Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 30

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan

السلام علیکم امی جان!!!۔۔کیسی ہیں آپ ؟؟

وہ فون کان سے لگاتی عارفہ سے محو گفتگو تھی جب صالح کمرے میں آیا۔۔

بلیک لیدر کی جیکٹ اتار کر اس نے گرے چیک شرٹ کے بازو کہنیوں تک موڑے۔۔

سائیڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس پیتے اس نے فون کال پر مصروف مشائم کو دیکھا جی اسے دیکھ کر ہلکا سا مسکرائی تھی۔۔

صالح بیڈ پر پھیل کر بیٹھا اور دو انگلیاں اٹھا کر اسے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔۔

وہ امی جان سے بات کرتی اسکے پاس آئی تو صالح نے اسکا بازو تھام کر مزید قریب کرتے اسے گود میں بٹھا لیا۔۔ مشائم نے اسے آنکھیں دکھائی تھیں لیکن وہ صالح ہی کیا جو کسی بات کا اثر لے لے۔۔

اس نے مشی کی کمر کے گرد بازو حائل کرتے اسکا رخ اپنی جانب کیا تو وہ ایک ہاتھ سے فون پکڑے دوسرے ہاتھ سے اس کے بال سنوارنے لگی۔۔

صالح نے اسکا ہاتھ تھام کر ہتھیلی کو چوما اور اپنے گال پر رکھ کر اسکی جھکی پلکوں کو دیکھنے لگا جو عارفہ سے بات کرتے کبھی اوپر اور کبھی نیچے کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔

ہاتھ پر داڑھی کی چبھن سے اس نے جھکی نظریں اٹھائیں۔۔ اس نے انگلی سے صالح کو داڑھی اور مونچھیں ٹریس کرنی شروع کیں۔۔

جب اسکی انگلی لب کے پاس پہنچی تو صالح نے اسے دانتوں میں دبا لیا۔۔

“سس!!!۔۔۔”

فون پر کچھ کہا گیا جس پر وہ بوکھلا گئی۔۔

“کک۔۔کچھ نہیں امی جان وہ ہاتھ پر کسی نے کاٹ لیا۔۔۔میرا مطلب مچھر ہوگا شاید۔۔۔داڑھی مونچھوں والا!!!۔۔۔”

آخری فقرہ اس نے زیر لب کہا جو صالح نے سن لیا۔۔

“اب دیکھیں یہ مچھر کیا کرتا ہے!!!۔۔۔”

صالح نے اسکی کمر پر گرفت مذید سخت کی اور اسے خود سے لگاتے اسکی گردن سے بال ہٹائے۔۔

اسکی اس حرکت پر مشائم نے اسکا کندها دبوچتے تھوک نگلا۔۔

وہ اسکی گردن پر جھکا اور اپنی ناک اسکی گردن کی ابھری نس پر سہلانے لگا۔۔

مشائم کی ہتھیلیاں پسینے سے بهیگ گئیں۔۔

دفعتاً صالح نے اسکی گردن میں منہ دیتے پوری شدت سے اپنے لب رکھے۔۔

مشائم کا سانس اٹکا تھا۔۔

امی ۔۔۔جان۔۔۔می ۔ری ۔۔۔ طبیعت ۔۔۔کک ۔۔کچھ ۔۔ٹھ ۔۔یک ۔۔۔نہیں ۔۔۔بب۔۔۔بعد میں ۔۔۔بات کرتی ہوں ۔۔۔

اٹک اٹک کر کہتے اس نے فون بند کر کے پیچھے بیڈ پر پھینک دیا۔۔

“یو۔۔۔سف؟؟؟۔۔۔۔”

اسے منمانیوں پر اترتا دیکھ کر وہ تیز تیز سانس لیتی اٹک کر بولی۔۔۔

صالح نے اسکے سر کی پشت پر ہاتھ رکھتے اسکا چہرہ بلند کیا تو مشائم کی بے داغ شفاف گردن اسکے سامنے آ گئی۔۔۔ آنکھوں میں خمار لیے وہ پوری شدت سے جھک کر اسکی شاہ رگ کے مقام پر بوسے دینے لگا۔۔

