Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan NovelR50479 Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 10
Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan
چٹاخ!!!زندگی میں پہلی بار سلطان ماہ بیر شاہ نے اپنے دوست،، اپنے ساتھی،، اپنے دستِ راست “صالح یوسف پر ہاتھ اٹھایا تھا۔۔
صالح نے بے يقینی سے اسے دیکھا تھا۔۔ اس نے کچھ کہنے کے لئے لبوں کو حرکت دی لیکن الفاظ نے ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔۔
“تم پر میں نے سب سے زیادہ اعتبار کیا۔۔۔” سرد نظروں سے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ماہ بیر نے کہنا شروع کیا۔۔ صالح آنکھوں میں دکھ لیے اس کی سرمئی آنکھوں میں دیکھے گیا جن میں آج اس کے لیے بے اعتباری تھی۔۔
“تمہیں اپنا دوست سمجھا میں نے یوسف تمہیں حویلی میں آنے کی اجازت دی کیونکہ خود سے زیادہ یقین تھا مجھے تم پر۔۔” سرمئی آنکھوں میں سرخ لکیر نماياں ہوئی۔۔
صالح خاموش سا اسے دیکھے گیا۔۔
اور تم نے کیا کیا ؟ تم نے میرے اعتبار کو ٹھیس پہنچائی ہے یوسف ۔۔۔ تم ۔۔۔ ماہ بیر نے ضبط سے مٹھیاں بھینچیں۔۔ تم نے مشائم کو گمراہ کیا ہے ورنہ وه تو ہم سے نگاہ اٹھا کر بات نہیں کرتی تھی آج کس طرح دھڑلے سے تم سے اپنی محبت کا اقرار کررہی ہے وه بچی ہے اچھے برے کو نہیں سمجھتی لیکن تم تو عقلمند ہو تم نے کیا کیا ؟ ہاں !!؛
وه نچلے لہجے میں داڑھا تھا۔۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کے سامنے کھڑے شخص کو دو اور جهانپڑ رسید کر دیتا۔۔۔ اس کی مشی تو ان باتوں سے کوسوں دور معصوم سی تھی۔۔ یوسف کی پیش قدمی کے بغیر وه ایسا قدم اٹھانے کی ہمت بھی نہیں کر سکتی۔۔
ان سب باتوں میں وه یہ نہ سوچ سکا کہ اسکا دوست اسکا ساتھی یوسف جو کسی لڑکی کو دیکھنا تک پسند نہیں کرتا وه یوں اپنے شاہ سائیں کی عزت پر کیسے ہاتھ ڈال سکتا ہے جس کے شفاف کردار کی گواہی کوئی بھی دے سکتا ہے وہ اسکو کیسے دھوکہ دے سکتا ہے۔۔
غصہ انسان کی عقل کھا جاتا ہے اور یہی اس وقت ماہ بیر کے ساتھ ہوا تھا۔۔
جبکہ صالح بت بنا کھڑا تھا۔۔ اسکے کردار پر کاری وار ہوا تھا۔۔ یہ کیسا الزام اسکی ذات پر لگایا جا رہا تھا۔۔ اگر سامنے کوئی اور ہوتا تو وه اسکی ہڈی پسلی ایک کر دیتا اس قدر گھٹیا الزام پر لیکن وه یوسف تھا اپنے شاہ سائیں کا ۔۔۔ جن کے لئے وه اپنی جان دے بھی سکتا تھا اور کسی کی جان لے بھی سکتا تھا۔۔
اس کی آنکھ سے ایک آنسو لڑھکا تھا۔۔ کیا نہ تھا اسکی سیاہ سرد آنکھوں میں اس وقت ۔۔ شکایت، گلہ، دکھ۔۔۔
ماہ بیر جو اسے غصے سے گھور رہا تھا اسکی آنکھ سے آنسو گرتا دیکھ کر ساکت رہ گیا۔۔۔
صالح نے اپنی صفائی میں ایک لفظ نہ کہا۔۔ جن اپنوں کو اپنی ذات کی صفائی پیش کرنی پڑے وہ کیسے اپنے ہوئے!!!
