Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415

Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 10

644.1K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Noor-e-Emaan Episode 10

Noor-e-Emaan by Umme Hani

حمنہ کھانا چھوڑ کر اوپر کا زینہ چڑھ گئ ۔۔۔۔۔

“دیکھ رہے ہو اس میڈل کلاس لڑکی کے نخرے ” حسن کمال کا چہرہ غصے سے سرخ ہوا تھا ۔۔۔

” اصفر نے ہی سر۔ چڑھا رکھا ورنہ ایسی لڑکیوں کو پوچھتا کون ہے ۔میری بہن آتی تو شاید آپ لوگوں کی خواہش پوری کر ہی دیتی ” دعا نے منہ کے زاویے بگاڑتے ہوئے جیسے اپنی جلن نکالی تھی

” بھابی پلیز میری زبان مت کھلوائیں ۔۔۔۔ آپ اور آپکی بہن کتنے پانی میں ہیں یہ ڈیڈ بھی جانتے ہیں ۔۔۔۔ ” اصفر کے یوں آئینہ دیکھانے پر دعا نے غصے سے اصفر کو گھورا تھا

” دعا یہ اصفر کا ذاتی معاملہ ہے تم بیچ میں مت بولو ” سیف نے دعا کو ڈپٹا تھا ۔۔۔

” ڈیڈ آپ فکر مت کریں میں بات کرتا ہوں حمنہ سے “

” بات نہیں کرنی ہے تم نے اس سے ۔۔۔۔ میرے حکم پر عمل کروانا ہے ۔۔۔۔ ” حسن کمال کا لہجہ بلند ہوا تھا ۔۔۔۔

” جی بلکل ۔۔۔ جیسا آپ چاہتے ہیں ویسا ہی ہو گا ” اصفر کا بھی ڈنر سے دل اُچاٹ ہوا تھا ۔۔۔ لیکن باپ کے ڈر کی وجہ سے تھوڑا بہت کھانا کھاتا رہا ۔۔۔۔ حمنہ پر جی بھر کر غصہ آ رہا تھا ڈنر کے بعد وہ سیدھا اپنے کمرے میں گیا تھا ۔۔۔۔ حمنہ بھی منہ منائے بیٹھی تھی وہ تیز قدموں سے چلتا ہوا اسکے پاس پہنچا تھا

” مسلہ کیا ہے تمہارے ساتھ حمنہ کیوں ڈیڈ کی باتوں سے اختلاف کرتی ہو ” حمنہ بھی تپی بیٹھی تھی

” اصفر جو وہ چاہتے ہیں اس میں میرا انڑسڈ نہیں ہے ۔۔۔ پھر امی آپ سے کہہ چکی تھیں کہ مجھے اپنے ابا کی خواہش پوری کرنی ہے ۔۔ ” حمنہ کی بات سن کر وہ اس کے سامنے بیٹھ گیا

” عجیب بیوقوف لڑکی ہو تم ۔۔۔ میں اور ڈیڈ تمہیں کہاں سے کہاں لے جانا چاہ رہے ہیں اور تم بس اسی گندھے سے علاقے میں ایک معمولی سا کلینک چلانے بات کر رہی ہو ۔۔۔۔۔ لوگ آگے بڑھنے کا سوچتے ہیں بہتر سے بہترین کا انتخاب کرتے ہیں ایک تم ہو ” وہ غصے سے دانت بینچتء ہوئے بولا

” یہ سوال تو میں بھی آپ سے کر سکتی ہوں ۔۔۔۔ لوگ۔ بہتر سے بہترین کا انتخاب کرتے ہیں پھر آپ نے میرا انتخاب کیوں کیا ؟ آپ کو مجھ سے کہیں گنا زیادہ امیر اور خوبصورت ڈاکٹر بھی مل سکتی تھی ۔۔۔ جو آپکی فیملی میں با خوشی ایڈجسٹ ہو جاتی “حمنہ کے سوال نے اسے سوچنے پر مجبور کر دیا اس قسم کے سوال کی اسے حمنہ سے توقع نہیں تھی

” تم میں کیا کمی ہے۔۔۔۔ اچھی خاصی خوبصورت ہو۔۔۔ ڈاکٹر بھی ہو ۔۔۔۔ ” اصفر کا لہجہ دھیمہ ہوا تھا

