Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 29
Rate this Novel
Noor-e-Emaan Episode 29
Noor-e-Emaan by Umme Hani
حسن کمال کی بات سن کر اصفر پریشان ہو گیا تھا ۔۔۔۔ یہاں آتے ہی حسن کمال کا سامنا حمنہ سے لازمی ہوتا اور حمنہ تو ایک لمحہ بھی اصفر کے پاس نا رکتی ۔۔۔
ایک طرف زندگی میں دوبارہ سے خوبیوں کے رنگ بھرنے شروع ہوئے تھے اور دوسری طرف اپنے والد کی تنہائی کا بھی احساس تھا حمنہ اصفر کی یہ بات تو بلکل نہیں مان سکتی تھی کہ حسن کمال یہاں ان کے بیچ میں رہیں ۔۔۔ کیا کرے ۔۔کیا نا کرے سمجھ نہیں پا رہا تھا ۔۔۔ ابھی تو حمنہ اس کو وہ سب بھی بتا نہیں پایا تھا جو اس پر گزرا تھا ۔۔۔۔ ابھی تو حمنہ اس پر پھر سے اعتبار بھی نہیں کر پائی تھی اور ایسے میں حسن کمال کی آمد وہ سب دھرم بھرم کر دیتی جیسے با مشکل وہ سمیٹ رہا تھا ۔۔۔۔
اس نے دوبارہ سے حسن کمال کو فون کیا
” ڈیڈ مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے ۔۔۔ ” اصفر نے سچ بتانے کا فیصلہ کر لیا تھا پھر شاید حسن اصفر کی مجبوری سمجھ سکتے
“ہاں بولو “
” ڈیڈ ۔۔۔۔۔ ڈیڈ ۔۔۔۔ حمنہ میرے ساتھ ہے ۔۔۔۔ میرے گھر ۔۔۔میں ” اصفر کی زبان اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی
” سچ۔۔۔۔ حمنہ تمہارے ساتھ ہے ۔۔۔ اس نے معاف کر دیا تمہیں ۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔ میں صبح ہی آ جاتا ہوں اس سے معافی مانگنی ہے مجھے ۔۔۔۔ شاید وہ معاف کر دے تو مجھے بھی سکون مل جائے ” حسن کمال کی بے تابی کا یہ عالم تھا کہ اڑ کر وہاں پہنچ جائیں
“ڈیڈ ۔۔۔ وہ ابھی کچھ نہیں سنے گی۔۔۔۔ آپ کو دیکھنا بھی نہیں چاہتی پلیز ٹرائے ٹو انڈسٹینڈ۔۔۔۔ میں اسے پہلے راضی کر لوں پھر آپ کو بلا لوں گا لیکن اگر یونہی آپ اچانک سے اسکے سامنے آ گئے تو وہ پھر نا جانے کہاں چلی جائے ۔۔۔۔ آپ سمجھ رہے ہیں نا ڈیڈ ؟” اصفر نے دانستہ بچوں کا ذکر نہیں کیا تھا ورنہ تو حسن کمال اسکی ایک نا سنتے اور بھاگے چلے آتے ۔۔۔۔”
“ہاں ٹھیک کہہ رہے ہو تم ۔۔۔۔ میں نے جتنا برا اس کے ساتھ کیا ہے وہ کہاں میری ایک بھی سنے گی ۔۔۔۔ کہاں مجھے معاف کرے گی ۔۔۔۔ میں بھی نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے تمہاری زندگی پھر سے برباد ہو ” حسن کمال پہلے جتنے خوش اب اتنے افسردہ بھی ہو گئے تھے پھر بیٹے کی پوزیشن کو سمجھ رہے تھے ۔۔۔۔ پانچ سال کہاں کہاں خاک نہیں۔ چھانی تھی اس نے اس لڑکی کی خاطر اب اگر وہ اسے مل گئ تھی تو اسے حق تھا اپنی زندگی جینے کا اس لئے فون بند کر دیا ۔۔۔ اصفر نے سکون کاسانس لیا تھا۔۔۔۔
سوچیں خود با خود ہی ماضی میں چلی گئیں تھیں امریکہ سے لوٹتے ہی جب اسے یہ پتہ چلا کہ حمنہ فارم ہاؤس سے بھاگ گئ ہے ۔۔۔۔ اس کا غصے سے برا حال تھا ۔۔۔۔ آس پاس کے بہت سے علاقوں میں وہ اسے ڈھونڈ چکا تھا لیکن اس کا کچھ اتا پتہ نہیں تھا گل خان نے بھی زبان نہیں کھولیں تھی کہ سچ کیا تھا ۔۔۔۔
حسن کمال کو لگا کہ چند مہنے ڈھونڈ کر خود ہی ٹھنڈا ہو کر بیٹھ جائے گا ۔۔۔ وقت کے ساتھ ساتھ۔۔۔ زندگی معمول پر آ جائے گی ۔۔۔۔ لیکن جب کسان نے میڈیا کے ذریعے حسن کمال پر دوبارہ سے کیس کیا تھا حسن کمال کو ہتھکڑی لگ چکی تھی ۔۔۔۔ پورا گھر جیسے سکتے میں آ گیا تھا ۔۔۔۔۔
