Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan NovelR50479 Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 22
No Download Link
Rate this Novel
Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 22
Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan
سیاہ بڑی سی چادر کو خود پر درست کرتی وه تیز تیز چلتی یونیورسٹی میں داخل ہوئی تھی۔۔ اس کا رخ اپنے آفس کی جانب تھا۔۔ سپاٹ چہرے کے ساتھ اس نے آفس سے چند ضروری فائلز اٹھائیں اور جس رفتار سے آئی تھی اسی رفتار سے چلتی لیکچر لینے کے لئے مطلوبہ کلاس میں آ گئی۔۔
ارشما کا قدم کلاس میں پڑا ہی تھا کہ کلاس میں سناٹا چھا گیا۔۔ سب جلدی سے اپنی جگہوں پر آ بیٹھے۔۔ اس کی موجودگی میں کسی سٹوڈنٹ کی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ وه کلاس کے ڈسپلن کو ڈسٹرب کر سکے کچھ ایسی ہی سخت مزاج کی تھی وه۔۔ ہمیشہ رہنے والے سپاٹ چہرے پر ہر احساس سے عاری سرد آنکھیں۔۔ جامد لب جو صرف ضرورت کے وقت حرکت میں آتے تھے۔۔ مومی چہرے والی چادر سے خود کو ڈھک کر رکھنے والی وه سادہ سی چھوٹی لڑکی ہر کسی پر اپنی جداگانہ شخصیت سے گہرا اثر چھوڑ جاتی تھی۔۔ بغیر کسی پر نظر ڈالے وه ڈائس کی جانب بڑھ گئی۔۔
اپنی فائلز رجسٹر اور پین ڈائس پر رکھ کر اس نے سر اٹھایا۔۔ ہر احساس سے عاری شہد رنگ آنکھوں نے کلاس پر ایک طائرانہ نظر ڈالی۔۔ سٹوڈنٹس خاموش بیٹھے اس کے بولنے کے منتظر تھے۔۔ اچانک کلاس میں کسی نے ہلکی سی سرگوشی کی۔۔ چادر میں چھپی پیشانی پر بل پڑے۔۔
“آؤٹ!!”
اس نے سرخ و سپید ہاتھ کی شہادت کی انگلی اٹھا کر ایک لڑکی کو باہر نکلنے کا اشارہ کیا۔۔ وه لڑکی شرمنده سی اٹھ کھڑی ہوئی۔
Anyone else who can’t maintain discipline in my class can go out!! ( اور کوئی جو میری کلاس میں ڈسپلن برقرار نہیں رکھ سکتا وه باہر جا سکتا ہے)
وه درشتگی سے پوری کلاس پر ایک نظر ڈال کر بولی۔۔
یہ کیا کہہ رہی ہے؟؟ ماہ بیر نے اپنے ساتھ بیٹھے صالح سے بےنیازی سے کہا۔۔
“معلوم نہیں!!” وه لا علمی سے شانے اچکا گیا۔۔
یو بوتھ !! تیز سرد آواز پر دونوں نے ڈائس کے پیچھے کھڑی اس دھان پان سی لڑکی کو دیکھا جو ان کو تھوڑی تھوڑی اپنی ٹیچر لگ رہی تھی کیونکہ اس کی عمر اور قد کاٹھ سے وه ایک سٹوڈنٹ ہی لگ رہی تھی۔۔ اس لئے وه کنفیوز تھے۔۔ اپنے آپ کو اسکی نظروں کے حصار میں پا کر دونوں میں نظروں کا تبادلہ ہوا۔۔
“آپ دونوں سے بات کررہی ہوں میں کھڑے ہوں” ارشما کو اندازه ہوا تھا کہ وه اسکی بات نہیں سمجھ رہے اس لئے اس نے اس بار اردو میں انہیں مخاطب کیا ۔۔ وه دونوں ایک ساتھ کھڑے ہوگئے۔۔ بلیک شرٹ بلو جینز میں پیروں میں بلیک ہی جوگرز۔۔ بازو کہنیوں تک مڑے۔۔ کسرتی جسم۔۔ دونوں ہی بے حد وجیہہ۔۔ سنجیدہ چہروں پر گهنی داڑھی مونچھیں۔۔ وه واضح طور پر باقی سٹوڈنٹس سے عمر میں بڑے تھے۔۔ دونوں نے پشت پر ہاتھ باندھ لئے اور ڈائس کی طرف دیکھتے اس کے بولنے کے منتظر تھے۔۔
