Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415

Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 24

644.1K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Noor-e-Emaan Episode 24

Noor-e-Emaan by Umme Hani

اپنے سامان سے بھری ٹرالی اصفر نے وہیں چھوڑی تھی اور دوسرے دروازے سے باہر نکلا گیا تھا ۔۔۔۔ حمنہ بچوں کو لیکر گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ چکی تھی ۔۔۔۔۔

وہ تیز قدموں سے گاڑی کے آخری سرے کے پاس آ کر رک گیا ۔۔۔

” ممی انکل نے پیزا کھلانے کاپرومس کیا ہے ۔۔۔ آپ منع نہیں کریں گی ” ایمان ماں کی عادت سے واقف تھا ۔۔۔۔ وہ فارس کا۔ ذیادہ احسان نہیں لیتی تھی

“نہیں مان اچھا نہیں لگتا ہے ۔۔۔ انکل نے ٹووائز بھی تو لیکر دیے ہیں ۔۔۔۔ ” حمنہ نے گود میں بیٹھے ایمان کے بال ٹھیک کرتے ہوئے پیار سے کہا

“نہیں نا ممی مجھے پیزا کھانا ہے ” نور نے بھی بھائی کا ساتھ دیا تھا ۔۔۔

“ایک تو انکل اتنے دن بعد ہمہیں باہر لیکر جاتے۔۔۔۔ پھر آپ ہر چیز سے روک دیتی ہیں دس از ناٹ فیر ممی ۔۔۔ اویس ہے نا جو ہمارے گھر کے پیچھے رہتا ہے اس کے پاپا اسے روز باہر لیکر جاتے ہیں ۔۔۔ روز اسے چیزیں دلاتے ہیں ۔۔۔ “ایمان کو اپنا ایک پڑوسی دوست یاد آیا تھا

” ہاں تو وہ اسکے پاپا ہیں ۔۔۔ یہ آپ کے انکل ہیں ۔۔۔۔

فرمائشیں ممی پاپا سےکرتے ہیں انکل سے نہیں ۔۔۔۔ اور میں بھی تم لوگوں کو کبھی کبھی باہر لیکر جاتی ہوں نا مان پھر ناشکری کیوں ؟ ” حمنہ بہت نرمی سے اسے سمجھا رہی تھی

” ممی اسکے پاپا تو روز لیکر جاتے ہیں نا “وہ ضدی ہو رہا تھا

” ہاں تو اسکے پاپا آپ کی ممی کی طرح ڈاکٹر تو نہیں ہیں میری جان ۔۔۔۔ میری ڈیوٹی ہارڈ ہے لیکن آئی پرومس میں کل ہی تم لوگوں پیزا کھلانے لے جاؤں گی لیکن ابھی تم لوگ انکل سے کوئی فرمائش نہیں کروں گئے او کے ؟ ” حمنہ کے سمجھانے پر دونوں ماتھے پر بل ڈالے چپ تھے

” کچھ پوچھ رہی مان ۔۔۔ نور ۔۔۔ او کے؟

” اوکے ” دونوں نے منہ پھلائے ہامی بھری تھی

” گڈ” اس سے پہلے حمنہ سائیڈ مرر پر نظر دوڑاتی اصفر پلٹ گیا تھا ۔۔۔۔ اپنے قدموں سے گاڑی تک اور گاڑی سے اپنے کمرے تک کاسفر جیسے ایک گھٹن بھرے ماحول سے کیا تھا ۔۔۔ بیڈ پر بیٹھتے ہی اپنا سر پکڑ کا تھا

(“اصفر بچے ہی میاں بیوی کے رشتے کو مضبوط بناتے ہیں کبھی بھی انہیں الگ نہیں ہونے دیتے ۔۔۔۔ “

” کیا بیوقوفانہ بات ہے یہ حمنہ ۔۔۔ ایک پڑھی لکھی ڈاکٹر ہو کر یہ سوچ رہی ہو۔۔۔ میں تمہیں چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ہوں اور جن کے بچے نہیں ہوتے ۔۔۔۔ کیا وہ لوگ ایک دوسرے کو۔ چھوڑ دیتے ہیں ؟۔۔۔۔ اسکاچہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیکر وہ بڑی اپنایت سے بول رہا تھا

“ہاں عموما چھوڑ ہی دیتے ہیں اور اگر نا بھی چھوڑیں تو عورت ہمیشہ وہم میں مبتلہ رہتی۔۔۔۔ کہ کہیں اس کا شوہر اسے اس بنیاد پر چھوڑ نا دے

جا کر دیکھیں انہیں جو اولاد کی نعمت سے محروم ہیں۔۔۔ کیسے ترستے اور بے کل ہوتے ہوئے زندگی گزارتے ہیں ۔۔۔ مرد کا تو پتہ نہیں لیکن عورتیں ضرور ڈپریشن کا شکار ہو جاتی ہیں ۔۔۔۔ لوگ بار بار پوچھ پوچھ کر انہیں ذہنی مریض بنا دیتے ہیں ۔۔۔ کہ شادی کو اتنے سال گزر گئے اور ابھی تک اولاد نہیں ہوئی ۔۔۔

اور آپ ۔۔۔۔ آپ کفران نعمت جیسا گناہ کرنا چاہتے اصفر ۔۔۔ میں اس میں آپ کا ساتھ نہیں دے سکتی ۔۔۔ میں ایسی کوئی میڈسن نہیں کھاؤں گی) ” حمنہ کی کہی گئ بات سوچ کر سانس گھٹنے لگا تھا ۔۔۔۔۔

پھر یاد آنے لگا فارم ہاؤس میں حمنہ کو لانے کے بعد ۔۔۔۔ اس نے ایسی کوئی احتیاط نہیں برتی تھی ۔۔۔۔۔ مطلب وہ ایکسپکٹ کر سکتی تھی ۔۔۔۔۔

