Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415

Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 25

644.1K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Noor-e-Emaan Episode 25

Noor-e-Emaan by Umme Hani

دونوں بچے لان میں فٹ بال کھیل رہے تھے ۔۔۔۔ مسز بیگ کرسی پر بیٹھی انہیں دیکھ رہیں تھیں ۔۔۔۔ اصفر کسی مسافر کی طرح وہاں سے گزرتے ہوئے بس ایک نظر ڈال کر گزر جاتا تھا ۔۔۔ ہر پندرہ بیس منٹ بعد وہ ایک چکر لگاتا تھا تا کہ اس پر شک نا ہو اس بار جب وہ چکر لگانے آیا تو بچے لان میں اکیلے تھے ۔۔۔۔

اس لئے وہ بچوں کو پکارنے لگا دونوں اسے جانتے تھے اس لئے اسکے پاس آ گئے

” انکل آپ ” دونوں بچوں نے بیک وقت کہا ۔۔۔۔

کچھ پل تو انہیں دیکھتا ہی رہا ۔۔۔۔ جی چاہا دروازہ کھولے اور سینے سے لگا لے دونوں کو

” ہاں ۔میں۔۔۔ تم لوگ یہاں کیا کر رہے ہو یہ تو بیگ صاحب کا گھر ہے ” ۔اصفر نے یوں ظاہر کیا جیسے ہر بات سے انجان ہو اور ڈاکٹر بیگ کو اچھے سے جانتا ہو

“ہاں وہ ہمارے دور کے نانا لگتے ہیں ۔۔۔ آپ کیسے جانتے ہو انہیں” ایمان نے پوچھا

” میں انکا ہی تو ڈرائیور ہوں ۔۔۔۔۔ “اصفر نے ایک کہانی گڑنی شروع کی

” لیکن انکا تو کوئی ڈرائیو نہیں ہے وہ تو خود گاڑی چلاتے ہیں ” ایمان نے جواب دیا

” میں ہاسپٹل میں ہوتا ہوں ۔۔۔۔حمنہ آپکی ممی ہے ؟ “

“جی ہاں ممی ہے آپ انکو بھی جانتے ہو ؟ نور نے سوال کیا

” ہاں انہوں نے ہی تو مجھے بھیجا۔ ہے کہ آپ دونوں کو ہاسپٹل لے جاؤں اور پھر وہاں سے پیزا کھلانے ” اصفر نے لالچ دی دونوں بچے پہلے تو خوش ہو گئے پھر ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔۔۔

” آپ رکیں میں پہلے میم سے پوچھ لوں “ایمان نے جواب دیا اور اندر جانے لگا اصفر کچھ گھبرا سا گیا تھا اسکی پولپل میں کھل سکتی تھی جو وہ چاہتا نہیں تھا

” “او کے ٹھیک ہے جاؤں وہ تو منع کر دیں گی ۔۔۔۔ کیونکہ کچھ دن پہلے بھی تم لوگ پیزا کھا ہے ہو اپنی ممی کے ساتھ “

یک دم ہی اصفر کو یاد آ گیا تھا کہ حمنہ نے ان سے پیزا کھلانے کے وعدہ کیا تھا ۔۔۔ تو ظاہر ہے کھلایا بھی ضرور ہو گا ۔۔۔ بچےواقع پہلےحمنہ کے ساتھ پیزا کھا کر آئے تھے ۔۔۔۔ اس لئے اس کے ساتھ جانے کے لئے تیار ہو گئے کہ کہیں میم سچ میں منع نا کردے ۔۔۔۔۔

لیکن گاڑی کافی دیر ڈرائیو ہونے کے بعد ایک گھر کے سامنے رک گئ ۔۔۔۔

“یہ تو ممی کا ہاسپٹل نہیں ہے ” ایمان اب کچھ گھبرایا تھا وہ چھوٹا سا گھر ایسی جگہ تھا جہاں آس پاس ایک بھی مکان نہیں تھا ۔۔۔۔ بس سناٹا سا تھاسڑک کے دونوں اطراف برف تھی ۔۔۔۔

” تمہاری ممی اندر ہیں چلو آؤں ملوان اس سے ” اصفر نے گاڑی سے اتر کر گاڑی کا فرنٹ ڈور کھولا

” نہیں آپ جھوٹ بول رہے ہو مجھے نہیں اترنا پہلے آپ ممی کو باہر بلاؤ ” ایمان نے صاف انکار کیا تھا

” بیٹا ضد مت کروں چلو اندر آؤں ۔۔۔۔ تمہاری ممی اندر ہی ہے ” ایمان نیچے اتر گیا۔ نور بھی نیچے اتر گئ ۔۔۔۔ ایمان اندر جانے کے بجائے نور کا ہاتھ پکڑ کر واپسی کی طرف بھاگنے لگا۔۔۔۔۔ مگر پانچ سال کا بچہ ایک جوان شخص کا مقابلہ تو کر نہیں سکتا تھا لیکن یہ سمجھ گیا تھا کہ لانے والا شخص نہیں دھوکے سے لایا ہے اصفر نے جلدی سے بھاگ کر دونوں کے ہاتھ پکڑے تھے لیکن اس بار دو نوں اندر جانے سے انکاری تھے ۔۔۔۔

” آپ چھوڑے ہمیں ۔۔۔۔۔ ہمیں آپ کے ساتھ نہیں جانا ” ایمان چیخ کر بولا پھر اصفر کے ہاتھ پر کاٹنے لگا تا کہ وہ اسے چھوڑ دے نور رونے لگی دونوں بچوں کو اسے زبردستی گھر کے اندر لانا پڑا بامشکل ہی صحیح وہ انہیں ایک کمرے میں لے جا کر بند کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا باہر سے دروازہ لوک کر کے ۔۔۔۔۔ کچھ دیر لاونج میں بیٹھ گیا ۔۔۔۔ بچے اب دروازہ پیٹ رہے تھے ۔۔۔۔۔ اپنے رشتے کا یقین دلانا اتنا آسان تو نہیں تھا اصفر کے لئے ۔۔۔۔ ظاہر ہے ان دونوں نے اسے پہلے کہاں دیکھا تھا اس حوالے سے ۔۔۔ انکے لئے تو وہ اجنبی تھا ۔۔۔۔

