Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415

Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 12

644.1K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Noor-e-Emaan Episode 12

Noor-e-Emaan by Umme Hani

رات تک حمنہ کے موبائل پر کئ کالز آئیں حسن کمال کی اصفر کی اسکے اپنے کلینک سے لیکن اس نے کوئی بھی اٹینڈ نہیں کی ۔۔۔۔ اصفروقت سے پہلے گھر پہنچ گیا تھا ۔۔۔ حمنہ کمرے میں دل جلائے بیٹھی تھی ۔۔۔۔ اسے دیکھ کر رخ موڑ کر بیٹھ گی

” آر یو او کے ۔۔۔ طعبیت تو ٹھیک ہے نا تمہاری “

” جیسی بھی ہو آپ کو کیا فرق پڑتا ہے ” وہ خفگی سے بولی اسے حمنہ کا یوں نارض ہونا سمجھ نہیں آ رہا تھا

” فرق نہیں پڑتا تو اپنی او پی ڈی چھوڑ کر یہاں تمہارے پاس نا آتا ” اب وہ اس کے سامنے بیٹھ گیا

” کیا بات ہے ۔۔۔ ” اسکی روئی روئی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھنے لگا

” اصفر آئی ایم پریگننٹ ” حمنہ نے ایسا جھوٹ بولا کے وہ اچھنمبے میں ا گیا تھا

“واٹ “وہ تقریبا اچھل ہی گیا تھا ۔۔۔ دنگ سا رہ گیا تھا سن

” اٹس انپوسبل “بے ساختہ وہ بولا تھا

” کیوں امپاسبل کیوں ہے ۔۔۔ کیا جھوٹ بول رہی ہوں ” حمنہ اس کے چہرے کی جانب دیکھ رہی تھی جہاں بے یقنی کی چھاپ تھی

” کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔۔ تمہیں ۔۔۔۔۔ کوئی ۔۔۔۔ غلط لگ رہا ہو گا حمنہ ۔۔۔۔” جو میڈسن وہ اسے دے رہا تھا ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ امید سے ہوتی

“میں ڈاکٹر ہوں اپنی کیفیت سمجھ سکتی ہوں ۔۔۔ پھر اس دن ڈاکٹر افشاں نے میرے ٹیسٹ بھی تو لئے تھے ۔۔۔ اس میں پریگننسی پوزٹیو ہی آئی ہے ” حمنہ کی بات پر وہ اب بھی یقین کرنے کو تیار نہیں تھا

“لاو مجھے رپورٹ دیکھاوں کیسے ہو سکتا ہے یہ سب ۔۔۔۔ ” وہ اب بھی بے یقین تھا ۔۔۔۔ حمنہ نے فائل اس کے سامنے رکھ دی جو میڈسن وہ اسے دے رہا تھا اسکی لیباٹری رپوٹ بھی اسی میں اٹیچ تھی اسکی ساری رپورٹس اس نے نظریں جھکائے۔ پڑھیں تھیں اور پھر دوبارہ نظریں اٹھانے کے قابل نہیں رہا تھا ۔۔۔۔ فائل بند کر کے سائیڈ پر رکھ دی ۔۔۔ پہلی بار حمنہ سے نظریں ملاتے ہوئے گھبرا رہا تھا اور وہ اسے بلا تامل دیکھ رہی تھی

” مجھے یقین نہیں آ رہا اصفر آپ ۔۔۔۔ آپ مجھے اس قسم کی میڈسن بھی دے سکتے ہیں ۔۔۔۔ آپ ؟ ” یہ کہتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی

” حمنہ ” اصفر نے اس کا ہاتھ تھامنا چاہا لیکن اس نے برے طریقے سے جھٹک دیا ۔۔۔۔

” ہاتھ بھی مت لگائیں مجھے “

“حمنہ ٹرائے ٹو انڈسٹینڈ یار پہلے چپ ہو میں بتاتا ہوں سب تمہیں ۔۔۔۔ “وہ بہت ملائمت بھرے لہجے سے بولتے ہوئے اسکے آنسوں پونچنے لگا ۔۔۔ جو تواتر سے بہہ رہے تھے

” ادھر میری طرف دیکھو”

” مجھے نہیں دیکھنا اتنا بڑا دھوکہ دیا ہے آپ نے مجھے ۔۔۔۔ کیوں اصفر ۔۔۔ شادی کے بعد ہر انسان کی پہلی خواہش یہی ہوتی ہے کہ وہ ماں باپ بنے ۔۔۔۔ پانچ سال سے میں اپنے رب کی حضور رو رو کر یہ دعا کر رہی ہوں اس بات سے انجان کے میرا ہی شوہر اللہ کے کاموں میں دخل اندازی دے رہا ہے ۔۔۔۔ “

” اب اللہ کی بات کو بیچ میں لے آؤں تم ۔۔۔۔ دیکھوں مجھے ابھی بچے نہیں چاہیے “

” کیوں اصفر مجھے چھوڑنا۔ چاہتے ہیں جبھی ایسا چاہتے ہیں ۔۔۔۔ جانتے ہیں کتنی محبت کرتی ہوں میں آپ سے ۔۔۔۔ اپنے آپ سے بھی زیادہ ” وہ مسلسل رو رہی تھی

” کس نے کہہ دیا تم سے کہ میں تمہیں چھوڑنا چاہتا ہوں “

” ظاہر ہے مجھے رکھنا چاہتے تو میرے ساتھ یہ سب نا کرتے ۔۔۔۔ ” اس وقت تو حمنہ اڈے ایک وہمی بیوی لگ رہی تھی

” یہ سب بھی تمہارے لئے ہی کر رہا تھا تمہارے کریر کے لئے ۔۔۔پاگل ہو تم اگر تمہیں لگتا ہے کہ تمہیں چھوڑو گا میں۔۔۔۔ ” وہ بڑی اپنایت سے بات کر رہا تھا

” ہاں ایسا ہی ہے ۔۔۔ بچے ہی میاں بیوی کے رشتے کو مضبوط بناتے ہیں کبھی بھی انہیں الگ نہیں ہونے دیتے ۔۔۔۔ “

” کیا بیوقوفانہ بات ہے یہ حمنہ ۔۔۔ ایک پڑھی لکھی ڈاکٹر یو کر یہ سوچ رہی ہو۔۔۔ میں تمہیں چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ہوں اور جن کے بچے نہیں ہوتے ۔۔۔۔ کیا وہ لوگ ایک دوسرے کو۔ چھوڑ دیتے ہیں ؟۔۔۔۔ اسکاچہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیکر وہ بڑی اپنایت سے بول رہا تھا

