Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 13

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan

ہسپتال کے سامنے اس نے بلیک مرسیڈیز روکی۔۔ دروازه کھول کر وه باہر نکلا۔۔ سامنے ہسپتال کی اونچی عمارت کو دیکھ کر وه دھڑکتے دل سے بھاری قدم اٹھاتا ہسپتال میں داخل ہوگیا۔۔

اس نے سرخ ڈوروں والی نیلی آنکھوں پر گلاسز چڑھا رکھے تھے۔۔ سیاہی مائل عنابی لب سختی سے آپس میں پیوست تھے۔۔

وه ہر اس جگہ ارشما کو ڈھونڈ چکا تھا جہاں اس کے ہونے کا امکان تھا۔۔ ناکامی کا سامنا کرنے کے بعد وه دل پر پتھر رکھے اسے ہسپتالوں میں ڈھونڈتا پھر رہا تھا۔۔ کب سے خوار ہوتا وه شہر کے تقریباً تمام ہسپتالوں کو چیک کر چکا تھا۔۔

گہری سانس لے کر خود کو نارمل کرتے وه ریسپشن پر گیا۔۔

“اکسکیوز می!!!”

اس کے مخاطب کرنے پر اپنے کام میں مصروف لڑکی نے سر اٹھایا اور پیشہ ور انداز میں بولی۔۔

“یس سر میں آپ کی کیسی مدد کر سکتی ہوں!!!”

اورهان نے کنپٹی مسلی۔۔ کیا یہاں ارشما نام کی کسی پیشنٹ کو لایا گیا ہے؟؟ وه دھڑکتے دل سے اسے دیکھتا اسکے جواب کا انتظار کرنے لگا۔۔

“ویٹ سر میں چیک کرتی ہوں” وه ایک فائل نکال کر بھنویں سكیڑتی صفحے پلٹنے لگی۔۔ جبکہ وه بےچینی سے پیر کو ہلاتا بےصبری سے اس کے بولنے کا منتظر تھا۔۔

ارشما؟؟ یہ نام بولا نہ آپ نے؟ مقابل کھڑی لڑکی نے سر اٹھا کر كنفرم کیا۔۔

ہاں یہی نام بولا کیا کوئی پیشنٹ آئی اس نام کی؟؟ وه بےچینی سے بولا۔۔

“نہیں سر اس نام کی کوئی پیشنٹ نہیں آئی۔۔ ہاں شمع نام کی ایک پیشنٹ کو دو دن پہلے یہاں ایڈمٹ کیا گیا تھا۔۔ ریپ وکٹم تھی بہت بری حالت میں تھی جب اسے یہاں لایا گیا تھا۔۔”

وه جھرجھری لیتی اسے بتانے لگی۔۔

اورهان چونکا۔۔ دل نے بے اختیار نفی کی۔۔ نہیں وه اس کی ارشما نہیں ہو سکتی۔۔ ایسا کیسے ہو سکتا کوئی کہ کوئی اسکی بہن کا ریپ کردے۔۔ ہاں وه خود کسی کی بہن بیٹی کی عزت تار تار کر سکتا تھا لیکن اسکی بہن کے ساتھ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔۔

دل کی آواز کو دماغ نے خاموش کروا دیا۔۔ کیسی دکھتی ہے وه کیا آپ نے اسے دیکھا تھا؟؟ وه حلق تر کرتے مشکل سے بولا۔۔

مقابل لڑکی نے ایک پل کو اسے دیکھا۔۔ “جی دیکھا تھا میں نے اسے لیکن آپ اتنی پوچھ گچھ کیوں کررہے ہیں؟؟”

“میری بہن کھو گئی ہے آپ کو جو پتہ ہے پلیز بتائیں مجھے شاید کوئی سراغ مل جائے۔۔”

ہر کسی کو جوتی کی نوک پر رکھنے والا آج ایک عام سی لڑکی سے التجا کررہا تھا۔۔

پتہ نہیں انسان کیوں بھول جاتا ہے کہ جتنا اونچا وه اڑتا ہے اتنی زور سے ہی زمین پر پٹخ دیا جاتا ہے۔۔