وه جھٹکے سے پلٹا تھا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔
یوسف؟؟؟ ماہ بیر نے بے چینی سے اسے پکارا ۔۔ لیکن ۔۔
زندگی میں پہلی بار صالح یوسف نے اپنے شاہ سائیں کی پکار کو نظر انداز کیا تھا۔۔ وه سب سے خفا بس سب سے دور چلا جانا چاہتا تھا۔۔
اسے جاتے دیکھ کر ماہ بیر لب بھینچ گیا۔۔ خود پر قابو پا کر وہ اندر چلا آیا ۔۔۔ مہمان آنے لگے تھے۔۔ راستے میں آتے مہمانوں سے ملتا وه مشائم کے کمرے میں آیا جہاں وه بت بنی بیٹھی تھی۔۔
آنسو اسکی آنکھوں سے لڑی کی صورت بہہ رہے تھے۔۔ ماہ بیر کو آتے دیکھ کر وه منہ پھیر گئی۔۔ اسے یوں منہ پھیرتے دیکھ کر وه لب بھینچ گیا۔۔۔
تم سے کچھ پوچھنے آیا ہوں مجھے صحیح جواب دینا!!! وه پشت پر ہاتھ باندھ کر بولا۔۔ وہ جواباً خاموش رہی۔۔
کیا یوسف بھی شامل تھا اس سب میں ؟؟ وه حتی الامکان لہجے کو نارمل بنا کر بولا۔۔
وه چونکی تھی۔۔ کیا کچھ ہوا تھا؟ وہ دل ہی دل میں بے چین ہوئی۔۔ نہیں!!! اسے علم نہیں ۔۔۔ وه بے رخی سے بولی تو وه چند لمحے خاموش رہا۔۔
پھر سر ہلا کر جس طرح آیا تھا پلٹ گیا۔۔۔ اس کے جانے کے بعد وه پھر سے اپنی محبت کے بے موت مارے جانے پر ماتم کرنے لگی۔۔
اینارا نے کسی احساس کے تحت پلٹ کر پیچھے دیکھا تھا۔۔ عبدلمنان اپنے بائیں بازو کو سہلا رہے تھے۔۔ ان کے چہرے سے لگ رہا تھا کہ وہ شدید تکلیف میں ہیں۔۔۔ دفعتاً انہوں نے اپنے سینے کو مسلنا شروع کردیا۔۔۔ چند پلوں کا کھیل تھا۔۔ وه دیوار کا سہارا لیتے پورے قد سے نیچے گرے تھے۔۔
ابا !!! وه چیختی ہوئی باہر بھاگی تھی۔۔۔ اس کی چیخ پر شائستہ سرعت سے باہر آئیں۔۔ اپنے شوہر کو یوں زمین پر گرے دیکھ کر ان کا كلیجہ منہ کو آیا تھا۔۔ وه بجلی کی سی تیزی سے ان کے پاس آئیں ۔۔ زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھتی وه ان کا چہرہ تهپتهپانے لگی۔۔
آنکھیں کھولیں؟ کیا ہوا ہے آپ کو جواب دیں ؟ اینارا جا کسی کو بلا کر لا جلدی جا۔۔۔ وه روہانسی ہوتیں بلند آواز میں بولیں تو وہ روتی ہوئی باہر بھاگی۔۔۔
پیچھے وه دروازے کی چوکھٹ میں کھڑی پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنے ابا کو یوں بے سدھ پڑا دیکھ رہی تھی۔۔ اسکی ہمت نہ ہوئی کہ آگے جا کر اپنی روتی ماں کو دلاسہ دے سکتی کیوں کہ ان کی اس حالت کی ذمہ دار وہی تو تھی۔۔۔
ہسپتال کے سرد کاریڈور میں وه لب سیے بیٹھی تھی۔۔ اس کے برابر بیٹھی شائستہ مسلسل زیر لب تسبیح پڑھ رہی تھیں۔۔ عبدلمنان کو شدید قسم کا ہارٹ اٹیک آیا تھا۔۔ کسی ہمسائے کی مدد سے وه انہیں ہسپتال لے آئے تھے۔۔ انہیں فوری طور پر انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں منتقل کر دیا گیا تھا۔۔ تب سے وه سنسان سرد کوریڈور میں بیٹھیں ان کی سلامتی کے لیے دعا گو تھیں۔۔۔
ان سے کچھ فاصلے پر کھڑی اینارا دور خلاؤں میں کہیں گھور رہی تھی۔۔۔ اسکی آنکھوں کے کنارے سوجھے ہوئے تھے۔۔ خشک لب آپس میں پیوست تھے۔۔۔ اچانک وه سیدھی ہوئی اور چلتی ہوئی ازنا کے برابر آ بیٹھی۔۔
