Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415

Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 27

644.1K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Noor-e-Emaan Episode 27

Noor-e-Emaan by Umme Hani

جب سے حمنہ اصفر سے ملنے گئ تھی فارس جلے پاؤں کی بلی کی طرح لاونج کے چکر کاٹ رہا تھا ۔۔۔۔ چین کسے کہتے ہیں سکون کس چڑیا کا نام ہے حمنہ کے جاتے ہی فارس کی زندگی سے جیسے رخصت ہو چکا تھا

اصفر نے بہت برے طریقے سے اسے ٹریپ کیا تھا ۔۔۔

نا جانے کیا کہے اسے ؟۔۔۔ کیا کرے گا ۔۔؟ کہیں پھر سے زبردستی اپنانے کی کوشش نا کرے ؟۔۔۔ مرد کے سامنے عورت کی کہاں چلتی ہے ۔۔۔ یہ سوچ کر تو دل بنا پانی مچھلی کی طرح مچلا تھا لاونج کا دروازہ کھولے وہ لان میں آ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔

جب دل میں چین نا ہو تو کہاں کہیں ملتا ہے ہاسپٹل بھی نہیں گیا تھا ایک ایک لمحہ اس پر بھاری گزر رہا تھا ۔۔۔۔ حمنہ نے اسے ایڈریس نہیں بتایا تھا ۔۔۔۔ کہ کہیں وہ اسکے پیچھے وہاں نا پہنچ جائے ۔۔۔۔ اور اپنا پیچھا کرنے سے بھی منع کیا تھا ۔۔۔۔ اس سے وعدہ کر کے گئ تھی ۔۔۔۔ فارس کو یہ بھی پتہ تھا کہ اپنے قول کی بہت پکی ہے وہ اپنی بات سے مکرے گی نہیں ۔۔۔۔۔ لیکن دل محبوب کے بارے میں وسوسے کچھ زیادہ ڈالتا ہے۔۔۔۔ اس کے کھو جانے کا ڈر دل کا دھڑکا کہاں کم کرتا ہے ۔۔۔ فارس کے دل میں بھی ایک سوایک وسوسے تھے ۔۔۔۔ جو قطرہ قطرہ اسکی جان

نکال رہے تھے ۔۔۔۔ وقت

******…….

اصفر اٹھ کر کھڑی کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا تھا

حمنہ کو ایک نئ آزمائش سے دو چار کر چکا تھا ۔۔۔۔

بچے؟ ۔۔۔۔ اسکی پہلی ترجعی تھے لیکن اصفر کا ساتھ ۔۔۔۔ ایک نئ اذیت ۔۔۔۔

فارس سے کیا وعدہ ۔۔۔۔ ایک۔ نیا امتحان۔۔۔ پاؤں پر بندھی زنجیر تھا ۔۔۔۔۔ بے اختیار آنسوں بہنے لگے تھے وہ رونے لگی تھی ۔۔۔۔ سسکیوں سے ۔۔۔۔ وہ اس سے خلع لینا چاہتی تھی ۔۔۔۔ اور آج طلاق نامہ سامنے رکھے ہونے کے باجود بے بس تھی

کبھی یہ بھی چاہا تھا کہ اصفر حلال روزی کی طرف لوٹ آئے ۔۔۔۔

” لیکن جو حالات حمنہ پر گزر چکے تھے ۔۔۔ وہ اصفر کا ساتھ نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔

لیکن بچے ؟ بچے اسکی جان تھے ۔۔۔۔ انہیں۔ چھوڑ دینا حمنہ کے لئے سوہانے روح تھا ۔۔۔۔ انکے بغیر جینا مر جانے کے مترادف تھا ۔۔۔۔ فائلیں سامنے رکھیں اور وہ ستم گر کھڑی کے باہر دیکھ رہا تھا حمنہ نے اپنے آنسوں بے دردی سے صاف کیے ۔۔۔۔ اسکی بے حسی سے واقف تھی ۔۔۔

دوسری فائل کھول کر پڑھنے لگی

جس میں ایک اگریمنٹ تھا

کہ اگر حمنہ بچوں کا ساتھ چاہتی ہے تو

وہ اصفر سے دوبارہ طلاق کا مطالبہ کبھی نہیں کرے گی

دوبارہ بچوں کو لیکر بھاگے گی نہیں ۔۔۔

اصفر ایک شوہر اور باپ ہونے کے سارے فرائض پورے کرے گا ۔۔۔۔۔

بچوب کے معاملے میں وہ دونوں باہمی مشورے پر چلنے کے پابند ہوں گئے ۔۔۔ بچوں کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکانے کی کوشش نہیں کریں گئے ۔۔۔ اپنے۔ اختلافات اور جھگڑوں کو کبھی بچوں کے نازک ذہنوں میں ڈالنے کی کوشش نہیں کریں گیے بچوں کے سامنے ہمیشہ ہیپی کپل کی طرح ہی رہیں گئے ۔۔۔۔

حمنہ نے فائل بند کر دی ۔۔۔۔

“مجھ آپ سے کچھ کہنا ہے”… بڑی مشکل سے اس نے خود سے بات شروع کی تھی ۔۔۔ اصفر نے پلٹ کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔ پھر جلتا ہوا سگریٹ کھڑکی سے باہر پھنک دیا

اور چلتا ہوا اس کے پاس آ کر کرسی پر بیٹھ گیا

” اس اگری منٹ میں چند سطریں اور شامل کریں ” حمنہ دوسری فائل اصفرکے سامنے رکھ دی اصفر نے زریک نظروں سے اسے دیکھا

” وہ کیا “

” ایک تو یہ کہ مجھ سے ملنے آنے والے میرے عزیر اقارب کو مجھ سے ملنے پر پابندی نہیں لگائی جائے گی ۔۔۔ اور نا آپکے کسی عزیز اقارب سے ملنے کی میں پابند ہوں گی

دوسرا یہ کہ

جب تک میں دل سے نا چاہوں آپ مجھے ازوجی تعلق کے لئے مجبور نہیں کرے گئے۔۔۔۔

آپکی تحریر کے مطابق میں آپ سے خود سے طلاق نہیں منگوں گی ۔۔۔ لیکن آپ طلاق دینے میں میری طرف سے بلکل آزاد ہیں ۔۔۔۔

اگر ہم اس رشتے کو مزید نبھانے میں نا کام رہے اور طلاق آپ نے خود سے دینی چاہی تو بچوں کی کسڈی آپ مجھے دیں گئے “

حمنہ کی شرائط اس نے خاموشی سے سنی تھیں ۔۔۔۔

کچھ دیر خاموشی سے اسے دیکھتا رہا ۔۔۔ کیا چل رہا تھا اسکے ذہن میں ۔۔۔۔ خیر جو باتیںوہ لکھنے کو کہہ رہی تھی بظاہر ایسی نہیں تھی اختلاف کیا جائے ۔۔۔ ظاہر ہے وہ اصفر کی صفائی کچھ جانتی نہیں تھی ۔۔ سچ جاننے کے بعد یقینا وہ اسے دل سے قبول کر لیتی

