Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 30
Rate this Novel
Noor-e-Emaan Episode 30
Noor-e-Emaan by Umme Hani
حمنہ سر پکڑے فارس کے کمرے میں بیٹھی تھی
” حمنہ مجھے تمہاری پریشانی کی وجہ سمجھ سے باہر ہے ” حمنہ کی بات فارس کو بےتکی سی لگ رہی تھی ۔۔
” فارس تم سمجھ نہیں رہے ہو ۔۔۔ بچے اصفر سے بہت زیادہ اٹیچ ہونے لگے ہیں ۔۔۔۔ اگر ۔۔۔ اگر بچے اس سے بہت قریب ہو گئے تو ۔۔۔ یہ نا ہو کہ مجھے چھوڑ دیں ” حمنہ کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے تھے
” حمنہ ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔ بچے وقتی طور پر اس سے امپریس ہو رہے ہیں بس ۔۔۔ تم ماں ہو انکی
تمہیں کیوں چھوڑ دیں گئے ۔۔۔ کب سے بس تم اسی بات رو رہی ہو پانی پیو کو شاباش ” فارس نے پانی کا گلاس حمنہ کے سامنے رکھا تھا ۔۔۔ حمنہ نے پانی پی کر گلاس خالی واپس رکھ دیا ۔۔۔
” گڈ اب چپ ہو جاؤں ۔۔۔ اور ذیادہ وقت بچوں کے ساتھ گزارا کرو انہیں وقت دو ۔۔۔ “
” تم ٹھیک کہہ رہے ہو ۔۔۔۔ ایک بچے ہی تو ہیں میرے پاس ۔۔۔۔انہیں میں اصفر کا نہیں دے سکتی ” حمنہ اپنے آنسوں صاف کرتے ہوئے بولی ۔۔۔
” اچھا اب یہ رونا تو بند کرو ۔۔۔۔ اور وہم کم پالو”
فارس کے سمجھانے پر وہ چپ تو ہو گئ تھی لیکن دل میں ڈر سا بیٹھ گیا تھا
دوپہر کو وہ ایک بجے ہی ہاسپٹل سے سیدھا بچوں کے اسکول گئ تھی انہیں پک کر کے باقی کاوقت بچوں کے ساتھ ہی گزارا تھا اگلا دن اتوار کا تھا ۔۔۔
اور ہفتے کو دونوں بچے لیٹ نائٹ تک اصفر کی واپسی تک جاگ کر اس کاانتظار ضرور کرتے تھے ۔۔۔ اب اسکی واپسی بارہ بجے ہی ہوتی تھی ۔۔۔۔ پھر آپریشن بھی ہو کرنے لگا تھا اس لئے ہر آپریشن کے چارجز اسے ساتھ ہی ساتھ مل جاتے تھے ۔۔۔
حمنہ نے بچوں کھانا کھلا کر جلدی ہی بیڈ پر لیٹا دیا تھا ۔۔۔۔ نہیں چاہتی تھی کہ بچے اس کے ساتھ ذیادہ وقت گزاریں ۔۔۔۔ جب تک وہ واپس آیا تھا ۔۔۔ بچے سو چکے تھے ۔۔۔۔ گھر آتے ہی سب سے پہلے وہ بچوں کے کمرے میں ہی آتا تھا ۔۔۔۔ انہیں سویا دیکھ واپس پلٹ جاتا تھا اور عموما حمنہ بھی سو چکی ہوتی تھی لیکن اس۔ بار جاگ رہی تھی ۔۔۔ لیکن آنکھوں پر بازو رکھے یوں لیٹی رہی جیسے سو رہی ہو ۔۔۔ اصفر سب سے ایمان کے قریب آیا تھا جو بیڈ کے دوسری سائیڈ پر سو رہا تھا ۔۔۔ اسکی پیشانی چوم کر اسکی رضائی درست کی نور بیچ میں سو رہی تھی ۔۔۔ پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر چوم کر دوبارہ سے بیڈ پر رکھ دیا ۔۔۔ حمنہ بازو اپنی آنکھوں پر رکھے لیٹی ہوئی تھی وہ سمجھی اب وہ کمرے سے باہر چلا جائے گا ۔۔۔ لیکن اس کے شور کی دھمک اسے اپنے قریب آتے ہوئے محسوس ہو رہی تھی پھر اسکے قریب آ کر رکا تھا کچھ ہی دیر میں اسکے ہونٹوں کا لمس اسے اپنے اس بازو پر محسوس ہوا جو اس نے آنکھوں پر رکھا تھا ۔۔۔ دل بے لگام گھوڑے کی طرح سے دوڑا تھا ۔۔۔
” آئی لو یو ” بلکل اسکے قریب بہت دھیرے سے کہہ وہ کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔ سینے میں منشتر ہوتی دھڑکنوں نے جیسے حمنہ کو بے چین کیا تھا۔۔۔
” یہ روز یہی سب کچھ کرتا ہے میرے ساتھ ؟ ۔۔۔ میری نیند کا فائدہ اٹھاتا ہے۔۔۔۔ شہ “۔۔۔۔ حمنہ تلملا سی گئ تھی ۔۔۔۔باہر کچن میں شور کی آواز آ رہی تھی شاید اپنے لئے کھانا گرم کر رہا تھا ۔۔۔۔ پہلے تو سوچا کہ کمرے نکل کر جا کے اس سے پوچھے کے اپنے کانٹریکٹ کے اصولوں سے پھرنے کا کیا مقصد ہے ۔۔۔لیکن پھر خیال آیا کہ اس سے اس وقت اکیلے میں ملنا بھی خطرے سے خالی نہیں ہے ۔۔۔۔ کیا خبر مزید کون سی گستاخی کر جائے۔۔۔۔ اس لئے لیٹی ہی رہی