مشائم اس کی گرفت میں کانپتی سختی سے آنکھیں میچ گئی۔۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے صالح کے کندھے کو دبوچ لیا جو اسکی گردن پر جھکا پیچھے ہٹنا ہی بھول گیا تھا۔۔

یو۔۔سف؟؟

مشائم کی کانپتی رونی آواز پر وہ اس پر ترس کھاتا سیدھا ہوا۔۔

اس نے لب دبا کر اسکی گردن کو دیکھا جو اسکی شدتوں سے سرخ ہوئی تھی۔۔

“ریلیکس!!!۔۔۔”

اس نے مشائم کی ساتھ لگا کر اسے ریلیکس کرنا چاہا۔۔ وہ اسکے کشادہ کسرتی سینے پر سر رکھے آنکھیں موند گئی۔۔ میری ساس و ماں کیا کہہ رہی تھیں؟؟

وہ اسے نارمل کرنے کی غرض سے ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا۔۔

“وہ پوچھ رہی تھیں کہ یوسف کیسا ہے!!!۔۔۔”

وہ اسکے سینے سے لگی آنکھیں موندے ہی بولی۔۔

“تو آپ نے کیا کہا؟؟۔۔۔”

وہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا بولا۔۔

“میں نے کہا بہت ۔۔۔ وہ ہیں۔۔۔!!!”

آنکھیں کھولتے اس نے خفگی سے صالح کے سینے پر مکا مارا۔۔

صالح نے مسکراہٹ دبائی۔۔

“آپ کا مطلب رومینٹک؟؟؟۔۔۔”

وہ اسے تنگ کرنے کی غرض سے بولا۔۔ جانے کیوں اسے تنگ کر کے صالح کو بہت لطف آتا تھا۔۔

مشائم سیدھی ہوتی خفا نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔ بلکل غلط!!!۔۔ آپ گندے بچے ہیں۔۔۔!!”

اسکے دیدے گھما کر کہنے پر صالح نے ابرو اچکائے۔

“بچہ لگتا ہوں میں آپ کو؟؟۔۔۔” وہ مسکراتی گہرے لہجے میں بولا۔۔

“جی بچے ہیں نہ میلے پالے شے!!!۔۔۔”

مشائم کو اس وقت اس پر بہت پیار آیا۔۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے اس کے گال کھینچتے ہونٹوں کو گول کیا۔۔

“پالے شے بچے کو “پاری” چاہیے !!!۔۔۔”

اسکی بات پر مشائم نے مسکراہٹ دباتے اسے گھور کر دیکھا۔۔

“نہیں ۔۔۔گندے بچے ہیں آپ!!!۔۔۔”

مشائم نے مزے سے کہتے سٹیٹمنٹ ہی بدل لی۔۔

صالح نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔

“گنده کیوں؟؟ ۔۔۔” مشائم اسکے کان کے پاس جھک کر سرگوشی میں کہنے لگی “کیونکہ آپ ‘ویسی ویسی’ باتیں کرتے ہیں!!!۔۔۔۔”

اس کے یوں کہنے پر صالح کا قہقہہ گونجا۔۔ آخر کیا چیز تھی یہ!!

“اچھا اب چھوڑیں بھی نہ ۔۔۔ دیکھیں مجھے بھلا دیا تھا نہ ۔۔ کچھ چیزیں منگوانی تھی مارکیٹ سے!!!۔۔۔”

وہ اسکی گود سے اٹھتی سائیڈ ٹیبل کے پاس آئی جہاں اس نے ایک کاغذ رکھا تھا۔۔

کیا منگوانا ہے؟؟

صالح بیڈ پر چت لیٹتا اسکی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔۔

مشائم سوچ میں پڑ گئی۔۔

“ایسا کرتی ہوں میں خود جاتی ہوں آپ کے ساتھ میری پرسنل چیزیں لانی ہیں!!!۔۔۔”