پہلے تو اسے ان کے کھانے پینے کی فکر ستانے لگی۔۔۔ جہاں وہ تھا وہاں سے آبادی دور تھی ۔۔۔ کچھ دیر بعد دروازہ پیٹنے کی آواز بند ہو گئ چھوٹے بچے تھے ،شاید تھک گئے تھے ۔۔۔ رونے کی آواز صرف نور کی آ رہی تھی ۔۔۔۔ پہلے تو دل چاہا کے اندر چلا جائے نور کو چپ کرانے پھر سوچا کہ ابھی تو وہ اسکی بلکل نہیں سنے گئے پھر مغرب بھی چکی تھی اس سے پہلے کے کھانے کو بھی کچھ نا ملے وہ باہر نکل گیا ۔۔۔۔ پیزے اور کوک کے علاؤہ بسکٹ کیک ۔۔۔ اور نا جانے کیا کچھ وہ لے کر آیا تھا

******……

دروازہ کھلا سامنے اصفر لارج سائیز پیزے کا بکس لئے اندر داخل ہوا تھا ۔۔۔ بچے بیڈ پر موجود نہیں تھے کمرے کے کونے میں دبکے بیٹھے تھے ۔۔۔۔ اصفر نے پیزا بیڈ پر رکھ دیا ۔۔۔ پھر ان دونوں کے پاس آکے رک گیا دونوں ڈر کے مارے ایک دوسرے سے چپکے ہوئے تھے پنجوں کے بل وہ ان کے پاس بیٹھ گیا اسے اپنے پس بیٹھا دیکھ کر ایمان ہمت کر کے بولا

” انکل دیکھوں ہمارے پاس نہیں آنا ۔۔۔ ” ایمان نے لہجہ سخت کرنا چاہا

” بیٹا میری بات سنو ” اصفر نے بہت پیار سے کہا

” نہیں تم نے ہمہیں کڈ نیپ کیا ہے ۔۔۔۔ جھوٹ بولا ہے ۔۔۔ اب ہمارے ہاتھ پاؤں کاٹ کر بھیک منگواں گئے ” ایمان نے وہی سب کہا جس سے اکثر حمنہ انہیں ڈراتی تھی ۔۔۔ اصفر سمجھ گیا کہ وہ کس بات سے ڈر رہے ہیں اور انکا ڈرنا جائز بھی تھا ۔۔۔۔

” میں تمہیں کچھ بھی کروں گا ۔۔۔۔ میں نے تمہیں کڈنیپ نہیں کیا ہے ۔۔۔ تمہاری ممی۔ نے ہی مجھ سے کہا تھا کہ میں تمہیں اپنے گھر لے جاوں۔۔۔ ابھی وہ ہاسپٹل میں بزی ہے اس لئے چار پانچ دن گھر نہیں آ سکتی ۔۔۔۔ “

“یہ ہمارا گھر نہیں ہے ” ایمان نے فوراسے اصفر کی بات کی تردید کی

نور تو بس بھائی کے ساتھ لگی روئے جا رہی تھی

اصفر نے نور کو پکڑنے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو ایمان نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا

” خبردار میری بہن کو ہاتھ نہیں لگانا ” بڑے۔ غصے اور قہر سے وہ اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ اصفر کا جی چاہا اس کا منہ چوم لے ۔۔۔۔ بیٹے میں غیرت تو کوٹ کوٹ کر بھری تھی ۔۔۔۔ یہ پتہ تھا کہ اپنی محرم کو رکھنا کیسے ہے

” کیوں ہاتھ نا لگاؤں یہ بیٹی ہے میری اور تم میرے بیٹے ہو ۔۔۔۔۔ “یہ سن ایمان نے نور کو اپنے ساتھ بینچ لیا

” جی نہیں ۔۔۔۔ آپ کڈنیپر ہو ۔۔۔۔۔ ؟”

“نہیں میں ۔۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔ بابا ہوں تمہارا ۔۔۔تمہارا ڈیڈ ۔۔۔ پاپا ۔۔۔۔ جو چاہے سمجھ لو ۔۔۔ جس نام سے چاہو پکار لو ” اصفر کی آواز کپکپا رہی تھی آنکھوں میں آنسوں جھلملا رہے تھے ۔۔۔۔۔ ایمان کچھ دیر بس اصفر کو دیکھتا ہی رہا البتہ نور ایمان اسکے ساتھ ہی لگی ہوئی تھی ۔۔۔ اصفر کو دیکھ بھی نہیں رہی تھی

” نہیں ۔۔۔۔ آ۔۔۔۔۔ آپ جھوٹ بول رہے ہو ۔۔۔۔ میرے پاپا تو اللہ کے پاس چلے گئے ہیں ممی نے بتایا تھا مجھے ۔۔۔ کہ اب واپس نہیں آئیں گئے ” یہ سن کر اصفر کا دماغ گھوم سا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔ اسے لگا کچھ پل دل دھڑکنا ہی بھول گیا ہو ۔۔۔۔حمنہ نے اسے بچوں کی پیدائش سے انجان رکھا سو رکھا بچوں کو کیا اوٹ پٹانگ باتیں بتائیں تھیں ۔۔۔۔ دل چاہا جا کر اس سے پوچھے تم نے اتنے بڑے جھوٹ میرے بچوں سے کس لئے بولے ہیں ۔۔۔۔