” میرے خواب کچھ اور ہیں۔ میرا مقصد پیسہ کمانا نہیں ہے یہ آپ بھی جانتے ہیں ۔۔۔۔ “

“او پلیز حمنہ یہ ہمدردی انسانیت کی خدمت حب وطنی ۔۔۔۔ کیا دے سکتی ہے تمہیں دو وقت کی پیٹ بھر کر روٹی بس ۔۔۔۔ تمہیں اندازہ نہیں ہے جتنا ٹیلنٹ ہے تم میں ہے جس چیز میں اسپشلائیز کرنا چاہوں بہت آرام سے کر سکتی ہو ۔۔۔۔ تمہیں تو اپنی قسمت پر رشک کرنا چاہیے لوگ تو اس لئے نہیں کر پاتے کہ ان کے پاس ٹیلنٹ ہونے کے باوجود اتنا پیسہ نہیں ہوتا یہ سب کرنے کے لئے اور تم پر ڈیڈ پیسہ پانی طرح بہانے کو تیار ہیں تمہیں کیا لگتا ہےnephrologists بننے کے لئے صرف محنت ہی کافی ہے نو مائے ڈیر وائف پیسہ بھی لگتا۔ ہے جو تم اپنے اس تھرڈ کلاس علاقے کے چھوٹے سے گھر میں رہ کر کبھی نہیں بن سکتی تھی ۔۔۔۔ ” اصفر کے حقارت سے بھرے لہجے اور احسان جتلاتی نظروں پر وہ صرف تاسف ہی کر سکتی تھی ۔۔۔

” اب تک اسی تھرڈ کلاس علاقے کے چھوٹے سے گھر میں رہ کر میں نے سب کچھ اپنی محنت سے حاصل کیا ہے ۔۔۔۔ رہ گئ بات ہمدردی اور انسانیت کی خدمت کے عوض دو وقت کی روٹی کی تو ہر انسان دو وقت کی روٹی ہی کھاتا ہے ۔۔۔۔ پیٹ کے جہنم کو بھرنے کے لئے دو روٹیاں ہی بہت ہوتی ہیں ۔۔۔ باقی رہ گئیں آسائشیں تو انکی میں عادی نہیں ہوں ۔۔۔ ایم سوری لیکن میں جرنل فزیشن ہی بنوں گی ۔۔۔۔ اور اس میں مزید مجھے جو بھی کورس کرنے ہوئے وہ یہیں پاکستان میں رہ کر کروں گی ۔۔۔۔ کہیں نہیں جانا مجھے ” حمنہ کا اٹل انداز آگ سا لگا گیا تھااسے

” کس بات کی ضد ہے تمہیں ۔۔۔۔ میں تمہاری ایک بھی نہیں سنو گا اس معاملے میں ۔۔۔۔ایک بات میری یاد رکھو حمنہ ۔۔۔۔ مجھے اپنے ڈیڈ سے بے انتہا محبت ہے ۔۔۔۔ آج تک میں نے انکی ایک بات نہیں ٹالی ۔۔۔وہ چاہتے تھے کہ Gastroenterologist بنو ۔۔۔۔ حالانکہ میرا انڈرسڈ نہیں تھا لیکن میں نے اختلاف نہیں کیا ۔۔۔ اور دیکھوں آج کتنا کامیاب ڈاکٹر ہوں میں ۔۔۔۔ جانتی ہو میرے چند گھنٹوں کی ان کم کتنی ہے ؟ ۔۔۔۔۔۔ ایک لاکھ سے بھی زیادہ ۔۔۔۔ مجھ سے ٹرٹمنٹ کروانے کے لئے لوگ گھنٹوں اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں ۔۔۔ اپنے ایک ایک منٹ کی ہزاروں کے حساب سے قیمت وصولتا ہوں میں ۔۔۔ یہ ہے وہ کامیابی جسے لوگ حاصل کرنا چاہتے ہیں ڈیڈ کی بات ماننے کا نتجہ۔۔۔۔ اتنا ہی کامیاب میں تمہیں دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔ ۔۔۔ بیوقوف لڑکی کیوں نہیں سمجھتی ہو تم یہ انسانی ہمدردی کے بخار کو جتنی جلدی ہو سکتا ہےختم کروں اپنے اندر سے ۔۔۔ اس کا نتجہ وہ پتھر ہے جو تم پہلے بھی انہیں جاہل لوگوں سے کھا چکی ہو جن کی خاطر تم نے strike چھوڑ کر انکی مرہم پٹی کی تھی ۔۔۔۔ ” اصفر اب اسے رسانیت سے سمجھانے لگا

” وہ سب ایک حادثہ تھا ورنہ لوگ بہت دعائیں دیتے ہیں مجھے ۔۔۔۔ ” حمنہ کی باتیں اسے احمکانہ لگ رہیں تھیں

