Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 14

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan

اہم!!! دروازه کھٹکھٹا کر اندر آتا وه کھنکارا تو صحن میں بچھی چارپائی پر دراز صالح اسے دیکھتا اٹھ بیٹھا۔۔ ارے شاہ سائیں آپ؟؟ خوشگوار حیرت سے اسے دیکھتا اٹھ کر وه ماہ بیر سے بغل گیر ہوا۔۔

اماں؟؟ انجم کو آواز دے کر وه ماہ بیر کو دیکھ کر خفیف سا مسکرایا۔۔ “آئیں اندر چلیں باہر ٹھنڈ ہے” آسمان پر بادلوں کے جھرمٹ کو دیکھتا وه ماہ بیر سے مخاطب ہوا۔۔

خیر ہے یوسف صاحب!! تم اتنی ٹھنڈ میں اس حلیے میں یہاں ۔۔۔ “اس نے صحن کی طرف اشارہ کرتے اسکی ڈھیلی سی سیاہ ٹی شرٹ ٹراؤزر پر چوٹ کی” بیٹھ سکتے ہو تو میں کیوں نہیں ۔۔ اتنا دم تو مجھ میں بھی ہے۔۔ یہ سرد موسم ماہ بیر کا کچھ نہیں بگاڑتے۔۔

وه آرام سے چارپائی پر بیٹھتا مسکرا کر بولا تو صالح بھی سر جھٹک کر مسكراتا اس کے برابر بیٹھ گیا۔۔

اتنے میں انجم ایک ٹرے میں چائے اور کچھ لوازمات لئے آ گئیں۔۔ السلام علیکم !!! کیسی ہیں آپ؟ ماہ بیر اٹھتا سلامتی بھیج کر ان کے سامنے جھکا تو وه ٹرے چھوٹی میز پر رکھتیں اس کے سر پر پیار کر گئیں۔۔

وعلیکم السلام!! رب سوہنے کا شکر۔۔ آپ کیسے ہو؟ وه زبردستی مسکرا کر اس سے حال چال پوچھنے لگیں۔۔

صالح نے منہ پر ہاتھ پھیرتے مسکراہٹ چھپائی۔۔ یہ اماں بھی نہ!!!

“میں بھی ٹھیک ہوں۔۔ آپ کو کوئی بھی مسلہ ہو تو بلا جھجھک مجھے بتائیے گا” وه خوش دلی سے بولا تو انجم منہ میں بڑبڑائیں۔۔

“تم ہو مسلہ چپکا رہتا میرے پتر سے” انکی بڑبڑاہٹ صالح کو سمجھ آ گئی کیونکہ وه ان کا ہر انداز پہچانتا تھا۔۔ وه بے اختیار کھانسنے لگا۔۔

اماں کہہ رہی ہیں آپ کے ہوتے ان کو کیا مسلہ!! ماہ بیر کو دیکھ کر کہتے اس نے گردن موڑ کر انجم کو آنكهیں دکھائیں۔۔

اچھا چلتی ہوں میں کام کر رہی تھی۔۔۔آپ دونوں گپ شپ لگائیں ویسے بڑی بے وقوفی کی صالح نے خود تو پتہ نہی کس کلموہی کی یاد میں یہاں اتنی ٹھنڈ میں پڑا رہتا ہے آپ کو بھی اتنی ٹھنڈ میں بٹھا دیا۔۔

جلی کٹی بولتیں وه یہ جا وه جا۔۔

ماہ بیر کو اپنی طرف شرارتی نظروں سے دیکھتے پا کر اس نے گردن پر ہاتھ پھیر کر ایک پل کو آنکھیں میچیں۔۔

اہمم کیا چکر ہے؟؟ ماہ بیر گردن تک آتے بالوں پر ہاتھ پھیرتا چائے کا کپ پکڑ کر ہونٹوں سے لگاتا سرمئی آنکھوں میں شرارت سموئے اسے دیکھنے لگا۔۔