” ایک منٹ ” اصفر نے اپنا موبائل نکالا ۔۔۔۔ کچھ دیر موبائل سرچ کر کے اپنی اور حمنہ کی تصویریں ایمان کو دیکھانے لگا ۔۔۔۔۔ شادی کی۔۔۔ مری کی ۔۔۔۔ ہر گیٹ ٹو گیدر میں لی گئیں ۔۔۔۔ جہاں وہ دونوں ایک دوسرے ساتھ کھڑے تھے۔۔۔ بیٹھے تھے ۔۔۔۔ ہنس رہے تھے ۔۔۔ نور بھی اب چپ ہو گئ تھی دونوں بڑے غور سے وہ تصویں دیکھ رہے تھے جہاں اسکی ممی اس شخص کے ساتھ ساتھ تھی

“یہی ہے ہیں نا تمہاری ممی حمنہ ۔۔۔ اصفر نام ہے نا تمہارے پاپا کا ؟ اصفر کے استفسار پر دونوں نے دھیرے سے سر ہلایا ۔۔۔۔

” لیکن ممی نے کہا تھا کہ ایک کار ایکسڈنٹ میں ہمارے بابا اللہ کے پاس چلے گئے تھے ” پھر ممی کے پاس تو آپکی اسی کوئی پک نہیں ہیں ” سارے سوال ایمان ہی کر رہا تھا ۔۔۔

” ہاں میری کار کا ایکسڈنٹ ہوا تھا میں ایک کھائی میں بھی گر گیا تھا ۔۔۔ پھر بے ہوش ہو گیا

سب کو لگا کہ میں مر چکا ہوں ۔۔۔۔ لیکن اللہ جسے چاہے بچا لے ۔۔۔۔ مجھے بھی کسی نے بچا لیا ۔۔۔۔ میں نے تمہاری ممی بہت ڈھونڈا تا کہ اسے بتا سکوں کے میں زندہ ہوں لیکن وہ مجھے کہیں ہیں ملی یہاں تک آپ لوگ اتنے بڑے ہو گئے بس آج ہی تو وہ مجھ ملی تھی ۔۔۔۔ اسی نے مجھے تم لوگوں کے پاس بھیجا ہے ۔۔۔۔ کہہ رہی اب ہم سب ساتھ رہیں گئے

ہوسپٹل میں مریض ذیادہ تھے ۔۔۔۔ اس لئے اس نے کہا میں آپ دونوں کو اپنے نئے گھر ۔میں لے جاؤں۔۔۔۔ وہ کچھ دن بعد آ جائے گی ۔۔۔۔ پھر ہم ساتھ رہیں گئے ۔۔۔۔

“دونوں بے یقین سے تھے ایمان نے اصفر کے ہاتھ سے موبائل پکڑ لیا دوبارہ سے ساری تصویریں دیکھنے لگا ۔۔۔۔ بار بار اصفر کو تصویر میں دیکھتا پھر سامنے دیکھتا۔۔۔۔۔ اصفر ان کی کیفیت سمجھ سکتا تھا

” میں سچ کہہ رہا ہوں میں ہی تم لوگوں کا ڈیڈ ہوں ۔۔۔۔۔ “

اصفر نے نور کے آنسوں صاف کیے

“پھر آپ جب ہمارے گھر آئے تھے تب کیوں نہیں بتایا کہ آپ ہمارے پاپا ہو “

“تب مجھے نہیں پتہ تھا ورنہ میں بتا دیتا مجھے تو آج ہی پتہ چلا ہے حمنہ سے ملنے کے بعد ۔۔۔ جیسے تم لوگوں آج پتہ چلا ہے ۔۔۔۔ نور کو اس نے اپنی گود میں بھر لیا تھا لیکن خوف سے بری طرح کانپ رہی تھی ۔۔۔۔

“نور بیٹا مجھے ڈرو مت ۔۔۔۔ میں ڈیڈ یوں تمہارا ۔۔۔۔

تمہاری ممی جب آئے گی خود تمہیں بتا دے گی ۔۔۔۔ وہ ڈاکٹر ہے اسکی ڈیوٹی ہارڈ ہے ۔۔۔۔ ابھی نہیں آ سکتی ۔۔۔ اسی نے مجھ کہا کہ نور اور ایمان کو پیزا بہت پسند ہے ۔۔۔۔ اسی لئے تو میں پیزا لیکر آیا ہوں ۔۔۔بھوک لگی ہے نا میری لٹل ڈول کو ” اصفر نے بڑے پیار سے پوچھا ۔۔۔۔

نور نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔۔۔۔ بھوک تو واقع دونوں کو لگی تھی ۔۔۔۔ وہ اب رو تو نہیں رہی تھی لیکن سسکیاں ضرور بھر رہی تھی ۔۔۔۔

ایمان بھی چپ تھا بار بار اصفر کو غور سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ اصفر نے اپنا بازو پھیلا کر اسے اپنے پاس بلایا ۔۔۔۔ جھجکتے ہوئے وہ اس کے پاس آیا تھا ۔۔۔۔اسے اپنے سینے سے لگا کر وہ خود بھی رو پڑا تھا ۔۔۔۔ ایسا لگا جیسے پوری کائنات کی خوشیاں اسے مل گئیں ہوں ۔۔۔ پہلی بار اپنی اولاد کو سینے سے لگے پایا تھا ۔۔۔۔ نور اور ایمان اسے یوں روتا دیکھ کر پریشان ضرور ہوئے تھے کوئی کڈ نیپر ایسا تو نہیں ہوتا ۔۔۔ کہ گلے لگا کر رونے لگے پھر تصویریں بھی حمنہ کی ہی اسکے ساتھ تھیں ۔۔۔۔

کافی دیر وہ دونوں کو ساتھ لگاتے روتا تھا ۔۔۔۔ پانچ سال بعد پہلی بار اپنے بچوں کو دیکھا تھا سینے سے لگایا تھا کہ کیسے بھر سکتا تھا ۔۔۔۔

بڑی دیر بعد خود پر قابو پا کر ان سے الگ ہوا۔۔۔۔

انہیں بیڈ پر لے گیا

” پہلے ہم ہاتھ منہ دھوئیں گئے ” ایمان نے کہا ۔۔۔ اصفر انہیں واش روم لے گیا ہاتھ منہ بھی خود دھلوایا ۔۔۔۔ پھر پیزا بھی اپنے ہاتھوں سے کھلایا ۔۔۔