صبح ناشتے کے وقت بھی وہ غصے میں تھی ۔۔۔ اس لئے چائے کا بس ایک ہی کپ صرف اپنے لئے بنایا ۔۔۔۔ بچوں کے گرم دودھ کے کپ ان کے سامنے رکھ کر ایک کپ چائے اپنے سامنے رکھ کر ناشتہ کرنے لگی ۔۔۔ اصفر نے ایک نظر اسکے تپے ہوئے چہرے پر ڈالی ۔۔۔ رات کی بات یاد آنے لگی۔۔۔ گھر آتے ہی دونوں بچوں کو وہ روز ہی پیار کرتا تھا ۔۔۔ سارا دن مسلسل کام کرنے کی تھکن اپنے بچوں کے معصوم چہروں کو دیکھ کر جیسے پل میں اتر جاتی تھی ۔۔۔۔ اس لئے نور کا ہاتھ چوم کر جب وہ کمرے سے باہر جانے لگا تو نظر حمنہ پر جا کر رکی تھی ۔۔۔۔ اول تو وہ بازو آنکھوں پر رکھ کر نہیں سوتی تھی اور دوسرا سوئے ہوئے اپنے ہونٹ دانتوں سے نہیں کاٹتی تھی جو اس وقت کر رہی تھی سمجھ گیا تھا کہ وہ جاگ رہی ہے ۔۔۔ ذہن میں ایک شرارت سی سوجی تھی۔۔۔ چہرے پر ایک جاندار مسکراہٹ سی آئی تھی ۔۔۔ اس لئے باہر جانے کے بجائے اس کے پاس آگیا ۔۔۔ جان بوجھ کر اسکے بازو کو ہونٹوں سے۔ چھوا تھا ۔۔۔۔ اپنی محبت کا اظہار بھی لفظوں سے کر کے باہر نکل گیا ۔۔۔
کھانا گرم کرتے ہوئے۔ بھی اسی خیال سے مسکراتا رہا کہ صبح صبح بیگ صاحبہ کا موڈ آف ہی ملے گا اور ہوا بھی یہی تھا ۔۔۔ چائے ایک کپ اور حمنہ کے چہرے کے خطرناک تاثرات دیکھ مسکرایا تھا ۔۔۔۔
” ممی ڈیڈ کی چائے کہاں ہے ؟ ” سب سے پہلے ایمان نے پوچھا تھا ” حمنہ کا دل تو جیسے جل کر خاک ہوا تھا ۔۔۔
” کتنی فکر تھی اسے باپ کی ” حمنہ دل ہی دل میں کر کے رہ گئ تھی
” تم چپ چاپ اپنا ناشتہ کرو ۔۔۔۔ ” حمنہ نے ایمان کو گھور کر کہا ۔۔۔ وہ چپ ہو گیا۔۔۔ نور اصفر کے برابر میں ہی بیٹھی تھی ۔۔۔۔
” ڈیڈ مجھے آج ذیادہ بھوک نہیں ہے ۔۔۔ آپ یہ میرے کپ سے آدھا دودھ پی لیں ” نور نے اپنا کپ اصفر کے سامنے رکھ دیا یہ ایک سچی حقیقت ہے کہ بیٹی کی محبت باپ سے ذیادہ ہوتی ہے ۔۔۔۔فکر بھی باپ کی ہی زیادہ کرتی ہے ۔۔۔ وہ چھوٹی سی تھی لیکن باپ کی طرف کشش ذیادہ محسوس کرتی تھی ۔۔۔۔ بھوک ہونے کے باوجود بھی نور کو اصفر کی فکر تھی
” یس ڈیڈ مجھے بھی آج اتنی بھوک نہیں لگی ۔۔۔ آدھا کپ میرا بھی پی لیں ۔۔۔۔ ” نور کی بات پر ایمان نے بھی ہمت دیکھائی تھی
” کیوں بھوک نہیں ہے جلدی سے دونوں اپنا دودھ فنش کرو ۔۔۔۔ چائے مجھے آج پینی ہی نہیں تھی اسی لئے میں۔ نے تمہاری ممی کو بنانے سے منع کر دیا تھا ۔۔۔ ” سامنے رکھے بریڈ کو اٹھاتے ہوئے اصفر نے بات بدلی تھی ۔۔۔۔ بریڈ پر جیم لگا کر اس نے وہی کھائے تھے ۔۔۔۔ ساتھ پانی پینے لگا
بچوں کو دودھ بھی اپنے سامنے ختم کروایا تھا ۔۔۔
نور اور ایمان کی باپ سے محبت دیکھ کر حمنہ تو جیسے رو دینے کو تھی ۔۔۔ اس لئے صرف گرم گرم چائے کے گھونٹ ہی پی رہی تھی ۔۔۔۔ اصفر نے ایک سلائس حمنہ کی طرف بڑھا دیا ۔۔۔۔
” تم کیا چائے پیے جا رہی لو ٹھیک سے ناشتہ کرو ۔۔۔۔ ” اصفر کی بات پر حمنہ نے غصیلی نظر اس پر ڈالی ۔۔۔
“مجھے بھوک نہیں ہے ” یہ کہہ کر چائے پینے لگی
” ممی کھا لیں نا ۔۔۔آپ بلکل بھی اپنا خیال نہیں رکھتی ہیں” ایمان نے وہ سلائس اصفر سے پکڑ کر خود حمنہ کے منہ کے قریب کیا تھا ۔۔۔۔ ایمان کی جان تو دونوں میں بستی تھی لیکن ماں کی فکر ذیادہ تھی
” فکر تو انہیں میری بھی ہے ” ایمان کی جانب دیکھ کر وہ سوچنے لگی پھر سلائس اس سے لیکر کھا بھی لیا ۔۔۔۔
بچے اصفر کے ساتھ بیٹھ کر ہوم ورک کرنے لگے ہر اتوار یہی روٹین تھی انکی وہ ناشتے کے فوری بعد ہوم ورک کرتے تھے اور اسکے بعد گھومنے نکل جاتے تھے ۔۔۔۔ پھر شام کو ہی لوٹتے تھے حمنہ گھر کے کام نمٹاتی رہتی تھی لیکن اس بار فٹافٹ سے بس ککنگ ہی کی تھی ۔۔۔ جب تک بچوں کا ہوم ورک کمپلیٹ ہوا تھا وہ کھانا بنا چکی تھی ۔۔۔۔۔ جیسے ہی اصفر بچوں کو باہر لے جانے لگا حمنہ بھی جانے کے لئے تیار ہو گئ ۔۔۔۔
” مجھے بھی ساتھ جانا ہے ” حمنہ کو یوں تیار دیکھ کر اصفر حیران ضرور ہوا تھا ۔۔۔۔ وہ کہاں ساتھ جاتی تھی اسکے ساتھ ۔۔۔ بچے بھی خوش ہوئے تھے