” او مائے گاڈ ۔۔۔ تمہیں سمجھانا بھینس کے آگے بین بجانے کے برابر ہے ۔۔۔۔بہرحال تم آج کے بعد ڈیڈ کے سامنے کچھ نہیں کہوں گی ۔۔۔۔۔ ہمیشہ چپ رہوں گی ۔۔۔ اگر تمہیں کوئی ایشو ہو بھی تو مجھ سے کہو ڈیڈ سے نہیں ۔۔۔ سمجھی ” اسے سختی سے منع کرتے ہوئے وہ کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔

چند حمنہ بھی کچھ نہیں بولی ۔۔۔۔ ہوسپٹل وہ جانے لگی تھی جرنل فزشن کے طور پر پیشنٹ بھی دیکھنے لگی تھی لیکن دل میں اپنی ہاؤس جاب کمپلیٹ کرنے کاولقضرسر تھااصفر اسکی ایک بھی سننے کو تیار نہیں تھا ۔۔۔۔ اس لئے اس نے یوسف سے بات کی تھی

” سر آپ یز اصفر کو سمجھائیں ۔۔۔ “سری بات سن کر وہ چپ سا ہوا تھا

” او کے تم فکر مت کروں میں بات کرتا ہوں اس سے “

” سر آپ میرا نام مت کیجیے گا کہ میں نے آپ سے کہا ہے ۔۔۔ “

” ڈونٹ وری حمنہ میں سمجھتا ہوں تمہاری پوزیشن کو ۔۔۔ تم بس بے فکر رہوں کرتا ہوں میں اصفر سے بات ۔۔۔۔ ” یوسف سے بات کر کے حمنہ کچھ مطمئن ہوئی تھی ۔۔۔۔

رات کو اصفر نے یہ کہا کہ کل اسےیوسف نے ڈنر پر بلایا ہے ۔۔۔ حمنہ کچھ مطمئن ہوئی تھی ۔۔۔ یوسف اصفر کاکلاس فیلو رہ چکا تھا اسی کا ہم عمر بھی تھا لیکن شادی کچھ جلدی ہو گئ تھی ۔۔۔ بیوی ہاوس وائف تھی ۔۔۔۔ دو چھوٹے بچے تھے ۔۔۔ یوسف اصفر سے بے تکلف بھی بہت تھا ۔۔۔۔ پھر حمنہ پچھلے ایک سال سے اسی کے ماتحت کام کر رہی تھی ۔۔۔۔ جس قدر وہ محنتی تھی یوسف بھی چاہتا تھا کہ وہ ہاؤس جاب کمپلیٹ کرے ۔۔۔۔ کھانے کے بعد وہ اصفر کو لان میں لے گیا ۔۔۔۔

” بہت خوش نظر آ رہے ہو ۔۔۔ شادی کچھ زیادہ ہی راس آ گئ ہے تمہیں ” یوسف کے مزاق پر وہ کھلکھلا کر ہنسا تھا

” یہی سمجھ لو ۔۔۔۔ ” لان کی کرسی پر وہ بیٹھتے ہوئے بولا یوسف بھی اسکے سامنے بیٹھ گیا

” ڈھیر مہینہ ہو چکا ہے تمہاری شادی کو اور اس سے پہلے کی تم نے حمنہ کی چھٹیاں لیں ہیں اب تو میری اسٹوڈنٹ کو واپس بھیج دو ۔۔۔۔ اب تو آٹھ نو ماہ ہی رہ گئے اسکی ہاوس جاب کمپلیٹ ہونے میں”

” مجھے نہیں لگتا کہ اسکی ضرورت ہے ” اصفر نے مدافعانہ انداز اپنایا

” ضرورت تو ہے اصفر ۔۔۔ ہر چیز لیگل طریقے سے ہی اچھی لگتی ہے ۔۔۔۔ ” یوسف نے رسانت سے بات شروع کی تھی

” میں اسے ویسے ہی ایک ماہ تک لندن لے جانا چاہتا ہوں ۔۔۔۔ اسپشلائز کے لئے “

” اچھا کس میں ” یوسف پر بات سے واقف تھا لیکن نا فہمی سے پوچھنے لگا

“nephrologists”

” لیکن حمنہ کو تواس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور سرجن وہ یہاں بھی بن سکتی ہے ۔۔۔ ساتھ ساتھ تمہارا ہاسپٹل بھی دیکھ لے گی ۔۔۔۔ “