پولیس کی انوسٹگیشن سے سارے ثبوت حسن کمال کے خلاف جا رہے تھے ۔۔۔ بچے کی پوسٹ مارٹم رپوٹ سے گردے کی چوری ثابت ہو چکی تھی ۔۔۔ پہلے تو اسے لگا کہ یوسف اس کے باپ پر جھوٹا الزام لگا رہا ہے ۔۔۔لیکن اصل ہوش اس وقت آیا جب ڈاکٹر راشد نے تمام سچائی اصفر کو بتائی تھی ۔۔۔۔۔ وہ تو ششدد سا رہ گیا تھا اصفر کے سامنے ہر بات جیسے کھلنے لگی تھی ۔۔۔ اصفر سے عبدالباری کا کیس لیکر ڈاکٹر راشد کے حوالے کرنے کے لئے حسن کمال نے باقاعدہ ضد کی تھی ۔۔۔۔ اتنی سازشیں ہو رہیں تھیں ہاسپٹل میں جس سے وہ انجان تھا
ہاں پیسوں کی ہیر پھیر وہ جانتا تھا ۔۔۔۔ چپ اس لئے تھا کہ یہ سب سسٹم کاحصہ ہے لیکن ایک بچے کا گردہ دھوکے سے چوری کرنا اور اس دوران اسکی موت ہو جانا پھر حمنہ کو اس بات کے لئے فورس کرنا اس کے انکار پر اسکی والدہ کے ساتھ کیا گیا ظلم ۔۔۔ اصفر کوخود اس نرس نے بتایا تھا جس نے حسن کمال کے کہنے پر حمنہ کی والدہ کا ماسک اتارا تھا،اور ان کے اسٹچیز توڑ دیے تھے ۔۔۔۔ جیسے جیسے اپنے باپ کی سچائی جان رہا تھا ۔۔۔۔ لگ رہا تھا کہ پتھر کا ہو چکا ہو ۔۔۔۔
( حمنہ یہ سب کیا ہے یار ۔۔۔ ہو کیاگیا ہے تمہیں ۔۔۔۔
پانچ سال کتنے اچھے گزرے ہیں ہمارے ۔۔۔ کیوں میری اور اپنی زندگی کو آزمائش بنا رہی ہو ۔۔۔۔ ” اس ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لینا چاہا لیکن اس نے پیچھے کر لیا دونوں بازو بیڈ پر رکھ خود بیٹھنے کی کوشش کرنے لگی جو بھوکے رہنے کی وجہ سے ہونی والی نقاہت سے مشکل لگ رہا تھا وہ بہت نرمی اور اپنایت سے کہہ رہا تھا لیکن حمنہ کے لئے ہر بات بے معنی تھی
” آزمائش میں تو میں پڑ گئ ہوں ۔۔۔۔ میری زندگی ایک اذیت میں گزر رہی ہے ۔۔۔۔ جیسی زندگی آپ گزار رہیں ہیں میں سب کچھ جان کر ایک دن بھی نہیں گزار سکتی ۔۔۔با خدا مجھے پہلے علم ہوتا تو آپ سے شادی کی نا کرتی ۔ ” حمنہ کی بات پر وہ بجھ کر رہ گیا تھا
” یہ صرف تمہاری فرسودہ سوچ ہے اور کچھ نہیں۔۔۔۔ میں تم سے محبت کرتا ہوں حمنہ ۔۔۔۔۔ تمہیں الگ نہیں کر سکتا ٹرائے ٹو انڈسٹینڈ۔۔۔۔ ” اصفر کی بات سن کر وہ اسے غور سے دیکھنے لگی ۔۔۔ بے بس تو بھی لگ رہا تھا ۔۔۔
” ٹھیک ہے آپ اپنے والد اور انکے ہاسپٹل کو چھوڑ دیں میں خلع کا نوٹس واپس لے لوں گی ” ایک نیا امتحان تھا جس وہ اسے ڈال رہی تھی
” واٹ آ ربش ۔۔۔۔۔ ڈیڈ کو کیوں چھوڑ دوں ” ۔وہ تلملا سا گیا تھا
“محبت کرتے ہیں نا آپ مجھ سے ۔۔۔ میرے لئے اتنا تو کر ہی سکتے ہیں ” حمنہ بات پر وہ بے ساختہ بولا تھا
” نو ۔۔۔ نتھنگ ڈیڈ کو چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔۔ میں تو ساری زندگی ڈیڈ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔ اور تمہیں بھی ڈیڈ سے اپنی غلطی کے لئے سوری کہنا چاہیے “۔حمنہ نے اصفر بات سن کر بلا تامل کہا
“غلطی؟ کیسی غلطی ” حمنہ نے ناگواری سے اسے دیکھا تھا اصفر متحیر ہوا
۔”تمہیں اپنی غلطی کا احساس تک نہیں ہے حمنہ تم نے جھوٹا کیس کروایا ہے میرے ڈیڈ پر۔۔۔ میڈیا میں غلط باتیں پھیلا رہی تھی اس یوسف کی باتوں میں آ کر ۔۔۔۔شاید جیلس ہے وہ ۔مجھ سے میری اور ڈیڈ کی کامیابی سے اس لئے خود تو کچھ کر نہیں سکتا تمہیں مہرہ بنا رہا ہے ” اصفر کی اپنی سوچ تھی ۔۔۔۔ اپنے ہی قیاس تھے ۔”