” ممی آپ بھی ساتھ جائیں گی واہ پھر اور بھی مزہ آئے گا ۔۔۔۔ “, بچے خوشی سے جھوم کر بولے تھے ۔۔۔ سرخ رنگ کے لونگ سویٹر کے ساتھ ہم رنگ اونی ٹوپی کے اس نے کھلے بالوں کے اوپر جلدی میں پہنی تھی کہ کہیں اسکے تیار ہونے میں دیر نا لگ جائے بچوں کو اصفر کے ساتھ زیادہ دیر اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتی تھی ۔۔۔۔ اسلئے جانے کے لئے تیار تھی ۔۔۔۔۔ گاڑی کے پیچھے بچوں کے ساتھ بیٹھنے لگی تو ایمان نے جگہ دینے سے انکار کیا تھا
” ممی آگے بیٹھے نا ڈیڈ کے ساتھ ۔۔۔ سب کی ممی فرنٹ سیٹ پر ہی بیٹھتی ہیں ۔۔۔۔ “
” ایمان مجھے پیچھے ہی بیٹھنا ہے ۔۔۔ ہٹو پیچھے “
” نو ممی پلیز آگے بیٹھیں ” ایمان بھی اپنے نام کا ایک تھا مجبورا حمنہ کو آگے بیٹھنا پڑا ۔۔۔۔ ” اصفر کے دل میں تو جیسے بہاریں سی لوٹ آئیں تھیں ۔۔۔۔ یہ اسکے بچے ہی تو تھے جو حمنہ کو واپس سے اس کے قریب لانے میں معاون ثابت ہو رہے تھے ۔۔۔۔
ابھی وہ راستے میں ہی تھے جب ہلکی ہلکی برف باری شروع ہوئی گئ۔ تھی ۔۔۔۔ گاڑی اصفر نے وہاں کھڑی کی جہاں اور بھی بہت سی فیملیز برف باری سے لطف اندوز ہو رہیں تھیں ۔۔۔۔۔ اور عجیب اتفاق تھا یا پھر اصفر کی دانستہ شرارت کہ جگہ وہی تھی جہاں اپنے ہنی مون کی واپسی پر حمنہ نے گاڑی خود رکوا کر برف باری میں خوب انجوائے کیا تھا ۔۔ اس جگہ کو دیکھ کر ایک پل کے لئے حمنہ کی بے اختیار نظریں اصفر پر پڑیں تھیں ۔۔۔ جس کے چہرے کی مسکراہٹ اسے زہر لگ رہی تھی ۔۔۔۔ گاڑی سے نیچے اتر کر وہ بیٹھنے کی جگہ تلاش کرنے لگی وہ ایک پارک تھا لیکن مسلسل برف باری کی وجہ سے اب وہاں صرف برف ہی برف نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔۔ بہت سے بچے اور لڑکیاں برف کے گولے بنا کر ایک دوسرے کو مار رہے تھے ۔۔۔ کچھ نیو کپلز بھی موجود تھے اور کچھ بچوں والے بھی۔۔۔۔ لیکن سب کے چہروں پر خوشی کے تاثرات تھے ۔۔۔۔ سب ہی اس خوبصورت موسم کو انجوائے کر رہے تھے ۔۔۔ سوائے حمنہ کے جو چاروں طرف نظریں گھومائے بیٹھنے کو بینچ ڈھونڈ رہی تھی ۔۔۔۔ جو ایک کونے میں اسے نظر آ ہی گیا تھا ۔۔۔ اس لئے برف پر چلتی ہوئی وہیں پہنچ کر بیٹھ گئ ۔۔۔ نور اور ایمان دونوں برف کے گولے بنا کر اصفر پر پھنک رہے تھے ۔۔۔ اور وہ اپنا بچاؤں ہی کر رہا تھا۔۔۔ کچھ دیر بچوں کو ہستا کھیلتا دیکھ دل پر سکون ہوا تھا حمنہ نے ۔ٹھنڈی گہری سانس بھری تھی ۔۔۔ وہ خوش تھے بہت خوش ۔۔۔۔ حمنہ کے دل میں۔ ایک کسک سی اٹھی تھی خلش سی تھی ۔۔۔ کہ جو محبت اصفر اب دیکھا رہا ہے ۔۔۔ اسکے لئے جو راہ اس نے اب اپنائی ہے کاش کے اسوقت اپنا لیتا ۔۔۔ تو پچھلے چھ سال اسکے بچے باپ کی محبت سے محروم نا ہوتے ۔۔۔۔ اصفر کے لئے وقت رک گیا تھا شاید ۔۔۔لیکن حمنہ نے کے لئے نہیں ۔۔۔۔ چھ سال آگے بڑھ چکی تھی وہ ۔۔۔۔ایک اور فرد اپنی پوری سچائی کے ساتھ اسکی زندگی میں آ چکا تھا ۔۔ اب فارس سے کیا وعدہ اسے پیچھے کی جانب دیکھنے اور جانے کی اجازت نہیں دیتا تھا ۔۔۔۔۔ پانچ سال فارس نے صرف حمنہ کو چاہا تھا ۔۔۔۔ اسکے فرض کو اپناسمجھ کر نبھایا تھا ۔۔۔
کیسے اس کے جذبات کو نظر انداز کر سکتی تھی ۔۔۔ خود غرضی دیکھا دیتی ۔۔۔۔ یہ بھی ایک سچ تھا کہ فارس کی محبت سے وہ متاثر ضرور تھی اس کی چاہت پر شک بھی نہیں کر سکتی تھی اسکی شرافت کی بھی دل سے قائل تھی ۔۔۔ ان پانچ سالوں میں اس نے کبھی اسے چھونے کی کوشش تک نہیں کی تھی ۔۔۔۔ نا ہی اکیلے پن کا کوئی ایسا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تھی ۔۔۔ ہمیشہ بچوں کی موجودگی ان کے درمیان حائل رہی تھی ۔۔۔ وہ بس ذو معنی بات ہی کرتا تھا ہنسی مزاق میں ہی دل کی بات کرنے کا عادی تھا ایک بہترین دوست کی طرح اس کاساتھ دیتا آ رہا تھا ۔۔۔۔ اب اگر اس کا ساتھ چاہتا تھا تو حق میں تھا ۔۔۔۔۔ کیسے انکار کر دیتی ۔۔۔۔ مگر اب اصفر واپس آ چکا وہ بھی اپنی ایک زندہ حقیقت کے ساتھ