پھر انہیں بیڈ پر لیٹا کر خود بھی ایمان کے برابر میں لیٹ گیا ۔۔۔

“مجھے ممی سے فون پر بات کرنی ہے ” ایمان کے دل میں ابھی خدشے تھے

” ہاں کر لو یہ لو فون ؟ ” اصفر نے اپنا موبائل اسے پکڑا دیا ۔۔۔۔

” آپ نمبر ملا کر دیں ” ایمان نے موبائل۔ نہیں پکڑا

“میرے پاس تو نمبر نہیں کے تمہا ممی کا ۔۔۔اس نے دیا ہی نہیں ۔۔۔ تمہیں یاد ہے تو کر لو بات ” اصفر نے موبائل ایمان کی طرف بڑھایا

” نہیں مجھے تو نہیں یاد “

” تو پھر سو جاؤں ۔۔۔۔ صبح بات کریں گئے ایمان کو اپنے بازو پر لیٹا اسکے سر پر ہاتھ پھیرنے لگا ۔۔۔ کچھ ہی دیر میں وہ سو گیا تھا نور ایمان کا ہاتھ پکڑے سو رہی تھی ۔۔۔۔

کئ گھنٹے وہ دونوں بچوں دیکھتا رہا ۔۔۔ انکے ہاتھ دیکھتا پھر اپنے ہاتھ دیکھتا کہ وہ اس سے کتنا مشابہ ہیں نور حمنہ جیسی تھی بلکل نازک سی۔۔۔ تیکھے نین نقش بھی ماں کے چرائے تھے ۔۔۔ ایمان ضرور اس سے ملتا تھا ۔۔۔۔ گھڑی کی طرف نظر پڑی تو رات کے گیارہ بج رہے تھے ۔۔۔۔ پہلا خیال حمنہ کا آیا

حمنہ کا تو رو رو کر برا حال ہو چکا ہو گا ۔۔۔۔ دل پھر سے بے چین ہوا تھا ۔۔۔۔ آنکھوں کے سامنے حمنہ کاروتا ہوا چہرے گھومنے لگا ۔۔۔۔

*****……

“سو گئ ہے وہ ؟ ” مسز بیگ حمنہ کے کمرے سے باہر آئیں تو فارس اور ڈاکٹر بیگ لاونج میں ہی بیٹھے تھے ۔۔۔ مسز بیگ کو دیکھ کر ڈاکٹر بیگ نے پوچھا تھا

“ہاں بری مشکل سے دودھ کے ساتھ نیند کی گولی دے کر لیٹیا ہے اسے کافی دیر اسے اپنے ساتھ لگائے سمجھاتی رہی ہوں کہ مل جائیں گئے اسے بچے ۔۔۔۔ میرے ساتھ لگی امی امی کہہ کر بلک بلک کر روتی رہی ہے ۔۔۔ شاید اپنی امی کو یاد کر رہی تھی ۔۔۔۔ ” مسز بیگ کی بھی آنکھیں نم تھیں ۔۔۔۔

” ہمم ۔۔۔ ماں تو یاد آئے گی ہی ۔۔۔۔ دکھ میں اللہ کے بعد اپنی ماں ہی تو یاد آتی ہے ۔۔۔۔۔ جس اذیت سے وہ گزر رہی ہے ماں کی گود کی ہی اشد ضرورت اسے محسوس ہو رہی ہو گی ۔۔۔۔ “ڈاکٹر بیگ نے ایک ٹھنڈی آہ بھر کر کہا مسز بیگ روتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئیں ۔۔۔ فارس نے اپنے آنسوں صاف کیے تھے ایک پل کے لئے بھی نور اور ایمان کا چہرہ فارس کی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔

” فارس تم چاہوں تو یہیں سو جاؤں سامنے والا کمرہ خالی ہے ۔۔۔ ” ڈاکٹر بیگ کو پتہ تھا بچوں میں تو فارس کی بھی جان تھی ۔۔۔۔

” نیند آ کس بخت کو رہی ہے ۔۔۔۔ مجھے تو بچوں کی فکر کھائی جا رہی ہے کہاں جا سکتے ہیں۔۔۔۔ اتنی سردی ہے باہر اور اتنے چھوٹے ہیں وہ ۔۔۔۔ ” د

فارس کا دل ہول رہا تھا

” ہمارا تو کوئی دشمن بھی نہیں ہے کہ ایسی گری ہوئی ۔۔۔۔۔۔” یہ کہتے ہی جیسے فارس کی زبان کو بریک لگی تھی

“دشمن ۔۔۔۔۔ اصفر ۔۔۔۔۔ ” فارس کا جیسے دماغ چلا تھا

‘ ڈاکٹر بیگ یہ کام اصفر کا ہے ۔۔۔۔ آپ نے خلع کا نوٹس بھیجا ہے نااسے ۔۔۔۔ اس لئے اس نے یہ حرکت کی ہے ” فارس کی بات سن کر ڈاکٹر بیگ کا شک بھی اسی پر گیا تھا کیونکہ انکے وکیل کے مطابق خلع کے مقدمے پر اصفر کا کوئی خاص در عمل ظاہر نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔ ناہی اس نے کوئی وکیل ہائیر کروایا تھا ۔۔۔۔ ہو سکتا ہے وہی ٹوہ میں لگا ہو موقع کی تلاش میں ہو ۔۔۔ اور موقع ملتے ہی وہ بچوں کو لے گیا ہو کیونکہ بچے آج سے پہلے کبھی بھی خود سے باہر نہیں گئے ۔۔ لان میں ہی کھیل اندر آ جاتے تھے ۔۔۔۔ ڈاکٹر بیگ کا شک بھی اصفر پر ہی گیا تھا