یہ اماں بھی نہ!! وه بے اختیار جهنجهلایا۔۔ “ایسا کچھ نہیں ہے سائیں وه بس یونہی بولتی رہتی ہیں۔۔”

اچھا چلو تم کہتے ہو تو مان لیتا ہوں” وه ہنوز مسکرا رہا تھا۔۔

کیا سائیں آپ بھی۔۔۔۔۔۔ وه سٹپٹا کر کپ اٹھاتا چائے پینے لگا ۔۔

پیو گے؟ کپ میز پر رکھ کر ماہ بیر نے جیب سے سگریٹ کی ڈبی نکالی اور ایک سگریٹ سلگاتا ہوا اسے آفر کر گیا۔۔

استغفراللّه!! صالح یوں بدكا جیسے کسی نے اسے کوئی غیر مہذب چیز پیش کردی ہو۔۔ میں سگریٹ نہیں پیتا سائیں آپ کو پتہ تو ہے!! وه چارپائی پر نیم دراز ہوتا ہوا بولا۔۔

ہمم!! ماہ بیر سگریٹ کا دهواں فضا میں چھوڑتا محض ہنکارا بھر گیا ۔۔

کیا ہوا آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں؟ اسے سنجیدگی سے دھوئیں کے مرغولوں کو تکتے دیکھ کر صالح کہنی کے بل اونچا ہوتا اسے کھوجتی نظروں سے دیکھنے لگا۔۔

ہمم کچھ پریشان ہوں میں۔۔ اورهان آیا تھا حویلی!! اسکا کہنا تھا کہ صالح سیدھا ہو بیٹھا۔۔

اسکی اتنی ہمت کیوں آیا تھا وه؟ وه ماتھے پر بل ڈالے بولا۔۔

“کہہ رہا تھا ہم نے اسکی بہن کو اغوا کروایا ہے” ماہ بیر اسے دیکھتا گہری سنجیدگی سے بولا ۔۔

کیا مطلب ہمارا کیا تعلق اسکی بہن سے ۔۔؟ اوہ وه سمجھ رہا کہ ہم نے اسے نیچا دکھانے کے لیے ایسا کیا ۔۔؟ اس نے غصے سے دانت پیسے۔۔

خود گھٹیا ہے تو ہمیں بھی ایسا سمجھنے لگا۔۔ ہم اس جیسی فطرت کے نہیں جو ایسی اوچھی حرکتیں کریں۔۔ اسکا غصہ تھا کہ کم ہونے میں نہیں آ رہا تھا۔۔

“اب نہیں آئے گا!! جو بھی ہے اسکی بہن کے لیے افسوس ہوا مجھے۔۔ مردوں کی لڑائی مردوں تک رہنی چاہیے مجھے نفرت ہے ایسے نامردوں سے جو بےقصور عورتوں کو آپس کے معاملات میں گھسیٹ لیتے ہیں۔۔” ماہ بیر جبڑے بھینچ کر بولا۔۔

صالح نے اسکا کاندها تهپتهپایا۔۔ ابھی وہ کچھ کہتا کہ بجلی چمکی اور ٹپ ٹپ بارش کی بوندیں گرنے لگیں۔۔ آئیں اندر چلتے ہیں!! وہ جلدی سے اٹھتا برتن اٹھانے لگا۔۔

نہیں بس اب جاؤں گا میں ۔۔ کل ملتے ہیں۔۔ ماہ بیر اسے خدا حافظ کہتا جلدی سے باہر نکل گیا تو وه بھی برتن رکھ کر چارپائی اٹھاتا اندر کمرے میں چلا گیا۔۔

موجودہ وقت سے تین دن پہلے:

میرے مست مست دو نین تیرے دل کا لے گئے چین،،

تیرے دل کا لے گئے چین میرے مست مست دو نین!!!

