Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan NovelR50479 Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 8
No Download Link
Rate this Novel
Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 8
Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan
سلام بابا سائیں!! وہ سلام کر کے عبداللہ شاہ کی کمرے میں داخل ہوا جہاں للّہ عارفہ بھی موجود تھیں۔۔
کیسے ہو ماہ بیر؟؟ وه موبائل ایک طرف رکھتے ہوئے بولے۔۔
اللہ کا کرم ہے بابا سائیں۔۔ آج آپ ناشتے پر نہیں آئے سوچا آپ کی خیریت پوچھ لوں۔۔
ہاں بس دل کچھ عجیب ہو رہا تھا اس لئے میں نے کمرے میں رہنا بہتر سمجھا۔۔۔
سب خیریت تو ہے نا ؟ وه فکر مند ہوا۔۔
للّہ عارفہ کے نوافل ادا کرنے کا وقت تھا تو وہ وضو کرنے کے لیے اٹھ گئیں۔۔
“ہاں ماہ بیر ایک بات کرنا چاہتا تھا تم سے ۔۔” وه گہری سنجیدگی سے بولے تو وه متوجہ ہوا۔۔
جی کہیں سن رہا ہوں !! وہ شال کندھوں پر درست کرتا ہوا بولا۔۔
“مشائم کے لیے ایک رشتہ آیا ہے۔۔” وہ پر سوچ لہجے میں بولے تو ماہ بیر چونکا۔۔
“لیکن بابا سائیں ابھی تو بہت چھوٹی ہے وه ۔۔۔” اسے یہ بات کچھ منآسب نہیں لگی۔۔
ہاں ٹھیک ہے تمہاری بات بھی لیکن بیٹیوں کو وقت سے اپنے گھر کا کر دینا چاہیے۔۔ رشتہ اچھا ہے اچھے حسب و نسب کے لوگ ہیں ۔۔ اور پھر یہاں ان کا ایک مقام ہے۔۔ لڑکے کی ماں ہے باپ حیات نہیں ہے ۔۔ سیدھے سے لوگ ہیں مجھے یہ رشتہ مناسب لگ رہا ہے۔۔
ٹھیک ہے بابا سائیں جیسی آپ کی مرضی!! ان کی بات سمجھتے سر ہلا گیا۔۔
ہمم بہتر مجھے تم سے اسی سمجھداری کی امید تھی۔۔ وه اسکا کندها تهپتهپا گئے۔۔
جبکہ اس سب سے بے خبر وه اپنے کمرے میں بیڈ پہ چت لیٹی ہوئی تھی ۔۔ اس کی نگاہوں کے سامنے گزرے واقعے کے عکس منڈلا رہے تھے۔۔۔ چپکے سے کوئی اس کے دل کے دروازے پر دستک دینے لگا تھا۔۔
اس کی نگاہوں کے سامنے وہ منظر لہرایا جب وه روتی ہوئی اس کے سینے سے لگی تھی۔۔ اس کے چہرے پر شرمگیں مسکان آئی۔۔
گھنی پلکوں کی جھالر گرا کر وہ اٹھ بیٹھی۔۔۔ بال اس کی چوٹی سے نکل کر چہرے کے اطراف میں بکھر گئے ۔۔ سانولے پرکشش چہرے پر حیا کی کشش سے قوس و قزح کے رنگ بکھر گئے۔۔
یوسف !! سرگوشی میں اس کا نام پکار کر وہ کوئی گیت گنگناتی ہوئی بالکنی میں آ کھڑی ہوئی۔۔
بے خیالی میں اسے سوچتے ہوئے وه آسمان کو تک رہی تھی کہ اس کی نگاہ حویلی میں داخل ہوتے یوسف سے ٹکرائی۔۔
ہواؤں نے اس کے دل کے تار پر کوئی انوکھی دھن چھیڑی تھی۔۔ تیز دھڑکتے دل کے ساتھ وہ کمرے میں آ گئی۔۔
بڑی بڑی بھوری آنکھوں میں خوبصورت عکس سمائے وہ سائیں ٹیبل پر دھری شاعری کی کتاب کھول کر بستر پر نیم دراز ہو گئی۔۔
بالوں کو گول مول جوڑے میں لپیٹتی وہ ڈھیلے سے نائٹ ڈریس میں ملبوس سیڑھیاں اترتی ہوئی نیچے آئی۔۔۔ اس نے کچن کی جانب رخ کیا اور شیشے کے جگ میں پانی بھر کر کچن سے باہر آئی۔۔
