Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 24

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan

چاکلیٹ براؤن پینٹ شرٹ میں ملبوس آنکھوں پر سن گلاسز لگائے وه گروسری سٹور سے نکلا تھا۔۔ سڑک پار کر کے گاڑی تک آتے اس نے ہاتھ میں پکڑا پلاسٹک بیگ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر ڈالا اور سیدھا ہوتا دروازه بند کر کے پلٹا کہ اسکی نظر کچھ فاصلے پر گری ادھیر عمر عورت پر پڑی جن کا سامان سامنے سے آتی گاڑی سے ٹکرانے کے باعث زمین پر گر گیا تھا۔۔ انہیں گھٹنے پر چوٹ آئی تھی۔۔ راہ چلتے لوگ تماش بینوں کی طرح یہ منظر دیکھ کر بغیر مدد کئے گزرتے جا رہے تھے۔۔

ماہ بیر جلدی سے ان کے پاس آیا۔۔ اس نے سہارا دے کر انہیں اٹھایا اور پھر زمین پر گرا سامان سمیٹ کر پلاسٹک بیگ میں ڈالتا اٹھا۔۔ جیتے رہو بیٹا!!! بی جان نے اسکے سر پر پیار دیا۔۔ میں پاس ہی کالونی میں رہتی ہوں۔۔!!!

ماہ بیر دھیرے سے مسكرایا۔۔ “پھر تو کوئی مسلہ نہیں میں آپ کو چھوڑ آتا ہوں۔۔ آئیں وہاں میری گاڑی کھڑی ہے۔۔!!!” وہ کچھ فاصلے پر کھڑی گاڑی کی طرف اشارہ کرتا ہوا کہنے لگا۔۔

“نہیں بیٹا میں چلی جاؤں گی اس تكلف کی ضرورت نہیں ہے!!!۔۔۔” انہوں نے ٹالا لیکن ماہ بیر کے اسرار پر وه اسکے ساتھ بیٹھ کر واپس آ گئیں۔۔ ماہ بیر چونکا تھا۔۔ اس جگہ تو وه پہلے بھی آیا تھا۔۔

اس نے گاڑی سے باہر نکل کر ان کا سامان نکالا۔۔ بی جان بظاہر نارمل سی گاڑی سے باہر نکلیں لیکن ان کے گھٹنے میں شدید درد ہونے لگا تھا۔۔ اوکے میں چلتا ہوں!!! وه مسکرا کر انہیں بیگ تهما گیا۔۔

“نہیں بیٹا تمہارا بڑا احسان ہے جو تم نے اتنی مدد کی ورنہ آج کے دور میں کون کسی کو پوچھتا ہے۔۔ آؤ اب میں تمہیں یونہی نہیں جانے دوں گی آجاؤ شاباش!!!”

انہوں نے دروازه کھولا تو وه بھی چار و ناچار ان کے پیچھے گھر میں داخل ہوگیا۔۔ وه سر گھما کر چاروں اوڑھ دیکھنے لگا۔۔ چھوٹا سا تنگ مکان تھا۔۔ وه ان کے پیچھے جاتا سر جھکا کر دروازے سے کمرے میں داخل ہوا۔۔ “بیٹا بیٹھو تم میں تمہارے لیے کچھ لاتی ہوں انکار نہ کرنا۔۔ جانے کیوں تم سے اپنائیت سی محسوس ہو رہی ہے۔۔” وه ماہ بیر کے انکار کرنے سے پہلے ہی اسے ٹوک کر کمرے سے باہر چلی گئیں۔۔

گھر میں داخل ہوتے ہی اسکا دماغ گھوما تھا۔۔ پھر سے لائٹ گئی ہوئی تھی۔۔ “آج میں سر پھاڑ کر آؤں گی ان کا،، ذلیل کر کے رکھ دیا ہے۔۔ بلوں کی رقم آسمان کو پہنچی ہوتی اور لائٹ بھیجتے موت پڑتی بےغیرتوں کو۔۔ بی جان فون نمبر نكالیں آج ان جاہلوں کی خیر نہیں ہے باہر سے گرمی میں هانپے ہوئے آؤ پھر گھر بھی یہ جہنم منتظر ہوتا میرا آج ان کے آفس جا کر ایک دو کی گردن دبوچ کر ہی آؤں گی!!!۔۔۔”