وه پرانده جهلاتی ہوئی دیدے نچا نچا کر گاتی تنگ سی گلی سے نکلی تھی۔۔

ہائے اللّه یہ اتنا بڑا ڈوگی کہاں سے آ گیا۔۔ وه انگلی منہ میں دباتی اچانک سامنے آتے ک**تے کو دیکھ کر ڈر کر ایک قدم پیچھے ہٹی۔۔

ہائے اللّه یہ تو میری طرف آ رہا ہے۔۔ اسکی آنکھیں پوری کھل گئیں۔۔ اس پر نظریں جمائے وه آہستہ آہستہ آگے آئی اور دوسرے راستے کی طرف بھاگی۔۔

ک**تے کو جانے کیا سوجھی کہ وہ بھونکتا ہوا اسکے پیچھے بھاگا۔۔ امی بچاؤ!!! وه پیچھے دیکھتی چیختی ہوئی اندھا دهند بھاگنے لگی۔۔

ایک بڑے سے چوک میں آ کر وه سانس لینے کے لیے رکی۔۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وه کہیں نہیں تھا۔۔ اس نے شکر کا سانس لیا۔۔ وه ماتھے سے پسینہ پونچھ کر ذرا سا پیچھے ہوئی کہ کسی نرم چیز پر پیر آنے سے گرتے گرتے بچی۔۔

اللّه آج کا دن ہی خراب ہے۔۔ اس نے پلٹ کر نیچے زمین پر دیکھا جہاں کوڑے کا ڈھیر لگا تھا۔۔ چھی کتنی بدبو آ رہی ہے۔۔ وه ناک پر ہاتھ رکھ کر پیچھے ہٹی۔۔

ارے یہ کیا؟ وه چونک کر آگے آئی اور نیچے جھک کر غور سے دیکھا جہاں اسکا پیر پهسلا تھا۔۔ اسکی آنکھیں اپنے سائز سے بڑی ہو گئیں۔۔

یی یہ کیا؟ اس نے ڈرتے ڈرتے میلا کچیلا کپڑا پیچھے کھسکایا تو اسکے حلق سے چیخ نکل گئی۔۔

یہ کون ہے؟ اللّه اب کیا کروں؟ وه رو دینے کو ہوئی۔۔ پنجوں کے بل نیچے بیٹھ کر اس نے اس انجانے وجود کی ناک کے آگے دو انگلیاں کی۔۔ ہلکی سی سانس کی حدت انگلیوں کو چھوگئی تو وه اٹھ کھڑی ہوئی۔۔

یہ تو زندہ ہے!! اللّه کس نے پهینک دیا اسے یہاں۔۔ مم میں کیا کروں ؟ بب ۔۔بی بی جی کو بتاتی ہوں۔۔

وه بھاگتی ہوئی پانچ منٹوں کی مسافت طے کر کے ایک گھر کے کھلے دروازے سے اندر داخل ہوئی۔۔ جلدی سے ارد گرد دیکھتی وہ لان میں آئی جہاں اسکی توقع کے مطابق بی جان تسبیح پڑھ رہی تھیں۔۔

بی بی جی!! وه پھولی سانسوں کے ساتھ بولتی ان کے سامنے آئی۔۔

کیا ہوگیا مدحت اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہو؟ فیصل ہاتھ میں کافی کا مگ پکڑے لان میں آتا ہوا اسے گھبرایا ہوا دیکھ کر پوچھ بیٹھا۔۔

وہ صاحب جی میں جب آ رہی تھی تو۔۔۔۔۔۔ وه جلدی جلدی انہیں ساری بات بتانے لگی۔۔

بی جان پریشانی سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ “اللّه خیر کرے۔۔ فیصل چلو میرے ساتھ!!”