کیا اب بچے فارس کو باپ کی جگہ دے سکتے تھے ؟ ۔۔۔ یہ جان کر کے اصفر ان کا باپ ہے ۔۔؟ کیا فارس کو حمنہ کے شوہر کی حیثت سےایکسپٹ کریں گئے ؟ ۔۔۔ ” ابھی وہ انہیں سوچوں میں گم تھی جب برف کا گولا اس کے کندھے پر لگا تھا وہ بری طرح چونکی تھی ۔۔۔ سامنے کچھ فاصلے اصفر اور نور کھڑے تھے ہاتھوں میں برف کے گھولے بھی موجود تھے ۔۔۔ اور ایمان عین اسکی بینچ کے سامنے کھڑا تھا جیسے ہی اصفر اور نور اس پر وہ برف کا گولا پھینکتے کمال مہارت سے وہ نیچے جھک جاتا ۔۔۔۔ اس لئے برف کا گولا سیدھا حمنہ کے اوپر جا کر لگتا تھا ۔۔۔ پہلے کندھے پر لگا لگتے ہی برف سے اس کا پورا سویٹر سفید ہوا تھا دوسرا سر کی اونی ٹوپی پر جس سے اسکے بال چہرہ سب سفید برف سے بھرے تھے لیکن اتنی زور سے نہیں مارا جا رہا تھا کہ اسے چوٹ لگے ۔۔۔۔ وہ یک دم کی کھڑی ہو گئ اس لئے تیسرا اس کے بازو پر لگا تھا ۔۔۔۔ اور سب کے سب اصفر کے ہاتھوں سے لگ رہے تھے ۔۔۔۔ نور چھوٹی تھی وہ پوری قوت سے پھنکنے کے باوجود بھی آدھے راستے میں گر رہے تھے ۔۔۔ وہ غصے سے اصفر دیکھ رہی تھی جو بظاہر بچوں کو میں مگن تھا اور ایمان کو ایک بھی گولا نا پڑنے پر داد دے رہا تھا ۔۔۔۔
” ویلڈن بگ باس ” اصفر نے ایمان کو انگوٹھا دیکھاتے ہوئے داد دی تھی ۔۔۔ اور ایمان صاحب اس وقت خود کو واقعی مشن انوسبل کو حل کرنے والے ہیرو سمجھ رہے تھے ۔۔
” دیکھا ڈیڈ میں نے کہا تھا نا آپ مجھے نہیں مار سکتے ۔۔۔۔ یہ آپکے اور نور کے بس کی بات ہی نہیں ہے ۔۔۔۔ ” ایمان بڑے اعتماد سے کہہ رہا تھا ۔۔۔ نور کے ماتھے پر بل پڑے تھے اس لئے اصفر کی جیکٹ کھنچنے لگی
” ڈیڈ مان بھائی ذیادہ ہی اترا رہا ہے آپ مزہ کیوں نہیں چکھا رہے اسے ” نور کو اپنی ہار منظور نہیں تھی
” تو کیا خیال ہے مزہ چکھائیں پھر ؟” اصفر نے جھک کر آنکھ ونک کرتے ہوئے نور سے پوچھا اس نے جوش سے اثبات میں سر ہلایا ۔۔ پھر ایک نشانہ سیدھا ایمان کے سر پر لگا تھا ۔۔۔ جس پر نور نے اچھل اچھل کر تسلیاں بجاتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا تھا اسی اثنا میں حمنہ غصے سے بپھری ہوئی اصفر تک پہنچ گئ تھی نور ماں کو دیکھ کر خوش ہو کر بتانے لگی ۔۔۔۔
“ممی ہم نے مان بھائی کو ہرا دیا ” حمنہ نے نور کو نظر انداز کر کے اصفر کو کینہ توز نظروں سے دیکھا تھا
” یہ کیا حرکت تھی ” حمنہ کے سوال پر وہ بلکل انجان سابن گیا
” کون سی حرکت ؟ ” وہ دائیں بائیں دیکھنے لگا
” اس وقت اس کا سویٹر برف سے بھر چکا تھا بالوں پر بھی برف لگی ہوئی تھی ۔۔۔ اس نے اپنی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا
“” یہ سب ؟ مجھ پر برف پھینکے کا کیا مقصد تھا ؟ “وہ زچ ہوتے ہوئے بولی
” میں کیوں پھنکنے لگا ایمان کی وجہ سے شاید میرا نشانہ چونک گیا ہو گا ۔۔۔ تو شاید تمہیں لگ گیا ہو۔۔۔۔۔۔اب تمہاری طرح نشانے باز تو نہیں ہوں کہ ایک بھی چوکے ۔۔۔۔۔ ایم سوری ۔۔۔ لاؤ میں جھاڑ دیتا ہوں ایسی تو بڑی بات نہیں ہے ” وہ انجان بنا بول کر اسکے بالوں اور سویٹر سے برف جھاڑنے لگا حمنہ جھٹ سے پیچھے ہٹی تھی ۔۔۔۔
“ایکسکیوز می ۔۔۔۔ دور رہیں مجھ ۔۔۔ میں خود بھی برف ہٹاسکتی ہوں “وہ تلخ لہجے سے بولی
” او کے آل رائٹ ۔۔۔ “وہ لا پروائی سے کندھے اچکا کر بولا
۔۔۔ اتنی دیر میں ایمان بھی ان کے پاس پہنچ چکا تھا ۔۔۔
” ڈیڈ آپ نے چیٹنگ کی ہے ۔۔۔ نور کو اپناپاٹنر بنایا ہے ۔۔۔ اور میرے ساتھ کوئی بھی نہیں ہے ” وہ ناراض ناراض سا بولنے لگا
” دیکھوں بھئ نور تو میری ہی پاٹنر رہے گی ۔۔۔ تمہیں۔ ذیادہ ہی ہے تو اپنی ممی کو پاٹنر بنا لو” اصفر نے ایمان کو نیا مشورہ دیا
نور تو خوشی سے باپ کا ہاتھ تھام چکی تھی
” نہیں مجھے ایسا کچھ نہیں کھیلنا ” حمنہ نے صاف انکار کیا تھا اور اپنے کپڑے جھاڑنے لگی
