Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan NovelR50479 Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 9
No Download Link
Rate this Novel
Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 9
Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan
انہوں نے جیسے اس کے سر پر بم پھوڑا تھا۔۔۔ وہ چند لمحے تو نہ سمجھ آنے والے انداز میں انہیں دیکھے گئی۔۔۔ جب بات پلے پڑی تو بے يقینی سے انہیں دیکھتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
“یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ میں ابھی شادی نہیں کروں گی!!” قابو کرنے کے باوجود اسکی آواز بلند ہو گئی۔۔
عارفہ نے خوفزدہ نظروں سے دروازے کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ “آہستہ بولو تمهارے بابا سائیں اور ماہ بیر باہر کھڑے ہیں کیوں اپنی جان کی دشمن بن رہی ہو!!” وه اسے آنکھیں دکھا کر بولیں تو وه تو جیسے ان کی بات سے سلگ ہی گئی۔۔۔
امی جان یہ زيادتی ہے میرے ساتھ میں کیوں چپ رہوں آخر کو یہ میری پوری زندگی کا سوال ہے!! وه آنکھوں کو بار بار جهپكتی ہوئی بولی۔۔
کونسی زيادتی ہوگئی تمهارے ساتھ ہم بھی تو سنیں۔۔۔!!! وه چوکھٹ میں آ کر کھڑے ہوتے ہوئے اسے سرد نظروں سے دیکھ کر بولے۔۔ للہ عارفہ گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔۔ وہی ہوا تھا جس کا انہیں ڈر تھا۔۔ آخر یہ لڑکی سمجھتی کیوں نہیں۔۔۔
مشائم نے ان کے پیچھے نمودار ہوتے ماہ بیر کو دیکھا جو کھوجتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ اس نے تھوک نگلا۔۔۔ یہی وقت ہے جب میں اپنے لئے آواز اٹھا سکتی ہوں۔۔ یوں خاموش رہی تو میری ساری زندگی جہنم بن جائے گی۔۔۔ ایک ان چاہے وجود کے ساتھ میں کیوں کر زندگی بسر کر سکتی ہوں جبکہ اب میرے دل میں کوئی اور بسیرا کر چکا ہے۔۔
“اب خاموش کیوں ہو جواب دو ہمیں” وه جو اپنے پیروں کو دیکھتی خیالات بننے میں مصروف تھی سید عبدالله شاہ کی بلند آواز پر ایک پل کو لرز گئی۔۔۔ اس کے دل کی دھڑکن سوا ہوئی تھی۔۔۔
“جج جی ۔۔۔ بابا سائیں مم ۔۔ میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔۔” وہ آنکھیں بند کیے ایک سانس میں ہی کہہ گئی ۔۔
وه طیش سے اسکی جانب بڑھے کہ ماہ بیر نے جلدی سے آگے آتے انہیں روک دیا۔۔ “مشی بابا سائیں نے تمهارے بھلے کے لئے ہی یہ فیصلہ لیا ہے۔۔” وه نظروں ہی نظروں میں اسے سمجھاتے ہوئے بولا۔۔
وه نم آنکھوں سے اسے دیکھے گئی۔۔۔ بھائی جان مجھے مجبور مت کریں پلیز!!! وه گہری سانس لیتی سپاٹ لہجے میں بولی۔۔
ماہ بیر نے حیرت سے اسکے بدلے انداز کو دیکھا تھا۔۔۔ اسکی مشی اتنی بے ڈر اور ہٹ دهرم تو نہیں تھی ۔۔۔
“کیوں نہیں کرنا چاہتی تم ابھی شادی ؟ ہاں !! تعلیم کی وجہ سے کہہ رہی ہو تم شادی کے بعد بھی جاری رکھ سکتی ہو” عبدالله شاہ حتی الامکان خود پر قابو پا کر بولے۔۔
یہ بات نہیں ہے!! وه سر جھکاتے ہوئے بولی تو ان کا غصہ پھر عود آیا۔۔۔
“مشی اپنی زبان سنبهال کر بات کرو۔۔ یہ یاد رکھو تم اپنے بابا سائیں سے بات کررہی ہو” عارفہ نے اسے ڈپٹ دیا۔۔۔
“کیا بات ہے پھر ہم بھی تو سنیں جس نے تمہیں تمهاری تمیز تک بھلا دی ہے۔۔” وہ مٹھیاں بھینچ کر داڑھے تو وه کانپ گئی۔۔ دو آنسو اس کی آنکھوں سے پهسل کر گرے۔۔
مم ۔۔ میں یہ ۔۔ شادی نہیں کر سکتی کیوں کہ ۔۔۔۔ وه رکی تو ماہ بیر نے بے چینی سے اسے دیکھا۔۔
“کیونکہ میں یوسف کو پسند کرتی ہوں۔۔۔”
“چٹاخ چٹاخ چٹاخ !!!”