لڑکیاں تو لڑکیاں، لڑکے بھی منہ کھولے دونوں کو دیکھ رہے تھے۔۔ اتنے ہینڈسم لڑکے انکی کلاس میں تھے اور انہیں خبر ہی نہیں ہوئی۔۔
آپ میری کلاس میں کیا کررہے ہیں؟؟ وه ماتھے پر بل ڈالے بولی۔۔ “یہ تو تمہاری بہن لگتی ہے” ماہ بیر نے اپنے ساتھ کھڑے صالح سے ہلکی آواز میں کہا۔۔ اس کا اشارہ ٹیچر کی پیشانی پر پڑے بلوں کی جانب تھا۔۔
اہمم !! وه کھنکارہ۔۔ “ہم آپ کے نئے سٹوڈنٹس ہیں۔۔ ” صالح نے سنجیدگی سے کہا۔۔ اب اتنی انگلش تو آتی ہی تھی ۔۔ لڑکیوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ابھی اٹھ کر ان کے ساتھ بیٹھ جاتیں۔۔ جبکہ لڑکے اب ان سے جیلسی محسوس کررہے تھے۔۔ اتنے حسین لڑکوں کے ہوتے اب کون سی لڑکی انہیں گھاس ڈالے گی۔۔
لیٹ می چیک!! وه سر ہلا کر رجسٹر میں سٹوڈنٹس کی لسٹ دیکھنے لگی جہاں دو ناموں کا اضافہ ہو چکا تھا۔۔ ساتھ ایک نوٹ رکھا تھا جس میں پرنسپل کی طرف سے دونوں سے نرم رویہ رکھنے اور ان پر خاص توجہ دینے کا آرڈر تھا۔۔ اس نے ایک نظر نوٹ پر ڈالی اور پھر سر اٹھایا۔۔
بیٹھ جائیں۔۔ میری کلاس میں یہ رول ہے کہ کوئی بھی فضول بات نہیں ہوگی۔۔ بس کام ہوگا۔۔ جو اس رول کو فولو نہیں کرتا وه پھر میری کلاس کا حصہ نہیں رہتا۔۔ آج کی مثال دیکھ چکے ہوں گے آپ۔۔!! وہ فائل سے چند پرنٹڈ پیپرز نکالتی ہوئی سپاٹ لہجے میں بولی۔۔
کلاس چیئرز ارینج کریں۔۔۔۔
get up you all have five minutes..
وه کویسچن شیٹس ایک لڑکی کی طرف بڑھا کر
ڈائس کے پاس رکھی چیئر پر بیٹھ گئی۔۔ آپ دونوں نوٹ بكس لے کر آئیں!! ساتھ ہی ان دونوں کو حکم دیتی وه جلدی سے سادہ کاغذ پر پین چلاتی آج کی رپورٹ تیار کرنے لگی۔۔
وه دونوں کل ہی کراچی پہنچے تھے اور یہاں ماہ بیر کے لگزری فلیٹ میں رہ رہے تھے۔۔ صالح اب شادی شدہ تھا وقت اور حالات بدل گئے تھے اس لیے ماہ بیر نے چاہا کہ وه اکیلا چلا جائے لیکن صالح نے اسے مطمئن کر دیا کہ وه آتا جاتا رہے گا۔۔ اب تو وه خود بھی اپنے گھر سے دور جانا چاہتا تھا۔۔ شادی کے دوسرے دن ہی اس کے جانے کا سن کر مشائم بے تہاشہ روئی تھی۔۔ اسے محسوس ہوا تھا کہ وه اسکی وجہ سے جارہا ہے جبکہ اسکے جانے کا فیصلہ تو پہلے سے طے پا چکا تھا۔۔
انجم نے اسے پیار سے بہت سمجھایا۔۔ اس دوران عارفہ بھی اس سے ملنے آئی تھیں۔۔ بہت مشکل سے اس نے اپنے آپ احساسات کو چھپایا تھا۔۔ وہ اب اپنی وجہ سے کسی کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔ مگر اسکے جانے کے بعد وه اس سے سخت خفا تھی۔۔
