ نہیں بولی مگر ماتھے پر کئ بل پڑ چکے تھے ۔۔۔ اصفر اپنے کسی ڈاکٹر دوست سے ملنے وہاں آیا تھا ۔۔۔ وہاں سے گزرتے ہوئے شور سن کر واڈ کے دروازے پر ہی کھڑا ہو گیا ۔۔۔ اسکاف اور اوورآل پہنے وہ کم عمر سی لڑکی ۔۔۔ پہلی بار ہی دیکھتے الگ سی لگی تھی ۔۔۔ بچے کو ساتھ لگائے اس کے آنسوں صاف کر رہی تھی سے چپ کروا رہی تھی ساتھ ساتھ نرس کی کھچائی کر رہی تھی ۔۔۔
گورنمنٹ ہاسپٹلوں میں کہاں مریضوں کو انسان سمجھا جاتا ہے ۔۔۔ جہاں وہ انسانیت کا درس دے رہی تھی ۔۔۔۔وہ مدافعانہ انداز سے مسکراتا ہوا آگے بڑھ گیا۔۔۔
کچھ دیر ہوئی تھی اسے ڈاکٹر یوسف کے پاس بیٹھے ہوئے جب وہ نرس دروزہ ناک کر کے اندر آنے کی اجازت مانگ رہی تھی
” جی آئیے ” یوسف نے اپنی ریوالونگ کرسی کو ٹیک لگاتے ہوئے کہا وہ بڑے تپے ہوئے انداز سے اندر آئی تھی
” سر جہاں ڈاکٹر حمنہ کی ڈیوٹی ہو کل سے میں وہاں کام نہیں کروں گی ۔۔ جمعہ جمعہ اٹھ دن ہوئے نہیں ڈاکٹر کی ڈگری حاصل کیے ہوئے اور مجھے یہ سیکھا رہیں ہیں کہ انجکشن کیسے لگانا ہے ارے اتنی اسکی لڑکی عمر نہیں جتنے سال سے میں یہاں کام کر رہی ہوں ۔۔۔۔ “
“او کے زبیدہ جاؤں تم یہاں سے اور دو کپ چائے بھیجوا دو ڈاکٹر حمنہ کو میں خود سمجھا دوں گا “
” نا ڈاکٹر صاحب وہ خبطی ڈاکٹر کسی کی نہیں سنتی ۔۔۔ لگتا ہے ابا افسر تھا پولیس میں ۔۔۔
یوں سب کو ٹوکتی کے جیسے ورازت صحت کی کرسی انکے ہاتھ میں ہے ۔۔۔ گند کیوں ہے پان کی پیک کس نے پھنکی واش روم ٹھیک سے کیوں نہیں دھلے ۔۔۔
مریضوں کے لئے صاف ستھرا ماحول بہت ضروری ہے ۔۔۔ ارے سب ہی ان سے تنگ ہیں ” اصفر اس لڑکی خوبیان سن سن کر با مشکل اپنی ہنسی روک رہا تھا
” زبیدہ اگر آپ ابھی اسی وقت یہاں سے نہیں گئیں تو میں ڈاکٹر حمنہ کے ساتھ آپکی ڈیوٹی لگا دوں گا ۔۔۔۔۔ “ڈاکٹر یوسف کی دھمکی کام کر گئ تھی ۔۔ وہ نفی ۔میں سر ہلاتے ہوئے باہر نکلی تھی
ڈاکٹر یوسف بھی ہسنے لگا
” توبہ ہے اسٹاف کو سنبھالنا بھی ۔۔۔ ” اصفر ابھی تک ہنس رہا تھا
” ہاں ہاں ہنس لوں تم۔۔۔ تمہیں تو سب کیا کرایا ملا ہے ۔۔۔ ابا اتنے بڑے ہارٹ سرجن ہیں اپنا پراویٹ ہاسپٹل ہے ۔۔۔ مزے سے جاتے ہوں اے سی روم میں بیٹھتے ہو ۔۔۔ ذرا گورنمنٹ ہاسپٹل کی جاب کرتے تو پتہ چلتا “…اپنے سامنے پڑی کسی مریض کی فائل کو یوسف نے پکڑ کر تپے ہوئے انداز سے دوبارہ ٹیبل پر پھنکا تھا ۔۔۔