“ہاں عموما چھوڑ ہی دیتے ہیں اور اگر نا بھی چھوڑیں تو عورت ہمیشہ وہم میں مبتلہ رہتی۔۔۔۔ کہ کہیں اس کا شوہر اسے اس بنیاد پر چھوڑ نا دے

جا کر دیکھیں انہیں جو اولاد کی نعمت سے محروم ہیں۔۔۔ کیسے ترستے اور بے کل ہوتے ہوئے زندگی گزارتے ہیں ۔۔۔ مرد کا تو پتہ نہیں لیکن عورتیں ضرور ڈپریشن کا شکار ہو جاتی ہیں ۔۔۔۔ لوگ بار بار پوچھ پوچھ کر انہیں ذہنی مریض بنا دیتے ہیں ۔۔۔ کہ شادی کو اتنے سال گزر گئے اور ابھی تک اولاد نہیں ہوئی ۔۔۔

اور آپ ۔۔۔۔ آپ کفران نعمت جیسا گناہ کرنا چاہتے اصفر ۔۔۔ میں اس میں آپ کا ساتھ نہیں دے سکتی ۔۔۔ میں ایسی کوئی میڈسن نہیں کھاؤں گی ” حمنہ نے اسکے ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹاتے ہوئے کہا

” مت کھاؤں ۔۔۔ تم ایسا کچھ نہیں کروں گی تو میں کر لوں گا لیکن میں ابھی ایسی کوئی ذمہ داری نہیں نبھانا چاہتا ۔۔۔ اپنی لائف کو کچھ انجوائے کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔ جو فتویٰ تم مجھ پر کفران نعمت کا لگا رہی ہو اگر میں یہ نا کرتا تو آج تم صرف ماں ہوتی ۔۔۔۔سرجن نہیں ۔۔۔۔ بات کرتی ہو دین داری کی ۔۔۔۔ گناہ کی ۔۔۔۔ کیا لگتا ہے تمہیں ۔۔۔۔ اگر ہمارا کوئی بچہ ہوتا تو کیا تم اسکی ذمہ داری اٹھاتے ہوئے سرجن بن سکتی تھی ۔۔۔۔ نو مائے وائف ۔۔۔ یا تو کیریر بن سکتا ہے ۔۔۔ یا تم ماں بن سکتی ہو کبھی پوزٹیو بھی سوچ لیا کرو میرے لئے ۔۔۔” یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر چلا گیا تھا ۔۔۔۔۔

” یہ آپ کی سوچ ہے اصفر میں بچوں کے ساتھ بھی سروایو کر سکتی ہوں ۔۔۔۔۔ “

حمنہ خود کلامی میں۔ بولی ۔۔۔۔

*****……..

لائبہ نے نرسنگ میں داخلہ لے لیا تھا ۔۔۔ اسکی والدہ اب اسٹیڈ کی مدد سے کچھ چلنے پھرنے لگی۔ تھیں ۔۔۔۔

شام کو کھانا ہلکی آنچ پر رکھ کر لائبہ اپنے نوٹس بنانے لگی اسی وقت ٹیوشن کے۔ بچے بھی پڑھنے پہنچ گئے ۔۔۔۔ اسی میں ایسی گھن چکر بنی کے کھانے کی جانب دھیان ہی نہیں گیا ۔۔۔۔ ہانڈی جل کر خاک ہو چکی تھی بچوں نے کہا کہ انہیں جلنے کی بو۔آ رہی ہے تب لائبہ کچن کی جانب بھاگی کھانا جل چکا تھا لیکن عجیب بات یہ تھی کہ اسے جلے ہوئے کی بو بلکل نہیں آ رہی تھی ۔۔۔۔ آمنہ بیگم بھی کمرے سے باہر آ گئیں لائبہ کی لا پروائی پر سو باتیں الگ سنائیں لائبہ کو ماں کی ڈانٹ کی پروا نہیں تھی۔۔۔ بس یہ سوچ رہی تھی کہ اسے کیوں نہیں پتہ چلا کے کچھ جل رہا ہے اسے بو کیوں نہیں آ رہی تھی ۔۔۔۔ پھر وہ اپنے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔ ڈرسنگ کے سامنے رکھے تیز خوشبوں والے پرفیوم کھول کر ہوا میں اسپرے کرنے لگی ۔۔۔ لیکن اسے انکی خوشبو بھی نہیں آ رہی تھی ۔۔۔۔ اور ایسا اس وقت سے تھا جب سے اسے ٹائفیٹ کی ڈرپ لگائی گئی تھی ۔۔۔

کمرے سے نکل کر یہ بات اس نے اپنی والدہ کو بتائی لیکن وہ نظر انداز کر گئیں ۔۔۔۔ کہنے لگیں کہ اس نے دھیان نہیں دیا ۔۔۔۔ لیکن ایسا نہیں تھا وہ سچ میں سمل کہ سنس کھو چکی تھی ۔۔۔۔ نرسنگ کمپلیٹ کرنے کے بعد اسکے والد کی کوشش تھی کہ اسے گورنمٹ کے ہاسپٹل میں جاب مل جائے لیکن لائبہ۔ نے پراویٹ کو ترجعی دی ۔۔۔۔ ایک تو ہاسپٹل گھر کے قریب تھا پھر تنخواہ بھی ٹھیک تھی ۔۔۔۔

صبح نو سے شام پانچ بجے تک کی اسکی ڈیوٹی تھی ۔۔۔۔ گھر آ کر ٹیوشن اور پھر رات کے کھانے کی ذمہ داری بھی وہ نبھا کریں تھی ۔۔۔۔آمنہ بیگم اب لنگڑاتے لنگڑاتے چلنے لگیں تھیں ۔۔۔۔ لائبہ بھی اب وہ لاپروا لائبہ نہیں رہی تھی ۔۔۔۔۔ کافی سنجیدہ ہو چکی تھی۔۔۔۔۔ لیکن تھی ویسی ہی بے خوف اور بے دھڑک ہر بات کہہ دینے والی