“اصفر کیا آپ واقع اتنے ہی انجان ہیں یا یہ بھی کوئی نئ چال میرے ساتھ چل رہے ہیں” حمنہ کو لگا تھا کہ وہ اپنے باپ کے ہر عمل سے واقف ہو گا
“واٹ ڈو یو مین ؟ “وہ نا فہم نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔
” قاتل ہے آپ کا باپ ۔۔۔ مار ڈالا انہوں میری ماں کو ” حمنہ چلا کر بولی پھر رونے لگی اصفر آپے سے باہر ہوا تھا
” کچھ بھی بکواس کرو گی تم ۔۔۔۔ “, وہ چلا کر بولا وہاں سے کھڑا ہو گیا
” میرے ڈیڈ نے تو تاریخ بھی نہیں ڈالی تھی تمہاری امی کے لئے اسی وقت آپریشن کرنے کے لئے تیار ہو گئے تھے۔۔۔۔ اب یہ اللہ کا فیصلہ تھا ورنہ کئ سال ہو چکے ہیں ڈیڈ کے ہاتھوں کبھی کوئی آپریشن نا کام نہیں ہوا ۔۔۔ تم میرے باپ کی کمائی کو حرام سمجھتی ہو ۔۔۔۔ ذرا عقل سے سوچو اگر وہ برے ہوتے تو کیا اللہ انکے ہاتھ میں شفا رکھتا ۔۔۔۔ ؟
میرا باپ دل جان سے مریضوں کا علاج کرتا ہے ۔۔۔ ایسے مریض انکے ہاتھ سے صحت یاب ہوئے ہیں جن کو بڑے بڑے شہروں کے ڈاکٹروں نے جواب دے دیا تھا ۔۔۔۔ اگر وہ قاتل ہوتا یا حرام کھا رہا ہوتا تو اللہ شفا جیسی اتنی بڑی نعمت سے انہیں نا نوازتے لیکن تمہارے اپنے ہی الگ عقائد ہیں ” اصفر کو اپنا باپ ہر حال میں ٹھیک اور حق پر لگ رہا تھا
” اللہ تعالیٰ مہلت دیتا ہے اپنے بندوں انہیں سدھرنے کا پورا موقع دیتا ہے ۔۔۔رہ گئ شفا کی بات تو وہ اپنی نعمتوں کو اپنے بندوں کو دے کر بھی آزماتا ہے ۔اور لے کر بھی دیکھتا ہے کہ اس کا بندہ کتنا استقامت۔سے کام لیتا ۔۔ اسکی مہلت اور آزمائش کو اسکی رضا سمجھ کر غلط روش پر قدم مت بڑھائیں ۔۔۔ جس دن اس نے احتساب لینا شروع کیا تو کہیں کے نہیں رہیں وہ لوگ جو جو اپنے غرض کی لالچ کے لئے نا حق قتل کرنے سے گریز نہیں کرتے ۔۔۔ میں نے کوئی جھوٹا کیس نہیں کروایا۔۔۔۔ جو کچھ اس کسان کے بچے کے ساتھ ہوا ہے اگر ۔۔۔”۔
“بس حمنہ میں ڈیڈ کے بارے میں کچھ بھی سننا نہیں چاہتا ۔۔۔۔۔ تمہیں اگر ان کے ساتھ مسلہ ہے تو اسے تم خود سولو کروں گی ۔۔۔۔ “)
حمنہ کی باتوں کی سچائی کا اب احساس ہو رہا تھا وہ سب سچ کہہ رہی تھی لیکن اسی نے کچھ نہیں سنا تھا ۔۔۔۔ اس کی ہر بات سچ تھی ۔۔۔۔ اس کا باپ قاتل تھا ۔۔۔۔ عبدالباری کا ۔۔۔۔ اور نا جانے اس سے پہلے کتنوں کو ا یونہی قتل کیا ہو ۔۔۔۔
دوسری جانب حسن کمال نے وکیل سے کہا کہ سارا کیس حمنہ پر ڈال دیا جائے کیونکہ ایک کنٹریکٹ پر وہ حمنہ سے سائن لے چکے تھے ۔۔۔۔ تا کہ جب چاہیں اسے حمنہ کے خلاف استعمال کر سکیں ۔۔۔۔ حمنہ کے بارے یہ بھی پتہ تھا کہ رو پوش ہو چکی ہے ۔۔۔ اس لئے وہ مجرم بن جاتی توبد نام وہی ہوتی عبدالباری کے آپریشن کی شروعات تو حمنہ کے سامنے ہی ہوئی تھی ۔۔۔۔ جب اصفر حسن کمال سے ملنے گیا تو وکیل بھی وہیں موجود تھا جسے حسن کمال یہ کہہ رہے تھے کے وہ سارا الزام حمنہ پر ڈال دے انکے پاس حمنہ کا سائن کیا ہوا کنٹریکٹ موجود ہے جس میں صاف لکھا ہے کہ عبدالباری کا آپریشن حمنہ نے کیا ہے ۔۔۔۔ اصفر خاموشی سے باپ کی باتیں سن رہا تھا۔۔۔۔ حمنہ کی باتیں سچ تھیں ۔۔۔۔جو وہ اسے فارم ہاؤس میں بتا رہی تھی یا بتانا چاہتی تھی لیکن وہ اپنے باپ بہت محبت کرتا تھا اسی لئے اسے کبھی بھی وہ غلط نہیں لگتے تھے ۔۔۔ وہ سمجھتا تھا اس کا باپ اچھا ہے جبھی تو اللہ نے انکے ہاتھ میں شفا رکھی ہے ۔۔۔ انکی ان تھک محنت نے انہیں اس مقام تک پہنچایا ہے لیکن نہیں وہ غلط کرتے تھے ۔۔۔۔ اور پیسوں کی خاطر کئ جانیں لے چکے تھے ۔۔۔۔ پیسے کی ہیر پھیر دنیا کرتی ہے اس لئے یہاں تک تو اصفر کو بھی اعتراض نہیں تھا لیکن کسی کی جان سے تو اس نے آج تک نہیں کھیلا تھا فیس وہ بے شک ذیادہ لیتا تھا لیکن جان بوجھ کر غلط آپریشن کرنا یا غریب مریضوں کے آپریشن کے نام پر جسم کے اجزاء نکال کر دوسروں کو لاکھوں کروڑوں میں بیچنا ۔۔۔ یہ تو بہت بڑا ظلم تھا غریبوں کے ساتھ ۔۔۔۔ اصفر کو سامنے دیکھ کر حسن کمال نے اسے پاس بلایا وہ مرے مرے قدموں سے انکے پاس پہنچا تھا ۔۔۔۔
” میری بات سنو بیٹا ۔۔۔۔ دیکھوں اس وقت میرے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے اس لئے تم میراساتھ دو ۔۔۔۔ میں تمہارا باپ ہوں میں نے تم لوگوں کے لئے بہت کچھ کیا ہے ۔۔۔۔ اب تمہارا بھی تو فرض بنتا ہے کہ اولاد ہونے کا حق ادا کرو ۔۔۔۔ تم مجھے بے قصور ثابت کر سکتے ہو دیکھوں اصفر آپریشن حمنہ نے کیا تھا ۔۔۔ قصور وار وہ ہے ۔۔۔جبھی تو دیکھوں بھاگ گئ ہے ۔۔۔۔وہ تو شکر ہے کہ میرے پاس ثبوت موجود ہے ۔۔۔ تم ہاسپٹل میں میرے روم میں جا کر
میرے دراز سے وہ پیپر ڈھونڈ کر وکیل صاحب کو دیدو جس میں حمنہ کے سائن ہیں ۔۔۔۔ وہ پیپر بہت قیمتی ہے بس وہ پیپر ہی مجھے بے گناہ ثابت کر سکتا ہے ۔۔۔۔ اصفر تم کروں گئے نا ؟” حسن کمال کی کہانی اصفر نے خاموشی سے سنی تھی ۔۔۔ پھر اثبات میں سر ہلا دیا ۔۔۔۔ پھر حسن کمال کے کمرے
اسے وہ پیپر بھی مل گئے اصفر نے ایک سکینڈ نہیں لگایا تھااسے پھاڑنے میں ۔۔۔۔ کئ ٹکڑے کر کے اسے پھنک دیا تھا پھر ایک نیا آگری منٹ بنایا جس میں یہ لکھا تھا کہ یہ آپریشن اس نے کیا تھا کیونکہ عبدالباری کا کیس سب سے پہلے اسی کے پاس آیا تھا ۔۔۔۔ اور یہ بات ثابت کرنا ۔مشکل نہیں تھا ۔۔۔۔
حمنہ بے قصور تھی سچی تھی اپنی ایمان کی خاطر اپنی ماں کی قربانی دی تھی اس نے ۔۔۔ پھر اسکی بیوی تھی محبت بھی تھی۔۔۔۔۔ اسے بد نام کرنے غلط الزام لگانے پر اصفر کے ضمیر نے اجازت نہیں دی تھی ۔۔۔۔۔ لیکن باپ نے اپنا حق مانگا تھا ۔۔۔۔ اس لئے ۔۔۔ چپ چاپ ہر الزام خود پر لے لیا ۔۔۔۔ اپنے خلاف سارے ثبوت اس نے خودعدالت کے سامنے رکھے تھے
وہ ویڈیو جس میں عبدالباری اصفر کے روم میں چیک اپ کے لئے گیا تھا وہ سلپ جس میں اصفر نے اسے وہی ایڈمٹ ہونے کے لئے لکھ کر دیا تھا ۔۔۔۔
ٹیسٹ رپوٹوں کی سلپ پر اسکے سائن۔۔۔ پہلی پیشی میں اس نے باپ کو بحال کر کے خود کو مجرم ثابت کرتے ہوئے کٹہرے میں کھڑا کر دیا تھا ۔۔۔۔ حسن کمال کے تو ہوش اڑ گئے تھے ۔۔۔ یہ کیا کیا تھااصفر نے ۔۔۔۔
جب سارے ثبوت اس نے خود دے دیے تھے اور اقبال جرم بھی کر لیا تھا تو فیصلہ بھی اسی وقت ہو چکا تھا اس کے بعد اصفر سیدھا سینٹرل جیل ہی لے جایا گیا تھا ۔۔۔۔ بہت بڑی بلٹنگ تھی ہاتھوں میں ہتھکڑی باندھے ۔۔۔ دھکم پیل سے وہ باقی قیدیوں کے ساتھ اندر پہچا تھا ۔۔۔۔ پولیس آفیسران نے فائلیں ایک نظر دیکھ کر ہی ہولدار کو سب کی جیلوں کے نمبر بتائے تھے ۔۔۔۔
