Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan NovelR50479 Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 28
No Download Link
Rate this Novel
Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 28
Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan
وہ اداس سی خود کو گھر کے کاموں میں مصروف کرتی صالح کا سامنا نہیں کررہی تھی۔۔
آج وہ واپس جارہا تھا۔۔ اسکی واپسی کی خبر سن کر اسکا دل اداس ہورہا تھا۔۔
لیکن جانا تو تھا ہی اس نے۔۔ انجم بھی اسکی بجھا بجھا انداز خوب غور سے دیکھ رہی تھیں۔۔ انہیں مشائم سے بہت لگاؤ ہوگیا تھا اسلئے وہ اسے اداس دیکھ کر صالح سے بات کرنے گئیں کہ مشائم کو بھی ساتھ لے جائے۔۔
کچھ دیر کی بات ہے پھر دونوں کو واپس ہی آنا ہے۔۔ کافی پس و پیش کے بعد وہ مان گیا تھا جس کی خبر مشائم کو نہیں تھی۔۔
وہ کمرے میں آئی تو صالح بیگ کی زپ بند کررہا تھا۔۔ “اپنے کپڑے اور ضروری چیزیں پیک کر لیں!!!۔۔۔”
وہ مصروف سے انداز میں بولا تو مشائم نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔
“کیوں؟؟؟۔۔۔ میں کہیں جارہی ہوں کیا؟؟۔۔”
وہ چلتی ہوئی اسکے مقابل کھڑی ہوتی سر اٹھا کر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔۔
“جی آپ کو میں آپکی امی کے گھر چھوڑ رہا ہوں اب مزید آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتا!!!۔۔”
سنجیدگی سے کہہ کر اس نے مشائم کے تاثرات دیکھے۔۔
وہ آنکھیں پوری کھولے ہونقوں کی طرح اسے دیکھنے لگی جیسے وہ کسی اور زبان میں بات کررہا تھا۔۔
پھر دیکھتے دیکھتے اسکی آنکھیں نم ہوئیں۔۔ پلکیں بار بار جھپکتی وہ رخ پلٹ کر کھڑی ہوگئی۔۔
اسے اپنے اندر شدید تکلیف سرائیت کرتی محسوس ہوئی۔۔۔ وہ ایک قدم آگے بڑھی اور انکھوں پر دونوں ہاتھ رکھتی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔
صالح جس نے اسے محض تنگ کرنے کی نیت سے یہ کہا تھا اسکے رونے پر خود کو کوسنے لگا۔۔۔
“مذاق کررہا تھا میں آپ تو مذاق بھی نہیں سمجھتیں!!!۔۔” وہ اسکے مقابل آتا متانت سے بولا۔۔
اس نے مشائم کے چہرے سے ہاتھ ہٹائے تو بھیگے چہرے سے آنکھوں میں آنسو لیے وہ اسکا ہاتھ جھٹک گئی۔۔
“آپ کے لیے مذاق تھا یہ اور اگر یہیں میری جان نکل جاتی تو؟؟؟۔۔۔”
صالح نے سرعت سے اسکے لبوں پر ہاتھ رکھا۔۔
” ایسے ہی مرنے تھوڑی دوں گا آپ کو ابھی تو بہت قیمتی لمحات ساتھ گزارنے ہیں ہم نے!!!۔۔۔”
وہ نرمی سے اسکے آنکھوں کے کنارے ٹھہرے آنسو انگلی کی پور پر چنتا دھیمے لہجے میں بولا۔۔
مشائم ہنوز ناراض نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“میں مذاق میں بھی ایسی بات برداشت نہیں کرسکتی !!!” اسکے پرشدت لہجے پر صالح کئی پل خاموشی سے اسکی آنکھوں میں دیکھتا رہا۔۔
پھر اس نے جھک کر اسکی پیشانی کو چوما۔۔
“پیکنگ کر لیں آپ میرے ساتھ جا رہی ہیں!!!۔۔۔”
وہ آرام سے اسکے سر پر دهماکہ کر کے باہر چلا گیا۔۔ مشائم ایک بار پھر بےيقین ہوئی۔۔
“آپ میرے ساتھ جارہی ہیں”۔۔۔
صالح کے کہے الفاظ ذہن میں دہراتے اسکے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔۔ وہ جلدی سے الماری کے پاس آئی اور اپنے کپڑے نکالنے لگی۔۔
رات کا وقت تھا۔۔ بی جان سو گئیں تو وہ گھڑی پر وقت دیکھتی آرام سے باہر آئی۔۔ ایک بند کمرے کے دروازے کے سامنے وہ رکی اور پھر ناک کر کے اندر چلی آئی۔۔
اہم!!!
