Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415
Last updated: 8 December 2025
Noor-e-Emaan Episode 1Noor-e-Emaan Episode 2Noor-e-Emaan Episode 3Noor-e-Emaan Episode 4Noor-e-Emaan Episode 5Noor-e-Emaan Episode 6Noor-e-Emaan Episode 7Noor-e-Emaan Episode 8Noor-e-Emaan Episode 9Noor-e-Emaan Episode 10Noor-e-Emaan Episode 11Noor-e-Emaan Episode 12Noor-e-Emaan Episode 13Noor-e-Emaan Episode 14Noor-e-Emaan Episode 15
Noor-e-Emaan by Umme Hani
میں آج کل کے کسی ڈاکٹر سے مرعوب نہیں ہوں ۔۔۔۔۔بس میری خواہش ہے کہ میں ڈاکٹر بن کر اپنے مرحوم ابا کی خواہش پوری کرو۔۔۔۔جانتی ہو جب میں نے میڈیکل میں داخلہ لیا تھا ابا نے تب ہی میرے لئے ایک کلینک کی جگہ خرید لی تھی ۔۔۔۔مگر ابا کے انتقال کے بعد امی نے اسے ایک میڈیکل اسٹور کے طور پر کرائے پر چڑھا دیا ۔۔۔۔۔۔بس مجھے ڈاکٹر بن کر اسی اسٹور وو دوبارہ کلینک بنانا ہے ۔۔۔۔"حمنہ نے اپنی درینہ خواہش اسے بتائی
"ہمم جانتی ہو حمنہ مجھے ڈاکٹر حسن کمال جیسی کامیابی کی خواہش ہے ۔۔۔۔ عجیب جادو ہے انکے ہاتھوں میں۔۔۔۔۔ ہارٹ کے بہت بڑے سرجن ہیں ۔۔۔۔ آج تک ایک کیس بھی ان سے۔ خراب نہیں ہوا اور حب الوطنی کا عالم ہے کے باہر سے اتنی آفرز آئیں ہیں انہیں بڑے بڑے ہاسپٹلرز سے لیکن یہیں رہنے کو ترجیح دی ہے انہوں نے ۔۔۔
۔۔۔۔۔اور بلا کا اعتماد ہے حمنہ انہیں ۔۔۔۔اور یقین جانو ۔۔۔۔جو کہتے ہیں کر گزرتے ہیں میرے کزن کا ہارٹ کا آپریشن انہوں نے ہی کیا تھا پیدائشی دل میں کئ جگہ ہول تھا ۔۔۔ بہت ڈاکٹرز نے تو جواب دے دیا تھا ۔۔۔ مگر ڈاکٹر کمال نے تو کمال ہی کر دیا۔۔۔۔ پورے دس لاکھ لئے تھے لیکن نا ممکن کو ممکن بنا کر دیکھا دیا تھا "۔۔۔۔زارا کے تفاخر آمیز لہجے پر حمنہ بس مسکرا ہی سکی ۔۔۔۔۔یعنی اگر اللہ تمہارے ہاتھ میں بھی ایسی شفا دیدے تو تم بھی ایسے پیسوں سے تولو گی ؟ ۔۔۔۔۔"حمنہ نے ایک تاسف سی نظر زارا پر ڈالی
"کیا مطلب "
"شفا اللہ کے ہاتھ میں ہاتھ میں ہوتی ہے زارا۔۔۔۔کبھی کبھی وہ اپنے بندوں کو آزمانے کے لئے وقتی طور پر انہیں ایسی نعمتوں سے نواز دیتا ہے ۔۔۔۔یہ دیکھنے کے لئے کہ وہ اللہ کی رضا کے لئے استعمال کرتے ہیں یا اپنی غرض کے لئے ۔۔۔۔۔"
"اپنا معاوضہ لینا کوئی غلط بات تو نہیں ہے حمنہ "
"ہاں بلکل غلط نہیں ہے مگر ۔۔۔۔اس معاوضے کی کوئی حد بھی ہوتی ہے تمہارے کزن کے پیرنٹس کے پاس اگر اتنا پیسہ دینے کے لئے نا ہوتا تو کیا تمہارے یہ آئیڈیل ڈاکٹر صاحب مفت میں ان پر یہ عنایت کرتے ؟ "۔۔۔۔حمنہ کی بات پر زارا خاموش سی ہو گئ ۔۔۔۔۔
"ممی ۔۔۔۔۔ممی ۔۔۔۔مجھے ڈر لگ رہا ہے "۔۔۔۔حمنہ اپنی سوچوں کے گرداب سے لوٹ آئی تھی سامنے کھڑی نور اپنی ڈول کو ایک ہاتھ سے گلے لگائے ۔۔۔کچھ خوفزدہ سی حمنہ کے سامنے کھڑی تھی
"کیوں نور ۔۔۔کیو ڈر لگ رہا تھا میری گڑیا کو "۔۔۔۔حمنہ نے اسے اپنی گود میں بھر لیا ۔۔۔۔۔اپنے سینے سے لگا کر پیار کرنے لگی ۔۔۔۔
"ممی آپ جو میرے پاس نہیں تھی اس لئے "۔۔۔وہ معصومیت سے بولی
"ہاں مگر مان بھیا تو آپ کے پاس ہی سو رہا تھا ۔۔۔۔بھائی کا ہاتھ پکڑ لیتی ڈر نہیں لگتا تمہیں " ۔۔۔۔حمنہ نے اسکے رخسار کو چومتے ہوئے کہا
"نہیں ممی بس آپ اٹھیں مجھے آپ کے ساتھ سونا ہے "۔۔۔۔نور اسکی گود سے اتر گئی ۔۔۔۔حمنہ بھی اسکے ساتھ اٹھ کر انکے کمرے میں آگئ
