Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 7

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan

مشائم کو ساتھ لے کر وہ اس مقام پر آ گیا جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا اس نے بائیک روکی تو مشائم ڈرتی ڈرتی بائیک سے اتر گئی۔۔۔

“آپ جا کر جیپ میں بیٹھیں میں آتا ہوں۔۔” اس کی ہدایت پر وہ جا کر جیپ میں بیٹھ گئی۔۔

صالح بائیک کو چھوڑ کر کچھ دور جا کر جائزہ لینے لگا۔۔ جبار کی گاڑی وہاں نہیں کھڑی تھی۔۔ وہ کچھ سوچتا جیپ میں آ بیٹھا۔۔ اس نے گردن موڑ کر پیچھے بیٹھی مشائم کو دیکھا۔۔

“بی بی آ گے کر بیٹھیں آپ کا کچھ پتہ بھی نہیں چلنا کہیں پیچھے سے ہی غائب نہ ہوجائیں۔۔”

اس کی بات پر وہ تیکھی نظروں سے اسے دیکھتی دروازہ کھول کر اگلی سیٹ پر آ بیٹھی۔۔ کچھ ہی دیر میں وہ حویلی پہنچ گئے۔۔ وه بھاگتی ہوئی اندر چلی گئی۔۔

اس کے جانے کے بعد صالح نے اپنے دکھتے سر پر ہاتھ رکھا۔۔ ہاتھ لگنے سے زخم سے ٹیسیں اٹھیں تو وہ لب بھینچ گیا۔۔ وه اندر آیا تو وہ ماہ بیر کے سینے سے لگی رو رہی تھی۔۔۔

اس کے رونے کی آواز سن کر لللہ عارفہ بھی کمرے سے نکل آئیں۔۔ صالح کو سامنے کھڑا دیکھ کر انہوں نے دوپٹے سے اپنے چہرے کو ڈھکا تھا۔۔

کیا ہوا ماہ بیر میری بچی ایسے کیوں رو رہی ہے؟ وه فکر مندی سے کہتی ہے آگے آئیں تو مشائم روتی ہوئی وہ ان سے لپٹ گئی۔۔

“میرے سامنے مار دیا مر گئی وه ۔۔ بہت خون تھا وہاں۔۔” وه پھر سے وه سب یاد کرتی خوف سے روتی انہیں بتانے لگی۔۔

ماہ بیر کے اشارے پر وہ روتی ہوئی مشائم کو اندر لے گئیں۔۔ ان کے جانے کے بعد صالح کھنکارہ۔۔

سائیں میں۔۔۔۔۔ اسنے کچھ کہنا چاہا کہ ماہ بیر آگے آتا اسے گلے سے لگا گیا۔۔۔ “شکریہ یار!! آج تم نے مجھے اپنا قرض دار کر لیا ہے۔۔” وه اسکا کاندها تهپتهپا کر پیچھے ہٹا۔۔۔

“سائیں کیسی باتیں کرتے ہیں یہ میرا فرض تھا۔۔” اس کے شکایتی انداز میں دیکھنے پر وه دھیما سا ہنس دیا۔۔۔

تم ٹھیک ہو؟ وه خیال آنے پر فکرمندی سے بولا۔۔

جی سائیں میں ٹھیک ہوں!! وه سر پر لگی چوٹ کو قصداً چھپا گیا۔۔ “جبار کو گولی لگی تھی۔۔۔ آپ کو کیسے پتہ چلا؟”

اچانک خیال آنے پر وہ پوچھ بیٹھا ۔۔

جبار نے مجھے فون پر اطلاع دی تھی۔۔ وہ ہسپتال میں ہے ٹھیک ہے تم فکر مت کرو ۔۔۔ ان لوگوں کا کیا بنا جنہوں نے ہماری عزت پر ہاتھ ڈالنے کی ہمّت کی ؟ اس کی سرمئی آنکھیں پل میں سرد ہوئیں۔۔