عبدالله شاہ نے طیش سے آگے آتے پے در پے تین تھپڑ اس کے گال پر دے مارے۔۔ تھپڑ اتنے زبردست تھے کہ وه چند قدم پیچھے جاتی گرتے گرتے بچی۔۔
ماہ بیر شاک اور بے يقینی سے اسے دیکھے گیا۔۔ اس کے الفاظ جیسے کہیں کھو گئے تھے۔۔۔ عارفہ بھی حیرت سے مشائم کو دیکھتی سوچنے لگیں کہ آخر ان کی تربيت میں کہاں کمی رہ گئی تھی۔۔۔
“دیکھو اپنی بہن کی حرکتیں سیدہ ہو کر کیسے بے غیرتی سے ہماری ناک کے نیچے یہ گل کھلا رہی ہے۔۔ اور دو اسے چھوٹ،، ہوا لگ گئی نہ زمانے کی اسے بھی۔۔” وہ ماہ بیر کو دیکھتے بلند آواز میں بولتے چلے گئے۔۔
مشائم چہرے پر ہاتھ رکھے ہچکیوں سے رونے لگی۔۔۔ ماہ بیر نے افسوس سے اسے دیکھا۔۔ یوسف ؟ وه ایسا کیسے کر سکتا ہے ؟ وه سوچتا لب بھینچ گیا۔۔ مشائم پر ایک تیکھی نظر ڈال کر وه لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے چلا گیا۔۔۔
“سن لو کان کھول کر آج سے تمہارا باہر جانا بند!! نہ تم درس گاہ جاؤ گی نہ کہیں اور ۔۔ اگر مجھے پتہ چلا کہ تم نے قدم باہر نکالا تو تمھاری ٹانگیں توڑ دوں گا۔۔ تم جیسی بے غیرت اولاد کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دینا چاہیے۔۔”
ان کی داڑھ پر وه تھر تھر کانپنے لگی۔۔
“اپنے ذہن میں یہ بات بٹھا لو تمهاری شادی وہیں ہوگی اور اب بہت جلد ہوگی؛؛؛ سمجھا دینا اسے!!!” عارفہ کو دیکھ کر درشتگی سے کہتے وه چادر جھٹک کر بھاری قدم اٹھاتے ہوئے کمرے سے چلے گئے۔۔
ان کے جانے کے بعد انہوں نے روتی ہوئی مشائم کو ایک نظر دیکھا اور بغیر ایک لفظ بھی کہے چلی گئیں۔۔۔
کمرے میں خاموشی پا کر وہ چہرے سے ہاتھ ہٹاتی نڈھال سی بستر پر اوندھی گر کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔
کھڑکی سے چھن کر آتی دھوپ اس کے چہرے پر پڑی تو اس نے کسمسا کر آنکھیں کھولیں۔۔ سر میں شدید درد اٹھا تھا۔۔۔ آنکھوں کو بار بار جهپک کر وه اٹھ بیٹھی۔۔۔
اپنے آپ کو کسی اجنبی جگہ پر پا کر وه ایک پل کو حیران ہوئی۔۔۔ دماغ پر ذور ڈالنے پر گزری رات کے مناظر دماغ کی سكرین پر اجاگر ہوئے۔۔۔
یہ میں نے کیا کر دیا؟؟ وه گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ آہ!! اسکا پورا جسم دکھ رہا تھا۔۔۔ صص۔۔۔ صبح ہو گئی۔۔ اس نے پیشانی مسلی۔۔۔ گھر ۔۔ گھر جانا تھا رات کو ہی ۔۔۔ اب کیا کروں ۔۔ وه دوپٹہ گلے میں ڈالتی کمرے سے باہر آئی ۔۔
