Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan NovelR50479 Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 29
No Download Link
Rate this Novel
Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 29
Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan
اینارا نے ایک اکیڈمی جوائن کرلی تھی جہاں وہ پانچویں جماعت کے بچوں کو پڑھاتی تھی۔۔
دائیں کندھے پر لانگ سٹریپ بیگ ڈالے وہ نیوی بلیو کیپری شرٹ میں دھلے چہرے کے ساتھ اکیڈمی جا رہی تھی۔۔ مسجد کے پاس سے گزر کر وہ اگلی گلی کو مڑ گئی جہاں اسکا ایک بار پھر اورهان سے سامنا ہوگیا۔۔
وہ کسی کام سے گیا تھا اب واپس آیا تو بےدیهانی میں اسے دیکھ کر اورهان نے فورا سر جھکایا تھا لیکن پھر جھٹکے سے سر اٹھایا۔۔
اسکی آنکھوں میں شدید حیرانی تھی وہیں اینارا بھی دنگ کھڑی تھی۔۔۔
تو جو پچھلی بار دیکھا وہ کوئی غلط فہمی نہیں تھی،، اورهان ایک بار پھر اسکے سامنے تھا۔۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو یوں دیکھ رہے تھے جیسے صدیوں بعد دیکھا ہو۔۔
حیرت کے جھٹکے سے جب وہ سنبهلی تو اسکے چہرے کے تاثرات سرد ہوگئے۔۔
وہ اسے نظرانداز کر کے آگے بڑھ گئی وہیں اورهان کو ہوش آیا۔۔
“اینارا بات سنیں میری !!!۔۔۔”
وہ تیزی سے اسکے پیچھے گیا۔۔ دل تھا کہ زوروں سے دھڑکنے لگا تھا۔۔
دل کو کب امید تھی کہ اس دشمنِ جاں سے یوں سامنا ہوجائے گا۔۔
اسے اپنے پیچھے آتا دیکھ کر وہ رکی اور تند چہرہ کے ساتھ پلٹی۔۔
صبح کا وقت تھا اس لیے آس پاس کسی کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔۔
“کاش!!! تمهارا چہرہ جتنا خوبصورت ہے،، تمہارا د۔۔ل بھی ات۔۔نا خوبصورت۔۔۔ ہوتا!!!
سختی سے بولتے آخر میں اسکی آواز لڑکھڑا گئی۔۔
غصے بھری آنکھیں نم ہوئی تھیں۔۔ اسکی آنکھوں میں شدید جلن ہونے لگی تھی۔۔
وہ خاموشی سے اسے دیکھے گیا۔۔ “تم جھوٹے انسان تم تو عادی ہو لڑکیوں کے دل سے کھیل کر انہیں برباد کرنے کے!!! تم جیسا انسان میں نے پوری زندگی میں نہیں دیکھا”
اتنے دن سے اندر ابلتا لاوا اب باہر نکلنے لگا تھا۔۔
اورهان نے دکھ سے اسے دیکھا۔۔
“میں نے ہر پل آپ سے محبت کی ہے آپ کے سوا میرے دل میں کوئی نہیں ہے!!!۔۔۔”
وہ دھیمے لہجے میں کہنے لگا۔۔
لیکن آپ۔۔۔!!!
وہ تکلیف سے ہنسا تھا۔۔
“آپ نے تو مجھے مارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی!!!۔۔”
وہ سنسان رات، جسم میں گولیاں گھسنے کی تکلیف، عجیب آوازیں۔۔۔ وہ سب یاد کرتے اسکے گلے میں آنسوؤں کا گولہ اٹکا۔۔
اینارا نے چونک کر اسے دیکھا۔۔ “میں نے تمھیں نہیں مارا تھا۔۔ہاں مارنا ضرور چاہتی تھی کیونکہ میرے باپ اور بہن کے قاتل ہو تم!!!۔۔۔”
وہ دبے لہجے میں غرائی تھی۔۔
اورهان کی ذات زلزلوں کی زد میں آ گئی۔۔ وہ تو سمجھتا رہا تھا کہ اینارا نے۔۔۔ لیکن!!! “
میں نے کسی کا قتل نہیں کیا!!!۔۔” وہ اسے یقین دلانے والے انداز میں بولا تو اینارا تلخی سے ہنسی۔۔
اززز ناااا۔۔۔بہن۔۔ تھی۔۔ میری ،، تمهارے ساتھ منہ کالا کرنے کے بعد جب وہ گھر آئی تو میرے باپ کو ہارٹ اٹیک آیا تھا اور وہ۔۔۔۔ وہ مر گئے ۔۔ چلے گئے مجھے چھوڑ کر!!