وہ کھنکاری تو سونے کی تیاری کرتا ماہ بیر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔ اسے اپنے کمرے میں دیکھ کر چونکتا وہ اٹھ بیٹھا۔۔
” بات کرنی ہے کچھ!!!۔۔”
ارشما نے اسے دیکھے بغیر کہا تو وہ سرہلا کر اٹھا اور اسے اپنے پیچھے آنے کا کہتے ٹیرس کا دروازه کھول کر باہر آیا۔۔ ارشما بھی اس کے پیچھے چلی آئی۔۔
جی کیا بات کرنی ہے آپ نے ؟
وہ سینے پر ہاتھ باندهتا اسکے مقابل آتا بولا۔۔
ارشما نے سپاٹ چہرے سے اسے دیکھا۔۔
” آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے اتنے مشکل وقت میں ہماری مدد کی آپ کو تکلیف دینے کے لیے بہت معذرت!! میں کل ہی بی جان کو لے کر چلی جاؤں گی یہاں سے”
اسکا انداز دیکھ کر ماہ بیر کے ماتھے پر بل پڑے۔۔
“مجھے کوئی تکلیف نہیں ہوئی اور آپکو کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے آپ کی بی جان سے بات کر چکا ہوں میں!!!”
ارشما کے ماتھے پر بھی بل پڑے۔۔
“میں نے کہا نہ کہ آپ کو تکلیف کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی مجھ پر ترس کھانے کی ضرورت ہے!!!”
وہ ایک قدم آگے آتی اس کی سرمئی آنکھوں میں اپنی شہد رنگ آنکھیں گاڑ کر درشتگی سے بولی۔۔
اوہ تو یہ بات تھی۔۔۔ وہ اب سمجھا تھا کہ وہ کیوں بھری پڑی ہے۔۔
اسکی “چاہت” کو وہ “ترس” کا نام دے رہی تھی۔۔
“اچھا کیوں کھاؤں گا میں آپ پر ترس؟؟ آپ لنگڑی ہیں؟ معذور ہیں گونگی بہری ہیں جو میں ترس کھاؤں گا آپ پر؟؟؟۔۔۔”
وہ ایک قدم اس طرف بڑھاتا سر جھکا کر تیکھے لہجے میں بولا۔۔
“آپ اچھی طرح جانتے ہیں میں کس بارے میں بات کررہی ہوں بات کو گھمانے کی کوشش نہ کریں!!!۔۔۔”
وہ انگلی اٹھا کر غصے بھری آنکھوں سے اسے دیکھتی تندہی سے بولی۔۔
ماہ بیر نے اسکی انگلی کو دیکھا اور ہاتھ سے نیچے کرتا کہنے لگا۔۔
“نہیں مجھے نہیں پتہ آپ کس بارے میں بات کررہی ہیں آپ خود بتا دیں!!!۔۔۔۔”
ارشما کا پارا چڑھا تھا۔۔
“مجھ جیسی لڑکی کو کیوں اپنانا چاھتے ہیں آپ؟؟ بولیں!!!۔۔۔”
وہ دبے لہجے میں چلائی تھی۔۔۔
ماہ بیر کی آنکھیں سرخ ہوئی تھیں۔۔
” مجھ جیسی لڑکی جس پر کوئی تھوکنا بھی نہ چاہے اسے کیوں اپنی عزت بنانا چاہتے آپ جس کی اپنی عزت سالوں پہلے خاک میں مل گئی تھی ،،، اگر آپ بھی حوس پوری۔۔۔۔۔۔”
بس!!!
اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی ماہ بیر داڑھا تھا۔۔
اسکے بازو میں اپنی آہنی انگلیاں گاڑ کر وہ جھٹکے سے اسے قریب کرتا لہو رنگ آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا۔۔
“بہت بکواس کرلی آپ نے اپنے بارے میں اب ایک لفظ اور نہیں،، محبت کرتا ہوں آپ سے سمجھ آئی بات کھوپڑی میں یا نہیں؟؟
محبّت ہے اسی لیے اپنانا چاہتا ہوں اور میری محبّت اتنی کمزور نہیں ہے کہ ان باتوں سے راستہ بدل لے۔۔ میرے لیے آپ بلکل پاک ہیں ۔۔۔یہ دل آپ کا احترام کرتا ہے!!!۔۔”
سختی سے بولتے ارشما کو کانپتے دیکھ کر آخر میں اسکا لہجہ نرم ہوگیا۔۔۔
“آپ ان فضول سوچوں کو ذہن سے نکال دیں اور جا کر سو جائیں!!!۔۔۔”
وہ گہری سانس لے کر پیچھے ہٹا تو وہ جلدی سے الٹے پیر پیچھے کی طرف چلتی اچانک پلٹی اور بھاگنے کے انداز میں کمرے سے نکل گئی۔۔
اسکے جانے کے بعد وہ بھی سر جھٹک کر کمرے میں چلا آیا اور بیڈ پر دراز ہو کر اسکے ساتھ ہوئی گفتگو کو سوچنے لگا۔۔