سائیں وہ اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں۔۔۔ اس نے من و عن سارا واقعہ تفصیل سے کہہ دیا۔۔۔

ماہ بیر نے محض سر ہلایا۔۔ “ٹھیک ہے تم جاؤ آرام کرو ۔۔” وہ اس کے ملگجے گرد سے اٹے کپڑوں کو دیکھ کر بولا۔۔

“چلتا ہوں ” وه سلام کر کے وہاں سے چلا آیا۔۔ اس کا سر بہت درد کررہا تھا وه خود بھی کچھ دیر آرام چاہتا تھا۔۔۔

گھر آکر اس نے اندر جھانکا تو انجم چار پائی پر بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھیں۔۔ اسے آتے دیکھ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔

کدھر تھا تو میرا دل بہت گھبرا رہا تھا ۔۔ یہ کیا حلیہ بنایا ہوا ہے تو چپ کیوں ہے بولتا کیوں نہیں ؟

اسے خاموشی سے چارپائی پر بیٹھے دیکھ کر وه فکر مندی سے اس کے پاس بیٹھیں۔۔

اماں ٹھیک ہوں میں آپ پریشان نہ ہوں ۔۔ اس نے دکھتے سر کو دبایا ۔۔

کیا ہوا تیرا سر درد کر رہا ہے ؟

وہ جواب دینے کی بجائے خاموشی سے ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا۔۔

انجم نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔۔ وہ چونکیں۔۔ انہوں نے غور سے دیکھا تو اس کے سر پر زخم تھا جس پر لگا خون جم چکا تھا۔۔

یہ چوٹ کیسے آئی تجھے؟ کیا کرتا پھرتا ہے ماں کی ذرا پروا نہیں تجھے؟ وہ اس کا سر اپنی گود سے ہٹا کر روتی ہوئی اٹھیں اور ایک ڈبے سے مرہم اور روئی نکال کر لے آئیں۔۔

انہیں روتے دیکھ کر صالح کو شرمندگی ہوئی۔۔ “اماں ایسے تو نہ کریں ۔۔” وه انکا ہاتھ تھام کر اپنے پاس بٹھاتا بے چارگی سے بولا۔۔

“تو کیا کروں تجھے کون سی میری پرواہ ہے سارا دن حویلی پڑا رہتا ہے۔۔ کبھی چوٹ لگوا لیتا ہے۔۔۔ ماں پر کیا بیتتی ہے تجھے کیا۔۔ تجھے تو بس اپنے شاہ سائیں کی پرواہ ہے۔۔” وہ زخم صاف کر کے مرہم لگاتے ہوئے بولیں۔۔

وہ خاموش ہوگیا۔۔ “اماں ایسی بات نہیں ہے آپ کے علاوہ میرا ہے ہی کون؟” وہ سر جھکا کر بولا تو انجم کی آنکھوں میں دکھ بھرا۔۔

اچھا تو آرام کر میں تیرے لئے ہلدی والا دودھ لاتی ہوں۔۔!!! اس کا سر چوم کر وہ باورچی خانے میں چلی گئیں۔۔

ان کے جانے کے بعد وہ چارپائی پر لیٹ کر آنکھیں موند گیا ۔۔ “مر گئی وه ۔۔۔” وه بلکتی ہوئی اس کے سینے سے لگی کہہ رہی تھی۔۔ ذہن کے پردوں پر اس کا چہرہ ابھرتے ہی وہ پٹ سے آنکھیں کھول گیا۔۔

اس نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا جو اس کے آنسوؤں سے بھیگا تھا۔۔ ذہن میں آنے والی سوچوں کو جھٹک کر وہ بے تاثر نظروں سے آسمان پر نظریں مرکوز کر گیا۔۔۔

اسے واپس آئے کچھ ہی گھنٹے ہوئے تھے۔۔۔ فریش ہو کر آرام ده لباس میں وہ اپنے بستر پر نیم دراز تھا۔۔ ابھی وہ کچھ دیر آرام کرنا چاہتا تھا۔۔ آتے ہی اس نے ارشما کے کمرے میں جھانکا تھا جو بے خبر سو رہی تھی۔۔ اس سے ملنے کا ارادہ ترک کرتے وه اپنے کمرے میں آگیا تھا۔۔