شروع میں چبا چبا کر کہتی آخر میں وہ رو پڑی۔۔۔
“اور پتہ ہے اسکے بعد کیا ہوا؟ ازنا نے بھی خودکشی کرلی۔۔ ایک ساتھ “دو میتیں” پڑی تھیں ہمارے سامنے کیا تم اندازہ بھی کر سکتے ہو ہماری تکلیف کا؟؟
اس لیے اس لیے میں مارنا چاہتی تھی تمہیں ۔۔۔انتقام لینے آئی تھی تم سے۔۔۔نفرت کرتی تھی تم سے لیکن دیکھو تو قدرت نے کیا کیا میرے ساتھ !!
تم سے نفرت کرتی جانے کب مجھے محبت ہوگئی تم سے ۔۔ تم کبھی نہیں سمجھ سکتے اس ازیت کو جو میں محسوس کرتی ہوں تم نے مجھے مسلسل عذاب میں مبتلا کر دیا ہے اورهان !!!
وہ اسکا گریبان پکڑتی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔
اورهان کی آنکھیں تکلیف کی شدت سے سرخ ہوئی تھیں۔۔ “مجھے معاف کر دیں میں اس زندگی کو چھوڑ چکا ہوں روز اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہوں لیکن میری ازیت کم نہیں ہوتی میں نہیں جانتا تھا کہ میری وجہ سے آپ اس قدر تکلیف سے گزری ہیں میں اس قابل تو نہیں لیکن پھر بھی ہو سکے تو مجھے معاف کر دیں!!!
وہ سر جھکا کر دھیمے لہجے میں کہتا اس کے سامنے ہاتھ جوڑ گیا۔۔
اینارا نے روتے ہوئے اسے دیکھا۔۔
“میں تھک گئی ہوں اورهان یہ ازیتیں برداشت کرتے ، اب ان کا بوجھ نہیں اٹھایا جاتا مجھ سے۔۔ سکون چاہتی ہوں اپنی زندگی میں ۔۔”
تھکے تھکے لہجے میں کہتی وہ پلٹی اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اسکی آنکھوں سے دور ہوتی گئی۔۔
وہ وہیں کھڑا اسکی پشت کو دیکھے گیا۔۔ دکھ سے ،، حسرت سے !!!
ایک آنسو اسکی آنکھ سے گرا اور داڑھی میں جزب ہوگیا۔۔ نیلی آنکھوں میں تکلیف کے باعث لال ڈورے نمایاں ہونے لگے تھے۔۔
وہ سر جھکا کر مسجد کی طرف چلا گیا۔۔۔ اس وقت اسے اللّه سے بات کرنے، اسکے سامنے رونے کی بہت ضرورت تھی۔۔
اگر وہ بھی نہ سنتا ہوتا اسکی پکار تو “میر اورهان صمید” گھٹ گھٹ کر مر جاتا۔۔
اورهان سے ملاقات ہوئے ایک دن گزر گیا تھا۔۔ وہ مسلسل ذہنی دباؤ کا شکار تھی۔۔
دل تھا کہ اسے معاف کر دینا چاہتا تھا لیکن دماغ اسکی نفی کر دیتا تھا۔۔
وہ مان چکی تھی کہ وہ بدل گیا ہے۔۔ اسکی آنکھوں میں حیا تھی اور انداز میں عاجزی!!!
اپنی سوچوں سے تنگ آ کر وہ اٹھی۔۔ وہ شائستہ کے کمرے میں آئی جہاں وہ جائے نماز تہہ کر کے رکھ رہی تھیں۔۔ “اماں وہ کل اورهان ملا تھا مجھے!!”
