Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 2

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan

دروازے کے باہر قدموں کی آواز سن کر وه ایک لمحے کو خوفزدہ ہوا لیکن پھر اپنے آپ کو تسلی دینے لگا۔۔۔

اسے یہاں لانے تک کسی نے ہاتھ تک نہیں لگایا تھا اس لئے اسے یہ خوش فہمی ہو چلی تھی کہ یہ لوگ اب بھی اسے کچھ نہیں کہیں گے کیونکہ سید سلطان ماہ بیر شاہ کی رحمدلی کے بہت قصے اس نے سن رکھے تھے۔۔

لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس کے قہر و غضب کے قصے بھی یاد رکھتا۔۔۔

وه اس وقت خالی کمرے میں رکھی ایک کرسی پر بیٹھا تھا جس پر اسے رسیوں سے باندھا گیا تھا۔۔۔

دروازہ چرچرانے کی آواز آئی تو اس نے جھکا سر اٹھا کر دیکھا۔۔

دونوں کے چہرے کے برفیلے تاثرات دیکھ کر اسکا حلق سوکھ گیا۔۔ اس نے تھوک نگل کر حلق تر کرنا چاہا تو اسکے گلے میں گلٹی واضح ہوئی۔

ماہ بیر نے دیوار کے ساتھ رکھی کرسی گھسیٹ کر اس کے سامنے رکھی اور اس کے سامنے بیٹھ کر دونوں ہاتھوں کو باہم ملا کر اس کے چہرے پر نظریں گاڑ دیں۔۔۔

صالح ، ماہ بیر کے دائیں جانب کھڑا ہوگیا۔۔ اس نے ذرا سا جھک کر اس کے منہ سے ٹیپ کھینچ کر اتاری۔۔

“چلو شروع ہوجاؤ”

ماہ بیر نے سرد لہجے میں کہا۔

“سائیں میں شراب کے نشے میں تھا، غلطی ہوگئی مارے سے، مَنے معاف کردو”

وه رسیوں سے جکڑے بازو مشکل سے ہلاتا اسکے سامنے ہاتھ جوڑنے کی کوشش کرنے لگا۔۔

“ہمم، یوسف؟ یہ تو بےقصور ہے کھول دو اسے”

ماہ بیر کے اشارے پر صالح اسکی کرسی کے پیچھے جا کھڑا ہوا۔۔۔ آہستہ آہستہ اس نے ساری رسیاں کھول دیں۔۔۔

وه شخص اپنے آپ کو رسیوں کی قید سے آزاد پا کر خوش ہوتا کھڑا ہوگیا۔۔۔

ماہ بیر نے بھی کرسی پیچھے كهسكا دی۔۔

“ہم معافی چاھتے ہیں کہ تمہیں خوامخواہ اتنی دیر یہاں قید میں رہنا پڑا۔۔۔”

وه معذرت خواہانہ انداز میں اسے دیکھ کر کہتا پلٹا تو صالح نے مسکراتی نظروں سے ماہ بیر کو دیکھا۔۔۔

وه شخص خوش و خرم اس کے پچھے جانے لگا کہ اچانک ماہ بیر پلٹا اور ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے چہرے پر دے مارا جس سے کئی فٹ دور زمین پر جا گرا۔۔

تھپڑ اتنا زور دار تھا کہ اسکے چہرے کی جلد پھٹ گئی۔۔۔ وه زمین پر گرا خوف سے کانپنے لگا۔۔۔

ماہ بیر کے اشارے پر صالح اسکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔۔۔

چچ چچ!!

اسکا چہرہ ہاتھ کی ایک انگلی سے اوپر اٹھا کر وه افسوس سے اسے دیکھنے لگا۔۔

چہرے کے برعکس اس کی آنکھوں میں پتھریلا تاثر دیکھ کر اس شخص کی ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہریں دوڑ گئیں۔۔

ابھی پیار سے پوچھ رہے ہیں بتاؤ کس کے کہنے پر یہ سب کر رہے ہو؟ اس لڑکی کا قتل کس نے کیا ہے؟

وه اس کے سر پر ہاتھ پھیرتا اسے پچکارتے ہوئے بولا۔۔۔

“مم میں نے۔۔۔”

اس نے تھوک نگل کر بمشکل حلق سے آواز نكالی۔

صالح نے چند لمحے سرد نظروں سے اسے دیکھا اور پھر اسکا سر دیوار میں دے مارا۔۔

“آہ!!”