کچھ دیر بعد ایک ملازم ڈرتے ڈرتے اس کے کمرے میں داخل ہوا۔۔ کیا میں آ سکتا ہوں سر؟

ملازم کے ڈسٹرب کرنے پر اس نے تپ کر اسے دیکھا۔۔ “کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ مجھے ڈسٹرب نہیں کرنا ؟”

اس کے سرد لہجے پر ملازم کانپ گیا۔۔ “سس سر آئی ایم سوری۔۔ کوئی صاحب آپ سے ملنے آئے ہیں کہہ رہے ہیں بہت ضروری کام ہے۔۔ میں نے انہیں کہا بھی کہ صاحب اس وقت مصروف ہیں لیکن وہ کہہ رہے ہیں کہ تمہارے صاحب کے بھی کام کی بات ہے۔۔ اس لئے مجبورا مجھے آپ کو ڈسٹرب کرنا پڑا۔۔۔”

اس کی بات پر وہ کچھ سوچ کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔ “اوکے جاؤ تم میں آتا ہوں ۔۔”

کچھ دیر بعد وہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوا۔۔ اندر بیٹھا شخص اسے دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔ لمبے قد و قامت کا مالک بڑے بال۔۔ آنکھوں میں لال ڈورے ۔۔ اس کے چہرے سے خشونت ٹپک رہی تھی۔۔۔

مائی سیلف رانا اسرار خان !!! وہ آگے بڑھا تو اورہان نے بھی آگے بڑھتے ہوئے اس سے ہاتھ ملایا ۔۔

بیٹھو کیا میں تمہیں جانتا ہوں؟ وه اسے کھوجتی نظروں سے دیکھ کر بولا تو مقابل ہنس پڑا۔۔۔

جاننے میں وقت ہی کتنا لگتا ہے “میر اورہان صمید”۔۔۔ اس نے جان بوجھ کر اس کا پورا نام لیا۔۔

اورہان نے سگریٹ سلگا کر آنکھیں چھوٹی کیے اسے دیکھا۔۔ کام کی بات کرو !!

“وہ تم نے سنا تو ہوگا کہ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے ” رانا معنی خیز انداز میں بولا تو اورہان نے چونک کر دیکھا۔۔

کس دشمن کی بات کر رہے ہو؟

“سلطان ماہ بیر شاہ” مقابل نفرت سے پھنکارا ۔۔

اوہ!!؛ اسے اب سمجھ آئی تھی۔۔۔ تمہاری کیا دشمنی ہے اس سے ؟ اس نے سگریٹ رانا کی طرف بڑھاتے ہوئے پوچھا ۔۔

“کیا فرق پڑتا ہے کہ کیا دشمنی ہے ۔۔ یہاں مطلب کی بات یہ ہے کہ ہم دونوں کو دوست بن جانا چاہیے” کیونکہ ہم ایک دوسرے کے بہت کام آنے والے ہیں ۔۔۔!! وہ سگریٹ کا دھواں فضا میں چھوڑتا ہوا بولا۔۔

ہمم !! میں کیسے یقین کر لوں کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو وہ ٹھیک ہے ؟ تم اس کے کوئی آدمی بھی تو ہو سکتے ہو ۔۔۔

اورہان کی بات پر وه قہقہہ لگا گیا۔۔۔ نہ !! ماہ بیر شاہ اتنی اوچھی حرکت نہیں کرے گا۔۔ ابھی وہ مزید کچھ کہتا کہ ارشما دندناتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔۔

“بھائی مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے ” کمرے میں کسی اور کی موجودگی محسوس کرکے وہ خاموش ہوئی۔۔

