Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan NovelR50479 Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 21
No Download Link
Rate this Novel
Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 21
Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan
وه دونوں خاموشی سے کھانا کھانے لگے۔۔ اس دوران وه بار بار اورهان کو ٹٹولتی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔ کھانا کھانے کے بعد بیرا میز سے ڈشز اٹھا کر لے گیا۔۔ وه خاموشی سے اسے دیکھتی اسکے بولنے کی منتظر تھی۔۔
اہم!! وه کھنکار کر اسکی طرف دیکھنے لگا۔۔ اسکی لو دیتی نظروں سے وہ خائف ہوئی تھی۔۔ I am in love with you!! Will you marry me?? وه اسکی آنکھوں میں دیکھتا دلکشی سے مسکرایا۔۔ کتنے دنوں بعد آج دل کو سب کچھ اچھا لگ رہا تھا۔۔
اینارا کی آنکھوں میں نمی چمکی۔۔ پہلے میری بہن کو جال میں پهنسایا اور اب مجھے پھنسانا چاہتے ہو میں تمہیں تمہارے ارادوں میں کبھی كامياب نہیں ہونے دوں گی!!! وه سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتی دل میں اس سے مخاطب ہوئی۔۔
کیا ہوا تم رو رہی ہو؟ وه اسکی آنکھوں میں نمی دیکھ کر پریشان ہوا۔۔
نہیں!!! میں بس سوچ رہی تھی کہ میں اس قابل کہاں ہوں۔۔ مجھے سوچنے کے لیے کچھ وقت چاہیے۔۔ اور اس سے پہلے مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے یہاں نہیں۔۔ کل!!! اس طرح بات کرتی وه اسے پر اسرار لگی۔۔
اس نے سر جھٹکا۔۔ اوکے !!! ٹیک یور ٹائم۔۔ چلیں؟؟ وه گھڑی پر وقت دیکھتا بولا تو وه اثبات میں سر ہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ اورهان نے ٹیبل پر بل رکھا اور اسے ساتھ لئے ہوٹل سے باہر نکل گیا۔۔
اوکے میں نکل رہا ہوں!!! اورهان گرے شرٹ اور بلیک پینٹ میں ملبوس نک سک سا تیار موبائل پکٹ میں ڈال کر گاڑی میں بیٹھا اور اسکی بتائی گئی لوکیشن پر پہنچا۔۔ گاڑی سے باہر نکل کر وه اچنبھے سے چاروں اوڑھ پھیلی ویرانی کو دیکھنے لگا۔۔ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر درخت تھے اور زمین پر جگہ جگہ جھاڑیاں تھی۔۔
ایسی جگہ پر ملنا؟؟ اس نے نا سمجھی سے چاروں اوڑھ دیکھا اور موبائل نکال کر اینارا کا نمبر نکالا۔۔ اس سے پہلے کہ وه نمبر ڈائل کرتا کسی نے اسکے منہ پر کپڑا ڈال دیا۔۔
اورهان نے پھرتی سے اس انجان شاخص کا ہاتھ پکڑا تو اس نے گن کو نوک اسکی کمر پر رکھی۔۔ چپ چاپ چل!!! بھاری کرخت آواز سن کر اسکے دل میں خطرے کی گھنٹی بجی۔۔ وه ہاتھ نیچے گرا کر اندازه کرنے لگا کہ وه اکیلا تھا یا اسکے ساتھ بھی کوئی تھا؟
اسکی یہ مشکل بھی آسان ہوگئی۔۔ وه تین آدمی تھے جن کی باتوں کی آواز اسکے کانوں تک پہنچی تھی۔۔ ممکن تھا تینوں کے پاس گن ہو۔۔ اس نے فلحال کوئی قدم اٹھانا مناسب نہ سمجھا۔۔ دیکھو تم لوگ جو بھی ہو مجھے جانے دو بدلے میں جتنے بھی پیسے چاہییں۔۔۔۔۔۔۔