“ٹھیک ہے ۔۔۔ مجھے منظور ہے ۔۔۔۔ ” اصفر نے ایک گہری سانس بھر کر کہا

” آپ ان شرائط کو فائل میں تحریر کریں میں سائن کر دوں گی ” اصفر نے پین پکڑ کر اسکی ساری شرائط اس پر درج کر دیں ۔۔۔۔ پہلے حمنہ نے سائن کیا تھا پھر اصفر نے ۔۔۔۔

” میں بچوں سے ملنا چاہتی ہوں ” حمنہ کا ضبط جیسے جواب دے رہا تھا

“ہاں چلو میرے ساتھ ” فائلیں اصفر نے ہاتھ میں پکڑ لیں دونوں ایک ساتھ ہی باہر نکلے تھے ۔۔۔۔

گاڑی کی پانچ منٹ کی ڈرائیو کے بعد ایک خوبصورت سا کاٹج تھا ۔۔۔ گاڑی اس کے پاس جا کر رک گئ ۔۔۔ حمنہ جلدی سے گاڑی سے اتری تھی دل کی تڑپ میں اضافہ ہوا تھا ۔۔۔۔

اصفر نے لاک کھول کر دروازہ کھولا بچے لاونج میں بیٹھے اپنے کھیلونوں سے کھیل رہے تھے ۔۔۔

حمنہ کو دیکھ کر سب کچھ چھوڑ چھاڑ ماں کی طرف بھاگے تھے ۔۔۔۔

“ممی ۔۔ممی ” کرتے وہ اسکی طرف لپکے تھے حمنہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئ دونوں اسکے سینے کے ساتھ لگ گئے ۔۔۔۔ بے اختیار آنسوں حمنہ کی آنکھوں سے بہے تھے ۔۔۔۔ بے قرار دل کو جیسے قرار سا ملا تھا ۔۔۔۔ بچوں کو سینے سے لگائے وہ دونوں کو باری بے ساختی سے چومنے لگی

“نور میری جان ۔۔۔ میری بچی ۔۔۔۔

ایمان “ماں کی بے اختیاری اور رونے پر نور بھی رونے لگی تھی

” ممی آپ اتنے ہم سے کیوں دور رہیں ملنے بھی نہیں آئی ۔۔۔ ” نور نے روتے ہوئے شکوہ کیا

” تمہاری ممی ہاسپٹل میں بزی تھیں بیٹا میں نے بتایا تو تھا آپ کو ۔۔۔ ” جواب اصفر نے دیا تھا ۔۔۔۔ ایمان رو نہیں رہا تھا بس ماں کو روتے دیکھ کر چپ تھا ۔۔۔ بڑی سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا حمنہ کی سوجی ہوئی آنکھیں گلوگیر لہجہ اسے کچھ تشویش سی ہونے لگی تھی اس لئے ماں سے پوچھنے لگا

“ممی کیا یہ سچ میں ہمارے ڈیڈی ہیں ؟ “ایمان کو ماں سے تصدیق چاہیے تھی اس نے اصفر کی طرف اشارہ کر کے پوچھا ۔۔۔ حمنہ نے ایک نظر اصفر کی طرف دیکھا پھر ایمان کی طرف

” ہاں بیٹا یہ تمہارے ڈیڈی ہیں ۔۔۔۔۔ ” اصفر چلتا ہوا ایمان کے پاس آ گیا گھٹنوں کے بل بیٹھ کر ایمان کو حمنہ کی گود سے لیکر اپنے سامنے کھڑا کیا

” کیوں بگ باس میری بات پر ٹرس نہیں تھا تمہیں ؟”…. اپنے دونوں ہاتھوں سے اس چہرہ پیار سے پکڑ کر مسکرا کر پوچھا

“ممی سے تو مجھے لازمی پوچھنا ہی تھا نا ڈیڈ ۔۔ ” ایمان نے سنجیدگی سے جواب دیا

” حمنہ دیکھ رہی تم اسے ۔۔۔۔ اب یہ میرے بارے تشویش تم سے کیا کرے گا ۔۔۔ ۔۔۔میں نے تو کہا تھا تم سے کہ پہلے بچوں کو سب سچ بتا دوں لیکن۔ تم اپنی ڈیوٹی کے چکر میں ہمیشہ مجھے پھنسا دیتی ہو ۔۔۔ میرا ہی بیٹا میرے بارے میں مشکوک ہے ” اصفر یوں بات کر رہا تھا جیسے سب کچھ نارمل سا ہو ۔۔۔۔ اس کے یہ سب آسان تھا ۔۔۔۔ چہرے کے تاثرات کو پل میں بدلنا سامنے والے کے آگے ایسا ظاہر کرنا کہ بڑی چاہت ہے ان دونوں میں۔۔۔۔ حمنہ کی والدہ کی سامنے بھی وہ یہی سب کرتا تھا ۔۔۔۔ لیکن حمنہ کے یہ سب نا ممکن تھا ۔۔۔ وہ جیسی اندر سے تھی ویسی ہی خود کو ظاہر کرتی تھی ۔۔۔ یہ بناوٹی پن اس سے نہیں ہوتا تھا ۔۔۔۔ اس لئے چپ ہی رہی ۔۔۔

” کچھ دیر بعد ہی حمنہ نے واپس جانے کا کہا

” اصفر مجھے اب اپنے گھر واپس جانا ہے ۔۔۔۔”

“کیوں ” اصفر بچوں سے نظریں ہٹا کر حمنہ کی طرف دیکھ کر پہ پوچھنے لگا

” کیا مطلب کیوں ۔۔۔۔ میں اپنے کاٹج میں ہی رہنا چاہوں گی آپ بھی وہیں آ سکتے ہیں ہمارے ساتھ رہ سکتے ہیں ” حمنہ نے نور کو جوگر پہناتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

” نہیں حمنہ اپنا کاٹج تم چاہوں تو کرایے پر دیدو

میں چاہوں گا کہ تم یہاں رہوں میرے گھر میں ۔۔۔۔ ” اصفر نے جواب دیا کچھ دیر حمنہ چپ رہی پتہ نہیں آسکے انکار پر اصفر بچوں کو جسنےبسےبنا روک دے اسلئے اختلاف نہیں کیا

” ٹھیک ہے ۔۔۔ لیکن مجھے آج واپس جانا ہے ۔۔۔۔ ڈاکٹر بیگ اور میم میری منتظر ہوں گی میں بچوں کو ساتھ لیکر جاؤں گی “

” او کے ۔۔۔ ٹھیک ہے جاؤں لیکن اس سے پہلے ہم وکیل کے جائیں گئے تم اپنا خلع کا مقدمہ واپس لو گی اور یہ اگریمنٹ پر ایک قانونی کاروائی کی جائے گی تا کہ ۔ ہم میں اسے کوئی بھی مکر نا سکے پھر تم چلی جانا ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ میں کل خود تمہیں لینے آؤں گا ڈاکٹر بیگ کے گھر ” اصفر کا لہجہ عام سا تھا ۔۔۔