اسکے بیٹھنے پر ازنا نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔۔ اسکی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں۔۔۔
وه کون تھا؟ اینارا نے ناک کی سیدھ میں دیکھتے سرد لہجے میں پوچھا تھا۔۔
مم مجھے نہیں پتہ کک۔۔۔ کون تھا وه!! وه حلق تر کرتے بولی تو اینارا نے اسکی جانب دیکھا۔۔
ہمارے گھر کیسے آ گیا ۔۔ تم نے دیکھا تو ہوگا نہ اسے ؟؟ مجھے بتاؤ۔۔۔ وه ہنوز اسی انداز میں بولی۔۔
ازنا کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے تو وه نرم لہجے میں بولی۔۔ “دیکھو ازنا تم بتاؤ گی نہیں تو ہم اسے سزا کیسے دلوائیں گے۔۔ کیا تم نہیں چاہتی کہ اس شخص کو اس کے کیے کی سزا ملے ؟؟”
اسکی بات پر ازنا کی آنکھوں میں اورهان کے لئے نفرت آئی۔۔ ہاں وه چاہتی تھی کہ اسے سزا ملے اس جیسے انسان کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہی۔۔۔ اس سب میں وه یہ بھول گئی کہ اگر اورهان پر نام آیا تو وه خود بھی پهنسے گی۔۔۔
مم میں زیادہ کچھ نہیں جانتی اس کے بارے میں ۔۔۔ اسکا نام اورهان ہے۔۔ اس نے اٹک اٹک کر کہنا شروع کیا۔۔ وه مجھے حویلی لے گیا تھا۔۔ بارود خانہ والی۔۔۔
اسکی بات پر اینارا چونکی۔۔ اچھا!!! وه کیسا دکھتا تھا؟؟
اس کی نیلی آنکھیں ہیں اور ۔۔۔ وه سوچ سوچ کر بتانے لگی۔۔۔ کچھ دیر بعد دونوں خاموش ہوگئیں۔۔۔
اینارا کا دل تڑپ گیا تھا ۔۔۔ اپنے ابا کی لاڈلی وه انہیں اس حال میں دیکھ کر بہت تکلیف میں تھی۔۔۔ دفعتاً آئی سی یو کا دروازه کھلا اور ڈاکٹر باہر آیا۔۔۔
وه تینوں سرعت سے اس کی طرف گئیں۔۔۔ ڈاکٹر کیسے ہیں میرے شوہر اب؟ وه خوف اور امید کی ملی جلی كیفيت سے ڈاکٹر سے پوچھنے لگیں۔۔
آئی ایم سوری ہی از نو مور!!! ڈاکٹر ترحم سے انہیں دیکھتا چلا گیا۔۔
کیا تم نے وه تکلیف محسوس کی ہے جب لگتا ہے کہ کوئی تمهارے دل کو مٹھی میں بھینچ رہا ہو۔۔
اینارا کو سانس لینے میں دقت ہونے لگی۔۔ اس نے چیخ چیخ کر رونا چاہا لیکن آواز دم توڑ گئی۔۔ اسکی آنکھوں کے آگے اندھیرہ چھایا اور وه لہرا کر نیچے گری۔۔
اسکی آنکھ مسلسل بین کی آواز پر کھلی تھی۔۔ اس کے حواس بحال ہوئے تو وه ننگے پیر باہر بھاگی۔۔ صحن میں میت پڑی تھی جس کے پاس اسکی ماں اور بہن بلک بلک کر رو رہی تھیں۔۔ آس پاس بیٹھی عورتیں انہیں دلاسہ دے رہی تھیں۔۔
وه بے تاثر چہرے کے ساتھ چلتی ہوئی آئی اور میت کے پاس بیٹھ گئی۔۔۔ اس نے ہاتھ اٹھایا اور کفن کے اوپر سے ان کے سر پر پھیرنے لگی۔۔۔
“ابا کتنا سوئیں گے آپ؟ اٹھ جائیں نہ دیکھیں اماں اور ازنا رو رہی ہیں۔۔” وه معصومیت سے ان کے سر سے کفن ہٹا کر انہیں دیکھنے لگی۔۔
جواب نہ پا کر وه ان کے چہرے پر ہاتھ پھیرنے لگی۔۔ “ابا اٹھیں نہ میں بلا رہی ہوں آپ کو اٹھ بھی جائیں اپنی این کی بات نہیں مانیں گے آپ؟؟
ایک عورت منہ پر ہاتھ رکھے اس کے پاس آئی۔۔ میری دھی تیرا باپ اس دنیا سے جا چکا ہے!!