ابھے اپنا منہ بند رکھ اور چپ چاپ چل!!! ان میں سے پہلے والا شخص داڑھا اور گن کی نوک سے دباؤ ڈال کر اسے آگے دهكیل گیا۔۔ اورهان چپ چاپ آگے چل پڑا۔۔ چند منٹ چلنے کے بعد وه اسے ایک درخت کے پاس لے آئے اور اسے دھکا دے کر نیچے بٹھا کر درخت کے تنے سے باندھنے لگے ۔۔
“یہ کیا کررہے ہو چھوڑو مجھے” وه اونچا اونچا بولتا مزاحمت کرنے لگا۔۔ گن والا شخص آگے بڑھا اور ایک زوردار گھونسا اسکے منہ پر مارا جس سے وه كراه کر رہ گیا۔۔ اسکے منہ سے کپڑا اتار!!! اسکا ساتھی سر ہلا کر آگے آیا اور کھینچ کر کپڑا اسکے منہ سے اتارا۔۔ اورهان نے پل کیں جهپکتے انہیں دیکھا۔۔
ان تینوں کے چہرے پر ماسک تھے جن سے بس انکی آنکھیں ظاہر ہورہی تھیں۔۔۔تینوں نے ہاتھ میں گن پکڑی ہوئی تھی۔۔ کون ہو تم لوگ کیوں کررہے ہو میرے ساتھ ایسا؟ وه جسم کو جھٹکے دیتا رسی کھولنے کی کوشش کرنے لگا۔۔
“تجھے بتانا ضروری نہیں سمجھتے تڑپتا رہ یہاں۔۔ کل آ کر تیرا انتظام کریں گے!!!” وہ درشتگی سے بولتا اپنے ساتھیوں کے ساتھ وہاں سے چلا گیا۔۔ پیچھے اورهان چیختا رہ گیا۔۔ اس نے بےبسی سے دور گرے موبائل کو دیکھا جو بند ہوچکا تھا۔۔
وه جسم کو زور سے ہلاتا رسی کھولنے کی کوشش کرنے لگا لیکن وه اتنی سختی سے باندھی گئی تھی کہ مسلسل ہلنے سے رسی اسے اپنے گوشت میں گھستی محسوس ہوئی۔۔ وه درد سے کراہتا سر اٹھا کر آسمان کو دیکھنے لگا جہاں ہلکا ہلکا اندھیرا ہونے لگا تھا۔۔
پرس میں پسٹل کو ایک بار پھر چیک کرتی وه سڑک پر دوڑتی گاڑیوں کو دیکھنے لگی۔۔ اس نے چند دن کی ٹریننگ کے بعد گن چلانی سیکھ لی تھی اور اس کا لائسنس بھی بنوا لیا تھا۔۔ اور یہ کام اس نے اتنی ہوشیاری سے کیا تھا کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔۔
ہاتھوں میں گلوز پہن کر اس نے رکشے والے کو رکنے کا اشارہ کیا۔۔ اسے پیسے تهما کر وه باہر نکلی۔۔ تیز تیز قدم اٹھاتی وه اپنی منزل تک آئی۔۔ بس آج کا دن اور پھر میرا انتقام پورا ہوجائے گا۔۔ اسکی آنکھوں کے سامنے عبدلمنان اور ازنا کی میت آئی۔۔
ماضی یاد کرتے اسکی آنکھیں لہو رنگ ہوئیں۔۔ اس نے بیگ پر گرفت مظبوط کی اور تیز تیز قدم اٹھاتی ایک جگہ پر آ کر رک گئی۔۔ اسے اچنبھا ہوا۔۔ اب تک تو اسے آ جانا چاہئے تھا۔۔ اس نے موبائل نکال کر اس کا نمبر ڈائل کیا تو وه بند ملا۔۔
وه کوفت سے کچھ دیر وہاں انتظار کرتی رہی۔۔ جب اندھیرا گہرا ہونے لگا تو وه شدید غضبناک ہوتی واپسی کے لیے نکل گئی۔۔
رات کی رانی اپنی گھنیری زلفیں پھیلا چکی تھی۔۔ وه خوفزدہ نظروں سے بار بار دائیں بائیں دیکھ رہا تھا۔۔ اسے اچانک سرسراہٹ محسوس ہوئی۔۔ جیسے کوئی وہاں سے گزرا ہو۔۔ خوف کی ایک سرد لہر اسکے جسم میں دوڑی۔۔ اس کی پیشانی پسینے سے نم ہوئی تھی۔۔