حمنہ نے دونوں بچوں کا ہاتھ پکڑا اور باہر نکل گئ ۔۔۔۔۔

عدالت کی کاروائی سے فارغ ہو کر وہ بچوں کے ہمراہ ڈاکٹر بیگ کے گھر پہنچی تھی ۔۔۔

فارس اسی کے انتظار میں تھا ۔۔۔۔۔

حمنہ کے ساتھ بچوں کو دیکھ کر طمانیت بھرا سانس اس نے لیا تھا حیران بھی تھا اصفر نے بچے حمنہ کے حوالے کیسے کر دیے ۔۔۔۔

بچے گاڑی سے اترتے بھی انکل انکل کہتے فارس پاس بھاگتے ہوئے گئے تھے ۔۔۔

حمنہ البتہ خاموش اور سنجیدہ تھی

” انکل کی جان ۔۔۔۔ کیسے ہو تم لوگ ۔۔۔۔ ” فارس نے دونوں کو پانیوں میں نے بھر لیا تھا

“ہم بلکل ٹھیک ہیں ۔۔۔ آپ کو پتہ ہے اللہ تعالیٰ نے ہمارے ڈیڈ ہمہیں واپس بھیج دیے ہیں ۔۔۔ ” ایمان فارس کی گود بیٹھا بڑی خوشی سے اسے بتا رہا تھا ۔۔۔ فارس نے کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔ وہ بس حمنہ کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ جو شاید کسی ہارے ہوئے کھلاڑی کی طرح صوفے پر بیٹھی تھی۔ پھر اپنا سر دونوں ہاتھوں سے پکڑا تھا ۔۔۔۔ میم بچوں کی آواز سن کر کچن سے نکلی تھی بچوں کو دیکھ کر خوش ہوئیں تھیں انہیں پیار کرنے لگیں

” آ گئے تم لوگ ۔۔۔۔ کیوں بنا مجھے بتائے گئے تھے “میم نے مصنوعی غصہ دیکھاتے ہوئے کہا

” میم آپ کو پتہ ہے جو ہمہیں لیکر گئے تھے وہ انکل کڈنیپر نہیں تھے ۔۔۔ وہ میرے ڈیڈ تھے ۔۔۔۔ انہوں نے ہمہیں خوب ساری شاپنگ کروائی ٹوائز بھی دلوائے

اب ہم اپنے ڈیڈ کے گھر رہیں گئے ” ایمان ساری تفصیل بتا رہا تھا ۔۔۔ فارس یہ سن کر حمنہ کے پاس جا کر بیٹھ گیا

دل ایک انجانے سے خوف میں ہلکورے مار رہا تھا

” حمنہ اس خبیث انسان نے بچے کیسے واپس کر دیے تمہیں ” فارس کے لہجے میں بے چینی تھی

” فارس اس وقت میرا سر درد سے پھٹ رہا ہے ۔۔۔ میں کچھ دیر آرام کرنا چاہتی ہوں “۔۔۔۔ یہ کہہ کر وہ

کمرے میں چلی گئ لیکن فارس کوایک عذاب میں۔مبتلہ کرگئ تھی۔۔۔

رات ڈنرکےبعد بچوں کو سلانے کے بعد حمنہ نے ڈاکٹر بیگ کے سامنے ساری بات سب کو بتائی

فارس تو سنتے ہی اشتعال میں آیا تھا

“یہ کیا کیا تم نے حمنہ ۔۔۔۔ مجھے پہلے ہی شک تھا وہ کمینہ تمہیں تنہا بلا ہی اسی لئے رہا تھا کہ تمہیں ایموشنل بلیک میل کر کے اپنی بات منوا سکے ۔۔۔ تم اس کے ساتھ کہیں نہیں جاؤں گئ ” فارس کی جان لبوں پر آئی تھی

“فارس ٹھنڈے دماغ سے سوچوں میرے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے ۔۔۔۔ ” حمنہ نے فارس کو سمجھانا چاہا لیکن وہ کہاں کچھ سننا چاہتا تھا

” ہر گز بھی نہیں حمنہ ۔۔۔۔ تم کہیں نہیں جاؤں گی ” فارس تڑپ کر بولا تھا

“فارس جذباتی باتیں مت کرو حمنہ نے جو کیا فی الحال وقت کی نزاکت کے حساب سے ٹھیک ہی کیا ہے ” ڈاکٹر بیگ نے ذرا سخت لہجے میں فارس کو کہا

” خاک ٹھیک کیا ہے اس نے ۔۔” فارس نے ڈاکٹر بیگ سے کہہ حمنہ کی جانب دیکھا

۔”۔ اسکے پاس جانے مطلب سمجھتی ہو تم حمنہ ۔۔۔ وہ تمہیں میرا تو کبھی نہیں ہونے دے گا اور میں اسے جان سے مار ڈالو گا۔۔۔۔ زندہ نہیں چھوڑو گا اسے ” غصے سے فارس کی آنکھیں سرخ ہوئیں تھیں

” فارس ۔۔۔۔ یہ کیا پاگل پن ہے ہاں ۔۔۔۔۔ جانتے تم مجھے اچھے کیوں لگتے ہو کیونکہ تم اصفر جیسے نہیں ہو ۔۔۔۔ ایک جنونی اور دیوانہ پن نہیں ہے تم میں۔۔۔ تم ایک انسان ہو کومن سینس رکھنے والے انسان ۔۔۔۔بہتر ہو گاکہ اس قسم کی باتیں کر کے مجھے مجبور مت کروں کہ تمہارے بارے میں اپنی سوچ بدلوں پلیز کول ڈاؤن

ہر بار اصفر میرے ساتھ چالیں چلتا آیا ہے ۔۔۔ اور میں اسکے سامنے بے بس سی ہوتی آئی ہوں لیکن اس بار میں نے اسکے خلاف ایک چال چلی ہے ۔۔۔۔

وہ مجھے طلاق دینے پر مجبور ہو جائے گا ۔۔۔۔ اس صورت میں بچوں کی کسڈی سب سے پہلے مجھے ملے گئ ۔۔۔ کیونکہ یہ بات وہ آگری کر چکا ہے ” حمنہ نے فارس کو سمجھانا چاہا

“حمنہ چھوڑ دوں تم ۔۔۔ تم اور تمہاری چالیں ہیج ہیں اسکے سامنے ۔۔ کیوں طلاق دے گا وہ تمہیں ؟ ۔۔۔۔تم اس سے خلع نا لے لوں اس لئے یہ سارا ڈرامہ رچایا ہے اس نے۔۔۔۔ ہنہ ” فارس کوفت سے۔ بولا

٫ ” ہر انسان کی کوئی نا کوئی کمزوری ضرور ہوتی ہے۔۔۔ اصفر کی بھی ہے اسکے ساتھ پانچ سال گزارے ہیں میں نے۔۔۔۔ میں اچھی طرح سے جانتی ہوں ۔۔۔ کہ کیا چیز اسے نا قابل برداشت ہے ۔۔۔ تم بس دیکھتے جاؤ۔ میں کرتی کیا ہوں اسکے ساتھ ۔۔۔۔ وہ ضرور چھوڑ دے گا مجھے ۔۔۔ بس تم وہ کرنا جو میں۔ سے کہو ۔۔۔۔

