Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan NovelR50479 Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 6
No Download Link
Rate this Novel
Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 6
Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan
“باہر نکل اوئے!!!”
بھاری کرخت آواز پر مشائم کا سانس جیسے تهما تھا۔۔
جبار کو معاملے کی سنگینی کا احساس ہوا تھا۔۔ وہ خاماش سرد نظروں سے انہیں گھورتا گاڑی کا دروازه کھول کر باہر نکلا۔۔
“کیا چاہیے تمہیں ہم سے؟ پیسہ چاہیے؟ مل جائے گا ۔۔ ابھی ہمیں جانے دو” وه حتی الامکان کوشش کررہا تھا معاملہ آرام سے نبٹ جائے۔۔
“بی بی ساتھ نہ ہوتیں تو تم لوگوں کا وه حشر کرتا کہ ایک دنیا یاد رکھتی!!! ” وہ دل ہی دل میں سوچ سکا۔۔
زیادہ شانہ بننے کی کوشش نہ کر ۔۔ چھوکری کو باہر نکال۔۔ ان کا سرغنہ جبار کو سرد نظروں سے گھورتا اپنے ساتھی سے بولا۔۔
شاہوں کی عزت ہے وه،، بہت پچھتاؤ گے تم!! ابھی بھی وقت ہے لوٹ جاؤ ورنہ شاہ سائیں تم لوگوں کا جو حشر کریں گے نہ۔۔۔۔۔۔
مقابل نے اسکی بات پوری ہونے سے قبل اسکے منہ پر زوردار گھونسا مارا۔۔ جبار نے غصے کی شدت سے مٹھیاں بھینچ لیں۔۔
غیر محسوس انداز میں وه اس انداز میں جھکا جیسے وه درد سے كراه رہا ہو۔۔ جلدی سے موبائل جیب سے نکال کر اس نے پہلا نمبر ڈائل کر دیا جو اسکے مطابق صالح کا تھا ۔۔ دوسری جانب سے کال ریسیو کر لی گئی تھی۔۔
پھرتی سے موبائل پاکٹ میں ڈال کر وه سیدھا ہوا۔۔ “میں آخری بار کہہ رہا ہوں ہمیں جانے دو یہاں سے دس منٹ کی دوری پر شاہ سائیں کی حویلی ہے۔۔ اگر تم نے کچھ کرنے کی کوشش کی تو ان تک بہت جلد خبر پہنچ جائے گی۔۔ وه تمہیں پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالیں گے۔۔”
دھڑکتے دل سے وه اس جگہ کا حوالہ دے گیا جہاں اس وقت وه موجود تھے۔۔
ابھے حرام کے \*\*\*۔۔۔۔۔ ان کا سرغنہ گالی دیتا آگے آیا اور جبار کو مارنے کے لئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اس نے اسکا بازو پکڑ کر پوری قوت سے موڑ دیا۔۔
بس بہت ہوا تھا۔۔ یہ لوگ تو منہ کو آ رہے تھے۔۔ اس نے پھرتی سے پنڈلی سے بندهی گن نکالی اور ان پر تان لی۔۔
“ٹھا!!!”
کانوں کو چیرتی آواز سے گولی چلی تھی۔۔ مشائم نے منہ پر ہاتھ رکھتے اپنی چیخوں کا گلہ گھونٹا تھا۔۔ اس نے خوفزدہ نظروں سے جبار کو نیچے گرتے دیکھا تھا۔۔۔
“جبار کا فون ہے” ماہ بیر کی سوالیہ نظروں پر اسے آگاہ کرتے اس نے فون کان سے لگایا تھا۔۔۔ دوسری جانب سے آتی آوازوں پر اس کے ماتھے پر بل پڑے۔۔ یکا یک گولی کی آواز گونجی۔۔
وه خطرناک تاثرات لئے کمرے سے باہر بھاگا۔۔ یوسف کیا ہوا ہے؟ ماہ بیر کے دل میں خطرے کی گھنٹی بجی۔۔ وه بجلی کی سی تیزی سے اس کے پیچھے آیا تھا۔۔
“سائیں بھروسہ رکھیں مجھ پر ۔۔” ماہ بیر کو تسلی دیتی نظروں سے دیکھتا وه بھاگتا ہوا حویلی سے باہر آیا تھا۔۔
جلدی سے جیپ میں بیٹھ کر اس نے نچلے خانے سے گن نکال کر لوڈ کو اور ریش ڈرائیونگ کرتا ہوا کچی آبادی میں آ پہنچا۔۔ اسے یہاں پہنچنے میں مشکل سے پانچ منٹ لگے تھے۔۔۔
وه گن ہاتھ میں مظبوطی سے تھام کر جیپ سے باہر نکلا۔۔ اسے زیادہ تردد نہیں کرنا پڑا۔۔ کچھ فاصلے پر ہی اسے ایک گاڑی کھڑی نظر آئی۔۔ وه اسے ایک نظر میں پہچان گیا۔۔ وه جبار کی گاڑی تھی۔۔
وه بھاگتا ہوا گاڑی کے پاس آیا جہاں آگے کی جانب وه زمین پر گرا ڈگی پر ہاتھ رکھے اٹھنے کی کوشش کررہا تھا۔۔ اسکی ٹانگ پر گولی لگی تھی۔۔
صالح نے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتے جلدی سے ایمبولنس کو فون کیا۔۔
اٹھو!!!
