Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 34 (Last Episode)

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan

“کہاں چلی گئی تھیں آپ مجھے بتائے بغیر؟؟ پریشان ہوگیا تھا میں!!!”

جونہی اینارا کمرے کا دروازه کھول کر اندر آئی اورهان سرعت سے اسکی طرف آیا۔۔

“وہ میں اماں کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس گئی تھی۔۔۔”

چادر اتار کر صوفے پر رکھتی وہ چمکتی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔ اورهان نے تفکر سے اسے دیکھا۔۔

“آپ کی طبیعت ٹھیک ہے؟؟ مجھے بتاتیں نہ میں لے جاتا؟؟

اس کے فکرمند انداز پر وہ اس کا ہاتھ تھام کر بیڈ پر بیٹھ گئی اور نرمی سے اسے دیکھنے لگی۔۔ “آپ ۔۔بابا بننے والے ہیں!!!۔۔۔”

شرمگیں مسکراہٹ چہرے پر سجاتی وہ سر جھکا گئی۔۔ اورهان نے بےيقینی سے اسے دیکھا۔۔ پھر اس کی بےيقینی شدید احساس مسرت میں بدل گئی۔۔

“میں ۔۔ بابا ۔۔۔؟؟

اس کی آواز كانپی۔۔ اینارا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔ اس کی نم آنکھوں کو دیکھ کر وہ نرمی سے اس کے گال پر ہاتھ رکھ گئی۔۔ “الحمدللّہ!!!۔۔۔”

اس نے اورهان کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا تو وہ نم آنکھوں سمیت مسکرا دیا۔۔ نیلی آنکھیں چمک اٹھی تھیں۔۔

“آپ نے آج مجھے بہت بڑی خوشی دی ہے!!!۔۔۔”

اس کا ہاتھ چوم کر وہ نرمی سے اس کے بال سنوارنے لگا۔۔

اورهان؟؟

وہ دھیمی آواز میں بولی۔۔۔

“جی جانِ اورهان؟؟۔۔”

وہ جی جان سے متوجہ ہوا۔۔

“ایک بات بتانی تھی آپ کو۔۔ آج جب میں ہوسپٹل گئی وہاں مجھے میری پرانی سهیلی ملی۔۔ باتوں باتوں میں اس نے بتایا کہ “ماہ بیر سائیں کی شادی ہوگئی ہے ۔۔ اور جس کے ساتھ ہوئی ہے اس لڑکی کا نام پتہ کیا ہے؟؟۔۔”

وہ ایک پل کو رکی تو اورهان نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔

“ارشما نام ہے اس لڑکی کا”۔۔۔

وہ فرط مسرت سے بولی۔۔ اورهان دنگ سا اٹھ کھڑا ہوا۔۔

“ارشما۔۔۔؟

اسے اپنی آواز کہیں دور سے آتی سنائی دی۔۔

کیا پتہ وہ میری ۔۔ بہن نہ ہو ایسا کیسے۔۔۔!!!” بولتے ہوئے اسکا گلا رندھ گیا۔۔

اینارا کھڑی ہوئی۔۔ اس کا ہاتھ تھامتی وہ کہنے لگی۔۔ “میں نے پوچھا تھا کہ وہ کیسی دکھتی ہے، تصویروں میں دیکھا ہے میں نے ارشما کو ۔۔ اس لیے پہچان سکتی ہوں۔۔ اللّه کی کرنی دیکھیں جیسا حلیہ میری سہیلی نے بتایا وہ ہوبہو ارشما کا ہے لیکن پھر بھی آپ جا کر اطمینان کر لیں!!۔۔۔”

اورهان نے سر ہلایا۔۔

“میں کچھ دیر تک نکلتا ہوں میرے کپڑے نکال دو۔۔۔”

دھڑکتے دل سے وہ فون پر ماہ بیر کا نمبر ڈائل کرنے لگا جو کافی عرصے پہلے اس کے زیر استعمال تھا۔۔ رابطہ نہ ہونے پر وہ موبائل پاکٹ میں ڈالتا دھڑکتے دل سے ارشما کے بارے میں سوچنے لگا اسکا بس نہ چل رہا تھا کہ اڑ کر وہاں پہنچ جاتا۔۔

ان کا ولیمہ بخیر و عافیت انجام پا چکا تھا۔۔ آج انہیں ہنی مون کے لیے نکلنا تھا۔۔ ارشما کو شروع سے سرد علاقے بہت پسند تھے۔۔

سو مشورے کے بعد طے پایا کہ وہ دونوں اور مشی، یوسف آج ہی سکردو کے لیے روانہ ہوں گے جہاں قدرت کے ایسے دیدہ زیب فرحت بخش مناظر تھے جنھیں دیکھ کر روح تک سیراب ہوجاتی تھی۔۔

ماہ بیر لان میں چہل قدمی کررہا تھا جب ایک گارڈ اسکی جانب آتا دکھائی دیا۔۔

” سائیں باہر ایک آدمی آیا ہے اس نے اپنا چہرہ چھپا رکھا ہے ایک ہی بات کی تكرار کیے جا رہا ہے کہ ماہ بیر سے ملنا ہے وہ مجھے جانتا ہے اسے بلاؤ۔۔۔ ہم نے بہتیرا کہا کہ چلے جاؤ یہاں سے لیکن وہ سنتا ہی نہیں اب کیا حکم ہے ہمارے لیے؟؟”

وہ سر جھکا کر ادب سے بولا۔۔ ماہ بیر نے پرسوچ انداز میں آنکھیں سكیڑیں۔۔

“بھیج دو اسے !!!۔۔۔”

اسے حکم دے کر وہ پشت پر ہاتھ باندھتا کھڑا ہوگیا۔۔

“بہتر سائیں!!”

گارڈ الٹے قدموں واپس چلا گیا۔۔ کچھ سیكنڈ بعد ہی پینٹ شرٹ میں جس کے پائنچے ٹخنوں سے اوپر تک فولڈ تھے چہرے پر ماسک چڑھائے ایک اچھے ڈیل ڈول کا جوان چلتا ہوا اس کے سامنے آ رکا۔۔

اسکی نیلی آنکھوں کو دیکھ کر ماہ بیر چونکا۔۔ جیسے ہی اس نے ماسک اتارا ماہ بیر پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔۔

“تم۔۔۔؟؟ اورهان ۔۔۔ تم زندہ تھے؟”

حیرت کے جھٹکے سے وہ سنبهلا تو اس کی پیشانی شکن زدہ ہوئی۔۔

“یہاں کیا کررہے ہو چلے جاؤ مجھے تم سے۔۔۔۔” اس کی بات مکمل ہونے سے قبل اورهان نے سر جھکا کر اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے۔۔

“مجھے معاف کردو ہر چیز کے لیے!!!۔۔”

ماہ بیر کے الفاظ جیسے غائب ہوگئے۔۔ یہ وہ آخری چیز تھی جس کی وہ اس شخص سے توقع کر سکتا تھا۔۔

وہ سر جھکائے نادم سا کہنے لگا۔۔

“میں نے بہت برے عمل کئے جن کی مجھے سزا مل گئی اسی دنیا میں ۔۔ بہت تکلیفوں سے گزرا ہوں میں ۔۔ مو*ت کے منہ سے واپس آیا ہوں ۔۔ اللّه نے مجھے ایک موقع دیا ہے ۔۔ میں بدل گیا ہوں ۔۔ تم بھی مجھے معاف کر دو!!!۔۔۔”