وه درد سے بلبلا اٹھا۔۔

تو تم ایسے نہیں سمجھو گے، تمہیں تمهاری زبان میں سمجهاتا ہوں۔۔ یہ تمهاری بیٹی ہے۔۔ کہیں غلط تو نہیں کہہ رہا یہ دیکھو غور سے دیکھو۔۔

ماہ بیر نے ایک ہاتھ پینٹ کی پاكٹ میں ڈالا جبکہ دوسرے ہاتھ میں موبائل پر ایک تصویر نکالتے اس کے سامنے کیا جسے دیکھ کر اس کا رنگ زرد پڑ گیا۔۔

اگر تم نے سچ نہ بولا تو تمہارا کِیا تمہاری بیٹی بھگتے گی۔۔ ہوسکتا ہے کہ وه بھی کہیں لاوارث لاش کی طرح۔۔۔۔۔۔۔

نہیں!!

وه ماہ بیر کی بات کاٹتا چیخ اٹھا۔۔

بب بتا ۔۔تا ہوں، میری بیٹی کو کچھ نہی کرنا۔۔

وه گھگھیا گیا۔۔

“میر ۔میر صاحب نے قتل کیا ہے اس لڑکی کو” وه بےبسی سے بول اٹھا۔۔

پورا نام؟؟

ماہ بیر داڑھا تو وه کانپ کر رہ گیا۔۔

صالح بھی ماہ بیر کے برابر آ کر کھڑا ہوگیا۔۔۔

“میر اورہان صمید”

وه پسینے سے تر، کپكپاتی آواز میں گویا ہوا۔۔

(اسلام آباد کے “خلیفہ نائٹ کلب میں اس نے پوری شان سے انٹری ماری۔۔۔ بلیک تھری پیس میں ملبوس ایک ہاتھ پینٹ کی پاکٹ میں اڑسے جب کہ دوسرے ہاتھ سے موبائل کان سے لگائے وه کسی سے محو گفتگو تھا۔۔ اس کے داخل ہوتے ہی لڑکیاں چیختی ہوئی اسکی طرف بڑھیں۔ “اورہان! وہاٹ آ پلیزنٹ سرپرئز” آواز پر اس نے سر گھما کر دیکھا۔۔ اسکی نیلی آنکھیں واضح ہوئیں جو شراب کے نشے کے باعث اکثر سرخ مائل نظر آتی تھیں۔)

“میر اورہان صمید” ماہ بیر نے مٹھیاں بھینچ لیں۔۔۔

“آگے بول”

صالح نے اسے وارننگ دیتی نظروں سے دیکھا۔۔

مم مجھے کسی کا فون آیا تھا اس نے کہا تھا کہ پیسے دوں گا بہت سارے بدلے میں ایک کام کرنا ہوگا مم میں غریب آدمی ہوں پیسے کے لالچ میں آ گیا۔۔

“بکواس بند کرو”

ماہ بیر طیش سے اسکی طرف بڑھا تو صالح نے اسے روکا۔۔

“میر کے کیا ارادے ہیں کوئی تو بات سنی ہوگی تم نے”

وه پر سوچ نظروں سے اسے دیکھتا ہوا بولا۔۔

“وه کہ رہے تھے کہ شاہوں نے اچھا نہیں کیا تھا ہمارے ساتھ ہمارے خاندان کو بغیر قصور کے بے عزت کر کے نکالا تھا اب میں اس کے علاقے کی عورتوں کو اسی طرح بے عزت کر کے اسی کے در پر پهینکوں گا”

مجھے اور کچھ نہیں معلوم شاہ سائیں رب سوہنے کی قسم اٹھ۔۔۔۔

باااااااس!!