اورهان؟؟ اسکی آواز حویلی کی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آئی۔۔۔ وہ ماتھے سے پسینہ پونچھتی آہستہ آہستہ چلتی اسے پکارنے لگی۔۔۔ اورهان کہاں ہیں آپ ؟ اس بار بھی اسکی پکار کہ جواب میں خاموشی چھائی رہی۔۔
اس کا دل کچھ غلط ہونے کے احساس سے زوروں سے دھڑکنے لگا۔۔ کچھ ہی دیر میں اس نے پوری حویلی چھان ماری لیکن وه اسے کہیں نظر نہ آیا۔۔
اس کے دل میں خدشات کے سانپوں نے اپنے پھن اٹھانے شروع کر دیے تھے۔۔ ایک خیال آنے پر وه کمرے میں واپس آئی۔۔۔ کانپتے ہاتھوں سے اس نے اپنا موبائل پکڑ کر اسکا نمبر ڈائل کیا۔۔
دوسری جانب سے نمبر بند ہونے کی اطلاع نے اس کے دل میں اٹھتے خدشات کی تصدیق کردی۔۔۔ اس نے کانپتے ہونٹوں کو بھینچ لیا۔۔
دد ۔۔۔دھوکا ۔۔ دھوکا دیا مجھے۔۔ وه منہ پر ہاتھ رکھے سسک اٹھی۔۔ مم ۔۔ میں نے ۔۔ کیا کردیا۔۔۔ آہ!!! وه سائیڈ ٹیبل پر رکھی چیزیں ہاتھ مار کر گراتی چیخ اٹھی۔۔۔
تم ۔۔ تم سے پیار کیا میں نے اور تم نے ۔۔ استعمال کیا مجھے ۔۔۔ وه اپنے بال نوچتی زمین پر بیٹھتی بلکنے لگی۔۔
موبائل پر بیل بجی تو اس نے دھڑکتے دل سے دیکھا ۔۔ عبدلالمنان کی کال آ رہی تھی۔۔ اس نے موبائل کو یوں پرے پهینکا جیسے اسے کسی بچھو نے ڈنک مارا ہو۔۔
نہ جانے انکی کتنی كالز آ چکی تھیں لیکن موبائل سویچ آف ہونے کی وجہ سے وه جان نہیں پائی۔۔ اپنے آپ کو کوستی وه اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ ہاتھ کی پشت سے آنسو پونچھ کر اس نے دماغ لڑایا۔۔
مم میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔ یہ سب تمہارا قصور ہے۔۔ ایسا ہی ہوا ہے۔۔ تم نے میرے ساتھ زبردستی کی ہے۔۔ یہی یہی کہوں گی میں ہاں ٹھیک ہے۔۔
اپنی چادر ڈھونڈ کر اپنے آپ کو مکمل ڈھانپتی وہ حویلی سے نکل آئی۔۔ اسے کچھ کچھ علم تھا راستوں کا۔۔ پوچھتے گچھتے وه بالاخر اپنے علاقے میں آ گئی۔۔ ڈرتے ڈرتے اس نے دروازہ کھول کر اندر قدم رکھا۔۔
“اماں ؟؟ ازنا آ گئی ہے۔۔”
صحن میں پریشانی سے ٹہلتی اینارا نے اسے آتے دیکھا تو اونچی آواز میں بولتی شائستہ کو بلانے لگی۔۔