” ممی پلیز بن جائیں نا میری پاٹنر ” ایمان نے منت کی تھی
” نو۔۔۔ مان میرا ایسا کوئی موڈ نہیں ہے ” حمنہ نے سخت لہجے سے منع کیا
” رہنے دو بگ باس تمہاری ممی کے بس کی بات نہیں ہے کہ مجھے اور نور کو بیٹ کر سکے ” اصفر نے جان بوجھ کر حمنہ کو اکسانا چاہا تھا
” واٹ ؟ میں بیٹ نہیں کر سکتی ؟ “
” او یس ۔۔۔ تمہارے بس کی بات نہیں ہے۔۔۔۔ تم رہنے دو ” حمنہ سے بات اس نے استزائیہ انداز سے کہی اور پھر نور کی طرف متوجہ ہو گیا
” کیوں نور ممی نور سے جیت سکتی ہے کیا ؟ اصفر نے نور سے تصدیق چاہی
” نو چانس ڈیڈ ” نور نے بھی باپ کا ساتھ دیا تھا
” نور ” حمنہ نے حیرت سے نور کو دیکھا تھا ۔۔۔۔
” ممی آپ ٹینشن نا لیں میں ہوں نا ۔۔۔ ڈیڈ کے ساتھ ساتھ نور کو ہرا دوں گا ۔۔۔ بس آپ مجھے فالو کرنا ” ایمان نے ماں کو تسلی دی تھی ۔۔۔
“او کے لٹس پلے ” یہ کہہ حمنہ ایمان کے ساتھ اپنی جگہ پر جا چکی تھی ۔۔۔ پھر دونوں جانب سے وہ گولا باری شروع ہوئی کے اصفر کو بچنے کا موقع نہیں ملا تھا
۔۔۔ ایک گھنٹہ کیسے گزرا تھا پتہ ہی نہیں چلا تھا لیکن بہت عرصے بعد حمنہ ہر غم کو بھول کر بچوں سے ساتھ انجوائے کر رہی تھی ۔۔۔۔ نا بچوں کی ضروریات کے لئے ہاسپٹل میں اوور ٹائم لگانے کی فکر تھی ۔۔۔۔ نا گھر کے کاموں کو جلد از جلد نمٹانے کی فکر ۔۔۔۔ ان پانچ سالوں میں وہ ہسنا بولنا تو جیسے بھول ہی گئ تھی بس ایک ٹف روٹین لائف گزار رہی تھی ہاسپٹل۔۔۔ بچے۔۔۔ گھر کے کام۔۔۔۔ اکثر بچوں کے ساتھ لوڈو کیرم کھلتے ہوئے بھی اس کا ذہن کسی نا کسی کام میں الجھا رہتا تھا ۔یا اپنے ماضی کی تلخیوں میں۔ ۔۔ یہی وجہ تھی کہ بچے ہمیشہ فارس کی کمپنی کو انجوائے کرتے تھے ۔۔۔۔ وہ کھیلتے ہوئے ان کے ساتھ مزاق مستی بھی کرتا رہتا تھا۔۔۔۔۔ اکثر نور کی معصومیت کام دیکھا جاتی تھی ۔۔۔ اور وہ اسکے ساتھ مل کر ایمان کی شامت لاتا تھا ۔۔۔۔
لیکن اس ایک گھنٹے میں حمنہ کو کوئی خیال کوئی فکر ستانے نہیں آئی تھی ۔۔۔ وہ خوش تھی ۔۔۔ آخر میں جیتنے کے بعد ایمان کو سینے سے لگایا جو خوشی کے مارے ماں کے ہاتھوں چوم رہا تھا ۔۔۔
” ممی یو آر دا بسٹ ممی آف دا والڈ ۔۔۔۔ ” ایمان کی خوشی قابل دید تھی ۔۔۔۔۔ نور کا منہ خفگی سے پھولا ہوا تھا ۔۔۔ باپ کا ہاتھ پکڑے بڑے غصے سے ایمان کو دیکھ رہی تھی دوسرے ہاتھ میں برف بھی پکڑ رکھی تھی ۔۔۔ ایمان اب حمنہ سے الگ ہو کر وہ نور چڑھا رہا تھا
” میں نے کہا تھا نا میں نہیں ہارو گا ۔۔۔ ” وہ یہ بولتے ہوئے نور کے پاس گیا تھا نور نے اپنا برف والا ہاتھ ایمان کے سویٹر کے اندر ڈال کر ساری برف اس کے اندر ڈال دی تھی ۔۔۔
وہ کانپ کے رہ گیا تھا نور بھاگ کر اصفر کے پیچھے چھپی تھی
” نور کی بچی رک جاؤ۔ تم ” ایمان وہیں۔ سے چلایا تھا حمنہ کے ساتھ اصفر بھی ایمان کے پاس بھاگ کر پہنچا تھا جلدی سے اسکی شرٹ سے برف نکالنے لگے تھے کہ کہیں ٹھنڈ نا لگ جائے ۔۔۔
” نور بہت بری بات یہ کون سا مزاق ہے بھلا ” حمنہ نے نور کو ڈانٹا تھا
” ممی مان بھائی نے چیٹنگ کی ہے ” نور اب بھی منہ پھلائے بول رہی تھی۔۔۔۔
” او کے اب کوئی نہیں لڑے گا بگ باس یہ چابی پکڑو اور گاڑی میں۔ بیٹھوں بہت ہو گیا انجوائے اب گھر جائیں گئے ” اصفر نے جیکٹ کی جیب سے چابی نکال ایمان کو پکڑائی تھی دونوں بچے گاڑی طرف بھاگ کر جا رہے تھے ۔۔۔
” نور بھی کبھی کبھی پتہ نہیں کیا کرتی ہے ” حمنہ اب بھی ان دونوں کو جاتے ہوئے دیکھ کر رہی تھی
” اس معاملے میں تو بلکل تم پر گئ ہے ۔۔۔۔ ہارتے وقت تم بھی یہی کچھ کرتی تھی ” اصفر نے چور آنکھوں سے اسے دیکھ کر کچھ یاد دلانا چاہا تھا
” واٹ ڈو یو مین اصفر ۔۔۔ ” حمنہ نے اسکی جانب خفگی سے دیکھا تھا
” یاد ہے کاغان میں تم نے یہ سب میرے ساتھ کیا تھا۔۔۔ ” اصفر نے اسے ان حسین دنوں کی یاد دلائی تھی جو اصفر کے لئے متاع زندگی تھے