اس نے چادر باہر سٹینڈ پر پٹخی اور دوپٹہ گلے میں ڈالتے بالوں کو رف سے جوڑے میں باندہ کر وه تن فن کرتی بی جان کے کمرے میں داخل ہوئی لیکن سامنے جس انسان سے اس کا سامنا ہوا اس نے اسے حیرت کا شدید جھٹکا دیا تھا۔۔

ارشما نے فوراً سے دوپٹہ پھیلا کر سر کو ڈهانپا اور کڑے تیوروں سے ماہ بیر کو دیکھا جو اسے دیکھ کر خود بھی حیران ہوتا کھڑا ہوگیا تھا۔۔ تم۔۔۔یہاں کیا کررہے ہو؟؟ وه ہر لحاظ بالائے طاق رکھتے ہوئے بولی۔۔ یہ بندہ تو زیادہ ہی فری ہورہا تھا جو اس کے گھر تک ہی پہنچ گیا۔۔

بی جان بھی حیرانگی سے دونوں کو دیکھنے لگیں۔۔۔ تم دونوں جانتے ہو ایک دوسرے کو؟؟ وه سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھ کر بولیں۔۔۔

“جی یہ میری ٹیچر ہیں۔۔۔۔!!! جی یہ میرا سٹوڈنٹ ہے۔۔۔!!!” دونوں کے منہ سے بیک وقت نکلا۔۔

بی جان کو اب اور بھی حیرت ہوئی۔۔۔ ماہ بیر کو دیکھ کر لگتا ہی نہیں تھا کہ وه ایک سٹوڈنٹ ہوگا اس لیے انکی حیرت اپنی جگہ درست تھی۔۔

“بتاؤ پیچھا کرتے ہو میرا۔۔؟؟ یہاں تک کیسے پہنچے اور آج یونیورسٹی کیوں نہیں آئے؟ نہ صالح آیا!!!۔۔۔” دونوں کو کل پنیشمینٹ ملے گی اسٹڈی کو سمجھا کیا ہوا ہے تم لوگوں نے؟ یاد رکھو گے کس ٹیچر سے پالا پڑا ہے۔۔!؛ وه پہلے ہی غصے میں تھی ماہ بیر کو دیکھ کر اسکا دماغ ہی گھوم گیا تھا اس لیے نان اسٹاپ بولتی چلی گئی۔۔

ارے ارے حوصلہ کرو بچے پہلے بات تو سن لو میری خواخواہ میں بچے کی اتنی سنا دیں۔۔ میرا سڑک پر چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا اس بچے نے بہت مدد کی میری مجھے گھر تک چھوڑنے آیا ہے۔۔ اور دیکھو تو تمہارا سٹوڈنٹ بھی نکل آیا۔۔ بی جان اسے ٹھنڈا کرتی بولیں تو اصل بات جان کر ارشما کو شرمندگی ہوئی۔۔

البتہ چہرے کے تاثرات ویسے ہی تھے۔۔ “سڑے ہوئے!!!”

میں چلتا ہوں کافی وقت ہوگیا!!!۔۔۔ ماہ بیر اسکے چہرے کے تاثرات دیکھتا بی جان سے اجازت لیتا باہر نکل گیا۔۔ بی جان نے ارشما کو اشارہ کیا تو وه بھی اس کے پیچھے اسے دروازے تک چھوڑنے گئی۔۔

ماہ بیر اسے آتے دیکھ کر رکا۔۔ “میں ایسا ہلکے کردار کا نہیں ہوں جیسا آپ مجھے سمجھ رہی ہیں ۔۔ خیر یہ میرا کارڈ ہے رکھ لیں۔۔۔!!!” اس نے پاکٹ سے کارڈ نکال کر اس کے سامنے کیا۔۔ “ویسے تو آپ کا نکما نالائق سا سٹوڈنٹ ہوں لیکن وہ

کیا ہے نہ کہ میں “خضدار” کا سردار ہوں۔۔ کبھی بھی کسی مدد کی ضرورت ہو بلا جھجھک کہیے گا چلتا ہوں۔۔۔۔!!!” وه اسے دنگ چھوڑ کر ہاتھ ماتھے تک لے جاتا اپنی روعب دار شخصیت کے ساتھ باہر نکل گیا۔۔