ماہ بیر خاموشی سے اسے دیکھنے لگا۔۔

“کیا یہ پھر اس کی کوئی چال تھی یا واقعی وہ۔۔۔؟؟؟” اس نے سر جھٹکا۔۔

وہ آگے بڑھا اور اس کا كندها تھپتھپایا۔۔

“تمہیں اپنے کئے پر ندامت ہے یہی کافی ہے۔۔ میری طرف سے دل پر بوجھ نہ رکھو۔۔ ماہ بیر شاہ کا ظرف اتنا چھوٹا نہیں ہے!!!۔۔۔”

اورهان نے تشکر سے اسے دیکھا۔۔ پھر ارشما کا خیال آنے پر دھڑکتے دل سے بولا

“میں ارشما سے ملنا چاہتا ہوں ایک بار پلیز مجھے ملوا دو تمہارا احسان مند رہوں گا!!!۔۔” ماہ بیر کی آنکھوں میں غصہ نمایاں ہوا ۔۔

“کیا بکو**اس ہے یہ بیوی ہے وہ میری تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی اسکا نام لینے کی؟؟۔۔۔”

اسے اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر اورهان دبے دبے لہجے میں چلایا ۔۔۔

“بہن ہے وہ میری ۔۔ جسے مجھ سے چھین لیا گیا۔۔ ترس گیا ہوں میں اس کی شکل دیکھنے کے لیے!!!۔۔”

گھٹنوں کے بل بیٹھتا وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔۔

ماہ بیر یوں ساکت کھڑا تھا جیسے اسے سانپ سونگھ گیا ہو۔۔ اس نے لبوں کو حرکت دی لیکن الفاظ نے ساتھ نہ دیا۔۔

کچھ پل کی خاموشی کے بعد اس نے جھک کر اورهان کو اٹھایا۔۔

“آؤ میرے ساتھ!!!۔۔۔”

وہ اسے ڈرائنگ روم میں لے آیا۔۔

“میں انہیں لے کر آتا ہوں تم بیٹھو!!!۔۔۔”

وہ چلا گیا تو اورهان بےچینی سے اسکی واپسی کا انتظار کرنے لگا۔۔

دروازے پر آہٹ ہوئی اور پھر ۔۔۔ سیاہ شلوار سوٹ میں نک سک سی تیار وہ اندر داخل ہوئی۔۔ لبوں پر موجود مسکراہٹ پل میں غائب ہوئی۔۔ آنکھیں یوں کھل گئیں جیسے اس نے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو۔۔

وہ تڑپ کر اسکی جانب دوڑی تھی۔۔

“بھائی !!!۔۔۔”

سیاہ ریشمی دوپٹہ کندھے سے پهسل کر بازو پر آ ٹھہرا تھا۔۔ اس کے سینے سے لگتی وہ بلک بلک کر رونے لگی۔۔

وہ بار بار اس کے چہرے اور کاندهوں پر ہاتھ پھیرتی اس کے ہونے کا يقین دلا رہی تھی خود کو۔۔

اورهان بھی اسے سینے سے لگائے اس کا سر چومتا رو رہا تھا۔۔ آنسو ابل ابل کر گال پر پهسلتے نیچے گر رہے تھے۔۔

ماہ بیر نے اس منظر سے نگاہ ہٹاتے آنکھوں کی نمی اندر اتاری۔۔

کافی دیر تک وہ یونہی کھڑے روتے رہے۔۔ ماہ بیر نے آگے بڑھ کر انہیں الگ کیا۔۔

“بس کردیں اب دونوں اللّه کا شکر ادا کریں کہ انہوں نے آپ کو ملوا دیا۔۔ بیٹھ جائیں کب تک یوں کھڑے رہیں گے!!!۔۔۔”

ان کو بٹھا کر اس نے نگہت کو آواز دی جو لوازمات سے بھری ٹرالی لیے بوتل کے جن کی طرح حاضر ہوئی۔۔

ارشما نے اورهان کا ہاتھ چوم کر آنکھوں سے لگایا۔۔

“میں نے آپ کو بہت یاد کیا ۔۔ آپ کی ڈیتھ کی نیوز سن کر مجھ لگا میں اس بھری دنیا میں تنہا رہ گئی ہوں۔۔”

وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھتی اپنی آپ بیتی سناتی گئی۔۔

ماہ بیر لب پر مٹھی رکھے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتا اس کی تکلیف دہ زندگی کی روداد سننے لگا۔۔

اورهان کی آنکھیں تکلیف کی شدت سے لال انگاڑہ ہورہی تھیں۔۔ اسکی نازوں پلی معصوم بہن کن کن حالات سے گزری تھی۔۔

اس کے خاموش ہونے پر وہ اس کے گرد حصار قائم کرتا اسے خود سے لگا گیا۔۔

“یار میری بیوی کو بار بار گلے لگا کر مجھے جیلس کررہے ہو تم؟؟؟۔۔۔”

ماہ بیر نے آنکھیں سکیڑ کر کہا تو ارشما نم آنکھوں سمیت ہنس پڑی۔۔

اورهان نے مسکرا کر سر جھٹکا۔۔

“تمہارا ظرف بہت بڑا ہے کہ تم نے سب کچھ جاننے کے باوجود میری بہن کو اپنایا ۔۔ اسے عزت اور محبت دی،، میں بہت شکرگزار ہوں تمہارا۔۔۔” اورهان کے نرمی سے کہنے پر ماہ بیر مسکرا دیا۔۔

ارشما کے ساتھ کافی وقت گزار کر انہیں اپنے گھر آنے کی دعوت دیتا وہ حویلی سے نکل چکا تھا۔۔ راستے میں ایک جگہ رش کی وجہ سے اس نے گاڑی روک دی۔۔

لوگوں کا ہجوم دیکھ کر وہ گاڑی کا دروازه کھول کر باہر نکل آیا۔۔ ابھی وہ چند قدم چلا تھا کہ اس کے کان میں کسی کی آواز پڑی۔۔

“ہاں سب پلان کر لیا ہے میں نے اس بلبل سے دوبارہ ملاقات کا وقت آ گیا ہے۔۔ ہاہاہا !!! آج کل میں وہ لوگ روانہ ہوں گے ۔۔ اس بار رانا نے پکا انتظام کیا ہے۔۔ ان کے کئے کا بھگتان ان کی بیویاں بھگتیں گی۔۔ اب “دی گریٹ” ماہ بیر اور اس “اکڑ کے مارے” صالح یوسف کو پتہ چلے گا کہ رانا سے پنگا لینے کا کیا انجام ہوتا ہے!!!۔۔۔” جانی پہچانی آواز اور اس کے بولے گئے ناموں پر اورهان نے چونک کر پیچھے دیکھا۔۔

پہلی نظر میں ہی وہ رانا کو پہچان چکا تھا۔۔ اس کے ارادے جان کر اورهان کا دماغ گھوم گیا۔۔ وہ جلدی سے اس کے پیچھے بھاگا جو گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکل گیا تھا۔۔

اورهان واپس آیا اور جلدی سے انگیشن میں چابی گھماتا اس کا پیچھا کرنے لگا۔۔

” اوہ مائی گاڈ اٹس لائک میریکل!!!۔۔۔”

سکردو فورٹ پر قدم رکھتے ہی وہ دونوں مسمرائز سی قدرت کے بےانتہا دلکش نظاروں کو دیکھتی رہ گئی تھیں۔۔

یوں جیسے انھوں نے تصوراتی دنیا میں قدم رکھ دیا تھا۔۔

یہاں کے سرد موسم کی مناسبت سے وہ گھٹنوں تک آتی شرٹس جینز میں لانگ کوٹس ، بوٹ پہنے ہوئے تھیں۔۔