” مطلب کیا تمہارا” فارس کچھ متذبذب ہوا تھا

” وہ بھی سمجھا دوں گی ۔۔۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ” حمنہ بہت کچھ سوچ چکی تھی ۔۔۔۔

*****……..,****

فارس کافی دن بعد ہاسپٹل گیا تھا ۔۔۔ وہ بھی ڈاکٹر بیگ کے سختی سے کہنے پر ۔۔۔۔ لیکن بہت سنجیدہ سا تھا ۔۔۔ کسی سے ڈھنگ سے بات بھی نہیں کر رہا تھا ۔۔۔۔۔ لائبہ حمنہ کی وجہ سے بہت پریشان تھی ۔۔۔۔ ہاسپٹل سے یہ بھی معلوم ہو چکا تھا کہ حمنہ کے بارے میں اگر کوئی سب کچھ جانتا ہے تو وہ فارس ہے ۔۔۔۔ اس لئے فارس کو اسکی او پی ڈی جاتے دیکھ کر لائبہ کے دل میں سب سے پہلا خیال حمنہ کا آیا تھا ۔۔۔ ویسے ہی اسے حمنہ بڑی اچھی لگتی تھی بہت پولائٹ سی ڈاکٹر تھی مسکراہٹ اس نے چہرے پر سجی رہتی تھی ۔۔۔۔ لیکن اس دن اسے بے تحاشہ روتے دیکھ کر دل تو لائبہ کا بھی دکھا تھا ۔۔۔ اگر یہ معلوم ہوتا کہ وہ رہتی کہاں ہے تو ضرور اس سے ملنے جاتی ۔۔۔۔ اور اب فارس کو دیکھ کر وہ اسکے کمرے کو نوک کر کے اندر داخل ہوئی تا کہ حمنہ کی خیریت دریافت کر سکے ۔۔۔۔ فارس مریضوں کی رپوٹس چیک کر رہا تھا لائبہ کو ایک نظر دیکھ کر دوبارہ رپوٹس دیکھنے لگا

” سر۔۔۔۔ وہ مجھے پوچھنا تھا کہ ڈاکٹر حمنہ کیسی ہیں؟ ” بہت جھجک کر لائبہ نے بات شروع کی تھی

” ہممم ٹھیک ہے ” فارس نے بنا اسکی طرف دیکھے ناگواری سے جواب دیا ۔۔۔ دل تو اس پہلے جلا ہوا تھا کہ آج وہ اصفر کے ساتھ چلی جائے گی ۔۔۔

” اور انکے بچے ؟ وہ مل گئے ؟ ” لائبہ کے دوسرے سوال پر فارس اسے اب گھورنے لگا

” ہاں مل گئے ۔۔۔ اگر تمہیں دوسروں کے گھریلوں معلومات سے فرصت مل گئ ہو تو جاؤں جا کر اپنی ڈیوٹی نبھاؤں ” فارس کے سخت لہجے پر لائبہ باہر نکل گئ سامنے ہی نجمہ نرس کھڑی تھی لائبہ کا روتا ہوا چہرہ دیکھ کر وجہ پوچھنے لگی تھی ۔۔۔

” تمہیں کیا ہوا ہے ۔۔۔ لگتا ہے ابھی تو رو دو گی “

” بس پاگل کتے نے کاٹا تھا مجھے جو میں ڈاکٹر فارس کے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔” لائبہ نے بگڑے ہوئے موڈ سے کہا

” کیا مطلب ” نجمہ نرس نے حیرت سے پوچھا ساتھ ہی پیچھے کا دروازہ بھی کھلا تھا ۔۔۔ لائبہ چونکہ ابھی دروازے سے باہر نکلی تھی ۔۔۔۔ اس لئے اسکی فارس کی طرف پشت تھی

” ڈاکٹر فارس مجھے انسان نہیں لگتے ۔۔۔ انہیں دیکھ مجھے لگتا ہے جیسے کسی نے میرے منہ میں کڑوا کریلا رکھ دیا ہو انہیں دیکھتے ہی ایک کڑواہٹ کااحساس ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اتنا کھڑوس قسم کا انسان میں نے آج تک نہیں دیکھا ۔۔۔ ایک خیریت ہی تو پوچھی تھی میں نے ڈاکٹر حمنہ کی ۔۔۔کتنے دن سے میں پریشان تھی انکے لئے ۔۔۔۔ وہ تو یوں جواب دے رہے تھے جیسے میں نے انہیں خان صاحب کا نیا بجٹ بتا دیا ہو یا پیڑول کی بڑھتی ہوئی نئی قیمت سے آگاہ کر دیا ہو ۔۔۔ ” نجمہ نرس کے اشارے کنارے وہ نظر انداز کرتے ہوئے اپنی دھن میں بول رہی تھی ۔۔۔

” نرس آپ ایمرجنسی بیڈ نمبر 5 کا بی پی اور فیور چیک کریں میں ابھی آتا ہوں ” اپنے عقب سے فارس کی آواز سن کر لائبہ کی آنکھیں پھیلیں تھیں دل سینے میں جیسے تھم سا گیا تھا ۔۔۔ یقیناً اپنے بارے میں لائبہ کے منہ سے گل فشانیاں سن چکا تھا ۔۔۔۔ نجمہ نرس کے جاتے ہی لائبہ نے بھی بنا پیچھے دیکھے وہاں سے کھسکنے کی کوشش کرتے ہوئے چند قدم ہی آگے بڑھائے تھے

“رکو”فارس کی آواز اس کے قدم جمے تھے ۔۔۔ جان نکلی تھی۔۔۔۔ وہ خود چل کر اسکے سامنے کھڑا ہو گیا

” تو ڈاکٹرز کے پیچھے اس طرح سے تم انکی چغلیاں کرتی ہو۔۔۔۔۔ ” فارس کے گھورنے پر وہ نفی میں سر ہلانے لگی ۔۔۔

” نہیں نہیں ۔۔۔ سچی میں تو ۔۔۔۔ وہ ” لائبہ سے بات نہیں ن رہی تھی

” بول دو کوئی اور نیا جھوٹ تمہیں اور آتا ہی کیا ہے ۔۔۔۔ بات سنو میری ” فارس نے ایک قدم۔ اسکی طرف اور بڑھایا اور انگلی سے تنبیہ کرتے ہوئے بولا

” آج تو چھوڑ رہا ہوں میں تمہیں ۔۔ لیکن آئندہ اگر میرے بارے میں کچھ بھی کہا تو ۔۔۔۔۔ تم جانتی نہیں ہو مجھے ۔۔۔ بہت خطرناک ڈاکٹر ہوں میں ” لائبہ بس آنکھیں پھیلائے اثبات میں سر ہلاتی رہی