آج اسکی ڈیوٹی ایمرجنسی وارڈ میں تھی ۔۔۔۔

وہاں ایک پچاس سالہ بوڑھا شخص ڈالیریا کیس میں لایا گیا ۔۔۔۔۔ ڈرپ اور انجکشن سے کافی حد تک وہ سنبھل گیا تھا شام تک کافی بہتر بھی ہو گیا تھا ۔۔۔۔ لائبہ اسکی ڈرپ اتارنے سے پہلے پوچھنے لگی ۔۔۔۔

” اب پیٹ نہیں کہیں درد یاتکلیف تو نہیں ہے ” لائبہ نے سائیڈ سے ڈرپ کو بند کرتے ہوئے پوچھا ۔۔۔ کہ اگر درد ہے تو نوسپا کاانجکشن لگا دے

” نہیں پیٹ میں تو نہیں ہاں دل کے آس پاس کہیں ہے ۔۔۔ ” یہ کہہ کر اس نے لائبہ کا ہاتھ پکڑ کر آنکھ دبائی اور کمینگی مسکراہٹ سے بولا اگر تم کچھ وقت میرے قریب آ جاؤں تو پانچ سو دونگا تمہیں ” لائبہ کا توغصے سے چہرہ سرخ ہوا تھا چاروں اطراف پردہ ڈالا گیا تھا تا کہ ہر مریض انفرادی طور پر اٹھ بیٹھ سکے اس لئے وہاں انہیں کوئی دوسرا دیکھ نہیں سکتا تھا ۔۔۔ لائبہ نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ اس سے چھڑوا یا

” شرم نہیں آتی تمہیں تمہاری بیٹی کے برابر ہوں میں ” لائبہ کو اس بڈھے کالحاظ کرنا بھی منظور نہیں ہوا تھا کسی گھٹیاسوچ جا مالک تھا

” ہاں مگر بیٹی تو نہیں ہو ۔۔۔ ایک نرس ہو ۔۔۔ اگر میرافل خوش کر دو تو میں تمہیں پانچ سو دوں گا ۔۔۔۔ “

” باہر میرے ابو کھڑے ہیں تمہاری ہی عمر کے ہیں ۔۔۔ ایک ہزار میں تمہیں دیتی ہوں اور ساتھ میں اپنے گھر کا پتہ بھی۔۔۔۔ اپنی بیٹی کو میرے باپ کے پاس بھیج دینا اگر اس نے انکا دل ذیادہ خوش کر دیا تو ہزار میں اپنی تخواہ سے بھی دے دوں گی ” لائبہ کی بات پر وہ شخص ہتھے سے اکھڑ گیا

” اے لڑکی کیا بکواس کر رہی ہو “

” کیوں تیری بیٹی عزتدار ہے ۔۔۔۔ جو باپ کو دیکھنے تک نہیں آئی اور ہم ۔۔۔۔۔ہم کسی کی عزت نہیں ہوتیں ۔۔۔ جو یہاں تم جیسے عمر رسیدہ لوگوں کو باپ سمجھ کر انکی خدمت کرتے ہیں۔۔۔۔۔ ہمہیں تم کس نظر سے دیکھتے ہو ۔۔۔۔۔ نرس کیا ہے تمہارے نزدیک کوئی بکاؤں مال ہے جو جی میں آئے کہ دو گئے ۔۔۔ جی تو چاہتا ہے یہ انجکشن تمہارے پیٹ میں گھسیڑ دوں ۔۔۔۔ بڑا آیا پانچ سو دینے والا ۔۔۔ ٹھرکی بڈھا کہیں کا ” لائبہ میں ہاتھ میں پکڑا انجکشن کسی چاکو کی طرح اسکے پیٹ کی جانب وار کرتے ہوئے تیزی سے ہاتھ بڑھایا لیکن پیٹ کے قریب پہنچتے ہی ہاتھ روک لیا اسی وہ ڈر کر پیچھے ہٹا تھا۔۔۔ شور سے واڈ بوائے اور ایک اور نرس بھی اندر آگئیں

” کیا ہوا لائبہ ” ایک سینئر نرس تھی جو اس سے پوچھ رہی تھی

” ارے نرس سمجھ کر کچھ بھی بکواس شروع کر دیتے ہیں یہی میری ڈاکٹر ہوتی تو جھک کر سلام کرتے ڈاکٹر صاحبہ کے لقب سے نوازتے ۔۔۔۔ میری ماننے تو ایک زہر کا انجکشن لگا دیں اس کمینے کو ۔۔۔۔ خس کم جہاں پاک” یہ کہہ وہ وہاں سے باہر نکل گئ ۔۔۔۔۔ وہ شخص شرمندگی سے نظریں نہیں اٹھا پارہا تھا ۔۔۔۔ لائبہ کا گھر پہنچ کر بھی غصہ آسمانوں کو چھو رہا تھا ۔۔۔۔

ڈاکٹر صرف انسٹرکشن ہی تو دیتی ہے ۔۔۔ اور پھر ہم بھی ڈیل کرتے ہیں ۔۔۔۔ مریضوں کی خدمت کرتے ہیں لیکن جو عزت ایک ڈاکٹر کو دی جاتی ہے نرسنگ اسٹاف کو آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں دی جاتی جیسے ہم کوئی نوکر ہیں ۔۔۔ مریضوں کی ملازمت پر معمور ہیں ۔۔۔ لوگوں کی سوچ میں کتنا تضاد ہے ۔۔۔۔۔ ایک ڈاکٹر کے لیبل لگانے سے نظروں

یں عزت اور لحاظ سے جاتا ہےاور ایک نرس کے لیبل پر آنکھوں میں حقارت اور بہودگی

ارے نرس ہے تو کیا کچھ بھی کہہ دیں گئے ۔۔۔۔

یہ نہیں سوچتے کہ اگر ہم لوگ ایک دن کی اجتماعی چھٹی کر لیں تو کون پوچھے گا انہیں ۔۔۔۔

(بات تو سچ ہے ۔۔۔۔ ایک عام شہری کے لئے جتنی عزت اور احترام ایک ڈاکٹر رکھتا ہے اتنا ہی احترام نرسنگ اسٹاف بھی رکھتا ہے ۔۔۔۔۔ انکے ساتھ اپنا رویہ احترام والا ہی اپنانا چاہیے ۔۔۔ انہیں۔ بھی اسی عزت کی نظر سے دیکھنا چاہیے۔ جیسے ایک ڈاکٹر کو دیکھا جاتا ہے )