سب ملازمین کو اس نے واپس بھیج دیا تھا۔۔۔ سو وه گھر میں اکیلی تھی ۔۔ اس کے خیال میں اورہان کسی ضروری کام سے گیا تھا جبکہ حقیقت میں وہ نائٹ کلب میں تھا۔۔ اب تو وہ اس روٹین کی عادی ہوگئی تھی۔۔ اسے اپنے گھر میں اکیلے رہنے سے خوف نہیں آتا تھا۔۔
پانی کا جگ سائیڈ پر رکھ کر وه کچن سے کچھ فاصلے پر موجود ٹی وی لاؤنج میں آئی اور لائٹ آف کر دی۔۔۔ واپس آ کر جگ پکڑتی وہ کچھ ہی سیڑھیاں چڑھی تھی کے بیل بجی۔۔
اس نے وال کلاک پر وقت دیکھا گھڑی رات کے دس بجا رہی تھی۔۔ اس وقت کون ہو سکتا ہے ؟
وہ سوچتی ہوئی دوبارہ نیچے آئی اور جگ کچن میں رکھتی دروازے کی طرف بڑھی۔۔۔ دروازہ کھول کر اس نے نووارد کو دیکھا۔۔
مقابل کو دیکھ کر اس کے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔ بھائی گھر نہیں ہے بعد میں آنا !! ناگوری سے بول کر اس نے دروازہ بند کرنا ہی چاہا کہ رانا نے دروازے پر ہاتھ رکھ دیا۔۔
“ہم تو آپ سے ملنے آئے ہیں!!” کمینے پن سے کہہ کر وہ جلدی سے اندر آیا اور اسے کچھ سمجھنے کا موقع دیئے بغیر دروازہ بند کر گیا۔۔۔
ارشما ڈر کر پیچھے ہٹی۔۔۔ “یہ کیا بدتمیزی ہے نکلو میرے گھر سے !!” وہ چلائی تھی ۔۔
اس کے چیخنے پر وہ ہنستا ہوا اس کی طرف بڑھا۔۔ “ڈر کیوں رہی ہو میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا !! بس تم سے کچھ باتیں اور پیار کرنے آیا ہوں۔۔”
اس کی کریہہ نظریں ارشما کے پورے وجود کا جائزہ لے رہی تھیں۔۔ وہ خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھتی اندر کی طرف بھاگی۔۔۔ جلدی سے کمرے میں جاتے ہی اس نے اندر سے دروازہ بند کیا۔۔
اس نے چٹخنی چڑھانے کے لئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ دروازہ ٹھاہ کی آواز سے کھلا۔۔ دھکا لگنے سے وه کچھ دور زمین پر جا گری۔۔۔
“ارے ارے میری بلبل تم تو ان چھوئی کلی لگ رہی ہو۔۔ لگتا ہے تمہارے گھاگ بھائی نے تمہیں زمانے سے چھپا کر رکھا ہوا ہے۔۔” پھر سے اپنے بھائی کی بات پر وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگا ۔۔
آخر سب اس کے بھائی کے پیچھے کیوں پڑے تھے۔۔
کیا ہوا یوں حیرت سے کیا دیکھ رہی ہو ؟ کیا تم اپنے بھائی کی کرتوتوں سے واقف نہیں ؟ وہ شاطر پن سے بولتا مکروہ قہقہہ لگا گیا۔۔
کیا بکواس کر رہے ہو تم ؟ ہاتھوں کی مدد سے پیچھے ہٹی وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھ کر
کر بولی۔۔
ب\*\*\*\* نہیں جانے من بالکل ٹھیک کہہ رہا ہوں۔۔۔ تمہارا بھائی ایک نہایت گھٹیا انسان ہے۔۔ لڑکیوں کو جال میں پھانس کر ان کے جسم سے کھیلنا تو اس کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔۔ جوا شراب غرض کون سی برائی ہے جو اس میں نہیں پائی جاتی ۔۔۔
جوں جوں وه کہتا جارہا تھا ارشما کے دل کی دھڑکن سست پڑتی جا رہی تھی۔۔ “جھجھ ۔۔۔جھوٹ بول رہے ہو تم !!”