رانا اسرار خان نے دلچسپی سے اسے سر تا پیر دیکھا تھا۔۔ تمہاری بہن بھی ہے ؟؟ اس نے معنی خیز انداز میں اورہان کی آنکھوں میں دیکھا جن میں سرخی چھا گئی تھی۔۔

“جاؤ یہاں سے بعد میں بات کرتا ہوں۔۔۔” وہ ارشما کو سخت نظروں سے دیکھتا وہاں سے جانے کا کہنے لگا۔۔

صورتحال کی نزاکت کو سمجھتی وہ فورا سے وہاں سے چلی گئی۔۔

ٹھیک ہے ہم بعد میں بات کریں گے۔۔ یہ میرا نمبر رکھ لو۔۔ اسے اپنا کارڈ تهما کر وه اٹھ کھڑا ہوا۔۔

“میں نے کچھ سوچ رکھا ہے۔۔۔ کچھ ایسا جو ماہ بیر شاہ کو ساری زندگی یاد رہے گا۔۔ ابھی چلتا ہوں۔۔۔” رانا نے اس سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا اور ٹیڑھی نظروں سے گھر کا جائزہ لیتا وہاں سے نکل گیا۔۔

اس کے جانے کے بعد وہ ارشما کے کمرے میں آیا جو کمرے میں ٹہلتی ہوئی اسی کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔

اورہان نے پہلے اسے گلے لگایا۔۔ کیسی ہو میری جان؟ وہ اس کا سر چوم کر بولا تو وه اس سے الگ ہو گئی۔۔۔

اسکی بات کا جواب دیے بغیر وه اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔۔ بھائی ایک بات پوچھوں سچ سچ بتائیے گا ؟

اس کے عجیب انداز پر وه چونکا۔۔۔ “تم ایسے بی ہیو کیوں کر رہی ہو ؟” وه اس کے بال سنوار کر بولا تو وہ چند قدم پیچھے ہٹی۔۔۔

آپ کیا ہیں؟ کیا آپ وہی ہیں جو آپ نظر آتے ہیں ؟ اس کی شکایتی نظروں پر وه خاموش ہوا۔۔۔

بیٹا کیا ہوا ہے مجھے پوری بات بتاؤ !! اس کے پیار بھرے انداز پر وه رو پڑی۔۔۔ کتنے دن سے جو غبار اس کے اندر جمع تھا اس نے باہر نکال دیا۔۔

“بیٹا جھوٹ بولتے ہیں سب ۔۔۔ تمہارا بھائی ایسا نہیں ہے۔۔۔” اس نے آرام سے اس کی برین واشنگ کردی۔۔ کچھ وقت تک وه اسے سمجھاتا رہا۔۔۔

ارشما نے دماغ کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے دل کی آواز سنی۔۔ میں نے آپ کو غلط سمجھا!! سوری ۔۔۔

وہ شرمندگی سے بولی۔۔

اس نے آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگا لیا۔۔ کوئی بات نہیں میرا بیٹا آپ کسی کی باتوں پر دھیان نہ دیا کرو۔۔ باہر کے لوگ ہمارے دشمن ہیں ۔۔ اوکے اب فریش ہو کر آؤ پھر مل کر لنچ کرتے ہیں ۔۔

مسکرا کر اسے کہتا ہوں وہ کمرے سے چلا گیا۔۔۔ اپنے آپ کو ہلکا محسوس کرتی وه فریش ہونے چلی گئی ۔۔

چہرے کو سیاہ نقاب سے ڈھکے وه محتاط انداز میں چلتی ہوئی پی سی او میں داخل ہوئی۔۔ ٹیلی فون کا ریسیور اٹھا کر اس نے ایک نمبر ڈائیل کیا اور دوسری جانب سے کال اٹھائے جانے کا انتظار کرنے لگی ۔۔۔

جب دوسری جانب سے کال اٹھا لی گئی تو اس کی آنکھوں کی سردمہری مزید بڑھ گئی۔۔

دوسری جانب موجود اورہان نے موبائل کان سے لگایا۔۔۔ کون بول رہا ہے ؟؟

دوسری جانب سے مسلسل خاموشی پاکر وہ کوفت سے بولا۔۔ کون ؟ اس نے پھر سے دہرایا۔۔۔

تمہاری موت !!

