Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415

Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 26

644.1K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Noor-e-Emaan Episode 26

Noor-e-Emaan by Umme Hani

حسن کمال اپنے کمرے کی گیلری میں اکیلے بیٹھے تھے ۔۔۔۔۔ کوئی نہیں تھا انکے پاس ۔۔۔۔ دو دن پہلے سیف نے بھی اپنا فیصلہ سنا دیا تھا

” ڈیڈ میں اور دعا اب ہاسپٹل نہیں چلا سکتے ۔۔۔۔ ہمارے ہاسپٹل میں مریضوں کا گراف دن با دن نیچے ہی آ رہا ہے ۔۔۔پچھے چھ سال سے ہسپتال ہمہیں نہیں ہم ہاسپٹل کو پال رہے ہیں ۔۔۔ اصفر تو ویسے ہر چیز سے لا تعلق سا ہو گیا ہے ۔۔۔۔ آپ بھی نہیں آتے ۔۔۔۔ ہم کب تک اس ہاسپٹل کو مردہ نعش کی طرح کھنچتے رہیں ۔۔۔۔ ” سیف کا انداز مدافعانہ سا تھا

“ساری زندگی تم لوگوں کی ضرورتیں اور خواہشیں اسی ہاسپٹل سے پوری ہوئیں ہیں ۔۔۔ اگر پچھلے چند سالوں سے لوس ہو رہا ہے تو تم جان چھڑوانے کی سوچ رہے ہو ” حسن کمال کی آواز میں ناوہ رعب اور دبدبے باقی رہا تھا نا ہی سیف کے سامنے بات کی وہ اہمیت تھی جو اصفر کے سامنے ہو کرتی تھی ۔۔۔۔

” ڈیڈ میں نے امریکہ جانے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔۔۔ ٹکٹ تک بک ہو چکے ہیں ۔۔۔ ” وہ نظریں۔ بدل کر بولا تھا اجازت تو درکنار بس اطلاع ہی دہ تھی ۔۔۔۔حسن کمال نے ماتھے پر کئ بل ڈالے اسے زریک نظروں سے دیکھا تھا

“جب تم سب کچھ طے کر چکے ہو تو میرے پاس اطلاع بھی کسی ملازم کے ہاتھ ہی بھیجوا دیتے ۔۔۔

بہرحال تم جا سکتے ہو غفور کب سے مجھ سے ہاسپٹل کو کرایے پر مانگ رہا تھا ۔۔۔ سوچ رہا تھا کہ کیا کروں ۔۔۔ لیکن اب فیصلہ کرنا آسان ہو گیا ہے ۔۔۔ کل سے ہاسپٹل غفور کے حوالے کر دوں گا ۔۔۔۔ ” سیف تو جیسے مطمئن سا ہو گیا تھا

” او کے ڈیڈ اپنا خیال رکھیے گا ” سیف نے الوادعی کلمات ادا کیے

” تمہیں یہ بھی سوچنے کی ضرورت۔ نہیں ہے ۔۔۔ وہ بھی میں خود رکھ سکتا ہوں ۔۔۔۔ ” اپنا رخ غصے سے بدل کر گویا حسن کمال نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا تھا لیکن یہاں پروا کسے تھی ۔۔۔۔ سیف کندھے اچکاتا ہوا باہر نکل گیا ۔۔۔

سیف کو امریکہ گئے بھی ایک ہفتہ گزر گیا تھا ۔۔۔۔ دعا کا گھر ہونا نا ہونا برابر تھا ۔۔۔۔ اس نے سگی بھتجی ہوتے ہوئے کبھی حسن کمال کی پروا نہیں کی تھی ۔۔۔۔ جب تک انکی بیوی زندہ تھیں تب تک انہیں کسی بات کی خاص پروا نہیں تھی ۔۔۔ لیکن جب سے وہ دنیا فانی۔ سے کوچ کر چکیں تھیں حسن کمال کو صحیح معنوں میں یہ پتہ چلا تھا کہ تنہائی کس چڑیا کا نام ہے ۔۔۔۔۔

سگار کا کا گہری کش لگاتے ہوئے دھیرے سے حسن کمال نے دھوائیں کے مرغولے باہر نکالے تھے ماضی کے دریچے انکی آنکھوں کے سامنے کھلنے لگے تھے۔۔۔۔۔

اصفر کے جیل جانے سے اصفر کی والدہ بے حد پریشان ہوئیں تھیں روتی بھی بہت رہتی تھیں ۔۔۔ جس دن اسے جیل میں ملنے گئیں تو بیٹے کو قیدوں کے لباس میں دیکھ دل کٹ کے رہ گیا تھا ۔۔۔۔

” اصفر بھی ماں کو سامنے دیکھ کر شیشے کے پیچھے اپنے آنسوں چھپانے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔ فون اٹھا کر ان سے بات کرنے لگا جو مسلسل رو رہی۔ تھیں