صالح نے فوراً منع کر دیا۔۔

“ہرگز نہیں !! آپ کے ساتھ خوامخواہ میں فری ہونے والے دکاندار سخت زہر لگتے ہیں مجھے۔۔۔”

اسکے جیلس ہونے پر مشائم بہت محظوظ ہوئی۔۔

“اچھا ٹھیک ہے آپ خود لا دیں۔۔۔ یہ پکڑیں میں نے لکھ دیا ہے!!!۔۔۔”

اس نے کاغذ صالح کی جانب بڑھایا۔۔۔

“ایسا کیا ہے جو آپ لکھ کر دے رہی ہیں؟؟؟۔۔۔”

وہ کاغذ تھام کر لیٹے لیٹے ہی پڑھنے لگا۔۔

“اوہ!!!۔۔۔ آپ کا سائز تو کافی۔۔۔۔۔”

وہ اس پر گہری نظر ڈالتا ڈھٹائی سے بولا۔۔

مشائم کا چہرہ پل میں سرخ ہوا۔۔

“بہت بےشرم ہیں آپ!!!۔۔۔”

دانت کچکچا کر کہتی وہ تن فن کرتی کمرے سے نکل گئی۔۔۔ اس کے جانے کے بعد صالح نے سر کے نیچے دونوں بازو رکھےاور پیر ہلانے لگا۔۔۔

“وہ تو میں ہوں!!!۔۔۔”

وہ دھڑکتے دل کے ساتھ اسی جگہ آئی جہاں اسکا اورهان سے سامنا ہوا تھا۔۔ وہ ارد گرد نگاہ دوڑاتی ایک گھر کے سامنے کھڑی ہوئی۔۔

“باجی کسی کو ڈھونڈ رہی ہیں آپ؟؟۔۔۔۔”

ایک نو عمر لڑکا سر پر سفید ٹوپی پہنے سفید شلوار قمیض میں ملبوس سادگی سے پوچھنے لگا۔۔

اینارا نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔

“اورهان نام کا کوئی شخص یہاں آس پاس رہتا ہے؟؟۔۔۔” لڑکا زرا سا چونکا ۔۔

“اورهان بھائی کی بات کررہی ہیں آپ ؟ وہ تو اس مدرسے میں رہتے ہیں!!!۔۔۔”

اینارا کا دل زوروں سے دھڑکنے لگا۔۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنی جلدی اسے ڈھونڈ پائے گی۔۔۔

“بھائی آپ ان کو بلا دیں پلیز میں یہیں انتظار کررہی ہوں!!!۔۔۔”

وہ اسے دیکھتی متانت سے بولی تو وہ نو عمر لڑکا سر ہلا کر مدرسے کے دروازے سے اندر چلا گیا۔۔

تقریباً پانچ منٹ کے بعد اورهان آتا دکھائی دیا۔۔ بلیك شرٹ کے ساتھ بلیو جینز کے پائنچے ٹخنوں سے اوپر تک موڑے وہ بےيقین سا اسکے سامنے آ کر رکا۔۔

“مجھے کچھ بات کرنی ہے آپ سے۔۔”

وہ اسکے کچھ کہنے سے پہلے ہی نرمی سے بولی تو اورهان نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔

“جی کہیں!!!۔۔۔”

اینارا نے آس پاس نگاہ دوڑائی۔۔

“یہاں نہیں!!!۔۔۔” اسکی جھجھک دیکھ کر وہ اسے ساتھ لیے قریبی پارک میں آ گیا۔۔

“جی اب۔۔۔”

اس نے اینارا کو دیکھ کر کہنا چاہا لیکن اسے اپنے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھتا دیکھ کر اسکے الفاظ غائب ہوگئے۔۔ “کیا آپ مجھ سے شادی کریں گے اورهان؟؟؟۔۔۔۔”

وہ دائیں ہاتھ میں پکڑا گلاب کا پھول اسکی طرف بڑھاتی خوشی سے مسکراتی اسکی آنکھوں میں دیکھتی اس کے جواب کی منتظر تھی۔۔