“ارشما بچے ادھر آ کر میری بات سنو!!!۔۔۔”
بی جان ظہر کی نماز ادا کر کے بیٹھی تھیں کہ کل ماہ بیر سے ہوئی بات یاد آنے پر انہوں نے ارشما سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔۔
ارشما نے وہیں کھڑے سنجیدگی سے انہیں دیکھا۔۔
“بی جان میں جانتی ہوں آپ کیا بات کرنا چاہتی ہیں مجھ سے۔۔ میری طرف سے انکار ہے!!!۔۔۔”
بی جان کی آنکھوں میں دکھ ابھرا۔۔
“تم کیا چاہتی ہو آخر؟ میری زندگی کا کیا بھروسہ کب چلی جاؤں۔۔ کیا کرو گی پھر تم؟
ایک اکیلی عورت ساری زندگی نہیں گزار سکتی۔۔ اگر ماہ بیر تمهارے بارے میں سب جاننے کے باوجود تمہیں اپنانا چاہتا ہے تو تمہیں رشک کرنا چاہیے اپنی قسمت پر۔۔
کتنا خیال رکھے گا وہ تمہارا لیکن پھر بھی اگر تم نے مجھے پریشان کرنے کی ٹھان لی ہے تو پھر جو جی میں آئے کرو، آخر کو میں تمهاری لگتی کیا ہوں!!!۔۔۔”
وہ ارشما سے اس طرح بات نہیں کرنا چاہتی تھیں لیکن وہ ایسا کرنے پر مجبور ہوگئی تھیں۔۔
ایک دنیا دیکھی تھی انہوں نے۔۔ ان کی سانس کا کیا بھروسہ۔۔۔
اگر اسے کسی اچھے ہاتھوں میں سونپ دیتیں تو انہیں کم از کم اطمینان تو رہتا کہ انہوں نے اپنا فرض ادا کیا۔۔۔
ارشما ڈبڈبائی آنکھوں سے انہیں دیکھنے لگی۔۔
پھر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ ان کے سامنے پنجوں کے بل بیٹھی اور ان کی گود میں سر رکھ گئی۔۔
“اللّه نہ کرے آپ کو کچھ ہو۔۔ اگر آپ کو کچھ ہوا تو ارشما بھی مر جائے گی اور یہ کیا بات کہی آپ نے کہ آپ میری لگتی کیا ہیں؟؟۔۔۔”
وہ سر اٹھا کر بھیگی سرخ آنکھوں سے انہیں دیکھنے لگی۔۔ آپ کے سوا میرا ہے ہی کون ؟؟۔۔۔
وہ اتنی تکلیف سے بولی کہ بی جان کو اس پر ترس آیا۔۔ انہوں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے برابر بٹھایا اور اسے سینے سے لگا گئیں۔۔۔
ارشما کی آنکھوں سے کئی آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر گال پر بہہ گئے۔۔۔
“آپ جیسا چاہتی ہیں ویسا ہی ہوگا میں آپ کو کبھی تکلیف نہیں دوں گی۔۔”
وہ سیدھی ہو کر بی جان کا ہاتھ چوم کر بولی۔۔
“میری بیٹی بہت سمجهدار ہے اللّه تمھارے نصیب بلند کرے۔۔”
وہ اسکے سر پر پیار کرتیں شفقت سے بولیں۔۔
“میں بتا کر آتی ہوں بچے کو تمہارا فیصلہ۔۔ تم یہیں ٹھہرو میں آتی ہوں۔۔۔”
ان کے جانے کے بعد ارشما گم صم سی خلا میں گھورنے لگی۔۔
بی جان نے جو خبر اسے سنائی تھی اس نے سلطان ماہ بیر کو ساتویں آسمان پر پہنچا دیا تھا۔۔ وہ اپنے کمرے کی بالکنی میں کھڑا تھا۔۔
آسمان پر ٹھہرتے بادلوں کو مسکراتی نظروں سے دیکھتا وہ تصور میں اس سے مخاطب تھا۔۔
میں وعدہ کرتا ہوں اپنے آپ سے کہ آپ کے تمام غموں کو سمیٹ کر آپ کو اپنی محبت سے اس قدر بھر دوں گا کہ پچھلی زندگی پر آپ کو محض خواب کا گمان ہوگا۔۔ آپ کی ہر ازیت کا ازالہ کروں گا میں بس ایک بار آپ میری دسترس میں آجائیں آپ میری محبت کی بارش میں بھیگتی ہر شے کو فراموش کر دیں گی ۔۔۔
بیپ بیپ کی آواز پر اس نے ترو تازہ ہوا میں گہرا سانس لیتے موبائل پاکٹ سے نکالا اور اور يس کر کے کان سے لگایا۔۔
“کب تک پہنچو گے تم دونوں؟؟
اوکے ایک سرپرائز ہے تم دونوں کے لیے۔۔ آہاں ایسے نہیں،، جب آؤ گے تو بتاؤں گا۔۔۔!!!”