وه جب سے واپس آئی تھی عجیب مخمصے میں پھنسی ہوئی تھی۔۔ اورهان یہاں بھی نہیں تھا۔۔ اگر وه یہاں نہیں تھا اسکی بتائی گئی لوکیشن پر بھی نہیں تھا تو وه اچانک کہاں غائب ہوگیا تھا۔ اینارا نے باتوں باتوں میں رشید کو ٹٹولا تو اس نے لاپرواہی سے کہا کہ یہ صاحب لوگ اپنی مرضی کے مالک ہوتے ہیں کب آتے ہیں کب جاتے ہیں کچھ پتہ نہیں چلتا اپنے کو کام سے اور پیسے سے مطلب ہے۔۔
اینارا جواباً خاموش رہی تھی۔۔ اس نے سوچا کہ ایک دو دن مزید انتظار کر لیتی ہے لیکن اسے انتظار کی زحمت نہیں اٹھانی پڑی۔۔ ہیڈ سرونٹ هانپتا ہوا اندر آیا تھا۔۔
ٹی وی لگاؤ جلدی۔۔ نیوز چینل دیکھو!!! اسکا لہجہ چغلی کھا رہا تھا کہ ضرور کوئی انہونی ہوئی ہے۔۔ اینارا نے جلدی سے ٹی وی آن کیا۔۔ نیوز چینل پر جو خبر انہیں سننے کو ملی اس نے انہیں شاک میں مبتلا کر دیا۔۔
نیوز رپورٹر چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ شہر کی جانی مانی شخصیت “میر اورهان صمید” کی اچانک موت نے سب کو گہرے شاک میں مبتلا کر دیا ہے۔۔ ان کی لاش جس حالت میں پائی گئی ہے اس سے انہیں پہچاننا ممکن نہیں تھا۔۔ ان کے پاس موجود آئی ڈی کارڈ سے ان کی شناخت کی گئی ہے۔۔ پولیس کا عملہ حرکت میں آ چکا ہے۔۔ مزید اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے چینل کے ساتھ جڑے رہیں۔۔
اینارا کا دماغ بھک سے اڑا تھا۔۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔ کس نے کیا یہ؟ میں نے تو۔۔۔۔۔ وه الجھی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔۔
ملازموں میں بےچینی کی لہر دوڑ گئی۔۔ ہر کوئی شاک میں تھا۔۔ ہیڈ سرونٹ جو اورهان کا خاص آدمی بھی تھا اس نے سب ملازموں کو چھٹی دے دی۔۔ کسی بھی وقت پولیس تفتیش کے لیے آ سکتی تھی۔۔ وه ان بیچاروں کو ان معاملات میں نہیں گهسیٹنا چاہتا تھا۔۔ اس نے سب کے جانے کے بعد گھر کو لاک کر دیا۔۔ اس کے نمبر پر کسی کی کال آنے لگی تھی۔۔ وه کال اٹھاتا جلدی سے وہاں سے نکل گیا۔۔
اینارا رشید کے ساتھ واپس گاؤں آ گئی تھی۔۔ اب اس کا وہاں کیا کام تھا۔۔ وه دروازه کھول کر بیگ پکڑے اندر داخل ہوئی۔۔ شائستہ اسے دیکھتے ہی سب چھوڑ چھاڑ کر لپٹ گئیں۔۔
کیسی ہے میری بچی؟؟ وه اسکا منہ چوم کر بولیں۔۔
“ویسی ہی ہوں اماں جیسی یہاں سے گئی تھی ۔۔ مجھے بھوک لگ رہی ہے کھانا لگا دیں میں نہا کر آتی ہوں۔۔” وه تھکان زدہ لہجے میں بولی۔۔
ہاں ابھی لاتی ہیں تو آرام سے تازہ دم ہو جا۔۔!! وه اسکا بیگ اندر کمرے میں چھوڑ آئیں اور پھر باورچی خانے میں چلی گئیں۔۔
کچھ دیر بعد کھانا کھاتے ہوئے اینارا نے انہیں دیکھا۔۔ اماں؟؟ اس کی پکار پر شائستہ اسکی طرف متوجہ ہوئیں۔۔
وه مر گیا ہے،، کسی اور نے اسکی جان لے لی!!! وه گہری سنجیدگی سے بولی تو شائستہ چونکیں۔۔ پھر ان کے چہرے پر ناگواری چھا گئی۔۔