” اصفر میرے بچے ۔۔۔ میرے چندہ کیوں کیا تم نے یہ سب۔۔۔۔ اپنی ماں کے بارے میں ذرا نہیں سوچا تم نے ۔۔۔ عمر قید کی سزا تمہارے اقبال جرم سے تمہیں ہوئی ہے ۔۔۔۔ تم اگر ایک بار انکار کر دیتے تو حسن تمہیں بچا لیتے اصفر ۔۔۔۔ ؟” وہ روتے ہوئے بولیں

” ممی ضمیر کے بوجھ کا کیا کرتا ۔۔۔۔ جو آجکل مجھے کسی سانپ کی طرح ڈس رہا تھا ۔۔۔

اول تو ہم جیسوں کاضمیر جاگتا ہی کب ہے۔۔؟ لیکن جب ایک بار جاگ جائے تو ۔۔۔۔ اگلے پیچھے کئے سارے گناہ کسی عذاب کی طرح یکے بعد دیگرے خود پر نازل ہوتے محسوس ہوتے ہیں ۔۔۔

اگر اب بھی اپنے لئے سزاکو تجویز نا کرتا تو ۔۔۔۔۔” اصفر نے آنکھوں نکل کر رخسار کے گرنے والے آنسوں کو فورا سے صاف کیا

” ممی یہاں تو عمر قید کی سزا ہوئی ہے ۔۔۔ لیکن ضمیر تو سیدھی موت کی سزا سنا رہا تھا ۔۔۔۔ “

“تم ایسے تو نا تھے اصفر ۔۔۔۔ کیوں ایک بچے کی جان لے لی ؟ ” اسکی والدہ بے یقین تھیں ۔۔۔ بیٹا اتنا بڑا گناہ۔ نہیں کر سکتا تھا

” بس لالچ کی پٹی باندھ گئ تھی آنکھوں میں ۔۔۔ ڈھائی کڑور کی بات تھی ممی ۔۔۔۔ کرنے والے سے انکار نہیں ہوا ۔۔۔۔ اس چوہدری کا پوتا بچ گیا ۔۔۔۔ ہاسپٹل میں ایک فلور کی تعمیر جو شروع ہوئی ہے اسکے سمیٹ گارے میں عبدالباری کا خون بھی شامل ہے۔۔۔۔۔ ڈیڈ سے کہیے گا ۔۔۔۔ اس بار دیواریں مضبوط بنوائیں ۔۔۔۔۔ بے قصوروں کے خون سے تعمیر شدہ گھر جلد ہی ڈھ جاتے ہیں ۔۔۔۔

ڈیڈ۔ سے یہ بھی کہیے گا ۔۔۔ اگلی بار ہر کام رازداری سے کریں۔۔۔ کہیں حمنہ جیسی ایمان دار ڈاکٹر کے ایمان کو آزمانے کی غلطی نا کریں۔۔۔۔ورنہ دوبارہ کو اصفر جیسا نہیں ملے گا

ممی ڈیڈ سے کہیے گا۔۔۔۔ میں نے اپنا فرض نبھا دیا ہے ۔۔۔۔ مجھ پر اب نافرمانی کا کوئی دعوا نہیں کر سکتے وہ ” اصفر کی معنی خیز گفتگوں نے اصفر کی والدہ کے بہتے آنسوں جیسے منجمد کیے تھے وہ ایک ٹک اسے دیکھ رہیں تھیں۔۔۔۔ یا وہ ساری باتیں سمجھ گئ تھیں جو وہ چاہ کر بھی انہیں صاف لفظوں سے بتا نہیں پا رہا تھا ۔۔۔۔ اصفر نے فون رکھ دیا اسکی والدہ نے بھی فون بند کر دیا ۔۔۔ مرے مرے قدموں وہاں سے کم وٹی تھیں۔۔۔ واپس گاڑی میں بیٹھی۔ تھیں لیکن گھر پہنچنے سے پہلے گاڑی میں گر گئ تھی ڈرائیور پریشان ہو گیا وہ سمجھا کہ وہ بے ہوش ہو چکی ہیں اس نے فوراسے حسن کمال سے رابطہ کیا ۔۔۔ حسن کمال نے فورا انہیں ہاسپٹل لانے کے لئے کہا ڈرائیور سیدھا انہیں ہاسپٹل لے گیا سیریس ہارٹ اٹیک ہوا تھا ۔۔ حسن کمال کے ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے ۔۔۔۔

فورا سے آپریشن کی تیاری کی گئ ۔۔۔۔ ڈاکٹر حسن نے اب تک جتنے آپریشن کیے تھے بڑے بے فکر انداز میں کیے تھے ۔۔۔ اور پھر اپنی جیت کا یقین بھی بہت تھا یہ پہلا آپریشن تھا جس پر آنسوں بہہ رہے تھے ۔۔۔ اپنی طرف سے انہوں نے پوری کوشش کی تھی کہ کوئی کسر نا رہ جائے ۔۔۔۔ مہنگی سے مہنگی دوااستعمال کی گئ تھی ۔۔۔ نرس اور واڈ بوائے کی جگہ بھی سئنر ڈاکٹر ہی موجود تھے ۔۔۔ لیکن پھر بھی آپریشن نا کام ہوا تھا ۔۔۔۔ اس آپریشن کی نا کامی پر حسن کمال دھاڑیں مار مار کر رویا تھا ۔۔۔۔