*******………

حمنہ ڈنر پر بھی موجود نہیں تھی ۔۔۔۔ اپنے کمرے سے نہیں نکلی تھی ۔۔۔۔

“اصفر حمنہ کہاں ہے ۔۔۔۔ ہاسپٹل بھی نہیں آئی ۔۔۔ یہاں تک کہ میری کال تک اٹینڈ نہیں کی ” حسن کمال کا وہی بے لچک سا اسپاٹ لہجہ تھا

” ڈیڈ طعبیت ٹھیک نہیں۔ ہے اسکی ” اصفر نے پیشانی پر بل ڈالے مدافعانہ انداز سے کہا

” ایک فون ریسیو کرنے سے کون کسی بیماری لاحق ہو جاتی ہے فون پر مجھ سے کہہ سکتی تھی کہ ٹھیک نہیں ہے آ نہیں سکتی

یا اتنی بھی اہمیت نہیں ہے اسکی نظر میں میری ۔۔۔۔ تم نے اس دن مجھ سے تو میرے رویے کی فورا شکایت کر دی تھی ۔۔۔۔ کہ میں اسے ویلو نہیں دیتا ۔۔۔۔ ذرا اسے بھی سمجھاؤں کہ وہ بھی ہمہیں ویلو دینا سیکھے ” حسن کمال کی بات پر جیسے اصفر نادم سا ہو کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔ حمنہ اگر اس سے ناراض بھی تھی تو بے شک اسکی کال نا اٹینڈ کرتی لیکن حسن کمال کی کرنی چاہیے تھی

” جی ڈیڈ سمجھاؤں گا آئندہ آپکو شکایت نہیں ملے گی “

“گڈ ۔۔۔۔ ” پانی لبوں پر لگاتے ہوئے انہوں نے کہا

اصفر نے کھانااتنی رغبت سے نہیں کھایا تھا

رات کو جب وہ کمرے میں آیا وہ لیٹ چکی تھی ۔۔۔ اصفر کے سائیڈ ٹیبل پر اپنا چشمہ اتار کر رکھا ۔۔۔ وہ مخالف سمت کروٹ لئے لیٹی تھی ۔۔۔۔ ایک نظر اس پر ڈال کر وہ اپنے واڈ روب کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔ اپنا نائیٹ سوٹ نکال کر ڈرسنگ روم میں چلا گیا ۔۔۔ جانتا تھا کہ وہ سونہیں رہی ناراضگی دیکھا رہی ہے ۔۔۔۔ صبح سے کچھ کھایا بھی نہیں ہو گا ۔۔۔ اور بھوکے پیٹ اسے نیند ویسے بھی نہیں آتی تھی۔۔۔۔

چینج کر کے اس کے برابر میں لیٹ گیا ۔۔۔۔ کچھ دیر اپنا بازو اپنی پیشانی پر رکھ کر سوچنے لگا ۔۔۔۔ شادی کا لڈو کھانے شوق تو بڑا ہوتا ہے سب کو لیکن حد سے زیادہ میٹھا ہمیشہ صحت خراب کرتا ہے ۔۔۔۔ اچھی خاصی آذاد سی زندگی تھی ۔۔۔۔ لیکن اس شادی نے جیسے ساری آذدی ختم کر دی ہے

اب ایک طرف یہ ہے میری زوجہ محترمہ صاحبہ جو مجھے مزید ذمے داریوں میں جکڑنے کے لئے تیار بیٹھی ہے دوسری طرف ڈیڈ جو مجھ سے انصاف کے تقاضے ڈنکے کی چوٹ پر پورے کروانا چاہتے ہیں ۔۔۔۔ عورت کے رونے سب کو نظر آتے ہیں ساس نے یہ کہہ دیا سسر نے آنکھیں کیوں دیکھا دیں ۔۔۔ گھر کی ذمہ داریاں اس پر بڑھ گئ ہیں لیکن مرد ۔۔۔۔ کمبخت مرد تو رو بھی نہیں سکتا ۔۔۔۔۔

بیچارا دو دھاری تلوار سے روز کٹتا ہے کبھی اپنی فیملی کے ہاتھوں تو بیوی کے ہاتھوں ۔۔۔۔کس کی سنو اور کس کی نا سنو ۔۔۔۔

اب اگر صبح ناشتے پر اس نے ڈیڈ کو سوری نہیں کہا تو بھی شامت میری ہی آنی ہے۔۔۔۔ حمنہ کی کی جانب دیکھ کر سوچا جو رخ موڑے لیٹی تھی ۔۔۔

مجبوراً ہی سہی لیکن اب اسے منانا تواسے ہی تھا ۔۔۔۔ اس لئے اس کے کچھ قریب ہو کر لیٹ گیا اپنا ہاتھ اسکے بازو پر رکھا ہی تھا کہ وہ تپے ہوئے لہجے سے بولی

” ڈونٹ ٹچ می”اصفر نے فورا سے ہاتھ پیچھے کر لیا

” حمنہ ۔۔۔”

” اصفر مجھے سونا ہے ” گلوگیر لہجے میں جواب ملا تھا مطلب رو رہی تھی ۔۔۔ دل بے تاب ہوا تھا

” حمنہ کم آن یار رونے کی تو کوئی بات نہیں ہے اس میں” اسے بازو سے پکڑا اس کا رخ اپنی جانب کیا تھا ۔۔۔

” آنکھیں متورم اور سرخ تھیں ۔۔۔۔۔ناک بھی سرخ تھی رو رو کر اپنا حلیہ وہ بگاڑ چکی تھی

” افف میرے خدایا اتنی سی بات پر اتنا روئی ہو تم اٹھ کر بیٹھو ” بے چینی سے وہ اٹھ بیٹھا تھا ۔۔۔۔

حمنہ بھی اٹھ کر بیٹھ گئ

” اتنی سی بات نہیں ہے یہ” وہ سسکیوں کے ساتھ بولی

” اتنی سی ہی بات ہے جانتی ہو سیف کی شادی کو دس سال ہوگئے ہیں اور اسے بچوں کاشوق بھی بہت ہے لیکن دعا بھابی کو نہیں ہے ۔۔۔ کیونکہ وہ بچوں کی ذمہ داری لینا نہیں چاہتیں ۔۔۔۔ سیف ایک مرد ہو کر بھی انڈرسٹنڈ کر رہا ہے یار ۔۔۔۔ ایک تم ہو ” اصفر نے جیسے پھر سے اسے سمجھانا چاہا تھا