بی جان مدحت اور فیصل کو ساتھ لیے اس جگہ آئیں جہاں مدحت نے اس لڑکی کو دیکھا تھا۔۔۔

اوہ مائی گاڈ!! فیصل دنگ سا آگے آیا۔۔ ناک پر رومال رکھتے اس نے چادر ہٹائی لیکن فوراً ہی واپس ڈال دی۔۔ اس کا چہرہ شرم سے سرخ پڑا تھا۔۔

بی جان ان کو جلدی ہوسپٹل لے کر جانا ہوگا۔۔ میں گاڑی لے کر آتا ہوں ۔۔ پہلے گھر جا کر انہیں چینج کروا دیں ۔۔ ایسی حالت میں لے کر جانا ہمیں مشکوک بنا دے گا۔۔

وه مدحت کو بی جان کے ساتھ رہنے کی ہدایت کرتا جلدی سے واپس بھاگا۔۔ چند سیکنڈ بعد وه گاڑی لے آیا۔ اس نے مدحت کی مدد سے اس لڑکی کو گاڑی کی پچھلی سیٹ پر لٹایا اور بی جان اور مدحت کے گاڑی میں بیٹھتے ہی گاڑی سٹارٹ کرتا واپس گھر آیا۔۔

چند منٹ بعد اسے دوبارہ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر لٹا کر وه ہسپتال کے لیے روانہ ہوا۔۔ اس دفعہ بس بی جان اس کے ساتھ تھیں۔۔ ہسپتال کی عمارت کے سامنے اس نے گاڑی روکی۔۔ دروازه کھول کر وه باہر نکلا اور دوسری سائیڈ پر آ کر آرام سے اسے دونوں بازوؤں میں اٹھا کر بی جان کو ساتھ آنے کا کہتا اندر چلا گیا۔۔

ایمرجنسی کیس دیکھ کر بہت سے ڈاکٹرز نے کیس لینے سے انکار کر دیا ۔۔ ایک دو نے تو کہا کہ یہ سیدھا پولیس کیس ہے۔۔ وه شدید پریشانی کا شکار ہوئے۔۔

اکسکیوز می ڈاکٹر!!!

ایک لیڈی ڈاکٹر کو ایمرجنسی روم سے نکلتے دیکھ کر وه اس لڑکی کو بنچ پر لٹا کر ڈاکٹر کی طرف گیا۔۔

اسکے مخاطب کرنے پر لیڈی ڈاکٹر اسکی طرف متوجہ ہوئی۔۔ جی؟؟ وه سوالیہ نظروں سے فیصل کو دیکھنے لگی جس کے چہرے سے پریشانی صاف واضح تھی۔۔

میری سسٹر کی حالت بہت خراب ہے کوئی بھی ڈاکٹر اسکا کیس لینے کو تیار نہیں پلیز میں ریکویسٹ کرتا ہوں آپ دیکھ لیں چل کر اسے، پلیز!!!

کہاں ہے پیشنٹ؟؟ وه گھڑی پر وقت دیکھتی ہوئی بولیں۔۔ ان کے ورکنگ آر ختم ہو گئے تھے لیکن پھر بھی وه اس پیشنٹ کو دیکھنے پر تیار ہو گئیں۔۔

آئیں میرے ساتھ!!! وه انہیں لیے بی جان کے پاس آیا۔۔ لیڈی ڈاکٹر نے جھک کر اس لڑکی کے چہرے سے چادر ہٹائی۔۔

اوہ مائی گاڈ اس پر تو تش**دد کیا گیا ہے۔۔

کیا لگتی ہے یہ آپ کی؟ وه مشکوک نظروں سے ان دونوں کو دیکھنے لگی۔۔

“بیٹا ہمارا اس سے بس انسانیت کا رشتہ ہے!!!” بی جان افسردگی سے بولیں۔۔

“ٹھیک ہے میں یہ کیس لینے کے لیے تیار ہوں باوجود اس کے کہ اس کا میرے کریئر پر اثر پڑے گا لیکن آپ کو مجھے ساری بات تفصیل سے بتانی ہوگی۔۔”