اورهان اپنی جگہ ساکت رہ گیا۔۔

“تو کیا اسکی دعائیں قبولیت کا شرف پا چکی تھیں؟؟؟۔۔۔” اس کی آنکھ سے آنسو گرے تھے بےيقینی سے، خوشی سے ،، احساسِ تشکر سے۔۔۔ وہ رب بندے کو کس کس طرح نوازتا ہے۔۔۔

وہ اسکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھتا اسکے ہاتھ سے پھول تھامتا اثبات میں سر ہلاتا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔۔۔

اسے روتے دیکھ کر اینارا کی آنکھیں بھی نم ہوئیں۔۔ اس نے بھیگی آنکھوں اور مسکراتے لبوں سے اسے دیکھا۔۔

“اورهان برے دن گزر گئے ہیں ۔۔ بہت برداشت کر لیا ہم نے ۔۔ اب خوشیوں کی ایک طویل زندگی ہماری منتظر ہے۔۔۔”

اینارا نرمی سے بولی۔۔۔

اورهان نے خاموش ہوتے گال سے آنسو صاف کئے۔۔

“ان اللّه مع الصبرین”

(بےشک اللّه صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے)

ارے ماہ بیر بچے۔۔ آؤ آؤ۔۔ کیسے ہو؟؟؟

بی جان نے بیل کی آواز پر دروازه کھولا تو سامنے ماہ بیر کو دیکھ کر وہ خوش دلی سے کہتیں اندر لے آئیں۔۔۔

“بیٹھو بیٹا میں کچھ لاتی ہوں تمهارے لیے!!!۔۔”

وہ پیار سے اسے دیکھ کر بولیں۔۔

“نہیں بی جان اس تكلف کی ضرورت نہیں میں دراصل ارشما سے ملنے آیا تھا وہ میری کال نہیں اٹھا رہیں تو ۔۔۔۔۔ ” وہ بات ادھوری چھوڑ گیا۔۔

“ہاں بیٹا مل لو بیوی ہے تمہاری۔۔۔جھجھک کیوں رہے ہو؟؟۔۔۔ وہ اپنے کمرے میں ہے۔۔۔”

بی جان کی اجازت پر وہ مسکرا کر اسکے کمرے کی جانب چلا آیا۔۔ اس نے آرام سے دروازه کھولا اور اندر آ کر دروازه بند کر دیا۔۔

سامنے ہی وہ جان کی دشمن بیڈ پر اوندھی لیٹی پیر ہلا رہی تھی۔۔ اس کا دوپٹہ بیڈ پر ایک طرف پڑا ہوا تھا۔۔۔ مہرون گھٹنوں تک آتی فراک اور كیپری میں وہ سیدھا اس کے دل میں اترتی چلی گئی۔۔

شہد رنگ لمبے گیلے بال پشت اور بیڈ پر بکھرے ہوئے تھے۔۔ “بی جان آپ ہیں؟؟؟۔۔۔”

کمرے میں آہٹ محسوس کر کے اس نے اوندهے لیٹے ہی کہا۔۔۔

ماہ بیر نے جیکٹ اتار کر صوفے پر رکھی۔۔ سلیو لیس بلیو ٹی شرٹ میں اسکا کسرتی جسم واضح ہورہا تھا۔۔ وہ بغیر جواب دیے بیڈ پر بیٹھ کر اسکے دائیں بائیں ہاتھ رکھتا اسکے کان پر جھکا۔۔

“میرا سکون برباد کر کے محترمہ یہاں آرام کررہی ہیں؟؟؟۔۔۔”

اپنی پشت پر اسکے جسم کی حرارت اور وزن محسوس کرتے ارشما کی سانس تھمی تھی مذید اسکے اتنے قریب آ کر سرگوشی کرنے پر وہ گھبرا گئی۔۔

اس نے سیدھے ہونے کی کوشش کی تو ماہ بیر نے پیچھے ہٹ کر اسے کمر سے تھام کر سیدھا کیا ۔۔ اس کے وجود کی رعنائیاں دیکھ کر وہ نچلا لب دانتوں میں دبا گیا۔۔