اچھا ہوا!!! وه بےتاثر چہرے سے کہہ کر وہاں سے چلی گئیں۔۔ ان کے جانے کا بعد اس نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا۔۔ اس نے برتن اٹھا کر کچن میں رکھے اور واک کرنے کی نیت سے چھت پر چلی آئی۔۔
گہری شام میں اس کے اندر کی اداسیاں باہر آنے لگی تھیں۔۔اب تو ہو چکا تھا جیسا وه چاہتی تھی۔۔ لیکن پھر بھی کچھ ٹھیک نہیں ہوا تھا۔۔ اسکے مرجانے سے عبدلمنان اور ازنا واپس نہیں آ گئے تھے۔۔
انتقام کی آگ سرد پڑی تو پھر سے پرانے غم جاگنے لگے تھے۔۔ وه دیوار سے کمر ٹکا کر آنکھیں موند گئی۔۔ ایک آنسو لڑھکتا ہوا گال پر آیا اور پھر نیچے گر گیا۔۔ کیا یہی زندگی ہے؟ وه تلخی سے سوچنے لگی۔۔
ارشما گھبرائی ہوئی گھر آئی تھی۔۔ آج اپنے آفس میں پڑے اخبار پر جو خبر اس نے دیکھی تھی اس نے اسے شدید دهچکا پہنچایا تھا۔۔وه روتی ہوئی گھر آئی تھی ۔۔ اسکی حالت دیکھ کر بی جان کے ہاتھ پیر پھول گئے۔۔
جو بھی تھا جیسا بھی تھا وه بھائی تھا اس کا۔۔ اس کے جانے کی خبر سن کر وه تڑپ تڑپ کر روئی تھی۔۔ کچھ رشتے پاس نہ بھی ہوں تو محض ان کے ہونے کا احساس بھی کافی ہوتا ہے۔۔ آج یہ احساس بھی اس سے چھن گیا تھا۔۔
بی جان کے بار بار پوچھنے پر اس نے روتے ہوئے انہیں بتا دیا تھا ۔۔ وه بھی آبدیده ہوگئی تھیں۔۔
“میرے بچے حوصلہ کرو اللّه تمہیں صبر دے۔۔ ہم اس کے فیصلوں پر محض سر ہی جھکا سکتے ہیں۔۔” وه اسے دلاسہ دینے لگیں۔۔
چلو شاباش اٹھو فریش ہو کر آؤ دیکھو کیا حالت بنا رکھی ہے۔۔!! وه اس کا سر چومتی اسکا ہاتھ تھام کر کمرے میں لے آئیں۔۔
وه گالوں پر بہتے آنسو ہاتھ کی پشت سے صاف کرتی ہوئی اپنے گرد لپٹی چادر اتار کر باتھروم کی جانب بڑھی۔۔
وه دونوں یونیورسٹی سے واپس آ رہے تھے۔۔ صالح کار ڈرائیو کررہا تھا جب اس نے کہنا شروع کیا۔۔ سائیں۔۔۔۔۔۔
اس نے کہا ہی تھا کہ ماہ بیر نے اسے ٹوک دیا۔۔ “یار اب تو ہم میں رشتہ داری بھی بن گئی ہے۔۔ اور ہم دوست بھی ہیں۔۔دوہرے رشتے ہیں اب ہمارے۔۔ تم مجھے سائیں مت کہا کرو اب اور “آپ جناب” کا تكلف بھی نہ کیا کرو۔۔” وه اسے سمجھاتے ہوئے کہنے لگا۔۔
یہ بڑا مشکل کام کہہ دیا ہے آپ نے!!! وه احتجاجاً بولا تھا۔۔
پھر آپ؟؟ ماہ بیر نے ڈپٹا تو وه دهیما سا ہنس دیا۔۔ ماہ بیر۔۔۔تم۔۔۔!!! وه اٹک کر بولا تو ماہ بیر قہقہہ لگا گیا۔۔
شاباش پریکٹس کیا کرو روز!!؛ وه شرارت سے بولا۔۔
ویسے وه جو ٹیچر ہے ہماری بڑی عجیب ہے ایسے دیکھتی ہے جیسے کچا چبا جائے گی!! صالح خفگی سے بڑبڑایا کیونکہ آج اسکی بھی ہلکی پهلكی ہوئی تھی ارشما سے۔۔ ہر وقت اپنی ناک اونچی رکھنے والے کسی کو خاطر میں نہ لانے والے بیچارے یوسف صاحب کو ایک اتنی سی لڑکی نے ڈانٹا تھا اور وه چپ چاپ کھڑا رہا تھا۔۔
اس منظر نے ماہ بیر کو بےحد محظوظ کیا تھا اور صالح جانتا تھا اب وہ لمبے عرصے تک اسکی ٹانگ کھینچنے والا تھا۔۔ صالح نے گاڑی کی رفتار تیز کرتے ماہ بیر کی جانب دیکھا۔۔ وه دونوں کچھ سنجیده ہوئے اور اورهان کی موت کو ڈسکس کرنے لگے۔۔
