Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 5

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan

نیلی سرد آنکھوں کی چمک قابلِ دید تھی۔۔ ڈریسنگ ٹیبل سے اس نے “کرسچن ڈائر” کی گھڑی اٹھائی اور کلائی میں باندھ کر سیدھا ہوا۔۔ ” Ralph Lauren” کے “Black Tuxedo” میں بالوں کو جیل سے سیٹ کیے وه آئینے میں اپنے عکس پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔۔

وه ایک دنیا تسخیر کر سکتا تھا۔۔ جو وه ٹھان لیتا وه کر گزرنے کی طاقت رکھتا تھا۔۔ اس نے سامنے پڑی بے شمار شیشیوں سے “Enigma” اٹھائی اور خود پر بے دریغ سپرے کرنے لگا۔۔ پورا کمرہ دل آویز مہک سے نہا گیا۔۔

خود پر ایک طائرانہ نظر ڈال کر وه پلٹا اور کچھ فاصلے پر رکھے جوتوں کے قریب آ کھڑا ہوا۔۔

ہاں وه سب کو جوتی کی نوک پر رکھتا تھا۔۔ جو اس مقام سے سر اٹھانے کی ہمت کرتا وه اسے مسل دیا کرتا تھا۔۔ انا، غرور، خود سری، بے حسی اس کا خاصہ تھیں۔۔

“نیو بیلنس” کے سیاہ جوتوں میں اس نے پیروں کو مقید کیا جن کی چمک اس کمرے کی ہر چیز کو ماند کررہی تھی۔۔ وه دلکشی سے مسکرایا۔۔ گهنی داڑھی میں گال میں پڑتا گڑھا نمایاں ہوا۔۔

سیٹی پر کوئی دھن بجاتے وه بھاری قدم اٹھاتا اپنی بلیک مرسیڈیز میں بیٹھ کر “حویلی بارود خانہ سے روانہ ہوگیا۔۔ اس کا رخ “سفید حویلی” کی جانب تھا۔۔

بلاشبہ وه ہر دل پر حکومت کر سکتا تھا اگر ۔۔ اس کے کردار کی سیاہی نے اسکے وجود پر سایہ نہ کیا ہوتا۔۔۔۔

چپکے سے وه چھت پر چلی آئی۔۔ اماں ابا تو گھر نہیں تھے۔۔ اینارا کی سهیلی آئی ہوئی تھی جس سے وه خوش گپیوں میں مصروف تھی۔۔ اس نے موقع غنیمت سمجھا اور چھت پر آ گئی۔۔

دوپٹے کے نیچے چھپا چھوٹا سا بٹنوں والا موبائل اس نے باہر نکالا اور دوسرے ہاتھ میں کارڈ سے نمبر دیکھتی موبائل میں محفوظ کرنے لگی۔۔

کارڈ کو اچھی طرح مٹھی میں دوبارہ دبوچ کر اس نے اس نمبر پر میسج لکھنا شروع کیا۔۔ اس کے دل کی دھڑکن حد سے زیادہ تیز تھی۔۔

دھڑکتے دل سے اس نے پیغام بھیج دیا۔۔ وه چھت پر چکر لگاتی بے چینی سے اسکے جواب کا انتظار کرنے لگی۔۔ کچھ دیر بعد اورهان کا نام چمکا تو اسکی معمول پر آتی دھڑکن یک لخت تیز ہوگئی۔۔

پیغام پڑھ کر اسکا چہرہ شرم سے سرخ ہوگیا۔۔ اورهان نے کوئی رومانٹک سا میسج بھیجا تھا۔۔ اسے سمجھ نہ آیا اب اس کا کیا جواب دے۔۔

آہستہ آہستہ وه اس سے بات کرنے لگی۔۔ جھجھک جھجھک کر جواب دیتی وه مسرور سی چھت پر ٹہل رہی تھی۔۔

ازنا؟؟ ایک گھنٹہ بیت گیا تھا جب عبدلمنان کی آواز پر اسکا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے موبائل دوپٹے میں چھپایا اور چہرے کو بمشکل نارمل کرتی پلٹی۔۔

جی ابا!! عبدلمنان نے اس کے گھبرائے سے چہرے کو دیکھا ۔۔ کیا ہوا تم ٹھیک ہو؟

وہ وہیں کھڑے کھڑے گویا ہوئے تو وه بولی۔۔ “جی بس دل گھبرا رہا تھا اس لئے اوپر چلی آئی۔۔ آپ جلدی آ گۓ؟”