یہ بات اسکے گمان میں کبھی آئی ہی نہیں تھی ۔۔۔۔ کہ اللہ اسے اس نعمت سے بھی نواز چکے ہیں ۔۔۔ بلکہ نعمت اور رحمت۔ دونوں سے ۔۔۔۔۔۔ آنکھوں سے بہنے والے آنسوں خوشی کے تھے کہ وہ دو بچوں کا باپ بھی ہے ۔۔۔۔۔ یا اس تکلیف کے اپنے بسے بسائے گھر کی خوشیاں اسے اب تک نہیں ملیں تھیں

(“یہ مت سمجھنا کہ میں برے اور بدمعاش لوگوں سے ڈرتا ہوں ۔۔۔۔اور نا یہ سمجھنا کہ ممی اور نور اکیلی ہیں تو ہم ڈر جائیں گئے ۔۔۔۔میں ایمان ہوں اور بہت بہادر بچہ ہوں ۔۔۔لائیں اپنی بوتل دیں اور دروزے سے ذراپیچھے ہٹ کر کھڑے ہوں)

ایمان سے پہلی ملاقات نے تو جیسے اندر ایک طوفان بھرپا کر دیا تھا

” ایمان ۔۔۔ نور ۔۔۔۔۔ میرے بچے ۔۔۔۔ میرا خون ۔۔۔۔ میرے ۔۔۔ میرے بچ ۔۔۔۔۔۔ ے۔۔۔۔۔۔۔میرے ۔۔۔۔۔۔ “آنسوں مسلسل بہہ رہے تھے ۔۔۔۔ جی چاہا وقت پیچھے چلا جائے ۔۔۔ جب ایمان کو پہلی بار دیکھا تھا سفید لکڑی کے دروازے سے پیچھے ہٹنے کے بجائے اصفر اسے کھول کر اپنے جگر کے ٹکڑے کو سینے سے لگا بینچ لیتا ۔۔۔۔۔ کیسا احساس ہوتا ہو گا ۔۔۔ جب کوئی باپ اپنے بیٹے کو گلے لگائے ۔۔۔۔ اپنی بیٹی کی پیشانی پر بوسہ دے ۔۔۔۔ دل کی تڑپ میں اضافہ ہوا تھا ۔۔۔۔۔ بار بار دونوں بچوں کے چہرے آنکھوں کے سامنے نظر آنے لگے ۔۔۔۔۔ ایمان دیکھنے میں اسی کے جیسا تو تھا ۔۔۔۔ بس وہی پہنچان نہیں پایا کہ جس بچے نے اسے اپنی طرف پہلی بار ہی متاثر کیا تھا ۔۔۔ وہ اسی کا بیٹا تھا ؟ تنفس بری طرح سے چل رہا تھا حمنہ کو چھوڑ دینے کی اذیت ہی اسکے لئے جان لیوا تھی جیسے وہ سہہ رہا تھا اور اب اسکے بچے ؟

( آپ وہ گاڑی والے اور کیک والے انکل ہیں نا ” نور نے فورا سے تصدیق چاہی

“ہممم اور تم وہی پیاری سی گڑیا ہوں جس کا بھائی بہت بہادر ہے ؟” اصفر۔ کی بات پر وہ ہسنتے ہوئے اثبات میں سر ہلانے لگی

” یہاں سے کیا لینا ہے ” وہ ریک کی طرف اشارہ کرتے پوچھنے لگا

” انکل مجھے وہ بڑی والی ڈول چاہیے ۔۔۔ پلیز مجھے وہ اتار کر دے دیں “)

“نور ۔؟۔۔ میری بیٹی ؟۔۔۔۔۔ میری ۔۔۔۔۔۔بچی ہے ؟ ۔۔۔۔ میری لٹل ڈول ؟” بے یقینی ہی بے یقینی تھی ایک مومی گڑیا جیسی سرخ سفید رنگت والی بلکل باربی ڈول جیسی ۔۔۔۔ میٹھی باتیں کرنے والی ۔۔۔۔

بلکل حمنہ کی طرح دھیرے دھیرے سے بات کرتے ہوئے دل میں اتر جانے والی ۔۔۔۔ ایک حسن حقیقت تھی ایک مکمل ہنستا بستا گھر جو خواب ہونے والا تھا ۔۔۔۔ اولاد کا قدر ضروری ہے اس بات کا احساس اصفر کو اب ہو رہا تھا ۔۔۔۔

چاہنے والی بیوی دو پیاری سی بچے ۔۔۔ جو اس کے تھے لیکن ایک خلع کے آڈر جاتی ہوتے ہی۔ فارس کے نام ہونے والے تھے ۔۔۔۔

دل کو بڑی زور کا دھچکا سا لگا تھا ۔۔۔۔ ٹھیس سی اٹھی تھی۔۔۔۔۔ شدت سے ۔۔۔ جی چاہا وقت پہیہ واپس موڑ دے ۔۔۔۔۔ امریکہ جانے کی ٹکٹ کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے بکیھر کے رکھ دے ۔۔۔۔ حمنہ کو فارم ہاؤس سے لیکر کہیں دور بھاگ جائے ۔۔۔۔ الگ سی دنیا بسا لینی چاہیے تھی ۔۔۔۔۔ ایسی کوئی نا جائز خواہش تو نہیں کی تھی حمنہ نے ۔۔۔۔ بس یہی کہا تھا صرف اپنی محنت کا اتنا معاوضہ ہی لینا چاہیے کہ اپنا گھر اچھا چل جائے ۔۔۔۔ اتنے ذیادہ پیسے آج کس کام کے تھے اس کے لئے ۔۔۔۔۔ جو اسے ازدواجی زندگی کی خوشیاں بھی دے نہیں لا رہے تھے ۔۔۔ جس کا وہ حقدار تھا ۔۔۔

(ایک تو انکل اتنے دن بعد ہمہیں باہر لیکر جاتے۔۔۔۔ پھر آپ ہر چیز سے روک دیتی ہیں دس از ناٹ فیر ممی اویس ہے نا جو ہمارے گھر کے پیچھے رہتا ہے اس کے پاپا اسے روز باہر لیکر جاتے ہیں ۔۔۔ روز اسے چیزیں دلاتے ہیں ۔۔۔ “ایمان کو اپنا ایک پڑوسی دوست یاد آیا تھا