” فارس یہ پوسبل ہے ۔۔۔۔ ” ڈاکٹر بیگ سوچتے ہوئے بولے ۔۔۔۔

” ڈاکٹر بیگ اگر یہ اصفر کی حرکت ہوئی تو میں چھوڑو گا نہیں اسے ۔۔۔۔ ” فارس اشتعال آمیز لہجےہں بولا کہ اگر اصفر سامنے ہوتا تو نا جانے کیا کر گزرتا اس نے ساتھ

” تم فی الحال سو جاؤں صبح پولیس میں رپورٹ کرواتے ہیں ۔۔۔ “ڈاکٹر بیگ یہ کہہ کر اٹھ کر اپنے کمرے میں چلے گئے فارس نے گیسٹ روم سے صرف کمبل ہی اٹھایا تھا اور اسکے بعد لاونج کے صوفے پر لیٹ گیا ۔۔۔۔ اصفر کے بارے میں ہی سوچتا رہا ۔۔۔۔

بچے کبھی بھی گھر سے اکیلے نکلنے کی جرت نہیں کر سکتے تھے یہ بات تو وہ یقین سے کہہ سکتا تھا ۔۔۔ حمنہ جب اپنے گھر میں تھی تب بھی وہ اپنے لان میں ہی کھیلتے تھے لان سے باہر کبھی نہیں گئے تھے پھر حمنہ انہیں واقعات بھی ایسے سناتی تھی کہ وہ ہر اجبنی سے دور بھاگتے تھے صرف فارس سے ہی بے تکلف تھے ۔۔۔

شاید بے ہوش کر کے لے گیا ہو گا کمینہ انہیں ورنہ وہ دونوں شور تو ضرور مچاتے ۔۔۔۔ فارس کے سپنے ہی قیاس تھے

*********

“ممی ” نور ڈر کے اٹھ بیٹھی تھی ۔۔۔۔ اصفر کی بھی آنکھ کھل گئی ۔۔۔۔ وہ رو رہی تھی حمنہ کو پکار رہی تھی ۔۔۔ اصفر اٹھ کر اس کے پاس آ گیا

“نور واٹ ہیپنڈ بیٹا کیا ہوا ہے ” نور کے پاس بیٹھ کر اس نے اسے اپنے ساتھ لگا کر پوچھا

” مجھے ڈر لگ رہا ہے مجھے ممی کے پاس جانا ہے ۔۔۔ آپ جو بھی ہیں پلیز مجھے ممی کے پاس۔ چھوٹ آئیں” نور روتے ہوئے کہنے لگی سوئے وہ اکثر پہلے بھی ڈر جاتی تھی ۔۔۔۔

” ابھی تو رات ہو رہی ہے نور ۔۔۔ میں صبح آپ کو آپکی ممی کے پاس چھوڑ آؤں گا ۔۔۔۔ چلو شاباش اب لیٹ جاؤں ” اصفر نے اسے لیٹا کر کمبل اوڑھا دیا

” آپ سچ میں ہمارے پاپا ہیں ؟” نور نے بے یقینی سے پوچھا

” ہاں میری جان ۔۔۔۔ میں ہی تمہارا پاپا ہوں “

” پھر میرے ساتھ لیٹ جائیں مجھے ڈر لگ رہا ہے ” وہ خوفزدہ سی تھی اصفر اس کے برابر میں لیٹ گیا ۔۔۔ اس نے اصفر کا ہاتھ زور سے پکڑ لیا اور آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔ اصفر اس کا سر سہلانے لگا ۔۔ اسکے آنسوں صاف کرنے لگا ۔۔۔۔۔

******۔۔۔۔۔۔۔

ایک جھٹکے سے حمنہ کی آنکھ کھلی تھی۔۔۔۔

” نور ” آنکھ کھلتے ہی سب سے پہلے اپنے خالی بستر کو دیکھ کر کرنٹ کی مانند اٹھی تھی ۔۔۔۔ پھر رات کی ہر بات یاد آنے لگی ۔۔۔۔۔

” میرے بچے ۔۔۔۔ میرے نور اور ایمان ۔۔۔ یااللہ یہ کیسا امتحان ہے ۔۔۔۔ مجھ سے یہ کھٹن آزمائش نا لے ۔۔۔۔ میرے بچے با حفاظت مجھ تک پہنچا دے “

آنسوں تھے جو تھم نہیں رہے تھے کمبل ہٹا کر وہ کمرے سے باہر نکلی تھی صوفے پر فارس سو رہا تھا ۔۔۔۔

اپنی شال اوڑھے وہ مین دروازہ کھولنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔ جو چابی سے لوک تھا دروازے کے شور سے فارس کی آنکھ کھل گئی ۔۔۔۔ اس نے دروازے کے پاس حمنہ کو دیکھا تو فورا سے اٹھ بیٹھا

” حمنہ کہاں جا رہی ہو تم اس وقت “

“فارس یہ دروازہ نہیں کھل رہا ہے اسے کھولا پلیز مجھے بچوں کو ڈھونڈنے جانا ہے میرے بچے رو رہیں فارس مجھے پکار رہے ہیں ” وہ اپنے آپ میں نہیں تھی فارس فورا اٹھ کر اس کے پاس آگیا

” رات کے تین بج رہے حمنہ ۔۔۔۔۔ اس وقت کہاں جاؤں گی صبح ہم جائیں گئے انہیں ڈھونڈنے ۔۔۔ ” رات کے تین بجے کا سن اسکی خوف سے آنکھیں پھیلیں تھیں

” رات کے تین بج رہے ہیں ؟ ۔۔۔۔ ہائے اللہ میرے بچے اتنی ٹھنڈ میں کہاں ہوں گئے ؟۔۔۔ ” ہاتھ سینے پر گیا تھا ۔۔۔ دل کسی بنا پانی کی مچھلی کی طرح تڑپا تھا ۔۔۔۔۔ وہ پھر سے دروازہ کھولنے کی کوشش کرنے لگی