مسکراتے لہجے میں بول کر وہ موبائل بند کرتا واپس کمرے میں آیا۔۔
اسکے قدم یونہی اس کمرے کی جانب بڑھنے لگے جہاں اس نے ارشما کو ٹھہرایا تھا۔۔
وہ لوگ آج بلکل ساتھ والے فلیٹ میں شفٹ ہوگئے تھے۔۔ وہ چلی گئی تھی لیکن اپنی خوشبو اور احساس یہیں چھوڑ گئی تھی۔۔
بیل کی آواز پر اس نے دروازه کھولا تو صالح اور مشائم کو دیکھ کر پیچھے ہٹا اور اندر آنے کا راستہ دیا۔۔
دروازه بند کر کے وہ پلٹا اور صالح سے بغل گیر ہوا۔۔
السلام علیکم !!
مشائم سلام کر کے آگے آئی تو ماہ بیر نے اسکے گرد بازو حائل کرتے اسکا سر چوما ۔۔
وعلیکم السلام کیسی ہے میری مشی ؟؟
اسکے اتنی محبّت سے بولنے پر مشائم کھلے دل سے مسکرائی۔۔
بہت اچھی اور بہت خوش!!!
اسکے چمکتے چہرے کو دیکھ کر ماہ بیر نے دل ہی دل میں اسکی نظر اتاری۔۔ چلو آؤ فریش ہو جاؤ دونوں کھانا کھاؤ گے میں آرڈر کر دیتا ہوں!!!
وہ ان کے ساتھ اندر لاؤنج میں آتا بولا۔۔
“نہیں کھانا کھا لیا تھا راستے میں،، ہم ذرا فریش ہو کر آتے ہیں پھر تم اس سرپرائز کے بارے میں بتانا ذرا۔۔۔”
صالح نے آنکھیں سکیڑ کر ماہ بیر کو دیکھ کر کہا اور مشائم کو اشارہ کرتا اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔
ماہ بیر نے مسکراہٹ دبائی۔۔
صالح کا ری ایکشن کیسا ہوگا؟؟
مزے سے سوچتا وہ ٹی وی لاؤنج میں بیٹھ کر ان کا انتظار کرنے لگا۔۔
“میرا نکاح ہے آج!!!۔۔۔”
وہ آرام سے ان کے سر پر بم پھوڑتا صوفے پر پھیل کر بیٹھ گیا۔۔
صالح ٹانگ سے ٹانگ ہٹا کر سیدھا ہو بیٹھا جبکہ مشائم بھی پوری آنکھیں کھولے شاک سے اسے دیکھنے لگی۔۔
“کیا مطلب نکاح ہے آج آپ کا ۔۔ اس طرح اچانک؟؟۔۔۔”
صالح کو لگا جیسے وہ مذاق کررہا ہو۔۔
“ہمم ہے تو!!!۔۔۔”
ماہ بیر کے اطمینان میں رتی بھر فرق نہ آیا۔۔ مشائم خاموشی سے کبھی صالح کا اور کبھی ماہ بیر کا چہرہ دیکھتی۔۔
“اوکے آپ کا نکاح ہے آج!!! کس کے ساتھ؟؟؟۔۔۔”
وہ دوبارہ صوفے سے ٹیک لگاتا آرام سے پانی کا گلاس پکڑ کر منہ سے لگاتا ماہ بیر کو دیکھنے لگا۔۔
“ٹیچر کے ساتھ!!!۔۔۔”
ماہ بیر کا کہنا ہی تھا کہ صالح کو اچھوکا لگا۔۔
وہ بےاختیار کھانسنے لگا تھا۔۔
مشائم ہونقوں کی طرح دونوں کو دیکھنے لگی۔۔ ان کی باتیں اسکے سر کے اوپر سے گزر رہی تھیں۔۔
“ٹیچر؟؟
مطلب وہ یونیورسٹی والی کھڑوس بد دماغ؟؟؟۔۔۔”
صالح نے یقین دہانی چاہی تو ماہ بیر نے مزے سے اثبات میں سر ہلایا۔۔
“مجھے بتاؤ اس ایک ہفتے میں ایسا کیا ہوگیا جو نوبت یہاں تک پہنچ گئی!!”
صالح کی یہ بات ابھی تک ہضم نہیں ہورہی تھی۔۔
ماہ بیر نے مختصراً اسے سب بتا دیا۔۔ مشائم اب سمجھی تھی۔۔
لیکن بھائی بابا سائیں کو علم میں لائے بغیر آپ یہ نکاح کرنا چاہتے ہیں؟؟
مشائم پرسوچ لہجے میں بولی تو صالح بھی ماہبیر کو دیکھنے لگا۔۔
“بابا سائیں کی اجازت کے بغیر میں کیسے کر سکتا ہوں یہ۔۔ انہیں علم ہے وہ نکاح کے دوران رابطے میں رہیں گے۔۔۔ ابھی بس نکاح ہے پھر مناسب وقت پر رخصتی بھی ہوجائے گی!!!”