انہیں سنجیدگی سے کہہ کر اس نے وہاں سے گزرتی نرس کو مخاطب کیا۔۔ “روبی اس پیشنٹ کو جلدی سے ایمرجنسی وارڈ میں داخل کرو اور باقی سٹاف کو بھی وہاں اکٹھا کرو۔۔” جلدی جلدی بولتی وه اسے حکم دیتی بےسدھ پڑی لڑکی کی نبض ٹٹولنے لگی۔۔

لیکن ڈاکٹر۔۔ یہ سیدھا پولیس کیس ہے اور ڈاکٹر احمد کو پتہ چلا تو بہت مسلہ ہو سکتا ہے۔۔ نرس اسے باور کرواتی ہوئی بولی۔۔

ڈاکٹر احمد کے بعد یہاں سینئر کون ہے؟ لیڈی ڈاکٹر درشتگی سے بولی تو وه ایک پل کو چپ ہوئی۔۔

آپ ہیں!!

تو پھر جو میں کہہ رہی ہوں وه کرو کسی کی زندگی کا سوال ہے۔۔ وه ناگواری سے کہہ کر عجلت میں وہاں سے چلی گئیں تو نرس بھی شرمنده ہوتی وارڈ بوائے کو سٹریچر لانے کا کہتی ان کے پیچھے گئی۔۔

جونہی اس انجان لڑکی کا آپریشن شروع ہوا بی جان درود پاک کا ورد کرتیں وہیں بیٹھ کر دل سے اسکی سلامتی کے لیے دعا گو ہوئیں۔۔

فیصل کو جاب پر جانا تھا لہٰذا وه مدحت کو ان کے پاس ہسپتال چھوڑ کر آفس کے لئے نکل گیا۔۔

“بی بی جی مجھے تو بہت ڈر لگ رہا ہے بڑی بری حالت تھی بیچاری کی مجھے تو سچی رونا آ رہا ہے” مدحت آبدیده لہجے میں بولی تو بی جان نے اسے دعا کرنے کے لیے کہا۔۔

جانے کتنی ساعتیں بیت گئیں کہ لیڈی ڈاکٹر اطمینان سے چلتی ان تک آئی۔۔ “اٹس لائک آ میریکل!!! اللّه پاک جسے زندگی دینا چاہیں اسے کوئی چیز ہلاک نہیں کر سکتی۔۔ اب وه خطرے سے باہر ہے ہم نے اسے دوسرے روم میں شفٹ کر دیا ہے۔۔ آپ میرے ساتھ آئیں مجھے کچھ باتیں جاننی ہیں”

وه ان کو ساتھ لئے اپنے کیبن میں آئی۔۔ بیٹھیں!! بی جان اور مدحت کو سامنے بیٹھنے کا اشارہ کرتی وه رولنگ چیئر سنبهال کر بیٹھتیں ان کو سنجیدگی سے دیکھنے لگی۔۔

کہاں ملی آپ کو یہ لڑکی؟؟ اس نے بغیر تمہید کے پوچھا۔۔

مدحت ڈرو نہیں بتاؤ کچھ نہیں ہوگا!! مدحت کو ہچکچاتا دیکھ کر بی جان نے اس کی ہمت بندهائی۔۔

وه جی آج صبح میں بی بی جی کے گھر کام کرنے کے لیے نکلی تو راستے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وه سوچ سوچ کر لیڈی ڈاکٹر کو ساری بات بتانے لگی۔۔

ویلڈن بہت اچھا کام کیا آپ نے بیٹا!! ورنہ آج کے ماده پرست دور میں لوگ کسی کو مرتا دیکھ کر بھی نظرانداز کردیتے ہیں۔۔ پھر وه بی جان سے مخاطب ہوئی۔۔

یہ ایک بہت سیریس کیس ہے کیونکہ اس لڑکی کا ری**پ کر کے اسے وہاں پھینک دیا گیا تھا۔۔ ڈاکٹر کے انکشاف پر بی جان منہ پر ہاتھ رکھتیں افسوس سے سر ہلانے لگیں۔۔