“۔ لیکن مجھے بچے اچھے لگتے ہیں اصفر ۔۔ مجھے چاہیے “

” او کے ٹھیک ہے ۔۔۔۔ بس ایک سال اور رک جاؤں ۔۔۔ تمہاری خواہش پوری کر دوں گا ۔۔۔۔ پوری کرکٹ ٹیم جمع کر لینا ٹھیک ہے ” اصفر نے بات مزاق میں ٹالی تھی حمنہ نے۔ رجستہ اسے گھورا تھا

“اب میں نے ایسا بھی نہیں کہا “

” رونا تو یوں ہی مچا رہی ہو ۔۔۔۔ جب سے ہماری شادی ہوئی ہے بس پندرہ دن ہی ہمہیں ملے ہیں جو نے ایک دوسرے کے سنگت میں گزارے ہیں ۔۔۔۔ مجھے تمہارے ساتھ والڈ ٹور پر جانا ہے ۔۔۔۔۔ پورے دو مہینے کے لئے ۔۔۔ لیکن تمہارے سرجن بننے کی خواہش پر میں نے اپنی خواہش دبا لی ۔۔۔۔

اب ڈیڈ فورا سے نہیں مانے گئے ابھی تم نے ڈیوٹی صحیح معنوں میں جوائن کی ہے تھوڑا سا ڈیڈ کا دل جیت لو چند ماہ ہی میں ڈیڈ سے اجازت لے لوں گا ۔۔۔۔ بس اسکے بعد ہم بے بی کے لئے پلان کریں گئے او کے ۔۔۔ ” بڑی رسانیت سے وہ اسے سمجھانے اور منانے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔ حمنہ نےکوئی جواب تو نہیں دیا لیکن اختلاف بھی نہیں کیا ۔۔۔ اب رو نہیں رہی تھی چپ تھی ۔۔۔ پھر اس کا چہرہ تھوڑی سے پکڑ کر اوپر کیا وہ بڑی خفا خفا سی نظروں سے دیکھ رہی تھی

” اب تو ناراضگی ختم ہو جانی چاہیے ۔۔۔۔ “

” لیکن میں کوئی میڈسن نہیں کھاؤں گی “حمنہ اپنے موقف پر قائم تھی

” او کے منظور ہے ۔۔۔۔ لیکن کھانا تو کھا سکتی ہو ۔۔ مجھے پتہ ہے صبح سے کچھ نہیں کھایا ہو گا تم نے”

” مجھے بھوک نہیں ہے ” وہ نروٹھے انداز سے بولی

” میں نے بھی ٹھیک سے کھانا نہیں کھایا ہے ۔۔۔ اب اٹھو دونون مل کر کھاتے ہیں ۔۔۔ “

” آپ نے کیوں نہیں کھایا “

” اس لئے کہ تم میرے ساتھ ڈنر پر موجود نہیں تھی ۔۔۔۔ چلو اٹھو اب بہت بھوک لگ رہی ہے ” کھانا اس نے واقع کم ہی کھایا تھا باپ کو دیکھانے کے لئے باقی اب بیوی کو منانے کے لئے کچن کے گول میز پر بیٹھ کر کھا رہا تھا ۔۔۔

حمنہ تم مجھ سے ناراض تھی ۔۔۔ ٹھیک ہے ہونا بھی چاہیے تھا میری غلطی تھی ۔۔۔

مجھے تمہیں اعتماد ۔میں لینا چاہیے تھا ۔۔۔ لیکن میں نے چور راستہ اپنایا ۔۔۔لیکن یہ ہماری آپس کی بات تھی ۔۔۔۔ ڈیڈ نے تمہیں بہت کال کیں ۔۔۔ تم نے ایک بھی اٹینڈ نہیں کی کیوں ؟ کھانا کھانے کے بعد اس نے یہ سوال اس سے کیا تھا

” بس یونہی میں غصے میں تھی مجھے ہاسپٹل بھی نہیں جانا تھا ۔۔۔ میں کال کرتی تووہ یہی کہتے کہ ہاسپٹل پہنچو اور اگر وہ کہتے تو یقینا میں انکار نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔۔ بس اس لئے نہیں اٹھایا “

” تم فون پر اگر یہ کہہ دیتی کہ تم آف لینا چاہتی ہو تو وہ تمہیں انسسٹ کبھی نہیں کرتے “

۔” میں نے کہا نا اصفر میں انہیں انکار نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔۔وہ بڑے ہیں مجھ میرے لئے اتنے قابل احترام کرنے کے میرے ابا تھے “

“وہ اس بات پر ناراض ہیں تم سے ۔۔۔ کہ تمہارے نزدیک انکی اتنی بھی ویلو نہیں کہ تم انکا فون ہی اٹینڈ کر لیتی ” اصفر بات پر وہ متحیر ہوئی تھی یہ بات تو اسکے گمان میں نہیں تھی

” بائے گاڈ ایسی بات نہیں ہے اصفر میں دل سے بہت عزت کرتی ہوں انکی ۔۔۔۔ “

” میں جانتا ہوں۔۔۔۔ تم بس صبح بریک فاسٹ پر ان سے سوری کہہ دینا ان کا شکوہ ختم ہو جائے گا “

” او کے ٹھیک ہے میں معذرت کر لوں گی “حمنہ نے فورا سے حامی بھر لی تھی اصفر نے سکون کا سانس لیا تھا ۔۔۔

صبح اس نے سب کے سامنے حسن کمال سے سوری کہا تھا

” ڈیڈ ایم سوری میرے سر میں درد تھا اس لئے میں فون سائیلنٹ پر رکھ کر سو گئی تھی

” اٹس او کے ۔۔۔ لیکن آئندہ اگر سر ۔میں درد ہو تو فون سائیلنٹ کرنے سے پہلے مجھے میسج ضرور کر دینا ۔۔۔۔ ہاسپٹل میں تمہارے انتظار میں مریض گھنٹوں ویٹنگ روم میں بیٹھے رہے ہیں ۔۔۔ اب جرنل فزیشن تو تمہی ہو ۔۔۔ اس لئے عام کیس تو روز کی بنیاد پر ڈھیروں ہوتے ہیں۔۔۔ اگر کسی خاص چیز میں اسپشلائز کیا ہوتا تو میں ہفتے میں بس تین دن ہی تمہیں ڈیوٹی کے لئے دیتا کیونکہ ایسے کیس کم ہوتے ہیں ۔۔۔ “

” ایم سوری ڈیڈ آئندہ آپ کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا “۔