“اوکے ۔۔۔ وه سوچ کر بتانے لگی۔۔ درمیانہ قد ہوگا، رنگ بےحد گورا تھا۔۔ اور ہاں شہد رنگ بال تھے اس پیشنٹ کے۔۔ بس اتنا ہی بتا سکتی ہوں میں آپ کو۔۔” وه ہمدردی سے اسے دیکھ کر بولی۔۔

جوں جوں وه بتاتی گئی اورهان کی سانس سینے میں اٹک گئی۔۔

کک ۔۔ کیا آپ مجھے اس کے پاس لے کر جا سکتی ہیں میں بس ایک نظر دیکھ کر تسلی کرنا چاہتا ہوں۔۔

وه مکمل پسینے میں شرابور ہوا تھا۔۔

آئیں میرے ساتھ!!! وه ترحم سے اسے دیکھتی اسے ساتھ لیے ایک راہداری کو مڑ گئی۔۔ ایک قطار میں بنے کمروں میں سے وه كمره نمبر پانچ کا دروازه کھول کر اندر داخل ہوئی۔۔

اس کے پیچھے اورهان بھی بھاری دل سے اندر آیا۔۔

ارے یہ کیا، کچھ دیر پہلے تو یہاں تھی وه اب کہاں گئی؟

وه حیرت سے خالی کمرے کو دیکھتی خود کلامی کرنے لگی۔۔ “میں سمجھ نہیں سکی۔۔ شاید اسکے گھر والے اسے لے گئے ہوں۔۔”

وه اورهان کو دیکھتی ہوئی بولی جو اسکی بات سنے بغیر تیزی سے سنگل بیڈ کے ساتھ رکھی ٹرالی کی طرف آیا تھا۔۔

اس نے جهپٹنے کے انداز میں ٹرالی سے بریسلیٹ پکڑا۔۔ “ییی۔۔ یہ میری بہن کا ہے ۔۔”

وه کانپتے ہاتھوں سے بریسلیٹ پکڑتا نرس کو دیکھ کر بولا۔۔

“اوہ یہ تو اس لڑکی کا تھا جو یہاں ایڈمٹ تھی۔۔”

دیکھیں میں اتنی ہی مدد کر سکتی تھی آپ کی۔۔ باہر چلیں یہاں سے میں ڈاکٹر کی پرمیشن کے بغیر لائی تھی آپ کو یہاں کسی نے دیکھ لیا تو ۔۔۔۔

وہ کمرے سے باہر نکلی تو وه بھی بریسلیٹ پر گرفت مضبوط کیے خود پر ضبط کرتا تیزی سے ہسپتال سے نکل گیا۔۔

آہ!!! وه سر کے بال نوچتا پوری قوت سے چیخا تھا۔۔ پورا كمره بکھرا پڑا تھا۔۔ بکھرے بالوں میں وه لال انگارہ آنکھوں سے آگے آیا اور ڈیکوریشن پیس اٹھا کر پوری قوت سے دے مارا ۔۔۔

کمرے کا بلب چھناکے سے ٹوٹا اور کمرے میں گهپ اندهیرا چھا گیا۔۔ وه وہیں زمین پر بیٹھتا چلا گیا اور گھٹنوں پر سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔۔

قسمت نے بھرپور تمانچہ اسکے منہ پر دے مارا تھا۔۔۔ اسکی جان سے عزیز بہن اس سے چھن گئی تھی۔۔ وه جو آج تک لڑکیوں کی عزتوں سے کھلواڑ کرتا آیا تھا اسکی اپنی بہن کسی کی درندگی کا نشانہ بن چکی تھی۔

کہاں ڈھونڈوں میں تمہیں کیوں ہوا ایسا؟؟ وه خود کلامی کرتا پھپھک کر رونے لگا۔۔ کون کہہ سکتا تھا کہ یہ وہی اورهان ہے جو بےحسی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔۔

اس وقت تنہائی میں وه قسمت کی اس ستم ظریفی پر گھائل ٹوٹا بکھرا پڑا تھا۔ ایسا ٹوٹا وجود جو بظاہر مکمل نظر آتا ہے لیکن اندر سے وه لمحہ بہ لمحہ کانچ کی طرح ٹوٹتا جاتا ہے جو جڑ بھی جائے تو اس پر سانحات و حادثات کی دراڑیں اسے کبھی پہلے جیسا ہونے نہیں دیتیں۔۔

یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وجود آہستہ آہستہ ہوا میں تحلیل ہورہا ہو اور یوں بکھر جائے کہ اسے سمیٹنا بس سے باہر ہوجائے۔۔ وه بھی اپنے ٹوٹے وجود کی کرچیاں سمیٹتا ضمیر کی عدالت میں داخل ہوا تھا۔۔

وه تو معصوم تھی کیا قصور تھا اسکا جو میرے کرموں کی سزا اسے ملی۔۔ یہ سب سوچتا وه بھول بیٹھا تھا کہ انسان کے لئے مکافات عمل کا یہی انداز ہے۔ وه دوسروں کے ساتھ جن اعمال کا بیج بوتا ہے ویسا ہی کاٹتا ہے۔

وہ ضمیر کی عدالت میں شکستہ حال موجود خود کے گریبان میں جھانکتا شرمسار ہوا تھا۔

دوسروں کو آئینہ دکھانا کتنا آسان ہوتا ہے۔ اسکے برعکس جب انسان خود کو آئینہ میں دیکھتا ہے ایسا آئینہ جو اسکی صورت نہیں سیرت کا عکس دکھاتا ہے تو وه اپنے اعمال کی سیاہی اور بدصورتی دیکھ کر سر اٹھانے کے قابل نہیں رہتا۔۔ کیا ہی اچھا ہو اگر لوگ دوسروں کو آئینہ دکھانے کی بجائے خود کو آئینہ میں دیکھنے لگیں تو معاشرہ میں بگاڑ پیدا ہی نہ ہو۔۔

گڈ مڈ ہوتے خیالات کے ساتھ وه وہیں زمین پر سکڑ کر لیٹ گیا۔ سوجھی ہوئی درد کرتی آنکھوں کو بند کر کے وه کسی معصوم خوفزدہ بچے کی طرح اپنے گرد بازو لپیٹ گیا۔

انسان بے رحم ہے لیکن اسکا خالق نہیں۔ اس پر بھی مہربانی ہوئی تھی۔ اسے سوچوں کے زہریلے سانپوں سے نجات ملی تھی جو لمحہ بہ لمحہ اسے ڈستے جا رہے تھے۔ نیند کی دیوی اس پر مہربان ہوئی اور اسے اپنی آغوش میں لیتی چلی گئی۔۔

السلام علیکم خالہ!! رشید سلام کرتا ہوا صحن میں چلا آیا جہاں شائستہ بے تاثر چہرے کے ساتھ چولہے کے آگے بیٹھیں ہانڈی میں چمچہ ہلا رہی تھیں۔

جانے والے انھیں اس ظالم دنیا کے حوالے کرتے جا چکے تھے۔ انسان کتنا بھی روئے گڑگڑائے کچھ بھی نہیں بدلا کرتا۔ چند دن کا سوگ اور پھر وہی زندگی کی بھاگ دوڑ!!! دل میں یادیں ضرور رہ جاتی ہیں لیکن وه بھی وقت کی گرد سے دھندلا جاتی ہیں۔

ان کی بیٹی اور شوہر کو گزرے چند دن ہو چکے تھے۔ تب سے کوئی نہ کوئی روز آ کر ان کے جلے پر نمک چھڑکتا تھا۔ ہمدردی کی آڑھ میں ایسی ایسی باتیں پوچھتے کہ ان کا دل چھلنی ہوجاتا۔ لوگ تو مرے ہوؤں کو بھی معاف نہیں کرتے۔ اب بھی ساتھ والوں کے رشید کو دیکھ کر ان کا دل برا ہوگیا۔

وعلیکم السلام!! وه سنجیدگی سے بولیں۔۔

خالہ!! میں آج ہی شہر سے آیا ہوں،، سن کر بہت دکھ ہوا،، سوہنا رب دونوں کے درجات بلند فرمائے۔ وه دهیمے لہجے میں بولا تو شائستہ کی آنکھوں میں نمی چمکی۔۔

آمین!!