” ہاں تو وہ اسکے پاپا ہیں ۔۔۔ یہ آپ کے انکل ہیں ۔۔۔۔

فرمائشیں ممی پاپا سےکرتے ہیں انکل سے نہیں ۔۔۔۔ اور میں بھی تم لوگوں کو کبھی کبھی باہر لیکر جاتی ہوں نا مان پھر ناشکری کیوں ؟ “

” ممی اسکے پاپا تو روز لیکر جاتے ہیں نا)

ایمان کی ضدی لہجہ اس کا کلیجہ چیر رہا تھا ۔۔۔

میں یہاں ہزاروں کی چیزیں لا کر کمرے میں ان بچوں کے لئے رکھتا ہوں جن سے میرا کوئی رشتہ ہی نہیں اور میرے ہی بچے میری محبت کو ترس رہے ہیں ۔۔۔۔ چھوٹی چھوٹی۔ خواہشوں۔ کے لئے منتیں کر رہے ہیں ایک غیر شخص سے امیدیں وابسطہ رکھ رہے تھے ۔۔۔۔ حمنہ نے مجھ۔ سے چھپایا کیوں ۔۔۔۔۔ اتنی بڑی بات سے مجھے انجان رکھا ۔۔۔۔۔ کس لئے ۔۔۔۔ میرے بچے تھے ۔۔۔۔ مجھے بتانا چاہیے تھا ۔۔۔۔

میرے بچوں کو مجھ دور رکھا انہیں مجھ سے۔ چھپائے رکھا۔۔۔۔۔۔

اور اب خلع چاہیے مجھ سے ؟ تم نے کہا تھا کہ بچے میاں بیوی کے رشتے کو مضبوطی سے جوڑے رکھتے ہیں ۔۔۔۔ اب میرے بچے ہی تمہیں واپس میری زندگی میں لائیں گئے حمنہ ۔۔۔۔

بہت جلد آ رہا ہوں انہیں لینے ” وہ ایک مصمم ارادہ باندھ چکا تھا ۔۔۔۔

******……

چار دن بعد لائبہ واپس ڈیوٹی پر آئی تھی فارس کو ویسے اس پر بے حد غصہ تھا اسکی وجہ سے ڈاکٹر بیگ سے بہت سنی تھی اور حمنہ کی ناراضگی الگ برداشت کی تھی ۔۔۔۔۔ اور اگر واقع اسکی احمق لڑکی کی حماقت سے اس بچے کی جان چلی جاتی وہ تو خود کو کبھی معاف نا کر پاتا ۔۔۔۔ اس لئے نجمہ نرس سے کہہ چکا تھا کہ لائبہ جیسے ہی ڈیوٹی پر آئے فورا اسے اسکے کمرے

میں بھیجیں۔۔۔۔۔۔”

“آگئ تم ۔۔۔ ہو گیا تمہارا شوق پورا آپریشن دیکھنے کا ۔۔۔۔ ” نجمہ نے لائبہ کو آنکھیں دیکھاتے ہوئے پوچھا

” ہائے اللہ نجمہ باجی مت پوچھے کتنی ڈر لگ رہا تھا مجھے وہاں ۔۔۔ اتنا سا بلکل اتنا سا بچہ ” لائبہ نے ہاتھ سے بچے کی لمبائی بتانے ہوئے کہا

“مجھے تو تین دن بخار میں بھی وہی بچہ نظر آتا رہا ہے میری توبہ جو دوبارہ غلطی سے آپریشن تھیٹر کے سامنے سے بھی گزرو” لائبہ نے جھرجھری لیتے ہوئے کہا

” وہ تو تم بعد میں کرو گی فی الحال تو خیر مناوں اپنی ڈاکٹر فارس کا آڈر ہے کہ لائبہ صاحبہ جب بھی ہاسپٹل آئیں انہیں میرے کمرے رخ دیکھایا جائے ۔۔۔ اب جاؤں ویسے بھی بڑے غصے میں ہیں وہ ” فارس کاسن کر لائبہ کی جان لبوں پر آئی تھی

“ہائے اللہ جی مجھے کیوں بلایا ہے ۔۔۔۔ مجھے نہیں جانا ان کے کمرے میں وہ تو گلا ہی دبا دیں گئے ۔میرا ۔۔۔ بڑے خطرناک ڈاکٹر ہیں۔۔۔ نجمہ باجی آپ ان سے کہہ دیں کہ میں آج آئی ہی نہیں ہوں ۔۔۔ ” لائبہ خوف سے آنکھیں پھیلائے بولی تھی

” میں انہیں بتا چکی ہوں کہ تم آ چکی ہو ۔۔۔ اب جاوں ورنہ انہوں نے خود سے تمہیں دیکھ لیا تو سب کے سامنےعزت افزائی کر دیں گئے تمہاری ۔۔۔۔۔ ” نجمہ نرس لائبہ کو موت کا مرثیہ ہی سنایا تھا ۔۔۔۔

اس بار تو شامت پکی تھی ۔۔۔

لائبہ ڈرتے ڈرتے فارس کے کمرے تک گئ تھی ۔۔۔ دستک بھی بہت دھیرے سے دی تھی لیکن شاید وہ اسی انتظار میں تھا

” آ جاؤ اندر ” بڑی سخت ترین آواز۔ تھی لائبہ کی جان نکلی تھی ۔۔۔

دل چاہا وہیں سے واپس پلٹ جائے ۔۔۔ لیکن مرتا کیا نا کرتا والی مثال تھی ۔۔۔ اندر جا کر بنا فارس کی طرف دیکھے نظریں جھکا کر سوری بولنے لگی

” ایم سوری سر “

” سوری ۔۔۔۔۔ ؟تمہاری وجہ سے جانتی کتنی تذلیل ہوئی ہے میری ؟

” اللہ کی قسم سر مجھے نہیں پتہ تھا آپریشن اتنا خطرناک ہوتا ہے ؟ لائبہ کی بات پر فارس کا دل چاہا اس سر پھاڑ دے