کک۔۔۔کون ہے؟؟ وه سوکھا حلق تر کرتے سر گھما کر پیچھے دیکھنے کی اپنی سی کوشش کرنے لگا۔۔ جواباً خاموشی چھائی رہی۔۔ چند لمحوں بعد پھر سے سرسراہٹ محسوس ہوئی۔۔ پھر اچانک ویرانے میں کسی مرد کی پرسوز آواز گونجنے لگی۔۔ وه درد بھری آواز میں کوئی گیت گا رہا تھا۔۔ وه الفاظ ایک عام انسان کی سمجھ سے باہر تھے۔۔
اورهان کا چہرہ سفید پڑ گیا۔۔ وه خوفزدہ نظروں سے ارد گرد دیکھتا زور زور سے رونے لگا۔۔ اچانک وه آواز آہستہ آہستہ دور ہوتی گئی اور پھر وہاں خاموشی چھا گئی۔۔ وه پھر سے بلکتا ہوا رسیاں کھولنے کی کوشش کرنے لگا۔۔ آہ!!! زور لگانے سے رسی اس کے گوشت میں گھس گئی تھی جس سے وه بے اختیار ہوتا درد سے کراہا۔۔
اسے آج اپنی زندگی کی تمام کوتاہیاں یاد آ رہی تھیں۔۔ موت کا خوف اس کے سر پر سوار تھا۔۔ اچانک بائیں پیر میں اسے شدید تکلیف محسوس ہوئی۔۔ اس نے اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کی کوشش کی لیکن ہاتھ کو ہاتھ سجهائی نہ دے رہا تھا۔۔ شاید کسی زہریلے کیڑے نے کاٹا تھا۔۔ آن کی آن میں اس کا سر چکرانے لگا۔۔ کچھ پلوں بعد اسکا سر ڈھلک گیا۔۔ وه بے ہوش ہو چکا تھا۔۔
شیطان نے شداد کی جب عقل گوائی۔۔۔
تو نادان نے اپنے لیے جنت بھی بنائی۔۔
جنت بن گئی تو دل میں ہوا بڑا شاد۔۔
اور دیکھنے کو اک نظر چل دیا شداد۔۔
دروازے میں وه جنت کے داخل ہوا ہنس کر۔۔۔
اک پیر ابھی باہر تھا،، اک پیر اندر۔۔۔
اتنے میں بحکمِ خدا موت آ گئی اس کو۔۔۔
وه مل گیا مٹی میں زمیں کھا گئی اس کو۔۔۔
جنت تو بنائی تھی مگر دیکھ نہ پائی۔۔۔
دم بھر میں فنا ہوگئی ظالم کی خدائی۔۔۔
(اسکی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو عجیب جگہ پر پایا۔۔ ہر طرف سفید کفن میں لپٹے لوگ چند خوفناک چہروں والی عجیب طرح کی مخلوق کے نرغے میں سیدھ میں بڑھتے جا رہے تھے۔۔ ان کے چہروں پر موت کی زردی تھی۔۔ وه آنکھیں پھاڑے چاروں اوڑھ دیکھ رہا تھا۔۔ کہ اس کے جسم پر گرم ابلتا پانی پهینكا گیا۔۔ اسے اپنی جلد پھٹتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔ وه زور زور سے چلانے لگا۔۔ وه سیاہ پیروں تک آتے چولے میں ملبوس دو آدمی تھے جن کے چہرے ڈھکے ہوئے تھے۔۔ وه بغیر اسکی چیخوں پر توجہ دیے اپنے کام میں مصروف تھے۔۔)
اسکی آنکھ جھٹکے سے کھلی۔۔ اسکا جسم کانپ رہا تھا۔۔ سورج کی کرنوں نے اسے آنکھیں چندھیانے پر مجبور کر دیا۔۔ اس کا سانس اٹکا تھا۔۔
تو ۔۔۔۔ وه سب ۔۔۔وه۔۔۔۔ سب۔۔ خواب تھا۔۔ وه بےاختیار رونے لگا۔۔ بلند آواز میں کسی بچے کی طرح۔۔ اللّه ۔۔۔۔ میں اب کبھی وه سب نہیں کروں گا۔۔۔۔ میں۔۔۔۔ وه بلکنے لگا۔۔ میں سب۔۔ سب۔۔۔چھ۔۔۔وڑ دوں گا۔۔ مجھے معاف کر دیں۔۔۔ مجھے ایک موقع دیں ۔۔ آپ تو بہت رحیم ہیں۔۔۔ مجھے معاف۔۔۔۔۔۔ وه ہچکیوں سے رونے لگا۔۔ چھ فٹ سے نكلتا وه مرد جسے اپنی جوانی اور جاہ و دولت پر غرور تھا آج پورے قد سے ڈھیتا پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔۔
“ابھے اس کو دیکھ،، لگتا ہے ایک رات میں ہی ہوا نکل گئی!!!” وه دونوں لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے آئے تو وه بھیگی آنکھوں سے انہیں دیکھنے لگا۔۔ تیسرا لڑکا آج غائب تھا۔۔
“بہت دیر سے تیری تاک میں تھا سالے بڑا خوار کیا تو نے۔۔” پہلا لڑکا گن کی نوک اس کی شاہ رگ پر رکھتا سرد لہجے میں بولا۔۔
کیوں مارنا چاہتے ہو مجھے کیا بگاڑا ہے میں نے تمہارا؟؟ اورهان نے نیلی آنکھیں مقابل کی آنکھوں میں گاڑتے ہوئے پوچھا۔۔
ابھے چپ ساری زندگی بگاڑ کر کہتا ہے کیا بگاڑا ہے تو نے ؟ بہت شدت سے انتظار کیا تھا میں نے اس پل کا۔۔ آج تجھے مجھ سے کوئی نہیں بچا سکتا!!! اس نے دو قدم پیچھے ہوتے گن لوڈ کی اور جنونی ہوتے دو گولیاں اسکے پیٹ میں مار دیں۔۔
اورهان کے منہ سے خون فوارے کی مانند نکلا تھا۔۔ “ابھے یہ کیا کِیا تُو نے اسکی ٹانگ بازو میں گولی مار دیتا چل جلدی یہاں سے ہمیں نکل جانا چاہیے فوراً ” دوسرا لڑکا گھبرا کر بائیک سٹارٹ کرنے لگا تو وه بھی جلدی سے اس کے پیچھے بیٹھ گیا۔۔ اس کے بیٹھتے ہی لڑکا فل سپیڈ سے بائیک چلاتا وہاں سے نکل گیا۔۔
اورهان نے نیم وا آنکھوں سے ان کی پشت کو دیکھا تھا۔۔ اسکی سانسیں اٹکنے لگی تھی۔۔ آخری منظر جو اس نے آنکھیں بند ہونے سے پہلے دیکھا تھا وه زمین پر پڑتا عکس تھا جو اسکی جانب بڑھ رہا تھا۔۔
اسکی آنکھ کھڑاک کی آواز سے کھلی۔۔ وه آنکھیں ملتی کسلمندی سے اٹھ بیٹھی۔۔ رات نیند پوری نہ ہوئی تھی اس لیے سر بھاری ہو رہا تھا بہت۔۔ اس نے جمائی روکتے لاپرواہ انداز میں دائیں جانب دیکھا تو اسکی آنکھیں پوری کھل گئیں۔۔
اس سے کچھ فاصلے پر وه چت لیٹا سو رہا تھا۔۔ اس کےبال پیشانی پر بکھرے ہوئے تھے جبکہ سخت تاثرات والے چہرے پر ازحد معصومیت تھی۔۔ وه یک ٹک اسے تکے گئی۔۔ ہر چیز سے بےنیاز وہ جیسے سانس بھی آہستہ آہستہ لے رہی تھی کہ کہیں دید کے اس رومانوی پل میں خلل پیدا نہ ہو۔۔
اسکی نظریں اسکی تیکھی ناک سے سفر کرتیں ہونٹوں پر اور پھر ہونٹوں کے کچھ اوپر چمکتے تل پر جم گئیں جو داڑھی کے باعث غور کرنے پر ہی نظر آتا تھا۔۔ مشائم نے سرعت سے نظروں کا زاویہ موڑا۔۔ وه بیڈ سے اتری تو چونک گئی۔۔
“میں تو صوفے پر سورہی تھی تو پھر۔۔۔۔۔۔۔؟” اسکی دھڑکنیں بےترتیب ہوئیں۔۔ چہرہ تهپتهپا کر اس نے اپنے حلیے پر نظر ڈالی۔۔ وه رات ہی سے صالح کے کپڑوں میں ملبوس تھی۔۔ اپنا سامان لینے کی غرض سے وه کمرے سے باہر نکلی تو انجم کو دیکھ کر جھجھک گئی۔۔ “آ جا میری دھی جھجھک کیوں رہی ہے اب یہ تیرا ہی گھر ہے!!!” انجم نے اسے صالح کے کپڑوں میں دیکھ کر خوشگواری سے کہا۔۔