” وہ تو آپ نے چیٹنگ کی تھی میرے ساتھ اس لئے ” حمنہ کو بھی جیسے وہ وقت یاد آیا تھا
” اب تم جھوٹ بول رہی ہو یاد کرو تم ہار رہی گئ تھی حمنہ “
” نہیں آپ بھول رہے ہیں آپ نے چیٹ کیا تھا ۔۔۔ ” حمنہ اپنے موقف پر اب بھی قائم تھی
” کیا چیٹ کیا تھا “
“آپ نے ” وہ کہتے کہتے رک گئ تھی ۔۔۔۔
جو شرارت اس نے کی تھی وہ اب اسے دہرانہ نہیں چاہتی تھی ۔۔۔ اس لئے چپ ہو گئ اور ایک معنی خیز مسکراہٹ سے سے دیکھتے ہوئے آگے بچوں کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔ اسے واپس انہیں لمحوں کے حوالے کر کے جو شاید حمنہ کے لئے ایک حسین خواب تھے
وہ دن ایک خواب تھے ۔۔۔۔ حسین ترین خواب ۔۔۔
کاغان میں حمنہ نے برف سے بڑی مشکل ایک اسٹچو بنایا تھا ۔۔۔ اصفر وہیں بیٹھا اپنے موبائل سے ہر اینگل سے اسی کی تصویریں لے رہا تھا
” اصفر دیکھیں کتناخوبصورت بنا ہے یہ ۔۔۔ الگ رہا ہے بلکل آپ کی طرح ” حمنہ کی آنکھوں کی ۔میں شرارت ناچ رہی تھی ۔۔۔ اصفر موٹے بدھے برف کے بھالو کو دیکھ کر ہسنے لگا
” ہاں ہے تو بلکل میری طرح لیکن یہ حالت میری شادی کے دس سال بعد ہی ہو سکتی ہے ۔۔۔۔ تمہاری سنگت میں رہ کر ۔۔۔ سوچوں اسوقت تم تو مجھ بھی ڈبل ہو جاؤں گی ۔۔۔۔ کیسی لگوں گی ۔۔۔ امیجن بھئ نہیں ہو رہا ۔مجھ تو” یہ کہہ کر وہ ہسنے لگا
“جی نہیں ۔۔۔ میں تو آپ ہمیشہ ایسی ہی نظر آؤں گی فٹ اینڈ اسمارٹ” ۔۔۔ حمنہ نے اتراتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔
” چلو دیکھیں گئے ۔۔۔ “اصفر حمنہ کو قریب کر کے ایک سیلفی لیتے ہوئے کہا
” اصفر وہ دیکھیں ۔۔۔ نشانے باز ۔۔ مجھے بھی نشانہ لگانا ہے ” سامنے ایک پٹھان غبارے ایک تخت پر لگائے اپنی بندوق لئے کھڑا تھا ۔۔۔ اسکے پاس ذیادہ تر بچوں کا ہی رش تھا
” رہنے دو تمہارے بس کی بات نہیں ہے ایسے ہی ہار جاؤں گی ۔۔۔ تم بس یہ بے ڈھنگے سے اسٹچو ہی بنا سکتی کو وہی بناؤں تو اچھا ہے “
” واٹ ۔۔۔۔ آپ نے مجھے سمجھ کیا رکھا ہے ۔۔۔ میں کر سکتی ہوں ” حمنہ نے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر کہا تھا ۔۔۔۔
٫” ایک آدھ نشانہ تکے سے ٹھیک لگ جاتا ہے مزہ تو جب ہے تم تمہارا ایک بھی نشانہ نا چونکے ” اصفر برف سے کھڑے ہوتے ہوئے کپڑے جھاڑتے ہوئے کہا
” اور اگر میرا ایک بھی نشانہ نا چونکا تو ہم کل واپس مری نہیں جائیں ایک ہفتہ مزید انہیں وادیوں میں رہیں گئے پرومس کریں مجھ سے ” حمنہ وہاں سے لوٹ کر جانے کا بلکل موڈ نہیں تھا ۔۔۔ اس لئے وعدے کے لئے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اصفر نے تھام کر ہونٹوں پر لگایا تھا
” نو حمنہ ڈیڈ کی کال کال آ چکی ہے ۔۔۔ بس کل صبح ہی مری کے لئے نکلنا ہے اور پرسوں لاہور ” حمنہ کا ہاتھ تھامنے اب اصفر کارخ اس پٹھان کی طرف تھا
” اصفر پلیز اگر میں جیت گئ تو ہم ون ویک رکیں گئے ” حمنہ نے التجا کی تھی
” او کے اور اگر تم ہار گئ تو تم چپ چاپ میری بات مانو گی ” اصفر نے ہی ہار مانی تھی
” او کے ڈن ” حمنہ فوراسے مان گئ اصفر کو بھی لگا کہ وہ دو تین نشانے ہی لگا پائے گی ۔۔۔۔ لیکن حمنہ کے سارے نشانے ٹھیک لگ رہے تھے ۔۔۔۔ پہلے تو اصفر اسے اپریشیڈ کرتا رہا ۔۔۔ اس کے برابر میں کی کھڑا تھا لیکن جب سامنے لگے تخت پر صرف تین غبارے ہی بچے تھے تب اسے پریشانی لاحق ہوئی تھی ۔۔۔ نا باپ کی بات ٹال سکتا تھا نا دل عزیز بیوی کو ناراض کر سکتا تھا ۔۔۔ اس لئے اسے ذرا سا پیچھے کھڑا ہو گا۔۔۔ اب بس آخری نشانہ ہی بچا تھا ۔۔۔
اصفر نے حمنہ کے بالوں کو پیچھے ہٹا کر اسکے کان کے قریب ہو کر دھیرے سے کہا
“حمنہ آئی لو یو ” یک دم سے وہ چونکی تھی نشانہ بھی چوک گیا تھا ۔۔۔
” لو دیکھو ہار گئ تم ” اصفر نے بندوق اسکے ہاتھ پکڑ کر پٹھان کو واپس کر دی