” تم واقع نرس ہو ۔۔۔ آپریشن کو کیا سمجھتی ہو تم۔۔۔ اپنے چاچے کی شادی کا ولیمہ ۔۔۔۔۔ سب ڈاکٹر مل کر آپریشن تھیٹر میں پارٹی مناتے ہیں کھاتے پیتے موج مستی کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ تمہاری وجہ سے جو عزت افزائی میں نے برداشت کی اسکی سزا تو میں تمہیں پوری پوری دونگا ۔۔۔۔ رات بارہ بجے تک تم ایمرجنسی میں ڈیوٹی دو گی ۔۔۔۔ نکلو اب یہاں سے “فارس کے روعب دار لہجے پر وہ فورا سے باہر آئی تھی۔۔۔۔۔

ایمرجنسی میں تو ایک کے بعد ایک کیس آتا تھا اس لئے نرسوں کی ڈیوٹی بھی ایک دن میں چار پر تقسم ہوتی تھی گھنٹوں کے حساب سے ۔۔۔۔ پورا دن لائبہ کا گن چکر بنے گزرا تھا ۔۔۔۔ ایک تو پہلے بخار سے اٹھی تھی پھر کھانے اور چائے کی بھی فرصت نہیں ملی تھی ۔۔۔۔۔ حمنہ کاآخری راؤنڈ تھا وہاں دن میں دو چار وہ پہلے بھی آ چکی تھی رات کے دس بج رہے تھے لائبہ تھکن سے چور ہو چکی تھی ۔۔۔ اس لئے ایک کرسی پر بیٹھی جمائیاں لے رہی تھی ۔۔۔ حمنہ کی آواز پر چونکی تھی

” جی ڈاکٹر حمنہ میں سو بلکل نہیں رہی ہوں آپ کہیں کیا کرنا ہے ” وہ یک دم ہی کرسی سے کھڑی ہو کر پوچھنے لگی

” تم صبح سے یہاں کیا کر رہی ہو اگر دن میں تمہاری ڈیوٹی تھی تو شام تک تو ختم ہو جانی چاہیے تھی۔۔۔۔ اور اب تو رات ہو رہی ہے ۔۔۔۔ ” حمنہ نے اسکے تھکے تھکے چہرے کو دیکھ کر پوچھا

” یہ میری پنش ہے جی ۔۔۔۔ وہ میں اس دن آپریشن تھیٹر میں بے ہوش ہو گئ تھی تو ڈاکٹر فارس نے مجھے ۔۔۔۔۔۔۔”

” واٹ ” حمنہ حلق کے بل چیخی تھی

“فارس نے تمہاری ڈیوٹی یہاں لگائی ہے وہ رات تک کی ۔۔۔ چلو میرے ساتھ پوچھتی ہوں میں اس سے ۔۔۔ غلطی اپنی تھی اور سزا تمہیں دے رہا ہے ۔۔۔ ” حمنہ نے لائبہ کا ہاتھ پکڑا ۔۔۔۔ اور اسے ایمرجنسی سے باہر کے آئی

” رہنے دیں ڈاکٹر حمنہ مجھے ویسے ہی ان سے بہت ڈر لگتا ہے ۔۔۔۔ بارہ بجے ابو جی لینے آ جائیں گئے “لائبہ مزید فارس کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔ وہ پھر سے غصے میں آتا

” تم چپ رہو ۔۔۔۔ دیکھتی ہوں کیسے تمہیں وہ کچھ کہتا ہے ۔۔۔۔ ” فارس کی ڈیوٹی بھی ختم ہو چکی تھی واپس ہی جانے والا جب حمنہ کو دیکھ کر رک گیا وہ بھی لائبہ کے ساتھ فارس کے سامنے جا کر رکی تھی

“تم نے اسے ایمرجنسی میں ڈیوٹی دی تھی ” حمنہ نے کڑے تیوروں سے ایک ابرو چڑھا کر پوچھا

” ہاں دی تھی ۔۔۔ بہت شوق ہے اسے نڈر اور رف اینڈ ٹف بننے کا میں نے سوچا شوق ہے تو پورا تو ہونا چاہیے۔۔۔۔ “فارس نے لائبہ کو گھورتے ہوئے کہا

” کسی چیز کوئی حد بھی ہوتی ہے ۔۔۔۔ صبح سے رات تک کی ڈیوٹی دیتے ہوئے ایک پل تمہیں یہ خیال نہیں آیا کہ تمہاری حماقت کی وجہ سے تین دن بخار میں مبتلہ رہی ہے وہ اور آتے ہی تم نے اس پر اس قدر ہارڈ ڈیوٹی لگا دی ؟”

” ہاں اسی طرح انسان بہادر بنتا ہے ۔۔۔۔ ” اس نے ڈھٹائی سے جواب دیا

“اگر تم چاہتے ہو کہ میں ڈاکٹر بیگ سے تمہاری شکایت نا لگا دو۔ تو جاؤں اسے گھر چھوڑ کر آؤں “حمنہ نے سخت لہجے سے کہا

” نہیں ڈاکٹر حمنہ بارہ بجے ابو جی لینے آ جائیں گئے میں ان کے ساتھ چلی جاؤں گی ۔۔۔ ” لائبہ نے انکار کرنا چاہا فارس کے ساتھ واپس جانے سے بہتر تھا کہ وہ ایمرجنسی میں ڈیوٹی ہی کر لے

” نہیں ابھی دو گھنٹے ہیں بارہ بجنے میں یہی چھوڑ کر آئے گا تمہیں ۔۔۔ اور خبردار جو راستے میں تم اسے دھمکاتے ہوئے لے کر گئے تو “

” او کے مادام اور کوئی حکم ” فارس نے مسکرا کر کہا ۔۔

” فی الحال اتنا ہی ” حمنہ نے فہمائشی نظروں سے اسے دیکھا تھا

” چلیں لائبہ صاحبہ ” فارس نے آنکھیں دیکھاتے ہوئے بڑے متوزن لہجے سے کہا تھا وہ اب بھی ڈر رہی تھی ۔۔۔۔