“خالہ آپ لوگوں کی باتوں کو دل پر نہ لیں، میری مانیں تو نظر انداز کردیا کریں۔ لوگ کسی کو نہیں بخشتے” وه انہیں سمجھانے والے انداز میں بولا۔۔

کس کس کو نظر انداز کروں رشید لوگ مرے ہوئے کو نہیں بخشتے۔ میری دھی نے کیا بگاڑا کسی کا جو وه اس کے گزر جانے کے بعد بھی۔۔۔۔۔ وه بات ادھوری چھوڑ کر منہ پر دوپٹہ رکھتیں رونے لگیں۔

اماں کون آیا ہے بڑا لحاظ کر لیا میں نے اب کوئی ہمارے گھر ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے آیا تو میں ساری تمیز بھول جاؤں گی!!!

وه ابھی ابھی نہا کر فارغ ہوتی غسل خانے سے باہر نکلی کہ صحن سے کسی کی باتوں کی آواز سن کر درشتگی سے اونچا اونچا بولتی وہیں آ گئی۔۔ رشید کو دیکھ کر وه خاموش ہوگئی۔

چھوٹی کیسی ہو تم؟؟ وه اس کے بے تاثر چہرے کو دیکھتا ہوا بولا۔

ٹھیک ہوں!! مختصر جواب دے کر وه وہیں بیٹھ گئی۔۔

“اچھا خالہ چلتا ہوں میں پھر آؤں گا کسی مدد کی ضرورت ہو تو ضرور بتائیے گا۔۔” وه اٹھ کھڑا ہوا۔۔

ضرور پُتر!! وه آنسو پونچھتے ہوئے بولیں۔۔

انہیں آنسو پونچھتے دیکھ کر اینارا نے آنکھیں جهپک جهپک کر خود کو رونے سے روکا۔ آنکھیں گلابی ہو کر جلنے لگی تھیں۔۔

“بھائی رشید ایک کام کریں اگر آپ واقعی ہماری مدد کرنا چاہتے ہیں تو جہاں آپ شہر میں نوکری کرتے ہیں وہاں میری بھی نوکری کی بات کر دیں۔۔”

شائستہ چونک کر اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔ یہ کیا کہہ رہی ہے تُو شہر جا کر نوکری کرے گی؟؟

ان کی بات پر وه سیخ پا ہوگئی۔۔ تو کیا کروں؟ بتائیں۔۔ باپ مر گیا میرا۔۔ اب میرے لاڈ اٹھانے والا ہمیں کما کر دینے والا کوئی نہیں ہے۔۔ کیا بھوکے مر جائیں؟ یا میں بھی خودکشی۔۔۔۔۔۔۔

وه اچانک چپ ہوگئی۔۔ منہ پر ہاتھ رکھ کر اس نے سسكی روکی۔۔ “کیا کروں میں اماں آپ ہی بتا دیں!!” وه روتی ہوئی بولی۔۔

شائستہ کو چپ لگی گئی۔۔

“چھوٹی تم پریشان نہ ہو میں اورهان صاحب سے بات کروں گا۔۔”

رشید کے کہنے پر اس نے اتنی تیزی سے سر اٹھایا کہ ہڈی چٹخنے کی آواز آئی۔۔

کک کیا نام بولا آپ نے؟؟ وه سانس روکے اسے دیکھنے لگی۔۔

اورهان صاحب،، کیوں کیا ہوا؟ وه حیران ہوتا ہوا بولا۔۔

اسکی نیلی آنکھیں ہیں؟؟ وه ٹرانس کی سی کیفیت میں بولی۔۔

آ ۔۔ ہاں ۔۔ لیكن تمہیں کیسے پتہ؟؟ وہ مزید حیران ہوا۔۔

اینارا نے مٹھیاں بھینچیں۔۔ کیا یہاں اس کی کوئی حویلی بھی ہے؟؟

بس ایک آخری سوال اور پھر ہر چیز واضح ہوجائے گی۔۔ اسکا دل معمول سے تیز دھڑک رہا تھا۔۔