بیوی جا چکی تھی ۔۔۔ اس کے ان ہی ہاتھوں سے جس پر اسے ناز تھا گھمنڈ تھا کہ یہ ہاتھ بے دھیانی میں بھی چلیں تو دل کو دھڑکنا سیکھا دیتے ہیں ۔۔۔ لیکن اتنی احتیاط برتنے پر بھی بیوی کے دل کی دھڑکنوں کا نا بڑھا سکے ۔۔۔۔ اصفر کو صرف اس وقت جیل سے نکلنے کی اجازت ملی جب میت تدفین کے لئے تیار تھی ہاتھوں میں ہتھکڑی پہنے پاؤں میں بیڑیاں پہنے وہ ماں کی میت کے ساتھ لگ کر بہت رویا تھا ۔۔۔ سیف سے بھی گلے لگ کر رویا تھا بس اگر کسی کے گلے نہیں لگا تھا تو وہ حسن کمال تھے ۔۔۔ جو غم سے پہلے ہی نڈھال تھے ٹوٹ چکے تھے ان کے پھیلے ہاتھ پھیلے ہی رہ گئے تھے ۔۔۔۔ زندگی کی ساتھی کے یوں اچانک سے چلے جانے سے وہ صدمے سے بے حال تھے ۔۔۔۔ تدفین کے بعد اصفر کو واپس جیل لے جایا گیا تھا ۔۔۔۔۔

حسن کمال کے جسم میں سنسی سی دوڑ گئی کپکپی سی طاری ہوئی تھی۔۔۔ غم جیسے پر سے تازہ ہوا تھا آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسوں بہے تھے ۔۔۔۔

سگار بھی کہاں غم کا مداوا کر پارہا تھا ۔۔۔۔

ٹھنڈی ہوا نے ماضی سے کھنچ کر انہیں حال میں دھکیلا تھا ۔۔۔۔

دو ہزار گز پر بنا ان کا شیش محل میں انکے علاؤہ صرف نوکر تھے ۔۔۔۔ دو بیٹے تھے لیکن دونوں ہی گھر سے دور ۔۔۔۔

ایک امریکہ اور دوسرا ۔۔۔۔ دوسرا انکی وجہ سے در در کی ٹھوکریں کھا رہا تھا ۔۔۔۔ بکھرے ہوئے ماضی کو سمیٹنے کی چاہ میں اپنی ذات تک کو بھلا چکا تھا

اپنی شال لپیٹے وہ اپنے کمرے میں آ کر لیٹ گئے

******……

حمنہ بیڈ پر بیٹھی نور کی ڈول کو سینے سے لگائے لیٹی رو رہی تھی جب فون کی بیل بجی اس نے گھڑی دیکھی رات کاایک بج رہا تھا ۔۔۔۔

” اس وقت کون ہو سکتا ہے ” حمنہ نے دھیرے سے کہا اپنے آنسوں پونچے اور فون اٹھا کر جب نمبر دیکھا تو کرنٹ کی مانند اٹھ کر بیٹھی تھی ۔۔۔ اصفر کے نمبر سے کال آ رہی تھی ۔۔۔ جلدی سے اس نے فون اٹھا کر کان پر لگایا تھا ۔۔۔

” ہ۔۔۔ہیلو ۔۔۔ اص۔۔۔ فر ” آنسوں بہہ کر اس کے چہرے سے ہوتے ہوئے گلے تک پہنچ گئے تھے ۔۔۔۔

” واہ تم نے تو فورا سے پہچان بھی لیا حمنہ ۔۔۔مجھےتو لگا تھا شاید مجھے اپنا تعارف کروانا پڑے گا تم سے کہ میں کون ہوں۔۔۔ “لہجہ طنز میں ڈوبا ہوا تھا لیکن حمنہ کو کسی بات کی پروا نہیں تھی سوائے بچوں کے

” اصفر ۔۔۔ میرے ۔۔۔۔۔ میرے بچے کہاں ۔۔۔۔۔۔ہیں ” بامشکل حمنہ نے سسکیوں کے ساتھ پوچھا تھا

” تمہارے ؟ ۔۔۔۔۔ نو ۔۔۔۔ نو ۔۔۔۔ سوئٹ ہارٹ ۔۔۔۔ ہمارے بچے ۔۔۔۔ تمہارے اور میرے بچے ۔۔۔۔ میرا خون ۔۔۔۔میرے نور اور ایمان ” وہ سخت لہجے سے بولا ۔۔۔ لیکن

حمنہ کی بڑھتی ہوئی سسکیوں نے اصفر کا غصہ کم کیا تھا ۔۔۔ دل نے نادم سا کیا تھا کہ جو پہلے سے ہی ٹوٹ چکی ہے اسے کیا پریشان کر رہے ہو

” اصفر ۔۔۔۔ اصفر مجھے ۔۔۔ میرے بچے واپس کر دو ۔۔۔۔ میں۔۔۔۔ میں مر جاؤں گی ان کے بغیر “حمنہ رو رہی تھی