ہاتھوں میں گلوز تھے۔۔ جبکہ صالح اور ماہ بیر نے سویٹر شرٹس جینز کے ساتھ لیدر کی جیکٹ زیب تن کر رکھی تھی۔۔

ستائیس گھنٹوں کی مسافت طے کرنے کے بعد وہ سکردو کی سرزمیں پر پہنچے تھے۔۔

یخ ٹھنڈی ہوا اور ٹھٹھرتی دوپہر نے ان کا استقبال کیا تھا۔۔

اپنی رہائش پر کچھ وقت آرام کرنے کے بعد وہ “خر پوچو فورٹ” پر تفریح کی نیت سے آئے تھے جو سکردو شہر کی چوٹی پر واقع ہے۔۔

لكڑی کے جنگلے کے گرد آ کر کھڑی ہوتی وہ صالح کو دیکھنے لگی جو بلیک جیكٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے ماتھے پر بکھرے بالوں کو جھٹکتا اسی کی جانب آ رہا تھا۔۔

مشائم نے ناک سکوڑ کر چہرہ گھما کر دیکھا تو ماہ بیر اور ارشما فورٹ کے اندر جا رہے تھے۔۔ “آپ کی ناک لال ہورہی ہے!!!۔۔۔”

مشائم نے گلوز والے ہاتھ سے اس کی ناک کو ہلکا سا کھینچا۔۔ صالح سر جھٹکتے مسکرایا۔۔ “کیسا لگ رہا ہے یہاں آ کر؟؟”

وہ ہوا سے اڑتے اس کے بالوں کو نرمی سے کان کے پیچھے اڑستا ہوا کہنے لگا۔۔

مشائم نے ہوا میں رچی سبزے اور پھولوں کی مہک میں گہرا سانس لیا۔۔

“بہت اچھا لگ رہا ہے اور آپ میرے ساتھ ہوں تو دنیا حسین ہی لگتی ہے!!”

دلکش لب و لہجہ!!

صالح نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور اس کے ساتھ قلعے کی راہداری میں چلنے لگا۔۔

“اور اگر میں نہ رہوں!!!۔۔۔”

وہ اسے تنگ کرنے کی غرض سے بولا تھا لیکن اس کے تاثرات دیکھ کر اسے اپنی کہے الفاظ پر افسوس ہوا۔۔

مشائم ڈبڈبائی آنکھوں سے اسے دیکھتی ہاتھ جھٹک کر تیز تیز چلنے لگی۔۔ اسکے دور جانے کا خیال بھی اس کے لیے سوہانِ روح تھا۔۔

صالح تیزی سے آگے گیا اور اسے پشت سے گلے لگا گیا۔۔

“آئی ایم سوری!!!”

اس کے گال پر بوسہ دیتا وہ سرگوشی میں بولا۔۔

“بات نہ کریں مجھ سے!!!۔۔۔”

وہ خفگی سے چہرہ پھیر کر بولی۔۔

“مائی لو !!”

صالح نے اس کا رخ اپنی جانب کرتے اس کی پیشانی پر سرد لب رکھے۔۔

“نو!!!”

وہ آنکھیں موندے اس کے سینے پر مکا مارتی آہستہ سے بولی۔۔

اس کے ماتھے کے بل غائب ہوگئے تھے۔۔

صالح نے مسکراہٹ دبائی۔

“مائی جانو!!!۔۔۔”

مشائم نے پٹ سے آنکھیں کھولیں۔۔ وہ منہ کھولے سر اٹھا کر اسے دیکھے گئی۔۔ کم از کم اس شخص سے اسے ایسے الفاظ کی امید نہیں تھی۔۔ “شوخے!!!”

وہ بےساختہ امڈ آنے والی مسکراہٹ دباتی کان کے پیچھے بال اڑستی واک کرنے لگی۔۔

“جی آپ کا ہوں!!!۔۔۔”

وہ بھی اس کا ہم قدم ہوتا اس سے نوک جھونک کرنے لگا۔۔

قلعے کی سیڑھیاں چڑھتی وہ لڑکھڑائی تو ماہ بیر نے فوراً سے تھام لیا۔۔

“دیهان سے!!!”

اسے سیدھا کھڑا کرتا وہ فکرمندی سے بولا۔۔ ارشما کا پیر مڑ گیا تھا جس کی وجہ سے اس کے چہرے پر تکلیف دہ تاثرات ابھرے۔۔

“کیا ہوا آپ ٹھیک ہیں؟؟۔۔۔” ارشما نے اثبات میں سر ہلایا۔۔

“اوکے!!!۔۔”

ماہ بیر نے اثبات میں سر ہلاتے نرمی سے اسے بازوؤں میں اٹھا لیا۔۔

“کیا ۔۔ کر رہے ہیں، ہم یہاں اکیلے نہیں ہیں!!!۔۔”

اس نے گھبرا کر چہرہ گھما کر پیچھے دیکھا۔۔ ماہ بیر خفیف سا ہنس دیا۔۔

“اتنا کیوں گھبرا رہی ہیں آپ وہ يقیناً کباب میں ہڈی نہیں بننا چاہیں گے !!!”

اس کے مضبوط بازوؤں کی گرفت میں وہ نظریں جھکاتی اس کی گردن میں چہرہ چھپا گئی۔۔

ماہ بیر نے آنکھیں موند کر کھولیں۔۔ فورٹ کی چھت پر آ کر اس نے آرام سے اسے نیچے اتار دیا۔۔ اپنی گردن پر اسکی گرم سانسوں کا احساس اسے ابھی تک ہورہا تھا۔۔

اپنے منہ زور جذبات کو سلاتے وہ لکڑی کے بنے جنگلے سے پشت ٹکا کر اس کے مقابل کھڑا ہوگیا۔۔ یہاں سے سکردو کے تمام پر فضا مقامات کو دیکھا جا سکتا تھا۔۔

ارشما نے ستائشی نظروں سے چاروں جانب دیکھا۔۔

“بہت دلکش ہے یہ سب!!!۔۔۔”

وہ بانہیں پھیلاتی سر اٹھا کر آنکھیں موندتی مسکرائی۔۔

اس کے شہد رنگ بال اس کے دودھیا گلابی گالوں سے ٹکراتے ہوا میں بکھر رہے تھے۔۔

“اور سب سے دلکش ہے آپ کی مسکراہٹ جس نے ماہ بیر سلطان کا دل جکڑ لیا ہے!!!”

اس کے دلکشی سے کہنے پر ارشما ایک قدم آگے بڑھی۔۔

اس کی سرمئی آنکھوں میں اسے دور دور تک اپنے لیے محبت ہی محبت نظر آ رہی تھی۔۔

گردن کو چھوتے بالوں میں بھری بھری داڑھی مونچھوں میں سینے پر ہاتھ باندھے اسے اپنی جانب دیکھتے پا کر اسے ٹوٹ کر ماہ بیر پر پیار آیا۔۔

یہ پہلی بار تھا جب وہ اس کے لیے ایسا جذبہ محسوس کررہی تھی۔۔

“آپ جب ۔۔۔ اس طرح مجھے دیکھتے ہیں ۔۔۔تو مجھے ۔۔ آپ پر ۔۔ بہت پیار آتا ہے!!!۔۔” جھجھک کر اس کے سینے پر سر رکھ کر اس کے گرد ہاتھ باندھتی وہ دھیمے لہجے میں بولی۔۔

ماہ بیر نے اسے خود میں بھینچا۔۔

“کبھی اس پیار کا اظہار تو کیا نہیں آپ نے!!!۔۔”

