Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 12

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan

سيده مشائم ولد سید محمد عبدالله شاہ کیا آپ کو رانا اسرار خان ولد رانا نصیر خان سے پچیس لاکھ سکہ رائج الوقت کے عوض یہ نکاح قبول ہے؟؟ نکاح خواں نے دوسری بار دوہرایا۔۔

وه عروسی جوڑے میں گھونگھٹ نکال کر بیٹھی بے تاثر چہرے سے گود میں دھرے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی۔۔ کمرے میں موجود افراد میں نظروں کا تبادلہ ہوا۔۔ عبدالله شاہ کے چہرے پر تناؤ در آیا۔۔

ماہ بیر انہیں نظروں ہی نظروں میں تسلی دیتا مشائم کے پاس آن کھڑا ہوا۔۔ اس نے جھک کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔۔ “مشی جواب دو مولوی صاحب کچھ پوچھ رہے ہیں۔۔” وه ہلکی آواز میں اسے پچکارتے ہوئے بولا تو اس نے ماہ بیر کا ہاتھ جھٹک دیا۔۔

ہلکا سا گھونگھٹ ہٹا کر چہرہ اسکی طرف موڑ کر وه سپاٹ چہرے سے اسے دیکھتے گویا ہوئی۔۔ “آئندہ مجھے مشی مت کہیے گا۔۔ آپ کی مشی مر گئی آج!!” سرد نظروں سے اسے گھورتی وه ناگواری سے گھونگھٹ واپس ڈال گئی۔۔

“ق۔۔بول۔۔ ہے!!!” وه ہمت مجتمع کرتی کانپتی آواز میں بولی۔۔ عبدالله شاہ کی جیسے جان میں جان آئی۔۔ نکاح خواں نے دو مرتبہ پھر وہی الفاظ دهرائے۔۔ اس کے اقرار کے بعد مبارک سلامت کا شور اٹھا۔۔

عبدالله شاہ اور ماہ بیر کے جانے کے بعد خواتین کمرے میں داخل ہوئیں۔۔ للّہ عارفہ نے مشائم کو گلے لگا کر اسکا سر چوما۔۔ ان کی آنکھیں نم ہوئی تھیں جبکہ وه بے حس بیٹھی تھی۔۔ ایسا لگتا تھا ہر احساس اپنی موت آپ مر گیا ہے۔۔ دل کی سر زمیں بنجر ہوئی تھی۔۔ باہر ڈھول پیٹے جا رہے تھے جبکہ اس کے اندر گہرے سناٹوں نے بسیرا کیا تھا۔۔

اپنا ہاتھ کسی کی گرفت میں پا کر وه چونکتی ہوش کی دنیا میں آئی۔۔ کوئی خاتون اسکا ہاتھ پکڑ کر اٹھاتیں اسے باہر لے جا رہی تھیں۔۔ اس کے قدم آپ ہی آگے بڑھنے لگے تھے۔۔ اس نے چہرہ موڑ کر اس خاتون کو دیکھا۔۔ کیا وه انھیں جانتی تھی؟ ہاں ۔۔ شاید ۔۔۔ وه اسکی ماں تھیں۔۔ ماں؟؟ وه ان کے ساتھ چلتی تلخی سے ہنس پڑی۔۔

اس کی انکھوں سے آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر گرنے لگے تھے۔۔ اسے ایک سٹائلش سے صوفے پر بٹھا دیا گیا۔۔ اس نے غیر محسوس انداز میں آنسو پونچھ ڈالے۔۔۔ ہال میں موجود خواتین باری باری آ کر اسے مبارکباد اور تحائف دینے لگیں۔۔

کچھ دیر بعد عبدالله شاہ اور ماہ بیر کے ساتھ چلتا ہوا وه ہال میں داخل ہوا۔۔ اس کے ساتھ چلتیں اسکی والده سادگی سے مسکرا رہی تھیں۔۔ وه بے حد خوش تھیں۔۔ باعزت خاندان سے رشتہ جو جڑا تھا اور کیسی من موہنی لڑکی ان کے بیٹے کا نصیب بنی تھی۔۔