” ڈیڈ فیصلہ کر چکے ہیں ” اصفر نے جیسے موضوع ختم کرنا چاہا تھا

” اوہ رئیلی اصفر ” یوسف نے حیرت سے اصفر کی جانب دیکھا تھا

” یہ سارے فیصلے حمنہ پر ہی کیوں مسط کیے جارہے ہیں دعا بھی تو ہے ۔۔۔۔ پھر وہ تو سگی بھتجی ہے انکل کی اس کے لئے ایسا کیوں کوئی فیصلہ نہیں سنایا گیا “

” اس لئے کہ وہ حمنہ نہیں ہے ۔۔۔۔ ناہی حمنہ جیسی ذہانت رکھتی ہے ۔۔۔ تم جانتے ہو کہ ڈیڈ نے صرف حمنہ کے بہترین ریکارڈز کو دیکھ کر ہی شادی کے لئے رضامندی دی تھی ۔۔۔۔ “اصفرنے جیسے جتایا تھا

” واہ اصفر ۔۔۔۔ محبت تمہیں حمنہ سے ہوئی تھی ۔۔۔۔ اور اس محبت کا خمیازہ حمنہ بھرتی رہے تمہارے والد کے ہر فیصلے پر سر جھکاتے ہوئے یہ تو غلط ہے ۔۔۔۔ تمہیں نہیں لگتا کہ انکل غلط کر رہے ہیں ۔۔۔ اور تم ۔۔۔بجائے انہیں سمجھانے کے تم حمنہ کے ساتھ سختی کر رہے ہو ” یوسف جذبات میں ذیادہ ہی بول گیا تھا اصفر سمجھ گیا تھا ضرور حمنہ سے یوسف کی بات ہوئی ہے

” تو حمنہ نے تمہیں اپنی وکالت کے لئے چنا ہے ۔۔۔۔ نائیس ۔۔۔” اصفر نے طنز کیا تھا

” او پلیز اصفر ۔۔۔۔ تم سے مجھے اس قسم کی امید تو نہیں تھی ۔۔۔۔ بجائے حمنہ کاساتھ دینے کے تم اسی کو دبا رہے ہو پریشرائز کر رہے ہو کہ وہ زبردستی وہ لائن جوائن کرے جو کرنا نہیں چاہتی ۔۔۔۔۔ ” یوسف کا لہجے میں تلخی ڈی عود آئی تھی

“میرے خیال سے یہ میرا ذاتی معاملہ ہے ” اصفر کا لہجہ بھی ترش ہوا تھا

” حمنہ کی شادی میں نے تم سے کروائی ہے ۔۔۔ اس لئے اس کے معاملے میں ۔۔۔۔ میں تو چپ نہیں رہو گا ۔۔۔ تم انکل کو خود ہینڈل کروں گئے یا میں بات کرو ” یوسف نے بھی سنجیدگی سے کہا

” کس رشتے سے ۔۔۔کیا لگتی ہے وہ تمہاری ۔۔۔ یس کیا لگتے ہو تم اسکے جو یوں مجھ سے باز پرست کروں گئے ” اصفر کو یوسف کا حمنہ کے لئے یوں حق جماتے ہوئے بات کرنا اسے آگ سا لگا گیا تھا

” واٹ ڈو یا مین ۔۔۔۔۔ ” یوسف نے تڑخ کر کہا

” باپ ہو ۔۔۔ بھائی ہو ۔۔۔ کیا ہو اسکے ۔۔۔۔ ؟ ” اصفر کی بات سن کر تویوسف کابھی دماغ گھوم گیا تھا ۔۔۔۔

” اچھا تو اب تمہیں رشتہ یاد آ رہا ہے ۔۔۔۔ جب میں تمہارے لئے حسن انکل کو منا رہا تھا تب تمہارا کیا لگتا تھا باپ یا بھائی ‘” یوسف بھی بپھر سا گیا ۔۔۔۔ اسکے ایک بار کہنے پر ہر بات اس کاساتھ دیا تھا اس نے اور آج وہ اجنبی بن رہا تھا

“تم میرے دوست ہو یوسف میرے ہی رہو تواچھا

میری بیوی کا یار بننے کی کوشش مت کرو ” اصفر کی بات نے تو یوسف کو تپا کے رکھ دیا اتنی گھٹیا سوچ کا مالک تھا وہ شخص

” او جسٹ شٹ اپ اصفر ۔۔۔۔ کس قدر گھٹیاسوچ ہے تمہاری ۔۔۔۔ اسے میں اپنی چھوٹی بہن سمجھتا ہوں ۔۔۔ ” یوسف غرا کر بولا تھا