وه اسے سہارہ دینے کے لئے آگے آیا۔۔ اس کا دل تو کررہا تھا کہ جبار کا یہ حال کرنے والوں کو زندہ زمین میں گاڑ دے۔۔
میں ٹھیک ہوں سر!!! آپ بی بی کو بچائیں وه لوگ انہیں لے گئے ہیں۔۔ ابھی زیادہ دور نہیں گئے ہوں گے۔۔ میری فکر نہ کریں جائیں۔۔۔۔
وه درد ضبط کرتے ہوئے بولا تو صالح نے اسکی پیٹھ تهپتهپائی۔۔ گاڑی سے رومال نکال کر اس نے جبار کی طرف پھینکا۔۔ “یہ باندھ لو ۔۔ کچھ دیر تک ایمبولنس پہنچ جائے گی۔۔”
جلدی میں بولتا وه گن پکڑے کچے راستے پر اتر گیا۔۔
صالح کے جانے کے بعد اس نے کچھ فاصلے پر گرا موبائل اٹھایا اور وائس ریكارڈ کر کے ماہ بیر کے نمبر پر بھیج دی۔۔۔
وه محتاط قدم اٹھاتا چند کچے گھروں کے عقب میں بنے کھیتوں میں اتر گیا۔۔۔ اسکی نظریں پھرتی سے اطراف کا جائزہ لے رہی تھیں۔۔ چند قدم آگے آ کر اسے نسوانی آواز سنائی دی۔۔
اس نے آواز کا تعاقب کرتے ہوئے قدم بڑھانے شروع کر دیے۔۔
چھوڑو مجھے پلیز مجھے جانے دو میں نے کیا بگاڑا ہے تم دونوں کا؟؟
وه اسے گھسیٹتے ہوئے لے کر جا رہے تھے۔۔ وه مسلسل بلکتی ہوئی ان سے فریاد کررہی تھی جن کے دل پتھر کے تھے۔۔
صالح کو بالاخر وه نظر آ گئی۔۔۔ غصے کی شدت سے اسکی گردن کی نسیں پھول گئیں۔۔ وه تیزی سے ان کی طرف آیا اور دونوں کو گردن سے پکڑ کر دور جھٹکا۔۔
وه دونوں اچانک پڑنے والی افتاد پر گھبراتے منہ کے بل زمین پر گرے۔۔ مشائم نے ڈبڈبائی نظروں سے صالح کو دیکھا جو ان دونوں سے گتهم گتها تھا۔۔
ان میں سے ایک نے کچھ فاصلے پر گری پسٹل اٹھائی اور صالح پر فائر کرنا چاہا کہ دوسرے شخص کی گردن دبوچے اس نے زوردار لات اسکے گن تھامے ہاتھ پر ماری جس سے وه بلبلا اٹھا۔۔
اسکا ہاتھ بری طرح چھل گیا تھا جبکہ گن پھر سے اس کی پہنچ سے دور ہوگئی تھی۔۔
مشائم ان سے کچھ فاصلے پر ہوتی خوفزدہ نظروں سے صالح کو دیکھنے لگی جس نے مقابل کا ہاتھ توڑ دیا تھا۔۔
بی بی کو لے کر جائے گا؟ سائیں سے بغاوت کرے گا؟ پتھریلے لہجے میں بولتے اس نے مقابل کی گردن پر شکنجہ مظبوط کیا۔۔ چند لمحوں کا کھیل تھا۔۔ مقابل کی سانسوں کی ڈور ٹوٹی اور اسکا جسم ڈھیلا پڑ گیا۔۔
صالح نے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتے جھٹکے سے زمین پر پهینک دیا۔۔۔ خطرناک تیوروں سے وه بھاگنے کی کوشش کرتے دوسرے نقاب پوش کی طرف بڑھا جس کا چہرہ اب عیاں ہو چکا تھا۔۔
مشائم کو اس لمحے پہلی بار صالح یوسف سے بے پناہ خوف محسوس ہوا تھا۔۔ وه “وه” نہیں رہا تھا۔۔
“مجھ سے بچ کر کہاں جاؤ گے، اگر صالح یوسف کو جان لیتے تو کبھی ایسا قدم نہ اٹھاتے۔۔”
پتھریلے لہجے میں بول کر اس نے پینٹ کی جیب سے پسٹل نکالا۔۔
مشائم نے بے اختیار دونوں ہاتھ منہ پر رکھے۔۔۔
نن ۔۔ نہیں !!