وه ماہ بیر کے ساتھ ہلکی پھلکی گفتگو کرتا ہوا ہال میں دلہا دلہن کے لئے مخصوص صوفے کے قریب آ کھڑا ہوا۔۔

مشائم اسکی نظریں خود پر پا کر خوف سے خود میں سمٹ گئی۔۔ وه اس پر اب مکمل استحقاق رکھتا تھا۔۔ یہ سوچ ہی اس معصوم کا دل چھلنی کر گئی۔۔ آہ!! اس نے سسكی روکی۔۔ دل میں کوئی اور ،، نصیب میں کوئی اور ۔۔ ظلم ہی ظلم تھا۔۔۔

وه اب تک کھڑا اسے عجیب سے انداز میں گھور رہا تھا۔۔ بجائے بیٹھنے کے وه الٹے قدم پیچھے لیتا ہال کے بیچوں بیچ آ کر کھڑا ہوگیا۔۔۔ ماہ بیر نے اچنبھے سے اسے دیکھا۔۔

“واہ واہ واہ!!!” وه معنی خیز انداز میں مشائم کو دیکھ کر تالی بجانے لگا۔۔ ہر سو سناٹا چھا گیا۔۔ سب لوگ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگے۔۔

ماہ بیر تیز قدم اٹھاتا اس تک آیا۔۔ کیا ہوا؟؟ سب ٹھیک ہے؟؟ وه اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا۔۔ اسکی آنکھوں میں بے چینی سی بے چینی تھی۔۔۔

خاک ٹھیک ہے!! رانا اسرار نے اس کا ہاتھ جھٹکا۔۔ “ارے لوگو دیکھو،، اپنی بد کردار بہن کو میرے پلے ڈال کر عزت دار خاندان کے چشم و چراغ “سلطاااان ماہ بیر شاہ” کہتے ہیں سب ٹھیک ہے؟؟”

عبدالله شاہ نے بےيقینی سے اسے دیکھا۔۔ وہ جلدی سے اس کے پاس آئے۔۔ “بیٹا تمہیں ضرور کوئی غلط فہی ہوئی ہے۔۔ بیٹھ کر بات کرتے ہیں یہاں تماشہ بنانے کا کیا مقصد؟” وه اسکی آنکھوں میں دیکھتے التجائیہ لہجے میں بولے۔۔

رانا کے چہرے پر محظوظ مسکراہٹ آئی۔۔ وه یہی خوف تو دیکھنا چاہتا تھا ان کے چہرے پر۔۔ “عزت چلے جانے کا خوف”

لوگوں کی چہ مگوئیاں اور اپنی زات کو رسوا ہوتے دیکھ کر اسے ٹھنڈے پسینے آنے لگے۔۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے لہنگے کو مٹھیوں میں بھینچا تھا۔۔

ماہ بیر نے غصے سے اسکی مسکراہٹ کو دیکھا تھا۔۔

بس !! مجھے بہت دھوکے میں رکھ لیا آپ سب نے ۔۔ اگر مجھے پہلے پتہ ہوتا کہ آپ ایک ایسی لڑکی کو میرے پلے باندھ رہے ہیں جو کسی اور کے ساتھ عشق کی پینگیں چڑھا رہی ہے تو میں کبھی ایسی بدكردار لڑکی سے شادی نہ کرتا خدا جانے اپنے عاشق کے ساتھ کیا کچھ۔۔۔۔۔۔۔۔

بس!! ماہ بیر کی برداشت کی حد ختم ہوئی تھی۔۔ اس نے طیش میں آتے اسے دھکا دیا۔۔ ایک لفظ اور نہیں!! وه سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتا گرجا تھا۔۔

عبدالله شاہ نے زور سے آنکھیں میچیں تھیں۔۔ کچھ دیر پہلے کس قدر پر سکون تھے وه انہیں کیا خبر تھی کہ ان کا داماد ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت ان کا سکون برباد کرنے والا تھا۔۔ سب کے سامنے سر اٹھا کر چلنے والے سید عبدالله شاہ کا سر آج جھکا ہوا تھا۔۔