نظریں جھکائے اس نے آنکھوں میں امڈ آنے والی نمی کو چھپانے کی کوشش کی لیکن ماں تو ماں ہوتی ہے۔۔ وہ بھی اینارا کی آنکھوں میں آنسو دیکھ چکی تھیں۔۔
وہ زندہ ہے؟؟
بےتاثر چہرے سے پوچھا گیا۔۔
اینارا نے سر ہلایا۔۔
“وہ بدل گیا ہے میں نے اسے معاف کردیا ہے اب دل پر مزید بوجھ اٹھانے کی ہمت نہیں ہے مجھ میں !!!۔۔۔”
وہ ٹوٹے لہجے میں بولی تو شائستہ کو بےاختیار اس پر ترس آیا۔۔
کتنی ہنس مکھ تھی اینارا، غموں سے بےنیاز!!!
زندگی نے تو جیسے اسے ہنسنا بھلا دیا تھا۔۔ اپنی تکلیف میں تو وہ اپنی پھول جیسی بچی کو فراموش ہی کر گئی تھیں۔۔
“ٹھیک ہے تم اسے بلا لو ،، میں بات کر لوں گی!!!”
اس کے گال پر پیار سے ہاتھ رکھتیں وہ گھر کے کام نبیٹنے لگیں۔۔
اینارا بےيقین سی کمرے میں چلی آئی۔۔ اس نے ابھی کچھ کہا بھی نہیں تھا لیکن وہ ماں تھیں نہ سمجھ گئی تھیں اسکے انداز سے۔۔
دل سے گرد و غبار مٹا تو اسے ہر چیز نئی نئی سی نظر آنے لگی۔۔ یوں جیسے وہ پہلی بار سب دیکھ رہی ہو۔۔ اورهان سے ملنے کا ارادہ کرتے وہ سکون سے آنکھیں موند گئی۔۔
“یوسف اٹھ جائیں یونیورسٹی کا ٹائم ہورہا ہے!!!۔۔۔”
بالوں کو گول مول جوڑے میں لپیٹتی وہ واش روم سے باہر آئی اور آنکھیں ملتی بیڈ پر چت سوئے صالح کے پاس بیٹھ کر اسے یونیورسٹی کے لیے جگانے لگی۔۔
وہ ایک ہاتھ سر کے نیچے رکھے جبکہ دوسرا ہاتھ شرٹ لیس سینے پر رکھے سو رہا تھا۔۔ سویا ہوا وہ بےحد معصوم لگ رہا تھا۔۔
مشائم نے اس کے کسرتی سینے کو دیکھا۔۔ اس کی دھڑکن منتشر ہوئی تھی۔۔
پھر وہ جھکی اور صالح کی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے اسکے بال سنوارے۔۔
اپنے چہرے پر نرم گرم سا لمس محسوس کر کے صالح نے مندھی آنکھیں کھولیں۔۔
نیند کا خمار لیے سرخ ڈوروں والی آنکھیں ہلکی سی کھول کر اس نے خود پر جھکی مشائم کو دیکھا جو بنا دوپٹے کے اس پر جھکی کچھ کہہ رہی تھی۔۔
اسکی نیند بھک سے اڑی تھی۔۔ وہ یک ٹک اسکے ہلتے لبوں کو دیکھے گیا۔۔ لبوں سے سفر کرتی اس کی نظر اسکی گردن پر آ ٹھہری اور گردن سے نیچے آ کر رک گئی۔۔
اسکی نظروں کا رخ محسوس کرتے مشائم گهبرا کر پیچھے ہٹنے لگی کہ صالح نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتے اسے خود پر گرا لیا۔۔
“یوں صبح صبح اس طرح میرے سامنے آ کر آپ کیا چاہتی ہیں کہ آپ کو رات تک کمرے سے نکلنے نہ دوں؟؟۔۔۔”
وہ اسکا چہرہ دو انچ کے فاصلے پر دیکھتا بھاری آواز میں بولا۔۔
مشائم اسکے کاندھوں پر دونوں ہاتھ رکھے اسکے سینے سے لگی ہوئی تھی۔۔ کمر پر اسکے ہاتھ کا لمس محسوس کرتے اسکی سانسیں تیز ھوگئیں۔۔