” اب جاؤں یہاں سے ” فارس نے اسے انگلی سے ہی جانے کا اشارہ کیا وہ پلٹ کر تیز قدموں سے چند منٹ میں غائب ہوئی تھی ۔۔۔ پھر اسکی باتیں یاد کر کے مسکرانے لگا

” عجیب ۔۔۔۔ عجیب۔۔۔۔ لڑکی ہے ” یہ کہہ کر ایمرجنسی وارڈ کی طرف چل پڑا ۔۔۔۔

******…….*****

دوسرے دن اصفر شام کو ڈاکٹر بیگ کے گھر پہنچا تھا حمنہ اور بچوں کو لینے کے لئے

فارس کو ڈاکٹر بیگ نے اصفر کے سامنے آنے سے منع کیا تھا اس لئے وہ اپنے گھر پر ہی تھا ۔۔۔۔ جا کر کرتا بھی کیا اصفر کے ساتھ حمنہ کو اس کے گھر جاتے دیکھنا کون سا آسان تھا اسی لئے

ڈاکٹر بیگ کے گھر نہیں آیا تھا ۔۔۔۔ اصفر

آج تو کافی ڈیشنگ لگ رہا تھا ۔۔۔ تازی تازی شیو۔۔۔ کٹنگ بھی کروائی تھی تھی بلیک کلر کی پیٹ شرٹ میں خاصا اسمارٹ لگ رہا تھا ۔۔۔۔ شاید پچھلے پانچ سالوں میں آج کی دل سے تیار ہو کر آیا تھا ۔۔۔۔ دروازہ ڈاکٹر بیگ نے ہی کھولا تھا۔۔۔

کافی سنجیدہ تھے ۔۔۔ سلام میں پہل اصفر۔ نے کی تھی وہ بھی جاندار مسکراہٹ کے ساتھ۔۔۔لیکن انہوں نے روکھا سا جواب دیاتھا

لیکن اندر داخل ہوتے ہی دونوں بچے ضرور باپ کے پاس دوڑ کر آئے تھے ۔۔۔۔ اصفر نے انہیں باری باری گود میں لیکر پیار کیا تھا ۔۔۔۔۔

دونوں بچے حلیے سے تیار لگ رہے تھے ۔۔۔

اصفر انکے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھا تھا ڈاکٹر بیگ بھی اسکے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گئے

” چائے یا۔ ٹھنڈا ؟” ڈاکٹر بیگ نے رسم پوچھا

” کچھ نہیں ۔۔۔ بس حمنہ سے کہیں تیار ہو جائے ” اصفر نے گھڑی یوں دیکھی جیسے بیت دیر ہو رہی ہو ۔۔۔ اصل بے چینی تو حمنہ کے لئے تھی ۔۔ جو چھپائے نہیں چھپ رہی تھی

” وہ۔ بھی آ جائے گی ۔۔۔ آرام سے بیٹھوں جلدی کس بات کی ہے ۔۔۔” ڈاکٹر بیگ نے بارعب لہجہ اپنائے ہوئے بات کی

” او کے ۔۔۔ بیٹھ جاتا ہوں آرام سے لیکن کسی تکلف کی ضرورت بلکل نہیں ہے ۔۔۔ میں کھانے پینے کے موڈ میں بلکل نہیں ہوں ” اصفر نے طنزیہ لہجہ اپنایا

” حمنہ کو تم میری بیٹی ہی سمجھو ۔۔۔ اور حمنہ کے حوالے سے فی الحال تم میرے داماد ہو ۔۔۔ اس لئے کھائے پیئے بنا تو جانے نہیں دے سکتا تمہیں ” ڈاکٹر بیگ نے جتاتے ہوئے کہا اصفر مسکرانے لگا

” چائے ٹھیک رہے گی ” اصفر نے بات کو ختم کیا تھا ۔۔۔

” نور بیٹا کچن میں میم سے کہو کہ دو کپ چائے بنا دے ” ڈاکٹر بیگ نے نور سے کہا لیکن نور کے ساتھ ایمان بھی کچن میں جا چکا تھا

” حمنہ نے بتایا تھا مجھے جو کانٹریکٹ تم نے حمنہ کے ساتھ کیا ہے ۔۔۔ اس لئے میں چاہوں گا کہ کل سے تم ہاسپٹل پہنچ جانا ۔۔۔ تقریبا صبح آٹھ بجے ۔۔۔باقی باتیں میں تمہیں ہاسپٹل میں بتا دوں گا “

” جی ضرور ۔۔۔ ” اصفر نے بحث نہیں کی تھی کچھ دیر میں چائے بھی آگئ بس وہ کہیں نظر نہیں آ رہی تھی جیسے دیکھنے کو دل بے تاب تھا ۔۔۔

چائے ختم ہوتے ہی ۔۔۔۔ ڈاکٹر بیگ نے لاونج میں رکھے دو بڑے اٹیچی کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔

” تم یہ گاڑی میں رکھوں حمنہ اور بچوں کو میں لیکر آتا ہوں ” اصفر نے دنوں بیگ باری باری باہر لے جا کر گاڑی میں رکھے تھے۔۔۔ ڈاکٹر بیگ کے ساتھ ہی وہ باہر آئی تھی ۔۔۔ بچے گاڑی میں بیٹھ چکے تھے ۔۔۔۔

” اصفر نے حمنہ کے لئے گاڑی کا فرنٹ ڈور کھولا تھا لیکن وہ بچوں کے ساتھ پیچھے بیٹھی تھی ۔۔۔

ایک پل اصفر نے اسے دیکھا پھر فرنٹ ڈور بند کر کے گاڑی اسٹاٹ کر دی ۔۔۔۔ پورے راستے وہ بچوں سے ہی باتیں کرتا رہا حمنہ لا تعلق سی بیٹھی رہی ۔۔۔ گھر کے سامنے گاڑی کھڑی کر اصفر نے پہلے مین دروازہ کھولا تھا حمنہ بچوں کے ساتھ اندر داخل ہو گئ ۔۔۔۔ سامان سارا اصفر ہی اندر لایا تھا ۔۔۔

” ڈیڈ آج تو گھر چمک رہا ہے ” ایمان نے گھر کو صاف ستھرا دیکھ کر کہا

” ہاں آج گھر تمہارے ڈیڈ نے خود صاف کیا ہے ۔۔۔۔

بس سیٹنگ ذیادہ نہیں کی ۔۔۔ کیونکہ تمہاری ممی کی چوائس ذیادہ اچھی ہے اس لئے گھر کی سجاوٹ کا کام تمہاری ممی کا ہے ” اصفر کی بات حمنہ نے کوئی جواب نہیں دیا تھا ۔۔۔

” ہمارا کمرہ کونسا ہے ” حمنہ نے مدافعانہ انداز سے پوچھا

” اس گھر میں دو کمرے ہیں جہاں تم کنفرٹیبل فیل کروں وہی تمہارا کمرہ ہے ۔۔۔ ” اصفر کے جواب پر اس نے باری باری دونوں کمرے کھول کر دیکھے تھے ۔۔۔۔جو کمرہ دونوں میں بڑا تھا وہیں وہ بچوں کو لے گئ ۔۔۔۔ ایک گھنٹے میں ہی وہ واڈروب میں اپنے اور بچوں کے کپڑے رکھ چکی تھی ۔۔۔۔