اس عورت کی بات پر اس نے خوف سے انہیں دیکھا تھا۔۔ نن ۔۔۔نہیں ۔۔۔ ابا !!! وه چیخی تھی۔۔
اٹھ بھی جائیں سب جھوٹ بول رہے ہیں ۔۔۔ وہ اونچی اونچی رونے لگی تھی۔۔
یہ سب اس کلموہی کی وجہ سے ہوا ہے باپ کو کھا گئی!!! کسی عورت نے ازنا کو دیکھ کر کہا تو خوف سے اسکا چہرہ سفید پڑ گیا۔۔
“نن نہیں ۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔” وه بلکتے ہوئے بولی تھی۔۔۔
باپ کے سر میں خاک ڈال کر کہتی ہے میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔ وه عورت مجمع میں بیٹھ کر اسکی ذات کے پر خچے اڑانے لگی۔۔
وہ کانپتی ٹانگوں سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ بغیر کسی کو دیکھے وہ اندر بھاگی تھی۔۔ اندر جا کر اس نے دروازه بند کر لیا۔۔
اینارا نے سرعت سے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔۔ کسی احساس کے تحت وه اٹھی۔۔ کمرے کے دروازے کے پاس کھڑی ہوتی وه دروازه بجانے لگی لیکن کوئی جواب نہ ملا۔۔
ازنا دروازہ کھولو۔۔!! بولتی ہوئی وه کھڑکی والی سائیڈ پر آئی۔۔ لوگ مڑ مڑ کر اسے دیکھنے لگے۔۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر کھڑکی کھولی تو جو منظر اسے نظر آیا اس نے اس کے پیروں کے نیچے سے زمین کھینچ لی۔۔۔ اندر کمرے میں وه گردن میں دوپٹہ باندھے پنکھے سے لٹکی ہوئی تھی۔۔ اس کے ہاتھ پیر ہل رہے تھے۔۔ یوں جیسے وه تڑپ رہی ہو۔۔
اماں !! وه چیختی ہوئی دوبارہ دروازه دهكیلنے لگی۔۔ کھولو دروازه کوئی کھول دو ۔۔۔
اسکی چیخوں پر دو آدمی جلدی سے اندر آئے تھے ان کے پیچھے شائستہ دوڑتی ہوئی آئی تھیں۔۔ دونوں آدمیوں نے دروازے کو زور سے دهكیلا۔۔ دوسرے وار میں دروازه کھل گیا ۔۔ وه جلدی سے اندر آئے اور سامنے اسے پنکھے سے لٹکا دیکھ کر جلدی سے نیچے اتارا۔۔
اینارا جلدی سے اس کے پاس آئی ۔۔ اس نے دھڑکتے دل سے ہاتھ اٹھایا اور اسکی ناک کے پاس لے آئی۔۔ اس کا ہاتھ بے جان ہو کر گرا تھا۔۔ ازنا کی سانسوں کی ڈور ٹوٹ چکی تھی۔۔
پورے گھر میں قہرام برپا ہوگیا۔۔ ایک ساتھ دو دو میتیں پڑی تھیں۔۔ شائستہ کا تو کوئی حال نہ تھا۔۔ ان کی جیسے کمر ٹوٹ گئی تھی۔۔ سب ترحم سے انہیں دیکھ رہے تھے۔۔
جنازہ اٹھانے کا وقت آیا تو اینارا میت سے لپٹ گئی۔۔ چھوڑو ۔۔ چھوڑو انہیں ۔۔۔میرے ابا ہیں ۔۔ وه بھاگ کر دوسری جانب آئی۔۔ میری بہن کو کہاں لے کر جا رہے ہو ؟ ابا ؟؟ وه ان کی چارپائی سے لپٹ کر تڑپ تڑپ کر رونے لگی۔۔