” تو ۔میری جان تمہیں ہی شوق ہے ۔۔۔ میری آفر اب تک برقرار ہے ۔۔۔ آجاؤں میرے پاس یہاں سے ڈبل سیلری دونگا ” اصفر نے بے نیازی سے کہا
” ارے بھئ میں یہیں ٹھیک ہوں ۔۔۔ ” ابھی وہ باتوں میں ہی مصروف تھے جب حمنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی تھی ۔۔۔
” سر مے آئی کم ان “
” او یس مس حمنہ پلیز کم ان ” حمنہ نے جب یوسف کے ساتھ کسی اور اجنبی کو دیکھا تو دروازے پر ہی رک گئ
” میں بعد میں آ جاؤں گی سر آپ شاید بزی ہیں “
” او نو مس حمنہ پلیز کم ان ۔۔ اندر آئیے ” یوسف نے بے نیازی دیکھائی حمنہ اندر داخل ہو گئ
” جی فرمائیے ۔۔۔آپ کو بھی یقینا اسٹاف کی کارکردگی سے شکایت ہو گی ” یوسف نے ہاتھ باندھ کر پوچھا ۔۔۔
” یس سر یہ جو نرس ہیں جو بچوں کے واڈ میں ان دا ڈیوٹی ہوتی ہیں ۔۔۔ انکا رویہ بچوں کے ساتھ نہایت ہی سخت اور غیر مناسب ہے “
” حمنہ۔۔ حمنہ ۔۔حمنہ آپ اکیلی سب کچھ نہیں بدل سکتیں یہ گورنمنٹ ہاسپٹل ہے یہاں تو ایسا ہی ماحول ہے اور شاید قیامت تک نہیں بدلے گا ۔۔۔ کس کس سے لڑیں گئ آپ “
” سر آپ مطلب ہے طوطا چشمی اختیار کر لی جائے “
” آسان لفظوں میں یہی سمجھ لیں ۔۔۔ “
” ایم سوری سر میں تو یہ سب برداشت نہیں کروں گی ۔۔۔ یہ ہوسپٹل انسانوں کے لئے بنا ہے غیر انسانی سلوک دیکھ کر میں بے حسی اختیار نہیں کر سکتی ۔۔۔ “
” سوچ لیں حمنہ اگر سب واڈ بوائے اور نرسنگ اسٹاف نے ملکر آپکی کمپلین کر دی تو بہت مشکل ہے ان سے نمٹنا “
” میرے پاس مضبوط جواز ہے ۔۔۔ اپنی لڑائی میں لڑنا جانتی ہوں ۔۔۔ “
” یہ بلکل ٹھیک کہہ رہیں ڈاکٹر صاحب ۔۔۔ میں انہیں اپریشیڈ کرتا ہوں ۔۔ سر پلیز میری ڈیوٹی ان ڈاکٹر کے ساتھ ہی لگا دیں ۔۔۔ ان کے ساتھ رہ کر مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملے ” اصفر نے یوں ظاہر کیا جیسے نوکری کے لئے آیا ہو ۔۔۔
” یہ تم “اس سے پہلے کہ یوسف کچھ بولتا اصفر نے آنکھ وینک کر کے سے چپ رہنے کاشتہ کیا تھا پھر حمنہ کی طرف متوجہ ہوا
” میں ایک واڈ بوائے ہوں ۔۔۔ میرا مقصد بھی انسانیت کی بھلائی اور خدمت کرنا ہے ۔۔۔ آپ کے ساتھ رہ کر میں بہت سیکھ کچھ سکتا ہوں “اصفر کے منہ پر سجی مظلومیت دیکھ کر یوسف حیرت سے بے ہو ہونے کو تھا
یہ کیا ڈرامہ رچانا چاہ رہا تھا وہ یوسف اسے سمجھ نہیں پا رہا تھا ۔۔۔حمنہ چپ کی چپ اسے دیکھ رہی تھی