” دروازہ کھولو فارس میرے بچے ۔۔۔۔ اگر انہیں کچھ ہو گیا تو میں کیا کروں گی ۔۔۔ کیا کروں گی میں ۔۔۔۔ میں بھی مر جاؤں گی فارس ” حمنہ بے اختیار سی ہو رہی تھی فارس نے اسے بازو سے پکڑا اور صوفے پر بیٹھا دیا ۔۔۔۔

” کچھ نہیں ہو گا انہیں حمنہ ۔۔۔ وہ بہت جلدمل جائیں گئے تمہیں ۔۔۔۔ مجھے لگتا ہے یہ اصفر کی حرکت ہے بچے اسی کے پاس ہیں ” فارس کے منہ یہ نیا انکشاف سن کر وہ اس کا چہرہ تکنے لگی تھی

“ا۔۔۔ اصفر ۔۔۔۔ نہیں نہیں ۔۔۔۔ ” وہ نفی میں سر ہلانے لگی

” اصفر ۔۔۔۔ کیسے لے جا سکتا ہے ۔۔۔۔ ف۔۔۔فارس اگر اصفر انہیں لے گیا ہے تو ۔۔۔ وہ کبھی واپس نہیں کرے گا ۔۔۔۔ میرے بچوں کو مجھ چھین لے گا ۔۔۔۔ ” اب تو اسکے رونے میں تیزی آگئی تھی

” کیوں چھین لے گا صبح ہم پویس سے رابطہ کریں گئے ۔۔۔۔۔ بچے تمہیں مل جائیں گئے ۔۔۔۔ پریشان مت ہو ” فارس کی ہر تسلی بے سود ثابت ہو رہی تھی وہ بے تحاشہ رونے لگی تھی ۔۔۔۔ کب سے ایک بے نام سی زندگی جی رہی تھی ایسی جگہ پر جہاں اصفر کا گمان تک نا پہنچے ۔۔۔ تا کہ اسکے بچے اسکے پاس رہیں ۔۔۔۔ لیکن پھر بھی کیا ہوا ؟ ۔۔۔ وہ کہاں بچا پائی تھی کہاں چھپا پائی تھی ۔۔۔۔ اب تو حمنہ کو بھی سو فیصد یقین تھا کہ یہ حرکت اصفر نے کی ہے ۔۔۔ وہ اسکی ٹوہ میں ہی لگا ہو گا ۔۔۔ پہلے بھی اس سے ملنے بیگ صاحب کے گھر پہنچ گیا تھا ۔۔۔۔ اور اب بچوں کو لے گیا

٫افف یہ کیاہو گیا ۔۔۔۔ اب کیا کروں گی میں ۔۔۔ وہ میرے بچے مجھ سے بہت دور لے جائے فارس ۔۔۔۔ میں مر جاؤں گی انکے بغیر ” حمنہ بے بس سی ہوئی تھی

“حمنہ ۔۔۔ پلیز خود پر قابو پاو اتنا آسان نہیں ہے اس کا بچوں کو تم سے دور کرنا ” فارس نے اسے بہلانا چاہا

“اس کے لئے سب آسان ہے ۔۔۔۔سب آسان ہے اسکے لئے ۔۔۔ وہ کچھ بھی کر سکتا ہے ۔۔ مجھے بھی تو کڈنیپ کروا چکا ہے ۔۔۔۔ تو بچوں کو کیسے چھوڑ سکتا ہے ۔۔۔ فارم ہاؤس۔۔۔۔ ہاں وہ میرے بچوں کو فارم ہاؤس لیکر گیا ہو گا ۔۔۔۔ چلو نا فارس فارم ہاؤس چلتے ہیں ” وہ بے چین ہوئی تھی

” حمنہ ہم فارم ہاؤس جائیں گئے لیکن پولیس کے ساتھ ایسے تو وہ ہمہیں اندر نہیں جانے دے گا ۔۔۔۔ تم اب اپنے کمرے میں جاؤ۔ کچھ دیر آرام کر لو ۔۔۔ صبح ہم پولیس کو ساتھ لیکر فارم ہاؤس جائیں گئے “

“کیسے آرام کر لوں میرے بچے اسکے پاس ہیں میرے نور ایمان اس کے پاس ہیں ” وہ رہانسی ہوئی تھی

” تم سو جاؤں حمنہ کل انشاء اللہ وہ دونوں تمہارے پاس ہوں گئے” فارس اٹھ کر کھڑا ہو گیا حمنہ کو اسکے کمرے میں چھوڑ آیا ۔۔۔ صبح تک وہ جاگتی رہی ۔۔۔۔

(” حمنہ اس رشتے سے ہمارے درمیان ایک محبت کا بھی رشتہ جڑ چکا تھا ۔۔۔ جو ہم دونوں نے ایک دوسرے ٹوٹ کر کی ہے ۔۔۔۔میرے دل میں اب تک وہ محبت اسی طرح قائم ہے۔۔۔ اور اسکو نبھاتے ہوئے جب میں خود کو تمہارا پابند کر سکتا تو تم پر بھی محبت کا یہ قرض ہے ۔۔۔ کہ تم بھی میرے نام پر زندگی گزارو “)

یہ کیسی محبت ہے تمہاری اصفر ؟۔۔۔ تکلیف دینے والی ۔۔۔۔رولانے والی ۔۔۔۔تڑپا کے رکھ دینے والی ۔۔۔۔۔ ایک ماں سے اسکے بچے جدا کر دینے والی۔۔۔۔۔۔ مجھے یہ احساس دلانے والی کہ میں نے زندگی میں ایک غلطی کی ہے اور وہ تھی تم سے محبت کرنا

جسکی سزا میں بھکت بھکت کر تھک گئ ہوں ٹوٹ گئ ہوں ۔۔۔۔۔ ایک بچے تو تھے میرے پاس ۔میری جینے کی وجہ ۔۔۔۔ وہ بھی تم نے چھین لیے ۔۔۔۔ کیوں چھین لیا نے انکو مجھ سے ؟ ” وہ روئے جارہی تھی ۔۔۔۔۔بیڈ پر رکھی