کچھ عورتوں نے آگے آ کر مشکل سے اسے قابو کیا۔۔ اسکے یوں تڑپنے پر ہر آنکھ اشک بار تھی۔۔ شائستہ حواس کھوتیں بے ہوش ہو کر گر پڑیں۔۔
کلمہ پڑھا گیا اور ان کی میت کو کاندها دے کر اٹھایا گیا۔۔ وه زمین پر بیٹھتی چیخنے لگی۔۔۔ اسکی آنکھوں کے سامنے وه میت کو اٹھائے قبرستان کی طرف چلے گئے۔۔۔
وه کھلی کھڑکی کے قریب ساکت مجسمہ بنی کھڑی تھی۔۔ اسکی لانبی گهنی زلفیں ہوا کے زور پر ادھر ادھر لہرا رہی تھیں۔۔ نارنجی لهنگے چولی میں ملبوس وه کوئی اپسرہ لگ رہی تھی۔۔ بناؤ سنگهار سے بے نیاز اسکے چہرے پر سرد مہری تھی۔۔ لب جیسے صدیوں سے جامد ہوں۔۔ ٹھنڈی ہوا کے سرد جھونکے اسے ٹھٹھرنے پر مجبور کررہے تھے لیکن وه لا پرواہ بنی کب سے وہیں کھڑی تھی۔۔
کھڑاک کی آواز آئی تو اس نے پلٹ کر دیکھا۔۔۔ بیوٹیشن اندر داخل ہورہی تھی۔۔ اس کے منہ پر ناگواری چھا گئی۔۔
میڈم آئیں آپ کو تیار کر دوں!!! مشائم کو اپنی جگہ جما ہوا دیکھ کر وه جھجھک کر بولی۔۔
بے تاثر چہرے سے اسے دیکھتی وه آئینے کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گئی۔۔ اس کے بیٹھنے پر بیوٹیشن شکر کا سانس بھرتی، پھرتی سے ہاتھ چلاتی اسے تیار کرنے لگی۔۔۔ اسکی مانگ میں پھولوں سے بنا ٹیکا سجا کر وه پیچھے ہٹی۔۔۔
واؤ بیوٹیفل!! وه بے ساختہ اسکی تعریف کر گئی جو بلکل گڑیا سی لگ رہی تھی۔۔۔ نازک گڑیا جسے اپنی مرضی سے کبھی بہت پیار سے سنبهال کر رکھا جاتا ہے اور کبھی نہایت بے دردی سے پھینک دیا جاتا ہے۔۔
کچھ دیر بعد اسے چند لڑکیوں کے نرغے میں اس جگہ لایا گیا جہاں عورتوں کے لئے مهندی کے فنکشن کا انتظام کیا گیا تھا۔۔۔ اسے پھولوں سے سجے جھولے پر بٹھا دیا گیا۔۔
ماشاءالله!!! بہت سے لبوں سے صدا بلند ہوئی تھی۔۔ وه نظریں جھکائے گود میں دھرے اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگی۔۔ اس نے مهندی نہیں لگوائی تھی۔۔ جب دل ہی مر گیا ہو تو۔۔۔۔
آنسو پلکوں کی باڑ تور کر نکلنے کو بیتاب ہوئے تھے۔۔ اس نے آنکھیں جهپک کر انھیں بہنے سے روکا تھا۔۔
للّہ عارفہ شال ایک کندهے پر ڈالے سر کو دوپٹے سے ڈھکے نفیس سے لباس میں ہلکی پھلکی تیار اس کے پاس آئیں۔۔
“ماشاءالله!!! اللّه نظر بد سے بچائے۔۔ میری بیٹی تو آج فلک سے اتری کوئی حور لگ رہی ہے۔۔” ان کی بات پر وه تلخی سے ہنسی تھی۔۔
بھیگی آنکھیں اور لبوں پر مسکراہٹ!!! کس قدر تکلیف میں تھی وه لیکن خیر۔۔۔ اس نے سر جھٹکا۔۔