بغیر دوپٹے کے اسکے سامنے ہونے پر وہ شرم سے ڈوب مرنے کو ہوئی ۔۔ مزید اسکی گہری جائزہ لیتی نگاہوں پر اسکا شرم سے برا حال ہوگیا۔۔

ماہ بیر اس کے دائیں بائیں بازو رکھ کر جھکا اور دو انچ کے فاصلے پر ٹھہر کر اسکے نقوش کی قریب سے دیکھنے لگا۔۔۔

اسے اس قدر قریب دیکھ کر ارشما نے پٹ سے آنکھیں بند کیں۔۔ اس کے لب کانپنے لگے تھے۔۔

“یو آر ڈیم ہاٹ!!!۔۔۔”

وہ اسکا چہرے پر گرم سانسیں چھوڑتا پرحدت لہجے میں بولا۔۔ ارشما کی سانسیں بکھرنے لگیں۔۔ اسکے تیز تیز سانس لینے پر ماہ بیر نے لب دبائے۔۔

“آپ کی کمر بہت پسند ہے مجھے!!!۔۔۔” وہ اسکی پتلی کمر کو شہادت کی انگلی سے ٹریس کرتا بھاری لہجے میں بولا۔۔ اسکے پر حدت لمس پر ہلکان ہوتی وہ کروٹ بدل گئی۔۔ کروٹ بدلنے پر اسکے گیلے بال کندھے اور کمر پر بکھر گئے۔۔ ماہ بیر نے اسکے بالوں میں چہرہ چھپاتے گہرا سانس لیا۔۔ ارشما نے ہلکان ہوتے بیڈ کی چادر کو مٹھی میں دبوچا تھا۔۔ ماہ بیر نے اسکی گردن سے بال ہٹائے اور خود پر قابو کھوتا اسکی گردن کو جابجا چومنے لگا۔۔

اس نے گردن کی چومتے اچانک لو بائیٹ کی جس پر ارشما کے منہ سے سسکی نکلی۔۔

“ٹیچر جی آپ تو مجھے پاگل کررہی ہیں!!!۔۔۔”

وہ اسکی گردن میں گہرا سانس لیتا بھاری لہجے میں بولا۔۔ “ماہ بیر مجھے ڈر لگ رہا ہے پلیز!!!۔۔۔”

وہ اپنے آپ میں سمٹتی اٹک اٹک کر بولی۔۔

تو ماہ بیر سیدھا ہوگیا۔۔ اس نے ارشما کو سیدھا کرتے اپنے مقابل بٹھایا۔۔

اسکے چہرے پر آئی زلفوں کو نرمی سے کان کے پیچھے اڑستے وہ اسکا سرخ چہرہ دیکھنے لگا۔۔

“ویسے تو آپ میری ٹیچر ہیں لیکن آپ کو محبت کرنی نہیں آتی۔۔۔ اس معاملے میں۔۔میں آپ کا استاد ہوں!!!۔۔۔”

وہ شرارت سے بولا تو ارشما نے نظریں اٹھا کر ایک پل کو اسکی سرمئی آنکھوں میں دیکھا۔۔

“آپ سے سیکھ لوں گی محبّت کرنا!!!۔۔۔”

وہ بال کان کے پیچھے اڑستی معصومیت سے بولی۔۔۔

اسکی اس ادا پر ماہ بیر دل و جان سے فدا ہوا۔۔۔

“محبت کا پہلا سٹیپ “کس” ہے۔۔ آج سے ہی سیکھنے کی شروعات کرتے ہیں!!!۔۔۔”

اس کے مزے سے کہنے پر ارشما سٹپٹا گئی۔۔

“نن۔۔۔نہیں ۔۔۔ ایسا تو ۔۔۔کچھ نہیں سنا میں نے” وہ دفاعیہ انداز میں بولی۔۔

“ایسے کیسے نہیں سنا۔۔ کیا آپ نے فلمیں نہیں دیکھیں جہاں محبت بعد میں ہوتی ہے “کس” پہلے ہوتی!!!۔۔۔