” ملنا بھی نہیں۔ چاہیے ” یہ کہہ کر حسن کمال چائے پینے لگے ۔۔ اندر ہی اندر جیسے انکی انا کو تسکین ملی تھی ۔۔۔۔لیکن یہ انا کی آگ بھی کبھی ٹھنڈی نہیں ہوتی جتنا دوسروں کو اپنے سامنے جھکتا دیکھتی ہے اس سے ذیادہ جھکانے کی خواہش جاگ جاتی ہے ۔۔۔۔ حسن کمال بھی ایسی آگ میں جل رہے تھے ۔۔۔ حیران ہوتے تھے وہ حمنہ کی برداشت پر اسے تنگ کرنے کے لئے کبھی کبھی ایک ہی دن میں دو سے تین آپریشن اسکے ذمے لگا دیتے ۔۔۔۔ کبھی او پی ڈی کے آوور بڑھا دیتے ۔۔۔۔ لیکن وہ لڑکی افف تک نہیں کہتی تھی ۔۔۔۔ اصفر سے اختلاف بھی نہیں کرتی تھی ۔۔۔۔۔

بہت جلد ہاسپٹل میں ڈاکٹر حمنہ کے نام ڈنکا بجنے لگا تھا ۔۔۔۔

اسکی فیس دو ہزار سے تین ہزار کر دی گئ تھی ۔۔۔ چند ماہ میں ہی ہاسپٹل کے بہت سے راز حمنہ پر بھی عیاں ہونے لگے تھے ۔۔۔۔ وہی ہر پراویٹ ہاسپٹل والے طور طریقے اپنائے گئے تھے ۔۔۔۔۔

کہ ٹیسٹ رپورٹس اسی ہاسپٹل کی قابل قبول کی جائے گی ۔۔۔ اگر کسی اور لیباٹری سے ٹیسٹ کروائے جاتے تو مریضوں کو شک وشبہات میں ڈال دیا جاتا کہ وہاں کی سروس بے کار ہے رپورٹس ٹھیک سے نہیں آتیں یہاں جدید ٹیکنالوجی ہے اور ظاہر ہے لیباٹری چارجز بھی ڈبل تھے ۔۔۔ اور تو اور ڈاکٹرز کو خاص ہدایت دی گئ تھی کہ میڈسن وہ لکھ کر دی جائیں جو اسی ہاسپٹل کے میڈیکل اسٹور سے پر ہی موجود ہیں ۔۔۔ اور عام میڈیکل سے ملنی مشکل ہوں ظاہر ہے اس میں ملنے والے کمیشن بھی اونر کی جیب میں جاتا تھا ۔۔۔ مطلب بظاہر لوگوں کی میسحائی میں چھپا ایسا کاروبار تھا کہ دن دوگنی رات چگنی ترقی ہو رہی تھی ۔۔۔۔

ذرا سے مرض کو بڑھا چڑھا کر مریض کو ڈرایا جاتا تھا پھر ٹیسٹ کی ایک لمبی لسٹ تھما دی جاتی تھی۔۔۔کہ لازمی جلدی کروائیے جائیں ورنہ نا جانے کیا ہو جائے گا ۔۔۔ مریض بیچارہ ہر بات سے لاعلم اپنی جمع پونجی ریسپشن میں جمع کرواتا نظر آتا تھا ۔۔۔ پھر رپورٹس دیکھ کر ڈاکٹر ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہتے شکر ہے سب ٹھیک ہے ۔۔۔

ایک بار رات کے وقت اصفر کے موبائل پر بار بار میسج ٹیون بج رہی تھی ۔۔۔ جیسے وہ مدافعانہ انداز سے دیکھ کر دوبارہ فون سائیڈ پر رکھ دیتا ۔۔۔ وہ میڈسن کی کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا ۔۔۔

پھر حسن کمال کے بلاوے پر کمرے سے باہر چلا گیا ۔۔۔ اسکے فون پر پھر سے میسج ٹیون بجنے لگی جب حمنہ نے اس کافون آن کیا تو واٹس اپ پر ایک پیشنٹ تھا جو یہ کہہ رہا تھااس وقت وہ پیٹ کے درد میں مبتلہ ہے اگر اسے درد کی میڈسن کا نام سینٹ کر دیا جائے تو رات کاٹنی آسان ہو جائے ۔۔۔

لیکن اصفر نے صرف یہی جواب دیا کے وہ کل کلینک آکر چیک کروائے ۔۔۔۔

حمنہ کو کچھ عجیب سا لگا ایک شخص پوری رات تکلیف میں گزار دے ۔۔۔ اور وہ ایک ڈاکٹر ہوتے ہوئے آرام سے سوتا رہے ۔۔۔ حمنہ نے ایک پین کلر لکھ کر سینٹ کر دی ۔۔۔ کچھ ہی دیر میں اصفر واپس آ کر لیٹ گیا ۔۔۔

کچھ دیر میں پھر سے میسج ٹیون بجی اصفر نے میسج چیک کیا تو شکریہ کا میسج آیا تھا ۔۔۔ اس نے پچھلے میسج پڑھے تو ایک پین کلر کا نام لکھا نظر آیا ۔۔۔ حمنہ بھی اب لیٹنے کی تیاری کر رہی تھی

” یہ میڈسن تم نے لکھ کر سینٹ کی ہے “

” جی ۔۔۔ “

“کیوں ” اس بار اس نے سنجیدگی سے کہا

“بے چارہ درد کی شکایت کر رہا تھا ۔۔۔ کل تک تو ناجانے بے حال ہو جاتا “

“بے حال ہوتا تبھی چیک کروانے بھی ضرور آتا ۔۔۔۔ بس انہیں دوائیں اگر بتا دو تو دوبارہ چیک اپ کے لئے آنے کی زحمت بھی نہیں کرتے ۔۔۔۔ بس مفت میں سب کچھ چاہیے انہیں ” اصفر غصے سے کہا اور فون سائیڈ پر رکھ دیا

” اصفر اگر آپ لوگ فیس میں کمی کر دیں تو شاید مریض بھی دوبارہ آنے کا سوچے دو ہزار فیس بھر کر صرف دس روپے کی پین کلر لکھوانا تو مریض کے ساتھ ذیادتی ہے ” حمنہ نے نرمی سے سمجھانا چاہا