بچوں نے بھوک کا شور مچانا شروع کر دیا ایک ٹفن وہ اپنے ساتھ لائی تھی ۔۔۔ جب کمرے سے نکل کر لاونج میں آئی تو لاونج میں رکھے گول میز پر بہت سے لوازمات موجود تھے ۔۔۔۔ وہ یقینا ریڈی میٹ تھے برگر ۔۔۔ پیزا ۔۔۔ کلب سنڈوچ ۔۔۔پیزا فرائز ۔۔۔ جو۔ چیزیں بچوں کو عموما پسند ہوتی ہیں وہ سب تھیں۔۔۔ لیکن حمنہ نے ٹیبل پر ٹفن رکھا تھا ۔۔۔ دونوں بچے کرسیوں پر بیٹھ چکے تھے

“دیکھوں سب کچھ تم لوگوں کی پسند کا لایا ہوں ۔۔۔ جلدی سے کھا کر بتاؤں کہ کیسا ہے ” اصفر نے خوش ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔ لیکن دونوں بچے چپ تھے بس للچائی ہوئی نظروں سے سب چیزیں دیکھ رہے تھے ۔۔۔ حمنہ نے ٹفن کھولا

اس میں سے چکن کا سالن نکالا اور بچوں کی پلیٹوں میں ڈال کر ساتھ روٹی بھی رکھ دی ۔۔

” چلو بچوں کھانا کھاؤ اور اپنی پلیٹ میں موجود سالن کے علاؤہ کچھ بھی کھانے کی ضرورت نہیں ہے ” دونوں ماں کے حکم پر چپ چاپ سے وہی کھانے لگے جو اس نے انکی پلیٹس میں ڈالا تھا

” میں یہ سب بچوں کے لئے ہی لایا ہوں حمنہ ۔۔۔ یہ سب وہ کیوں نہیں کھائیں گئے “اصفر کو حمنہ کی بے بیگانگی عجیب سی لگی

” اس کا جواب میں آپ کو بچوں کے سامنے نہیں دینا چاہتی ۔۔۔۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ اس بحث کو یہیں ختم کر دیں ۔۔۔ “باری باری وہ دونوں بچوں کو نوالہ بنا کر کھلا رہی تھی ساتھ خود بھی کھا رہی تھی ۔۔۔ کچھ دیر تو وہ خاموشی سے حمنہ کے بے تاثر سے چہرے کو دیکھتا رہا ۔۔۔۔

پھر سامنے رکھے ٹفن اٹھا کر سالن اپنی پلیٹ میں ڈالنے لگا

” ویسے جو مزہ تمہاری ممی کے بنائے ہوئے کھانوں میں ہے وہ اس سب چیزوں میں کہاں ۔۔۔۔ حمنہ اگر تم مجھے بتا دیتی کے کھانا تم خود بنا کر لاؤ گی تو میں یہ سب لاتا ہی نہیں ۔۔۔” سامنے رکھے دوسرے ٹفن سے وہ روٹی اٹھا کر کھانے لگا ۔۔۔ دو پل تو حمنہ نے بھی اسے حیرت سے دیکھا تھا ۔۔۔

اسے لگا تھا حمنہ کی اس حرکت پر وہ اٹھ کر چلا جائے گا لیکن وہ کھانا کھا رہا تھا ۔۔۔ وہ بھی بہت مزے سے

” جی ہاں ڈیڈ میری ممی بہت ٹیسٹی فوڈ بناتی ہیں۔۔۔۔ ” ایمان نے بھی تعریف کی لیکن نظر سامنے رکھے پیزا پر تھی ۔۔۔

“ہاں بھئ یہ تو ہے ۔۔۔ پتہ پورے پانچ چھ سالوں میں میں نے اتنا مزے کا کھانا نہیں کھایا ۔۔۔ یا شاید تمہاری ممی کے ہاتھوں کے کھانوں کی اتنی عادت ہو چکی تھی کہ کچھ اور کبھی اچھا ہی نہیں لگا ۔۔۔ لیکن آج لگتا ہے بھوک سے زیادہ ہی کھا جاؤں گا ۔۔۔۔ ” بات وہ ایمان سے کر رہا تھا دیکھ حمنہ کو رہا تھا ۔۔۔۔ جو ماتھے پر بل ڈالے بچوں کو کھانا کھلا رہی تھی ۔۔۔۔

کھانا کھلانے کے بعد وہ بچوں کو کمرے میں چھوڑ کر باہر آ گئ اتنی دیر میں اصفر سب چیزیں اٹھا کر فریج میں رکھ چکا تھا ۔۔۔۔ ٹیبل بھی صاف تھا حمنہ کو دیکھ وہیں رک گیا

” مجھے صرف یہ کہنا ہے جب تک آپ کو ڈاکٹر بیگ کے ہسپتال سے پہلی تخواہ نا مل جائے برائے مہربانی بچوں کے لئے کھانے پینے کے لئے کچھ بھی لانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔ میں نے اپنے بچوں کو کبھی حرام نہیں کھلایا ہے ” اصفر کو یہ سن کرآگ سی لگ گئ تھی۔۔ صفائی والا کپڑا وہیں ٹیبل پر چھوڑ کر وہ حمنہ کے سامنے کھڑا ہو گیا

“۔ مطلب کیا ہے تمہارا ۔۔۔۔ میں انہیں حرام کھلا رہا ہوں ۔۔۔۔ حمنہ میں پہلے بھی تم سے کہہ چکا ہوں کہ میں وہ سب۔ چھوڑ چکا ۔۔۔ اس گھر میں موجود ہر چیز میرے حلال کے پیسوں کی ہے ” اصفر کا لہجہ سخت ہوا تھا

“۔میں بھی آپ سے پہلے ہی کہہ چکی ہوں کہ ۔۔مجھے آپکی کسی بات کا اعتبار نہیں ہے ۔۔۔ میں رسک بھی نہیں لینا چاہتی اس لئے گھر میں کھانے پینے کی اشیا اس ماہ میں اپنے پیسوں سے لاؤں گی “

یہ کہہ وہ بچوں کے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔ وہ اسے صرف جاتے ہوئے دیکھتا رہ گیا بہت بدل گئ تھی وہ بلکل بے تاثر سی ہر احساس سے جیسے عاری ہو چکی تھی ۔۔۔۔ لہجے میں صرف بے اعتباری اور سختی تھی ۔۔۔۔

اصفر نے گیری سانس بھری

“وقت تو لگے گا ۔۔۔ میں جانتا ہوں پانچ سال کی دوری اور غلط فہمیوں نے تمہیں مجھ سے بد گمان کر دیا ہے ۔۔۔ ” اصفر یہ سوچتے ہوئے کمرے میں چلا گیا