وہ خود سے لگی کھڑی اس لڑکی کے احساس کو محسوس کرتا سکون سے آنکھیں موند گیا۔۔ اس کے سرگوشی کے انداز میں کہنے پر ارشما نے ٹھوڑی اس کے سینے پر ٹکاتے چہرہ بلند کیا تو ماہ بیر نے سر جھکا کر اسے دیکھا۔۔

اس کی پلکوں کو انگلی کی پوروں سے چھوتی وہ دھیرے سے مسکرائی۔۔ ماہ بیر نے جھک کر اس کی انگلیوں کو چوم لیا۔۔

“ویسے کیا آپ نے کبھی سوچا تھا کہ آپ کی شادی آپ کے سٹوڈنٹ سے ہوگی؟؟۔۔۔”

وہ یونیورسٹی میں گزرا وقت یاد کرتا مسکراتی نظروں سے اسے دیکھتا بولا۔۔

ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ان سے ٹکڑایا تو ارشما ٹھٹھڑتی اس میں چھپنے کی کوشش کرنے لگی۔۔ ماہ بیر نے جیكٹ کی زپ کھول کر اسے خود میں چھپایا تھا۔۔

“کبھی نہیں سوچا تھا۔۔ آپ کو جب پہلی بار کلاس میں دیکھا تو میں بہت حیران ہوئی تھی۔۔ پھر آہستہ آہستہ اپنی زہانت اور اچھے کیریکٹر کی وجہ سے آپ میرے فیورٹ سٹوڈنٹ بن گئے تھے۔۔” اس کے انکشاف پر ماہ بیر حیران ہوا۔۔

“آپ نے کبھی بتایا نہیں۔۔ آپ تو ایسی نظروں سے سب سٹوڈنٹس کو دیکھا کرتی تھیں جیسے انہیں نظروں سے ہی چبا جائیں گی!!

اس کے جھرجھری لے کر کہنے پر وہ کھلکھلا دی۔۔ اسے بچوں کی طرح کھلکھلاتے دیکھ کر ماہ بیر بےساختہ جھکا۔۔

اس کے لبوں پر نرمی سے ہونٹ رکھتے وہ اسے خود میں بھینچ گیا۔۔ ارشما نے اس کے لمس پر آنکھیں موندی تھیں۔۔

کمرے سے کھٹ پٹ کی آواز پر ارشما نے مندی آنکھیں کھولیں۔۔

ماہ بیر کو نک سک سا تیار دیکھ کر وہ جمائی روکتی کمفرٹر کو خود پر درست کرنے لگی۔۔ “کہاں جا رہے ہیں آپ؟؟”

اس کی سوئی سوئی سی آواز پر ماہ بیر موبائل پاکٹ میں ڈالتا اس کے پاس آیا۔۔

“آپ سو جائیں، میں ضروری کام سے جا رہا ہوں جلدی آ جاؤں گا!!!۔۔”

اس کی پیشانی پر لب رکھتا وہ گھڑی میں وقت دیکھتا کمرے سے باہر نکل کر آرام سے دروازہ بند کر گیا۔۔

ارشما نے مسکرا کر کروٹ بدلی اور آنکھیں موندتی نیند کی وادیوں میں گم ہوگئی۔۔

صبح نو بجے:

بالوں کو گول مول جوڑے میں لپیٹتی وہ بیڈ سے اٹھی۔۔ باتھ روم سے پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی۔۔

بیڈ کی دوسری سائیڈ خالی دیکھ کر وہ بستر کی چادر ٹھیک کرنے لگی۔۔

موبائل کی سکرین آن ہونے پر وہ تکیے ٹھیک کرتی سائیڈ ٹیبل تک آئی۔۔

موبائل ان لاک کرتے اس نے نوٹیفیکیشن کو کھولا۔۔

کسی اَن۔نون نمبر سے مسیج آیا تھا۔۔

اَلَِْفرَاقُ اَشَدُّ مِنَ الْمَوْتِ

(جدائی مو*ت سے زیادہ سخت ہے)

اس نے اچنبھے سے میسج پڑھا۔۔

“پتہ نہیں کون ہے۔۔ “

سر جھٹک کر وہ کچن میں آئی اور چولہے پر چائے کا پانی چڑھا کر كیبنٹ کھولتی باقی سامان ڈھونڈنے لگی۔۔

دودھ اور پتی نکال کر اس نے سلیب پر رکھی ہی تھی کہ صالح فون کان سے لگائے باہر آیا۔۔

” تم۔۔ اورهان بات کررہے ہو ؟ یہ کس کا نمبر ہے؟

وہ جینز کی پاکٹ میں ہاتھ ڈال کر سنجیدگی سے بولا۔۔

دوسری جانب وہ دھیمی آواز میں عجلت سے کہنے لگا۔۔۔

“میرے پاس بات کرنے کا وقت نہیں ہے تم سب کی جان کو خط*رہ ہے ۔۔ رانا اسرار خان تم لوگوں کے پیچھے وہیں پہنچ چکا ہے۔۔ میں نے اس کی باتیں سنی تھیں وہ فون پر کسی کو کہہ رہا تھا کہ “کسی کچورا لیک” کے قریب ٹھکانہ بنائے گا اور موقع ملتے ہی اپنا انتقام لے گا۔۔ میرا کام تمہیں انفارم کرنا تھا۔۔”

جلدی جلدی کہہ کر اس نے کال کاٹ دی۔۔

صالح نے غصہ سے مٹھی بھینچتے اسے دوبارہ کال کی تو نمبر بند جا رہا تھا۔۔

غصے کی شدت سے دیوار پر مکا مار**تے وہ آندھی طوفان بنا گھر سے نکل گیا۔۔

مشائم اسے آوازیں دیتی اس کے پیچھےگئی لیکن وہ نہ رکا۔۔

تفکر سے اسکی پشت دیکھتی وہ اندر آئی۔۔ دروازه کھلا رہ گیا تھا۔۔

اس نے ارشما کے کمرے کے دروازے پر ناک کیا تو فوراً دروازہ کھل گیا۔۔

وہ فریش سی سرخ كیپری شرٹ میں ملبوس باہر آئی۔۔

“میں بس آ ہی رہی تھی۔۔ کیا ہوا تم پریشان ہو؟”

اسکے چہرے پر تفکرات کے سائے منڈلاتے دیکھ کر وہ پوچھ بیٹھی۔۔

“بھائی جان کو بلائیں ۔۔ یوسف بہت غصے میں گئے ہیں ۔۔ ان کو کال آئی تھی ۔۔ اس کے بعد وہ بغیر بتائے چلے گئے۔۔ مجھے بہت فکر ہورہی ہے ان کی۔۔۔”

مشائم کنپٹی مسلتی اسے کہنے لگی۔۔

“ماہ بیر تو نہیں ہیں وہ صبح ہی کسی کام سے چلے گئے تھے۔۔”

لب کاٹتی وہ مشائم کے ساتھ ٹی وی لاؤنج میں آئی۔۔

مشائم نے گہری سانس لی اور صوفے پر ٹک گئی۔۔

“میرا دل بہت گھبرا رہا ہے!!!”

ارشما نے اس کا کندھا تھپتھپایا ۔۔

“پریشان نہ ہو کچھ نہیں ہوتا!!!