وہ کانوں پر ہاتھ رکھے چیخی تھی۔۔۔
رانا کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ آئی ۔۔ “اوہ تو تمہارے بھائی نے تمہیں اپنے گندے کردار سے بے خبر رکھا ہے۔۔۔”
اپنے بھائی کے بارے میں اتنے گھٹیا الفاظ سن کر وہ رونے لگی تھی۔۔
یقین نہیں آتا تو یہ دیکھو ۔۔۔ کہتے ہی اس نے موبائل پر ایک ویڈیو چلا دی جس میں وہ کسی لڑکی کی بانہوں میں بانہیں ڈالے ڈانس کر رہا تھا۔۔
وہ بے یقینی سے دیکھے گئی۔۔ اس وقت وہ یہ بھی بھول گئی کہ وه شخص زبردستی اس کے گھر میں گھس آیا تھا۔۔۔
اس نے آہستہ سے سر اٹھا کر دیکھا تو اینارا سو چکی تھی۔۔ وه آرام سے اٹھ بیٹھی۔۔۔ بلب کی روشنی میں اس نے وقت دیکھا۔۔ رات کے گیارہ بج رہے تھے۔۔
اس کا دل معمول سے تیز دھڑک رہا تھا۔۔ اورہان کی بات مانتی وه اپنے گھر والوں کو دھوکہ دینے جا رہی تھی۔۔۔ پسینے سے تر پیشانی کو اس نے ہاتھ کی مدد سے صاف کیا اور کمرے کے دروازے سے باہر جھانکا۔۔
شائستہ چارپائی پر بے خبر سوئی ہوئی تھیں۔۔ جبکہ عبدالمنان چھت پر جا کر سو چکے تھے۔۔ ان کے گاؤں میں اتنے وقت تک سب آدھی نیند پوری کر چکے ہوتے تھے۔۔۔۔
طے شدہ پلان کے مطابق وہ چادر سے خود کو اچھی طرح ڈھک کر چاپ پیدا کیے بغیر آرام سے دروازه کھولتی باہر نکل آئی۔۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔۔۔ “میں بس مل کر واپس آ جاؤں گی، کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا۔۔”
خود کو تسلی دیتی وه جلدی سے سڑک کی طرف آئی جہاں وه پہلے سے موجود اس کا انتظار کررہا تھا۔۔ اسے آتے دیکھ کر وه مسرور ہوتا فرنٹ سیٹ کا دروازه کھول کر اسے دیکھنے لگا۔۔
وه جھجھک کر بیٹھ گئی۔۔۔ اس کے بیٹھتے ہی وه مزید وقت کا ضیاع کیے بغیر گاڑی چلاتا وہاں سے نکل آیا ۔۔۔۔ دس پندرہ منٹ کی ڈرائیو کے بعد اس نے حویلی بارود خانہ کے باہر گاڑی روکی تھی۔۔۔
یہ کیسی خوفناک جگہ ہے!! گاڑی سے اترتے ہی وه خوفزدہ نظروں سے چاروں طرف دیکھنے لگی۔۔ ہر طرف سناٹا اور کسی ذی روح کا نام و نشان تک نہ تھا۔۔
ریلیکس ہنی!! ڈر کیوں رہی ہو میں تمہارے ساتھ ہوں نہ؟ وه اسے گہری نظروں سے دیکھتا اس کا ہاتھ تھام کر گیٹ دهكیل کر اندر آیا۔۔
وه تھوک نگل کر اس کے ساتھ چلتی ارد گرد کا جائزہ لینے لگی۔۔ ایسا لگ رہا تھا وه کسی آسیب زدہ جگہ پر آ گئی ہے۔۔
نادان تھی وه جو کسی آسیب کے خیال سے خوف زدہ ہورہی تھی کیا انسان سے بڑا بھی کوئی آسیب ہے؟؟
اورهان نے اندر آ کر دروازه بند کیا اور لائٹس آن کر کے اسے لئے ایک کمرے میں آیا۔۔ اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے وه کولڈ ڈرنکس لینے کے لیے کچن میں چلا گیا۔۔
وه سکڑ کر بیڈ کے کنارے بیٹھتی کمرے کا جائزہ لینے لگی۔۔۔ اندر سے اسکا دل کسی نازک چڑیا کی طرح پھڑپھڑا رہا تھا۔۔
حلق تر کرتے اس نے اندر آتے اورهان کو دیکھا جو ٹرے میں دو گلاس رکھے اسی کی طرف آ رہا تھا۔۔ ٹرے کو بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھتے وہ اس کے قریب بیٹھ گیا۔۔
ازنا نے اسے اپنے قریب پا کر نظریں جھکا لیں۔۔
تم بہت خوبصورت ہو!!؛ وه اچانک سے اسکی کمر میں ہاتھ ڈالتا اسے قریب کر گیا۔۔
او۔۔ر۔۔ہان!! وه جھجھک کر اس کا ہاتھ کمر سے ہٹا گئی۔۔۔
یہ ۔۔ ٹھیک نہیں ہے !! مم ۔۔ میں بس ۔۔ ملنے آئی ہوں آپ سے ۔۔۔ آ ۔۔ آپ دیکھنا چاہتے تھے نہ ۔۔۔!!