ماہ بیر نے انگلی اٹھا کے لہو چھلکاتی آنکھوں سے اسےدیکھا تو اسکی آواز گویا حلق میں ہی دب گئی۔۔۔

صالح نے ماہ بیر کو دیکھا جس کی آنکھیں لہو رنگ ہو رہی تھیں۔۔۔

اس شخص کو تہہ خانے میں بند کرتے وه ماہ بیر کو ساتھ لئے واپس لاؤنج میں آ گیا۔۔

شاہ سائیں وه بکواس کرتا ہے اس بزدل میں اتنی ہمت ہوتی تو وه یہاں سے بھاگتا نہیں۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اسکی نیلی آنکھوں کی چمک قابلِ دید تھی۔۔اس نے ایک جان لیوا مسکراہٹ آواز دینے والی کی سمت اچھالی جس پر وه دل کے مقام پر ہاتھ رکھ گئی۔۔ موبائل کان سے ہٹا کر وه مغرور چال چلتا اسکی طرف آیا۔۔

چھ فٹ سے نكلتا قد کسرتی جسم ، نیلی آنکھیں ، سگریٹ کی کثرت سے سیاہی مائل گلابی ہونٹ اور گال میں پڑتا ڈمپل جو داڑھی سے بے دھڑک ظاہر ہوتا صنفِ نازک کا دل اپنی طرف کھینچ لیتا تھا۔۔

ہائے جیزمین!! مقابل کھڑی خوبصورت لڑکی کو سر تا پیر دیکھ کر وه لب دبا گیا۔۔

“وی میٹ آفٹر آ لونگ ٹائم ( ہم لمبے عرصے کے بعد ملے)”

وه اس کے گلے لگ گئی تو اورهان نے ایک ہاتھ اس کے گرد حائل کرلیا۔۔

“یو آر لوکنگ ڈیم ہااااٹ!!”

اس کے کان میں سرگوشی کرتی وه معنی خیز انداز میں مسکرا کر پیچھے ہٹی۔۔

یو ٹو ہنی!! اسکے گال کو دو انگلیوں سے چھو کر وه اسے ساتھ لئے بار کی جانب بڑھ گیا۔

لڑکیاں مکھیوں کی مانند اس سے چمٹ گئیں۔

اورهان آئی مسٹ سے (میں ضرور کہنا چاہوں گی) کچھ تو بدلا ہے تم میں!!

جیزمین کی آواز پر وه پر اسرار سا مسکرایا۔

“لیٹس گو ہنی آج کی رات بہت خاص ہے”

اسکے جسم پر ہاتھ پھیرتا وه مخمور لہجے میں بولتا اس پر جھکا تو وه ایک ادا سے اسکا ہاتھ پکڑتی وہاں سے مخصوص کمروں کی جانب بڑھ گئی)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ یوں پریشان نہ ہوں۔۔ اب سے اپنے علاقے پر کڑی نگرانی کروائیں گے۔ صالح کی بات پر وه اسکی جانب دیکھتا سر ہلا گیا۔۔۔

کل منہ اندھیرے واپسی کے لئے نکلیں گے، جبار سے کہنا اسکا بندوبست کر لے۔۔

سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتا وه اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔

اس نے کمرے میں جھانکا تو “للہ عارفہ” جائے نماز تہہ کر کے رکھ رہی تھیں۔۔

“شکر ہے بابا سائیں کمرے میں نہیں ہیں۔۔”

خود کلامی کرتی وه جلدی سے کمرے میں آئی۔۔

امی جان!! وه منہ بسور کر ان کے بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔

کیا ہوا ہے میری جان کو؟

وه اس کے خفا چہرے کو دیکھتیں استفسار کرنے لگیں۔۔۔

“یہاں آ کر بیٹھیں پہلے”

وه ان کا ہاتھ تھامتی اپنے برابر بٹھا گئی۔

“ماشاءالله بہت پیاری لگ رہی ہیں آپ، کتنا نور ہے آپ کے چہرے پر”

ان کا روشن پرسکون چہرہ دیکھ کر وه اپنی بات بھولتی بے ساختہ کہہ گئی۔۔

اللّه کی عنایت ہے میری جان، خیریت ہے تم اس وقت میرے کمرے میں؟

وه مشائم کا چہرہ دیکھ کر گویا ہوئیں۔۔

کل بابا سائیں نے مجھے ڈانٹا۔۔

وه خفگی سے گویا ہوئی۔۔

کیوں ڈانٹا ؟ وه اس کے بال پیار سے سنوار گئیں۔

اچھا چھوڑیں اس بات کو۔۔ ہمارا باغات کی سیر کا بہت بہت من کر رہا ہے۔۔ کتنی دیر ہوگئی ہم کہیں سیر کو نہیں گئے۔۔ سید زادی ہونے کا مطلب یہ تو نہیں کہ ہمیں حویلی میں قید کر دیا جائے۔

