Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 4

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan

سیاہ بڑی سی چادر کو خود پر درست کرتی وه تیز تیز چلتی یونیورسٹی میں داخل ہوئی تھی۔۔ اس کا رخ اپنے آفس کی جانب تھا۔۔

سپاٹ چہرے کے ساتھ اس نے آفس سے چند ضروری فائلز اٹھائیں اور جس رفتار سے آئی تھی اسی رفتار سے چلتی لیکچر لینے کے لئے مطلوبہ کلاس میں آ گئی۔۔

وه بیچلر لیول کے سٹوڈنٹس کو انگلش پڑھاتی تھی۔۔ اس کا قدم کلاس میں پڑا ہی تھا کہ کلاس میں سناٹا چھا گیا۔۔ سب جلدی سے اپنی جگہوں پر آ بیٹھے۔۔

اس کی موجودگی میں کسی سٹوڈنٹ کی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ وه کلاس کے ڈسپلن کو ڈسٹرب کر سکے کچھ ایسی ہی سخت مزاج کی تھی وه۔۔

ہمیشہ رہنے والے سپاٹ چہرے پر ہر احساس سے عاری سرد آنکھیں۔۔ جامد لب جو صرف ضرورت کے وقت حرکت میں آتے تھے۔۔ مومی چہرے والی چادر سے خود کو ڈھک کر رکھنے والی وه سادہ سی چھوٹی لڑکی ہر کسی پر اپنی جداگانہ شخصیت سے گہرا اثر چھوڑ جاتی تھی۔۔

بغیر کسی پر نظر ڈالے وه ڈائس کی جانب بڑھ گئی۔۔ اپنی فائلز رجسٹر اور پین ڈائس پر رکھ کر اس نے سر اٹھایا۔۔

ہر احساس سے عاری شہد رنگ آنکھوں نے کلاس پر ایک طائرانہ نظر ڈالی۔۔ سٹوڈنٹس خاموش بیٹھے اس کے بولنے کے منتظر تھے۔۔

اچانک کلاس میں کسی نے ہلکی سی سرگوشی کی۔۔ چادر میں چھپی پیشانی پر بل پڑے۔۔

“آؤٹ!!”

اس نے سرخ و سپید ہاتھ کی شہادت کی انگلی اٹھا کر ایک لڑکی کو باہر نکلنے کا اشارہ کیا۔۔ وه لڑکی شرمنده سی اٹھ کھڑی ہوئی۔

Anyone else who can’t maintain discipline in my class can go out!!

( اور کوئی جو میری کلاس میں ڈسپلن برقرار نہیں رکھ سکتا وه باہر جا سکتا ہے)

وه درشتگی سے پوری کلاس پر ایک نظر ڈال کر بولی۔۔

یہ کیا کہہ رہی ہے؟؟ ایک خوبرو لڑکے نے اپنے ساتھ بیٹھے لڑکے سے بےنیازی سے کہا۔۔

“معلوم نہیں!!” وه لا علمی سے شانے اچکا گیا۔۔

یو بوتھ !!

تیز سرد آواز پر دونوں نے ڈائس کے پیچھے کھڑی اس دھان پان سی لڑکی کو دیکھا جو ان کو تھوڑی تھوڑی اپنی ٹیچر لگ رہی تھی کیونکہ اس کی عمر اور قد کاٹھ سے وه ایک سٹوڈنٹ ہی لگ رہی تھی۔۔ اس لئے وه کنفیوز تھے۔۔

اپنے آپ کو اسکی نظروں کے حصار میں پا کر دونوں میں نظروں کا تبادلہ ہوا۔۔

“آپ دونوں سے بات کررہی ہوں میں کھڑے ہوں” اس لڑکی کو اندازه ہوا تھا کہ وه اسکی بات نہیں سمجھ رہے اس لئے اس نے اس بار اردو میں انہیں مخاطب کیا ۔۔

وه دونوں ایک ساتھ کھڑے ہوگئے۔۔ بلیک شرٹ بلو جینز میں پیروں میں بلیک ہی جوگرز۔۔ بازو کہنیوں تک مڑے۔۔ کسرتی جسم۔۔ دونوں ہی بے حد وجیہہ۔۔ سنجیدہ چہروں پر گهنی داڑھی مونچھیں۔۔ وه واضح طور پر باقی سٹوڈنٹس سے عمر میں بڑے تھے۔۔