اسکے چہرے پر صالح کی قربت کے رنگ بکھرے ہوئے تھے۔۔ مشائم نے کانپتی پلکیں اٹھائیں تو سیدھا اس دشمنِ جاں کی آنکھوں سے ٹکرائیں جو اسکی جان نکالنے کے در پہ ہوا تھا۔۔
“وہ آپ نے یونیورسٹی جانا ہے نہ ۔۔۔ ٹائم ہورہا ہے فریش ہوجائیں!!!۔۔”
اسکی داڑھی میں چھپے تل کو دیکھتی وہ دھیمی آواز میں بولی۔۔
“ایسے اٹھائیں گی تو کس کافر کا دل کرے گا یونیورسٹی جانے کا؟؟۔۔”
وہ اسکے لب کے کنارے کو انگوٹھے سے سہلانے لگا۔۔ اسکے اس عمل سے وہ شرم سے گلنار ہوتی وہ جلدی سے پیچھے ہٹی۔۔
“بہت خراب ہوتے جا رہے ہیں آپ اٹھ جائیں اب نہیں تو بھابھی جان نے لیٹ جانے پر آپ کے دیور ہونے کا لحاظ بھی نہیں کرنا!!!۔۔”
مشائم نے اسے خبردار کیا۔۔
وہ آنکھیں گھما کر اٹھ بیٹھا۔۔ اسکے لمبے چوڑے کسرتی جسم سے نظریں چراتی وہ کمرے کی چیزیں سمیٹنے لگی۔۔ اس کی پشت کو گہری نظروں سے دیکھتے وہ زبردسٹ انگڑائی لے کر اٹھا۔۔
اس نے شیشے میں نظر آتے صالح کو انگڑائی لیتے دیکھ کر دل میں تبصرہ کیا۔۔
“ڈیم ہاٹ!!!۔۔۔”
وہ فریش ہونے چلا گیا تو مشائم نے بیڈ کی چادر ٹھیک کردی اور سائیڈ ٹیبل پر رکھا خالی جگ اٹھا کر دوپٹہ سینے پر پھیلاتی کچن میں آئی۔۔
جگ کو پانی سے بھر کر جب وہ واپس کمرے میں آئی تو صالح شاور لے کر آ چکا تھا۔۔
اس نے بلیو جینز پہن رکھی تھی۔۔ گیلے جسم پر پانی کی بوندیں دکھائی دے رہی تھیں۔۔۔
شرٹ پہننے کا تكلف کیے بغیر وہ گردن میں ڈالے تولیے سے گیلے بال خشک کرنے لگا۔
مشائم کو دیکھ کر اس نے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا اور ڈریسنگ ٹیبل پر بیٹھ کر اسکی جانب تولیہ بڑھا کر معصومیت سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔
مشائم مسکراہٹ دبا کر اسکے مقابل کھڑی ہوتی تولیہ تھام گئی۔۔ تو لاڈ صاحب کا لاڈ اٹھوانے کا من ہورہا تھا۔۔
وہ نرمی سے ہاتھ بڑھا کر اسکا گیلا چہرہ صاف کرنے لگی۔۔ اسکی داڑھی پر ہاتھ پھیر کر اس نے تولیے والا ہاتھ نیچے کیا اور اسکی آنکھوں میں دیکھتی سینے پر پانی کی بوندیں خشک کرتی پلٹی اور اسکی شرٹ تھام کر دوبارہ اس کی جانب آئی۔۔
اسکو شرٹ پہنا کر اس نے آہستہ آہستہ بٹن بند کرنے شروع کیے ۔۔ صالح مسلسل مسکراتی نظروں سے اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔۔
“ایسے نہ دیکھیں نہ مجھے بڑا “پار ” آ رہا ہے آپ پر!!!۔۔۔”
وہ اسکے دونوں گال کھینچتی اسکے بال ماتھے پر بكهیر گئی۔۔
اف اف!!! ماتھے پر بکھرے بالوں میں تو وہ اور بھی پیارا لگ رہا تھا۔۔
اچھا جی آپ کو “پاار” آ رہا ہے!!!
وہ اسکی طرف قدم بڑھاتا دھیرے سے ہنسا تو مشائم نے اسکے سینے پر دونوں ہاتھ رکھتے اسے آنکھیں دکھاتے دور دھکیلا۔۔
چلیں باہر۔۔ بھائی جان بھی اٹھ گئے ہیں میں بریک فاسٹ لگاتی ہوں!!!