” او پلیز مجھے منہ بھولے رشتے مجھے مت سمجھاؤں ۔۔۔۔ اور نا آج کے بعد میرے معاملے میں۔ بولنا ” یہ کہہ وہ حمنہ کو پکارنے لگا اصفر کا یہ رنگ ڈھنگ پہلی بار یوسف نے دیکھا تھا اسوقت کو پچھتایا تھا جب اس نے حمنہ کے لئے اس کاساتھ دیا تھا۔۔۔۔ حمنہ تیزی سے باہر آئی تھی جس طرح سے وہ چلا کر بلا رہا تھاوہ گھبرا سی گئ تھی ۔۔۔۔ حمنہ کا ہاتھ تھامے وہ تیزی سے باہر نکلا تھا اتنے غصے میں تھا کہ حمنہ اس سے کچھ بھی پوچھ نہیں سکی تھی ۔۔۔

گھر پہنچ کر اس کا ہاتھ پکڑے سیدھا کمرے میں اسے لے جا کر بیڈ پر پٹخا تھا

” کیا سمجھتی ہو خود کو ۔۔۔۔ میرے سامنے تو بڑی پارسائی کاڈرامہ رچا رہی تھی اور یوسف کے ساتھ ؟ یوسف کے ساتھ کون سے غیر شرعی رشتے نبھا رہی تھی تم ۔۔۔۔ کس نے حق دیا اسے کہ وہ مجھ سے تمہارے مستقبل کے لئے سوال و جواب کرے ۔۔۔ ” اصفر کی آنکھیں انگارے کی طرح سرخ تھیں غصے میں اپنے لفظوں کی تلخی کا بھی اندازہ نہیں تھا

“کیا کیا میں نے اصفر “

” ذیادہ معصوم مت بنو ۔۔۔ کیاتعلق ہے تمہارا اس سے جو ہمارے گھر میں ہونے والی ہر بات کی اسے خبر ہے۔۔۔۔ کیا لگتا ہے تمہارا جس سے تم راز و نیاز کے رشتے نبھا رہی ہو ” اصفر کی بات پر وہ رو دینے کو تھی

” کہنا کیا چاہتے ہیں آپ ۔۔۔۔۔ آپ ۔۔۔ آپ سر کو لیکر مجھ پر شک کر رہے ہیں؟”

حمنہ دنگ سے رہ گئ تھی ۔۔۔ وہ اسکے سامنے کھڑی ہو گئ

” شک ۔۔۔ ؟ او نو شک نہیں مجھے تو یقین سا ہو چلا ہے ” یہ سنتے ہی حمنہ بے قابو سی ہوئی تھی آنسوں آنکھوں سے بہنے لگے تھے ۔۔۔

اس نے کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔ بس کمرے سے باہر نکلنے لگی ۔۔۔ لیکن اصفر پر تو کوئی جنون سا سوار ہوا تھااسے بازو سے پکڑ کر اپنے رو با رو کھڑا کیا

” کہا جارہی ہو تم ” وہ چلا کر پوچھنے لگا

” جس شخص کی نظر میں میرا کردار ہی مشکوک ہے اس کے ساتھ رہنے سے بہتر ہے کہ راہیں ہی الگ کر لوں ہر بار تواپنی صفائیاں بیان نہیں کروں گی چھوڑیں مجھے “

حمنہ بھی اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بات کر رہی تھی یہ سن اصفر کے غصے کا پارہ ذرا کم ہوا تھا ۔۔۔۔ اسے تو کسی قیمت پر دور کرنا کہاں ممکن تھا اس لئے لہجہ کچھ دھیمہ کرنا پڑا

” یوسف سے کیوں بات کی تھی تم نے ہاؤس جاب کمپلیٹ کرنی تھی ۔۔۔ مجھ سے کہنا چائیے تھا ۔۔۔ تمہیں ڈیڈ کی بات سے مسلہ ہے تو میں تم سے کہہ چکا تھا کہ مجھ سے بات کیا کرو ۔۔۔ میں ہوں ۔۔۔ تمہارا یوسف نہیں ۔۔۔۔ یہ میرا اور تمہارا معاملہ تھا ۔۔۔۔ ہم ملکر اسے سولو کرتے یوسف کون ہوتا ہے مجھ سے تمہارے لئے بات کرنے والا ۔۔۔ اسے کیوں میرے رو با رو کھڑا کیا تم نے ” وہ اب بھی غصے کی انتہا پر تھا لیکن ضبط کر رہا تھا