وه مسكینی صورت بنا کر بولی۔

بیٹا ایسا نہیں سوچتے، تمھارے بابا سائیں تمہارے بھلے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔۔

امی جان میں جانا چاہتی ہوں نہ بہت من کررہا ہے۔۔ میں بھائی جان سے اجازت لے لیتی ہوں وه بابا سائیں کو کہہ دیں گے خود ہی۔۔

وه ایكسائٹڈ سی اٹھ کھڑی ہوئی اور کمرے سے باہر بھاگ گئی۔ پیچھے عارفہ سر ہلا کر رہ گئیں۔

یہ کیا بھائی جان تو نہیں ہیں یہاں۔۔

اسے کمرے میں موجود نہ پا کر وه خود کلامی کرتی تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتی نیچے آنے لگی۔۔

اس نے ارد گرد احتیاط سے دیکھتے لان میں جهانکا تو صالح ، ماہ بیر کے ساتھ محو گفتگو تھا۔۔

ماہ بیر آسمانی رنگ کی شلوار قمیض پر سفید چادر کاندھوں پر پھیلائے ہوئے تھا جبکہ صالح براؤن شلوار قمیض میں بازو عادتاً کہنیوں تک موڑے ہوئے تھا۔۔

وه کسی بات پر مسکرایا تو چوری چھپے لان میں دیکھتی مشائم بے ہوش ہوتے ہوتے بچی۔۔

یہ یوسف مسکراتا بھی ہے؟

اسے جیسے یقین نہ آیا۔۔۔

دفعتاً کسی نے اسکا کاندھا تهپتهپایا تو وه خوفزدہ سی پلٹی۔۔

اللّه! تم ہو نگہت ؟ تم نے تو میری جان ہی نکال دی تھی ایک لمحے کے لئے۔۔

وه دل کے مقام پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی

۔ مشی بی بی یہاں کیا کررہی ہیں آپ پھر سے بڑے شاہ سائیں نے دیکھ لیا تو؟

وه فکرمندی سے بولی تو مشائم اسکا ہاتھ تھامتی وہاں سے اپنے کمرے میں آ گئی۔۔

بھائی جان جب اپنے کمرے میں جائیں تو مجھے فوراً بتانا۔۔

اسے حکم دیتی وه لباس تبدیل کرنے کی غرض سے غسل خانے میں چلی گئی۔

بھائی جان ؟

وه ابھی ابھی کمرے میں آیا تھا۔۔ شال اتار کر بیڈ پر رکھتے وه کلائی میں پہنی قیمتی گھڑی اتار رہا تھا۔۔۔

جب مشائم کی پکار پر اس نے دروازے کی سمت دیکھا۔۔

“آؤ!!”

وه پیار بھری نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔۔

مشائم اندر آتی اس سے لپٹ گئی۔۔

ماہ بیر نے اس کا سر چوم کر اسکے گرد بازو حائل کر دیا۔۔

“بھائی جان آپ سے اجازت چاہئے تھی”

پیچھے ہٹتی وه لاڈ سے کہنے لگی۔۔ ایک وہی تو تھا جو اسکی ہر خواہش پوری کرتا تھا۔۔

“ہمم بولو!!”

وه سینے پر ہاتھ باندھ کر اسکی جانب جی جان سے متوجہ ہوا۔۔

“بھائی جان وه ہمیں باغ میں جانے کی اجازت دے دیں، دیکھیں نہ کالج ختم ہوئے کتنا وقت ہوگیا۔۔ نہ بابا سائیں نے آگے پڑھنے دیا اور نہ ہی کہیں جانے دیتے ہیں ایسا لگتا ہے میں قید ہو گئی ہوں یہاں۔”

میرا بھی دل کرتا ہے گھومنے کا سیر و تفریح کا ، میری کالج کی سب سہیلیاں گھومنے جاتی رہتی ہیں لیکن مجھ پر پابندیاں لگا دی گئی ہیں۔

وه جو اسے بلیک میل کرنے کی خاطر جھوٹ موٹ کی آنکھیں مل رہی تھی، اصل میں رو دی۔

ارے ارے !!