” اصفر آپ نے چیٹنگ کی ہے میرے ساتھ ۔۔۔ دس از ناٹ فیر ” اصفر اب جیب سے پیسے نکال کر ہنستے ہوئے پٹھان دے رہا تھا
” لو میں نے کیا ہے ۔۔۔ “
” آپ جان بوجھ میرے پاس آئے کر میرے کان میں بولے تھے تاکہ میرا نشانہ چوک جائے “حمنہ نے خفگی سے کہا
” میں تو روز تمہیں کہتا ہوں ۔۔۔ اور یونہی کہتا ہوں ۔۔۔ تمہارے پاس آکر ہی کہتا ہوں ۔۔۔ بس اب تم اپناوعدہ نبھاؤں گی اور اچھے بچوں کی طرح بلکل ضد نہیں کروں گی ” اصفر اسکے کندھے پر بازو پھیلا کر اسے ساتھ لگائے منانے کی کوشش کر رہا تھا
” مجھے آپ سے بات ہی نہیں کرنی ” وہ اب بھی خفا تھی
” تمہیں پتہ سب ذیادہ تم مجھے اس وقت خوبصورت لگتی ہو جب مجھ سے ناراض ہوتی ہو ۔۔۔۔۔۔ ” اب وہ اسے منانے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔
” اصفر ایک منٹ میرے پاوں میں کچھ چبھ رہا ہے ” برف پر چلتے چلتے حمنہ رک کر بولی
” کیا چبھ رہا ہے “اصفر بھی رک گیا ۔۔۔
نے نیچے جھک کر ایک مٹھی برف سے بھری اور کھڑے ہوتے ہی اصفر کے سویٹر میں ڈال دی ۔۔ اور خود آگے کی جانب بھاگ گئ
” حمنہ یہ کیا شرارت ہے ۔۔۔ رکو ذرا تم بتاتا ہوں تمہیں میں ” وہ اپنا سویٹر جھاڑتے ہوئے اسے کہہ رہا تھا اور وہ بے تحاشہ ہنس رہی تھی
” یہ یڑنگ کی سزا ہے ۔۔۔ ” حمنہ ہنستے ہوئے کہہ رہی تھی
“ممی ۔۔۔” ایمان اور نور کی آواز پر وہ چونکی تھی وہ گاڑی میں بیٹھے اسے پکار رہے تھے ۔۔۔۔
وہ تیز تیز قدم اٹھانے لگی ۔۔۔۔ زندگی کیا تھی اور کیا ہو کر رہ گئ تھی ۔۔۔۔ گاڑی میں بیٹھنے کے بعد اس نے دوبارہ اصفر کی طرف نہیں دیکھا تھا
لیکن اسکی نظروں۔ کی تپش مسلسل حمنہ کو اپنے چہرے پر محسوس ہو رہی تھی
جانتا تھا کہ وہ کیوں چپ ہے کیا سوچ رہی کے کیا کچھ یاد آ رہا ہو گا ۔۔۔۔ محبت اگر اصفر نے کی تو حمنہ نے بھی اسے بے تحاشہ چاہا تھا ۔۔۔۔۔ دیکھ اگر حمنہ نے اٹھائے تھے تو اصفر۔ نے بھی اسکی درد ناک جدائی سہی تھی ۔۔۔۔
گاڑی گھر کے بجائے کسی اور گھر کے سامنے کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔
” ڈیڈ یہ کس کا گھر ہے “
” یہ میرے ایک عزیز کا گھر ہے چلو اترو ۔۔۔ میں نے وعدہ کیا تھا کہ اپنے بیوی بچوں سے ضرور ملوان گا”اصفر گاڑی سے اترتے ہوئے بولا ۔۔۔۔ حمنہ بھی خاموشی سے اتر گئی ۔۔۔
گھر کی ڈور بیل بجانے پر دروازہ لائبہ نے کھولا تھا ۔۔۔ اصفر کے ساتھ حمنہ کو دیکھ کر وہ حیران ہوئی تھی پھر دو چھوٹے بچے بھی انکے ساتھ تھے ۔۔۔۔ یہی حیرت حمنہ کو لائبہ کو دیکھ کر ہوئی تھی ۔۔۔ وہ اور اصفر کی عزیزہ۔
” میم آپ سر کے ساتھ ؟ ” لائبہ نے حیرت سے پوچھا جواب اصفر نے دیا تھا
” لائبہ آپ کی میم میری وائف ہیں اور یہ ہیں ہمارے بہت سوئٹ سے بچے ” اصفر نے نور اور ایمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔ لائبہ نے انہیں اندر آنے کے لئے جگہ دی ۔۔۔۔ مزمل صاحب انہیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے تھے ۔۔۔ زبردستی کھانے پر بھی روک لیا تھا ۔۔۔ آمنہ بیگم حمنہ سے ہی باتیں۔ کرتی رہیں جب پتہ چلا کہ وہ بھی ڈاکٹر ہے تو ۔۔۔ اپنی نئ پرانی ساری بیماریاں انہیں یاد آنے لگیں ۔۔۔۔ لائبہ بیچاری کچن کی ہو کے رہ گئ تھی ۔۔۔۔ ایک ڈیر گھنٹے میں ہی وہ ڈنر بنا چکی تھی ۔۔۔۔ کھانے کے بعد چائے پیتے ہوئے ہی وہ حمنہ کے ساتھ بیٹھ پائی تھی
” ڈاکٹر حمنہ آپ سر کی وائف ہیں اور سر ابو جی کے عزیز ۔۔۔اس حوالے سے میں آپکو آپی کہہ دیا کرو ۔۔ ڈاکٹر حمنہ کچھ فارمل سا لگتا ہے ” لائبہ خود اس سے بے تکلف ہونا چاہتی تھی اس لئے سب سے پہلے تو ڈاکٹر سے آپی تک سفر طے کرنا ضروری سمجھا
” ہاں کہہ دیا کرو ۔۔۔ ” چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے حمنہ نے خوش دلی سے اجازت دی تھی