وہ اس کی پکار پر جلدی سے کمرے سے باہر آئیں۔۔۔ اس کے پاس آتیں وه اسے بازو سے پکڑ کر اندر لے گئیں۔۔ وہ نم آنکھوں کے ساتھ ان کے ساتھ کھینچی چلی گئی۔۔ اینارا نے کمرے کی چوکھٹ پر کھڑے اسے بلکتے دیکھا تھا۔۔
“کہاں تھی تو؟ ہاں ؟ بتا مجھے کہاں تھی۔۔ ہم سب پر کیا گزر رہی تھی کچھ خبر ہے تجھے؟ تیرا باپ تجھے کہاں کہاں نہیں ڈھونڈ چکا۔۔ بولتی کیوں نہیں اب ۔۔” وه اسے جهنجھورتی ہوئی بولیں۔۔
اماں برباد ہوگئی تیری ازنا برباد ہوگئی میں!!! وه ان کے سینے سے لگی تڑپ تڑپ کر رونے لگی۔۔
اینارا اپنی جگہ ششدر رہ گئی۔۔
کیا اول فول بول رہی ہے!! وه اسے پیچھے ہٹا کر دھڑکتے دل سے بولیں۔۔ کیا ہوا ہے تیرے ساتھ؟
مم ۔۔ میرا ۔۔ ریپ ہوا ہے!! وه بلک بلک کر روتی انہیں من گھڑت کہانی سنانے لگی۔۔ اصل میں رونا تو اسے اپنی کوتاہی اور بےوقوف بنائے جانے پر آ رہا تھا۔۔
اینارہ کی گرفت دروازے پر مظبوط ہوئی تھی جبکہ شائستہ نے بےیقین نظروں سے اسے دیکھا ۔۔ کوئی رات کو آ کر ان کی بچی کو گھر سے اٹھا کر لے گیا تھا اور انہیں خبر ہی نہیں ہوئی۔۔۔
اینارا نے کسی احساس کے تحت پلٹ کر پیچھے دیکھا تھا۔۔ عبدلمنان اپنے بائیں بازو کو سہلا رہے تھے۔۔ ان کے چہرے سے لگ رہا تھا کہ وہ شدید تکلیف میں ہیں۔۔۔ دفعتاً انہوں نے اپنے سینے کو مسلنا شروع کردیا۔۔۔ چند پلوں کا کھیل تھا۔۔ وه دیوار کا سہارا لیتے پورے قد سے نیچے گرے تھے۔۔
ابا !!! وه چیختی ہوئی باہر بھاگی تھی۔۔۔
اپنے ازلی مغرور انداز میں چلتا ہوا وه گھر کے دروازے کے سامنے آیا۔۔ دروازه لاک دیکھ کر اسے اچنبھا ہوا۔۔ پاكٹ سے چابی نکال کر لاک کھولتا وه اندر آیا۔۔
تمام لائٹس آف دیکھ کر اسے ایک بار پھر سے حیرت ہوئی۔۔ کسی ملازم تک کا نام و نشان نہ تھا۔۔۔ ارشما؟ سیڑھیاں چڑھتا وه اسے پکارنے لگا۔۔
جواب نہ پا کر وه اس کے کمرے میں آیا جو خالی اسکا منہ چرا رہا تھا۔۔۔ اس نے موبائل نکال کر ہیڈ سرونٹ کو کال ملائی۔۔
ہیلو!! آج سب سرونٹس کدھر مر گئے ہیں۔۔ تم کیوں نہیں آئے آج ؟؟ کیا میں نے تم سب کو چھٹی دی تھی؟ وہ دانت پیس کر بولا۔۔
مقابل کے جواب پر اسکی آنکھوں میں حیرت در آئی۔۔ کیا ؟ دروازه صبح سے لاک تھا۔۔ میڈم نے کل تم سب کو واپس بھیجنے سے پہلے کچھ کہا تھا؟ اوکے اب میں آ گیا ہوں ۔۔۔ سب کو انفارم کر کے فورا پہنچو!!