وہ آنکھیں چھوٹی کئے اسے دیکھتی ہوئی بولی تو صالح نے اوہ کی شیپ میں ہونٹ گھمائے۔۔
“اوہ ۔۔۔ بریک فاسٹ!!!۔۔”
مشائم نے گال سے ٹکراتی بالوں کی لٹ کو انگلی پر لپیٹتے کہا ” يس بریک فاسٹ!!!۔۔”
اور ایک ادا سے اسے دیکھ کر پلٹی اور کمرے کی دہلیز عبور کر گئی۔۔
اہم اہم!!! کلاس کے باہر ماہ بیر اور ارشما کا سامنا ہوا تو صالح زور سے کھنکارتا اکسکیوزمی کہہ کر وہاں سے کھسکنے لگا کہ ارشما نے اسے زبردست گھوری سے نوازا۔۔ “کہاں جا رہے ہیں آپ ؟ کلاس کا وقت ہورہا ہے اگر آپ نے کلاس اٹینڈ نہ کی تو میں آئندہ تمام ٹیسٹ میں آپ کو فیل کر دوں گی!!!۔۔”
وہ سخت لہجے میں بولی تو صالح کا منہ بن گیا۔۔ صبح صبح ہی ستھری ہوگئی تھی اسکی سویٹ بھابھی پلس کھڑوس ٹیچر سے۔۔
اسکی بےعزتی پر ماہ بیر کی ہنسی نکل گئی۔۔۔ ارشما نے کڑے تیوروں سے اسے دیکھا۔۔ نیوی بلیو بٹنوں والی شرٹ کے بازو کہنیوں تک موڑے بلیو جینز شوز میں ملبوس ایک کاندھے پر بیگ لٹکائے وہ بلا کا ہینڈسم لنگ رہا تھا۔۔
سرمئی آنکھوں میں شرارت اور عنابی لبوں پر دلکش مسکراہٹ تھی۔۔ اور اسکے سب سے منفرد گردن کو چھوتے بال جو اسے سب میں نمایاں کرتے تھے۔۔
وہ جو اسکو کڑے تیوروں سے گھور رہی تھی اسکے نقوش میں کھو گئی۔۔ آج سے پہلے کب اس نے ایسی نظر سے ماہ بیر کو دیکھا تھا۔۔
اپنی حرکت کا احساس ہوتے اس نے سرعت سے نظروں کا زاویہ بدلا۔۔
ان دونوں کو کلاس میں آنے کا اشارہ کرتی وہ اندر چلی گئی۔۔ سٹوڈنٹس ہمیشہ کی طرح اسکی تعظیم میں کھڑے ہوئے اور خاموشی سے اپنا ٹیسٹ ریوائز کرنے لگے۔۔ صالح نے کلاس میں نگاہ دوڑائی۔۔
آگے ایک سیٹ خالی تھی وہ وہیں بیٹھ گیا جبکہ ماہ بیر آخری رو میں بیٹھ گیا۔۔ معمول کے مطابق پانچ منٹ کے بعد سب سٹوڈنٹس نے چیئرز ارینج کیں اور ٹیسٹ لکھنے لگے۔۔ ارشما کلاس میں راؤنڈ لگانے لگی۔۔۔
ماہ بیر نے جلدی سے ٹیسٹ لکھ کر اسے دیکھا تو وہ اسکی اگلی رو کے پاس اسکی جانب پشت کئے کھڑی تھی۔۔
“اہم!!! میم؟؟۔۔”
اسکی آواز پر ارشما پلٹ کر اس کے پاس آئی۔۔
“جی ؟؟۔۔”
ماہ بیر نے کلاس میں نگاہ دوڑائی۔۔ کوئی بھی ان کی طرف متوجہ نہیں تھا۔۔
اس نے نرم گرم آنکھوں سے ارشما کے چہرے کو دیکھتے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔۔
وہ ماہ بیر کی اس حرکت پر ہقا بقا رہ گئی۔۔
“چھوڑیں میرا ہاتھ کوئی دیکھ لے گا!!!۔۔۔”
وہ اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتی دانت پیس کر آہستہ سے بولی۔۔
پہلے پیار سے بولیں!!!