” ہاں تو آ جاؤں میرے پاس ۔۔۔ مل لو بچوں کو ۔۔۔ میں تمہاری طرح سنگ دل نہیں ہوں حمنہ ۔۔۔ جو بچوں سے یہ کہہ دوں کے انکی ماں مر چکی ہے ۔۔۔۔ ” نا چاہتے ہوئے بھی وہ تلخ ہوا تھا ۔۔۔ یہ بات تو اصفر کی برداشت سے باہر تھی ۔۔۔۔

” مل لوں ؟ کیا مطلب ہے اس بات سے؟ مجھے میرے بچے چاہیے اصفر ” حمنہ کو صرف نور اور ایمان کی فکر تھی

” اب ساری باتیں فون پر تو نہیں ہو سکتیں نا ڈاکٹر صاحبہ ۔۔۔۔۔ میں ایک ایڈریس سینٹ کر رہا ہوں ۔۔۔۔ اگر تم چاہتی ہو کہ ایمان اور نور تمہیں مل جائیں تو مجھ سے ملنے اکیلی آنا ۔۔۔۔ یہ میرا اور تمہارا معاملہ ہے ۔۔۔ مجھے کوئی تیسرا

تمہارے ساتھ نظر نا آئے ورنہ زندگی بھر بچوں کی شکل دیکھنے کو ترستی رہو گی ۔۔۔ ” اصفر نے تو جیسے اس کے قدموں کے نیچے سے زمین کھنچی تھی۔۔۔۔

“اصفر ” وہ ترپن ہی تو گئ تھی

” او کے گڈ بائے سوئٹ ہارٹ باقی کی باتیں مل کر کریں گئے ” فون اصفر بند کر چکا تھا ۔۔۔۔ حمنہ کی سسکیاں بلند ہوئیں تھیں ۔۔۔ اسکی آواز سے ڈاکٹر بیگ اور مسز بیگ ڈر کر اٹھ بیٹھے تھے ۔۔۔

مسز بیگ حمنہ کے کمرے۔ میں گھبرائی ہوئی پہنچی تھی اسے بلک بلک کر روتا دیکھ کر وہ اسے ساتھ لگانے لگیں ڈاکٹر بیگ بھی کمرے میں آ گئے تھے ۔۔۔۔

” سر وہ میرے بچے مجھ سے دور لے جائے گا ۔۔۔ ” حمنہ نے روتے ہوئے کہا

” تم کیوں ایسا سوچ رہی ہو “مسز بیگ نے اسے تسلی دی

” نہیں میں سوچ نہیں رہی ۔۔۔ اسکا فون آیا تھا ۔۔۔۔

وہ کہہ رہا تھا ۔۔۔ مجھے سے اکیلے ملنا چاہتا ہے ۔۔۔ اگر اس نے میرے ساتھ کسی کو دیکھا تو وہ بچوں کو بہت دور لے جائے گا ۔۔۔ ” روتے ہوئے حمنہ نے ساری بات بتائی تھی ۔۔۔

” اصفر کی کال آئی تھی ؟۔۔۔ لاؤں فون دو مجھے میں بات کرتا ہوں اس سے ” بیگ صاحب کو غصہ آ رہا تھا اصفر پر

” نہیں سر ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ کوئی بات نہیں کرے گا اس سے ۔۔۔ وہ میرے بچوں سے مجھ سے دور کر دے گا ” حمنہ بد حواس ہوئی تھی ۔۔۔۔ نفی میں سر ہلا کر کہنے لگی ۔۔۔ رنگت لٹھے کی طرح سفید ہو رہی تھی ۔۔۔ ہونٹ گھبراہٹ سے کپکپا رہے تھے خوف سے انکے ہر انداز میں تھا ۔۔۔

” اچھا اچھا۔۔۔۔ ٹھیک ہے حمنہ ۔۔۔ نہیں بات کرتے اس سے ۔۔ بیگ صاحب آپ حالت نہیں دیکھ رہے اسکی ۔۔۔۔ “مسز بیگ نے ڈاکٹر بیگ سے کہا ۔۔۔ وہ چپ سے ہو گئے ۔۔۔۔

صبح یہ بات جب فارس کو پتہ چلی تو وہ تو ہتھے سے اکھڑ گیا

” ہر گز نہیں ۔۔۔۔ حمنہ اکیلی نہیں جائے گی وہاں ۔۔۔ حمنہ مجھے ایڈریس دو ۔۔۔۔ تم گھر پر ہی رکو گی

میں جاتا ہوں اس کمینے کے پاس اور بچوں کو بھی اسے چھڑوا کر لے کر آؤں گا “فارس کا غصے سے برا حال تھا

” نہیں فارس ۔۔۔۔ تم نہیں جاؤں گئے ۔۔۔ وہ میرے بچوں کو مجھ سے دور کر دے گا ۔۔۔۔ ” حمنہ نے برجستہ جواب دیا فارس جو کھڑا تھا حمنہ کے پاس بیٹھ گیا