10:45 AM

دل میں بہتری کی دعا کرتی وہ لاؤنج میں ٹہل رہی تھی۔۔ اسے کسی صورت سکون نہیں مل رہا تھا۔۔

ارشما انتظار کر کر کے تھک کر کمرے میں چلی گئی تھی۔۔ اسکی طبیعت عجیب ہورہی تھی۔۔ یوسف آگئے آآآ۔۔۔۔۔

قدموں کی آہٹ پر وہ پلٹ کر آگے بڑھی لیکن سامنے دروازے سے اندر آتے شخص کو دیکھ کر اس کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔۔

رانا اسرار خان کو دیکھ کر اس کے دل کی دھڑکن سست ہوئی تھی۔۔ وہ كمینگی سے مسکراتا اس کی جانب بڑھنے لگا۔

آہا!!! میں آ گیا ۔۔۔ کیسا لگا میرا سرپرائز میری ایکس وائف؟؟؟۔۔۔”

مکروہ مسکراہٹ چہرے پر سجا کر آنکھیں ایک پل کو موند کر سر جھٹکتا وہ اسے پاگل لگا۔۔

مشائم نے تھوک نگلتے قدم پیچھے لینے شروع کئے۔۔

“تم۔۔ یہاں کیا کر رہے ہو جج۔۔ جاؤ یہاں سے ۔۔۔ میرے ۔۔شوہر کو پتہ چلا تو وہ حشر کریں گے کہ۔۔۔۔ “

اسے پس**ٹل نکال کر چومتے دیکھ کر اس کی گھگھی بندھ گئی۔۔۔

کانپتی ٹانگوں سے پلٹتی وہ گرتی پڑتی پیچھے کی جانب دوڑی۔۔

رانا نے تیز چمکیلی نظروں سے اپنے شکار کو دیکھا اور آن کی آن میں اس تک لپک کر اسے بازو سے کھینچ کر صوفے پر پٹخ*ا۔۔۔

مشائم کے حلق سے خوف کے مارے چیخ بلند ہوئی۔۔۔

وہ اپنے گرد بازو باندھتی خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔

اس کا رنگ زرد پڑ گیا تھا۔۔

بےبسی کے احساس سے آنسو لڑی کی صورت آنکھوں سے بہنے لگے تھے۔۔

اسکی چیخ کی آواز سن کر ارشما باہر آئی۔۔۔ ایک اجنبی شخص کو صوفے پر جھکتے دیکھ کر وہ خوفزدہ ہوگئی۔۔

اس نے وہاں سے بھاگنا چاہا تا کہ کسی کو مدد کے لیے بلا سکے لیکن خوف نے اس کے قدموں کو منجمد کر دیا تھا۔۔۔

رانا نے سر گھما کر دیکھا تو اسے دور کھڑے پا کر کمینگی مسکراہٹ سے اپنی جانب آنے کا اشارہ کیا۔۔

ارشما کے چہرے سے جیسے خو**ن نچڑ گیا ہو۔۔۔ اس سے درندوں سے بد تر سلوک کرنے والا،، اسکی عزت کو تار تار کرنے والا ایک بار پھر اس کے سامنے تھا۔۔

وہ جیسے اس رات میں پہنچ گئی تھی جب وہ اسکی نسوانیت کے پرخچے اڑا رہا تھا۔۔

اس نے بےاختیار نفی میں سر ہلایا۔۔

“ادھر آ جا میری بلبل ملاقات کی گھڑی آئی ہے،، آ جا اس رات کی طرح میری بانہوں میں سما جا۔۔ چل آ جا نہ!!!۔۔۔”

وہ سرمستی سے کہتا اسے سر تا پیر تک گھورنے لگا۔۔

مشائم نے بےبس کھڑی ارشما کو ڈبڈبائی نظروں سے دیکھا اور گود میں سر رکھتی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔

رانا نے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔ اسے بالوں سے پکڑ کر اس کا سر بلند کرتے اس نے زناٹے دار تھپڑ مشائم کے منہ پر ما**را۔۔۔

“بات کررہا ہوں نہ اپنی بلبل سے ۔۔۔ ڑیں ڑیں لگائی ہوئی ہے ۔۔۔ صبر کرلو تھوڑی دیر اپنی بلبل سے ملاقات کر کے تمہارے ساتھ فرصت سے وقت بتاؤں گا!!!۔۔۔”

سر کو گھما کر جھٹکتا وہ عجیب سے انداز میں بولا۔۔

مشائم منہ پر ہاتھ رکھے اپنی آواز کا گلا گھونٹنے کی کوشش کرنے لگی۔۔

ارشما بت بنی کھڑی تھی۔۔۔ اس کے جسم سے جیسے قطرہ قطرہ جان نکل رہی تھی۔۔۔

دفعتاً اس کی نگاہوں کے سامنے کا منظر دھندلایا تھ آنکھوں کے آگے اندھیرا آیا اور وہ پورے قد سے نیچے گری۔۔

رانا سرعت سے اس کی طرف لپکا۔۔

“ابھے اٹھ یہ ڈرامے بعد میں کرنا!!!۔۔”

جھک کر اس کا چہرہ تھپتھپاتے وہ دانت پیس کر بولا۔۔

‘بھابھی!!!۔۔’

مشائم اٹھ کر ارشما کی جانب لپکی۔۔ اس کے ارشما کے قریب پہنچنے سے پہلے ہی رانا نے اسے دور دھکیلا۔۔

بیہوش پڑی اپنی بلبل کو اٹھا کر اس نے صوفے پر پٹخا۔۔

اور سرخ آنکھوں سے مشائم کو گھورتا اس کی جانب بڑھا۔۔۔

11:15 AM

گاڑی دور کھڑی کر کے وہ رانا کا پیچھا کرتے ایک عالیشان گھر کے سامنے رکا۔۔

سردی سے اس کی ناک سرخ ہورہی تھی۔۔ یہاں آنے تک اس نے بیشتر ماہ بیر کا نمبر ڈائل کیا لیکن سگنلز کی خرابی کی وجہ سے اس سے رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا۔۔

ارد گرد پھیلی ویرانی کو دیکھتا وہ سیڑھیاں چڑھ کر ماربل کے چمکتے برآمدے پر بغیر چاپ پیدا کئے چلتا دروازے کے قریب آیا۔۔

دروازه کھلا دیکھ کر وہ دل کڑا کرتا اندر داخل ہوگیا۔۔

گھر میں موت کا سا سناٹا پا کر وہ چار قدم آگے بڑھا کہ کسی نے اس کے سر پر زبردست وار کیا۔۔ كراه کر وہ سر کی پشت پر ہاتھ رکھتا چکرا کر نیچے گرا۔۔

لائٹ آن ہوئی اور و ہ تالیاں بجاتا سامنے آیا۔۔

“ماننا پڑے گا ‘میر اورهان صمید’ تمہیں!!!!۔۔۔” گ**ن کی نوک پر پھونک مارتا وہ پیچھے ہٹا تو کچھ دور صوفے پر بےسدھ پڑی ارشما اور اس کے ساتھ سکڑ کر بیٹھی مشائم واضح ہوئیں۔۔ اورهان نے نیچے گرے ہی دھندلی نظروں سے انہیں دیکھا تو طیش کے مارے سر میں اٹھنے والے شدید درد کو برداشت کرتا اٹھ بیٹھا۔۔۔

“دور رہو ان سے!!!۔۔۔”

اسے ان کی جانب بڑھتے پا کر وہ حلق کے بل چلایا۔۔

اورهان کے سامنے ارشما کے گال کو دو انگلیوں سے چھو کر وہ تمسخر سے کہنے لگا ۔۔

رسی جل گئی پر بل نہیں گیا!!