اس کے حلق سے پھنسی ہوئی آواز نکلی۔۔
صالح نے ایک سرد نظر خوف سے کانپتی مشائم پر ڈالی اور ٹریگر دبا دیا۔۔
ویرانے میں ٹھا کی آواز گونجی تھی۔۔ گرم سلاخ مقابل کے ماتھے پر سوراخ کرتی سر کے پیچھے سے نکلتی درخت میں جذب ہوگئی۔۔
اسے اپنا سر چکراتا ہوا محسوس ہوا۔۔ اس سے پہلے کہ وه لہرا کر گرتی صالح نے پھرتی سے آگے آتے اسے تھاما تھا۔۔
“اس دن کیسے شیرنی بن رہی تھی لیکن اصل میں چڑیا سی جان ہے”
ماتھے پر بل ڈالے دل میں سوچتا وه اسے بازو سے پکڑ کر چلتا ہوا کھیتوں سے نکل آیا۔۔ ابھی اس نے چند قدم آگے بڑھائے ہی تھے کہ کسی نے اس کے سر پر بھرپور وار کیا تھا۔۔
“آہ!!!”
درد کی شدت سے اس نے سر کی پشت پر ہاتھ رکھا تھا جہاں سے خون رسنے لگا تھا۔۔۔ اسکی آنکھوں کے آگے اندهیرا چھا گیا۔۔ سہارہ لینے کی خاطر اس نے چند قدم بڑھائے ہی تھے کہ زبردست ٹھوکر کھا کر زمین بوس ہوا۔۔
چل،، جلدی کر!!!
مشائم جو جس کے حواس نیم خوابیده تھے نے ہلکی سی مزاحمت کرنی چاہی لیکن وه شخص اسے گھسیٹتا ہوا اپنی گاڑی تک لایا اور پچھلا دروازه کھولتے زور سے اسے اندر پٹخا۔۔
صالح نے دھندلی آنکھوں سے انہیں دیکھا تھا۔۔۔ رکو!! گاڑی کے چلنے کی آواز آئی تو وه سر کی پشت پر ہاتھ رکھ کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔
گاڑی پر نظریں مركوز کیے وه بھاگ کر کھیتوں میں واپس آیا اور ان میں سے کسی کی موٹر بائیک اٹھا کر سٹارٹ کرنے لگا۔۔ گاڑی اس کی نظروں سے اوجھل ہو چکی تھی۔۔
“شٹ شٹ!!!”
موٹر بائیک پر دو تین مکے مار کر اس نے فل سپیڈ کر کے اسی راستے پر ڈال دی جہاں سے دھول اڑ رہی تھی۔۔
چند منٹوں بعد بالاخر اسے گاڑی نظر آ گئی جو تیزی سے آگے بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔ اس نے شکر کا سانس لیتے موٹر بائیک کی رفتار مزید تیز کی تھی۔۔
دل ہی دل میں خوش ہوتا وه ایک گلی میں داخل ہوتا گاڑی روک کر ونڈو سے گردن باہر نکال کر پیچھے دیکھنے لگا۔۔۔
کسی کو نہ پا کر وه دروازه کھول کر نیچے اترا۔۔ اس کے دو ساتھی تو مارے جا چکے تھے۔۔ لیکن وه بڑا گهاگ شخص تھا۔۔ گاڑی کی آواز سن کر اسکی چھٹی حس نے خطرے کا سگنل دیا تھا۔۔
وه بہانہ کر کے وہاں سے کچھ دور جا کر چھپ گیا تھا۔۔۔ جب راستہ صاف ہوا تو اس نے تاک کر وار کیا تھا جو خالی نہیں گیا تھا۔۔
باہر نکل!!!