” حمنہ وہ تمہیں بلیک میل کر رہا ہے ۔۔۔۔ کچھ نہیں کر سکتا وہ ۔۔۔ میں اس پولیس سے ابھی رابطہ کرتا ہوں ۔۔ بتاتا ہوں اسے کہ کیسے دھمکیاں دے رہا ہے وہ کمینہ ” فارس کا بس نہیں چل رہا تھا کیا نا کر گزرے اصفر کے ساتھ

” نہیں ۔۔۔۔ ابھی تم کچھ نہیں کرو گے ۔۔۔۔ میں اسے ملنے اکیلی ہی جاؤں گی ۔۔۔۔ تم کیا سمجھتے ہو ۔۔۔۔ وہ اس بات سے انجان رہے گا میرے ساتھ کون ہے اور کون نہیں ۔۔۔۔ ہر بات کی خبر رکھے گا وہ ۔۔۔۔ ” حمنہ اب رو نہیں رہی رات بھر میں فیصلہ کر چکی تھی

“۔ وہ تمہیں اکیلا اس لئے بلا رہا ہے تا کہ تمہیں بچوں کی وجہ سے بلیک میل کر سکے اپنی بات منوا سکے ۔۔۔۔ ” فارس کے خدشے اپنی جگہ درست تھے

” مجھے اس وقت صرف نور اور ایمان کی فکر ہے ۔۔۔۔ میں کسی قیمت پر بھی اپنے بچوں کو نہیں کھو سکتی ” حمنہ نے بے تاثر ہو کر جواب دیا

“حمنہ ۔۔۔ وہ ۔۔۔۔ وہ تمہیں کبھی بھی ڈائیواز نہیں دے گا ۔۔۔ سمجھ کیوں نہیں رہی ہو تم ۔۔۔ یہ سارا ڈرامہ اس نے کیا ہی اس لئے تھا تا کہ تمہیں زبردستی اپنے ساتھ رکھ سکے ” فارس کو ایک نئ فکر ستائی تھی

” فارس ۔۔۔۔ تمہیں لگتا ہے میں اسکے ساتھ رہنا چاہوں گی ؟۔۔۔ اس کے ساتھ ؟۔۔۔۔ جو میری نظروں میں اتنا گر چکا ہے کہ میں اسے دیکھنا بھی نہیں چاہتی ۔۔۔۔ اس کی یہی غلط فہمی میں جا کر دور کر دوں گی ۔۔۔ لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب میں اس سے اکیلے ملو ورنہ تمہیں دیکھ کر وہ کوئی بات نہیں سنے گا ۔۔۔ بچوں کی کسڈی لینا اس کے لئے مشکل نہیں ہے ” حمنہ کی آنکھوں میں نفرت سی تھی

” لیکن میں ۔۔۔ تمہیں اسکے پاس اکیلا نہیں بھیج سکتا ہوں ” فارس بے چینی سے بولا حمنہ نے اسکی طرف دیکھا

” میرا بھروسہ کروں فارس ۔۔۔۔ میری زندگی میں اگر کوئی مرد آ سکتا ہے تو وہ صرف تم ہو گئے ۔۔۔ اس سے ذیادہ میں تمہیں اور یقین نہیں دلا سکتی ۔۔۔ ” حمنہ اسکی۔ بے تابی سمجھتی تھی کہ اسے کیا پریشانی لا حق ہے ۔۔۔

فارس خاموش ہو گیا ۔۔۔۔ گاڑی ڈرائیور کر کے حمنہ خود اس ایڈریس پر پہنچی تھی ۔۔۔۔ جانے سے پہلے اصفر سے کہہ چکی تھی کہ وہ آ رہی ہے

وہ بھی دروازے سے باہر کھڑا اسی کا منتظر تھا ۔۔۔وہ گاڑی سے اتر کر اسکی طرف بڑھنے لگی ۔ برون لونگ سویٹر پہنے سوجی ہوئی سرخ آنکھوں سے وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔

نظروں کے تصادم نے ہلچل صرف اصفر کے دل میں مچائی تھی ۔۔۔۔ ان پانچ دنوں میں وہ کتنا روئی تھی اسکی آنکھیں۔ بیان کررہی۔ تھیں ۔۔۔۔ دل دیکھ کر کٹاتھا ۔۔۔ دہائی دے رہا تھا کہ ظالم اپنے ہی محبوب کے ساتھ اتنا ظلم کیوں کیاہے ۔۔۔۔ دل کے شور کو ختم کرنا کہاں ممکن تھااصفر کے لئے ۔۔۔۔ وہ اسکے سامنے جا کر کھڑی ہو گئ ۔۔۔

” میرے بچے کہاں ہیں ” سردی کی شدت اتنی تھی کہ بولنے سے منہ سے دھواں نکل رہا تھا ۔۔۔