ارشما نے ہاتھ میں تھامے کارڈ کو دیکھا جس پر “سید سلطان ماہ بیر شاہ” واضح الفاظ میں لکھا ہوا تھا۔۔ نیچے اس کا نمبر تھا۔۔ اس نے زیرِ لب اسکا نام دوہرایا۔۔ اسکے ذہن میں ماہ بیر کا کہا جملہ گونجا ” اپنے علاقے کے کتوں کے آگے ڈال دوں گا” ارشما نے سر جھٹکا۔۔ وه اندر آئی اور کارڈ اپنے پرس میں رکھ کر فریش ہونے چلی گئی۔۔

“صالح آ رہا ہے!!!۔۔۔۔۔” انجم نے اسے جیسے ہی اطلاع دی وه حیرت سے اچھل پڑی۔۔ کیا۔۔۔ کب آ رہے ہیں؟؟ اسکی حیرت خوشی میں بدلی۔۔ اسکا دل بلیوں اچھلنے لگا تھا۔۔ اسکا خوشی سے دمكتا چہرہ دیکھ کر انجم بھی خوش ہونے لگیں۔۔

“آج آئے گا اس نے یہی بتایا ہے۔۔ میری دھی بہت خوش ہے تو؟ رب سوہنا دونوں کی جوڑی سلامت رکھے!!!۔۔۔۔” وه آگے بڑھتی اسکی پیشانی چوم کر بولیں۔۔

امی جان ان کو کیا پسند ہے کھانے میں؟ میں خود بناتی ہوں۔۔!!! وه دمكتے چہرے سے بولی۔۔ انجم بھی اسے دیکھ دیکھ کر خوش ہونے لگیں۔۔

“آجا میرے ساتھ دونوں مل کر کھانا بناتے ہیں۔۔ پھر اس کے آنے سے پہلے پہلے تیار ہوجانا میری دھی۔۔۔ عورت اپنے خاوند کو سجی سنوری ہی اچھی لگتی ہے!!!۔۔۔۔” وه دونوں باورچی خانے میں چلی گئیں۔۔ کھانا تیار کر کے مشائم اپنے کمرے میں آئی۔۔

اس نے الماری کھول کر لائٹ پنک كیپری شرٹ نكالی۔۔ وه کپڑے لے کر باتھروم میں گھس گئی۔۔ پندرہ منٹ بعد وه فریش سی باہر نکلی۔۔ اس نے گیلے بال تولیے میں لپیٹ رکھے تھے۔۔ گھٹنوں تک آتی شرٹ اس کی نازک پتلی سی کمر سے چپکی ہوئی تھی۔۔

اس نے کمرے کے دروازے سے باہر جھانکا۔۔ شام کا اندهیرا پھیلنے لگا تھا۔۔ ٹھنڈی سرد ہوائیں چل رہی تھیں۔۔ وه جھرجھری لے کر اندر آئی۔۔ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھ کر اس نے اپنا میک اپ کا سامان نکالا۔۔ سامنے دھری چیزوں سے كاجل ڈھونڈ کر نکالتے اس نے آنکھ کے کنارے سے لگا کر ہلکی سی لكیر کھینچی۔۔

کاجل کی لكیر سے اسکی بھوری آنکھیں اور بھی نماياں ہونے لگی تھیں۔۔ اس نے بلش آن اٹھا کر اپنے سوٹ کے حساب سے ہلکا گلابی رنگ برش سے لگا کر برش جھٹکتے گالوں سے مس کیا۔۔ کھلتے گلاب کے رنگ کی لپسٹک لبوں پر لگا کر اس نے لبوں کو آپس میں مس کیا۔۔ وه اٹھ کر تھوڑی دور جا کر کھڑی ہوتی آئینے میں اپنے آپ کو دیکھنے لگی۔۔

مسکرا کر اس نے بالوں سے تولیہ اتارا اور آہستہ آہستہ سہلاتی انہیں خشک کرنے لگی۔۔ اس کے بال پہلے سے لمبے ہوگئے تھے۔۔ کمر سے کافی نیچے تک جاتے لائٹ براؤن سلكی بال اس پر بہت جچتے تھے۔۔ اس نے برش تھام کر انہیں سلجهایا اور پھر پنک نیٹ کا دوپٹہ پکڑ کر بیڈ پر بیٹھتی اس کا انتظار کرنے لگی۔۔ اسکی نظریں گھڑی کی سوئیوں کے ساتھ طواف کررہی تھیں۔۔ بیٹھے بیٹھے وه اونگھنے لگی تھی کہ باہر سے انجم کی آواز آئی۔۔