مشائم پوری طرح ہوش میں آتی بلکتی ہوئی نفی میں سر ہلانے لگی۔۔
پپ ۔۔ پل ۔۔یز مم ۔۔ مجھے ۔۔۔جا۔۔ا۔نے ۔۔دو !!! اس کے سامنے ہاتھ جوڑتی وه تڑپ تڑپ کر رونے لگی۔۔۔ پتہ نہیں اس کے ساتھ کیسا سلوک ہوگا۔۔ اسے اپنی عزت خطرے میں نظر آنے لگی۔۔
سالی اتنا جوکھم اس لیے کیا تھا تا کہ تجھے جانے دوں۔۔۔۔؟ کرخت چہرے سے اسے دیکھتے اس نے گاڑی کا دروازه کھول کر اسے بازو سے دبوچ کر باہر نکالا اور جلدی سے کھینچتا ہوا ٹانگ مار کر دروازه کھولتا ایک گھر میں داخل ہوگیا۔۔۔
وه مسلسل روتی ہوئی اس سے اپنا آپ چھڑوانے کی کوشش کرہی تھی لیکن اس آہنی گرفت سے نکل پانا اس جیسے نازک وجود کے لئے نا ممکن تھا۔۔
وه صحن میں آئے تو سامنے ایک عورت حیرانی سے انھیں دیکھتی ان کی طرف آ رہی تھی۔۔
یہ۔۔۔۔!!!
وه اسکی بات بیچ میں ہی کاٹ گیا۔۔ “دروازه بند کر ۔۔”
وه جلدی سے دروازه بند کرتی اس تک آئی۔۔ یہ کون ہے کیوں لایا ہے اسے یہاں ؟ وہ کچھ کچھ سمجھ رہی تھی۔۔
“زیادہ بکواس نہ کر میرے سامنے۔۔۔”
وه گرجا تھا۔۔
“میری مدد کریں پلیز مجھے اغوا کر لیا ہے انہوں نے۔۔ مم میں سلطان ماہ بیر شاہ کی بہن ہوں ۔۔۔”
مشائم اس عورت کو دیکھتی ایک سانس میں ہی کہہ گئی۔۔
وه عورت جو اس شخص کی بیوی تھی دنگ سی اسے دیکھے گئی۔۔ “بشیر پاگل ہوگیا ہے تو چھوڑ اسے ۔۔۔”
وه آگے بڑھی تھی اور مشائم کو اس کی گرفت سے چھڑانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔ اس کا دماغ گھوما تھا اپنی بیوی کی اس حرکت پر۔۔ اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ گن نكالی اور یکے بعد دیگرے تین فائر کیے ۔۔
پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھتی وه زمین بوس ہوئی تھی۔۔ فرش پر خون کا تالاب بننے لگا تھا۔۔ اتنا سارا خون دیکھ کر وه بری طرح چیخنے لگی تھی۔۔۔
پھٹی پھٹی نظروں سے زمین پر گری خون میں لت پت لاش کو دیکھتی وه اپنا ہاتھ اس سے چھڑا کر بس یہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی۔۔
اس بے رحم شخص نے اسے لا کر ایک کمرے میں بند کر دیا۔۔۔
گاڑی کا نمبر دیکھ کر وه اسے پہچان گیا تھا۔۔ موٹر سائیکل گلی کے باہر روک کر وه ادھر ادھر دیکھتا گلی میں داخل ہوگیا۔۔ جس گھر کے سامنے گاڑی کھڑی کی گئی تھی وه اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔۔
وه دو سیڑھیاں چڑھ کر آگے ہوا اور آہستہ سے دروازہ دھکیلا۔۔ دروازه چرر کی آواز سے کھل گیا۔۔ اندر آتے ہی اسے عجیب سی بو محسوس ہوئی۔۔
اسکا راز بھی کھلا جب اس نے دائیں جانب آگے آ کر دیکھا تو فرش پر خون ہی خون پھیلا ہوا تھا۔۔ اس کے دل کی دھڑکن سست پڑی تھی۔۔
چند قدم مذید آگے آتے اس نے لاش کو دیکھا تو اس کی جان میں جان آئی۔۔ سامنے بنے باورچی خانے سے کھڑاک کی آواز آئی تو وه چونکا۔۔