ماہ بیر نے فوراً سے اسے سینے سے لگایا۔۔

بھائی کی جان اس میں رونے والی کیا بات ہے۔ ایسا کرو تیار ہوجاؤ جا کر اور جسکو ساتھ لے کر جانا ہے اسے بھی کہہ دو۔ میں ابھی کسی سے کہتا ہوں تمہیں لے جائے گا باغ میں۔۔

ٹھیک ہے؟ وه نرمی سے بولا۔۔۔

سچ میں؟؟ وه شوں شوں کرتی سر اٹھا کر اسے دیکھتی پوچھنے لگی۔۔

جی بلکل سچ!!

چلو جاؤ شاباش۔۔ آئندہ میں تمہاری آنکھوں میں آنسو نہ دیکھوں۔۔

اسکی پیشانی چوم کر بولا تو وه خوشی سے مسکراتی کمرے سے باہر بھاگ گئی۔۔

اس نے مسکرا کر سر جھٹکا۔۔ موبائل نکال کر اس نے یوسف کا نمبر ڈائل کیا۔۔

ہاں یوسف وقت ہوگا تمہارے پاس؟؟ ہاں سب خیریت ہے۔۔ وه تمهاری چھوٹی بی بی کا باغات دیکھنے کا دل چاہ رہا تھا۔۔ اسے لے جاؤ۔۔ زیادہ دور نہ جانا۔۔ آگے والی زمینوں پر خطرہ ہوسکتا ہے۔۔ ہاں ٹھیک ہے آجاؤ۔۔

کال کاٹ کر اس نے فون سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔۔

ہاہ!! گردن کو دائیں بائیں حرکت دے کر اس نے تھکن اتارنے کی کوشش کی۔۔

مضبوط و توانا کندھے جھٹک کر وه فریش ہونے کی غرض سے غسل خانے چلا گیا۔۔

“مشی بی بی یوسف آ گیا ہے”

نگہت نے حویلی کے دروازے پر یوسف کو دیکھا تو جلدی سے آ کر مشائم کو با خبر کیا۔۔

“بس ایک منٹ”

كاجل کی باریک لکیر سے بھوری بڑی بڑی آنکھوں کو دو آتشہ کر کے اس نے جلدی سے نقاب کیا۔۔

سیاہ پیروں تک آتا عبایا وه پہلے ہی زیب تن کر چکی تھی۔۔

نگہت کے ہمراہ جلدی سے وه حویلی کے برآمدے میں آئی۔۔ وه جلد از جلد نکل جانا چاہتی تھی۔ اسے ڈر تھا کہ اگر بابا سائیں آ گئے تو وه اسے جانے ہی نہ دیں۔۔

یوسف نے گاڑی کا دروازه کھول دیا۔۔

وه سر جھکا کر تیز تیز چلتی گاڑی کے پاس آئی۔ اس نے نظریں جھکا رکھی تھیں جب کہ نگہت ٹکر ٹکر صالح کو دیکھ رہی تھی۔۔

یوسف نے اسے گھوری ڈالی تو وہ ہڑبڑا کر نظروں کا زاویہ موڑ گئی۔۔

ہونہہ کھڑوس کہیں کا!!

“بیٹھیں بی بی!!”

وه ادھر ادھر دیکھتا ماتھے پر بل ڈالے گویا ہوا۔۔

مشائم نے گاڑی کا دروازہ پکڑ کر ایک پاؤں اندر کیا ہی تھا کہ اچانک اسکا عبایا پاؤں کے نیچے آ گیا۔۔

“اللّه!!”

اس نے گھبرا کر عبایا پاؤں کے نیچے سے نکالا۔۔

صالح نے اسکی آواز پر جلدی سے اسے دیکھا عین اسی پل مشائم نے بھی نگاہ اٹھائی۔۔

ایک پل کو دونوں کی آنکھیں چار ہوئیں پھر دونوں نے سرعت سے نگاہیں پھیر لیں۔۔

اس کے بیٹھنے کے بعد نگہت بھی اس کے برابر گاڑی کی بیک سیٹ پر بیٹھ گئی۔۔ صالح نے دروازه بند کیا اور آگے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتا گاڑی سٹارٹ کرگیا۔۔

پندرہ منٹ بعد گاڑی باغات کے طویل سلسلے کے آگے آ کر رک گئی۔۔

مشائم خوشی سے دمكتا چہرہ لئے جلدی سے دروازه کھول کر باہر نکل آئی۔۔

نگہت کے ہمراہ وه تیز تیز چلتی باغ میں داخل ہو گئی۔۔

آرام سے بی بی!