وه موبائل کو مزید چھپا کر بولی تو عبدلمنان اسے جلدی آنے کی وجہ بتانے لگے ۔۔۔ ان کے پیچھے سیڑھیاں اترتے اس نے بے اختیار شکر کا سانس لیا۔۔

آج تو بچ گئی!! دل میں خود سے بولتی وه ان کو کھانا دینے لگی ۔۔

پوری شان سے کھڑی “سفید حویلی” کے سامنے اس نے اپنی بلیک مرسیڈیز روکی۔۔ ٹائر چرچرانے سے فضا میں دھول اڑی تو بنے خان کھانستا ہوا گیٹ پر جا کر کھڑا ہوگیا۔۔ اس نے ایک ہاتھ میں لوڈیڈ رائیفل پکڑ رکھی تھی۔۔

وه اپنی شاندار پرسنیلٹی کے ساتھ باہر نکلا۔۔ ارد گرد گزرتے لوگ مڑ مڑ کر اسے دیکھنے لگے لیکن وه ان سب سے لا پرواہ گیٹ کی جانب بڑھا۔۔

بنے خان اس کے سامنے آ کر کھڑا ہوگیا۔۔ “آپ اندر نہیں جا سکتے؟؟ پہلے شاہ سائیں سے اجازت لینی ہوگی۔۔”

وه اسکی بات پر استہزائیہ مسکرایا۔۔ سائیں؟؟ انٹرسٹنگ!! جاؤ اپنے شاہ سائیں سے کہو ” میر اورهان صمید ” ملاقات کے لئے آیا ہے۔۔ آئی ایم شیور وه انکار نہیں کرے گا۔۔

وه جوتے کی نوک ہلاتا ایک ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈال کر کھڑا ہوگیا۔۔

بنے خان نے ایک گارڈ کو اشارہ کیا تو وه سر ہلاتا اندر چلا گیا۔۔ کچھ دیر بعد ہی اسکی واپسی ہو گئی۔۔

“چلے جائیں اندر!! ” بے تاثر لہجے میں بولتا وه اپنی جگہ جا کر کھڑا ہوگیا۔۔

بنے خان راستے سے ہٹا تو وه مغرور چال چلتا ہوا ارد گرد کا جائزہ لیتا اندر چلا آیا۔۔ وه شاہوں کے زوق سے متاثر ہوا تھا۔۔ لیکن اس بات کا اقرار وه مر کر بھی نہ کرتا۔۔

جونہی وه اندر آیا اس کی نگاہ بلیو پینٹ شرٹ میں عین سامنے کھڑے ماہ بیر سے ٹکرائی جو سرد نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔

سو فائنلی “سلطان ماہ بیر شاہ” سے ملاقات ہو ہی گئی۔۔

وہ اس سے کچھ فاصلے پر آ کر رکا تو تیز خوشبو نے ماہ بیر کے گرد حصار باندھ دیا۔۔

وه ناگواری سے چند قدم پیچھے ہٹا۔۔۔

ارے شاہ سائیں تو ابھی سے ڈر گئے!!

اورهان طنزیہ مسکراہٹ سے اسے دیکھ کر بولا تو ماہ بیر دھیما سا ہنس دیا۔۔

“سلطان ماہ بیر شاہ نے کسی سے ڈرنا نہیں سیکھا۔۔ اور میرے چند قدم پیچھے لینے پر کسی خوش فہی کو دل میں جگہ نہ دو وه کیا ہے نہ کہ مجھے تمہارے وجود سے اٹھنے والی مہک بھی اس قابل نہیں لگتی کہ وه خضدار کے ہونے والے سربراه “سلطان ماہ بیر شاہ” کے وجود کو چھو سکے۔۔”

وه چبا چبا کر بولا تو اورهان کی آنکھوں کی سرد مہری بڑھی۔۔

بیٹھنے کو نہیں کہو گے آخر کو خاص مہمان ہوں تمہارا؟؟ وه اسے زچ کرنے کو بولا۔۔

اوں ہوں !!

ماہ بیر نے نفی میں سر ہلایا۔۔ سرمئی آنکھوں میں استہزا نمایاں تھا۔۔

“بن بلائے مہمان”

“اوہ کم آن میں تو تمہاری طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے آیا تھا لیکن تم تو۔۔۔۔۔۔”

اورهان بات ادھوری چھوڑ کر اس کے غصے سے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھ کر لب دبا گیا۔۔

“ماہ بیر شاہ اپنے دشمنوں سے دوستی نہیں کیا کرتا!!”