گن لوڈ کر کے وه دبے قدموں باورچی خانے کی طرف چلا آیا۔۔۔ اندر ایک شخص اسکی جانب پیٹھ کیے گلاس میں پانی انڈیل رہا تھا۔۔ کسی احساس کے تحت وه پلٹا ۔۔ اس سے پہلے کہ وه کچھ کر پاتا صالح نے چند گولیاں اس کے جسم میں اتار دیں۔۔۔
خس کم جہاں پاک!!! نفرت سے اسے دیکھتا وه سرد لہجے میں بولا۔۔۔
وه جو چیختی چیختی تھک کر دروازه سے پشت لگا کر بیٹھ گئی تھی گولیاں چلنے کی آواز سن کر پھر خوف سے چیخنے لگی۔۔۔
چند سیكنڈ بعد ہی اسے تیز قدموں کی آواز آئی۔۔۔ نن نہیں ۔۔۔ میں ۔۔۔نہیں ۔۔ اللّه ۔۔ ب۔ ۔چا ۔۔لیں مجھے ۔۔۔ وه پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔
یکا یک دروازه کھلا تو وه منہ پر ہاتھ رکھتی بلکنے لگی۔۔ چھچھ۔۔ چھوڑ دو مجھے۔۔۔ مت مارو مجھے۔۔۔
بی بی ۔۔۔۔؟؟؟
جانی پہچانی آواز پر وه خاموش ہوئی تھی۔۔ اس نے بے يقینی سے سر اٹھا کر پیچھے دیکھا تو وه دروازے کے بیچوں بیچ اس کی جانب جھکا ہوا اسے دیکھ رہا تھا۔۔
وه بجلی کی سی تیزی سے اٹھی اور اس کے سینے سے سر لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔
“مار دیا اس نے ۔۔ وو ۔۔۔وه ۔۔ مر ۔۔ گئی۔۔ مم ۔۔میرے ۔۔ سامنے ۔۔۔وه ۔۔ خون ۔۔۔” وه اس کے گرد بازو لپیٹتی اٹک اٹک کر کہتی روتی جا رہی تھی۔۔
وه اپنی جگہ ساکت ہوگیا۔۔۔ یہ کیسا لمحہ اس کی زندگی میں آیا تھا۔۔ اپنے سینے سے لگی اس نازک لڑکی کے دل کی دھڑکن اسے اپنے دل میں دھڑکتی محسوس ہورہی تھی۔۔ اس نے آہستہ سے اسے پیچھے ہٹایا ۔۔۔
“آپ محفوظ ہیں اب ۔۔۔ میرے ہوتے ہوئے آپ کو کچھ نہیں ہو سکتا۔۔۔”
نرمی سے بولتا وه اسے یقین تهما گیا تھا۔۔۔
وه بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھے گئی۔۔ کالی سرد آنکھوں میں آج اسے پہلی بار نرمی دکھی تھی۔۔ ہچکی لیتی وه پیچھے ہٹی ۔۔۔
چلیں؟؟ وه سر جھکا کر اس سے پوچھنے لگا تو وه جلدی سے اسکا ہاتھ پکڑتی بھاگنے کے انداز میں باہر نکلی۔۔۔ اسے خوف تھا کہ کوئی پھر سے آ کر اسے لے جائے گا۔۔
صالح نے سر جھکا کر اسکے ہاتھ کی نرم گرفت میں اپنے مظبوط كهردرے ہاتھ کو دیکھا تھا۔۔
آہستہ سے اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے نکال کر وه بائیک کے قریب آیا اور بائیک سٹارٹ کی۔۔
وه اس کے پاس آتی جھجھک کر کھڑی ہوگئی۔۔۔
“بیٹھیں!!!”
وه سیدھ میں دیکھتا ہوا بولا تو وه شوں شوں کرتی اسے دیکھنے لگی۔۔۔ “میں گر جاؤں گی۔۔۔”
نہیں گریں گی آپ بیٹھ جائیں۔۔!!
اس کے کہنے پر وه ڈرتی ڈرتی بائیک پر بیٹھ گئی۔۔۔
صالح نے بائیک آگے بڑھائی تو وه ڈر کر اسکی شرٹ ہاتھ میں دبوچ گئی۔۔
اسکے ڈر کو محسوس کرتے نارمل سپیڈ سے بائیک چلاتا وه وہاں سے نکل گیا۔۔