******……

دوسرے دن اصفر ہاسپٹل میں سیدھا ڈاکٹر بیگ کے کمرے میں گیا تھا ۔۔۔

” آؤ آؤ اصفر بیٹھوں”ڈاکٹر بیگ بھی شاید اسی کے انتظار میں تھے۔۔۔

وہ ان کے سامنے بیٹھ گیا

” حمنہ فارس اور شہروز اسوقت میرے ہاسپٹل میں سینئر ڈاکٹر ہیں ۔۔۔۔ اور صبح آٹھ سے شام پانچ بجے تک کی ڈیوٹی پر میں انہیں پچیس ہزار تنخواہ دیتا ہوں ۔۔۔۔ تمہارے لئے بھی یہی آفر ہے ” ڈاکٹر بیگ نے سنجیدگی سے پیشانی پر بل ڈالے کہا

” اور اگر میں اپنے آوور بڑھانا چاہوں تو “اصفر نے چند لمحے سوچنے کے بعد پوچھا

” تو تخواہ بھی بڑھ جائے گی ۔۔۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایمرجنسی میں کیس زیادہ ہوتے ہیں اس لئے جو ڈاکٹر بھی اس وقت ڈیوٹی دے اس کی سیلری بھی بڑھ جاتی ہے ۔۔۔

” میں ایک سرجن بھی ہوں تو اس لئے چاہوں گا کہ

اگر کوئی ایسا کیس ہو تو آپ مجھے ضرور بتائیے گا ۔۔۔۔۔ “اصفر کہ بات پر ڈاکٹر بیگ اپنی کرسی پر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے

” دیکھوں میرا ہاسپٹل ایک علاقائی ہاسپٹل ہے ۔۔۔ذیادہ سہولیات بھی نہیں ہیں ۔۔۔ سرجری اور آپریشن صرف حمنہ ہی کرتی ہے اور آج تک ایک کیس بھی اسکے ہاتھوں سے خراب نہیں ہوا بہت ذمہ دار لڑکی ہے ۔۔۔۔۔ ہاں فارس وہاں حمنہ کے ساتھ موجود ضرور ہوتا ہے ۔۔۔ لیکن سرجن نہیں ہے ۔۔۔ اور تمہارے بارے جو میں نے سن رکھا میں آپریشن کارسک نہیں لے سکتا ” ڈاکٹر بیگ کی بات پر اصفر کا ضبط سے چہرہ سرخ ہوا تھا

” انشا اللہ ایسا کچھ نہیں ہو گا جیسا آپ سمجھ رہے ہیں۔۔۔ آپ چاہیں تو میں حمنہ کے سامنے آپریٹ کیا کروں گا ۔۔۔ کیونکہ مجھے پیسوں کی ضرورت ہے ۔۔۔ تیس پینتیس ہزار سے گھر چلانا میرے لئے مشکل ہے ۔۔۔۔ ” اصفر کچھ زچ سا ہوا تھا

” وہ تمہارا پرسنل میٹر ہے ۔۔۔۔ میں آپریشن کے لئے حمنہ سے پوچھے بغیر تمہیں ہائیر نہیں کر سکتا ۔۔۔ ” ڈاکٹر بیگ نے صاف گوئی کا مظاہرہ کیا تھا ۔۔۔

” ٹھیک ہے ۔۔۔ پوچھ لیجیے گااس سے ۔۔۔ میں صبح آٹھ سے رات دس بجے تک ڈیوٹی دینا چاہتا ہوں ۔۔۔ “

“ٹھیک ہے ۔۔۔۔ جیسے تم ٹھیک سمجھوں ۔۔۔ تم آج سے ڈیوٹی جوائن کر سکتے ہو ۔۔۔۔ ” اصفر اٹھ کر چلا گیا ۔۔۔۔ پورا دن بس اسٹاف اور دوسرے ڈاکٹرز سے ہی ملاقات رہی کچھ ہی کیس اس نے دیکھے تھے حمنہ ہاسپٹل نہیں آئی تھی۔۔۔۔ فارس موجود تھا لیکن بے تحاشہ غصے میں تھا ۔۔۔۔ فارس کو دیکھ کر غصہ تو اصفر کو آ رہا تھا ۔۔۔۔ لیکن فی الحال اسکے حصے میں صرف صبر کرنا تھا ۔۔۔۔۔ اس لئے فارس کو نظر انداز ہی کر رہا تھا ۔۔۔ کوریڈور سے گزرتے ہوئے اسکی نظر سفید نرسنگ یونیفارم پہنے لائبہ پر پڑی وہ بھی اسے یوں دیکھ رہی جیسے پہچاننے کی کوشش کر رہی ہو ۔۔۔ پھر بھرپور مسکراہٹ سجائے اس کے پاس آ گئ

” سر آپ ۔۔۔ وہی ہیں نا ” وہ جیسے اسے پہچان گئ تھی

” جی ہاں میں تو وہی ہوں لیکن تم یہاں کیسے “

” میں یہاں نرسنگ کی ڈیوٹی پر ہوں ۔۔۔ ” لائبہ نے مسکرا کر جواب دیا

” ویری گڈ اچھی بات ہے ۔۔۔ مزمل صاحب کیسے ہیں “

” ابو جی بلکل ٹھیک ہیں آپ کازکر بھی کرتے رہتے ۔۔۔ لیکن آپ تو لاہور جا چکے تھے “

” ہاں گیا تھا لیکن دل نہیں لگااس لئے واپس آ گیا اب اسی ہاسپٹل میں آپکو نظر آؤں گا ” اصفر اس بات پر وہ خوش ہو گئ

” یہ تو اچھی بات ہے کم از کم کوئی تو اچھااور خوش مزاج ڈاکٹر بھی ہونا چاہیے ۔۔۔ ورنہ یہاں سب خطرناک قسم کے ڈاکٹر ہی پائے جاتے ہیں۔۔۔ ” لائبہ کی بات پر وہ ہنسے بنا نہیں رہ سکا تھا ۔۔۔

” سر آپ ہنس رہے ہیں ۔۔۔میں مزاق نہیں کر رہی

سچ مچ یہاں کے ڈاکٹر بڑے کوئی سنجیدہ قسم کے ہیں ۔۔ بس ایک ہی ہنس مکھ ڈاکٹر تھیں ڈاکٹر حمنہ ۔۔۔۔ وہ بھی پتہ نہیں کیوں نہیں آ رہیں ” لائبہ نے منہ بسور کر کہا

“سر آپ گھر آئیے گا ۔۔۔ ابو امی دونوں آپ کو دیکھ کر بہت خوش ہوں گئے ” لائبہ نے خوش ہوتے ہوئے کہا

” ہاں ضرور آؤں گا اور اس بار اپنے بیوی بچوں کو بھی ساتھ لاؤں گا ” اصفر کی بات پر لائبہ نے حیرت کا اظہار کیا تھا

” سر آپ میرڈ ہیں ؟ ۔۔۔ اور بچے بھی ہیں آپکے ؟ “

” جی ہاں ۔۔۔اب اس عمر میں آپکو میں غیر شادی شدہ لگتا ہوں ” اصفر نے مسکرا کر کہا لائبہ ہسنے لگی