موبائل بند کر کے وه دوبارہ نیچے آیا۔۔ اس نے سوچا ایک نظر نیچے والے کمروں کو بھی دیکھ لے۔۔ جونہی وه پہلے کمرے میں آیا کمرے کی بکھری حالت دیکھ کر چونکا۔۔ کوئی بھی چیز اپنی جگہ پر موجود نہ تھی۔۔
اس کے ماتھے پر بل پڑے۔۔ وه سرد نظروں سے کمرے کو دیکھتا باہر آیا۔۔ کچھ دیر بعد ملازم آ گئے ۔۔۔اس نے سب کو ایک لائن میں کھڑے کر کے باری باری سب سے کل کی بابت پوچھا۔۔
اوکے جاؤ تم سب اور ہاں اپنی زبان اور کان بند رکھنا ۔۔۔۔ وه انہیں دیکھتا درشتگی سے بولا تو وه حلق خشک کرتے وہاں سے جاتے اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوگئے۔۔
ان کے جانے کے بعد اس نے پیشانی مسلی۔۔ اس کے چہرے پر تفکرات کے سائے منڈلانے لگے تھے۔۔ اس نے باری باری اسکی سب دوستوں کو کال کی لیکن سب نے لا علمی کا اظہار کیا۔۔ اب کہ وہ صحیح معنوں میں پریشان ہوا تھا۔۔ آخر وه کہاں چلی گئی تھی۔۔ ایسا تو پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔۔ وه اپنے آپ سے الجھ رہا تھا کہ موبائل کی سكرین پر رانا کا نام جگمگانے لگا۔۔
اس نے کچھ سوچ کر کال اٹھا لی۔۔ ہاں بولو ۔۔
دوسری جانب وہ اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتا مکروہ مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولا۔۔ “کیسے ہو نہ سلام نہ دعا ۔۔ اچھا ہے بھئی!!!”
کام کی بات کرو میں مصروف ہوں۔۔!!
وه سپاٹ لہجے میں بولا تو رانا نے آنکھیں گھمائیں۔۔
تمہارے لیے ایک خبر ہے بابا !! سننا نہیں چاہو گے؟ اسکے معنی خیز انداز پر وه چونکا۔۔
بولو!! وہی لٹھ مار انداز ۔۔۔
اپنی بہن کا خیال رکھو بابا،،، ماہ بیر کے ارادے کچھ اچھے نہیں ہیں۔۔۔ رکھتا ہوں مصروف ہوں میں بھی۔۔!! اسے باور کرواتے اس نے کال کاٹ دی۔۔ اس کا کام تو ہو چکا تھا۔۔
دوسری جانب اورهان سرد نظروں سے سکرین کو گھورتا مٹھیاں بھینچ گیا۔۔ یہ خیال اسے پہلے کیوں نہیں آیا۔۔
یہ تم نے اچھا نہیں کیا سلطان ماہ بیر شاہ ۔۔ وه آگ اگلتے لہجے میں پھنکارا تھا۔۔
سفید حویلی کی آج چھب ہی نرالی تھی۔۔ پوری حویلی کو برقی قمقموں سے سجايا گیا تھا۔۔ موتیے کے پھولوں کی دل آویز مہک چاروں جانب سے پھوٹ رہی تھی۔۔
ملازمین میں بھگدر مچی ہوئی تھی۔۔۔ آخر کو سید محمّد عبدالله شاہ کی اکلوتی بیٹی کی شادی تھی کوئی معمولی بات تھوڑی تھی۔۔۔