” یہاں سے بلکل سیدھا جانا ہے “

گاڑی میں بیٹھتے ہی لائبہ اسے راستہ بتانے لگی تا کہ فارس کو ڈانٹنے کا موقع نا مل سکے ۔۔۔۔

” تم یہ ڈبل ہوشیاری میرے ساتھ تو کر نہیں سکتی ہو یہ سڑک ہے ہی بلکل سیدھی تو یہاں سے ہر گاڑی سیدھی ہی جا سکتی ہے یہ سب جانتے ہیں ۔۔۔ جہاں سے راستہ پوچھوں وہیں سے بتانا ۔۔۔۔ بہت خطرناک ڈاکٹر ہوں میں ۔۔۔۔ تم ابھی جانتی نہیں ہو ۔مجھے ” فارس کے ماتھے پر پڑے بل دیکھ کر وہ چپ چاپ سے بیٹھ گئ ۔۔۔۔ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔

” تعلیم کہاں تک حاصل کی ہے تم نے ؟” فارس کے اگلے سوال پر اس نے پلٹ کر اسکی طرف دیکھا تھا

” پری میڈیکل ۔۔۔تک”

” پھر چھوڑ کیوں دیا “

” امی بیمار ہو گئیں تھیں پھر فیس بھی زیادہ تھی “

” اچھا بہانا ہے سیدھاسیدھا کہو کہ موٹی موٹی بوٹنی اور زولوجی کی کتابیں پڑھی نہیں جاتی تھیں ۔۔۔۔” فارس کے منہ سے سچ سن کر وہ اچھنبے میں آ گئ تھی

” آپکو کیسے پتہ ۔۔۔۔ کہ مجھ سے یہ دو سبجیکٹ نہیں پڑھے جاتے تھے ” لائبہ حیرت کے سمندر میں غوطہ زن ہوئی تھی فارس ہسنے لگا

” جن ہیں میرے پاس جو سامنے والے کی حالات حاظرہ کی پوری خبر مجھے دے دیتے ہیں ۔۔۔ اس لئے اگر اپنے دل میں بھی مجھے بد دعائیں دینے کی کوشش کی تو سمجھ لینا مجھے فورا سے پتہ چل جائے گا “۔فارس کی بات پر وہ نفی میں سر ہلانے لگی

” نہیں نہیں میں کیوں دل میں آپ کو بددعائیں دینے لگی ۔۔۔ پھر بھی اچھا کیا آپ نے بتا دیا انسان کے کا کیا پتہ کب کیا کیا کہنے لگے ” لائبہ تو اب اس سے اور بھی ڈرنے لگی تھی ۔۔۔۔ بڑی اندر کی بات اس نے بتائی تھی تو جن کا ہونا تو لازمی تھا ورنہ اور کون جان سکتا تھا کہ وہ ان دو سبجیکٹ میں جسٹ پاس ہی ہوئی تھی ۔۔۔۔ باقی کاراستہ وہ لائبہ سے پوچھتا رہا ۔۔۔۔

اس کے گھر کے باہر اسے اتار کر چلا گیا ۔۔۔۔

******…….

سب سے پہلے اصفر نے اپنا کمرہ چھوڑ کر ایک دو کمروں کا کاٹج لیا تھا ۔۔۔ لیکن وہی۔ آس پاس آبادی

سے کچھ ہٹ کر ہی تھا ۔۔۔۔۔

پہلے تو وہ نہ کے گھر گیا تھا جہاں پہلی بار ایمان اور نور کو دیکھا تھا لیکن گھر پر تالا تھا ۔۔۔ اسکے بعد وہ ڈاکٹر بیگ کے گھر کے آس پاس ہی گھومنے لگا ۔۔۔۔ دو تین دن میں وہ انی ساری روٹین دیکھ چکا تھا حمنہ صبح ڈاکٹر بیگ کے ساتھ ہی ہاسپٹل جاتی تھی اور انہیں کے ساتھ واپس لوٹتی تھی۔۔۔۔ شاید اسے یہ ڈر تھا کہ اسے اصفر اکیلا پا کر بات کرنے کی کوشش نا کرے

بچے صرف شام کو کچھ دیر کے لئے ہی لان میں کھیلتے تھے اس دوران بھی ڈاکٹر بیگ کی بیگم وہیں کرسی پر بیٹھی رہتی تھیں بچوں کی نگرانی کے لئے ۔۔۔۔ اصفر کو بس ایسے موقع کی تلاش تھی

جب بچے اسے اکیلے نظر آئیں ۔۔۔۔ اور یہ موقع بھی اسے چند دن بعد ۔مل ہی گیا تھا

*******……..

“آپ نے اپنی ساری رپوٹس تو کروا لیں ہیں آپ کی ساری رپوٹس ٹھیک ہیں۔۔۔ مسز فیضان لیکن ہسبنڈ کی بھی کروانی چاہیے تھیں ۔۔۔ ۔۔۔۔”حمنہ فائل بند کر کے سامنے بیٹھی خاتون کے آگے رکھ دی

” وہ کہتے ہیں کہ وہ بلکل ٹھیک ہیں انہیں۔ کسی ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہے ” وہ کچھ ہچکچاتے اور نظریں چراتے ہوئے بولی

” کیوں ۔۔۔۔ ضرورت نہیں ہے بلکل ضرورت ہے ۔۔۔ جو ڈسیجن آپ لے رہیں ہیں اس سے پہلے ہسبنڈ کا ٹیسٹ کروانا بہت ضروری ہے ۔۔۔۔ ٹیسٹ ٹیوب بے بی بون کرنے کے لئے یہ بہت ضروری ہے آپ دونوں کی رپوٹس بلکل ٹھیک ہوں ۔۔۔۔۔

کیونکہ اکثر مرد باپ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتے اس صورت میں تو اس علاج میں جو بھی پروسسز کیا جائے گا کسی غیر مرد کا ہی کیا جائے جو کہ سراسر زنا کے زمرے میں آتا ہے ۔۔۔۔

مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی آخر لوگوں کا رجحان اس علاج کی طرف اتنا بڑھتا کیوں جا رہا ہے ۔۔۔۔ پہلے لوگ اولاد کی خواہش پوری کرنے کے لئے یتیم بچوں کو گود لے لیتے تھے ۔۔۔کسی تیم کی کفالت کا ثواب بھی مل جاتا تھا اور اس یتم کا بھی بھلا ہو جاتا تھا اب یہ بے حیا طریقہ رانج ہو گیا ہے جس میں گناہ کا احتمال زیادہ ہے ۔۔۔۔

صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’ اللہ روزِ قیامت اس شخص کو عذاب نہیں دے گا، جس نے یتیم کے ساتھ حسنِ سلوک کیا۔ شفقت سے پیش آیا اور اس کے ساتھ ہمیشہ نرمی و محبت سے بات کی۔‘‘ قرآنِ کریم اور احادیثِ نبوی ؐ میں یتیموں کے ساتھ حسن ِسلوک کی بار بار تلقین کی گئی ہے۔ اللہ فرماتا ہے ’’اور ماں باپ، قرابت داروں، یتیموں، محتاجوں، ہمسایوں ،رشتے داروں، اَجنبی رشتے داروں، مسافروں اور جو تمہارے قبضے میں ہوں (غلام نوکر) ان سب کے ساتھ احسان کرو۔‘‘ (سورۃ النساء ) اسی سورت میں اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے۔ترجمہ:’’یتیموں کے بارے میں انصاف پر قائم رہو۔‘‘ سورۃ البقرہ میں اللہ کا ارشاد ہے کہ ’’جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور والدین اور رشتے داروں اور یتیموں اور محتاجوں سے احسان کرتے رہنا، لوگوں سے اچھی باتیں کہنا، نماز پڑھنا اور زکوٰۃ دیتے رہنا، تو چند لوگوں کے سوا ،تم سب (اس عہد سے) منہ پھیر بیٹھے۔‘‘حضرت ابو امامہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’جس شخص نے کسی یتیم کے سر پر دستِ شفقت رکھا ا اور صرف اللہ کی خوش نودی حاصل کرنے کے لیے سر پرہاتھ پھیرا، تو جتنے بالوں پر اس کا ہاتھ پِھرا، ہر ہر بال کے بدلے اسے نیکیاں ملیں گی اور جس نے کسی یتیم بچّی یا یتیم بچّے سے حسنِ سلوک کیا، تو میں اور وہ جنّت میں ان دو اُنگلیوں کی طرح ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں اُنگلیوں کو ملایا) ہوں گے۔ (ترمذی، مسندِاحمد)

یتیموں کی پرورش و تربیت: اسلام نے یتیموں کی بہتر طریقے سے پرورش اور تربیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اپنی سگی اولاد کی طرح یتیم بچّوں کے بھی تعلیمی اخراجات اپنی استطاعت کے مطابق برداشت کریں اور ان کی بہترین تعلیم و تربیت کریں۔ یتیم کی کفالت اور پرورش کرنا، انہیں تحفظ دینا، ان کی نگرانی کرنا اور ان کے ساتھ بہترین سلوک کرنا ایسا صدقۂ جاریہ ہے کہ جس کے اَجر و ثواب کا اللہ نے خود وعدہ کر رکھا ہے۔قرآنِ کریم میں ارشاد ِ ربّانی ہے ’’ اور وہ اللہ کی محبت میں مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں، ان کے نزدیک کھانا کھلانے کا مقصد صرف رضائے الٰہی ہوتا ہے اور اس کے عوض نہ کسی بدلے کے طلب گار ہیں اور نہ شکرگزاری چاہتے ہیں۔‘‘ (سورۃ الدھر) حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص کسی مسلمان یتیم کی کفالت کرے گا، اللہ اسے ضرور جنّت میں داخل کرے گا۔‘‘ (ترمذی) حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے سخت دل ہونے پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کی درخواست کی، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’ تم یتیم کے سر پر (شفقت و محبّت سے) ہاتھ پھیرا کرو اور مساکین کو کھانا کھلایا کرو۔‘‘ (مسندِاحمد)

مسز فیضان میرا آپ کو مشورہ ہے آپ یہ علاج مت کروائیں ہم ویسے بھی تو شوہر سے بہت سی باتیں منوا ہی لیتے ہیں پھر یہ تو ثواب کا کام ہے نیکی ہے کہ۔ کسی یتیم کے سر پرست بن جائیں ۔۔۔۔۔ “

” میں بات کروں گی ۔۔۔۔ “

” جی بلکل کیجیے گا ” حمنہ کے سمجھانے پر وہ مریضہ ابھی کمرے سے نکل کر گئ ہی تھی کہ اس کے موبائل پر مسز بیگ کی کال آنے لگی ۔۔۔۔۔

” جی میم کہیے نور اور ایمان ذیادہ تنگ تو نہیں کر رہے ” ہمنہ نے روز مرہ کاسوال دہرایا تھا ۔۔۔۔ لیکن ڈاکٹربیگ کی وائف بہت گھبرائی ہوئیں تھیں

” حمنہ ۔۔۔۔ حمنہ وہ نور اور ایمان مجھے کہیں نظر نہیں آ رہے ۔۔۔۔ نا گھر پرہیں۔ نا باہر لان میں ہیں میں تو پڑوس کے کافی گھروں سے پوچھ آئی ہو۔لیکن کسی کو کچھ نہیں پتہ ۔۔۔۔ ” مسز بیگ کی بات نے تو حمنہ کے اندر سے جیسے روح ہی کھنچ لی تھی

” کیا مطلب نظر نہیں آ رہے گھر سے کہاں جا سکتے ہیں ” حمنہ اپنی کرسی سے کھڑی ہوگئی تھی ۔۔۔

” بیٹا وہ لان میں کھیل رہے تھے ۔۔۔۔ میں بھی وہیں بیٹھی تھی بس پانچ منٹ کے لئے بو واش روم جانے کے لئے اندر آئی تھی لیکن جب میں دوبارہ لان میں گئ تو وہ نہیں تھے