*****……

حمنہ ڈاکٹر بیگ اور فارس کے ساتھ پولیس اسٹیشن گئ تھی بچوں کی گم شدگی کی رپوٹ کروانے ۔۔۔۔ جب انسکٹر نے پوچھا کہ انہیں کس پر شک ہے تو اس نے اصفر کا نام لیا ۔۔۔۔

” وہ کون ہے ؟۔۔۔ آپ کو ان پر شک کیوں ہے ؟”انسپکٹر نے کاغذ پر قلم چلاتے ہوئے پوچھا

” وہ شوہر ہے میرا ؟” حمنہ کے جواب پر انسپکٹر کا پین رکا تھا اس نے غور سے حمنہ کو روتے ہوئے دیکھا

” ۔مطلب بچوں کا باپ ؟ “

“جی “

” آپ کا مطلب ہے بچے اپنے باپ کے پاس ہیں ؟” انسپکٹر نے تعجب سے سوال کیا

” لیکن ہم ساتھ نہیں رہتے ۔۔۔ الگ ہو چکے ہیں ۔۔۔ بچے میرے پاس رہتے تھے ۔۔۔ لیکن۔ میرے شوہر بنا بتائے انہیں اپنے ساتھ لے گئے “

” اوہ تو طلاق ہو چکی ہے آپ کی ؟ “انسپکٹر پھر سے لکھنے لگا

” نہیں طلاق نہیں ہوئی “حمنہ کی بات پر انسپکٹر کا ہاتھ پھر سے روکا تھا اس بار وہ حمنہ کو نا فہم نظروں سے دیکھ رہا تھا

” آپ کہنا کیا چاہتی ہیں محترمہ پہلے اچھی طرح سے سوچ لیں ” انسپکٹر حمنہ کی ذو معنی بات سے زچ ہوا تھا

“سیدھاسا کیس سمجھ نہیں آ رہا تمہیں ۔۔۔۔ بچوں کو اسکے باپ نے اغوا کیا ہے تم اس کے خلاف ایف آئی آر کاٹو “فارس نے اپنے دونوں ہاتھ ٹیبل کر رکھ کر پولیس والے کو غصے سے پھنکارتے ہوئے بولا

” اوہ بھائی یہ پولیس اسٹیشن ہے ۔۔۔۔ میں تمہارے باپ کا ملازم نہیں جو تمہاری مرضی کی ایف آئی آر کاٹ دونگا ۔۔۔۔ قانون تم نے نہیں بنایا جو تمہاری چلے گی ۔۔۔۔ چپ چاپ سیدھے ہو کر کھڑے ہو جاؤں ۔۔۔

بچے اپنے باپ کے پاس ہیں ۔۔۔۔۔ وہ قانونی حق رکھتا ہے اپنے بچوں پر ۔۔۔۔۔ پھر یہ محترمہ اب بھی انکی زوجیت میں ہیں ۔۔۔۔ مجھے معاملے کی تہہ کر پہنچنے دیں کے آیا ان کے شوہر پر ایف آئی آر بنتی بھی ہے کہ نہیں “انسپکٹر بھی کرخت لہجے سے بولا ڈاکٹر بیگ نے فارس کو پیچھے کیا تھا

” فارس تم چپ رہو ۔۔۔۔ جی انسپکٹر صاحب آپ پوچھیں جو پوچھنا ہے ” ڈاکٹر بیگ نے انسپکٹر صاحب کو غصے میں دیکھ کر معاملہ سنبھالنا چاہا

“جی تو محترمہ ۔۔۔ اب بتائیے ۔۔۔۔ کیا میاں نیم پاگل اور جنونی ہے ۔۔۔ عقل اور سمجھ بوجھ نہیں رکھتا جو آپ کو یہ خدشہ ہے وہ اپنے پاگل پن سے بچوں کو مار ڈالیں گئے یا تشدد کریے گا ؟”

” نہیں ایسے تو نہیں ہیں ” وہ بہتے آنسوں کے ساتھ بول رہی تھی

“تو کیا دوسری بیوی رکھتا ہے ۔۔۔ سوتیلی ماں ظلم کرے گی بچوں پر ؟”

” نہیں ۔۔۔ ۔میرے علاؤہ کوئی بیوی نہیں ہے انکی “

اپنے ہاتھ کی پشت سے وہ آنکھوں صاف کرتے ہوئے بولی انسپکٹر نے ایک گہری سانس بھری

” دیکھیں ۔۔۔۔ آپ ایک بے بنیاد سی بات سامنے رکھ رہیں ہیں ۔۔۔۔ اولاد مرد کی ملکیت ہوتی ہے ۔۔۔۔ قانونی طور پر آپ کے شوہر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے بچوں سے مل سکے انہیں اپنے ساتھ لے جاسکتا ۔۔۔ پھر بچوں کی عمر رضاعت کے عرصے سے کافی زیادہ ہے۔۔۔ وہ اتنے چھوٹے نہیں کہ ماں کے بغیر رہ نا سکیں ۔۔۔۔ آپ کیس بھی کر لیں تب بھی کسی باپ کو اسکی اولاد سے ملنے سے نہیں روک سکتیں نا ہی بچوں کو باپ کے پاس جانے سے ۔۔۔ اس لئے ایف آئی آر تو میں نہیں کاٹو گا لیکن ایک مشورہ دے دیتا ہوں ۔۔۔ اپنے میاں سے خود رابطہ کریں ۔۔۔۔ اس سے بات کریں اور مسلے کو۔ حل کرنے کی کوشش کریں ۔۔۔۔ اگر وہ کوئی دھمکی دے ۔۔۔ بدمعاشی کرے ۔۔۔۔ تو ہم ضرور ایکشن لے سکتے ہیں ” انسپکٹر کی بات سن کر حمنہ پولیس اسٹیشن سے بے جان قدموں سے واپس لوٹی تھی گھر پہنچ کر سیدھا اپنے کمرے میں چلی گئ ایک ہی راستہ بچا تھا اس کے پاس کے وہ اس ستم گر کی منت سماجت کر لے ۔۔۔۔ معاملہ اگر اسکی اپنی ذات کا ہوتا تو شاید یہ سب نا کرتی لیکن بات بچوں کی تھی سائیڈ ٹیبل پر رکھا اپنا موبائل اٹھا کر اس نے اصفر کا نمبر ڈائل کیا اسکاپرانہ نمبر اسے ازبر یاد تھا ۔۔۔۔ فون پر بجنے والی بیل نے حمنہ کی دھڑکنیں منتشر کیں تھیں ۔۔۔۔ یعنی کے ابھی تک اس کے پاس وہی نمبر موجود تھا