وه اپنا پرانده جهلاتی ہوئی اپنے آپ کو مس بیوٹی سمجھتی آگے بڑھ چڑھ کر ہر کام میں حصہ لے رہی تھی۔۔
نگہت ؟؟ ہلکے رنگ کے نفیس سے لباس میں ساده سی عارفہ کسی کام سے ادھر آئیں تو اسے دیکھ کر پکار بیٹھیں۔۔۔
جی بڑی بی بی ؟؟ وه جلدی سے ان تک آئی۔۔
“جاؤ چھوٹی بی بی کو جا کر دیکھو تیاری مکمل ہوگئی کہ نہیں؟ کچھ دیر تک مہمان آنے لگیں گے۔۔”
جی بی بی جی !! میں ابھی جاتی ہوں۔۔
ادھر وه اپنے کمرے میں سنگهار میز کے سامنے بے جان مورت بنی بیٹھی تھی۔۔ آج اسکی مایوں تھی۔۔ یہ کیسی شادی تھی جس میں دل آباد ہونے کی بجائے مرده ہونے لگا تھا۔۔ ارمانوں کے بے رحم قتل پر اس کی ڈولی اٹھوائی جانے والی تھی۔۔ وه ویران آنکھوں سے آئینے میں اپنا عکس دیکھ رہی تھی۔۔
پیلی سادھ کاٹن کی شلوار قمیض پر دیده زیب پھولوں اور سفید موتیوں سے مزين بھاری سا دوپٹہ اس کے سر کی زینت بنا ہوا تھا۔۔ بھوری دلکش بڑی بڑی آنکھوں میں كاجل کی باریک لكیر نے اسکی آنکھوں کو دو آتشہ کر دیا تھا۔۔
ایسی حسین آنکھوں میں ویرانی ۔۔ اگر اس وقت صالح یوسف اسکی آنکھوں کو دیکھ لیتا تو ضرور ان نینوں میں ڈوب جاتا۔۔ لیکن پھر بات ہی کیا تھی اگر وه دیکھ لیتا۔۔
اس کی آنکھ سے آنسو ٹپکا اور براؤن لپ سٹک سے سجے ہونٹوں کے برابر پل کو ٹھہرا اور پھر ٹھوڑی سے نیچے لڑھک گیا۔۔۔ دفعتاً ساكن وجود میں حرکت ہوئی اور وه منہ پر ہاتھ رکھے سسکنے لگی۔۔۔
اس کے دل کی دنیا ہلا کر وه شخص کیسا بے خبر تھا۔۔ تمہاری جوگن تمهاری دیوانی پر کسی اور کے نام کی چھاپ پڑنے والی ہے۔۔ میری بے بسی دیکھو کہ میں خود کی ذات کو ختم بھی نہیں کر سکتی کیونکہ میرے عظیم بابا سائیں کی عزت کا سوال ہے۔۔
لوگوں کے لئے یہاں سے ڈولی اٹھے گی آہ !! لیکن در حقیقت یہاں سے میری میت اٹھے گی۔۔ جو میرے دل کے قبرستان میں دفنائی جائے گی۔۔
اس کا دل کررہا تھا کہ اتنا چیخ چیخ کر روئے کے سب کے دل چھلنی ہو جائیں۔۔ کوئی اسکی تکلیف کیوں نہیں سمجھتا ۔۔۔ خواہشات کی قبر پر پھولوں کی سیج نہیں سجائی جا سکتی۔۔ کاش کوئی سمجھ سکے۔۔ کاش!!
وه منہ پر ہاتھ رکھے اپنی ذات سے جنگ کرنے میں مصروف تھی کہ نگہت کی آواز پر ہاتھ چہرے سے ہٹاتی آنسو پونچھنے لگی۔۔۔
ارے مشی بی بی آپ رو کیوں رہی ہیں آپ کو تو خوش ہونا چاہیے آخر کو آپ کی شادی جو ہے۔۔ کتنیییی سوہنی لگ رہی ہیں آپ ماشاءالله !!