دونوں نے پشت پر ہاتھ باندھ لئے اور ڈائس کی طرف دیکھتے اس کے بولنے کے منتظر تھے۔۔

لڑکیاں تو لڑکیاں، لڑکے بھی منہ کھولے دونوں کو دیکھ رہے تھے۔۔ اتنے ہینڈسم لڑکے انکی کلاس میں تھے اور انہیں خبر ہی نہیں ہوئی۔۔

آپ میری کلاس میں کیا کررہے ہیں؟؟ وه ماتھے پر بل ڈالے بولی۔۔

“یہ تو تمہاری بہن لگتی ہے”

پہلے والے لڑکے نے اپنے ساتھ کھڑے لڑکے سے ہلکی آواز میں کہا جو اس کا دوست لگتا تھا۔۔ اس کا اشارہ ٹیچر کی پیشانی پر پڑے بلوں کی جانب تھا۔۔

اہمم !! وه کھنکارہ۔۔

“ہم آپ کے نئے سٹوڈنٹس ہیں۔۔ ” دوسرا لڑکا سنجیدگی سے بولا۔۔ اب اتنی انگلش تو آتی ہی تھی ۔۔

لڑکیوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ابھی اٹھ کر ان کے ساتھ بیٹھ جاتیں۔۔ جبکہ لڑکے اب ان سے جیلسی محسوس کررہے تھے۔۔ اتنے حسین لڑکوں کے ہوتے اب کون سی لڑکی انہیں گھاس ڈالے گی۔۔

لیٹ می چیک!! وه سر ہلا کر رجسٹر میں سٹوڈنٹس کی لسٹ دیکھنے لگی جہاں دو ناموں کا اضافہ ہو چکا تھا۔۔

ساتھ ایک نوٹ رکھا تھا جس میں پرنسپل کی طرف سے دونوں سے نرم رویہ رکھنے اور ان پر خاص توجہ دینے کا آرڈر تھا۔۔

اس نے ایک نظر نوٹ پر ڈالی اور پھر سر اٹھایا۔۔

“بیٹھ جائیں۔۔!! میری کلاس میں یہ رول ہے کہ کوئی بھی فضول بات نہیں ہوگی۔۔ بس کام ہوگا۔۔ جو اس رول کو فولو نہیں کرتا وه پھر میری کلاس کا حصہ نہیں رہتا۔۔ آج کی مثال دیکھ چکے ہوں گے آپ۔۔”

وہ فائل سے چند پرنٹڈ پیپرز نکالتی ہوئی سپاٹ لہجے میں بولی۔۔

کلاس چیئرز ارینج کریں۔۔

get up you all have five minutes..

وه کویسچن شیٹس ایک لڑکی کی طرف بڑھا کر

ڈائس کے پاس رکھی چیئر پر بیٹھ گئی۔۔

آپ دونوں نوٹ بكس لے کر آئیں!! ساتھ ہی ان دونوں کو حکم دیتی وه جلدی سے سادہ کاغذ پر پین چلاتی آج کی رپورٹ تیار کرنے لگی۔

“کوئی چپکے سے یوں میری زندگی میں آ جائے گا کبھی سوچا نہ تھا۔۔ یک دم زندگی بہت حسین لگنے لگی ہے۔۔ میرے دل و دماغ پر وه ایک شخص پوری شان سے حکومت کرنے لگا ہے ۔۔ لوگ محبت میں کیوں دیوانے ہوجاتے ہیں اب سمجھ میں آنے لگا ہے۔۔ اے اجنبی تم کسی سیارے کے حجرت زدہ لگتے ہو۔۔ ایسی آنکھیں زمین زادوں کی نہیں ہوتیں۔۔ تم نے مجھے اپنی آنکھوں کے سحر میں جکڑ لیا ہے۔۔ میں دن رات تمہیں سوچتی رہتی ہوں۔۔ تمہیں سوچنا میرا پسندیدہ مشغلہ بن گیا ہے۔۔ ایسا لگتا ہے تم وہی شہزادے ہو جو میرے خوابوں میں کی سر زمین پر روز اترتا ہے۔۔ مجھے یہ قبول کرنے میں کوئی عار نہیں کہ ہاں میں تمہیں چاہنے لگی ہوں!!”