” اندر ہیں آؤں ” اصفر نے دروازہ کھول کر اسے اندر جانے کی جگہ دی ۔۔۔۔ اندر ایک ہی کمرہ تھا ۔۔۔ ایک سائیڈ پر سنگل بیڈ سامنے آتشدان کمرے میں بچے موجود نہیں تھے۔۔۔ حمنہ پل میں پلٹی تھی لیکن اتنی دیر میں وہ دروازہ بند کر چکا تھا ۔۔۔ دل کی دھڑکنیں یک دم حلق میں سنائی دینے لگیں تھیں ۔۔۔ وہ دھوکے باز تھاوہ جانتی تھی نا جانے پھر کیوں اسکی بات پر بھروسہ کر کے اکیلی آ گئ تھی ۔۔۔ اصفر نے اسے اس کمرے میں بلایا تھا جہاں وہ پہلے رہتا تھا

” اصفر میرے بچے کہاں ہیں ۔۔۔ مجھے ان سے ملنا ہے “

” مل لینا میرے بچوں سے بھی ۔۔۔ پہلے بچوں کے باپ سے سے تو مل لو ۔۔۔۔ جو پچھلے پانچ سالوں سے تم سے ملنے کے لئے بے تاب ہے ۔۔۔۔ ” وہی دیوانگی وہ آنکھوں میں لئے اس کی طرف بڑھا تھا جس سے حمنہ گھبراتی تھی

” اسٹاپٹ اصفر ۔۔۔۔ ” حمنہ کے کہنے پر وہ وہیں رک گیا ۔۔۔

” میرے بچے کہاں ہیں ۔۔۔ میں صرف انہیں لینے آئی ہوں “

” ہاں جانتا ہوں ۔۔۔۔ کہ تم بچوں کو لینے آئی ہو ۔۔۔۔ لیکن پہلے چند باتیں تو طے کر لیں ۔۔۔ بیٹھوں ادھر ۔۔۔ اس نے ایک کرسی کی طرف اشارہ کیا پھر بیڈ سے دو فائلیں اٹھا لایا ۔۔۔ حمنہ کرسی پر بیٹھی نہیں تھی اصفر سے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گیا دونوں کرسیوں کے بیچ ایک چھوٹا ساگول میز تھا اصفر نے دونوں فائلیں ٹیبل پر رکھ دیں

” بیٹھوں نا حمنہ کچھ نہیں کہوں گا تمہیں ۔۔۔ صرف بات ہی کروں گا ۔۔۔ پلیز بیٹھوں ” وہ بہت عام سے لہجے میں بات کر رہا تھا حمنہ کرسی پر بیٹھ گئ ۔۔۔ ایک فائل اصفر نے اس کے سامنے رکھ دی ساتھ ہی اپنی فرنٹ جیب سے پین نکال کر اس فائل کے اوپر رکھ دیا

“یہ طلاق نامہ ہے ۔۔۔۔ میں نے ابھی سائن نہیں کیا ۔۔۔ لیکن جیسے ہی تم سائن کروں گی میں یہیں تمہارے سامنے بیٹھ کر اس پر سائن کر دوں گا ۔۔۔۔۔

تمہیں مجھ سے آذادی مل جائے گی ۔۔۔ اور اس میں کوئی چیٹنگ نہیں ہے۔۔ کوئی دھوکہ نہیں ہے حمنہ۔۔۔ چاہوں تو کھول کر پڑھ لو ” اصفر کا اتنا متوازن لہجہ اور اتنی آسانی سے طلاق دینے کے لئے راضی ہونا حمنہ کی سمجھ سے باہر تھا ۔۔۔

اس نے فائنل کھول کر دیکھی واقع طلاق نامہ تھا ۔۔۔ اسمیں کچھ بھی مبہم نہیں تھا جس سے حمنہ کو دھوکہ دیا جاتا ۔۔۔

” میں تم سے کوئی بھی زبردستی کا رشتہ قائم نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔ سائن کروں اس پر ۔۔۔ میں بھی ابھی کروں گا اس کے بعد تم آذاد ہو ۔۔۔ فارس سے شادی کرنے کے لئے ۔۔۔اپنی نئ زندگی شروع کرنے کے لئے ۔۔۔۔ میں تمہاری زندگی میں بلکل دخل اندازی نہیں کروں گا۔۔۔۔ یہاں تک کے تمہارے سامنے تک نہیں آؤں بہت دور چلا جاؤں گا ۔۔۔ تمہاری زندگی سے ۔۔۔ اپنے بچوں کو لیکر ” اصفر کے آخری جمعلے پر حمنہ کو جھٹکا سا لگا تھا ۔۔۔

٫ ” بچوں کو کیوں؟ ۔۔۔ وہ میرے ساتھ رہیں گئے “حمنہ برجستہ بولی

” نہیں حمنہ میرے بچے کسی غیر کے رحم وکرم پر گز نہیں پلیں گئے ۔۔۔ انکا باپ زندہ ہے ابھی انکی سر پرستی کے لئے ۔۔۔ مرا نہیں ہے ” اس بار اس کا لہجہ سخت تھا