ماہ بیر دهیمے سے مسکرا کر کہنے لگا۔۔
“واہ آپ نے تو سب انتظام کر لیا۔۔ میرے پاس تو کپڑے نہیں آپ نے پہلے بتایا ہی نہیں اور میری ہونے والی بھابھی سے بھی نہیں ملوايا۔۔ انکی شاپنگ بھی تو کرنی ہوگی نہ۔۔ اللّه اتنا کام ہے!!! “
مشائم کو اب شاپنگ کی فکر ہوئی تھی۔۔
“یوسف لے جائے گا تمھیں کر لینا شاپنگ اور یہ بلکل ساتھ والے فلیٹ میں ہی تو ہے تمهاری ہونے والی بھابھی مل لینا اور پوچھ بھی لینا اگر ان کو بھی شاپنگ کرنی ہو!!!۔
ویسے ان کا ڈریس میں نے لے لیا ہے کبرڈ میں رکھا ہے جاتے ہوئے لے جانا۔۔۔”
ماہ بیر اسے مشورہ دیتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔
کچھ کام ہے مجھے بعد میں ملتا ہوں!!!
اسکی بات پر صالح نے پیچھے سے ہانک لگائی۔۔
“جانتا ہوں سب کون سے ضروری کام ہیں!!!۔۔۔”
ماہ بیر نے پلٹ کر اسے گھوری ڈالی تو وہ کندھے اچکا گیا۔۔ ماہ بیر کے جانے کے بعد اس کی نظر مشائم پر پڑی جو کبرڈ سے ارشما کا نکاح کا جوڑا نکال کر باہر لاتی ستائشی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔
آف وائٹ شارٹ شرٹ اور غرارے پر ڈل گولڈن کام ہوا تھا۔۔ ساتھ ہی ایک باكس تھا جس میں جیولری تھی۔۔
میں مل کر آتی ہوں ارشما سے پھر مارکیٹ چلیں گے آپ بھی چلیں ساتھ؟؟
وہ چادر اوڑھتی رک کر صالح سے پوچھنے لگی۔۔
“نہیں آپ ہی جائیں مجھے دیکھتے ہی وہ یونیورسٹی سے چھٹیاں کرنے پر ڈانٹنے لگیں گی!!!۔۔۔”
وہ منہ بنا کر بولا تو مشائم کو زور کی ہنسی آئی۔۔۔
کتنے مزے کی بات تھی اسکی ہونے والی بھابھی اسکے شوہر اور بھائی کی ٹیچر تھی۔۔
سیاہ عبائے میں نقاب سے چہرہ ڈھکے وہ صالح کے ساتھ چلتی شاپنگ مال میں داخل ہوئی۔۔ بھیڑ دیکھ اسکا دل گهبرانے لگا تھا۔۔
صالح نے گردن موڑ کر اسے دیکھا اور اسکا ہاتھ مظبوطی سے تھامتا شیشے کا دروازه دهكیل کر ایک دکان میں داخل ہوا۔۔
مشائم سر گھما کر وہاں ڈسپلے ڈریسز کو دیکھنے لگی۔۔ میڈم آپ کو کس طرح کے ڈریسز چاہیے؟؟
ٹھرکی دکاندار پوری بتیسی کی نمائش کرتا مشائم کے پاس آیا۔۔
مشائم نے نظریں گھما کر صالح کا چہرہ دیکھا جو غصے سے سرخ پڑ رہا تھا۔۔
“تم جاؤ ہم خود دیکھ لیں گے!!!۔۔۔”
وہ اس لڑکے کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ کر بولا تو لڑکا گهبرا کر دور جا کر کھڑا ہوگیا۔۔۔
مشائم کے چہرے پر محظوظ مسکراہٹ آئی۔۔
“آپ بیٹھیں یہاں!!!”
صالح نے اسے کچھ فاصلے پر بنے بینچ پر بیٹھنے کا کہا اور اس کے لیے ڈریس دیکھنے لگا۔۔
“یہ بلیک والا دکھاؤ!!!۔۔۔”
اس کے اشارے پر لڑکا وہ ڈریس لے آیا۔۔۔ مشائم نے ستائشی نظروں سے بلیک لانگ فراک کو دیکھا جس کو آستینیں نیٹ کی تھیں۔۔
اسکا پچھلا گلا تھوڑا ڈیپ تھا جس پر ڈوریاں لگی تھیں۔۔ یہ ٹھیک ہے؟؟
صالح نے اس سے پوچھا تو اس نے ڈن کر دیا۔۔
پےمنٹ کرنے کے بعد وہ دروازه دهكیل کر باہر نکلے۔۔
جوتا کس طرح کا چاہئے آپ کو؟؟
وہ ایک دکان میں داخل ہوتا سر جھکا کر اس سے پوچھنے لگا۔۔
بلیک ہیل ٹھیک رہے گی!!!