رات کے اس پہر جب سب اپنے بستروں میں دبکے سوئے پڑے تھے ایسے میں وہ بلب کی ہلکی روشنی میں سادہ کاغذ پر قلم گھسیٹ رہی تھی۔۔

کاغذ کو تین تہیں لگا کر اس نے کچھ فاصلے پر بے خبر سوئی اینارا کو دیکھا اور احتیاط سے پلنگ سے نیچے اتر کر کونے میں پڑے صندوق کے پاس آ کھڑی ہوئی۔۔

کاغذ کو اس نے اپنے کپڑوں کے نیچے چھپا دیا جہاں اس نے پہلے سے کارڈ کو چھپا رکھا تھا۔۔

واپس وه پلنگ پر آ کر کروٹ کے بل لیٹ گئی۔۔ دلکشی سے مسکرا کر وه آنکھیں موند گئی۔۔

آدھی رات کا وقت تھا۔۔ حویلی بارود خانہ کے باہر ایک گاڑی کے ٹائر چرچرانے کی آواز نے سکوت میں خلل پیدا کیا۔۔

گاڑی کا دروازه جھٹکے سے کھلا اور سیاہ بھاری جوتوں میں مقید پیر باہر نکلا۔۔ انگیشن سے چابی نکال کر وه باہر نکلا اور حویلی کے قد آور لکڑی کے دروازے سے اندر داخل ہوا۔۔

موبائل کی ٹارچ چلا کر وه سر مستی کے عالم میں چلتا چھ فٹ چوری راہداری میں چلتا آگے بڑھ رہا تھا۔۔

راہداری سے کچھ دور دیوار پر لگے قد آور آئینے میں ایک عکس ابھرا۔۔۔

کسی احساس کے تحت وه چلتے چلتے رکا۔۔ ارد گرد دیکھتا وه اندرونی دروازے سے اندر آیا۔۔ بڑے سے لاؤنج میں قدم رکھتے اس نے لائٹ چلائی۔۔ حویلی روشنی میں نہا گئی۔۔

ہر طرف گرد دیکھ کر اس کے چہرے پر ناگواری چھا گئی۔۔ ہر وقت لش پش رہنے والے اپنے نزدیک ذرا سی گرد تک نہ برداشت کرنے والے کو کیسی جگہ پر رہنا پڑرہا تھا۔۔

چچ!! ابھی تو اس وجود نے بہت کچھ برداشت کرنا تھا۔۔ باہر آئینے میں سایہ مسکرایا اور پھر غائب ہوگیا۔۔

وه ماسٹر بیڈ روم کی جانب بڑھا۔۔ لائٹ چلا کر اس نے پہلے بیڈ شیٹ جھاڑی۔۔ کمرے کی حالت ذرا درست کرتے وه بڑبڑایا۔۔

“واہ میر اورهان صمید جس کے آگے نوکروں کی لائن لگی رہتی ہے وه خود یہ چیپ کام کر رہا ہے”

گندے ہاتھوں کو دیکھ کر اس کی نیلی آنکھوں میں جهنجهلاہٹ ابھری۔۔۔

شاور لے کر وه باہر آیا۔۔ شرٹ پہننے کا تكلف اس نے نہیں کیا تھا۔۔ بھیگے کسرتی سینے پر پانی کی بوندیں پهسلتی نیچے گر رہی تھیں۔۔

اس نے بال خشک کیے اور موبائل پکڑ کر بیڈ پر آرام دہ حالت میں لیٹ گیا۔۔ ان لاک کرتے اس نے گیلری میں جا کر ایک تصویر نکالی۔۔

دوپٹے سے خود کو چھپانے کی کوشش کرتا بھیگا نازک سراپا جس کے وجود کی رعنائیاں عیاں ہورہی تھیں۔۔ یہ تصویر اس نے چپکے سے لی تھی۔۔

“بہت جلد تم میری بانہوں کے مظبوط حصار میں نازک چڑیا کی طرح پھرپھراؤ گی۔۔”

سرخ ڈوروں والی آنکھوں سے اسکی تصویر دیکھتا وه لب دبا گیا۔۔

سویٹ ہارٹ!!