وه بجهی بجهی سی کمرے میں بیٹھی تھی۔۔ مہرون ریشمی لباس میں وه اداس بیٹھی کسی مصور کا شاہکار لگ رہی تھی۔۔
بھوری آنکھوں میں اداسی تیر رہی تھی۔۔ گهنی پلکیں جھکی ہوئی تھیں۔۔ کھلی زلفیں شانوں پر بکھری ہوئی تھیں۔۔ وه ہاتھ پر لگی مهندی کو تکتی اس ستمگر کے خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی جو اپنی نئی نویلی دلہن کو چھوڑ کر چلا گیا تھا۔۔ اس کے دل نے بےاختیار شکوه کیا۔۔
پھر اس کی قربت میں بتائے چند پل اسکی آنکھوں کی سامنے سے گزرے تو اسکے چہرے پر حیا آمیز لالی آئی۔۔ اسکے ستم کا یہ حال تھا تو جب وه مہرباں ہوگا تو کیا ہوگا؟
وه انہیں سوچوں میں گم تھی کہ انجم موبائل پکڑے اندر چلی آئیں۔۔ “پتر یہ صالح کا فون آیا ہے بات کرلے” وہ اس کے ہاتھ میں موبائل تهما کر بغیر اسے سمجھنے کا موقع دیے کمرے سے چلی گئیں۔۔
وه ہونقوں کی طرح موبائل کی سکرین کو دیکھنے لگی۔۔ پھر اسکے چہرے پر خفگی در آئی۔۔ دوسری جانب موجود صالح خاموشی سے اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔۔ اس کی نظر مشائم کی ناک میں چمکتی نوز پن پر آ کر ٹھہری تھی۔۔
السلام علیکم !!! وه اس کے خفگی بھرے تاثرات دیکھتا ہوا بولا۔۔
وعلیکم السلام !!! مشائم نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر کمرے میں نگاہ دوڑا کر سنجیدگی سے جواب دیا۔۔ دونوں طرف خاموشی چھا گئی۔۔ اس کا دل تو بہت کررہا تھا کہ وه اسے دیکھتی رہے اتنے دن بعد تو اسے دیکھنا نصیب ہورہا تھا۔۔ ساری اکڑ کو بھاڑ میں بھیجتی وه سیدھی ہوئی اور پھر بیڈ سے کمر ٹکا کر موبائل بلکل سامنے کرتی اسے دیکھنے لگی جس کا صرف چہرہ موبائل کی سكرین پر نظر آ رہا تھا۔۔
وه اس بات سے بے خبر بیٹھی تھی کہ اسکا دوپٹہ ڈھلک کر گود میں آ گرا تھا۔۔ مہرون ریشمی لباس میں اسکے وجود کی رعنائیاں عیاں ہورہی تھیں۔۔
صالح نے کروٹ بدلی اور گہری نظروں سے دوپٹے سے ندارد اسکے نازک وجود کو دیکھنے لگا۔۔ اسکی نظروں کا رخ محسوس کرتے مشائم کا چہرہ کان کی لو تک سرخ پڑ گیا۔۔
اس نے جلدی سے سر جھکایا تو اس کا دل چاہا مقابل کی نظروں کے سامنے سے غائب ہوجائے۔۔ ایک ہاتھ سے موبائل تھامتے اس نے جلدی سے دوپٹہ پھیلا کر لیا۔۔
آپ ناراض ہیں مجھ سے؟؟ صالح کو کچھ کچھ اندازہ ہوا تھا اس لیے پوچھ بیٹھا۔۔
مشائم نے خالصتاً بیوی جیسی تیکھی نظروں سے اسے دیکھا۔۔ ہاں ہوں تو پھر؟؟
وه ناک پھلا کر بولی تو دوسری جانب صالح نے نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبايا۔۔
“مجھے منانا نہیں آتا!!!” وه اسے تنگ کرنے کو بےنیازی سے بولا۔۔