“بلیک کلر میں ہیل دکھائیں۔۔۔۔”
مشائم کے آگے کھڑا ہوتا وہ دكاندار کو گھور کر بولا تو وہ جلدی سے بلیک ہیلز لے آیا۔۔
“میڈم بیٹھیں آپ یہ پہن کر دیکھ لیں۔۔۔”
مشائم بیٹھ گئی اور اپنے ایک پیر سے جوتا نکال کر جھکنے لگی کہ وہ لڑکا جلدی سے نیچاے جھکا۔۔
میں پہناتا ہوں میڈم!!! اس سے پہلے کہ وہ مشائم کے پیر کو ہاتھ لگاتا صالح نے اسے گریبان سے پکڑ کر اٹھایا اور دور جھٹکا۔۔
اس کے چہرے پر سرد تاثرات دیکھ کر مقابل تھوک نگل کر پیچھے ہٹا۔۔۔
“جتنا کہا جائے اتنا کر!!!۔۔۔”
انگلی اٹھا کر کہتا وہ پنجوں کے بل بیٹھا اور مشائم کے پیر میں ہیل پہنانے لگا۔۔
وہ یک ٹک اسکے جھکے سر کو دیکھے گئی۔۔ کتنی خوش قسمت تھی وہ جو صالح یوسف اسکے نصیب میں لکھ دیا گیا تھا۔۔
“خوبصورت!!!۔۔۔”
صالح نے بلیک ہیل میں مقید اسکے پیروں کو دیکھ کر کہا۔۔ “یہ پیک کر دیں۔۔”
وہ ہیل اسکے پیر سے نکالتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ شاپنگ کرنے کے بعد وہ مال سے باہر نکلے۔۔
“تھینک یو!!!۔۔۔”
مشائم نے مسکراتی نظروں سے اسے دیکھ کر کہا تو صالح نے گاڑی میں سامان رکھ کر اسے دیکھا۔۔
فار وہاٹ؟؟؟۔۔۔۔
وہ دائیں ابرو اچکا کر بولا۔۔
مشائم نے واہ کے انداز میں اسے دیکھا۔۔
“اوہ انگلش؟؟؟۔۔۔”
صالح ایک قدم اسکی طرف بڑھاتا جھک کر کہنے لگا
“يس پیور انگلش!!!۔۔۔
آخر کو ارشما بھابھی کا سٹوڈنٹ ہوں۔۔۔”
وہ آنکھ دبا کر دروازه کھولتا اسے اندر بیٹھنے کا اشارہ کرتے خود ڈرائیونگ سیٹ پر آیا۔۔
“بہت ڈیسنٹ ہیں وہ میں امپریس ہوئی ہوں!!!۔۔”
اور بہت ستهری بھی کرتی ہیں اگلے بندے کی آپ کو ان کی صاف گوئی بھی پسند آئے گی!!!
مشائم کی بات کے جواب میں وہ بڑبڑا کر رہ گیا۔۔
اس کے اس انداز پر مشائم بےاختیار ہنستی چلی گئی۔۔
اسے یوں ہنستے دیکھ کر صالح بھی مسکرا کر سر جھٹک گیا۔۔
وہ سب اس وقت ارشما کے فلیٹ میں موجود تھے۔۔ لاؤنج میں تھری سٹر صوفے پر آف وائٹ غرارے میں چہرے پر گھونگھٹ ڈالے وہ بی جان اور مشائم کے درمیان بیٹھی تھی۔۔
اسکے سامنے نکاح نامہ پڑا تھا جس پر اسے سائن کرنے تھے۔۔ قبولیت کا مرحلہ طے پا گیا تھا اب بس دستخط باقی تھے۔۔ ان کی بلکل سامنے رکھے صوفے پر سفید كلف لگی شلوار قمیض میں ملبوس ماہ بیر صالح کے ساتھ براجمان تھا۔۔ مشائم نے چونکہ سیاہ پیروں کو چھوتا فراک پہنا تھا تو اس کی مناسبت سے صالح نے بھی سیاہ شلوار قمیض زیب تن کی تھی جس کے بازو عادتاً کہنیوں تک موڑ رکھے تھے۔۔
سب کی نظریں خود پر محسوس کر کے ارشما نے آنکھیں جھپک کر سامنے ٹیبل پر دھرا قلم اٹھایا اور بتائی گئی جگہوں پر دستخط کرتی گئی۔۔
“ماشاءالله مبارک ہو،،، آپ دونوں اب سے میاں بیوی ہیں اللّه آپ دونوں کی جوڑی سلامت رکھے!!!۔۔۔”
نکاح خواں انھیں مبارک بعد دیتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔
صالح نے انہیں مٹھائی کے ڈبے اور تحائف دیے اور انہیں باہر تک چھوڑنے گیا۔۔ وہ واپس آیا تو ارشما کے چہرے سے گھونگھٹ اٹھایا جا چکا تھا۔۔
بی جان سب کا منہ میٹھا کروا رہی تھیں جبکہ ماہ بیر نرم گرم نگاہوں سے اپنی سجی سنوری دلہن کو تکے جا رہا تھا۔۔ اسکے چہرے پر دلکش مسکراہٹ نے بسیرا کیا ہوا تھا۔۔ مشائم شرارتی نظروں سے ماہ بیر کو دیکھتی ارشما کی جانب جھکی۔۔
“بھابھی!!! نظریں تو اٹھائیں ذرا دیکھیں تو بھائی کس طرح آپ کو دیکھ رہے ہیں۔۔۔” اہم !!!