اس قدر ظلم پر ان کی آنکھوں میں نمی چمکی۔۔

مدحت بھی دنگ سی ڈاکٹر کو دیکھے گئی۔۔ ڈاکٹر نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔۔

“ایسے بہت سے کیسز آتے ہیں ہمارے پاس،، لڑکیوں کو درندگیوں کا نشانہ بنا کر یوں بے یار و مدد گار پهینک دیا جاتا ہے۔۔ اس پیشنٹ کی زندگی تھی جو وه بچ گئی۔۔ خیر اب یہ بتائیں اسکے بارے میں کچھ نہیں جانتے آپ تو وه کہاں رہے گی؟ کیونکہ جن حالات سے وه گزری ہے اگر اسکے گھر والے مل بھی گئے تو وه نام نہاد عزت قائم رکھنے کے لیے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیں گے۔۔” وه تلخی سے بولی تھی۔۔

بی جان کی آنکھوں میں دکھ ابھرا۔۔ “وه ہوش میں آ جائے پھر خود ہی فیصلہ کرلے تو بہتر ہے۔۔ اگر وه ہمارے ساتھ رہنا چاہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔۔” وه نرمی سے بولیں تو ڈاکٹر ان کے اخلاق سے متاثر ہوئی۔۔

بہت اچھا لگا یہ سن کر، دنیا میں اچھے لوگ ابھی باقی ہیں!!”

ڈاکٹر پیشنٹ کو ہوش آ گیا ہے وہ مسلسل چیخ رہی ہے۔۔ نرس گهبرائی ہوئی اندر آئی تو ڈاکٹر جلدی سے اٹھی اور انہیں ساتھ آنے کا کہتی باہر نکل گئی۔۔ لمبی راہداری پار کر کے وه ایک کمرے میں داخل ہوئی جہاں اس پیشنٹ کو رکھا گیا تھا۔۔

چھچھ چھوڑو مجھے ۔۔۔ مت مارو !! وه بال نوچتی چیخی تھی۔۔ ڈاکٹر جلدی سے اس کے پاس آئی۔۔

تم ٹھیک ہو محفوظ ہو کوئی نہیں ہے یہاں،، آنکھیں کھولو اور دیکھو سب ٹھیک ہے!! وه پیار سے اس کے بال سہلاتی بولی تو وه نفی میں سر ہلاتی آنکھیں مزید میچ گئی۔۔

جانے دو مجھے مت چھوؤ میں گندی ہو جاؤں گی!! وه لڑکی ہاتھ پیر چلاتی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔ بی جان نم آنکھوں سے اسکی حالت دیکھتیں آگے بڑھیں اور اسکے پاس رکھی کرسی پر بیٹھ گئیں۔۔

بیٹا آنکھیں کھولو، جو بھی تھا گزر گیا میرے بچے تم ہمارے ساتھ ہو!! وه شفقت سے اسکے سر پر پیار کرتیں اسے سینے سے لگا گئیں۔۔

شفقت بھرا لمس محسوس کر کے اس نے روتے ہوئے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں۔۔ وه۔۔۔۔ یہاں نہیں تھا۔۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے بی جان کے گرد بازو حائل کئے اور ایسے تڑپ تڑپ کر روئی کہ سب کی آنکھیں اشک بار کر گئی۔۔

ڈاکٹر نے آرام سے اسے پیچھے کرتے آرام کے لیے ایک انجیکشن اسے لگایا تا کہ اس پر زہنی دباؤ نہ پڑے۔۔

لیٹ جاؤ میرا بچا میں یہیں ہوں تمھارے پاس!!! وہ اسکی پیشانی چوم کر اسے آہستہ سے لٹا گئیں۔۔ کیا نام ہے تمہارا؟ بند ہوتی آنکھوں سے اس نے بی جان کو دیکھا۔۔

ارشما!!! اس نے اس قدر آہستگی سے کہا کہ انہیں لگا اس نے شمع بولا ہے۔۔ آخری آواز جو اس نے غنودگی میں جانے سے پہلے سنی وه نرس کی آواز تھی جو اسکا بریسلیٹ اتار کر ڈاکٹر سے کچھ کہہ رہی تھی۔۔