اورھان ضبط کھو کر اٹھا اور خطرناک تیوروں سے اس کی جانب بڑھا۔۔ رانا نے زمین کی طرف نشانہ کرتے گو**لی چلا دی۔۔

فا**ئر کی آواز پر اورهان اس سے کچھ فاصلے پر رکتا لہو رنگ آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا۔۔

“اگلی بار یہ گو**لی تیری بہن کے بیجھے میں جائے گی چل پیچھے بلکہ اس کمرے میں جا!!! چل بکواس کررہا ہوں میں کچھ کمرے میں جا نہیں تو!!!۔۔۔

ارشما کی کنپٹی پر گن رکھتا وہ چلایا۔۔

اورهان نے سختی سے لب بھینچ کر اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا اور الٹے قدم لیتا کمرے میں داخل ہوگیا۔۔

“دروازه بند کر اندر سے!!!۔۔۔”

اس کی مذید ہدایت پر اس نے ٹھا کی زوردار آواز سے دروازه بند کیا کہ رانا دہل گیا۔۔

اس نے جلدی سے دروازہ باہر سے لاک کر دیا۔۔

“سالے کمبخت!!!۔۔”

زیر لب انہیں گا**لی سے نوازتا وہ آگے کے بارے میں سوچنے لگا۔۔

11:35 AM

مطلوبہ جگہ پہنچ کر اس نے چپہ چپہ چھان مار*ا لیکن کسی کا نام و نشان نہ ملا۔۔

اس نے موبائل نکال کر وقت دیکھا۔۔

آخر اورهان نے اسے کال کیوں کی جب یہاں کوئی ہے ہی نہیں ۔۔۔

“اورهان نے مجھے کال کی کیسے۔۔۔؟؟ اس کے پاس تو میرا نمبر ہی نہیں ہے!!!۔۔۔”

اس کا دماغ بھک سے اڑا۔۔

“اوہ شٹ!!!۔۔۔”

اس کی چھٹی حس نے خطرے کا سگنل دیا۔۔ وہ بغیر ایک لمحے کی دیر کئے گاڑی کی جانب لپکا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

12:00 PM

ریش ڈرائیونگ کرتا وہ جلدی سے واپس آیا اور پھرتی سے دروازه دهكیل کر اندر آیا۔۔۔

لاؤنج میں ارشما کو سر پکڑے بیٹھا دیکھ کر وہ لپکتا اس کی جانب آیا۔۔

“آپ اس طرح کیوں بیٹھی ہیں!!!۔۔”

اس کے ہلکی آواز میں پوچھنے پر وہ سر اٹھا کر صالح کو دیکھنے لگی۔۔

اسے سامنے دیکھ کر دل خوشی کے احساس سر دھڑکنے لگا تھا۔۔

اس نے بولنا چاہا لیکن حلق میں آنسوؤں کا پھندہ لگا۔۔ آنکھوں پر ہاتھ رکھتی وہ بلکنے لگی۔۔

صالح شدید پریشان ہوگیا۔۔

“کچھ بتائیں تو مشائم کہاں ہیں؟؟

ارشما نے آنکھیں صاف کرتے اٹک اٹک کر کہا ۔۔ “وہ۔۔۔وہ۔۔ اس ۔۔ کمرے میں ۔۔۔ !!!”

صالح پھرتی سے کمرے کی جانب گیا۔۔ اندر کا منظر دیکھ کر اس کا لہو کھول گیا۔۔

سامنے وہ مشائم کو بازو سے دبوچے اس پر جھکا کچھ کہہ رہا تھا۔۔

صالح خطرناک تیوروں سے اس کی جانب بڑھا اور اسے گردن سے پکڑ کر باہر گھسیٹا۔۔

گھسیٹتے ہوئے وہ اسے دروازه ٹانگ ما*ر کر کھولتا باہر لے آیا اور پوری قوت سے زمین پر پٹخا۔۔

اس اچانک پڑنے والی افتاد پر رانا کے چھکے چھوٹ گئے۔۔

صالح کو سامنے دیکھ کر اس کے منہ پر مو**ت کو زردی چھا گئی۔۔

اس نے حلق تر کرتے کچھ فاصلے پر گری پس**ٹل کو دیکھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اندر ارشما نے جلدی سے فون لا کر ماہ بیر کا نمبر ملایا۔۔

مشائم بھاگتی ہوئی باہر آئی اور اس سے لپٹ گئی۔۔

ارشما نے ایک بازو اس کے گرد حائل کر لیا جبکہ دوسرے سے وہ مسلسل ماہ بیر کا نمبر ڈائل کررہی تھی۔۔

تنگ آ کر اس نے ماہ بیر کے لیے میسج چھوڑ دیا۔۔

مشائم کو ساتھ لپٹائے وہ شدید تیز دھڑکتے دل سے باہر کی جانب دیکھنے لگی جہاں صالح ، رانا کو بری طرح پی**ٹ رہا تھا۔۔

اس نے اسے زمین سے اٹھایا اور اس کے پیٹ میں گھٹنا مار**ا۔۔

“میری بیوی کو ہاتھ لگانے کی جرات کیسے کی تو نے؟ تیری اتنی ہمت کہ ہماری عورتوں سے بدتمیزی کرے!!؛۔۔۔

اسے دھکا دیتے صالح نے گھونسے ما*ر ما*ر کر اس کا چہرہ لہو**لہان کر دیا۔۔

رانا نے ہانپتے ہوئے آنکھیں موندیں تو اس کے بھائی کا چہرہ اسکے دماغ کی سکرین پر لہرایا۔۔ نیلی سوجھی آنکھیں کھولتے وہ پوری قوت سے داڑھتا صالح کی جانب بھاگا اور اسے زوردار دھکا دیا۔۔

وہ ایک دم لڑکھڑایا۔۔ رانا نے موقع کا فائدہ اٹھایا اور جھک کر زمین سے ریوا**لور اٹھایا اور پھرتی سے فا**ئر کر دیا۔۔

صالح کی خوش قسمتی کہ وہ بروقت پیچھے ہٹا تھا جس سے نشا*نہ چوک گیا۔۔

“یوسف!!!

گو**لی کی آواز سن کر مشائم اندھا دهند بھاگتی باہر آئی۔۔ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے اور چہرے پر آنسوؤں کے نشان تھے۔۔

صالح نے كراه کر اسے دیکھا۔۔ مشائم سے غلطی ہوئی تھی کہ وہ سامنے آ گئی تھی۔۔ اسی غلطی کا رانا کو انتظار تھا۔۔

اس نے جلدی سے مشائم کو دبوچا اور اس کی گردن کے گرد بازو رکھ کر پس**ٹل کی نوک اس کی کنپٹی پر رکھی۔۔۔

فاتحانہ نظروں سے صالح کو دیکھتا وہ الٹے قدم لینے لگا۔۔

“آ ہاں بلکل نہیں ۔۔۔ اگر میری طرف آئے تو تیری بیوی کو سیدھا اوپر پہنچا دوں گا!!!۔۔ “

مشائم کی گردن پر گرفت سخت کر کے وہ اسے وارن کرتا بولا۔۔

گلے پر تنگ ہوتی گرفت سے وہ بےساختہ کھانسنے لگی تھی۔۔ وہ خود کو اسکی گرفت سے چھڑانے کی کوشش میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔

صالح نے آنکھیں سختی سے میچیں۔۔ اتنے میں ماہ بیر بھی وہاں پہنچ گیا۔۔

اس نے دروازے سے باہر نکلتے سر تھامے اورهان کو دیکھا جس کے ساتھ باہر آتی ارشما منہ پر ہاتھ رکھےروتی ہوئی مشائم کو دیکھ رہی تھی۔۔ رانا پیچھے پہاڑی راستے پر چڑھنے لگا تھا۔۔ جونہی وہ مشائم کو بازو سے گھسیٹتا بھاگا صالح اور ماہ بیر پھرتی سے اس کے پیچھے دوڑے۔۔ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچتے وہ ہانپتے ہوئے کچھ فاصلے پر آمنے سامنے کھڑے تھے۔۔

ان کے پیچھے کھائی تھی جبکہ دو جانب دریا اور ایک طرف خطرناک پتھریلا راستہ تھا۔۔

ماہ بیر نے دماغ کے گھوڑے دوڑائے۔۔

“کیوں کررہے ہو ایسا تمہاری لڑائی ہم سے ہے مرد بنو بےغیرت نہیں!!!۔۔”

ماہ بیر کے درشتگی سے کہنے پر رانا قہقہہ لگا گیا۔۔ پھر خونخوار نظروں سے وہ ان دونوں کو دیکھتا داڑھا۔۔

” آج میں کسی بات میں نہیں آؤں گا۔۔ نہیں بخشوں گا میں ۔۔ کوئی رحم، ترس نہیں کھاؤں گا جس طرح میرے بھائی پر رحم نہیں کھایا تم نے!!!