“نہیں ۔۔ نہیں ایسی بات نہیں ہے ۔۔۔۔ مجھے تو آپ پہلے شادی شدہ ہی لگے تھے بس ۔۔۔ ” یہ کہہ کر وہ پھر سے ہسنے لگی

” ابو جی کو ہی چھوٹے لگ رہے تھے ۔۔۔۔ کہہ رہے تھے ۔۔۔ اچھا بچہ ہے ۔۔۔۔ مطلب آپ اور بچہ۔۔۔۔” یہ کہہ کر وہ پھر سے بری طرح ہسنے لگی ۔۔۔ اصفر کی مسکراہٹ بھی گہری ہوئی تھی فارس وہیں کوریڈور سے ہی گزر رہا تھا لائبہ کو اصفر سے یوں بے تکلف ہو کر ہنستے دیکھ وہاں سے گزرتے ہوئے رک گیا ۔۔۔۔

” مس لائبہ اگر آپ کی گپیں ختم ہو گئیں ہوں تو جائیے جا کر کچھ کام بھی کر لیں ” فارس کے سخت لہجے پر لائبہ کی ہنسی کو بریک لگی تھی ۔۔۔۔ فارس کو دیکھ کر وہ فورا سے اصفر کو خدا حافظ کہہ ککر وہاں سے چلی گئ ۔۔۔۔ کچھ پل ہی فارس اوراصفر کی نظروں کاتصادم ہوا تھا دونوں کی آنکھوں میں ایک دوسرے کے لئے ایک جیسے ہی جذبات تھے ۔۔۔ حسد جلن اور نفرت کے ۔۔۔۔ پھر دونوں ہی اپنے اپنے راستے پر چلے گئے

*****…….

چند دن حمنہ کو گھر سیٹل کرنے میں لگ گئے تھے ۔۔۔

چار پانچ دن گھر میں اور بچوں میں ہی بزی رہی کراکری کے نام سے اصفر کے گھر میں صرف چند پلیٹس اور گلاس ہی تھے ۔۔۔۔ اس لئے اپنے گھر سے ضرورت کا سامان لا کر اس نے کھانا بنایا تھا ۔۔۔۔

چند دنوں میں گھر کا نقشہ وہ واقع بدل چکی تھی ۔۔۔

تقریبا پندرہ دن بعد وہ ہاسپٹل گئ تھی ۔۔۔۔ سب ڈاکٹر اور نرسنگ اسٹاف اسکی خیریت دریافت کر رہا تھا ۔۔۔۔ سب سے ملنے ملانے کے بعد اسے پتہ۔ چلا کہ فارس کو بخار ہے دو دن سے ہاسپٹل بھی نہیں آ رہا ۔۔۔ یہ سن کر وہ پریشان سی ہوئی تھی ۔۔۔

******……..

رات کو جب اصفر ڈیوٹی سے گھر واپس آیا تو گھر پر تالا لگا ہوا تھا ۔۔۔ حیرت تو اسے ہوئی تھی کیونکہ حمنہ شام چھ بجے ہی ہاسپٹل سے آف کر کے جا چکی تھی ۔۔۔۔ چابی اسکے پاس موجود تھی

اس لئے لاک کھول کر وہ اندر داخل ہو گیا ۔۔۔۔

ڈاکٹر شہروز کو کال کرنے سے معلوم ہوا کہ فارس کو بخار تھا اور اس کا گھر ہاسپٹل سے بلکل قریب ہے اس لئے آف ہونے کے بعد حمنہ اس سے ہی ملنے گی تھی ۔۔۔۔ یہ سن کر اصفر کاغصے سے برا حال تھا ۔۔۔۔۔ پچھلے پانچ دن سے وہ اسکے گھر پر یوں رہ رہی تھی۔ جیسے اصفر اس گھر میں موجود ہی نا ہو ۔۔۔ بس وہ اور بچے ہی ہوں ۔۔۔ جب وہ ڈیوٹی سے واپس آتا تو اس سے پہلے وہ اور بچے کھانا کھا چکے ہوتے تھے۔۔۔۔ بس ایک احسان حمنہ اس پر یہ ضرور کر دیتی تھی کہ اس کے کھانا موجود ہوتا تھا ۔۔۔ لیکن وہ سرو نہیں کرواتی تھی سب کچھ اسے خود ہی کرنا پڑتا تھا ۔۔۔ بچے بھی سو چکے ہوتے تھے ۔۔۔ بس صبح ناشتہ ہی سب اکھٹے ہوتے تھے ۔۔۔

آج ہاسپٹل جانے سے پہلے وہ بچوں کو ڈاکٹر بیگ کے گھر چھوڑ کر گئ تھی ۔۔۔۔

اور رات کے گیارہ بج رہے تھے ۔۔۔ غصے کے مارے کھانا بھی اصفر نے نہیں کھایا تھا ۔۔۔ ساڈھے گیارہ بجے کے قریب حمنہ واپس آئی تھی

باہر مین گیٹ کی چابی اسکے پاس تھی لاک کھول کر وہ اندر داخل ہوئی دونوں بچوں کا نیند سے برا حال تھا پھر باہر سردی بھی آفت کی تھی اور رات کے وقت سردی کی شدت بھی بڑھ جاتی تھی ۔۔۔ سویٹر جیکٹ میں بچے ٹھرٹھرا رہے تھے ۔۔۔ جیسے ہی اندر داخل ہوئے اصفر انکے ہاتھ پکڑے انہیں انکے کمرے میں لے گیا ۔۔۔ دونوں کو بستر پر لیٹا کر رضائی میں بیٹھایا کمرے کا ہیٹر آن کیا ۔۔۔ خود بھی انکے ساتھ ہی لیٹ گیا جانتا تھا کہ جب تک وہ بچوں کے ساتھ کمرے میں موجود ہے حمنہ اندر نہیں آئے گی ۔۔۔۔۔ بچے پہلے ہی نیند میں تھے اس لئے تھوڑی دیر میں سو بھی گئے ۔۔۔۔ جب دونوں کی نیند پکی ہو گئ تب وہ کمرے سے باہر نکلا تھا حمنہ اس وقت لاونج میں بیٹھی چائے پی رہی تھی اصفر لاونج میں دیکھ کر کھڑی ہو گئ ۔۔۔

کپ ہاتھ میں پکڑے لاونج سے نکل کر کچن میں جانے لگی تا کہ کپ رکھ کر بچوں کے پاس جا سکے لیکن اصفر کے پاس سے گزرتے ہی اپنے بازو پر اس کی مضبوط گرفت پا کر اسے رکنا پڑا ۔۔۔۔

اصفر نے اس کے ہاتھ سے کپ پکڑ کر سامنے ٹیبل پر رکھا تھا ۔۔۔

پھر اسے غصے سے اسے دیکھنے لگا

” کہاں سے آ رہی ہو اسوقت ۔۔۔ ؟” غصے کے مارے برے طریقے سے اصفر کا سانس پھول رہا تھا