وه ان کی جائزہ لیتی نظروں پر شدید پزل ہوئی۔۔ السلام علیکم !!! وه انگلیاں چٹخاتی ان کی قریب آئی تو انہوں نے آگے بڑھتے اسکی پیشانی چومی۔۔ “وعلیکم السلام !!! میری سونی دھی” ان کی اتنی محبت پر وه مسکرا دی۔۔
“امی جان میرا سامان کہاں رکھا ہے؟ کپڑے بدلنے تھے” وه آہستہ سے بولی۔۔ انجم تو اس کے امی جان کہنے پر صدقے واری جانے لگیں۔”یہ سامنے والے کمرے میں رکھا ہے تیرا سامان۔۔”
وه مشائم کو بتا کر ناشتہ بنانے لگیں تو وه سر ہلاتی ان کے بتائے کمرے میں آئی۔۔ اٹیچی کیس کے پاس رکتے وه پنجوں کے بل بیٹھی اور کیس کھول کر ایک جوڑا نکالا۔۔ ٹی پنک رنگ کی ٹشو کی گھٹنوں تک آتی فراک اور كیپری کا ساتھ ٹشو کا دوپٹہ تھا۔۔
وہ کھڑی ہوئی اور واپس اپنے کمرے میں آئی۔۔ جلدی سے باتھروم میں گھستی وه دس منٹ بعد فریش سی باہر آئی۔۔ وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آئی اور دوپٹہ سائیڈ پر رکھ کر تولیے سے گیلے بال خشک کرنے لگی۔۔
اس کی پیٹھ صالح کی جانب تھی اس لیے وه دیکھ نہ پائی کہ وه آنکھیں کھولتا گہری نظروں سے اسکی نازک پتلی سی کمر کو چند پل دیکھ کر کروٹ بدل گیا تھا۔۔
مشائم مگن سی كنگهی کی مدد سے بال سلجھانے لگی۔۔ اس نے کمر سے نیچے تک جاتے سلكی بھورے بال جھٹک کر کمر پر کھلے چھوڑ دیے کہ جب مکمل سوکھ جائیں گے تو انہیں باندھ لے گی۔۔ اس نے دوپٹہ کاندھے پر ڈال کر آئینے میں اپنا عکس دیکھا۔۔ سادہ دھلے ہوئے چہرے کے ساتھ ٹی پنک فراک میں کھلے بالوں کے ساتھ وه بےحد جاذب نظر لگ رہی تھی۔۔ اسکے گال نہانے کے باعث گلابی ہورہے تھے۔۔ اس نے میک اپ کی ضرورت محسوس نہ کی۔۔
آخری نظر اپنے سراپے پر ڈال کر وه کمرے سے باہر نکل آئی۔۔ انجم کو تلاشتی وه صحن میں کچھ آگے تک آئی تو وه اسے چارپائی پر بیٹھیں مل گئیں۔۔ وه بھی ادھر ہی چلی آئی۔۔ ان کے قریب بیٹھتی وه ان سے باتیں کرنے لگیں۔۔ انجم خوشی سے اس سے باتیں کرتیں اسکی بلائیں لے رہی تھیں کیونکہ وه لگ ہی اتنی پیاری رہی تھی۔۔
اچھا پتر ایک بات تو بتا رات کو دروازه مارنے کی آواز آئی تھی صالح نے غصہ تو نہیں کیا نہ تجھ پر؟؟ وه اصل بات جاننے کو بولیں تو مشائم شرمنده ہوگئی۔۔۔
“نہیں!!! وه اصل میں، میں باتھروم گئی تھی تو غلطی سے دروازه زور سے بند کر دیا” وه خوامخواہ بال کان کے پیچھے اڑستی ہوئی بولی۔۔
انجم بےحد محظوظ ہوئیں۔۔ اب آئے گا اونٹ پہاڑ کے نیچے!!! دل میں مزے سے سوچتیں وه پھر مشائم سے مخاطب ہوئیں۔۔ “پتر صالح کو اٹھا جا کر میں نے ناشتہ بنا دیا ہے ٹھنڈا ہوجائے گا”
میں اٹھاؤں؟؟ مشائم نے حلق تر کرتے کہا تو انجم ہنس پڑیں۔۔ تو اور پگلی۔۔۔ نئی تو کیا پڑوس سے کسی کو بلاؤں وه تو لٹو ہوئی پڑی ہیں صالح کے پیچھے لیکن میرا پتر ہی انہیں منہ نہیں لگاتا۔۔