اسکے دل کی دھڑکن بےترتیب ہوئی تھی۔۔ وه باہر آئی تو وه دشمنِ جاں جھک کر انجم سے مل رہا تھا۔۔ اسکا سفری بیگ اسکے قدموں کے پاس زمین پر رکھا تھا۔۔ وه چوکھٹ پر کھڑی ہوتی مسکراتی نظروں سے اسکا جائزہ لیتی لب کا کونہ دانتوں میں دبا گئی۔۔ فوجیوں کے سٹائل کی سی پینٹ اور گرین شرٹ میں اپنی مکمل وجاہت کے ساتھ وه اسکے سامنے تھا۔۔

اسے دیکھتے ہوئے مشائم کو اس کے ساتھ ہوئی باتیں یاد آنے لگیں۔۔ فون پر دور بیٹھ کر بات کرنا آسان تھا لیکن سامنا کرنا بہت مشکل تھا۔۔ صالح نے انجم سے بات کرتے اس پر نگاہ ڈالی تو وه شرما کر نظریں جھکا گئی۔۔

‘آجا میرا پتر سفر سے تھک گیا ہوگا!!!’

انجم اسے لیے اندر آئیں۔۔

السلام علیکم !!! صالح نے مشائم کے قریب رکتے ہوئے کہا۔۔ مشائم نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا اور دهیمی آواز میں سلام کا جواب دیا۔۔

انجم نے دسترخوان بچھایا۔۔ میری دھی نے سب تیری پسند کا بنایا ہے آج منہ ہاتھ دھو کر آ جا۔۔ وه مصروف سے انداز میں بولیں تو صالح سر ہلا کر فریش ہونے چلا گیا۔۔ مشائم نے انجم کے ساتھ مل کر کھانا لگایا۔۔ کچھ دیر بعد وه چلا آیا۔۔ تینوں نے خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا۔۔ صالح کو کھانا بہت پسند آیا تھا اس نے بعد میں تعریف کرنے کا اراده کرتے فلحال خاموش رہنا مناسب سمجھا۔۔۔

پہلی رات وه غصہ تھا مشائم پر۔۔ کیوں؟ اسے سمجھ نہ آئی۔۔ شاید یہ تب کا غصہ اسکے اندر پل رہا تھا جب مشائم کی وجہ سے اس کا ماہ بیر سے جھگڑا ہوا تھا۔۔ لیکن پھر آہستہ آہستہ اسکا غصہ زائل ہوگیا۔۔ وه آخر کس بات کی سزا دیتا اسے؟ کہ وه اس سے محبت کرتی تھی؟ اب وه اسکے نکاح میں تھی۔۔ اور جلد یا بدیر انہیں اپنے رشتے کو آگے بڑھانا تھا۔۔ اس لیے وه اپنا دل اس کے لیے صاف کر چکا تھا۔۔ جب بدگمانی کے بادل چھٹے تو دوسری جانب سے آتے جذبوں کی میٹھی مہک اسے محسوس ہونے لگی تھی۔۔ اسکے احساس بدلنے لگے تھے۔۔

کھانے سے فارغ ہو کر حال احوال اور ادھر ادھر کی باتوں میں رات ہوگئی تھی۔۔ انجم جلد سونے کی عادی تھیں چنانچہ صالح اور مشائم انہیں شب بخیر کہتے اپنے کمرے میں چلے آئے۔۔

دروازه بند کرتے مشائم اس کے مقابل آئی تو صالح فرصت سے اسے دیکھنے لگا۔۔ اسکی پرتپش نظروں کے حصار میں چھوٹے قدم اٹھاتے وہ آگے آئی اور درميانی فاصلہ ختم کرتی نرمی سے اسکے سینے سے سر ٹکا کر اسکے گرد اپنے بازو حائل کر کے آنکھیں موند گئی۔۔