” تمہیں ذیادہ فرق نہیں پڑے گا حمنہ۔۔۔ فارس ہو گا نا تمہارے پاس ۔۔۔ فارس سے تمہاری شادی ہو گی تو بچے بھی ہو جائیں گئے ۔۔۔۔ لیکن تمہیں چھوڑنے کے بعد میرے پاس کچھ نہیں بچے گا مجھے بھی تو جینے کا سہارا چاہیے نا حمنہ میں اپنے بچوں کے ساتھ جی لوں گا کیونکہ محبوب بدلنے کا ارادہ تمہارا ہے میرا نہیں ۔۔۔ “

” اصفر ۔۔۔ اصفر ۔۔۔ میں بچوں کے بغیر نہیں رہ سکتی ۔۔۔ نا ہی وہ میرے بغیر رہ سکتے ہیں ۔۔۔ آپ کیسے ایک ماں سے اس کے بچے چھین سکتے ہیں ” حمنہ کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے تھے

” جیسے تم ایک باپ سے اسکے بچے الگ کر سکتی ہو ۔۔۔۔ بھاگ کر تم گئ تھی وہاں سے ۔۔۔ نمبر تم نے بدل لیا تھا ۔۔۔ خود کو تم نے رو پوش کیا تھا لیکن میں تو وہیں تھا حمنہ ۔۔۔ میرا گھر اب بھی وہی ہے میرا نمبر اب بھی وہی ہے ۔۔۔۔۔۔ تمہیں میرے ساتھ مسلہ تھا ٹھیک ہے ۔۔۔ لیکن تم پر فرض تھا کہ میری اگر کوئی امانت تمہارے وجود میں تھی تو مجھے اس سے مطلع کرتی ۔۔۔ پانچ دن بچوں کی جدائی برداشت نہیں ہوئی تم سے ۔۔۔ حالت دیکھوں کیا ہو گئ تمہاری ۔۔۔۔ پانچ سال تم نے مجھے میرے ہی بچوں کے بارے میں انجان رکھا ۔۔۔ اور انہیں میرے بارے میں انجان رکھا ؟ یہاں تک کے وہ میرے وجود کے بھی منافی ہیں ۔۔۔۔ آج تک تم نے کبھی میری تصویر تک انہیں نہیں دیکھائی ۔۔۔۔ کیوں ؟ ” اتنے سوال تھے اسکے پاس اتنے لیکن وہ چپ تھی صرف ایک فکر تھی اور لبوں پر ایک ہی بات

” اس لئے میں اپنے بچے آپ کو نہیں دے سکتی تھی ۔۔۔۔ نا ہی دے سکتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ ” حمنہ بڑے ضبط سے گزر رہی تھی جان سب بھی بچوں میں اٹکی ہوئی تھی ۔۔۔ اصفر نے تاسف سے اسکی طرف دیکھا

” میری ایک ڈی این اے کی رپورٹ مجھے میرے بچے دلوا سکتی ہے ۔۔۔ تمہاری فارس سے شادی مجھے بچوں کی کسڈی لینے سے نہیں روک سکتی ۔۔۔۔۔

تمہارے پاس دو راستے ہیں حمنہ ۔۔۔ ایک فارس ۔۔۔ اور دوسرا بچے ” یہ کہہ کر اصفر نے دوسری فائل بھی اس کے سامنے پھنک دی ۔۔۔۔

یا تو طلاق لے لو اور اپنا لو فارس کو یا پھر دوسری فائل میں سائن کرو۔ اور نور اور ایمان تمہارے ؟” حمنہ نے ایک سکینڈ نہیں لگایا تھا اور دوسری فائل کھول کر سائن کرنے لگی لیکن اصفر نے فائل کھنچ لی “

” پہلے اسے اچھی طرح پڑھ لو حمنہ ؟ ۔۔۔ پھر فیصلہ کرنا ۔۔۔ میں تمہیں کسی بھی بات سے انجان رکھ کر دھوکا نہیں دینا چاہتا ۔۔۔۔ میرے بچے یتیم نہیں ہیں نا ہی یتموں والی زندگی گزاریں گئے ۔۔۔ ماں باپ کے ہوتے ہوئے وہ کسی ایک کی توجہ اور محبت سے محروم ہو کر دوسرے کی محبت اور توجہ کیوں پائیں ؟۔۔۔ نور ایمان کے ساتھ تمہیں میری بیوی بھی بن کر رہنا پڑے گا ۔۔۔۔ ؟ یہ ایک بم تھا تھا اصفر نے اسکے سر پر پھوڑا تھا ۔۔۔

” ہر گز نہیں ” وہ برجستہ بولی

” ٹھیک ہے ۔۔۔ طلاق نامہ تمہارے سامنے ہے ۔۔۔

” آپ مجھے بلیک میل کر رہے ہیں ۔۔۔۔ جانتے ہیں کہ میں بچوں کے بغیر نہیں رہ سکتی ۔۔۔ اس لئے یہ گھٹیا راستہ چنا ہے آپ نے مجھے زیر کرنے کا ۔۔ میں فارس سے شادی نہیں کروں گی ۔۔۔ جیسے پچھلے پانچ سال بچوں کے ساتھ گزارے ہیں باقی کی زندگی بھی یونہیں گزار لوں گی ۔۔۔۔ آپ کے ساتھ رہ کر اپنے بچوں کو حرام کی کمائی سے پروان نہیں چڑھا سکتی ۔۔۔۔ آپ بے شک طلاق نا دیں۔۔۔۔ تا کہ آپ کو یہ تسلی رہے کہ میں صرف بچوں کے ساتھ ہی زندگی بتا رہی ہوں بنا کسی سہارے کے ” حمنہ کی بات پر وہ کچھ دیر اسے غور سے دیکھتا رہا