صالح جلدی سے گاڑی کی چابی ہاتھ میں پکڑتا ان کے پیچھے آیا۔۔

مشائم نے اسکی آواز پر کوئی خاص توجہ نہ دی۔۔ وه اسکے بچکانے انداز پر سر جھٹک کر رہ گیا۔۔

وه ایک درخت کے پاس جا کر رک گئی۔۔ “نگہت مجھے یہ پھل چاہیے”

وه درخت پر جا بجا لگے پھلوں کی طرف اشارہ کر کے بولی۔۔

ٹھنڈی ہوا، سبزہ خوبصورت پھول اور جا بجا ہرے بھرے درخت۔۔

اسکا موڈ بے حد خوشگوار ہوگیا تھا۔۔

یوسف سے کہیں؟؟

وه نگہت سے سرگوشی میں بولی۔۔

“نہیں مشی بی بی مجھے بہت غصہ آتا ہے اس کے سڑے ہوئے منہ کو دیکھ کر۔۔ پتہ نہیں کیا سمجھتا ہے خود کو،،، میں خود اتار دیتی ہوں آپ کو،، اب نگہت اپنی مشی بی بی کے لئے اتنا تو کر ہی سکتی ہے۔۔۔”

وه دیدے نچا کر بولی تو مشائم بھی ایک پل کو سوچ میں پڑ گئی۔۔۔

“ہاں کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو”

انہیں اپنی شان میں قصیدے پڑھتے دیکھ کر وه کھنکارہ۔۔

دونوں کی زبانوں کو بریک لگا۔۔

ہی ہی!! نگہت نے بمشکل مسکرا کر اسے دیکھا۔۔

“میں اتار دیتا ہوں۔۔”

سنجیدگی سے کہہ کر وه درخت کے پاس گیا اور ایڑھی کے بل اونچا ہوتا چند منٹوں میں بہت سے پھل اتار چکا تھا۔۔

“اللّه! یہ کتنا لمبا ہے بی بی۔۔ اس نے تو ایسے ہی اتار لیے۔۔” نگہت اسے دیکھتی ہوئی بولی۔۔

یوسف تمہیں تو سیڑھی کی ضرورت نہیں پڑتی ہوگی ویسے اچھا خاصا قد ہے ویسے اگر تم ہمارے گھر کے پنکھے بھی صاف۔۔۔۔۔

صالح نے ایک تیز نظر نگہت پر ڈالی تو اسکی زبان کو بریک لگا۔۔۔

نہیں میں تو یونہی بس۔۔۔۔۔ وه سٹپٹا کر بولی۔

صالح نے ہاتھ میں پکڑے پھل قریبی تھڑے پر رکھے اور بغیر انہیں دیکھے کچھ فاصلے پر جا کر رخ موڑ کر بیٹھ گیا۔۔

مشائم نے گھاس پر بیٹھ کر نقاب اتار دیا۔۔ کیا ضرورت تھی اسے کچھ کہنے کی؟

اس نے نگہت کو ڈپٹا تو وه اپنا سا منہ لے کر رہ گئی۔۔

پھلوں سے لطف اندوز ہو کر انہوں نے نلکا ڈھونڈ کر ہاتھ دھوئے اور کچھ دیر وہاں چہل قدمی کرتی رہیں۔۔ پھر صالح کے کہنے پر وه واپسی کے لئے چل پڑے۔

ملازم ہاتھ میں کھانے کی ٹرے پکڑے اس کے کمرے کے سامنے رک گیا۔۔

اس نے تھوک نگل کر اندر جهانکا۔۔ ماسٹر بیڈ روم خالی تھا۔۔

اس نے شکر کا کلمہ پڑھا اور جلدی سے کمرے میں داخل ہوا۔۔

ٹرے کو ٹیبل پر رکھ کر وه جانے کے لئے پلٹ گیا۔۔ اسکا خیال تھا کہ اورهان باتھروم میں ہے۔۔