پھر کندھے اور سروں پر تھپڑوں کااستعمال کرتے ہوئے انہیں ایک اندھیر سی لمبی گلی سے ہوتے ہوئے جیلوں کاسلسلہ شروع ہوا تھا وہاں دن کی روشنی کا کوئی عمل دخل نہیں تھا اس لئے بس ہلکی روشنی کے پیلےبسے بلب ہر جیل نما کوٹھری میں جل رہے تھے ۔۔۔ سفید وریوں میں قیدی زمین پر بیٹھے تھے ۔۔۔ اتناگھٹن زردہ ماحول تھا کہ سانس لینا دوبھر تھا ۔۔۔ کچھ گھٹن اپنے اندر۔ ھی موجود تھی وہاں وہ حسن کمال کا بیٹا نہیں تھا ۔۔۔ایک عام مجرم قیدی تھااس لئے سلوک بھی ایک عام قیدیوں والا ہی برتا جا رہا تھا ۔۔
ایک جیل کا تالا کھولا کر اسے بھی سندر دھکیل کر بھیجا گیا تھا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔ پہلی رات جیل میں کاٹنی بڑی مشکل تھی ۔۔۔۔ بند کوٹھری سمنٹ کی دیواریں۔۔۔ سامنے ایک چھوٹا سا کولر اس پرایک ہی اسٹیل کا گلاس زمین پر بچھی بوسیدہ دریاں ۔۔۔۔ پوری چھت پر واحدایک پیلے رنگ کا بلب تھا جس کی روشنی اس کوٹھری کو مکمل روشن کرنے میں نا کام تھا ۔۔۔۔ اور
سامنے لگیں لوہے کی سلاخیں ۔۔۔ اندر اسکے علاؤہ تین مجرم اور تھے ۔۔۔۔ سب قاتل تھے اور پھانسی کی سزا سن چکے تھے ۔۔۔اچھے خاصے ہٹے کٹے تھے ۔۔۔۔ بے ترتیبی سے بڑھے بال بڑھی ہوئی داڑھی مونچھیں انکے چہرے حلیے اور بے خوف خونخوار آنکھوں سے پہلے تو اصفر کو بہت خوف محسوس ہوا تھا ۔۔۔۔ پہلی بار جیل کو حقیقت میں دیکھا تھا ۔۔۔۔اس لئے ایک کونے میں۔ بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔دل پر اتنا بوجھ تھا کہ گھٹنوں کو جوڑے اس پر بازو رکھے اپنا منہ چھپائے وہ رونے لگا تھا ۔۔۔۔۔ ساری زندگی جس باپ کو آئیڈیل رکھتا آیا تھا جس کا امیج اسکی نظر میں بہت اونچا تھا جس کی پرسنلٹی کو وہ بچپن سے سراہتے اور اپناتے آیاتھا ۔۔۔۔ آج اسی شخصت کی اصل صورت جس بری طرح سے مسخ سی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ وہ جتنے آنسوں بہاتا اتنا کم تھا
اسکے اس طرح سے پھوٹ پھوٹ کے رونے پر تینوں مجرم ہسنے لگے ۔۔۔۔
” ابے کیا غلطی سے قتل کر بیٹھا تھا جو یوں رو رہا ہے ۔۔۔۔ ” ان میں سے ایک نے کہا
” مجھے تو لگتا ہے پہلے ہی قتل پر پکڑا گیا ہے ۔۔۔۔ کچا کھلاڑی ہے ” دوسرا بولا
” کیا پھانسی کی سزا ہوئی ہے ؟” تیسرے نے پوچھا اصفر نے سر اٹھا کر دیکھا اپنے آنسوں پونچے ۔۔۔۔ وہ تینوں اسکے پاس آ کر بیٹھ گئے ۔۔۔
” اب بتا کس کاقتل کر کے آیا ہے ؟”
” اپنا ۔۔۔۔ ” اصفر کے جواب پر تینوں نے حیرت سے پہلے اصفر کو دیکھا پھر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے
” اپنا ۔۔۔ کیا مطلب ؟” تینوں نے بیک وقت پوچھا
” کل کی رات ضمیر کے ساتھ جنگ تھی میری ۔۔ پوری رات لڑنے میں گزر گئ۔۔۔۔بس اس کے ہاتھوں مر کر یہاں پہنچ گیا ۔۔۔۔ اس لئے اپنی میت پر رو رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔ (انسان کے لئے سب سے مشکل کام اپنا احتساب کرنا ہے ۔۔۔۔ سب سے مشکل جنگ وہ ہے جو انسان اپنے ضمیر کے ساتھ لڑتا ہے کیونکہ ضمیر جھوٹ نہیں بولتا غلط بات پر ہامی نہیں بھرتا ۔۔۔۔ نا ہی رشوت کھا کر ہمارے حق میں فیصلہ دیتا ہے ۔۔۔۔ ضمیر وہ توآئنہ دیکھتا ہے جس میں ہمہیں اپنا چہرہ بڑا صاف دیکھائی دیتا ہے ۔۔۔۔ ضمیر سے لڑنے کا فایدہ یہ ہے کہ انسان کی ہار اسے سیدھی راہ پر لے جاتی حق اور سچ کی راہ پر ۔۔۔۔ )