” دیکھوں یہ انسانی ہمدردی کا کیڑا اپنے تک رکھو ۔۔۔ ہاسپٹل مفت میں مینج نہیں ہوتے بجلی جنریٹر ۔۔۔۔ مشینیں لیبایٹری ہر چیز پیسے مانگتی ہے ۔۔۔۔ ” اصفر کا لہجہ ذرا سخت ہوا تھا

“مجھے بھی معلوم کے کہ یہ سب پیسوں کے بنا نہیں چلتا لیکن فیس کی بھی ایک حد ہوتی ہے ۔۔۔۔ آپ ایک پیشنٹ کے دو ہزار لیتے ہیں ان میں سے پانچ سو اگر ہاسپٹل کے اخراجات کے لئے رکھ دیے جائیں تو پندرہ سو آپکی جیب میں آتا ہے اور صبح شام آپ ٹوٹل پچاس سے ساٹھ مریض تو لازمی دیکھتے ہیں۔۔۔ مطلب روز کا پینتالیس پچاس ہزار صرف آپ کماتے ہیں ۔۔۔اسی طرح ہر ڈاکٹر لگ بھگ اتنے ہی مریض روز دیکھتا ہے پھر ایمرجنسی پیشنٹ کے پیسے تو پانی طرح لگتے ہیں ۔۔۔ آئ سی یو کے ایک دن کی فیس تین ہزار ہے ۔۔۔ جس میں میڈسن اور ٹیسٹ شامل نہیں ہیں

ایک عام سے ڈائریا پیشنٹ کو بھی ڈی ہائڈریشن کا کہہ کر واڈ میں شفٹ کر دیا جاتا ہے اور بلا ضرورت ڈرپ لگا دی جاتی ہے ۔۔یہ دیکھے جانے بغیر کے اسے ڈرپ کی ضرورت بھی ہے کہ نہیں ۔۔۔ جرنل واڈ کی فیس تک چارج کی جاتی ہے ہزار کے بجائے چھ ہزار کا بل بن جائے ۔۔۔ پیشنٹ انجان ہیں لیکن ہم تو نہیں اصفر پھر کیا یہ پیسہ جائز ہے ؟ “

(حضرت نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ لوگوں میں سب سے بہتر وہ انسان ہے جو لوگوں کو نفع و راحت پہنچائے۔ دوسری حدیث میں ہےکہ مخلوق اللہ کا عیال ہے اسلئے لوگوں میں اللہ کی نظر میں سب سے پسندیدہ وہ شخص ہے جو اُس کی عیال کے ساتھ حسن سلوک کرے ۔”

اکٹر کسی بیمار کا ملاحظہ کرکے اسکی بیماری کی تشخیص نہ کر پائے اور اس لئے اُسے مختلف قسم کے ٹیسٹ کرانے کی واقعتہً ضرورت ہو تو ایسے بیمار کو ٹیسٹ کرانے کی تجویز دینا درست ہے۔ اب لیب والا اپنی فیس کے علاوہ اگر بیمار سے مزید کچھ رقم لیتا ہے اور وہ زائد رقم ڈاکٹر کو بطور کمیشن دیتا ہے اور لیب والے کا یہ رقم لینا بھی اور ڈاکٹر کو دینا بھی حرام ہے اور ڈاکٹر کا یہ رقم قبول کرنا بھی مال حرام ہے ۔ اگر پہلے سے ہی یہ طے کر رکھا ہو تو یہ اور بھی جرم ہے۔ اگر ڈاکٹر نے مریض کا ملاحظہ کیا اور بیماری کی تشخیص ہوگئی پھر بھی صرف اپناکمیشن لینے کےلئے مریض کو ٹیسٹ کرانے کا حکم لکھا تو یہ مریض کے ساتھ دھوکا او فریب بھی ہے اور اس کے ساتھ کمیشن لیا گیا وہ بھی حرام ہے۔

اس طرح کوئی ڈاکٹر اگر مریض کو کسی مخصوص سٹور سے دوا خریدنے کا حکم کرے اور مقصد یہ ہو کہ اُس سٹور پر صحیح اور معتبر کمپنیوں کی درست دو املتی ہے تو ایسی صورت میں معتینہ سٹور سے دو ا لینے کی تجویز درست ہے لیکن کسی فارمیسی یا میڈیکل سٹور سے دوا لینے کا حکم اگر اس لئےدیا گیا کہ اس سٹور سے کمیشن لیا جائے تو یہ مریض کا استحصال ہے، مالی ظلم ہے اور دھوکہ دے کر بذریعہ میڈیکل سٹور مزید رقم کھینچنا ہے۔ بلا شبہ یہ مزید رقم ڈاکٹر کےلئے حرام ہوگی۔ ا سکے درست ہونے کی کوئی صورت ہی نہیں ہے۔ حق یہ ہے کہ ڈاکٹر مریض کو ملاحظہ کرنے کےلئے جو وقت صرف کرتا ہے اس کی مناسب اور جائز فیس لے کر اب کسی لیب یا فارمیسی سے کمیشن لینے کا کوئی جواز نہ عقلی طور پر ہے نہ طبی اخلاقیات کی رو سے درست ہے اور شرعی طور پر اس کے حرام ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ فقہ کی مشہور کتاب فتاویٰ شامی میں ایک اصول یہ لکھا ہے کہ اگر کسی شخص نے دوسرے شخص کو کسی کے پاس پہنچانے یا کسی جگہ تک پہنچنے کی رہنمائی کی یا مشورہ دیا تو اس پر کوئی معاوضہ لینا باطل ہے۔ یہ کمیشن اسی زمرے میں آتا ہے۔ ڈاکٹر جب کسی مریض کو کسی مخصوص لیب یا مخصوص میڈیکل سٹور کی رہنمائی کرتا ہے۔ اگر اس پر وہ ڈاکٹر خود مریض سے کوئی رقم طلب کرے تو یہ بھی باطل ہے۔ یہاں ڈاکٹر خود نہیں لیتا بلکہ لیب یا سٹور والے کے ذریعہ مریض سے رقم لی جارہی ہے ۔ یہ بھی باطل ہے ۔قرآن کریم میں ارشاد ہے(ترجمہ)اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے مت کھائو۔