رکو!! کڑک دار آواز پر وه اپنی جگہ جم گیا۔۔

جج جی سر!! كانپتی ٹانگوں سے وه الٹے پیر مڑا۔۔

کس سے پوچھ کر میرے کمرے میں آئے ہو؟ اتنی جرات تم دو ٹکے کے ملازم کی۔۔

وه سرد لہجے میں بولتا شرٹ کے بٹن بند کرنے لگا۔۔

ملازم تھر تھر کانپنے لگا۔۔

“سس سوری سر مم ۔۔مجھے لگا ۔۔۔ کہ ۔۔ آپ ۔۔ کمرے میں نہیں ہیں۔۔ وه اسکے سامنے ہاتھ جوڑ گیا۔۔”

دل آنے والے لمحات کے خوف سے لرزنے لگا تھا۔۔

اوں ہوں!! یہ سوری جیسے لفظ مجھے سخت زہر لگتے ہیں۔۔

وه دائیاں ابرو اچکا کر بےنیازی سے بولا۔۔

“دور کیوں کھڑے ہو؟ یہاں آؤ!!”

اورهان نے اسے اپنے قریب آنے کا اشارہ کیا۔۔

ملازم نے ڈرتے ڈرتے اسکے چہرے کے تاثرات دیکھے جو نرم پڑ چکے تھے۔۔ اسے اورهان کی سمجھ نہیں آرہی تھی پل میں تولہ پل میں ماشہ۔۔

تمہیں سنائی نہیں دیا؟؟ اورهان داڑھا تو وه ایک پل کو دہل گیا۔۔

جج۔۔ جی۔۔ سر۔۔ وه چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اسکی سمت بڑھنے لگا۔۔

دو قدموں کے فاصلے پر وه رک گیا۔۔

اورهان چند لمحے اسکے جھکے سر کو دیکھتا رہا پھر اس کے چہرے پر بھرپور مسکراہٹ ابھری۔۔

وه پلٹا اور بیڈ سائیڈ ٹیبل سے اس نے چھوٹا سا پلاس نما اوزار نکالا۔۔

جھٹکے سے اس کا ہاتھ دبوچ کر اس نے اپنے سامنے کیا۔۔

نن نہیں سر ۔۔ پلیز ۔۔ مجھے۔۔ معاف کردیں ۔۔ غلطی ہوگئی ۔۔

وه اس کے ہاتھ میں اوزار دیکھ کر گڑگڑانے لگا لیکن مجال ہے کہ اورهان پر اسکا رتی برابر بھی اثر ہوا ہو۔۔ اس نے پلاس نما اوزار اسکے ناخن پر رکھا تھا۔۔۔۔

سفید کار سے باہر نکل کر اس نے دروازہ زور سے بند کیا۔۔ اس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا۔۔

کالج میں آج لڑکیاں جس طرح اورهان کے بارے میں باتیں کررہی تھیں اس نے ارشما کا دماغ گھما کے رکھ دیا تھا۔۔

وه اپنی دوستوں سے بھی بہت لڑی تھی۔۔ ایسے کیسے کوئی اس کے جان سے پیارے بھائی کے بارے میں بات کر سکتا ہے۔۔ ان کو کیا حق پہنچتا ہے؟

بیگ کندھے پر ڈالتی وه الجھ کر پورچ سے اندر جانے والے راستے کی سمت بڑھی۔۔

وه اس وقت کالج کے سفید یونیفارم میں ملبوس تھی۔۔ کندھوں سے نیچے تک آتے سلكی شہد رنگ بال اونچی پونی میں مقید تھے۔۔

وه ذرا سی گردن ہلاتی تو پونی لہرا جاتی۔۔

بڑی بڑی بادامی آنکھیں جن میں ڈوب جانے کو جی چاہے۔۔ ستواں ناک، گلابی چھوٹے سے ہونٹ اور گالوں میں پڑتے گڑھے۔۔

وه دکھنے میں بہت کیوٹ تھی۔۔ اس کا دل بھی اسکی طرح بہت معصوم اور نرم تھا۔۔

وه نازوں پلی اپنے بھائی کی لاڈلی تھی۔۔ میر اورھان صمید کا دل اگر کسی کے معاملے میں پگهلتا تھا تو وه “ارشما صمید” تھی۔۔

اسکی کل کائنات،، جسے اس نے زمانے کے سرد و گرم اور ہر بری نظر سے چھپا کر رکھا تھا۔۔

اس کے سرکل میں کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ اورهان کی کوئی بہن بھی ہے۔۔

وه ارشما کے ساتھ اس محل نما گھر میں رہتا تھا۔۔ گرے ٹائلوں سے مزین کئی رقبے پر پھیلا یہ عالیشان محل جس میں سامنے کی دیوار پر اورینج شیڈ کی کھڑکیاں نصب تھیں۔۔