رات کے کھانے میں سوکھی روٹی اور سبزی کھاتے ہوئے ۔۔۔۔ پہلا نوالہ اصفر کے حلق میں اٹکا تھا ۔۔۔۔ چند نوالوں کے بعد ہی اصفر پیچھے ہٹ گیا اگلے روز کھانا اسکے گھر سے آیا تھا لیکن اس نے واپس بھجوا دیا ۔۔۔۔ چند دن۔ بعد ہی اسکی ڈیوٹی جیل میں بنے ہاسپٹل پر لگ گئ ۔۔۔۔ جہاں زیادہ تر کیس نشے کے مریضوں کے تھے ۔۔۔۔ ویسے کہنے کو وہ جیل تھی لیکن ایک مجرم شاید باہر رہ کر اتنا خطرناک مجرم نہیں بنتا جتنا جیل کے اندر رہ کر بنتا ہے ۔۔۔ اصفر کے لئے یہ سب دیکھنا پہلا اتفاق تھا ۔۔۔۔ حیرت اسے یہ تھی کہ آخر اس جیل میں نشےآور پڑیاں۔ پہنچتی کیسے ہیں ۔۔۔۔ اس سے پہلے یہ سب سب جان پاتا اپنی والدہ سے ملاقات پر وہ اپنا ضبط کھو بیٹھا تھا ۔۔۔۔ لیکن یہ نہیں جانتا تھا کہ ماں سے ڈھکی چھپی سچائی بھی برداشت نہیں ہو گی ۔۔۔۔ ماں کی وفات کاصدمہ اس کے لئے کم نہیں تھا ۔۔۔۔ لیکن جیل میں کہاں کچھ ایسا کچھ سوگ منانے دیتے ہیں چند دن بعد ہی وہ دوبارہ ڈیوٹی پر پہنچ گیا تھا ۔۔۔۔
وہاں کے ڈاکٹر ڈاکٹر کم اور قصائی ذیادہ تھے ۔۔۔۔
ایک ڈاکٹر ایک مریض کو بری طرح سے پیٹ رہا تھا تھپڑ مکے گھونسوں سے مار رہا تھا ساتھ ساتھ یہ بھی پوچھ رہا کہ “اب کرے گا نشہ ؟
اصفر نے ہی اسکے پاس جا کر اسے اس ۔مریض سے دور کیا تھا ۔۔۔۔
“یہ کیا کر رہے ہیں آپ مر جائے گاوہ “
” ابے یہ حرامی یونہی سدھریں گئے ۔۔۔ “اتنی جلدی نہیں مرتے ۔۔۔ حرام خور سالے نشہ کرتے ہیں ” وہ ڈاکٹر یہ کہہ ہانپتے ہوئے چلا گیا وہ مریض بھی شاید ڈھیٹ ابن ڈھیٹ تھا منہ سے خون صاف کرتے ہوئے بھی مسکرا رہا تھا ۔۔۔۔ لیکن ہونٹ کے زخم نے کراہنے پر مجبور کیا تھا پھر مغلیات بکنے لگا
” کمینہ ۔۔۔ سالا ۔۔۔کتے کا بچہ ۔۔۔ نشہ خود لا کر یہاں بچتے ہیں اور کہتے ہیں جوتے مار کے عادت ہٹاو۔۔۔ ہنہ ” وہ مریض جیسے خود سے ہمکلام تھا ۔۔۔۔ اپنے پھٹنے ہوئے زخمی ہونٹ کو مٹی سے اٹے ہاتھ سے صاف کرنے لگا پھر
اصفر کو دیکھ کر غصے سے گھورنے لگا
” کیا ہے ابے ۔۔۔۔ یہاں کھڑا کیا دیکھ رہا ہے چل پھٹ یہاں سے خالی پیلی تماشہ دیکھنے کھڑے ہو جاتے ہیں ” عمر میں وہ نوجوان لگ بھگ اسی کی عمر کا تھا ۔۔۔۔ آنکھیں نشے سے چور تھیں لیکن تھا حوش و حواس میں ۔۔۔۔
جب اصفر کو وہیں کھڑے دیکھا تو اپنی بھنویں سوالیہ انداز میں اچکانے لگا
” اب کیا ہے ” اس نے دو بارہ پوچھا تو اصفر نے سائیڈ سے کاٹن پکڑی اور اس پر ڈیٹول لگا کر اس کے چہرے پر لگے زخم صاف کرنے لگا ۔۔۔۔ وہ نوجوان اسے غور سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ وہ بہت نرمی سے اسکے ساتھ پیش آ رہا تھا ۔۔۔۔
لیکن ہونٹ برہ طرح پھٹ چکا تھا اسے صاف کرنے سے وہ ضرور مچلا تھا ۔۔۔۔
” ابے آرام سے ” وہ تڑپ کا بولا
” میں تو بہت آرام سے ہی کر رہا ہوں ۔۔۔ اب تھوڑا تو برداشت کرنا پڑے گا ۔۔۔۔ “اصفر نے اسے دوا لگا دی ۔۔۔۔
لیکن اگلے روز وہ پھر سے نشہ کرنے پر مار کھا رہا تھا ۔۔۔۔ اصفر نے اس کا کیس خود ہینڈل کرنے کے لئے لے لیا ۔۔۔
وہ لڑکا نشے کا عادی تھا ۔۔۔۔۔ اور اسکی جیل بھی الگ تھی پتہ نہیں پوڈر اسے ملتے کہاں سے ۔۔۔
ایک دن اصفر اسے دوا دے رہا اس دن وہ بڑاخوش تھا ۔۔۔۔ غالب نام تھااس لڑکے کا اچھا خوش شکل تھا۔۔۔۔ قتل کے کیس میں ہی آیا تھا لیکن ابھی کیس زیر سماعت تھا