وه طیش سے بولا تو اورهان نے معصومیت سے اسے دیکھا۔۔

دشمن؟؟

“تم نے میرے علاقے کی لڑکی کو مارا”

اس کے سوالیہ انداز پر وه چند قدم آگے بڑھتا بمشکل خود پہ قابو کرتا داڑھا تو اورهان بھی سپاٹ چہرے کے ساتھ چند قدم آگے بڑھا۔۔

“تم نے میرے خاندان کو بےعزت کر کے یہاں سے نکالا۔۔ بغیر قصور کے۔۔” اس نے مزید اضافہ کیا۔۔

“یہ جھوٹ ہے!!” ماہ بیر کی پیشانی پر بل پڑے۔۔

“اوں ہوں تمهاری بات فضول ہے”

اورهان پل میں تاثرات نارمل کرتا ارد گرد نگاہ دوڑاتا ایک انداز سے بولا۔۔

“تمہیں غلط فہی ہے کہ وه بے قصور تھے۔۔ تمھارے باپ نے حویلی کو فحاشی کا اڈہ بنا رکھا تھا”

ماہ بیر نفرت سے پھنکارا تو اورهان کے تاثرات پل میں پتھریلے ہوئے۔۔

بسس!!

وہ ضبط کھوتا تیزی سے اسکی طرف بڑھا اور کوٹ سے پسٹل نکال کر اس کے ماتھے پر تان لی۔۔

عین اسی وقت ماہ بیر نے پیچھے کمر پر بندھا ہاتھ آگے کرتے تیزی سے اس پر گن تان لی جو وه ساتھ لے کر آیا تھا کیونکہ ایسے کم ظرف دشمنوں سے کچھ بعید نہیں۔۔

دونوں گہری سانس لیتے شعلہ بار نظروں سے دیکھتے ایک دوسرے پر گن تانے کھڑے تھے۔۔ اس سے پہلے کہ کوئی گن چلاتا عبدالله شاہ نے تیزی سے دونوں کے کے ہاتھ نیچے کرتے ان کے درمیان فاصلہ قائم کیا۔۔

ان کے پیچھے چار گارڈ اورهان پر بندوقیں تان کر کھڑے ہوگئے۔۔

“یہ کیا بچپنا ہے ماہ بیر!! دشمنی کے بھی کچھ اصول ہوا کرتے ہیں۔۔”

ساتھ ہی انہوں نے گارڈز کو واپس جانے کا اشارہ کیا۔۔ اورهان سرد نظروں سے عبدالله شاہ کو دیکھنے لگا۔۔

“آؤ بیٹھ کر بات ہوگی” ان کی دعوت پر وه نفرت سے ہنکارہ بھرتا چند قدم پیچھے ہٹا۔۔

مائی فٹ!!

اسکی بکواس پر ماہ بیر آپے سے باہر ہوتا ایک بار پھر اس جانب جانے لگا کہ عبدالله شاہ نے اسے روک لیا۔۔ وه اپنی حویلی میں دنگا فساد نہیں چاھتے تھے۔۔

“میروں سے پنگا لیا ہے، اتنی آسانی سے نہیں چھوڑوں گا۔۔ اس وقت کا انتظار کرو جب اپنا کہا سچ کر کے دکھاؤں گا۔۔”

وه لفظوں کے زہر اگلتا پلٹ گیا۔۔

“وه وقت کبھی نہیں آئے گا۔۔”

ماہ بیر کی چیلنج کرتی آواز پر وه ایک پل کو رکا اور پھر لمبے ڈگ بھرتا حویلی سے باہر نکل گیا۔۔ بنے خان نے اس کی دھول اڑاتی مرسیڈیز کو دور تک دیکھا تھا۔۔

خاکی چیک پینٹ پر سفید بٹنوں والی شرٹ پہنے وه حویلی میں داخل ہوا۔۔ بازو عادتاً کہنیوں تک موڑ رکھے تھے جس سے اسکے مظبوط بازو نمایاں ہورہے تھے۔۔

اس نے ماہ بیر کو کال ملائی اور اپنی آمد سے آگاہ کیا۔۔ دوسری طرف سے کچھ سننے کے بعد اس نے کال کاٹ دی۔۔

صحن عبور کر کے وه سیڑھیاں چڑھتا وه ایک کافی بڑے کمرے میں داخل ہوا جسے جم کی شکل دی گئی تھی۔۔۔ کمرے میں جا بجا ورزش کے لئے مشینیں رکھی تھیں۔۔

کمرے کے بیچوں بیچ ماہ بیر زمین پر بچھے میٹ کے اوپر شرٹ لیس سا پش اپس لگا رہا تھا۔۔ اس کا جسم پسینے سے تر تھا۔۔ كسرت سے سینے اور بازوؤں کی ناریں ابھر آئی تھیں۔۔