شرارت سے کھنکارتی وہ سیدھی ہوئی۔۔
ارشما نے ایک پل کو جھکی پلکیں اٹھائیں لیکن ماہ بیر کو گہری بولتی آنکھوں میں زیادہ دیر تک دیکھ نہ پائی اور سرعت سے آنکھوں پر گھنی پلکوں کی جهالر گرا گئی۔۔ اسکی دھڑکنیں منتشر ہوئی تھیں۔۔
کتنی ہی بہادر ہوتی وہ لیکن تھی تو ایک لڑکی ہی نہ جو آج اپنا تن من اسکے نام کر چکی تھی۔۔ اسکے احساس بدلنے لگے تھے۔۔
گہری بولتی آنکھوں کا پيام وہ خوب سمجھ گئی تھی۔۔ ان دونوں کو آنکھوں ہی آنکھوں میں باتیں کرتے پا کر مشائم نے منظر سے ہٹنا مناسب سمجھا۔۔
وہ ان سے کچھ فاصلے پر چلی آئی جہاں صالح سٹول پر بیٹھا اسی کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔ کھلے لمبے بالوں میں ہلکی پھلکی تیار وہ اسکا ایمان خراب کررہی تھی۔۔
وہ ہاتھ میں مٹھائی پكڑے اسکے قریب آئی اور ہاتھ اسکے منہ کے سامنے کیا۔۔
صالح نے اسکا ہاتھ تھاما اور اسکے ہاتھ سے مٹھائی کھانے کے بعد اس کی انگلی دانتوں میں دبا گیا۔۔
مشائم نے گھبرا کر پیچھے دیکھا لیکن کوئی بھی ان کی طرف متوجہ نہیں تھا۔۔
“کیا کررہے ہیں آپ کوئی دیکھ لے گا!!!۔۔۔”
وہ آنکھیں بڑی کئے اسے وارن کرتے بولی۔۔
“کوئی بات نہیں دیکھ لے بیوی کے ساتھ مصروف ہوں کسی اور کے ساتھ تھوڑی!!!۔۔۔”
وہ اسکا ہاتھ چھوڑ کر کمال بےنیازی سے بولا۔۔
بی جان کھانا لگانے لگیں تو مشائم جلدی سے ان کے ساتھ مدد کروانے لگی۔۔ خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا گیا۔۔
بی جان تو خوشی سے پھولے نہ سما رہی تھیں۔۔ وقت زیادہ ہوا تو وہ لوگ جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔۔
“بی جان بہت اچھا لگا آپ دونوں کے ساتھ وقت گزار کر اور ایک بار پھر سے بہت مبارک ہو!!!۔۔۔”
مشائم بی جان سے گلے ملتے ہوئے کہنے لگی پھر وہ ارشما سے گلے ملی۔۔
“بہت پیاری لگ رہی ہیں آپ!!۔۔”
اپنی تعریف پر وہ مسکرا دی۔۔
بی جان نے آگے بڑھ کر صالح اور ماہ بیر کو پیار دیا۔۔ ایک آخری نظر ارشما کے مسکراتے چہرے پر ڈال کر وہ صالح اور مشائم کی ہمراہی میں فلیٹ سے چلا گیا تو ارشما نے سکون کا سانس لیا۔۔
“بی جان میں کمرے میں جا رہی ہوں بہت تھک گئی ہوں!!!۔۔۔”
وہ تھکن زدہ لہجے میں کہہ کر کمرے میں آ گئی۔۔ اسکے احساسات عجیب ہورہے تھے۔۔ جن حالات سے وہ گزری تھی اتنی جلدی نارمل ہوجانا اسکے لیے بہت مشکل تھا۔۔ بی جان کی خوشی کے لیے وہ ہاں تو کرچکی تھی لیکن ابھی تک کشمکش کا شکار تھی۔۔ اس نے سوچنا بھی چھوڑ دیا تھا کہ وہ بھی ایک عام زندگی گزارے گی کیونکہ ایسی لڑکی کو معاشرے میں کون قبول کرتا ہے لیکن ماہ بیر نے اسکی سوچ کو غلط ثابت کردیا تھا۔۔
خود سے الجھتی وہ اٹھی اور کپڑے تبدیل کر کے کمرے کی بتی بجھا کر بیڈ پر دراز ہوگئی۔۔
بالکنی کے کھلے دروازے سے عجیب سی آواز آئی تو وہ چونک کر اٹھ بیٹھی۔۔
جلدی سے بیڈ سے نیچے اتر کر وہ بالکنی کے دروازے کے پاس کھڑی ہوئی ہی تھی کہ کسی نے اسکا ہاتھ پکڑ کر باہر کھینچا اور اسکے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے دیوار کے ساتھ لگا کر اس پر سایہ فگن ہوگیا۔۔