مجھے لگا اندر اپنے کمرے ۔میں ہوں گئے لیکن وہ گھر ۔میں کہیں نہیں تھے ۔۔۔ میں نے باہر نکل کر اس پاس کے سبھی گھروں سے پوچھیا لیکن کسی کو کچھ پتہ نہیں ۔۔۔۔ ” حمنہ بات سنتے ہوئے اپنے کیبن سے نکل کر تیزی سے ڈاکٹر بیگ کے کمرے میں جا رہی تھی

” مم ۔۔۔۔میرے بچے ۔۔۔ میں ابھی آ رہی ہوں ” آنسوں اسکی آنکھوں سے جاری تھے ۔۔۔۔ وہ تقریبا بھاگ رہی تھی جب سامنے سے فارس سے ٹکرا گی ۔۔۔

” سنبھل کر حمنہ ۔۔۔۔ بھاگ کیوں رہی ہو خیریت تو ہے نا ” فارس حمنہ کی عجلت اور آڑی ہوئی رنگت دیکھ کر پوچھنے لگا

” فارس ۔۔۔۔ فارس میرے بچے ۔۔۔۔۔ میرے بچے ۔۔۔۔ ” وہ روئے جا رہی تھی بات تک نہیں کر پا رہی تھی

” کیا ہوا ہے بچوں کو ۔۔۔۔ “

٫” مجھے گھر جانا ہے ۔۔۔۔ نا جانے میرے بچے کہاں ہوں گئے ” وہ بری طرح سے بدحواس تھی

” حمنہ ۔۔۔ حمنہ ۔۔۔ ہوا کیا ہے ” فارس نے اسے دونوں بازوں سے پکڑ کر سنبھالنے کی کوشش کی ڈاکٹر شہروز اور دوسری لیڈی ڈاکٹرز بھی حمنہ کو یوں روتا دیکھ کر وہیں رک گئیں لائبہ بھی وہیں کوریڈور سے گزر رہی تھی وہ بھی وہیں رک گئ ۔۔۔

” حمنہ کیا بات ہے ۔۔۔” ڈاکٹر زینب نے پوچھا ۔۔۔۔

” میرے نور اور ایمان گھر پر نہیں ہیں نا جانے کہاں چلے گئے ہیں ۔۔۔۔ فارس مجھے گھر جانا ہے ” وہ اب سسکیوں سے رو رہی تھی

” او کے ہم چلتے ہیں ۔۔۔ ٹیک اٹ ایزی ” یہ سن کر تو فارس بھی پریشان ہو گیا تھا

” حمنہ بچے وہیں کہیں کسی کے گھر پر کھیلنے چلے گئے ہوں گئے تم کیوں اتنی پریشان ہو رہی ہو ” ڈاکٹر زینب نے اسے تسلی دینی چاہیے لیکن اسے کسی پل چین نہیں تھا ۔۔۔۔ ڈاکٹر بیگ بھی وہیں آ چکے تھے ۔۔۔۔ انہیں بھی انکی وائف کی کال آ چکی تھی ۔۔۔۔

اس لئے حمنہ اور فارس کواپنے ہمراہ لئے وہ گھر پہنچے تھے ۔۔۔۔۔ فارس نے آس پاس کی یمارکیٹ تک چھان ماری تھی پانچ سال کے بچے اتنی دور مارکیٹ تک اکیلے آ بھی نہیں سکتے تھےیکنناس نے پھر بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔۔۔۔ حمنہ آس پڑوس کے گھروں کے اندر تک جا کر دیکھ آئی تھی ۔۔۔ دیوانوں کی طرح رو رہی بلک رہی تھی اسکی تو جیسے ساری دنیا ہی اجڑ گئ تھی ۔۔۔ اسکے بچے ہی تو اسکی کل کائنات تھے ۔۔۔۔۔

رات تک گلیوں میں گھروں میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر بے حال سی ہو گئ تھی ۔۔۔ کسی چیز کی ہوش نہیں تھی اسے ۔۔۔۔ با مشکل ہی ڈاکٹر بیگ اسے زبردستی گھر لائے تھے ۔۔۔

” حمنہ یوں گلیوں میں پھرنے سے تو نہیں مل جائیں گئے وہ تمہیں ” ڈاکٹر بیگ نے اسے سمجھانے کی کوشش کی

” مجھے چھوڑ دیں ڈاکٹر بیگ ۔۔۔۔ مجھے اپنے بچوں کو ڈھونڈنا ہے ہو سکتا ہے جس گھر میں نے ابھی تک دیکھا نہیں وہ وہیں ہوں ” حمنہ دل کو کہاں قرار آنا تھا ۔۔۔۔

” بیٹا میں اس گلی کے سارے گھروں میں پوچھ چکی ہوں ” مسز بیگ نے کہاں وہ خود رو رہیں تھیں ۔۔۔ انہیں سارا قصور اپنا ہی لگ رہا تھا۔۔۔۔

انہیں چاہیے تھا اندر جانے سے پہلے بچوں کو بھی اندر لے جا کر دروازہ لوک کر لیتی روز ہی وہ احتیاط برتی رہیں تھی بس آج ہی یہ غلطی کر بیٹھیں تھیں ۔۔۔

” نہیں میم۔۔۔۔ آپ نے گھر کے اندر سے نہیں دیکھا ہو گا ۔۔۔۔ شاید اندر ہوں ۔۔۔۔ چھوٹے سے تو بچے ہیں میرے ۔۔۔۔ کہیں۔۔۔ کہیں راستہ نا بھڑک گئے ہوں ۔۔۔ فارس تم چلو نا میرے ساتھ ہم دوبارہ مارکیٹ میں دیکھ آتے ہیں ایک ایک دوکان کے اندر جا کر دیکھتے ہیں ” حمنہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کہاں نا ڈھونڈ کے انہیں

” حمنہ میں ابھی ہر جگہ دیکھ آیا ہوں ۔۔۔۔ تم بیٹھوں ادھر ” فارس کی خود اندر سے جان نکلی ہوئی تھی ۔۔۔۔ بچوں سے تواسے بھی بے حد ۔حبت تھی

” نہیں بیٹھنا مجھے میرے بچے نا جانے کہاں اتنی ٹھنڈ ہو رہی باہر اندھیرا بھی ہو چکا ہے نور کو تعارفی بھی زیادہ لگتی ہے ۔۔۔ پتہ نہیں ۔۔۔۔ میری بچی ۔۔۔۔میرا مان کہاں ہوں گئے ۔۔۔۔ یا اللہ میرے بچوں کو مجھ سے ملا دے ۔۔۔۔ ان کے بغیر تو میں مر جاؤں گی ۔۔۔ “اپنے دونوں ہاتھ جوڑے وہ اللہ سے التجا کر رہی تھی ۔۔۔ ڈاکٹر بیگ کی آنکھیں بھی آبدیدہ تھیں فارس خود پر ضبط کیے ہوئے تھا مسز بیگ بھی تو تہیں تھیں ۔لیکن حمنہ کی حالات سب سے ذیادہ خراب تھی ۔۔۔ بکھرے کھلے بال ویسے ہی آوور آل پہنے اسے بچوں کے علاؤہ کسی۔ چیز کی ہوش نہیں تھی ۔۔۔۔ ڈاکٹر بیگ نے آگے بڑھ کر اسے پانی پلانا چاہا لیکن اس وہ نفی سر ہلانے لگی بے تحاشہ رو رہی تھی تڑپ رہی تھی

” مجھے نہیں پینا پانی پتہ نہیں میرے بچوں نے اب تک کچھ کھایا پیا بھی ہے کہ نہیں ۔۔۔ ” گلاس کو پیچھے کر کے وہ گھر سے باہر نکل گئ فارس اس کے پیچھے بھاگا تھاوہ سڑک پر تیز قدموں سے آگے بڑھ رہی تھی ۔۔۔

” نور ۔۔۔ نور۔۔۔۔ ایمان ۔۔۔۔ ” دونوں بچوں کو پکار رہی تھی ۔۔۔۔۔

“حمنہ رکو پلیز ” فارس اس کے پیچھے بھاگتے ہوئے اس تک پہنچا تھا ۔۔۔

*******…….

دونوں بچے کمرے کے ایک کونے میں دبکے کر بیٹھے تھے ۔۔۔ کمرے کا دروازہ بند تھا ۔۔۔۔ انکے علاؤہ کمرے ۔میں اور کوئی نہیں تھا ۔۔۔۔نور بے تحاشہ رو رہی تھی مان کے ساتھ چپکی ہوئی تھی جان تو ایمان کی حلق میں اٹکی ہوئی تھی ۔۔۔۔ لیکن رو نہیں رہا تھا ۔۔۔۔

” نور ۔۔۔ پلیز چپ ہو جاؤں ۔۔۔۔ کچھ نہیں ہو گا ہمہیں ” بہن کو اپنے ساتھ لگائے وہ پانچ سالہ بچہ اپنی ہی جڑواں بہن کو کسی بڑے طرح تسلی دے رہا تھا ۔۔۔

” مان بھائی مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔ ہمیں اس انکل کی بات نہیں ماننی چاہیے تھی ممی ٹھیک کہتی تھی ۔۔۔۔ اپنی ممی کے علاؤہ کسی کے ساتھ کہیں نہیں جانا چاہیے ۔۔۔ پتہ نہیں اب یہ ہمارے ساتھ کیا کرے گا ۔۔۔۔ ” نور روتے ہوئے کہنے لگی سسکیاں لینے لگی

” ٹھیک کہہ رہی ہو تم۔۔۔ایک بار ممی نے مجھے بتایا تھا بچوں کو یوں لے جا کر خالی کمرے میں بند کر دیتے ہیں پھر انکے ہاتھ یا پاؤں کاٹ کر بھیک منگواتے ہیں اس لئے کسی پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے ۔۔۔۔ نور مجھے بھی ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔۔۔ ہم کیوں اس انکل کے ساتھ آ گئے ۔۔۔۔ ” خوف کے مارے دونوں بچوں کی رنگت اڑی ہوئی تھی

” مان بھائی کیا وہ انکل ہمارے ہاتھ پاؤں چھری کاٹ دے گا ؟ ” نور حد درجہ پریشان ہوئی تھی

” ہاں چھری سے کاٹے گا ۔ہر چیز چھری سے کاٹتے ہیں ۔۔۔ “

” پھر تو بہت درد بھی ہو گا ” نور روتے ہوئے بولی

” ہاں بہت درد ہو گا ۔۔۔۔ ” ایمان نے ڈر سے خشک حلق سے تھوک نگلتے ہوئے کہا

” مان بھائی ۔۔۔۔ اب ہم ممی سے کبھی نہیں مل سکیں گئے ؟” نور کی جان نکلی تھی یہ سوچ کر کہ وہ اپنی ماں کو۔ دوبارہ دیکھ نہیں پائے گی وہ پھر سے رونے لگی تھی

” پتہ نہیں ۔۔۔۔ ” کمرے کی لائٹس جل رہیں تھیں ۔۔۔۔ بیڈ بھی موجود تھا اس پر سلیقے سے کمبل بھی رکھا ہو تھا کمرہ چھوٹا تھا لیکن ہر سہولت سے آرستہ تھا ۔۔۔۔ لیکن وہ دونوں پھر بھی زمین کے ایک کونے میں دبکے بیٹھے تھے ۔۔۔۔

ایمان کو اپنے کاٹون یاد آنے لگے جس ۔میں ایک بچے کو ایک کمرے میں بند کر دیا جاتا ہے اور وہ کھڑکی کھول کر بھاگ نکلتا ہے ۔۔۔۔ اس لئے اب وہ کمرے کا جائزہ لینے لگا ۔۔۔ لیکن وہاں کوئی کھڑکی موجود نہیں تھی ۔۔۔ پھر قدموں کی آہٹ کی آواز پر دونوں بہن بھائی ایک دوسرے کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئے ۔۔۔۔۔