” میں سب کچھ چھوڑ۔ چکا ہوں حمنہ ۔۔۔۔۔پچھلے پانچ سالوں سے حرام کاایک نوالہ نہیں کھایا ۔۔۔ “

” مجھے اب ان باتوں سے کوئی غرض نہیں ہے ۔۔۔ آپ مجھے تو صفائیاں ہر گز نا دیں ۔۔ آپ کے ہر روپ سے واقف ہوں ۔میں ۔۔۔۔ اس لئے اعتبار کرنا میرے بس میں نہیں بہت دھوکے کھائیں ہیں اور اب تک کھا رہی ہوں میں آپ کے ساتھ ہر گز۔ نہیں رہ سکتی ” حمنہ نے دل گرفتگی سے کہا اصفر نے مصلحت میں پہل کی تھی اسے قائل کرنا چاہتا تھا

” میں ڈاکٹر بیگ کے ہاسپٹل میں کام کر لوں گا اسی تنخواہ پر جو وہاں پر ڈاکٹر کو دی جاتی ہے ۔۔۔۔ مجھ پر نا سہی ڈاکٹر بیگ پر تو بھروسہ ہے نا تمہیں انکے ہاسپٹل میں تو کوئی غلط اور نا جائز نہیں ہوتا ہے ۔۔۔۔ تمہیں مجھ سے طلاق صرف اسی وجہ سے چاہیے تھی نا کہ میری کمائی مشتبہ ہے ۔۔۔ میں چھوڑ تو تو رہا ہوں سب کچھ ۔۔۔۔ تمہارے لئے ۔۔۔ اپنے بچوں کے لئے ” اس بات اصفر کے لہجے میں جیسے التجا تھی ۔۔۔رقت تھی حمنہ نے آنکھیں بند کر لیں آنکھوں میں ٹہرا پانی چھلک کر رخسار آ گیا تھا ۔۔۔۔

” نہیں اصفر ۔۔۔۔ میرے لئے یہ ممکن ہی نہیں رہا ۔۔۔۔ نا میرے دل آپکے لئے کوئی گنجائش بچی ہے ۔۔۔ نا زندگی میں ۔۔۔۔ ” حمنہ کاوہی جواب تھا

” ایک موقع تو دے سکتی ہو مجھے خدا کی قسم تمہاری ہر بات پر پورا اترو گا ” آنسوں اسکی آنکھوں میں جمع تھے ۔۔۔۔ ” حمنہ نے آنکھیں کھولیں

اصفر کی طرف بس ایک اچٹتی نظر ڈال کر ہٹا لی

اب آپ کچھ بھی کر لیں میرے دل میں کہیں کوئی جگہ نہیں ہے آپ کے لئے “

” ٹھیک ہے پھر ۔۔۔۔ تم آذاد ہو اپنے فیصلے میں دونوں فائلیں تمہارے سامنے ہیں ۔۔۔

چاہوں تو اپنے ساتھ لے جاؤں ۔۔۔ وقت لینا چاہتی ہو تو لے سکتی ہو سوچنا چاہتی ہو مشورہ کرنا چاہتی ہو۔۔۔ کر سکتی ہو ۔۔۔ نا دنوں کی قید ہے نا وقت کی ۔۔۔۔

لیکن میں بچوں کو نہیں۔ چھوڑ سکتا ۔۔۔۔ کسی قیمت پر بھی نہیں ” اصفر یہ کہہ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔چلتے ہوئے کھڑکی کے پاس چلا گیا اندر کی گھٹن پھر سے بڑھنے لگی تھی ۔۔۔۔ کھڑی کے سامنے لگا واحد چھوٹا سا پردہ ہٹا کر اس کے کھڑی کے پٹ کھول دیے ۔۔۔سرد ہوا کے کئ جھونکے اندر داخل ہوئے تھے ۔۔۔ اس نے جیب سے سگریٹ کی ڈبیہ نکالی اور سگریٹ نکال کر لیٹر سے جلا کر سگریٹ کے کش لینے لگا ۔۔۔۔ حمنہ کی اب سسکیوں کی آواز آ رہی تھی ۔۔۔ بہت مشکل دوراہے پھر اسے کھڑا کر چکا تھا۔۔۔۔ ایک ایسے ہی دوہرائے پر خود بھی کھڑا تھا ۔۔۔۔ بہت بڑا امتحان دے رہا تھا ۔۔۔۔ طلاق نامہ اسکے سامنے رکھ کر جس کے بغیر جینا اصفر کے لئے ممکن نہیں تھا۔۔۔۔۔ بہت مشکل امتحان میں اسے بھی ڈال چکا تھا ۔۔۔۔ بچوں کی وجہ سے