” نہیں یہ میرا اور آپ کا معاملہ نہیں ہے یہ صرف آپکے ڈیڈ کا معاملہ ہے ۔۔۔ جو وہ چاہتے ہیں ۔۔۔۔ آپ صرف وہی کرنے پر باضد ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔ میری کیا ولیو ہے آپکی نظر میں میرا کیریر تباہ ہو رہا ہے آپ کو ذرا بھی پروا ہے ۔۔۔ جو میں چاہتی ہوں اسکی اہمیت ہے آپکی نظر ۔میں ۔۔۔ ؟ ” اصفر نے اس کے بیڈ پر بیٹھایا خود بھی اسکے سامنے بیٹھ گیا

” او کے آل رائٹ ۔۔۔ میں ڈیڈ سے بات کر لوں گا لیکن آئندہ تم یوسف سے کوئی بات نہیں کروں گی سمجھوں نا یار مجھ سے برداشت نہیں ہوتا میرے علاؤہ تم پر کوئی حق جمائے ۔۔۔ پاگل سا ہو جاتا ہوں ۔۔۔ تم جانتی ہی نہیں ہو کتنا چاہتا ہوں تمہیں ۔۔۔۔” اصفر کا لہجہ دھیمہ ہوا تھا ۔۔۔ یہ تو حم ہ۔ ھی جانتی تھی کہ اسکے لئے اصفر کی محبت میں کس قدر شدت پسندی تھی ۔۔۔۔

” مجھے یہں پاکستان میں رہنا ہے ۔۔۔ اپنی ہاؤس جاب پوری کرنی ہے ۔۔۔ جرنل سرجری بھی یہیں رہ کرنی ہے ۔۔۔۔ ” وہ اپنے موقف پر اب بھی قائم تھی

اصفر کو ہی ہارماننی پڑی تھی ۔۔۔۔

۔لیکن ۔ جب حسن کمال نے اپنے فیصلے پر حمنہ کا انکار سنا تو غصہ سے سرخ ہوئے تھے مگر اصفر سے بولے کچھ نہیں تھے کیونکہ وہ ہاتھ جوڑے انکی منت کر رہا تھا ۔۔۔۔ نا حمنہ کو چھوڑ سکتاتھا نا باپ کو ناراض کر سکتا تھا۔۔۔۔۔

” “ڈیڈ پلیز اسے وہی کرنے دیں جو وہ کرنا چاہتی ہے “

” تمہیں اس لڑکی کی خاطر میرے سامنے یوں ہاتھ جوڑنے کی ضرورت نہیں ہے یہ کم نسل لوگ ہوتے ہی ایسے ہیں ۔۔۔ مجھے کیا لگے ۔۔۔ جو چاہے کرے یا نا کرے ۔۔۔۔ اگر اسے خود ہی اپنے مستقل کی پروا نہیں تو مجھے کیا لگے ۔۔۔ میرے پاس کس چیز کی کمی ہے ۔۔۔۔ لیکن اس سے کہنا میرے ہر معاملے سے دور رہے تو بہتر ہے ۔۔۔۔ ” وہ بھی غصے سے بول رہے تھے ۔۔۔۔

” جی ڈیڈ کہہ دوں گا ۔۔۔ وہ آپکے کسی معاملے میں دخل اندازی نہیں دے گی ۔۔۔۔ ” اصفر نے یہی شکر کیا تھا کہ معاملہ کسی کروٹ تو بیٹھا

وقت بہت تیزی سے گزرنے لگا تھا ۔۔۔۔۔۔ تین سال کا عرصہ گزر چکا تھا ۔۔۔۔ حمنہ بہت کم ہی انکے ہاسپٹل میں جاتی تھی ۔۔۔۔ ہاوس جاب کے ساتھ ہی وہ جرنل سرجن بھی اپلائی کر چکی تھی ۔۔۔۔ اس لئے اسے فرصت ذرا کم ہی ملتی تھی ۔۔۔ پھر اپنے والد کی خواہش پوری کرتے ہوئے وہ کلینک بھی شروع کر چکی تھی ۔۔۔ جس تیزی سے وہ آگے بڑھ رہی تھی اور جتنی کامیابی سے بڑھ رہی تھی ۔۔۔۔ اصفر بھی مطمئن سا ہو گیا تھا ۔۔۔ اصفر تو خوش تھااس لئے کہ اب وہ اسکے ہاسپٹل ذیادہ تر آپریشن ہی کرتی تھی اکثر تو دعا کے بگڑے کیس ہی آ کر سنبھالتی تھی ۔۔۔۔۔۔ بظاہر سب ٹھیک تھا لیکن جو کمی حمنہ کو اپنی زندگی میں محسوس ہونے لگی تھی وہ اولاد کی تھی ۔۔۔۔۔۔