وہ حلق کے بل چلایا۔۔ اس کی آواز دور دور تک گونجی تھی۔۔ ماہ بیر نے چونک کر صالح کو دیکھا جو ضبط کی آخری حد پر تھا۔۔

کونسا بھائی؟؟

ماہ بیر کا کہنا ہی تھا کہ اس نے مشائم کو جھٹکے سے پاس کرتے اس کی شاہ رگ پر پسٹ**ل کی نوک رکھی۔۔

“وہی بھائی جسے اپنے تخت نشین ہونے کے دن تم لوگوں نے ما**ر دیا تھا۔۔ آج بلکل ویسے ہی میں تیری بہن اور اسکی بیوی کو مار**وں گا۔۔”

ماہ بیر کو نفرت سے دیکھتے اس نے صالح کی جانب اشارہ کیا۔۔

صالح ضبط کی تمام حدیں پھلانگتا بغیر سوچے سمجھے مشی کو روتے دیکھ کر اس کی جانب بڑھا۔۔

اس کی مشائم کو وہ شخص کب سے رلا رہا تھا صالح یوسف کو کب یہ گوارا تھا۔۔

لمحوں کا کھیل تھا۔۔

کسی نے تو جانا تھا نہ۔۔

کسی کی خاطر۔۔

رانا نے لمحے کے ہزارویں حصے میں مشائم کو دور دهكیلا۔۔

صالح کی طرف پسٹ***ل کا رخ کرتے وہ فا**ئر کرتا گیا۔۔

اپنا انتقام لے کر وہ پہاڑ سے کود گیا۔۔

تیز گرم سلاخیں اسے خود میں گھستی محسوس ہوئیں جو اس کا اندر چیڑ گئی تھیں۔۔

اس نے بےيقینی سے سر جھکا کر سینے سے بھل بھل گرتے سرخ مادے کو دیکھا۔۔

گاڑھا سرخ مادہ!!

اس نے سر گھما کر دیکھا۔۔ مشائم دیوانوں کی طرح چیختی بھاگتی اس کی جانب آ رہی تھی۔۔ کوئی کرب زدہ آواز سے چیختا اسے بلا رہا تھا۔۔ یہ آواز اس نے سن رکھی تھی۔۔

ہاں اس آواز کو تو وہ جانتا تھا۔۔ اس کے سائیں کی آواز تھی وہ۔۔

اس نے سانس لینے کی کوشش کی۔۔

دقت سی دقت تھی ۔۔

منہ سے گرتے خو**ن کو دیکھتا وہ پورے قد سے زمین بوس ہوا تھا۔۔

سینے سے گرتا خو**ن زمین پر بہتا تالاب بنانے لگا تھا۔۔

اس نے سر گھما کر زمین پر جمع ہوتے خو**ن کو دیکھا۔۔

مشائم کانپتے لبوں سے اس کا نام پکارتی اس کا سر گود میں رکھتی اس کے گال پر ہاتھ رکھ گئی۔۔

“یوسف کچھ نہیں ہوگا آپ کو ۔۔ میری سانسیں چل رہی ہیں ۔۔ تو آپ کو کیسے کچھ ہو سکتا ہے!!!”

صالح نے آخری نظر اس کے چہرے پر ڈالی۔۔

یہ وہ عورت تھی جس سے اس نے بےحد محبت کی تھی۔۔

مشائم کے چہرے کو دیکھتے وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔ یہ مسکراہٹ بس اس دیوانی کے لیے ہی تو تھی۔۔

ایک آخری سانس لیتے اس نے ہچکی لی۔۔

آنکھوں میں زندگی کی حرات باقی نہ رہی۔۔۔ وجود مٹی ہوگیا تھا۔۔

بس خاک!!!

مشائم خوف سے آنکھیں کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔۔

اس کی گود میں وہ شخص اس کی آنکھوں کے سامنے دم توڑ چکا تھا جسے اس نے خدا کے بعد سب سے زیادہ چاہا تھا۔۔

جس کے عشق میں وہ اپنی ہستی بھلا بیٹھی تھی۔۔

“یوسف؟؟”

اس کے کان کے پاس جھکتی وہ سرگوشی میں بولی۔۔

“میں بلا رہی ہوں اٹھ جائیں نہ ۔۔ مجھے تنگ کررہے ہیں نہ!!!”

اس کے سرخ سینے پر اپنا دوپٹہ رکھتی وہ اس کے سر کے نیچے ہاتھ رکھ کر بلند کرتی خود سے لگا گئی۔۔۔

میرا بچہ!!!

“میں آپ کو کبھی خود سے دور نہیں جانے دوں گی۔۔ آپ نے ابھی تو مجھے بہت پیار کرنا تھا۔۔ آپ ۔۔۔۔”

وہ اس کے بال سہلاتی آنکھیں موند گئی۔۔۔

کئی آنسو ٹوٹ کر گرے تھے۔۔

ارشما اور اورهان سست قدموں سے چلتے ماہ بیر کے پاس آ کر کھڑے ہوئے جو گھٹنوں کے بل گرا منہ پر ہاتھ رکھے بلک رہا تھا۔۔

جیسے ہی ارشما کی نظر صالح کے خو**ن سے لت پت وجود پر پڑی اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔۔

منہ پر ہاتھ رکھتی وہ بلک بلک کر روتی ہوئی آگے گئی اور مشائم کو اٹھاتی اسے گلے سے لگا گئی۔۔

اورهان نے ماہ بیر کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ سرخ نم آنکھوں سے اسے دیکھتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔

چند سال بعد ۔۔۔۔۔

ارشی بیٹا مما کی بات مانتے ہیں نہ؟؟

اپنی آفت کی پرکالہ کو دیکھ کر اینارا نے دانت پیسے جو ہاتھ میں پینٹ برش پكڑے اسے صاف ستھری دیوار پر ملنے کی تیاری کررہی تھی۔۔

ٹاپ جینز میں ملبوس چار سالہ ارشیہ نے ناک سکیڑ کر اسے دیکھا۔۔

“نو!!!”

ٹکا سا جواب دے کر وہ زبان باہر نکالتی دیوار کے پاس آئی۔۔

اینارا نے غصے سے اسے گھورا اور تن فن کرتی اس سے برش کھینچ کر کمر پر ہاتھ ٹکا کر کھڑی ہوگئی۔۔۔

“منع کیا ہے نہ میں نے اگر اب تم نے دیوار گندی کرنے کی کوشش کی تو میں زور سے پٹائی کروں گی تمہاری!!!۔۔۔”

اس کے غصے سے بولنے پر ارشیہ نے ہونٹ باہر نکالے۔۔

چند سیکنڈ اپنی کھڑوس مما کو دیکھ کر اس نے زور و شور سے رونا شروع کر دیا۔۔

“ارے ارے میری بیٹی کو کیوں رلا رہی ہیں آپ!!!۔۔۔”

اورهان کو دیکھ کر ارشیہ جلدی سے اس کی طرف بھاگی تو اس نے اسے اوپر اٹھا لیا اور اس کے دونوں گال چوم کر خود سے لپٹا لیا۔۔

ارشیہ نے اس کی گردن کے گرد ننھے بازو حائل کر لیے اور اس کے كندھے پر سر ٹکا گئی۔۔ اورهان نے اس کا سر چوما۔۔

“آپ کی ہی بیٹی ہے یہ میری کہاں ہے؟ میں کچھ بھی کہہ لوں مجال ہے جو بات مان لے میری!!!”