اسرار بیٹا یہ کیا کہہ رہے ہو ہوش میں تو ہو؟ بس کرو۔۔!! اپنے بیٹے کے یکدم بدلے رویے کو دیکھ کر وه دنگ رہ گئی تھیں۔۔ وه آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے خاموش ہونے کا اشارہ کر گئیں۔۔ لیکن وہ آج کہاں خاموش ہونے والا تھا۔۔ اس موقع کا اس نے کتنی شدت سے انتظار کیا تھا۔۔

وه انہیں نظر انداز کرتا ماہ بیر کو غصے سے گھورنے لگا۔۔ کیوں سنا نہیں جا رہا؟ اپنی بہن ۔۔۔۔۔۔

“چٹاخ!!!” اسکی بات پوری ہونے سے قبل ہی ماہ بیر نے ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے منہ پر دے مارا۔۔ سب اپنی جگہ ششدر رہ گئے۔۔ رانا تو غصے سے پاگل ہوگیا۔۔

میں اس غلیظ لڑکی کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔۔ میں سب کے سامنے تمہاری بدکردار بہن کو طلاق دیتا ہوں!!!

اسرار۔۔۔۔ عبدالله شاہ نے اسے روکنا چاہا۔۔

طلاق دیتا ہوں!!؛

اسرار یہ کیا بچپنا ہے؟ اپنی والده کی پکار کو نظر انداز کرتا وه پھر سے داڑھا تھا۔۔

طلاق دیتا ہوں!!!

ہال میں سکتہ چھا گیا۔۔ خواتین منہ پر ہاتھ رکھ گئیں۔۔ ہر کوئی اپنی جگہ ششدر تھا۔۔ چند پلوں میں کیا سے کیا ہوگیا تھا۔۔ عبدالله شاہ نے سرخ آنکھوں سے ماہ بیر کو دیکھا جو آگے بڑھتا رانا کو دھکے دے کر نکال رہا تھا۔۔

رانا نے اسکا ہاتھ جھٹک کر اس کے کان کے پاس جھکتے سرگوشی کی۔۔ “مجھے حیرت ہوئی کہ تم مجھے پہچان نہیں سکے۔۔ نصیر خان میرا باپ تھا جسے تم نے مروا دیا تھا۔۔ اس کا بیٹا ہوں میں۔۔” وه نفرت سے پھنکارا تھا۔۔

ماہ بیر چونکا تھا۔۔ “باپ سمگلر اور بیٹا بد قماش!!!” وه بھی اسی قابل تھا اور تم بھی اسی سلوک کے قابل ہو۔۔

وه سرسراتی آواز میں بول کر پیچھے ہٹا۔۔ اس نے گارڈز کو اشارہ کیا جنہوں نے چند سیکنڈ میں اسے حویلی سے نکال باہر کیا تھا۔۔

رانا کی بوڑھی ماں اس کے سامنے ہاتھ جوڑتیں وہاں سے چلی گئیں۔۔ ماہ بیر نے لب بھینچے انکی پشت کو دیکھا۔۔

اندر سب مہمان چہ مگوئیاں کرتے جانے لگے تھے۔۔ مشائم کانپتی ٹانگوں سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ اسکا دم گھٹنے لگا تھا۔۔ کیا اس قدر ذلت کی حقدار تھی وه؟؟ اس کا رنگ زرد پڑ گیا تھا۔۔ وه لهنگا سنبھالتی دوڑی تھی۔۔

عارفہ اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹتیں تیزی سے اس کے پیچھے گئیں۔۔ وه اندھا دھند دوڑتی سیڑھیاں چڑھنے لگی۔۔ دفعتاً اس کے پاؤں میں لہنگا اٹکا اور وه توازن کھو کر سیڑھیوں سے نیچے گرتی چلی گئی۔۔