” پتہ ہے ۔۔۔ پورے ہاسپٹل میں مجھے آپ ہی سے سوفٹ اور سوئٹ ڈاکٹر لگتیں تھیں اور سر کے آنے بعد وہ اچھے لگتے تھے ۔۔۔۔ اور آپ دونوں کو آج ایک ساتھ دیکھ کر مجھے اتنی خوشی ہو رہی ہے کہ بتا نہیں سکتی ۔۔۔ بہت اچھا کپل ہے آپ کا ماشاءاللہ سے ۔۔۔” لائبہ واقعی خوش تھی ۔۔۔۔ حمنہ بس ذرا سا مسکرا ہی پائی تھی ۔۔۔۔
” چائے بہت اچھی بنائی ہے تم اور کھانا بھی بہت مزے کا تھا ” حمنہ نے موضوع بدلہ تھا
” سچی ۔۔۔اپ کو پسند آیا ۔۔۔۔ میں بھی امی سے یہی کہتی ہوں کہ میں کھانا مزے کا بناتی ہوں لیکن۔۔۔ نہیں امی کو سو نقص نظر آتے ہیں ۔۔۔ بار بار یہی طعنہ دیتیں ہیں کہ ساس کی چار سن کر تمہیں عقل آئے گی ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر وہ کھلکھلا کر ہسنے لگی ۔۔۔۔
” اور پتہ ہے میں امی سے کیا کہتی ہوں ؟ ” لائبہ اپنی بات ادھوری چھوڑ کر خود ہی ہسنے لگتی تھی پھر دوبارہ بات مکمل کر کے پھر سے ہنسنے لگتی تھی یہ اسکی عادت تھی ۔۔۔ ایک معصومیت بھری عادت
” کیا کہتی ہو ” حمنہ نے بھی مسکرا کر استفسار کیا
” یہی کہ ساس تو طعنے دے یا نا دے آپ نے ضرور مجھے طعنے دے دے کر مار دینا ہے ” یہ کہہ کر وہ پھر سے ہسنے لگی
” یہ مائیں بھی نا آپی ۔۔۔ ایسی ہی ہوتی ہیں ۔۔۔ انہیں بیٹیوں سے ذیادہ انکے شوہر اور ساس ۔۔ سسرال کی فکر کھاتی رہتی ہے ۔۔۔۔ “لائبہ کی بات پر حمنہ کو اپنی امی یاد آئیں تھیں جو اصفر کے اچانک آ جانے پر بوکھلا سی جاتیں تھیں ۔۔۔۔ چھ قسم کے کھانے ٹیبل پر رکھنے کے بعد۔ بھی انہیں لگتا تھا کہ اب بھی اصفر کی خاطر میں کمی سی رہ گئ ہے ۔۔۔۔ ماں کی یاد اتے ہی حمنہ کی آنکھیں آبدیدہ ہوئیں تھیں
” ہاں لائبہ! مائیں ایسی ہی ہوتیں۔ ہیں ۔۔۔ بیٹی سے زیادہ اسکے شوہر اور سسرال والوں کی فکر کرنے والی ۔۔۔۔ اور اس فکر میں کبھی کبھی تو جان ہی دے بیٹھتی ہیں ” یہ کہتے ہوئے حمنہ کی سسکی نکلی تھی ٹپ ٹپ آنسوں بہے تھے ۔۔۔ لائبہ تو گم صم سی ہو گئ تھی۔۔۔۔اسے کہاں سند،ہ تھا کہ وہ ہنسی مزاق میں حمنہ کے کون سے زخم ادھیڑ گئ ہے ۔۔۔ حمنہ نے جلدی سے آنسوں پونچے ۔۔۔
” ایم سوری مجھے اپنی امی یاد آ گئیں تھیں ” حمنہ جلدی سے۔ خود کو سنبھالا تھا
لائبہ نے اس ہاتھ تھام لیا
” اللہ انہیں جنت میں اعلی مقام دے آپی ۔۔۔۔ “آنکھوں میں پانی اسکے بھی بھر گیا تھا ۔۔۔۔
********…….
رات تک اپنی ڈیوٹی ختم کرتے ہی اصفر کو گھر جانے کی جلدی ہوتی تھی ۔۔۔
آج فارس کی نائٹ ڈیوٹی تھی اتفاق تھا کہ جس وقت اصفر واپس جارہا تھا فارس ڈیوٹی کے لئے ہاسپٹل پہنچا تھا ابھی گاڑی ہی پارک کر رہا تھا ۔۔۔اصفر اپنی گاڑی کا لاککھول رہا تھا جب ایک تیز رفتار گاڑی اس سڑک سے گزر رہی تھی ایک ضعیف بزرگ اچانک سے گاڑی کے سامنے سے گزرنے لگے اصفر کی نظر پڑی تو فورا سے اس بزرگ کو تھام کر پیچھے کیا اس چکر میں خود زمین پر گر گیا تھا اور وہ بزرگ اسکے اوپر گرے تھے اس لئے انہیں چوٹ نہیں لگی تھی لیکن اصفر کے بازو سڑک سے رگڑ کھا چکے تھے ۔۔۔ وہ بزرگ اٹھ کر اسے دعائیں دینے لگے
” اللہ تمہیں زندگی دے “
” آپ کو چوٹ تو نہیں آئی “اصفر نے سب سے پہلے اس بزرگ سے پوچھا
” نہیں مجھے تو تم نے بال بال بچا لیا بیٹا ۔۔۔ تمہیں ضرور چھوٹ لگ گئ ہے ” اس بزرگ نے جواب دیا اصفر اٹھ کر بیٹھ گیا تھا ۔۔۔ اپنے کپڑے ہاتھ جھاڑنے لگا
” نہیں ایسی کوئی بات نہیں ” اصفر نے جواب دیا ۔۔۔ ہاتھ اور بازو سے رگڑ لگنے سے ہلکا ہلکا خون رسنے لگا تھا ۔۔۔ جب کسی کا ہاتھ اصفر کی بڑھا اصفر نے سامنے دیکھا تو فارس کھڑا اسکی طرف ہاتھ ںڑھا رہا تھا تا کہ اصفر کو کھڑا ہونے میں سہارا دے سکے یہ بات اصفر کے لیے حیران کن تھی ۔۔۔ لیکن اسوقت اسکے ہاتھ کا سہارا ہی اسکے لئے ضروری تھااس لئے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں رکھ دیا فارس نے اسے کھڑا ہونے میں مدد دی تھی