مقابل کی سرد آواز پر اس نے فون کان سے ہٹا کر دوبارہ دیکھا تھا۔۔

“کیا بکواس ہے یہ۔۔” وه غصے کی شدت سے گرجا تھا۔۔۔

“بکواس نہیں حقیقت ہے یہ !! بہت اڑ لئے ہوا میں ۔۔۔ اب تمہارے گناہوں کے حساب کا وقت آ گیا ہے۔۔”

مقابل کے سرد ٹھٹھرا دینے والے لہجے پر اس کی گردن میں گلٹی ابھری۔۔ کیسی نفرت کی پھنکار تھی۔۔۔

خود کو نارمل کرتے اس نے کچھ سخت کہنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا کہ دوسری جانب سے ٹھک سے ریسیور رکھ دیا گیا۔۔

دن خاموشی سے گزر رہے تھے۔۔ نومبر کا مہینہ شروع ہو چلا تھا۔۔ سرد خنک راتیں بہت سے راز اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھیں۔۔ ایسا جامد سکوت جو کسی آنے والے طوفان کا پیش خیمہ تھا۔۔

ایک ایسی ہی سرد رات میں وہ کوٹ سوٹ میں ملبوس اسلام آباد کے اپر کلاس نائٹ کلب میں داخل ہوا۔۔ حسن شباب اور شراب دیکھ کر نیلی آنکھوں کی چمک بڑھی۔۔

بار کی جانب جا کر وه ایک جدید طرز کی کرسی پر بیٹھ گیا۔۔ شراب کا گلاس پکڑ کر اس نے موبائل نکالا اور ازنا کو کال ملائی۔۔

چند سیكنڈ کے انتظار کے بعد کال ریسیو کر لی گئی۔۔ کڑوی شراب کا گھونٹ بھر کر وہ موبائل کان سے لگاتا نیم عریاں لباس میں رقص کرتی لڑکیوں کو دیکھنے لگا۔۔

کیسی ہو ؟؟ ہمم۔۔

میں ہاٹ ہمیشہ کی طرح!!

دوسری جانب خاموشی چھا گئی۔۔ وه جیسے محظوظ ہوا تھا۔۔

اچھا ڈارلنگ سنو تو۔۔۔۔ ڈارلنگ نہ کہوں؟

اوکے سویٹ ہارٹ!! دوسری جانب سے خفگی سے کچھ کہا گیا جس پر وه قہقہہ لگا گیا۔۔۔

کئی لوگوں نے مڑ کر حسن کے اس شاہکار کو دیکھا تھا۔۔۔ وه سب سے بےنیاز اس سے محو گفتگو تھا۔۔

اچھا سنو تو ہنی!! وه شرارت سے بولتا لب دبا گیا۔۔۔ اس لڑکی کو تنگ کر کے جانے کیوں لطف آتا تھا۔۔

اوكے اوکے آئی ایم سیریس ناؤ!! میں تم سے ملنا چاہتا ہوں۔۔۔

کہہ کر وه دوسری جانب سے جواب کا انتظار کرنے لگا۔۔ دوسری جانب خاموشی پا کر وه بے چین ہوا۔۔

پلیز ۔۔۔ آئی مس یو ۔۔۔ ملنا چاہتا ہوں ۔۔۔ اوکے تم سوچ لو۔۔۔ میں تمھارے جواب کا انتظار کروں گا۔۔ ا

اوکے!! لو یو ،، بائے ۔۔۔ موبائل بند کر کے اس نے استہزائیہ سر جھٹکا۔۔ شراب کا آخری گھونٹ بھر کر وه اٹھ کھڑا ہوا اور کچھ فاصلے پر رقص کرتی لڑکیوں کی جانب چلا گیا۔۔۔