آج انہیں ہسپتال میں تیسرا دن تھا۔۔ بی جان فریش ہونے گھر جاتیں تو مدحت کو وہاں چھوڑ جاتیں اور واپسی پر کھانا لے آتیں۔۔ اسی طرح جب مدحت نے جانا ہوتا تو بی جان شمع کے پاس اسپتال رک جاتیں۔۔ اس دوران فیصل بھی اسکی احوال پرسی کے لیے آ چکا تھا۔۔

وه گم صم سی لیٹی رہتی لیکن دل میں وه ان مخلص لوگوں کی بے حد مشکور تھی۔۔ وه ہر وقت سوچتی رہتی کہ وہ اب کہاں جائے گی۔۔ بھائی!! وه سسک اٹھی۔۔ وه اب مر کر بھی اس کے پاس نہیں جانا چاہتی تھی۔۔

وه انہی سوچوں میں گم تھی کہ لیڈی ڈاکٹر مسکرا کر اندر داخل ہوئی۔۔ کیسی ہو پریٹی گرل؟؟

ٹھیک ہوں!! وه ٹیک لگا کر بیٹھتی ہلکی آواز میں بولی۔۔

کیسا محسوس کررہی ہو اب؟ وه اسکا ریگولر چیک اپ کرنے لگیں۔۔

جسم ۔۔۔ بہت ۔۔۔درد کرتا ۔۔ ایسے لگتا جیسے جان نہیں ہے!! وہ انکھوں کو بند کر کے کھولتی الجھے بال چہرے سے ہٹا کر بولی تو ڈاکٹر نے پیار سے اسے دیکھا۔۔

ٹھیک ہو جاؤ گی ویکنیس بہت ہے۔۔ وه اسکا چیک اپ کر کے اٹھی اور خاموشی سے اسے سر جھکا کر بیٹھا دیکھنے لگی۔۔

ڈاکٹر کی نظریں مسلسل خود پر مركوز پا کر وه آہستہ سے سر اٹھاتی انہیں دیکھنے لگی۔۔

سر انہیں جھکانا چاہیے جو گھٹیا اعمال کرتے ہیں،، تم بلکل پاک ہو پہلے جیسی!! معاشرے کو خود پر حاوی مت ہونے دینا۔۔ تمہیں سر اٹھا کر جینے کا پورا حق ہے۔۔ اور تمہیں اب اپنے لیے جینا ہے مظبوط بن کر ۔۔ خود کو ایسی مظبوط چٹان بنا لو کہ جو تم سے ٹکرائے خود کا سر پھوڑے۔۔ عورت بن کر اس معاشرے میں سروائیو کرنا بہت بڑا چیلنج ہے۔۔ اور مجھے پتہ ہے تم بہت بہادر ہو۔۔ جو بیت چکا اسے بھول جاؤ۔۔ نئی زندگی کی شروعات کرو۔۔ جانتی ہوں مشکل ہے لیکن اس سب سے باہر نکلنے میں صرف ایک انسان تمہاری مدد کر سکتا ہے اور وه تم “خود” ہو۔۔

وه انجان ڈاکٹر انسانیت کے ناطے اسکا احساس کرتے اسے زندگی جینے کے “گُڑ” سکھا رہی تھی۔۔ کیسی عجیب بات ہے کبھی اپنے اس قدر بیگانے ہو جاتے ہیں کہ ان سے “غیریت” کی بو آنے لگتی ہے اور کبھی غیر “اپنے” محسوس ہونے لگتے ہیں۔۔

وہ بھیگی آنکھوں سے انہیں دیکھے گئی۔۔ لیڈی ڈاکٹر نے اسکی پیٹھ تهپتھپائی اور مسکرا کر اسے نئی امید تهماتیں کمرے کا دروازه کھول کر باہر چلی گئی۔۔