صالح یوسف ساکت ہوا تھا۔۔ محبت کا ایسا معصوم اظہار اس نے پہلے کہاں دیکھا تھا۔۔ اس نے سر قدرے جھکا کر مشائم کا چہرہ دیکھا جو آنکھوں پر گهنی پلکوں کی جھالر گرا کر اسکے سینے سے لگی کھڑی تھی۔۔ صالح نے اسکی کمر کے گرد بازو حائل کرتے اسے خود میں بھینچ کر جھکتے اسکے بدن سے اٹھتی خوشبو میں گہرا سانس لیا۔۔ دونوں کے دل بےتہاشہ دھڑک رہے تھے۔۔

“میں نے آپ کو بہت مس کیا!!!” مشائم اسکی قربت سے تیز ہوتی سانسوں سے ہلکان ہوتی سرگوشی میں بولی۔۔ صالح آہستہ سے پیچھا ہٹا۔۔ “کھانا اچھا بنایا تھا آپ نے!!!” اسکے بات بدلنے پر مشائم خفا ہوئی۔۔

“میں نے کچھ اور کہا تھا!!!۔۔۔” وه منہ بنا کر بولتی رخ موڑ کر بالوں کو گول مول لپیٹنے لگی۔۔

اسکے یوں خفا ہونے پر صالح نے نچلا لب دانتوں میں دبايا۔۔ وه ایک قدم آگے بڑھا اور مشائم کا بازو پکڑ کر اسے اپنی جانب کرتے اسکی پتلی کمر میں اپنا مظبوط ہاتھ ڈال کر جھٹکے سے اسے خود سے قریب تر کر گیا۔۔ اس نے مشائم کی گردن میں ہاتھ ڈال کر اسکا چہرہ اونچا کیا جو اسکے اتنے قریب آنے پر اپنی آنکھیں موند گئی تھی۔۔ اپنے چہرے پر پڑتی اسکی گرم سانسیں اسے جهلسانے لگی تھیں۔۔

اسکا چہرہ یوں بلند کرنے پر مشائم کی پتلی صراحی دار گردن اسکے سامنے تھی۔۔ صالح کی آنکھوں میں خمار اترا۔۔ کیوں محبت کرتی ہیں مجھ سے اتنی؟؟ وه اسکے چہرے کے ہر نقش کو آنکھوں کے راستے حفظ کرتا بھاری آواز میں بولا۔۔

مشائم نے اس کی گھمبیر آواز پر اسکے سینے پر رکھے ہاتھوں میں شرٹ دبوچی تھی۔۔ کیونکہ۔۔۔۔ وه پھولتی سانسوں کے بیچ بولی۔۔ “کیونکہ آپ کھڑوس ہیں!!!۔۔۔” صالح دھیرے سے مسکرایا۔۔

کھڑوس کیوں۔۔؟؟ وه اسکی ناک میں چمکتی نوز پن پر انگلی رکھ کر بولا۔۔ مشائم نے آنکھیں کھولیں۔۔

“کیونکہ آپ غصہ کرتے ہیں پیار سے بات نہیں کرتے بلکہ پیار ہی نہیں کرتے !!!۔۔۔” وه اسکی آنکھوں میں دیکھ کر فر فر بولتی آنکھیں میچ گئی۔۔

صالح نے مسکان دبائی۔۔ “میرا پیار کرنا آپ سہہ نہیں پائیں گی۔۔ میری اتنی سی قربت میں ہی آپ کی سانس اکھڑنے لگتی ہے!!!۔۔۔” وه آنچ دیتے لہجے میں بولتا اسکا چہرہ حیا سے سرخ کر گیا۔۔ مشائم کی جان ہوا ہوئی تھی۔۔ اسے کھڑے ہونے میں دشواری ہونے لگی۔۔

صالح نے اسکی کمر پر گرفت مظبوط کرتے اسے مزید خود سے قریب کیا۔۔۔اتنا کہ اس کے لب مشائم کے لبوں سے ایک انچ کے فاصلے پر رہ گئے تھے۔۔ “جس دن مجھ لگا کہ آپ میری قربت سہنے کے قابل ہوگئی ہیں اس دن صالح یوسف آپ کے وجود پر گہری چھاپ چھوڑے گا۔۔۔”