مشائم؟؟ عارفہ کی دل خراش چیخ پر ماہ بیر فورا اندر کی طرف بھاگا تھا۔۔

کیسی ہے اب وه؟؟

عبدالله شاہ کی شکستہ آواز پر وه آرام سے بنچ سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔ ہسپتال میں معمول کے مطابق چہل پہل تھی۔۔ دواؤں کی بو، پریشان حال لوگ۔۔

وه خاموشی سے انہیں ساتھ لیے ایک کمرے کے بند دروازے کے پاس لے جس میں لگے گلاس مرر سے وه سفید چادر سے ڈھکے بیڈ پر بے سدھ لیٹی نظر آ رہی تھی۔۔

اس کے ایک ہاتھ پر ڈرپ لگی تھی۔۔ پیشانی پر تازہ تازہ پٹی ہوئی تھی۔۔ بند آنکھوں کے نیچے ہلکے صاف واضح تھے۔۔ سوکھے ہونٹ آپس میں پیوست تھے۔۔

کچھ دیر اسے دیکھنے کے بعد وه وہاں سے ہٹ کر کچھ دور چلے آئے۔۔ ماہ بیر نے کہنا شروع کیا۔۔

“ابھی انجیکشن کے زیرِ اثر سو رہی ہے۔۔ جب ہوش میں آئے گی تو ڈاکٹر ڈسچارج کر دے گا۔۔”

اس کا دل اپنی مشی کی ایسی حالت پر رو رہا تھا۔۔ اس نے گہری سانس خارج کرتے عبدالله شاہ کو سنجیدگی سے دیکھا۔۔

“بابا سائیں بہت ظلم ہوا ہم سے وه اس سب کی مستحق نہیں تھی۔۔۔” تلخی سے کہتا وه پلٹا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہسپتال سے باہر نکل گیا۔۔

پیدل چلتا ہوا وه قریبی پارک میں چلا آیا جہاں اکا دکا لوگ ہی نظر آ رہے تھے۔۔ یہ ایسی سرد شام تھی جو شاہ خاندان کو ہمیشہ یاد رہنے والی تھی۔۔

وه قدرے کونے میں بنے ایک بنچ پر بیٹھ گیا اور خاموشی سے سامنے دیکھنے لگا۔۔ سیاہ شلوار قمیض میں بغیر شال کے وه اداس بیٹھا اداس شام کا ایک حصہ لگ رہا تھا۔۔

سیدھ میں دیکھتے اسکی آنکھوں میں نمی چمکی۔۔ سرخ آنکھوں سے نمکین پانی شفاف قطرے کی صورت نکلا اور گال پر پهسلتا داڑھی میں جذب ہوگیا۔۔

اس سب میں کہیں نہ کہیں وه خود کو بھی قصوروار سمجھ رہا تھا۔۔ ایک غلط فیصلہ کتنوں کی زندگی پر اثر چھوڑ جاتا ہے۔۔ اور وه جو معصوم تھی ۔۔ اس کا قصور کیا تھا کہ وه کسی سے محبت کرتی تھی۔۔؟؟ اس قصور کی اسے اتنی بڑی سزا ملی تھی جس کی وه مستحق بھی نہیں تھی۔۔۔

جھکے سر سے سرمئی آنکھوں سے زمین کو گھورتا اپنے آپ سے الجھ رہا تھا کہ چند فاصلے پر کسی کو رکتا دیکھ کر اس نے سر جھکائے ہی محض نظر اٹھا کر دیکھا۔۔

وه جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔ چند قدموں کے فاصلے پر صالح کو پشت پر ہاتھ باندھے سر جھکا کر کھڑے دیکھ کر اس کا چہرہ غصے سے سرخ پڑ گیا۔۔ گلابی آنکھوں میں لال ڈورے مزید نمایاں ہوئے۔۔

وه پھر آ گیا تھا اپنے شاہ سائیں کے پاس ۔۔ ایسا کیسے ہو سکتا تھا کہ اس کے شاہ سائیں تکلیف میں ہوں اور وه انہیں تنہا چھوڑ دے۔۔ پچھلی باتوں کو نظر انداز کر کے وه اس کے پاس کھڑا خاموشی سے زمین کو تک رہا تھا۔۔