وه اسے ایک نظر دیکھتی انگلیاں چٹخا کر بولی۔۔۔
“ہاں دیکھنا چاہتا تھا لیکن دیکھوں کیسے تم تو اس بڑی سی چادر میں چھپی ہوئی ہو۔۔۔ اسے اتار دو۔۔۔!!!
اورهان کی بات پر وه ہچکچا کر اسے دیکھتی آہستہ سے چادر اتار گئی۔۔۔
اس نے اورهان کے کہنے پر سرخ رنگ کا لباس پہن رکھا تھا۔۔ دوپٹہ گلے میں رسی کی مانند پڑا تھا۔۔
وه گہری اندر تک اترتی نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔۔ ہاٹ!!!
اس کی گہری وجود کا طواف کرتی نظروں پر وه خود میں سمٹ گئی۔۔۔ گالوں پر سرخی ابھر آئی۔۔۔ دل دھونکنی کی مانند دھڑک رہا تھا۔۔۔
وه آنکھوں میں خمار بھرے اسے دیکھے گیا۔۔ حسن اور حیا کا ایسا حسین امتزاج اس نے پہلی بار دیکھا تھا۔۔ آج سے پہلے جو بھی لڑکیاں اسے مل چکی تھیں وه سب ماڈرن اور بولڈ تھیں۔۔
اس کے سرخ لبوں کو دیکھتا وه اس کی جانب جھکا ۔۔
اورهان !! وه گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ مقابل کی آنكهوں میں پل کو سرد مہری آئی۔۔
کیا ہوگیا ہے جان میں تو بس تمہارے وجود کی دلکشی کو سراہ رہا ہوں!!! وه اس کے مقابل آتا ہاتھ کی پشت سے اس کے گال کی نرمی محسوس کرنے لگا۔۔۔
وه ڈر کر ذرا سا پیچھے ہٹی تو اب کی بار اسے غصہ آ گیا۔۔ “ٹھیک ہے مجھے پتہ چل چکا ہے تمهارے محبت کے سب دعوے جھوٹے تھے۔۔۔ جب تم مجھے اپنے قریب برداشت ہی نہیں کر سکتی تو۔۔” وه بات ادھوری چھوڑ گیا۔۔
باہر آ جاؤ میں واپس چھوڑ آتا ہوں تمہیں۔۔!!
وه کمرے سے نکلنے ہی لگا تھا کہ اس کی توقع کے مطابق ازنا نے جلدی سے آگے آتے اسکا بازو پکڑ کر روک دیا۔۔
“اورهان میں بہت محبت کرتی ہوں آپ سے ۔۔ لیکن یہ سب مجھے عجیب لگ رہا ہے۔۔۔ اگر کسی ۔۔۔۔ اس نے تھوک نگلا ۔۔۔۔مم ۔۔۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔ وہ رو دینے کو ہوئی۔۔۔
ڈارلنگ تم میری ہو بہت جلد میں تم سے شادی کر کے تمہیں لے جاؤں گا۔۔۔ کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا ٹرسٹ می!!