اپنے دونوں بازو سر کے نیچے رکھ کر وه خلا میں گھورتا کل کی بابت سوچنے لگا۔۔ اس طرح لیٹنے سے بازو کے پھولے مسلز مزید نمایاں ہوگئے۔۔

وه تھا مکمل حسن کا شاہکار ،، کسرتی جسم ،، جاہ و دولت۔۔ کیوں نہ لڑکیاں اس کے پیچھے پاگل ہوتیں۔۔ اور اپنی ان خوبیوں سے فائدہ اٹھانا “میر اورهان صمید” کو خوب آتا تھا۔۔

“اٹھ جاؤ چڑیل !!”

وه ازنا کے کان کے پاس چیخی تو وه ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔۔ چند پل تو اسے کچھ سمجھ ہی نہ آیا لیکن جب اپنے سامنے دانت نکالتی اینارا کو کھڑے پایا تو اسکا سفید چہرہ شدید غصے کے زیرِ اثر سرخی مائل ہوگیا۔۔

اینارا لاپرواہی سے اسے دیکھتی باہر صحن میں جا کر نلکے کے پاس بیٹھتی وضو کرنے لگی۔۔ کچھ فاصلے پر شائستہ زمین پر مصلہ بچھائے نماز پڑھ رہی تھیں۔۔

عبدلمنان کے مسجد جانے کے بعد وہ ازنا کو جگانے چل دی تھی۔۔ آسمان کو دیکھ کر دھیمے سے مسکراتی وه تولیے سے ہاتھ منہ خشک کر کے شائستہ کے برابر مصلہ بچھا کر کھڑی ہوگئی۔۔

اندر کمرے میں ازنا نے نیند کے خراب ہونے پر منہ بنایا تھا۔۔ اب نیند کہاں آنے والی تھی۔۔ سو وه بھی نماز کی نیت سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔

عبدلمنان کے مسجد سے واپس آنے تک وه تینوں نماز سے فارغ ہو چکی تھیں۔۔ شائستہ نے چولہا جلا کر اوپر توا رکھا تھا۔۔۔ کیونکہ کچھ دیر بعد عبدلمنان کو کام کے لیے نكلنا تھا۔۔

وه گھر میں داخل ہوئے تو صحن میں چارپائی پر اینارا کے ساتھ ازنا کو دیکھ کر مسکرائے۔۔

“واہ آج تو ہماری بیٹی بھی اٹھی ہے نماز کے لیے۔۔۔” انہیں دلی مسرت ہوئی تھی۔۔ وه ازنا کے سامنے چارپائی پر بیٹھ کر مسکرا دیے تو وه جھینپ گئی۔۔

میں نے اٹھایا ہے اسے ابا جی!! اینارا معصومیت سے بولی تو ازنا نے اس کو پشت پر نا محسوس انداز میں دھموکا جڑا۔۔

اف پاگل عورت!! وه ازنا کو ایک تھپڑ رسید کر کے چارپائی سے ہی اٹھ گئی۔۔

لو شروع ہوگئی ان کی چخ چخ!! آخر کو یہ بڑی کب ہوں گی؟ شائستہ نے گرم پھلکا عبدلمنان کے سامنے رکھتے ہوئے تنگ آ کر کہا۔۔

کیا ہوگیا ہے اللہ نصیب اچھے کرے ان کے۔۔ جب سر پر ذمہ داری پڑے گی تو سمجھدار بھی ہو جائیں گی۔۔ اچھا چلتا ہوں میں اب ۔۔

ناشتہ کر کے وه رومال کاندھے پر ڈال کر دروازے کی جانب بڑھ گئے۔۔

“رب راکھا!!”

ازنا خاموشی سے انکی پشت کو دیکھتی رہ گئی۔۔ اندر کہیں کوئی آواز ابھری تھی۔۔ شاید ضمیر کی آواز!!