ماہ بیر نے آگے بڑھتے اسکے کندھے پر ہاتھ مارا جس سے وه ایک قدم پیچھے ہٹا۔۔ اس نے خاموشی سے سر اٹھا کر شکایتی نظروں سے ماہ بیر کو دیکھا۔۔

“کیا ؟ کیوں آئے ہو اب یہاں چلے جاؤ اب بھی ویسے ہی جیسے اس دن چلے گئے تھے۔۔” اس نے صالح کو پیچھے دھکیلتے غصے سے کہا۔۔

“سائیں میرا کوئی قصور نہیں تھا” نا چاہتے ہوئے بھی وه شکوه کر گیا۔۔

قصور نہیں تھا تو ایک بار بھی اپنی صفائی میں کچھ کیوں نہیں بولے ہاں؟؟ کیوں میری مار، میرا ہر لفظ برداشت کرتے رہے؟ بول کر وه گہری سانس لیتا اسے گھورنے لگا۔۔

“آپ کو صفائی دینے کی ضرورت نہیں تھی یوسف کو۔۔ گلہ بس یہ ہے کہ آپ نے مجھے غلط سمجھا۔۔”

اسکی بات پر وه لب بھینچ کر اسے دیکھے گیا۔۔ اسے دیکھتے وه دو قدم آگے آیا اور اسے زور سے گلے لگا گیا۔۔

صالح نے بھی آسودگی سے آنکھیں موند کر اس کی پیٹھ کو تهپکا۔۔ جیسے یقین دلا رہا ہو کہ وه اس کے ساتھ ہے ،،، وه اس “مشکل وقت” میں اس کے ساتھ ہے ۔۔

ماہ بیر نم آنکھوں سے اسے دیکھتا اسے ساتھ لیے اسی بنچ پر آ بیٹھا۔۔۔

مشی کو طلاق دے دی اس نے!!! وه ضبط سے بولا۔۔

“جانتا ہوں سب،، سائیں۔۔۔۔ آپ کو برداشت سے کام لینا چاہیے تھا۔۔ بہت نازک معاملے ہوتے ہیں یہ۔۔۔۔ بہن بیٹیوں کی عزت بہت نازک ہوتی ہے۔۔ ایک بار اس پر سیاہ داغ لگ جائے تو کبھی نہیں مٹتا۔۔”

اس کی گہری بات پر وه سر نفی میں ہلا گیا۔۔۔ میں سمجھتا ہوں ان باتوں کو یوسف!! میں نے کوشش کی تھی لیکن وه یہ سب سوچ کر آیا تھا۔۔ جو بھرے مجمع میں میری مشی کو اس طرح ذلیل کر سکتا ہے وه تنہائی میں اس کی ساتھ کیسا سلوک روا رکھتا۔۔۔ افسوس در افسوس کہ ہم سے غلط انتخاب ہوا۔۔۔ میری مشی اس سب کی مستحق نہیں تھی۔۔۔

وه سرخ نم آنکھوں سے آسمان کو دیکھتا بولا۔۔

صالح نے “اس” کی ازیت کا خیال کرتے لب بھینچ لیے۔۔ وه اس کے پاس بھی تو آئی تھی مدد کی بھیک مانگنے۔۔۔ اس نے سر جھٹک کر ماہ بیر کے کندھے کے گرد ہاتھ پھیلا لیا۔۔

سائیں۔۔۔ رب جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے یہ سب ایسے ہی ہونا تھا اور اسی میں کوئی نہ کوئی بہتری ہوگی۔۔ ہر زخم وقت کے ساتھ بھر جاتا ہے۔۔ آپ پریشان نہ ہوں۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔ وہ اسے دیکھتا مظبوط لہجے میں بولا تو ماہ بیر اس کا کندھا تهپک کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔ چلو چلتے ہیں شام گہری ہونے لگی ہے۔۔