وه چارپائی سے اٹھتں ہوئی کہنے لگیں۔۔ مشائم کی تیوری چڑھی۔۔ کسی اور کو منہ لگا کر تو دکھائے!!! بڑبڑا کر وه اٹھی۔۔”میں جگاتی ہوں نہ جا کر” وه اندر کمرے میں آئی اور اس کی جانب بڑھی۔۔
“اوفو یہ دوپٹہ بھی ٹک ہی نہ جائے!!!” دوپٹہ اسکے پیر میں آیا تو وه گرتے گرتے بچی۔۔ اس نے دوپٹہ اکٹھا کر کے کندھے پر ڈالا اور جھک کر اسے اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔۔ اس کے گیلے بال لہرا کر صالح کے چہرے پر گرے۔۔ وه کسمسایا۔۔
مشائم گھبرا کر پیچھے ہٹی۔۔ کہہ تو آئی ہوں اب اٹھاؤں کیسے انھیں؟ وه دانت میں ناخن چباتی کنفیوز سی کھڑی تھی۔۔ ہمت کرتی وه پھر آگے آئی اور اسے ہلانے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اسکا پیر مڑا اور وه پوری کی پوری اس پر آ گری۔۔
صالح نے جھٹکے سے آنکھیں کھولیں تو وه اسکے سینے پر گری اٹھنے کی کوشش کررہی تھی۔۔ اسکے گیلے بال صالح کا چہرے پر گرے ہوئے تھے۔۔ صالح نے بلا اراده آنکھیں موند کر گہری سانس کھینچتے انکی خوشبو سانسوں میں اتاری۔۔
پھر اس نے اپنے چہرے سے اسکے بال ہٹا کر اس کی کمر میں ہاتھ ڈالے تو مشائم اپنی جگہ فریز ہوگئی۔۔ اسکا دل زوروں سے دھڑکنے لگا تھا۔۔ اس کے سینے سے لگی وه حیا سے سرخ پڑی۔۔
صالح اسکی غیر ہوتی حالت پر دهیما سا مسکرایا۔۔ اس نے جھٹکے سے اسے کمر سے تھام کر بیڈ پر لٹایا اور خود اس پر سایہ فگن ہوتا بیڈ پر اسکے دائیں بائیں ہاتھ ٹکا کر اسکے سرخ چہرے کو دیکھنے لگا۔۔
مشائم اس افتاد پر گھبراتی جلدی سے آنکھیں میچ گئی۔۔ اسے اپنے کمر پر اس ستمگر کا لمس ابھی تک محسوس ہوتا اسے پاگل کررہا تھا۔۔ چہرے پر پڑتی اسکی سانسوں کی حدت اسے جهلسانے لگی تھی۔۔ وه جو اسکی قربت کی خواہش مند تھی اب اسکے قریب آنے پر کانپنے لگی تھی۔۔
آپ میرے قریب آنے کے بہانے ڈھونڈ رہی ہیں؟؟ وه اس کی میچیں آنکھوں اور کانپتے لبوں پر فوکس کرتے ہوئے دهیما سا بولا تو مشائم نے پٹ سے آنکھیں کھولیں۔۔ نن۔۔ نہیں وه ۔۔امی جان ۔۔۔ نے کہا تھا کہ ۔۔۔۔۔
صالح کی نظریں اپنے ہونٹوں پر مرکوز پا کر اسکی بولتی پل میں بند ہوئی۔۔ وه تھا کہ اس کے اوپر سے اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔ وه رو دینے کو ہوئی تو وه اس پر ترس کھاتا پیچھے ہٹا۔۔
اس کے ہٹتے ہی وه جلدی سے اٹھی اور دوپٹہ پکڑتی باہر جانے لگی کہ صالح کی آواز پر رکی۔۔
“آئینے میں اپنا چہرہ دیکھیں۔۔ اگر یوں باہر جائیں گی تو اماں بہت کچھ سمجھ جائیں گی!!!” آرام سے کہتا وه فریش ہونے جا چکا تھا۔۔
وه واپس کمرے میں آئی اور آئینے کے سامنے کھڑی ہوتی اپنا چہرہ دیکھنے لگی جس پر صالح یوسف کی قربت کے رنگ بکھرے ہوئے تھے۔۔ وه لجا کر آئینے کے سامنے سے ہٹ گئی اور اپنے آپ کو نارمل کرتی صالح کے باہر آنے کا انتظار کرنے لگی۔۔