وه اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتا اسے یقین دلانے والے انداز میں بولا۔۔۔
وہ ضمیر کی آواز کو نظر انداز کرتی سر ہلا گئی ۔۔۔
اس کی رضامندی پر وہ بے پناہ خوش ہوتا اسے بانہوں میں بھر گیا۔۔۔
اس کے لمس پر وه پاگل کرتے دل کو بمشکل سنبهالتی اس کی گردن کے گرد بازو حائل کر گئی۔۔
اورهان نے اسے کسی قیمتی شے کی طرح احتیاط سے بیڈ پر بٹھایا۔۔ سائیڈ ٹیبل سے دو گلاس اٹھا کر ایک ازنا کی جانب بڑھایا جس میں شراب تھی۔۔۔
وه منہ بناتی اس عجیب و غریب مشروب کو حلق میں انڈیل گئی۔۔ اب وه مزید چوں چراں کر کے اورهان کو خود سے خفا ہونے کا موقع نہیں دینا چاہتی تھی۔۔۔ جب کل بھی اسی کی ہونا ہے تو آج کیوں نہیں۔۔۔ خوش فہیوں کے جال بنتی وه اسے دیکھنے لگی جو اپنا کوٹ اتار کر اسکی طرف بڑھا تھا۔۔۔
(دد ۔۔ دور رہو مجھ سے ۔۔۔ رانا کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر وه چیخی تھی۔۔ )
آرام سے دوپٹہ اس کے وجود سے الگ کرتا وه اسکے وجود کی رعنائیوں سے آنکھوں کو سیراب کرنے لگا۔۔
(وه مکروہ قہقہہ لگا کر آگے آیا تھا اور ارشما کو زمین سے اٹھا کر بیڈ پر پٹخا تھا۔۔ اپنی گندی نظریں اس کے وجود پر گاڑتا وه اسے لرزنے پر مجبور کر گیا۔۔)
اس نے نرمی سے اس کے بالوں کو کان کے پیچھے اڑس کر جھکتے اس کے گال کو چوما تو وه شرما کر آنکھوں پر پلکوں کی جھالر گرا گئی۔۔
(ارشما کو بیڈ سے بھاگنے کی کوشش کرتے دیکھ کر اس نے اسے بالوں سے پکڑ کر جھٹکا دیا اور اس کے کومل گالوں کو اپنے كهردرے ہاتھوں کے تهپڑوں سے سرخ کر دیا۔۔۔ وه پوری قوت سے چیختی اس سے اپنا آپ چھڑوانے کی کوشش کررہی تھی۔۔)
وه اسکی گردن پر جھکا تو وه لہو چھلکاتے چہرے کے ساتھ رخ موڑ گئی۔۔ اس کی اس ادا پر وه محظوظ ہوتا قہقہہ لگا گیا جس پر وه شرما کر تکیے میں منہ چھپا گئی۔۔۔
(رانا نے اسے دونوں ہاتھوں سے تھام کر جھٹکے سے اپنے سامنے کیا اور اس کی گردن پر اپنی درندگی کے نشان چھوڑتا چلا گیا۔۔۔ اپنے نازک وجود پر اسکی درندگی برداشت نہ کرتے وه اسکی بانہوں میں لہرا گئی۔۔۔ اس معصوم کی اس ادا پر پاگل ہوتا وه اسے بیڈ پر لٹا کر اس پر اپنا سایہ کر گیا۔۔۔)
اس کی بڑھتی شدتوں پر وه ہلکان ہوتی گہری سانسیں لیتی اس کے سینے پر ہاتھ رکھ گئی ۔۔۔ اورهان نے اس کی نیم وا آنکھوں میں دیکھتے اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے شروع کیے۔۔۔
(اس کے بے سدھ نازک وجود کو دیکھ کر رانا نے ایک جھٹکے سے اپنی شرٹ اتار کر دور پھینکی۔۔۔ اسے اپنی طرف جھکتے پا کر وه روتی ہوئی کمزور سا احتجاج کرنے لگی۔۔)
ازنا کے کاندھوں سے شرٹ کھسکا کر وه اس کے وجود پر اپنی چھاپ چھوڑتا چلا گیا۔۔۔ باہر بهیگتی رات ان کے اعمال کی سیاہی کو اپنی تاریکی میں ضم کرتی پرسکوت ہوئی تھی۔۔