سیاہ گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی ایک طرف پورچ جبکہ دوسری جانب مڑتے ہی وسیع و عریض لان تھا۔۔

اندر داخل ہوتے ہی لکڑی کی چوڑی سیڑھیاں نظر آتی تھیں جو دوسرے فلور سے جا ملتی تھیں۔۔

سیڑھیوں کے دائیں جانب سٹائلش سا سیاہ پتھروں سے سجا اوپن کچن تھا جس سے ذرا دور ہٹ کر ٹی وی لاؤنج بنا تھا جہاں سامنے کی دیوار پر لكڑی سے خوبصورت نقش بنائے گئے تھے۔۔

اور بائیں جانب دیوار گیر کھڑکیاں بنی تھی جن کو ایک جانب سے دوسری جانب دهكیلا جا سکتا ہے۔۔

کھڑکیوں کے باہر سے لان کا منظر صاف نظر آتا تھا۔۔ دوسرے فلور پر ان کی رہائش تھی۔۔ ماسٹر بیڈ روم اورهان کے زیر استعمال تھا جبکہ دائیں قطار میں بنے کمروں میں سے ایک کمرہ ارشما کے استعمال میں تھا۔۔

وه دروازہ دهكیل کر اندر آئی۔۔

بیگ وہیں کچن کی سلیب پر رکھتی فریج سے پانی نکال کر وہیں سلیب پر بیٹھ گئی اور گلاس میں پانی انڈیل کر گھونٹ گھونٹ پینے لگی۔۔

پیاس بجھا کر وہ دهپ سے نیچے اتری اور بیگ وہیں چھوڑتی سیڑھیوں کی جانب بڑھی۔۔

اوپر آ کر اس نے اپنے کمرے میں جانے کا اراده ترک کرتے اورهان کے کمرے کی جانب قدم بڑھائے۔۔

دروازه دهكیل کر اس نے اندر قدم رکھا تو اسکی آنکھوں میں الجھن ابھری۔۔

بھائی؟؟

ملازم کے سامنے جھکے اورهان کو دیکھ کر وه پکار گئی۔۔ البتہ وه اورهان کے ہاتھ میں پکڑا اوزار نہیں دیکھ سکی تھی۔۔۔

اورهان سرعت سے سیدھا ہوا۔۔ اس نے ہاتھ پیچھے کرتے اوزار سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔۔

کیا ہوا ہے یہ ملازم کیوں رو رہا ہے۔۔؟؟

وه قریب آتی تھر تھر کانپتے ملازم کو دیکھ کر بولی جس کی آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے۔۔

“جاؤ تم!!”

اورهان کے حکم پر وه شکر کا سانس لیتا تیز قدم اٹھاتا کمرے سے باہر نکل گیا۔۔

“اس کو کچھ پیسے چاہیے تھے بیچارے کی ماں بیمار ہے ۔۔”

اورهان آگے بڑھ کر اسکا سر چوم کر گویا ہوا۔۔

ارشما نے ذہن سے تمام فضول سوچوں کو جھٹک دیا۔۔

جھوٹ کہتی ہیں سب میرے بھائی جان تو اتنے اچھے ہیں۔۔

دل میں سوچتی وه اورهان سے مخاطب ہوئی۔۔

آپ نے کھانا کھا لیا ۔۔ ؟؟

پیار سے اسے دیکھتی وه استفسار کرنے لگی۔۔

ماشاءالله!! اس نے دل ہی دل میں اورهان کی نظر اتاری۔۔ بلاشبہ وه بے حد وجیہہ تھا۔۔

اپنی پرنسز کے بغیر کیسے کھا سکتا ہوں کھانا؟ ہمم۔۔

وه مسکرایا۔۔

اوکے میں چینج کرلوں پھر اکٹھے کھانا کھاتے ہیں اور آپ کو یاد ہے نہ آج آئس کریم کھلانے بھی لے کر جانا ہے آپ نے۔۔

اس کو یاد كرواتی وه فریش ہونے چلی گئی۔۔

اس کے جانے کے بعد اس نے وه چیز واپس دراز میں رکھ دی۔۔ اسکی آنکھوں کا تاثر پھر سے سرد ہوگیا۔۔