حدیث میں ارشاد ہے کہ کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کا مال لے لےاُس کی قلبی رضامندی کے بغیر ۔بہر حال ڈاکٹر صاحبان کا یہ کمیشن لینا مریضوں پر ظلم بھی ہے اُن کی مجبوری کا غیر شرعی غیر اخلاقی استحصال بھی ہے اور وہ رقم بھی اُن کےلئے حرام ہے۔ خود کی وہ فیس جو پرائیوٹ کلینک پر لی گی وہ جائز ہے ۔اس کے علاوہ کمیشن کے حلال ہونے کی کوئی صورت نہیں اور یہ خود طبی اخلاقیات کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے۔) بڑی رسانیت سے حمنہ نے سمجھانا شروع کیا تھا لیکن حمنہ کے منہ سے یہ سب سن وہ ہتھے سے اکھڑا تھا

” حمنہ یہ نا جائز نہیں ہے ۔۔۔۔ لاکھوں روپے لگتے ہیں ایک ڈاکٹر سرجن بننے میں ۔۔۔۔ اسپشلائز کرنے میں ۔۔۔۔ پھر ڈاکٹر کی اپنی مرضی ہے کہ وہ اپنی فیس کتنی لینا چاہتا ہے ۔۔۔ مریض کی مرضی ہوتی ہے تبھی وہ آتے ہیں ورنہ کسی بھی سستے کلینک سے۔ بھی علاج کروا سکتے ہیں۔۔۔۔ ہم مجبور نہیں کرتے انہیں یہاں آنے کے لئے باقی یہ لیباٹری اور میڈیکل اسٹور کے کمیشن کی بات تو یہ بھی عام ہے ۔۔۔۔ لاکھوں روپیہ لگتا باہر سے جدید مشین باہر سے منگوانے میں تا کہ بیماری کی اچھی طرح تشخیص ہو سکے ۔۔۔۔ پھر یہاں جو میڈیکل اسٹور پر بیٹھے ہیں وہ بھی بال بچے دار ہیں انہیں بھی کمانے کا حق ہے ” پتہ نہیں کیوں لیکن اصفر کو اپنی ہر دلیل حمنہ کی باتوں کے سامنے ہیج سی لگ رہی تھی ۔۔۔۔ وہ خود ہی کو مطمئن نہیں کر پا رہا تھا حمنہ کو کیا جواب دیتا بات تو سوفیصد درست تھی کمیشن تو کھا رہے تھے وہ بھی دو دو ہاتھوں سے ۔۔۔۔

“اصفر یہ کوئی وجہ نہیں ہے ۔۔۔۔ مریض کا اچھا علاج کون نہیں چاہتا لیکن ایک لیمٹ ہونی چاہیے ۔۔۔۔۔ تا کہ ذیادہ سے ذیادہ لوگ مستفید ہو سکیں ” اصفر کو نا جانے کیوں اسکی باتوں سے الجھن سی ہونے لگی لہجہ بھی بدلنے لگا ۔۔۔ نا جانے کیوں وہ اس کے ضمیر کا امتحان لے رہی تھی ۔۔۔۔ ضمیر کی عدالت واحد ایسی ایک عدالت ہے جہاں نا جھوٹ چلتا ہے نا بول کر خود کو مطمئن کیا جاتا ہے کوئی نہیں ہوتا وہاں سوائے اپنی ذات کے اور اپنے ہی گناہ کا خود احتساب کرنا دنیا کا مشکل ترین کام ہے ۔۔۔۔ اور اصفر ایسی عدلت سے کوسوں دور رہنا چاہتا تھا جہاں حمنہ اسے بات بار کھڑا کرنا چاہ رہی تھی

” تم ہو نا خدائی فوجداری کے لئے ۔۔۔ ایک سو روپے کے ٹوکن سے کیا کما لیتی ہو تم جس میں مریض کو دو دن کی دوائی تم اپنی طرف سے دیتی ہو ۔۔ سمجھو تو صرف دوا کے پیسے ہی لیتی ہو ۔۔۔ اور کمپوڈر کی فیس بجلی کا بل اور دیگر اخراجات تم اپنی جیب سے بھر رہی ہو ۔۔۔ یہی وقت اگر ہاسپٹل میں دو تو اسی دو گھنٹے کے ساٹھ ہزار روز کے کما سکتی ہو ۔۔۔ لیکن نہیں تمہیں دعائیں چاہیے لو دعائیں لیکن پلیز اپنی نیک نامی اپنی حد تک رکھو”

” جہاں تک میں جانتی ہوں دعا۔ بھابھی کے پاس تو ایم بی بی ایس کی ڈگری تک نہیں ہے پھر گائناکالوجسٹ کی سیٹ پر کس حیثیت سے بیٹھی ہیں ۔۔۔ صرف اس لئے کے حسن کمال کی بہو ہیں ۔۔۔ اصفر کیا حسن کمال کی بہو ہونا ہر عیب کو چھپا دیتا ہے کیا لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلنے کی اجازت دے دیتا ہے ۔۔۔۔ آپ کیوں ایکشن نہیں لیتے ہیں”

“Just keep quiet humna …..I can’t hear any further information about dua “

اصفرنے آنکھیں نکالتے ہوئے اسے غصے سے کہا تھا اتنے کم عرصے

میں۔ وہ ہاسپٹل کی بہت سی باتوں جان چکی تھی ۔۔۔۔۔ ہر چیز پر بات پر نظر تھی ۔۔۔۔ اصفر کی سوچ سے زیادہ وہ زریک نظررکھتی تھی

“اصفر میری بات سمجھنے کی کوشش کیجیے یہ عام بات نہیں انسانی جانیں ہیں اگر ہماری غفلت سے کسی ایک جان کا بھی نقصان ہوتا ہے تو ہم اللہ کے سامنے جواب دی ہیں ” اب تو بھڑک اٹھا تھا

” حمنہ ایک دم چپ آگے ایک لفظ نہیں سننا چاہتا ۔۔۔۔ ایک بات اور کان کھول کر سنو ۔۔۔۔ ڈیڈ کے کسی معاملے زبان کھولنے کی کوشش مت کرنا ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا تمہارے لئے “

بہت سخت تنبیہ اصفر نے اسے کی تھی حمنہ تو اس کے ساتھ مل کر ہاسپٹل کا نقشہ بدلنا چاہتی تھی غلط کو ٹھیک کرنا چاہتی تھی ۔۔۔ حرام کی کمائی کو ختم کر کے حلال اور جائز کی راہ کھولنا چاہتی تھی لیکن اب بہت مشکل لگ رہا تھا ۔۔۔۔

جب دلوں میں ایمان کی جگہ پیسوں ہوس لے لے تو ایمان کا نور کہاں سے اتنی جلدی دلوں اور زندگیوں میں اترتا ہے ۔۔۔۔