صالح سینے پر بازو باندھ کر دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا۔۔

کہو کیسے ہو یوسف؟؟

وه اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے گویا ہوا۔۔

” اللّه کا کرم ہے!!! “

صالح نے سر کو خم دیا۔۔

اچھی بات ہے!! اماں کیسی ہیں تمہاری؟؟

وه گردن سے چپکے بالوں کو تولیے سے خشک کرتا ہوا بولا۔۔

“اماں بھی اچھی ہیں،،، آپ کو یاد کرتی رہتی ہیں۔۔۔۔”

یہ کہتے ہوئے صالح ہلکا سا مسکرایا کیونکہ انجم ماہ بیر کو یاد تو کرتیں تھی لیکن کوستے ہوئے۔۔

ہمم !! کبهی اس طرف گیا تو آؤں گا تمهاری طرف بھی۔۔

وه اٹھ کر بیٹھتا بوتل کھول کر پانی پینے لگا۔۔

“ضرور آئیے گا ۔۔” صالح نے گھڑی پر وقت دیکھتے ہوئے کہا۔۔

اچھے لگ رہے ہو ۔۔ کہیں جا رہے ہو؟

ماہ بیر نے ایک نظر اسے دیکھا اور مسکرا کر ایک ہاتھ زمین پر رکھ کر دوسرا ہاتھ پشت پر رکھ کر پھر سے پش اپس کرنے لگا۔۔

صالح نے داڑھی كهجائی۔۔ “سائیں پہلی بات کو میں نظر انداز کرتا ہوں معذرت!!”

وه سنجیدگی سے بولا تو ماہ بیر قہقہہ لگا گیا۔۔

یار اپنی تعریف سے اتنا چڑتے کیوں ہو؟

وه مسکراتی نظروں سے اسے دیکھ کر بولا تو صالح اپنی ذات کو موضوع گفتگو بنتا دیکھ کر سٹپٹا گیا۔۔

“چھوڑیں نہ سائیں اس بات کو۔۔ ہاں آپ پوچھ رہے تھے ۔۔۔ میں شہر جا رہا ہوں ضروری کام سے۔۔ سوچا پہلے مل لوں آپ سے۔۔ کہیں کوئی کام تو نہیں۔۔”

وه موبائل پر کسی کو میسج کرتا ہوا بولا تو ماہ بیر اٹھ کھڑا ہوتا نفی میں سر ہلا گیا۔۔

“نہیں فلحال کوئی کام نہیں۔۔ تم آرام سے جاؤ۔۔ اور میری کسی بھی مدد کی ضرورت ہو تو بلا جھجھک کہنا۔۔”

وه اسکا کندها تهپتهپا کر بولا تو صالح نے کچھ کہنے کے لئے لب کھولے ہی تھے کہ موبائل پر آتی کال کو دیکھ کر خاموش ہو کر ماہ بیر کو دیکھتے اس نے کال اٹینڈ کی۔۔

“جبار کا فون ہے” ماہ بیر کی سوالیہ نظروں پر اسے آگاہ کرتے اس نے فون کان سے لگایا تھا۔۔۔

گاڑی کچی سڑک پر رواں دواں تھی۔۔ وه پچھلی سیٹ پر بیٹھی نوٹس ترتیب سے رکھ رہی تھی جو آج درس گاہ میں تمام طلباء میں تقسیم کیے گئے تھے۔۔

اچانک گاڑی جھٹکے سے رکی۔۔ مشائم نے گهبرا کر سیٹ کو تھاما تھا۔۔

کیا ہوا ؟ اس نے جبار سے پوچھا جو اسے خاموش رہنے کا اشارہ کر گیا۔۔

گاڑی کے عین سامنے تین موٹر سائیکلوں پر تین نقاب پوش ہاتھ میں پسٹل پکڑے ان کا راستہ روکے ہوئے تھے۔۔

جبار نے ٹانگ پر ہاتھ لگا کر پسٹل چیک کی اور سرد نظروں سے انہیں دیکھتا سیدھا ہو بیٹھا۔۔

کون ہو تم لوگ؟؟ راستہ چھوڑو!!!

وه درشتگی سے انہیں دیکھتا ہوا بولا۔۔

مشائم کا دل بے طرح گھبرانے لگا۔۔ اس نے دل میں آیت كریمہ کا ورد شروع کر دیا۔۔

“باہر نکل اوئے!!!”

بھاری کرخت آواز پر مشائم کا سانس جیسے تهما تھا۔۔