“آج تو بہت خوش ہو اور منہ سے نشے کی بو بھی نہیں آرہی
“کل عید ہے میری ۔۔۔۔ باہر کی آب وہوا کھانے جانا ہے میں نے پیشی ہے میری ” وہ بڑی ترنگ میں کہہ رہا تھا
” مطلب رہائی کی امید ہے “
” ابے نہیں یار ۔۔۔۔ رہائی کہاں ملتی ہے کوئی اونچے پوسٹ والے کی اولاد تھوڑی ہوں ۔۔۔ عام عوام ہوں جہنیں لوگ کیڑے مکوڑوں کی طرح رول دیتے ہیں۔۔۔۔ جرم کوئی بھی کرے ہتھیلی پے رکھ کر مسل ہمہیں دیا جاتا ہے ۔۔۔۔ کوئی نہیں پوچھنے آتا مجھے ۔۔۔ ابا نے بھی درجن بھر بچے پیدا کر رکھے ہیں ایک میں مر بھی گیا تو اٹھ بیٹے ہیں اس کے پاس ۔۔۔۔ اسکی میت میت کو کندھا دینے کے لئے ” وہ لڑکی باغی اور بے باک سا تھا
” شرم کرو باپ کے لئے ایسے الفاظ استعمال کر رہے ہو “
” باپ ہونے کا مطلب کیا ہے تمہاری نظر میں ڈاکٹر
بس بچہ پیدا کرو اور دو وقت کی پیٹ بھر روٹی بھی نا دے سکو۔۔۔ ذرا سا چلنے پھرنے قابل ہو تو۔ ہاتھ میں ایک پرانہ کپڑا پکڑا کر لمبی گاڑیوں کی قطاروں کے سامنے کھڑا کر کے کہو کے رات کو گھر میں تب۔ آنا جب جیب میں سو روپیہ ہو ۔۔۔۔ بس ہو گیا فرض پورا آپ ہونے کا ۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آتا جب جیب اجازت نہیں دیتی تو بچوں کا ڈھیر لگانے کی ضرورت کیا ہے ۔۔۔ ” غالب کی وہ بہت غور سے سن رہا تھا ۔۔۔۔
دیکھنے میں بہت خوبصورت ہو تم۔۔۔ بس نشہ کرنے سے آنکھوں کے گرد ہلکے ہو رہے ہیں۔۔۔ اگر چھوڑ دو تو کچھ بھی اچھا کر سکتے ہو “
” رہنے دے یارا میں ایسے ہی مزے میں ہوں بس ایک سوٹا لگانے کی دیر ہے دنیا پر اپنی بادشاہت نظر آتی ہے ۔۔۔۔ ” وہ بڑی موج میں بول رہا تھا ۔۔۔
” تمہارے پاس یہ آتا کہاں سے ہے ” اصفر کو تجسس سا ہوا تھا
” اتنی بھی جلدی کیا ہے پیارے تم بھی یہیں اور ہم بھی یہیں ۔۔۔ لگ جائے گا پتہ ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر غالب واپس اپنی جیل میں جا چکا تھااصفر کی ڈیوٹی اس عارضی سے بنے کلینک میں۔ ہی تھی
وہاں پر سب قیدیوں کو اس کی تعلیم اور ہنر کے حساب سے کام دیے جاتے ہیں ۔۔۔۔
کسی کو کپڑے سینے پر لگا دیا جاتا تو کسی کو کھانا بنانے پر اور پھر اجرت بھی دی جاتی تھی ۔۔۔۔ لیکن بہت کم ۔۔۔۔
” ڈیڈی ” نور کی آواز پر اصفر چونکا تھا ۔۔۔
وہ دروازہ کھولے اندر کھڑی اسے پکار رہی تھی
“نور تم یہاں ” اصفر اٹھ کر اس کے پاس چلا گیا نور گڑیا ہاتھ میں پکڑے کچھ خوفزدہ سی تھی
” کیا بات ہے نور “
” مجھے ڈر لگ رہا ہے ” یہ کہہ اس نے اصفر کا ہاتھ زور سے پکڑا تھا اصفر نے اگلے ہی لمحے اسے گود ۔میں لیا تھا
” کیوں ڈر لگ رہا تھا ممی کہاں ہیں تمہاری “
” وہ سو رہی ہیں ۔۔۔ مان بھیا بھی سو رہا ہے ۔۔۔ بس مجھے نیند نہیں آ رہی اس کمرے کی کھڑی کوئی کھٹکھٹا رہا تھا ۔۔۔۔ میں اس لئے بھاگ کر یہاں آ گئ ” نور اب بھی۔ خوفزدہ تھی ۔۔۔
“او کے تم میرے ساتھ سو جاؤں تمہیں بلکل ڈر نہیں لگے گا ۔۔۔۔ ” اصفر اسے بیڈ پر لے گیا اسے دھیرے سے بیڈ پر لیٹا کر خود بھی اسکے برابر میں لیٹ گیا پھر اسکا سر اپنے بازو پر رکھ دیا اس ہاتھ پکڑ کر چومنے لگا
” میری بیٹی کو کیوں ڈر لگ رہا تھا ۔۔۔ رات کو ہوا تیز چلتی ہے اس لئے کھڑی ہواسے بجتی ہے ہ