وہ مزے سے کہہ گیا۔۔
ارشما کا بس نہ چل رہا تھا کہ کچھ کر دیتی۔۔
“نہیں دیکھتی!!!۔۔”
وہ بھی ضد پر آ گئی۔۔
“پیار سے دیکھیں ورنہ۔۔۔۔۔!!!”
ماہ بیر نے مصنوعی سنجیدگی سے دیکھتے اسے وارن کیا۔۔ ورنہ ۔۔۔؟؟؟
وہ آنکھیں سکیڑ کر بولی۔۔
ماہ بیر نے ایک پل کو رک کر اسکی شہد رنگ آنکھوں میں اپنی سرمئی آنکھیں گاڑ دیں۔۔
“ورنہ میں سب کے سامنے “کس” کر دوں گا آپ کو!!!۔۔”
اسکا کہنا تھا کہ ارشما کا چہرہ شرم سے سرخ ہوا۔۔ ماہ بیر دلچسپی سے اسکے سرخ چہرے کو دیکھتا نچلا لب دانتوں میں دبا گیا۔۔
پھر اسکی حالت پر رحم کرتے وہ جھکا اور اسکی کلائی کی ابھری نس کو چوم کر پیچھے ہٹا۔۔
ارشما کو جیسے کرنٹ لگا تھا۔۔ اسکے ہاتھ چھوڑنے پر وہ سرعت سے دور جا کر کھڑی ہوگئی۔۔
اس نے حلق تر کرتے اپنی کلائی کو چادر میں چھپایا تھا۔۔ ماہ بیر اس قدر رومینٹک ہوگا اس نے کبھی نہ سوچا تھا۔۔
بریک کا وقت ہوا تو وہ دونوں کلاس سے باہر نکل آئے۔۔
میں آتا ہوں۔۔!!!
ماہ بیر صالح کو آگاہ کرتا ارشما کے آفس کی طرف گیا تو صالح نے سمجھتے مسکرا کر سے جھٹکا اور گراؤنڈ کے ساتھ بنی سیڑھیوں پر بیٹھ گیا۔۔
دور سے اسے مسکراتے دیکھ کر اسکی پرانی عاشق گھائل ہوئی تھی۔۔
“اف کتنا ہینڈسم ہے صالح اور اسکی سمائل اف اف!!!۔۔۔”
وہ جلدی سے اسکے پاس آئی۔۔
ہیلو!!!
اس نے ہاتھ بڑھایا تو صالح اسے نظرانداز کرتا موبائل پر مصروف ہوگیا۔۔
وہ اپنا سہ منہ لے کر پیر پٹختی وہاں سے چلی گئی۔۔
اسکے جانے کے بعد صالح نے مشائم کو کال کی۔۔۔ اسکے کال اٹینڈ کرنے پر صالح کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔۔ کیا کررہی ہیں آپ؟؟ مجھے مس تو نہیں کررہیں؟؟ ۔۔۔
اوہ بہت مصروف ہیں آپ۔۔۔ آئی سی۔۔۔
دوسری جانب سے کچھ کہا گیا جس پر وہ محظوظ ہوا۔۔ میں تو بہت انجوائے کررہا ہوں۔۔
آ۔۔۔لڑکیاں بھی ہیں پاس کہیں تو آپ کی بات کروا دوں؟؟ اچھا آپ سر پھاڑ دیں گی ان کا؟؟
مشائم کی جیلسی پر اس نے بہت مشکل سے اپنا قہقہہ روکا۔۔
نہیں آپ ٹینشن نہ لیں حالانکہ ایک لڑکی نے میرا ہاتھ پکڑ کر اظہارِ محبّت کیا اور مجھ سے شادی پر بھی راضی ہے لیکن میں نے کچھ خاص دیهان نہیں دیا۔۔
آپ ریلیکس رہیں ایسی لڑکیاں تو روز مل جاتی ہیں جن میں سے ایک آدھ “کس” بھی کر دیتی ہے لیکن آپ۔۔۔۔ دوسری جانب سے ٹھک سے فون بند کر دیا گیا تو وہ سر جھکائے کافی دیر تک ہنستا رہا۔۔
“کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟؟۔۔۔”
ماہ بیر نے اسکے آفس کا دروزہ کھولتے اندر آنے کی اجازت چاہی۔۔
ارشما نے ہاتھ میں پکڑا کافی کا کپ ٹیبل پر رکھ کر اسے تیکھی نظروں سے دیکھا۔۔
“نہیں!!!۔۔۔میں کچھ مصروف ہوں!!!۔۔۔”
اسکے صاف انکار پر ماہ بیر نے سر ہلایا۔۔
“اوکے مطلب آ سکتا ہوں!!۔۔”
وہ کندھے اچکا کر اندر آیا اور دروازه بند کر دیا۔۔ ارشما نے اسکی حرکت پر دانت پیسے۔۔
“میں نے کہا نہ کہ مصروف ہوں!!!۔۔”
وہ خفگی سے بولی۔۔
ماہ بیر اسکے سامنے ٹیبل پر بیٹھ گیا۔۔
“جی آپ مصروف ہیں لیکن میرے ساتھ۔۔!!!”