ہاں شاید لیکن تم کیوں پوچھ رہی ہو؟ اب کی بار وه اسے کریدنے کو بولا۔۔

“کک کچھ نہیں بس یونہی۔۔ مجھے لگا میں جانتی ہوں اس کو۔۔ آپ بات کر کے بتانا مجھے ۔۔ یہ نوکری مجھے ہر حال میں چاہیے” اسکے چہرے کا تاثر عجیب ہوگیا۔۔

“ٹھیک ہے میں بات کروں گا،،، چلتا ہوں۔۔” سلام کرتا وه لمبے ڈگ بھرتا بیرونی دروازه عبور کر گیا۔۔

یہ اچانک کیا ہوگیا تجھے؟ رشید کے جانے کے بعد شائستہ اسکی اڑی رنگت دیکھ کر بولیں۔۔

اماں!! وه کانپتے لبوں کو بھینچ کر ایک پل کو رکی اور پھر گویا ہوئی۔۔

“یہ وہی ہے۔۔ اورهان۔۔ جس نے ازنا کے ساتھ زيادتی کی تھی۔۔” گیلی آنکھوں سے وه انہیں دیکھے گئی۔۔

شائستہ کا رنگ زرد ہوا وه بغیر کچھ کہے کمرے میں چلی گئیں۔۔

ان کے جانے کے بعد وه میکانکی انداز میں چلتی ہوئی چھت پر چلی آئی اور دیوار کے ساتھ کمر ٹکا کر زمین پر بیٹھ گئی۔۔ اسکی آنکھیں نفرت سے جلنے لگیں۔۔

اسکے گال پر آنسو لڑھک کر گرے تو اس نے بے دردی سے انہیں ہاتھ کی پشت سے صاف کیا۔۔

“تمہیں تڑپا تڑپا کر ماروں گی میں، تم نے میری بہن کو مجھ سے چھین لیا تمہاری وجہ سے میرے ابا مجھ سے چھن گئے تمہیں بدتر موت دوں گی میں تمہیں نہیں چھوڑوں گی۔۔۔ انتظار کرو تم تمہاری موت بن کر بہت جلد آؤں گی۔۔” وه روتی ہوئی کہتی جا رہی تھی۔۔

آسمان پر اندهیرا گہرا ہونے لگا جیسے وه بھی اسکے ساتھ سوگ منا رہا ہو۔۔ وه انتقام کی آگ میں جلتی ایک فیصلہ کر کے اٹھی اور نیچے آ کر اپنے کمرے میں جاتی پیکنگ کرنے لگی۔۔

کچھ دیر بعد وه شائستہ کے کمرے میں آئی اور جو کچھ دل میں تھا کہہ دیا۔۔ “اماں مجھے یہاں کسی سے انصاف کی امید نہیں میں اپنا انتقام خود لوں گی۔۔ اور آپ مجھے نہیں روکیں گی۔۔ میں تو کہتی ہوں آپ بھی چلیں میرے ساتھ یہاں اکیلی کیسے رہیں گی؟” خیال آنے پر وه کہنے لگی۔۔

“نہ میں اس انسان کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی میں یہیں ٹھیک ہوں اور تجھے نہیں روکتی میں۔۔ جب تک اسکو اسکے کیے کی سزا نہیں ملے گی مجھے سکون نہیں آئے گا۔۔ جا تُو۔۔”

بے تاثر چہرے سے کہتیں وه پلنگ پر لیٹ کر آنکھیں موند گئیں۔۔

وه اٹھی اور سر پر دوپٹہ لیتی ساتھ والوں کے گھر چلی گئی۔۔ اسکا ارادہ بدل گیا تھا۔۔ اب وه رشید کے ساتھ جانے والی تھی تا کہ “نا” کی گنجائش ہی نہ رہے۔۔