ہمہیں لگتا ہے کہ کوئی کھٹکھٹا رہا ہے ۔۔۔۔ اتنی سی بات ہے نور ۔۔۔۔ اتنی سی بات پر ڈرتے نہیں ہیں ۔۔۔۔”
” لیکن مجھے تو ڈر لگتا ہے ۔۔۔۔ ” نور نے معصومیت سے کہا اصفر اسے دیکھ کر مسکرانے لگا
” ہممم تم لٹل ڈول ہو نازک سا دل رکھنے والی ۔۔۔ ڈر تو لگے گا ۔۔۔ چلو آنکھیں بند کرو میں تمہیں ایک لٹل ڈول کی کہانی سناتا ہوں جو بہادر تھی اور کسی چیز سے نہیں ڈرتی تھی۔۔۔ نور نے آنکھیں بند کر لیں تھیں ۔۔۔ اصفر اسے کہانی سنانے لگا کچھ ہی دیر میں وہ سو چکی تھی ۔۔۔۔
******…..****
حمنہ کی آنکھ کھلی تو نور بستر سے غائب تھی وہ ہڑبڑا کر اٹھی تھی ۔۔۔ رضائی ہٹا کر دیکھا لیکن صرف ایمان ہی سو رہا تھا نور وہاں نہیں تھی
“نور ۔۔۔۔ کہاں جا سکتی ہے اس وقت ” حمنہ فوراسے اٹھی اپنی گرم شال اوڑھے کمرے سے باہر نکلی لیکن نا وہ لاونج میں تھی نا کچن میں ۔۔۔ سب صرف اصفر کا کمرہ ہی بچا تھا دیکھنے کے لئے
اس نے دھیرے سے دروازہ کھولا تھا وہ اصفر کے ساتھ لگ کر سوئی ہوئی تھی۔۔۔ یقینا سوئے ہوئے ڈر گئ تھی ۔۔۔ اکثر ڈر کر ہی وہ سب سے پہلے کمرے سے باہر نکلتی تھی ۔۔۔ لیکن ڈھونڈتی ہمیشہ حمنہ کو تھی لیکن اس بار تو وہ اسکے ساتھ ہی سوئی تھی ۔۔۔ پھر اسے ساتھ لگنے کے بجائے اٹھ کر ادھر اصفر کے پاس کیوں آ گئ تھی ۔۔۔۔ حمنہ کے لئے یہ بات بھی فکر کا باعث بن رہی تھی ۔۔۔
بچے اس کی طرف راغب ہونے لگے تھے ۔۔۔ جو باتیں حمنہ سے نہیں کرتے تھے اپنے تک رکھتے تھے اب وہ باپ سے بلا جھجک کہتے تھے ۔۔۔۔ وہ کمرے سے باہر نکلنے کے بجائے بیڈ کی دوسری جانب بیٹھ کر دھیرے سے نور کو گود میں لینے کی کوشش کرنے لگی تا کہ اپنے کمرے میں اپنے پاس لیٹاسکے لیکن نور جیسے ہی اصفر کے بازو سے نیچے کو کھسکی
اصفر کی فورا سے آنکھ کھل گئی ۔۔۔
” تم ۔۔۔ کیا ہوا ” اسے حمنہ کو اپنے کمرے میں دیکھ حیرت ہوئی تھی پھر اسکے چہرے پر پھیلے پریشانی کے تاثرات دیکھ کر بھی وہ حیران تھا
” وہ ۔۔۔۔ وہ نور ۔۔۔۔ کمرے میں نہیں تھی اس لئے میں پریشان ہو گئ تھی ۔۔۔ ڈر جاتی ہے وہ رات کو ۔۔۔ پھر میرے ساتھ ہی سکون ملتا ہے اسے ” حمنہ نے وجہ بتائی
” ہاں ڈر ہی گئ تھی اسی لئے یہاں میرے پاس آئی تھی ابھی سوئی ہے ۔۔۔ تم جاؤں آرام کرو اسے یہی سونے دو “اصفر بھی بہت دھیرے سے بول رہا تھا تا کہ نور کی آنکھ نا کھل جائے
” نہیں مجھے اسے اپنے کمرے میں لیکر جانا ہے ۔۔۔ مجھے اسکے بغیر نیند نہیں آئے گی ” حمنہ اپنے موقف پر ہی قائم تھی
” حمنہ وہ ابھی سوئی ہے ۔۔۔ اگر تمہارے اٹھا کر لے جانے سے اٹھ گئ تو شاید پھر سونے میں وقت لگ جائے گا ڈسٹرب ہو گی وہ “
” نہیں ۔۔۔ بس مجھے اسے اپنے پاس لیکر جانا ہے ” اصفر کو حمنہ کی ضد پر حیرت تھی
” اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔۔ تم رہنے دو میں اسے اٹھا کر تمہارے کمرے میں لیٹا دیتا ہوں ۔۔۔۔ ” اصفر نے ہی ہار ماننی تھی نا جانے کس بات کی بے اعتباری تھی ۔۔۔۔ جیسے وہ پھر سے بچوں کو اس سے دور کر دے گا ۔۔۔۔ اصفر نے بہت آرام سے نور کو گود میں لیا تھا اور حمنہ کے کمرے میں بیڈ پر لیٹا کر واپس چلا گیا
حمنہ نور کے ساتھ لیٹ کر اسے سینے سے لگانے لگی چومنے لگی نا جانے کیوں اسے یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ جیسے بچے اس سے دور ہونے لگے ہیں