چھناکے کی آواز سے حویلی کے دالان میں لگا آئینہ ٹوٹا تھا۔۔۔ لیکن وه ہر شے کو فراموش کیے ایک دوسرے میں مگن تھے۔۔ اپنی کامیابی پر خوش ہوتا شیطان دبے قدموں کمرے سے باہر نکلا تھا۔۔۔
(اسکی آہوں چیخوں کو نظر انداز کیے وه اس وقت حیوان بنا اس کے وجود کو تار تار کرتا گیا۔۔۔ اپنی حوس پوری کر کے جب وه کچھ ہوش میں آیا تو کچھ فکرمند ہوا۔۔۔ اس نے وقت دیکھا ۔۔۔ رات کے دو بج چکے تھے۔۔ جلدی سے دروازه کھول کر باہر آتے اس نے باہر دیکھا۔۔۔
ہر طرف ہو کا عالم تھا۔۔۔ بس یہی وقت تھا جس میں وه اپنی کرتوت پر پرده ڈال سکتا تھا۔۔۔ وه واپس آیا اور اسکی سانسیں چیک کیں جو بہت دهیمی چل رہی تھی۔۔۔ اسے لگا وه اب بس چند گھنٹوں کی مہمان ہے۔۔
وه اسے بستر کی چادر میں لپیٹ کر اٹھاتا باہر نکلا اور اپنی گاڑی کی پچھلی سیٹ پر ڈال کر جلدی سے ڈرائیونگ سیٹ پر آ بیٹھا۔۔۔
قدرے سنسان علاقے میں آ کر اس نے گاڑی روکی اور اسے کوڑے کے ڈھیر میں چھپا کر واپس آ کر گاڑی میں بیٹھتا وہاں سے نکل گیا۔۔ )
وہ اس کے برہنہ سینے پر سر رکھے شراب کے زیر اثر بے سدھ سو چکی تھی۔۔ اس کے وجود کو خود میں بھینچ کر وه کروٹ بدل گیا۔۔۔ اپنی كاميابی پر وه بے حد مسرور تھا۔۔۔ اس بات سے بے خبر کہ قسمت نے اس کے ساتھ کیا کھیل کھیلا تھا۔۔۔
اے بنتِ حوا تُو کن کی باتوں میں آ جاتی ہے؟
تیری عصمت کو رول کر یہ اسے اپنی چاہت کا نام دے دیتے ہیں۔۔۔ کیا تو اتنی نادان ہے جو ان کی باتوں میں آ جاتی ہے؟ اپنے بوڑھے ماں باپ کی عزت خاک میں ملا دیتی ہے؟ اپنے خالق کے فرمان کو بھلا کر شیطان سے یاری لگا لیتی ہے!! اے بنت حوا تو کن کی باتوں میں آ جاتی ہے؟؟
“امی جان آپ !! آئیں نہ۔۔۔”
للّہ عارفہ کو کمرے میں آتا دیکھ کر وه مسکرا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ وه سنجیدہ سی اس کے پاس آ کر بیٹھ گئیں تو وه بھی ان کے برابر بیٹھ گئی۔۔۔
کیا بات ہے آپ کچھ پریشان لگ رہی ہیں!!
وه ان کے سنجیدہ تاثرات دیکھ کر پوچھ بیٹھی۔۔
“نہیں پریشان تو نہیں یہ سوچ رہی تھی کہ پتہ ہی نہیں چلا اور میری بیٹی اتنی بڑی بھی ہوگئی ہے۔۔۔ ” وه اس کے سر پر پیار کرتی ہوئی کہنے لگیں۔۔۔
ارے آج آپ کو یہ بات کیسے یاد آ گئی؟ وه ہستی ہوئی بولی۔۔
“تمہارے بابا سائیں نے تمہارا رشتہ طے کر دیا ہے” انہوں نے جیسے اس کے سر پر بم پھوڑا تھا۔۔۔
وہ چند لمحے تو نہ سمجھ آنے والے انداز میں انہیں دیکھے گئی۔۔۔ جب بات پلے پڑی تو بے يقینی سے انہیں دیکھتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
“یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ میں ابھی شادی نہیں کروں گی!!” قابو کرنے کے باوجود اسکی آواز بلند ہو گئی۔۔
عارفہ نے خوفزدہ نظروں سے دروازے کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