مهندی کی رسم شروع کردی گئی۔۔ ماہ بیر نے قدرے دور کھڑے ہو کر اسے دیکھا تھا۔۔ کتنی بڑی ہوگئی ہے اس کی مشی۔۔ اس کے لبوں پر اداس مسکراہٹ تھی۔۔ وه سیاہ شلوار قمیض میں سیاہ ہی شال اوڑھے کتنوں کی نگاہوں کا مرکز بے نیاز بنا کھڑا تھا۔۔
دفعتاً کسی نے اسے بازو سے پکڑ کر کھینچا تھا۔۔ وه اس افتاد پر پلٹا تو اسکی آنکھیں سرد ہوئیں۔۔ اس نے جھٹکے سے اپنا بازو اورهان کی گرفت سے چھڑایا جو اس سے زیادہ غیض و غضب سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
اسکی نیلی آنکھوں میں لال ڈورے نماياں تھے۔۔۔ اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ زوردار گھونسا ماہ بیر کے منہ پر مارا تھا۔۔
ماہ بیر نے جواباً اسے زوردار دھکہ دیا اور بازو سے پکڑتا قدرے سنسان حصے میں آ گیا۔۔ وه مہمانوں کے سامنے کوئی تماشہ نہیں چاہتا تھا۔۔
اورهان دوبارہ طیش سے اسکی طرف بڑھا اور اسکے کالر کو مٹھیوں میں جکڑ کر داڑھا۔۔ میری بہن کدھر ہے؟؟
ماہ بیر کی بس ہوئی تھی اس نے اب کی بار اسے دھکا دیتے پوری قوت سے اس کے منہ پر گھونسا مارا۔۔ “تمهاری بہن ہے تمہیں پتہ ہونا چاہیے کہ وه کہاں ہے!!”
وه بھی گرجا تھا۔۔ اس نے منہ پر ہاتھ رکھتے اسے سرد نظروں سے دیکھ کر کہا تو اورهان نے خود پر قابو کرتے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا۔۔
“یہ ڈرامے کسی اور کے سامنے کرنا مجھے سچ سچ بتاؤ میری بہن کو کہاں غائب کروایا ہے تم نے ؟ بتاؤ کیا کیا ہے اس کے ساتھ تم نے ؟؟”
ماہ بیر نے اسے یوں دیکھا جیسے اسکا دماغ ہل گیا ہو۔۔ “کیا بکواس کررہے ہو تمہاری بہن ہے کون مجھے تو یہ بھی نہیں پتہ اور ایک بات یاد رکھو سلطان ماہ بیر شاہ، میر اورهان صمید نہیں ہے جو ایسی اوچھی حرکتیں کرے گا۔۔ اور اب نکلو یہاں سے بہت بکواس کرلی تم نے اور یہ سب برداشت کر لیا میں نے۔۔
اس نے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا۔۔ “اگر میں نے گارڈز کو بلا لیا تو تم زندہ سلامت یہاں سے جا نہیں سکو گے۔۔” اسے درشتگی سے کہہ کر وه پلٹا تو اورهان بھی لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکل آیا۔۔
ایک بات اس کے دماغ میں بیٹھ گئی تھی۔۔ ماہ بیر نے نہ ارشما کو دیکھا نہ کبھی ملا۔۔۔ نہ ہی کبھی وه میرے گھر آیا۔۔ پھر وه کیسے اسے اغوا کر سکتا جب کہ آس پاس کے لوگوں کے مطابق وه پچھلے چند دن سے خضدار سے باہر نہیں گیا۔۔
وه الجھ گیا تھا اس لئے وہاں سے چلا آیا ورنہ وه ایسی بلا تھا جو آسانی سے نہیں ٹلتی۔۔۔