آپ اداس نہ ہوں دیکھنا آپ کے وه آپ کو بہت خوش رکھیں گے۔۔
وه اپنی طرف سے اندازے لگاتی فر فر بولتی اسے سمجھانے لگی۔۔ “وه آپ کے سسرال سے بھی کچھ عورتیں آئیں گی جی ہلدی لگانے آپ ایسے مرجهائی سی نظر آئیں گی تو وہ نہ جانے کیا سمجھ بیٹھیں۔۔” وہ اس کا ہاتھ تھام کر پیار سے بولی تو مشائم کی بس ہوئی تھی۔۔
وه اسکے گلے سے لگتی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔ اسے اس قدر تڑپ تڑپ کر روتے دیکھ کر نگہت بھونچکا رہ گئی۔۔
تمہیں کیا بتاؤں کہ جس عشق کی نگری پر میرے قدم پڑ چکے ہیں وہاں سے واپسی کی کوئی راہ نہیں۔۔ ایسی نگری جہاں کڑکتی دھوپ میں ننگے پیر چلنا پڑتا ہے۔۔ میں عشق نگر کی ایسی راہوں پر قدم رکھ چکی ہوں جو کبھی ختم نہیں ہوں گی۔۔
وه محض سوچ ہی سکی۔۔۔
رات کی رانی اپنے پر پھیلا چکی تھی۔۔ ایسے میں وه سفید كلف لگی شلوار قمیض پر ہلکی بھوری شال کاندھوں پر ڈالے انتظامات دیکھنے لان میں آیا تھا۔۔ لان میں مردوں کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا جبکہ عورتوں کے لئے اندرون صحن میں نشستیں مخصوص کی گئی تھیں۔۔
ملازم کو راستہ صاف کرنے کا کہتے اسکی نگاہ اندر آتے صالح پر پڑی جو حیران نظروں سے چاروں جانب دیکھ رہا تھا۔۔ وه ابھی ابھی شہر سے لوٹا تھا۔۔ واپس آتے ہی وه سیدھا یہاں آیا تھا تا کہ شاہ سائیں سے مل لے اور جس کام کے لئے انہوں نے بھیجا تھا اس سے آگاہ کردے۔۔
لیکن یہاں آ کر تو اسے کچھ اور ہی دیکھنے کو ملا تھا۔۔ ایسا لگتا تھا یہاں کوئی تقریب ہے۔۔ خیر!!! اس نے سر جھٹکا۔۔
سیاہ پینٹ شرٹ میں ماتھے پر بکھرے بالوں کو ہاتھ سے پیچھے کرتے وه موبائل کی بیپ پر ایک پل کو رکا۔۔ بال ہٹنے سے پیشانی پر پڑے بل نماياں ہوئے تھے۔۔
وه لان میں ماہ بیر کو موجود پا کر وہیں آ گیا۔۔ ماہ بیر نے ایک سرد نظر اس پر ڈالی اور تمام ملازمین کو وہاں سے جانے کا اشارہ کرتے لان کی دوسری جانب آ گیا جہاں سے حویلی کی پچھلی جانب کو راستہ جاتا تھا۔۔
صالح نے بھی اسکی تقلید کی البتہ اسکا ذرا عجیب سا انداز اسے سمجھ نہیں آیا تھا۔۔ وه دونوں قدرے کونے میں آ کر رکتے ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہو گئے۔۔۔
ماہ بیر ہونٹ بھینچے سرد نظروں سے اسے دیکھے گیا۔۔ اسکی سرمئی آنکھوں میں کچھ تو ایسا تھا جو صالح یوسف کو چونکا گیا۔۔
کیا ہوا شاہ سائیں سب ٹھیک۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی بات مکمل نہ ہونے پائی تھی۔۔
چٹاخ!!!