وه خود پر قابو پاتا اسے اپنی آہنی گرفت سے آزاد کرکے پیچھے ہٹا۔۔

مشائم گہری سانسیں لیتی فوراً چینج کرنے کی غرض سے کپڑے نکال کر باتھروم میں گھس گئی۔۔ وه اسکی نظروں کے سامنے سے غائب ہوجانا چاہتی تھی بس۔۔ اسکے یوں بھاگنے پر وه دهیما سا ہنس دیا۔۔ اس نے بیڈ پر نگاہ دوڑائی تو ایک ہی بلینکٹ رکھی تھی۔۔ وه شرٹ اتار کر دور صوفے پر اچھال کر بیڈ پر لیٹ گیا اور بلینکٹ کھینچ کر ناف تک لیتے آنکھیں موند گیا۔۔ بھئی صالح یوسف کا ہر کام ہی نرالا تھا۔۔ جب کافی دیر ہوگئی اور اسے لگا کہ وه سو چکا ہوگا تو مشائم آہستہ سے باتھ روم کا دروازه کھول کر باہر نکلی۔۔

وه سیاہ رنگ کے ہلکی پھلکی شلوار قمیض زیب تن کئے باہر آئی تو سردی سے ایک پل کو کانپ گئی۔۔ اس نے بیڈ پر نگاہ دوڑائی تو وه لاڈ صاحب ساری بلینکٹ اپنے نیچے کیے اوندھے پڑے سو گئے تھے۔۔۔ مشائم منہ بناتی ناخن چبانے لگی۔۔ اب اس وقت دوسری بلینکٹ لاؤں جا کر۔۔؟؟ باہر ٹھنڈ اور اندھیرے کے خیال سے ڈرتی وه جلدی سے دوڑ کر بیڈ پر آئی۔۔۔ اس نے اپنا پورا زور لگا کر اسکے نیچے سے بلینکٹ نكالنے کی کوشش کی لیکن بے سود۔۔!!!

غصے میں اس نے ہلکا سا مکا اسکی پیٹھ پر مارا۔۔ “موٹے کہیں کے!!!۔۔۔”

اس نے پھر سے کوشش کی اور جیسے تیسے کر کے گهسیٹ کر بلینکٹ اسکے نیچے سے نكالی اور شکر کا سانس لیتے اس سے فاصلے پر ہوتی لیٹ گئی۔۔۔ تھکن کے باعث وه جلد ہی سو گئی۔۔

رات کے کسی پہر عجیب سے احساس سے صالح کی آنکھ کھلی۔۔ وه چند لمحے آنکھیں جهپكتا رہا پھر اس نے دیکھا کہ مشائم اس کے بلکل قریب سو رہی تھی۔۔۔ اس کا ہاتھ صالح کے شرٹ لیس سینے پر تھا جس کی حدت سے صالح کی آنکھ کھلی تھی۔۔

اب اسکی نیند اڑ چکی تھی کیونکہ ایک بار جاگنے کے بعد دوبارہ سونا اسکے لیے بہت مشکل تھا۔۔ اس نے آرام سے اسکا ہاتھ پکڑ کر ہٹایا کہ وه نیند میں منہ بناتی پوری اسکی جانب مڑتی اسکی گردن کے گرد بازو رکھ گئی۔۔ صالح نے گہری سانس لیتے اس کے ادھ کھلے لبوں کو دیکھا۔۔ آدھی رات کا وقت ہو، سرد موسم ہو اور ایک ہی بستر میں دو جائز رشتہ رکھنے والے وجود ہوں تو کون نہ بہکے۔۔

کروٹ کے بل لیٹنے سے مشائم کی شرٹ کندھے سے ڈھلک گئی تھی۔۔ “آپ نے کس امتحان میں ڈال دیا ہے مجھے۔۔” وه کروٹ بدل کر اسے آرام سے بیڈ پر سیدھا لٹاتا سر اٹھا کر اس کے چہرے کو دیکھنے لگا۔۔

اس کی نگاہ اسکے لبوں پر آ کر اٹکی تھی۔۔۔ انگلی کی پور سے اس کے لبوں کو چھوتے اسکی نگاہ اس کی گردن سے ہوتی بیوٹی بون پر آ ٹھہری۔۔ “آپ تو مجھے پاگل کررہی ہیں۔۔!!!” وه جھک کر اسکی گردن میں گہرا سانس لیتا اسکے گرد حصار بناتا آنکھیں موند گیا۔۔۔