ماہ بیر کے اتنے واضح انداز میں کہنے پر ارشما کو اپنے کانوں سے دهواں نکلتا محسوس ہوا۔۔

“وہ ۔۔۔ تو ۔۔۔ موویز ہوتی ۔۔ہیں ۔۔۔ حقیقت تھوڑی!!!۔۔۔”

وہ دهیمی آواز میں بولی۔۔

“تو کوئی بات نہیں ہم اپنی موسٹ رومینٹک مووی خود بنائیں گے اس کے لیے آپ کو میری ہر بات کو ماننا ہوگا۔۔۔” وہ بےانتہا محظوظ ہو کر بولا۔۔

ارشما کا دل چاہ رہا تھا کہ اسکی گہری اندر تک اترتی نظروں کے سامنے سے غائب ہوجائے۔۔

“تو شروع کریں پھر؟؟؟۔۔۔”

وہ اس پر جھکا تو ارشما نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے روکا۔۔ ماہ بیر نے مسکراتی نظروں سے اسے دیکھتے اسکے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتے چوم لیا۔۔

“یہ نازک ہاتھ ماہ بیر شاہ کو نہیں روک سکتے”۔۔۔ اہم!!! کس کریں مجھے آج آپ سے “کس” لیے بغیر نہیں جاؤں گا میں۔۔۔۔

وہ اسکے چہرے کے سامنے اپنا چہرہ لاتا اسکی حیا سے گهایل ہوتا گھمبیر لہجے میں بولا۔۔۔

ارشما نے نظریں جھکاتے نفی میں سر ہلایا۔۔ ماہ بیر نے اسکی ٹھوڑی پر ہاتھ رکھتے اسکا چہرہ بلند کیا۔۔

“تو کوئی بات نہیں میں کر لیتا ہوں!!!۔۔۔”

اسے سمجھنے کا موقع دیے بغیر وہ جھکا اور اسکے لبوں کو اپنے لبوں کی گرفت میں لیتے انکی حدت اور نرمی محسوس کرنے لگا۔۔

ارشما اسکی شرٹ کو مٹھی میں دبوچتی آنکھیں موند گئی۔۔۔ نرمی سے اسکے لبوں کو چھوتے وہ مدہوش ہوا تھا۔۔ دفعتاً اسکے انداز میں شدت آئی اور وہ ارشما کو بیڈ پر گراتے پوری شدت سے اسکے ہونٹوں کا جام پینے لگا۔۔

ارشما کو سانس لینے میں دقت ہونے لگی۔۔ اس نے آنکھیں پوری کھولتے ماہ بیر کے كندھے پر ہاتھ مارتے اسے دور دھکیلنا چاہا لیکن وہ بجائے دور جانے کے اس کے لبوں پر پکڑ مذید سخت کر گیا۔۔

کئی پل یونہی بیت گئے۔۔ وہ ہر چیز سے بےنیاز اسکے نازک وجود میں مگن تھا۔۔ جب ارشما کو لگا کہ وہ اب اسکی سانسیں بند ہونے کے قریب ہیں تو ماہ بیر پیچھے ہٹا۔۔ اسکی نیم وا آنکھیں سرخ ہورہی تھیں۔۔

ارشما نے اس کے پیچھے ہٹتے گہرے سانس لینے شروع کیے۔۔ جب اسکا سانس بحال ہوا تو اس نے روتے ہوئے ماہ بیر کے سینے پر مکے مارے۔۔

“بہت برے ہیں آپ!!!۔۔۔”

ماہ بیر اسکی حرکت پر ہنس پڑا۔۔

“جیسا بھی ہوں آپ کا ہوں!!!۔۔۔”

اس کی پیشانی چوم کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔ ارشما کے بکھرے سراپے سے اس نے نظریں چرائی تھیں۔۔

اس سے پہلے وہ بہکتا وہ فوراً کمرے سے نکل گیا۔۔

اسکے جانے کے بعد ارشما نے اپنے لبوں پر ہاتھ رکھتے تکیے میں منہ چھپایا تھا۔۔