” اصفر آپ کو نہیں لگتا کہ ہمہیں اب اپنا ٹرمنٹ کروانا چاہیے “

” کس لئے “

” چار سال ہو گئے ہیں ہماری شادی کو ۔۔۔ اور ابھی تک ہم اولاد کی نعمت سے محروم ہیں “

” یہ تمہیں بیٹھائے بیٹھائے سوجتی کیا ہے ۔۔۔ ” اصفر بیڈ کے کروان سے ٹیک لگائے میڈسن کی بک پکڑے کچھ ڈھونڈ رہا تھا یاکسی میڈسن کے بارے میں تفصیل پڑھ رہا تھا

” بیٹھائے بیٹھائے کی کیا بات ہے ۔۔۔۔ مجھے بچے اچھے لگتے ہیں ” حمنہ نے بک اسکے ہاتھ سے پکڑ کر سائیڈ پر رکھی اور اسکے ہاتھ میں دودھ کا گلاس تھما دیا یہ حمنہ کی روز کی روٹین تھی کھانے پینے کے معاملے میں وہ پورے کا پورا حمنہ پر ڈیپمنڈڈ ہو چکا تھا ۔۔۔۔

” اچھا چلو یہ بتاؤں ۔۔۔ بچے اتنے اچھے کیوں لگتے ہیں تمہیں ” دودھ پی کر سائیڈ پر گلاس رکھتے ہوئے اس نے ٹو سے منہ صاف کرتے ہوئے پوچھا

“یہ کیساسوال ہے اصفر ۔۔۔ بچے کسے اچھے نہیں لگتے ۔۔۔ میاں بیوی کے رشتے کو مضبوط بنانے کی ایک بہت بڑا ہاتھ اولاد کا بھی ہوتا ہے ۔۔۔ “

” وہ کیسے ۔۔۔۔ ؟”

” ارے کبھی ہم میں بہت بڑی لڑائی ہو گئ تو ہم کبھی طلاق کے بارے میں نہیں سوچیں گئے ۔۔۔ سب سے پہلے یہ سوچیں گئے کہ اگر ہم۔الگ ہو گئے تو بچوں کا کیا ہو گا ۔۔۔۔ اس طرح سے ہمارارشتہ اور بھی مضبوط ہو جائے گا ۔۔۔۔ گھر میں بھی کتنی خاموشی ہوتی ہے رونق سی لگ جائے گی ۔۔۔ ” وہ اس کی بات پر ہسنے لگا تھا ۔۔۔

” پچھلے چار سال سے کتنی بار لڑی ہو تم مجھ سے ۔۔۔ ؟”

” تب فرصت ہی کہاں تھی لیکن اب صرف چھ ماہ رہ گئے ہیں ۔۔۔ مجھے سرجن کی ڈگری بھی مل جائے گی ۔۔۔۔ پھر تو ہاسپٹل کو ہی دیکھنا ہے باقی وقت توفرصت ہی فرصت ہے ۔۔۔ اور جب ہم فری ہوں گئے تو یقینا لڑائی ہی ہو گئ ۔۔۔ بچے ہوں گئے تو انہیں سے فرصت نہیں ملا کرے گی ” حمنہ اس کے برابر میں بیٹھ کر اس کندھے پر سر رکھ کر بولی ۔۔۔۔

” لیکن مجھے ابھی بچے نہیں چاہیے ” اصفر کی بات سن وہ سیدھی ہو کر بیٹھ گئ اسے حیرت سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔

” کیا مطلب ۔۔۔؟کیوں نہیں چاہیے “

” ابھی لائف کو انجوائے کرنا چاہتا ہوں تم یہ چھ ماہ کمپلیٹ کر لو پھر میرا والڈ ٹور کا ارادہ ہے ۔۔۔ اور تین چار سال بچوں کو تو بھول ہی جاؤں ۔۔۔۔ “

حمنہ کو برا تو لگا لیکن بولی کچھ نہیں ۔۔۔۔

وہ سمجھی ابھی ایسا کچھ ہے نہیں اس لئے یوں سوچ رہا ہے جب کوئی ایسی خوشخبری ہو گی تو سب سے ذیادہ وہی خوش ہو گا ۔۔۔۔۔

ایک بار ایک پارٹی میں حسن کمال کی پوری فیملی مدعو تھی ۔۔۔ حسن کمال کے ڈاکٹرز دوست کافی تعداد میں وہاں موجود تھے ۔۔۔۔ حیرت حسن کمال اس وقت ہوئی جب بہت سے انکے دوست آگے بڑھ کر حمنہ سے ہیلو ہائے کرنے لگے