شاہوں کی مخصوص گاڑی اونچے نیچے راستوں پر رواں تھی۔۔ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا جبار احتیاط سے گاڑی چلا رہا تھا۔۔ اس کی چمکیلی تیز آنکھیں سامنے مركوز تھیں۔۔

پیچھے بیٹھی مشائم گود میں بیگ رکھے اس پر دونوں ہاتھ رکھے کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔۔

نقاب میں چھپے چہرے پر صرف بھوری دلکش آنکھیں عیاں تھیں۔۔ وه مزید تعلیم کہ لئے بابا سائیں کی اجازت پر “النور درسگاہ” جانے لگی تھی۔۔

وه بے حد خوش تھی۔۔ وہاں کا پرسکون ماحول اسے بے حد بھایا تھا۔۔ وہاں کا نظام عام تعلیمی اداروں سے ذرا مختلف تھا لیکن تعلیم بہت بہترین انداز میں دی جاتی تھی۔۔

وه سبق کو ذہن میں دوہراتی ہوئی سڑک پر آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھ رہی تھی۔۔ اسے کالج کا وقت یاد آ رہا تھا جب وه اپنی سہیلیوں کے ساتھ کالج وین میں جایا کرتی تھی۔۔

“زندگی بھی کتنی جلدی بدل جاتی ہے۔۔ پتہ بھی نہیں چلتا اور “آج” ماضی بن جاتا ہے۔۔ انسان بدل جاتا ہے۔۔ چیزیں پہلے جیسی نہیں رہتیں۔۔ اپنے بیگانے ہو جاتے ہیں۔۔ کچھ بھی تو ایک سا نہیں رہتا۔۔”

وه سر جھٹک کر مسلسل آتی سوچوں کو ذہن سے نکالتی کتاب کھول کر نظر دوڑانے لگی۔۔ درس گاہ کے سامنے آ کر جبار نے گاڑی روک دی۔۔

صالح کے مشورے پر ماہ بیر نے مشائم کو بحفاظت لانے لے جانے کی ڈیوٹی جبار کو سونپ دی تھی۔۔

مشائم اتنے حفاظتی اقدامات پر اکثر الجھ جاتی لیکن اسے اندازه بھی نہیں تھا کہ ماہ بیر کے کتنے دشمن گھات لگائے بیٹھے ہوتے تھے کہ کب موقع ملے اور وه اپنی اوقات دکھا سکیں۔۔

جبار نے باہر نکل کر جلدی سے اسکی طرف کا دروازه کھولا۔۔ اس کا سر مشائم کے احترام میں جھکا ہوا تھا۔۔

وه کرخت چہرے والے جبار کو کوفت سے ایک نظر دیکھ کر سیاہ عبائے میں مکمل ڈھکی باہر نکلی اور سیڑھیاں چڑھتی اندر چلی گئی۔۔

اس کے جانے کی تسلی کر کے وه دوبارہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور گاڑی زن سے اڑا لے گیا۔۔

خنک رات میں کاندھوں پر شال لپیٹے وه جیپ کی چابی انگلی میں گھماتا “سفید حویلی” کے گیٹ سے اندر داخل ہوا۔۔

اونگهتا ہوا بنے خان فوراً الرٹ سا ہوگیا وه صالح یوسف کو اپنی ذات پر بات کرنے کا کوئی موقع نہیں دینا چاہتا تھا۔۔

اپنی سوچوں میں گم وه بنے خان کو نظرانداز کرتا حویلی کے اندرونی داخلی دروازے کو جانے والے راستے پر درميانی رفتار سے جا رہا تھا کہ لان میں نظر پڑتے ہی ایک پل کو رکا۔۔

دو بھیگی پر شکوه آنکھیں چھن سے ذہن کے پردے پر لہرائیں تھیں۔۔

سلوٹ زدہ ماتھے میں بلوں کا اضافہ ہوا۔۔ سرد نظریں سامنے جماتے وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا اندر چلا آیا۔۔

سامنے کسی کام سے جاتی نگہت کو دیکھ کر وہ اسے پکار بیٹھا۔۔ “شاہ سائیں کمرے میں ہیں یا مردان خانے میں؟؟”

نگہت نے سر تا پیر اسے دیکھا۔۔ سیاہ شلوار قمیض میں بدلتے موسم کی وجہ سے سیاہ ہی شال سینے پر لپیٹے وه تند چہرے کے ساتھ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔

اس کے نخوت بھرے انداز پر نگہت کی تیوری چڑھی۔۔

“وه جی میں نہ شاہ سائیں کی ملازم ہوں آپ کی نہیں، شاہ سائیں اپنے کمرے میں ہیں یا مردان خانے میں آپ خود دیکھ لیں۔۔۔ ہنہ!!!”