لیکن فون چندبیلوں کے بعد ہی کاٹ دیا گیا تھا ۔۔۔ حمنہ نے پھر سے نمبر ڈائل کیا لیکن فون آف ہو چکا تھا ۔۔۔۔ رات تک وہ کئ بار فون کر چکی تھی لیکن فون مسلسل بند تھا ۔۔۔۔۔۔

پانچ دن حمنہ کے رو کر گزرے تھے ۔۔۔۔ نور کی ڈول کو سینے لگائے وہ روتی رہی تھی کبھی ایمان کو پکارنے لگتی ۔۔۔ رو رو کر آنکھوں کے پپوٹے سوج کر ابھر سے گئے تھے ۔۔۔ زبردستی مسز بیگ اسکے منہ میں چند نوالے ڈال دیتی تو انکار کرتے ہوئے ۔روتے ہوئے کھا لیتی ورنہ اسے نا کھانے کی ہوش تھی نا پینے کی نور کی گڑیا کو سینے سے لگائے نور کو پکارنے لگتی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتی

” فارس وہ ۔۔۔ نیند ڈر جاتی ہے ۔۔۔ تمہیں پتہ ہے نا کہ نور نیند میں ڈر جاتی اس وقت اسے صرف میرے سینے سے لگ کر سکون ملتا ہے ۔۔۔۔ فارس۔تمہیں پتہ ہے ناں اگر وہ ڈر گی تو کیسے اس ک خوف دور ہو گا فارس میری بچی رو رہی ہو گی ۔۔۔۔اصفر جو بچے نہیں چاہیے تھے ۔۔۔۔ اسے خواہش نہیں تھی ۔۔۔۔ وہ یہ ذمہ داری نہیں سنبھال سکتا ۔۔۔ میں جانتی ہوں اسے۔۔۔۔۔ میرے بچے رو رہے یوں گئے مجھے یاد کرتے ہوں گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” وہ فارس سے روتے ہوئے کہہ رہی تھی روتے ہوئے تڑپ رہی تھی ۔۔۔ فارس کی اپنی آنکھوں میں آنسوں تھے اصفر کے لئے اتنا غصہ تھا کہ اگر وہ سامنے آ جائے تو شاید اس کاقتل ہی کر ڈالے ۔۔۔ جس نے چار دنوں میں حمنہ کا خون نچوڑ کے رکھ دیا تھا ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔ فارس بیگ صاحب مسز بیگ حمنہ کو تسلیاں ہی دیتے رہے ۔۔۔ لیکن اسکے آنسوں نہیں تھمے تھے ان چار دنوں میں اس نے ہزاروں بار اصفر کے نمبر پر کال کی تھی لیکن بے سود ۔۔۔۔ فون آف تھا

دوسری جانب اصفر نے یہ چار صرف بچوں کے نام کیے تھے ۔۔۔۔ ایک ایک لمحہ ان کے ساتھ بتایا تھا ۔۔۔۔ اتنی محبت پا کر بچوں کے دل یہ وہم دور ہونے لگا تھا کہ وہ کوئی کڈنیپر ہے ۔۔۔۔ وہ انہیں اپنے ساتھ شاپنگ پر لیکر گیا تھا جس چیز وہ ہاتھ رکھ دیتے وہی انہیں لے دیتا ۔۔۔ بس ایک ہی سوال تھا بچوں کی زبان۔ پر جیسے وہ مسکرا کر خوبصورتی سے ٹال دیتا وہ تھا

” ممی کب آئیں گی ؟۔۔۔ ہم ممی کو مس کر رہے ہیں ۔۔۔۔ڈیڈ ممی کو لے کر آئیں یا ہم ممی کے پاس چلے جاتے ہیں “

” پانچ دن رک جاؤں نا میرے شہزادوں ۔۔ دیکھوں تمہاری ممی کیسی بھاگتی ہوئی آئیں گی ہمارے پاس ہمیشہ کے لئے ۔۔۔۔ ” بچے کہاں اسکی ذو معنی بات سمجھ سکتے تھے ۔۔۔۔ چوتھے دن رات کو ایک بجے اصفر نے اپنا فون آن کیا تھا بچے اس وقت سو رہے تھے

ایک ہی نمبر سے بے تحاشہ مس کال آئی ہوئیں۔ تھیں ہزاروں کے حساب سے ۔۔۔۔ اصفر مسکراہت گہری ہوئی تھی ۔۔۔۔۔

“اوہ مائے لو ۔۔۔۔ ڈاکٹر صاحبہ ! تو بلا آخر آپ کو پتہ چل ہی گیا کہ بچے اس وقت کہاں ہیں ۔۔۔۔ ہمم ۔۔۔ بہت رو چکیں آپ ۔۔۔۔ اور بہت کر لیا میں نے آپ کا انتظار ۔۔۔۔ بہت دیکھا دی شرافت ۔۔۔۔۔ اب وقت آ چکا ہے مجھے میرے صبر کا صلہ ملے ۔۔۔۔ ” زیر لب مسکراتے ہوئے اس نے وہ نمبر ڈائل کیا تھا