” آپ یہاں ۔۔۔۔ بہت خوشی ہوئی بیٹا آپکو یہاں دیکھ کر ۔۔۔”

” بہت شکریہ سر ” حمنہ وہ ایک سرجن کے طور پر جانتے تھے ۔۔۔ پھر جس طرح سے وہ مریض کو بچانے میں وہ جان لگا دیتی تھی سب کی نظروں میں اہمیت اور عزت پا چکی تھی ۔۔۔۔ سینئر ڈاکٹر بھی حمنہ کج قابلیت پر اسے جاننے پہچاننے لگے تھے ۔۔۔

” حسن ان سے ملو یہ حمنہ ہے ۔۔۔ ابھی حال ہی میں سرجن بنی ہے ۔۔۔۔ بہت جذبہ ہے اس بچی میں ۔۔۔۔ ” حسن کمال کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا سامنے کھڑے اسکے دوست کو یہ تک معلوم نہیں تھا حمنہ اسکی بہو ہے وہ تو یہی سمجھ رہے تھے حمنہ کی اہمیت انکی بہو ہونے کی وجہ بڑھ گئ ہے ۔۔۔ حمنہ مسکرانے لگی

” سر یہ میرے فادر ان لاء ہیں “

“واٹ “اس ڈاکٹر صاحب کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا ۔۔۔ ایسا ہی ایک جھٹکا حسن کمال کو بھی لگا تھا ۔۔۔۔

” حسن یہ تمہاری بہو ہے؟ پہلے کیوں نہیں بتایا کہ اتنا نایاب گوہر تمہارے گھر کی زینت ہے ماشاللہ سے بہت آگے بڑھے گی یہ ۔۔۔ ‘”حمنہ کے سر ہاتھ کر بڑے مان سے انہوں نے کہا حمنہ کے چہرے پر خوشے رنگ تھے

” کیوں تمہیں اتنا بھی معلوم نہیں ” حسن کمال نے بجھے دل سے کہا

“مجھے واقع معلوم نہیں تھا ۔۔۔ حمنہ آپ نے کبھی بتایا نہیں کہ آپ حسن کی بہو ہیں “

“سر ایسا کبھی موقع ملا نہیں ورنہ ضرور بتا دیتی ” بات آئی گئی ہو گئ تھی لیکن حسن کمال سے نا جانے کیوں برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔۔ جس لڑکی کووہ حقارت سے دیکھتے آ رہے تھے اور یہ سمجھتے تھے اگر اسے کوئی چار لوگ جانتے پہچانتے ہیں تواسوجہ سے کہ وہ حسن کمال کی بہو ہے لیکن اس نے تو اتنی بھی ولیو نہیں دی تھی ۔۔۔۔ وہ اپنی الگ پہچان لے کر بڑھ رہی تھی ۔۔۔۔ اسے سب حمنہ کے نام سے جاننے لگے تھے ۔۔۔۔ اس کے کام کو سرہانے لگے تھے ۔۔۔۔۔

” میرے ہی ٹکڑوں پر پلنے والی میرے ہی پیسوں پر سرجن بننے والی یہ معمولی سی لڑکی ۔۔۔ مجھے ہی پس پشت ڈال کر اپنا الگ مقام بنارہی ہے

میں حسن کمال جو ڈنکے کی چوٹ پر دعوے کے ساتھ دل کا آپریشن کرتا ہوں اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہو ۔۔۔۔ اور میرے سامنے میرا ہی دوست مجھے چھوڑ کر حمنہ سے مل رہا تھا ۔۔۔ اسکی تعریف کر رہا تھا ۔۔۔۔ ہنہ ۔۔۔۔ مجھ سے یوں تعارف کروایا تھا جیسے وہ کوئی بہت بڑی شخصیت ہو ” سگار منہ ڈالے کسی طوت غصہ کم نہیں ہو رہا تھا اس لڑکی نے اب تک اپنی ہر بات منوائی تھی ۔۔۔ اگر وہ حسن کمال کے کہنے پر کچھ بنتی تووہ خود گردن اکڑا کر اس پر احسان جتلا کر سب کو بتاتے اس معمولی سی لڑکی کو انہوں نے کہاں سے کہاں لا کر کھڑا کر دیا ہے لیکن نہیں وہ اپنے بل بوتے پر نام کمس۔رہی تھی ۔۔۔ نا حسن کمال کا کوئی حوالہ اسکے ساتھ تھا۔۔۔نا ان کے ہاسپٹل کے نام کا لیبل بس یہی بات حسن کمال کے لئے نا قابل برداشت تھی