خفگی سے کہہ کر وہ جانے لگی۔۔

اورهان نے آگے بڑھ کر نرمی سے اس کا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگایا۔۔

“کیوں اپنی نازک جان ہلکان کرتی ہیں؟ بچی ہے آہستہ آہستہ سمجھ جائے گی!!!”

اس کے بالوں کو نرمی سے سنوارتا وہ اسے مسکرانے پر مجبور کر گیا۔۔

اچھا چلیں فریش ہوجائیں میں کھانا لگاتی ہوں!!!۔۔۔۔

لکلی کی گالی ۔۔۔ گالی میں گولا۔۔۔۔ اوہ ہو!!!

(لكڑی کی گاڑی،، گاڑی میں گھوڑا)

سر پر بڑا سا دوپٹہ ڈالے وہ پتلی سی توتلی آواز میں بولتی لاؤنج میں رکھے فون سٹینڈ کے پاس آئی۔۔

اس کا دوپٹہ پیچھے زمین پر پھیلا جھاڑو کا کام کررہا تھا۔۔

اوفو!!!

اس کا ننھا سا پیر دوپٹے میں اٹکا تو وہ جھجھلائی۔۔

فون پکڑ کر اس نے پہلا نمبر ملا دیا اور دوسری جانب سے کال اٹھائے جانے کا انتظار کرنے لگی۔۔

سپیکر سے سنجیدہ آواز گونجی تو وہ بےاختیار خوش ہوئی۔۔

ہیلو اب۔۔را۔۔ ہیم!!!

اس نے توڑ توڑ کر آرام سر اس کا نام لیا کیونکہ غلط نام لینے پر وہ کئی بار اسے ڈانٹ چکا تھا۔۔ چار سالہ زنیشہ ، اپنے سے چند ماہ بڑے ابراہیم یوسف کی ہر بات ماننا اپنا فرض سمجھتی تھی۔۔ “میں نے ادل آنا پھپھو پاش تم لے دو!!!”

(میں نے ادھر آنا پھپھو پاس تم لے جاؤ)

دوسری جانب سے سنجیدگی سے کچھ کہا گیا جس پر وہ منہ بنا گئی۔۔

“بابا نہیں لاتے ۔۔

وہ مما تو پالی کل لئے!!!۔۔”

زنیشہ؟؟؟۔۔۔ اسکی بات سن ارشما نے سرخ چہرے سے اسے دیکھتے فون پکڑ کر کریڈل پر رکھ دیا۔۔

“چلو کمرے میں یہ کیا حلیہ بنایا ہے اور مما کو بتائے بغیر آیندہ کسی کو فون نہیں کرو گی اوکے؟؟”

اسے سرزنش کرتی وہ اسے گود میں اٹھاتی کمرے کی طرف بڑھی۔۔

“اوکے مما دی (جی) !!! “

وہ توتلی زبان میں بولی تو ارشما نے زور سے اسکا گال چوم لیا۔۔

بابا کے پاس بیٹھو !!!

بیڈ پر نیم دراز ماہ بیر کو تھما کر وہ کام کاج میں لگ گئی۔۔

“بابا کی جان کیا کررہی تھی؟؟”

وہ اس کی طرف متوجہ ہوتا اس کی روداد سننے لگا۔۔

موبائل کی سکرین آن ہونے پر اس کی نظر وال پیپر پر لگی صالح کی تصویر پر پڑی۔۔

ایک اداس مسکان نے اس کے چہرے پر بسیرا کیا تھا۔۔

ماما آپ یہاں کیوں بیٹھی ہیں؟؟

صحن میں اسے گم صم آسمان پر چمکتے چاند کو تکتے دیکھ کر وہ آہستہ سے اس کے برابر آ بیٹھا۔۔

مشائم نے نظریں گھما اداس نظروں سے اسے دیکھا۔۔

سیاہ شلوار قمیض میں بازو کہنیوں تک موڑے مستقل بل زدہ پیشانی میں وہ ہوبہو صالح کی طرح دکھتا تھا۔۔

ویسے ہی مغرور نقوش اور نخرہ۔۔۔

مشائم نے اس کے چہرے پر ہاتھ رکھتے اس کی پیشانی چومی۔۔

ماما آپ مون میں کس کو دیکھتی رہتی ہیں؟؟ وہ ننھے ہاتھ چہرے کے گرد ٹکاتا معصومیت سے آسمان کو دیکھنے لگا جہاں تاریکی میں تاروں کے جھرمٹ میں چاند چمک رہا تھا۔۔۔

“آپ کے بابا کو دیکھتی ہوں مون میں!!! ” اس کی آنکھوں میں نمی چمکی۔۔

“وہ تو بہت دور ہیں نہ ہم سے؟؟

گردن موڑ کر سیاہ آنکھوں میں اداسی سموئے وہ یک ٹک اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔۔

مشائم نے سر ہلایا۔۔

“نہیں وہ ہمارے بہت قریب ہیں ہمارے دل میں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے!!!۔۔۔”

اداس مسکراہٹ سے اسے دیکھتی وہ نرمی سے بولی۔۔

“جاؤ شاباش سو جاؤ صبح سکول جانا ہے!!!۔۔۔”

ابراہیم سر ہلا کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔

“گڈ نائٹ ماما!!!۔۔۔”

اس کا سر چوم کر وہ اندر جانے کے لیے پلٹ گیا۔۔

مشائم نے ڈبڈبائی نظروں سے اس کی پشت کو دیکھا۔۔

ہو بہو صالح کی طرح وہ ہر رات اس کی پیشانی پر بوسہ دے کر سوتا تھا۔۔

اس کے کمرے میں غائب ہونے کے بعد وہ تصور کی آنکھ سے چاند کے ہالے میں اس کا چہرہ چمکتا دیکھنے لگی تھی۔۔

(“یہ بال ہٹائیں چہرے سے!!!۔۔۔ آپ کے ہونٹوں کو چھوتی یہ لٹیں مجھے اپنی رقیب لگ رہی ہیں۔۔!!!”)

(میرا ایمان خراب کررہی ہیں آپ!!!”)

(کیوں محبت کرتی ہیں مجھ سے اتنی؟؟)

(“آپ تو مجھے پاگل کررہی ہیں۔۔!!!”)

وہ سراپا محبت تھا جس کو ٹوٹ کر چاہنے کو جی چاہتا تھا۔۔ اس کی محبت بھری سرگوشیاں آج بھی اس کے کانوں میں گونجا کرتی تھیں۔۔ اس کے عشق میں دیوانی وہ عشق نگر کی لمبی نا ختم ہونے والی راہوں پر چلتی وہ بہت دور نکل آئی تھی۔۔ اس کا محبت بھرا احساس محسوس کرتی وہ نم آنکھوں سے مسکرائی تھی۔۔ یوں لگا تھا جیسے وہ اس کے آس پاس ہو۔۔ اس کی سانسوں میں رچا۔۔ اس کی دھڑکنوں میں دھڑکتا۔۔ اس کے قریب۔۔ بے حد قریب!!!