مشائم نے دانت پیس کر اسے دیکھا۔۔ “ہاں آپ کو تو بس رلانا آتا ہے!! منانا اور پیار کرنا نہیں آتا۔۔” وه بال جھٹک کر خفگی سے بولی۔۔ دوسری لڑکیوں کے شوہر اتنے رومینٹک ہوتے ہیں اور انھیں دیکھو۔۔ وه آہستہ سے بڑبڑائی لیکن اگلا بندہ بھی اپنے نام کا ایک تھا اس نے سن لیا تھا۔۔
“آپ چاہتی ہیں آپ کے ساتھ رومینس کروں میں؟؟ اس کے لیے آپ کو میرے پاس آنا پڑے گا۔۔” وه بھی آرام سے کہہ کر اس کے تاثرات سے محظوظ ہونے لگا۔۔
مشائم نے فوراً موبائل الٹا کر کے بیڈ پر رکھتے اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا لیا۔۔ اسکا دل شدت سے دھڑکنے لگا تھا یوں جیسے پسلیاں توڑ کر باہر آ جائے گا۔۔
سپیکر سے صالح کی آواز گونجی۔۔ “اگر آپ فوراً سكرین کے سامنے نہیں آئیں تو میں کال بند کررہا ہوں” اس کی دهمكی پر مشائم نے فورا موبائل تھاما تھا۔۔ البتہ نظریں اٹھانے کی ہمت نہ کی۔۔
صالح نے مسکراتی نظروں سے اسکے چہرے کو دیکھا۔۔ آپ شرماتی بھی ہیں؟؟ وه پھر اسے چھیڑنے سے بعض نہ آیا۔۔
اگر آپ نے مجھے اب تنگ کیا تو میں امی جان کو بتاؤں گی!!! مشائم اس کی گہری اندر تک اترتی نظروں پر چھوئی موئی بنتی اسے دھمکی دینے کی کوشش کرنے لگی۔۔
اسکی بات پر صالح نے اپنی بےساختہ امڈ آنے والی مسکراہٹ روکی۔۔ مثلاً کیا بتائیں گی؟؟
یہی یہی بتاؤں گی کہ آپ مجھ سے ایسی باتیں۔۔۔۔ بولتے بولتے مشائم کی زبان کو بریک لگا۔۔
کیسی باتیں؟
وه مسکان دباتے پھر سے بولا۔۔
“میاں بیوی والی”
اب کی بار وه خفگی سے بولی۔۔
میاں بیوی والی باتیں کونسی ہوتی ہیں؟؟
وه سیدھا لیٹتا پوچھنے لگا۔۔
جو آپ کررہے ہیں!!!
وه چہرے پر آتے بال کان کے پیچھے اڑستی نظریں جھکا کر بولی۔۔
صالح نے اسے مذید تنگ کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔۔ اوکے رات بہت ہورہی ہے سو جائیں آپ!!! اس کے بولنے پر مشائم نے جھکی نظریں اٹھائیں۔۔
آپ كیمره دور کریں تھوڑا سا۔۔ میں آپ کو مکمل دیکھنا چاہتی ہوں!!! وہ جھجھکتی ہوئی بول گئی۔۔
صالح چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔۔ “سوچ لیں ایک بار۔۔۔ شاید آپ دیکھ نہ پائیں” اس نے وارن کیا۔۔
مشائم نے اسکی بات پر غور نہیں کیا۔۔ “دیکھ لوں گی میں” اس نے جیسے ناک سے مكهی اڑانے والے انداز میں کہا۔۔
صالح اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔ جیسی آپ کی مرضی!!! اس نے بازو سیدھا کرتے موبائل دور کیا تو وه شرٹ لیس تھا۔۔ اس کا کسرتی جسم سامنے تھا۔۔ سینے کی پھولی رگیں صاف نمایاں ہورہی تھیں۔۔
مشائم نے اسے دیکھا تو گھبرا کر کال کاٹ دی۔۔ اسے پسینہ آنے لگا تھا۔۔ گہری گہری سانس لیتے اس نے آنکھیں موندیں لیکن اسکا کسرتی سینہ سامنے آنے پر جھٹ سے کھول گئی۔۔ اس نے جلدی سے اٹھ کر پانی پیا۔۔
ہی از ڈیم ہاٹ!!! ہاؤ شیلّ آئی بیئر ہِز ہاٹنیس؟؟ وه خود كلامی کرتی بولی۔۔ ایک عجیب سا احساس اس کے اندر سرائیت کرنے لگا تھا۔۔