وہ مزے سے اسکا کپ تھام کر اسی جگہ سے لبوں سے لگا گیا جہاں سے کچھ دیر پہلے ارشما نے پیا تھا۔۔
وہ اسے اپنی جوٹھی کافی پیتے دیکھ کر نظریں جھکا گئی۔۔
” کیوں کرتے ہیں یہ سب؟؟ ایسا کیا ہے مجھ میں؟؟۔۔۔”
وہ دھیمی آواز میں بولی۔۔
ماہ بیر نے شرارت سے نچلا لب دانتوں میں دبایا۔۔
“بہت کچھ خاص ہے آپ میں رخصتی کے بعد بتاؤں گا!!!۔۔۔” اسکے بات کو اس طرح رنگ دینے پر ارشما سٹپٹا گئی۔۔۔ مجال تھی جو یہ بندہ کسی بات کا سیدھا جواب دیتا۔۔ “اچھا چھوڑیں ان باتوں کو یہ کھائیں۔۔ کڑوا کڑوا ہی بولتی ہیں۔۔ میٹھا کھانے سے شاید آپ کا منہ سے پھول جھڑنے لگیں!!!۔۔۔”
وہ اسکے سامنے پڑی چاکلیٹ پیسٹری چمچ میں بھر کر اسکے سامنے کرتا مسکرا دیا۔۔
اس نے چمچ ارشما کے منہ سے لگایا تو اس نے چار و ناچار منہ کھول لیا۔۔ سافٹ چاکلیٹ پیسٹری اسکے منہ میں جاتے ہی گھل گئی۔۔
“تھینک یو!!!۔۔”
وہ سر اٹھا کر اپنے سامنے ٹیبل پر براجمان ماہ بیر کو دیکھ کر نرمی سے بولی جو اس کی بات کا جواب دیے بغیر اسکی جانب جھکا تھا۔۔
“آپ کے ہونٹ پر چاکلیٹ لگی ہے!!!۔۔۔”
اسکی دھیمی آواز پر ارشما نے بےساختہ ہاتھ لبوں کی جانب بڑھایا۔۔
ماہ بیر نے نفی میں سر ہلاتے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور اسکے سر کے نیچے ہاتھ رکھ کر اسکا چہرہ اپنے سامنے کرتا اپنے لبوں کو اسکے لبوں سے جوڑ کر نرمی سے صاف کرتا پیچھے ہٹا۔۔
اسکے لبوں کا لمس محسوس کرتے ارشما کی سانسیں بکھر گئیں۔۔
“ماہ بیر۔۔۔ میں ۔۔۔مر۔۔ جاؤں گی۔۔۔ !!!”
اسکی قربت میں بےحال ہوتی وہ پھولتی سانسوں اور کانپتے لبوں سے بولی۔۔
ماہ بیر نے نرمی سے اسکے گرد حصار قائم کیا۔۔
“شش!! ریلیکس۔۔۔۔”
وہ اسکا سر چوم کر سینے سے لگا گیا تو ارشما نے جھجھک کر اسکے گرد اپنے بازو حائل کر دیے۔۔