ہنکارہ بھر کر وه یہ جا وه جا۔۔

صالح نے دانت پیس کر اسکی پشت کو دیکھا۔۔ وه ملازم والی بات خوب سمجھ گیا تھا جس وجہ سے وه اس پر طنز کر کے گئی تھی۔۔

سر جھٹک کر وه مردان خانے کی طرف آیا۔۔ اندر کمرے سے سید محمد عبدالله شاہ اور سلطان ماہ بیر شاہ کی گفتگو کی آواز برابر آ رہی تھی۔۔

وه ایک لمحے کو رکا پھر کمرے کی دہلیز پر کھڑا ہوگیا۔۔ سلام سائیں! آنے کی اجازت چاہتا ہوں!!

عبدالله شاہ اور ماہ بیر بات کرتے ایک پل کو رکے۔۔ وعلیکم السلام!! آؤ یوسف تمہیں اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ ماہ بیر دروازے کی سمت دیکھتا نرمی سے بولا تو وه سر ہلا کر اندر خالی صوفے پر آ کر بیٹھ گیا۔۔

پہلے وه سید محمد عبدالله شاہ کے احترام میں کھڑا رہتا تھا لیکن بہت عرصہ ہوا انہوں نے اسے یوں کھڑے رہنے سے منع کردیا تھا۔۔

کچھ دیر وه ان کی گفتگو سنتا رہا جو علاقے کے مسائل کے بارے میں تھی۔۔ وہ ایک جگہ ہسپتال کھولنا چاہ رہے تھے تا کہ عوام کو علاج معالجے کی بہتر سہوليات قریب ہی ميسر آ جائیں۔۔

جب کمرے میں خاموشی چھا گئی تو وه کھنکارہ۔۔ “سائیں میں اسی بارے میں خبر لایا تھا۔۔”

اسکی بات پر عبدالله شاہ اور ماہ بیر پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوئے۔۔

جس زمین پر ہم ہسپتال بنانا چاہ رہے ہیں وہاں تین لونڈے ذرا پریشانی کر رہے ہیں۔۔ کہتے ہیں کہ یہاں ہسپتال بننے سے ان کے کاروبار کو مسلہ ہو سکتا ہے۔۔ اور یہ زمینیں ان کے زیرِ استعمال ہیں جہاں وه بیرونی ممالک سے درآمد شده مال رکھتے ہیں۔۔ سائیں مجھے تو کوئی اور چکر لگتا ہے یہ۔۔

یہ لونڈے بڑا اڑ رہے ہیں۔۔ اپنے بندے سے بھی چار چار ہاتھ کرنے لگے تھے۔۔ ایسے تو آرام سے یہ نہیں مانیں گے۔۔ سوچ رہا ہوں ان کو پہلے پیار سے سمجھاتا ہوں پھر بھی نہ سمجھے تو بہت طریقے ہیں ہمارے پاس۔۔ کیا کہتے ہیں آپ؟؟

وہ سرد و سپاٹ لہجے میں بولا۔۔

عبدالله شاہ کے ماتھے پر پل پڑے۔۔ “آج کل کے جوانوں کی اتنی ہمت کہ اپنے علاقے کے سردار کے آگے سر اٹھا رہے ہیں۔۔”

وه غیض و غضب سے بولے تو ماہ بیر نے انہیں تسلی دینے والے انداز میں دیکھا۔۔ “بابا سائیں آپ غصہ نہ کریں آپ کی طبیعت خراب ہوجائے گی۔۔ ہم کس لئے ہیں دیکھ لیں گے انہیں بھی۔۔”

وه صالح کو دیکھ کر بولا تو وه وثوق سے سر ہلا گیا۔۔

“دیکھو ان کو ماہ بیر شاہ ضرور دیکھو تا کہ ان کے دل میں تمهاری دھاک بیٹھے۔۔ علاقے کے اگلے “گدی نشین” کا احترام کرنا ان کا فرض ہے یہ بات انہیں خوب سمجھا دو۔۔”

وه سرد مہری سے بول کر اٹھ کھڑے ہوئے اور مردان خانے سے باہر نکل گئے۔۔ ماہ بیر اور صالح نے بھی ان کی تقلید کی۔۔