ارشما نے پورے چاند کی روشنی میں آنکھیں پھاڑے ماہ بیر کو دیکھا۔۔
اسے جیسے اپنی بصارت پر یقین نہیں آ رہا تھا۔۔
ماہ بیر نے دوپٹے سے ندارد سیاہ شلوار قمیض میں اسکے نازک وجود کو دیکھا تو نچلا لب دانتوں میں دبا گیا اسکی بند آنکھوں اور چہرے کی اڑی رنگت دیکھ کر وہ جھکا اور اسکی پلکوں پر پھونک ماری۔۔
ارشما نے بے ساختہ اسکے سینے پر دونوں ہاتھ رکھتے اسے روکنا چاہا۔۔
“ماہ بیر مم۔۔ میں آپ کی ٹیچر ہوں۔۔ کیا ۔۔۔ اس نے حلق تر کرتے آنکھیں کھول کر نظریں جھکائیں۔۔ کیا ۔۔۔کر رہے ہیں۔۔؟؟؟”
اسکی بات پر وہ محظوظ ہوا۔۔
“ٹیچر جی اب آپ مابدولت کی بیوی کے عہدے پر فائز ہوچکی ہیں!!!۔۔”
وہ اسکے کان پر جھکا اور سرگوشی کرتے اسکے کان کی لو چوم کر پیچھے ہٹا۔۔
ارشما نے فورا آنکھیں میچ لیں اور گہرے گہرے سانس لینے لگی۔۔ ماہ بیر نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر درمیانی فاصلہ ختم کرتے اسکا چہرہ اپنے مقابل کیا۔۔
ارشما کے پیر اوپر اٹھ گئے تو اس نے ڈر کر ماہ بیر کی گردن کے گرد دونوں بازو حائل کر لیے۔۔
“کیوں کررہے ہیں یہ ؟ میں آپ کو پسند نہیں کرتی!!!۔۔۔” اس نے ماہ بیر کو روکنے کی خاطر جو منہ میں آیا کہہ دیا۔۔ ماہ بیر نے چاند کی روشنی میں اسکے گهبرائے سے چہرے کو دیکھا۔۔
” پسند نہیں کرتیں تو اب کرنے لگیں گی،،، اتنا یقین تو ہے ماہ بیر شاہ کو اپنے آپ پر!!! “
اسکی کمر پر ہاتھ پھیر کر وہ آنچ دیتے لہجے میں بولا۔۔ اپنی کمر پر اسکے ہاتھ کا لمس پا کر وہ تڑپ اٹھی تھی۔۔ اپنی بےترتیب ہوتی سانسوں کے ساتھ اس نے ماہ بیر کی شرٹ کو مٹھی میں دبوچا۔۔
“بہت خوبصورت لگ رہی تھیں آپ،، میرا دل چاہ رہا تھا کہ آپ کو اسی وقت رخصت کروا کر لے جاؤں اور آپ کے نقش نقش کو لبوں سے چھو کر خراج پیش کروں!!!۔۔۔”
اس پر جھکتا وہ بھاری گھمبیر آواز میں کہتا اسکی جان جوکھم میں ڈال گیا۔۔
اپنے چہرے پر پڑتی اسکی گرم سانسوں پر وہ ہلکان ہونے لگی تھیں۔۔
ماہ بیر نے اسے نہ تھاما ہوتا تو قریب تھا وہ گرجاتی۔۔ ماہ بیر کی قربت اور اپنی کمر پر اسکا لمس محسوس کرتے اسے اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہورہی تھی۔۔
پلیز !!!
وہ اسے دور دهكیلتے رو دینے کو ہوئی۔۔
اس پر ترس کھا کر ماہ بیر پیچھے ہٹا۔۔
آپ بہت خاص ہیں میرے لیے،،، خود کو کم تر سمجھنے کی بجائے بس میرے بارے میں سوچا کریں آپ،،، عنقریب میں آپ کو اپنے پاس لانے والا ہوں۔۔ اس لیے اپنے آپ کو ذہنی طور پر تیار کر لیں!!!
آگے بڑھ کر اسکی پیشانی پر لب رکھ کر وہ پلٹا اور اپنی بالکنی میں کود گیا۔۔
ارشما دنگ سی کھڑی تھی۔۔ ایک آنسو اسکی آنکھ سے بہتا گال پر لڑھک گیا۔۔
اس نے اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھا جہاں اسکا پرشدت لمس ابھی بھی محسوس ہورہا تھا۔۔
وہ گم صم سی کمرے میں چلی آئی اور بیڈ پر چت لیٹ گئی۔۔ وہ اسکی سوچوں کا رخ بدلنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔۔
