Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 18

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan

وه ابھی ابھی یونیورسٹی سے آئی تھی۔۔ گلی کا کونہ مڑتے وه آہستہ آہستہ چلتی ہوئی گھر کے سامنے آئی۔۔ دروازه کھلا دیکھ کر اسے اچنبھا ہوا۔۔

پرس کاندھے پر درست کرتی وه جلدی سے اندر آئی۔۔ اندر سے آتی مردانہ آواز پر وه پریشان ہوتی ہوئی چلی آئی۔۔ بی جان!! وه صحن میں آئی تو اسکی نظر مالک مکان پر پڑی جو انتہائی بدتمیزی سے اونچا اونچا بول رہا تھا۔۔ اس کے سامنےکھڑیں بی جان اسے کچھ کہنے کی کوشش کررہی تھیں لیکن وه انہیں بات ہی نہیں کرنے دے رہا تھا۔۔

کیا بدتمیزی ہے یہ!! ارشما بی جان کو بےبس دیکھ کر تڑپ کر آگے بڑھی۔۔ اسکے دل میں ٹھیس اٹھی تھی۔۔ بےبسی کا احساس اس سے بہتر کون محسوس کر سکتا تھا۔۔ وه بی جان کے آگے ڈھال بنتی کھڑی ہوگئی۔۔

“بی بی یہ تیور نہ کسی اور کو دکھاؤ جا کر۔۔ میں نے پچھلی بار بھی کہا تھا مجھے کرایہ وقت پر چاہیے۔۔ تم لوگوں کا ہر دفعہ کا کام ہے یہ۔۔ کبھی یہ ہوگیا کبھی وه ہوگیا۔۔” بھاری بھرکم وجود کا مالک مکان جس کی توند نکلی ہوئی تھی اور چہرے پر لعنت برس رہی تھی اسے آنکھیں دکھاتا غصے سے بولا۔۔

دیکھو مسٹر آرام سے بات کرو کرایہ دیتے ہیں ہم فری میں نہیں رہتے جو تمہارا یہ رویہ برداشت کریں۔۔ اور ایک دفعہ بس کرایہ لیٹ ہوا ہے وه بھی اس ماہ۔۔ دے دوں گی۔۔ کچھ دن تک۔۔ لیکن اگر تم نے دوبارہ یہاں آ کر میری بی جان کو دهمكانے کی کوشش کی تو میں تم پر “حراسمنٹ” کا کیس کر دوں گی۔۔

وه اسکی آنکھوں میں دیکھتی درشتگی سے بولی۔۔

کچھ دن بعد آؤں گا دوبارہ اور کرایہ لئے بغیر نہیں جاؤں گا یاد رکھنا!! وه اسے انگلی دکھا کر کہتا سر جھٹک کر باہر نکل گیا۔۔

اس کے جاتے ہی وه بی جان سے لپٹ گئی جن کی آنکھوں میں اتنی تزلیل پر آنسو آ گئے تھے۔۔ بی جان میں بہت ڈر گئی تھی۔۔ آئندہ کوئی بھی آئے آپ نے دروازه نہیں کھولنا!! وه الگ ہوتی ان کے آنسو پونچھنے لگی۔۔ میں یونیورسٹی بات کروں گی اگر ایڈوانس پےمنٹ مل جائے۔۔

اس دفعہ پیسے اسکے منہ پر ماروں گی گھٹیا انسان۔۔ فری میں نہیں رہتے یہاں جو ہمارے سروں پر ناچنے آ جاتا ہے۔۔!! وه غصے سے تن فن کرتی اندر آئی اور چادر زور سے بیڈ پر پھینک کر بڑبڑاتی بال گول مول جوڑے میں باندھ کر فریش ہونے کے لیے باتھروم میں گھس گئی۔۔ بی جان گہری سانس لیتیں اندر آئی اور بیڈ سے چادر اٹھا کر تہہ کرنے لگیں۔۔

مالی بابا یہ سب کتنا اچھا لگ رہا ہے!! وہ مالی بابا کے ساتھ پودوں کو پانی دیتے ہوئے بولی۔۔ ہلکی ہوا میں رچی پھولوں کی خوشبو اسے مسحور کررہی تھی۔۔ گلابی شلوار قمیض میں کاندھوں پر دوپٹہ پھیلائے لمبے گھنے بالوں کی چوٹی آگے ڈالے وہ ہنستی ہوئی ان سے باتیں کررہی تھی۔۔

بے دیہانی میں وه پیچھے ہٹی تو پائپ میں پیر اٹکنے سے دھڑام سے نیچے گھاس پر گری۔۔ پائیپ اس کے ہاتھ سے پهسلتا نیچے گرتا مالی بابا کے چہرے کو بھگو گیا۔۔ وه نیچے بیٹھی بیٹھی کھلکھلا کر ہنسنے لگی۔۔ اسکے موتیوں کی مانند چمکتے دانت نمایاں ہوئے تھے۔۔ گالوں پر بکھرا گلال اور آنکھوں میں آلوہی چمک دیکھ کر وه مبہوت ہوا تھا۔۔

اپنے کمرے کی بالكنی میں کھڑا وه کب سے اسے تکے جارہا تھا۔۔ وه چھوٹی سی لڑکی اسے بہت اپنی اپنی لگنے لگی تھی جس سے وه اپنے احساسات بانٹنے لگا تھا۔۔ ارشما کے بعد اسے اینارا سے اپنائیت محسوس ہوتی تھی۔۔ اسکی معصوم ادائیں اور بھول پن اس کے دل میں گھر کر گیا تھا۔۔

کسی نرم کونپل کی طرح نازک اور آسمان پر کسی نرم بادل کے ٹکڑے کی طرح شفاف۔۔ اسکے کردار کی شفافيت نے میر اورهان کو مبہوت کیا تھا۔۔ اس نے کبھی اس کے کردار میں لغزش نہیں دیکھی تھی۔۔ اسکی مکمل شخصیت نے اسے متاثر کیا تھا۔۔ پھولوں کی ملکہ کو پھولوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپ دی تھی اس نے۔۔ اور بہت جلد وه اسے اپنا حالِ دل بتا کر گلستانِ دل کی ملکہ بنانے والا تھا۔۔

اینارا نے کھڑے ہوتے سر اٹھا کر اسے ہاتھ سے اشارہ کیا تو وه نفی میں سر ہلا گیا۔۔

اورهان صاحب بہت بدل گئے ہیں نہ۔۔ اب سب ملازموں پر بہت مہربان ہوگئے ہیں ورنہ پہلے تو سب انکے سامنے جانے کے نام سے ہی کانپتے تھے۔۔ مالی بابا اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولے تو وه تائید میں سر ہلا گئی۔۔

اچھے ہیں وه!! اپنی کپڑوں سے مٹی جھاڑ کر وه پھر سے پودوں کو پانی دینے لگی۔۔ وه مالی بابا سے باتیں کرتی ہوئی لان کے دوسرے حصے میں آ کر مگن سی پودوں کو پانی دینے لگی۔۔ البتہ اپنی پشت پر اورهان کی نظریں اسے ابھی تک محسوس ہورہی تھیں۔۔ وه اپنے مقصد کے بے حد قریب تھی۔۔ بس کچھ دن اور!! اسکی آنکھیں پل میں سرد اور پل میں واپس نارمل ہوگئیں۔۔

وه صالح کے ساتھ آفس کی بلڈنگ میں داخل ہوا۔۔ وه خاکی شرٹ کے ساتھ سیاہ پینٹ پہنے ہوئے تھا جبکہ صالح ہمیشہ کی طرح اپنے پسندیدہ سیاہ رنگ کی پنٹ شرٹ زیب تن کیے ہوئے تھا۔۔

سیکرٹری جلدی سے ان تک آئی اور پروفیشنل انداز میں انہیں ویلكم کرتی مطلوبہ آفس تک لائی۔۔ وه دونوں دروازه کھول کر آگے پیچھے اندر داخل ہوئے۔۔ کمرے میں موجود تینوں آدمی اٹھ کر ان سے بغل گیر ہوئے۔۔ ان میں سے دو تو شکل سے ہی انگریز لگ رہے تھے جبکہ تیسرا بندہ مقامی لگ رہا تھا۔۔

ویلکم ویلکم!! نائیس ٹو میٹ یو بوتھ۔۔ مركزی کرسی کے سامنے کھڑے شخص نے مسکرا کر انہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود بھی کرسی سنبهال کر بیٹھ گیا۔۔ ان کے ساتھ ہی باقی دونوں بھی بیٹھ گیا۔۔ گفتگو کا آغاز ہوا۔۔

سو مسٹر ماہ بیر وہاٹ ڈو یو تھینک اباؤٹ دا پروجیکٹ آف بیلڈنگ آ ہوسپٹل از کینڈا ایزی ان دیٹ بیک ورڈ ایریا؟ آئی مین آئی وانٹ ٹو انویسٹ اینڈ ریلی اپریشیئیٹ یور سپیریٹ بٹ آئی ہیو ہیئرڈ دیٹ دیئر ایگزسٹ بیک ورڈ پیپل ہو انٹرپٹ انٹو ادرز افیئرز اینڈ۔۔۔۔۔۔۔۔ وه بولتا بولتا رکا۔۔

ماہ بیر نے داڑھی كهجا کر صالح کو دیکھا۔۔ یار یوسف؟ یہ انگریز کی اولاد کی تو سمجھ نہیں آ رہی مجھ پتہ نہیں کیا کیا بولے جارہا ہے!! وه اسکی طرف جھکتا آہستہ سے بولا۔۔

سمجھ تو مجھے بھی نہیں آئی فر فر بکواس ہی کیے جارہا ہے مجھے تو یہ فرنگی ویسے ہی نہیں پسند!! صالح ماتھے پر بل ڈالے بولا تو وہاں موجود تیسرا شخص جو مقامی لگتا تھا کھنکارا۔۔

“ماہ بیر صاحب وه یہ كہہ رہے ہیں کہ ہم آپ کے جذبے کی بہت قدر کرتے ہیں اور آپ کے ساتھ ہسپتال کے پروجیکٹ پر کام کرنا چاہیں گے۔۔” وه دانستہ اسکے لوگوں کے بارے میں کہی جانے والی بات گول مول کر گیا کیونکہ اگر ماہ بیر جان جاتا تو اس انگریز کی اولاد کو کرسی سمیت کھڑکی سے نیچے پھینک دیتا۔۔

ٹھیک ہے ہم بہت جلد ہسپتال کا کام شروع کروانے والے ہیں۔۔ آپ ضروری کاغذات تیار کروا لیں جن میں شراکت کی تفصیل درج ہو!! وه سنجیدگی سے بولا۔۔ آج اسے انگریزی کی قدر محسوس ہورہی تھی۔۔ کاش وه پڑھ ہی لیتا تو یہاں اسے شرمنده نہ ہونا پڑتا۔۔ خیر اب بھی کونسی دیر ہوئی تھی۔۔

مقامی شخص نے پتہ نہیں انگلش میں کیا کہا کہ وه انگریز اٹھ کر ان دونوں سے ہاتھ ملاتا کچھ کہنے لگا۔۔ وه پھر ماہ بیر سے مخاطب ہوا۔۔ “سر کہہ رہے ہیں کہ انہیں آپ کے ساتھ کام کر کے خوشی ہوگی اور ہم بہت جلد کانٹریکٹ تیار کروا کر آپ کو بهجوا دیں گے۔۔”

ماہ بیر اور صالح اپنی جگہ چھوڑتے اٹھ کھڑے ہوئے۔۔ شکریہ!! ان سے ہاتھ ملا کر وه آفس سے باہر نکل آئے۔۔ سیکرٹری دوڑی دوڑی ان تک آئی اور انہیں گاڑی تک چھوڑ کر واپس چلی گئی۔۔

وه دونوں گاڑی میں بیٹھ کر واپسی کا سفر طے کرنے لگے۔۔ یار آج مجھے بہت محسوس ہوا ایسے لوگوں سے تو ملنا ملانا لگا رہے گا۔۔ ماہ بیر نے کہنا شروع کیا تو ڈرائیو کرتے صالح نے مسکرا کر اسے دیکھا۔۔

ہاں سائیں اگر ہم ساتویں کے بعد سکول سے بھاگ نہ گئے ہوتے تو آج ہمیں بھی انگریزی آتی۔۔!!

اسکی بات پر ماہ بیر جیسے محظوظ ہوا تھا۔۔ کیا یاد کروا دیا تم نے۔۔ وہ بھی کیا وقت تھا۔۔ خیر میں سوچ رہا ہوں کہ ہمیں انگلش کا کوئی کورس کر لینا چاہیے!! آگے بھی بہت کام آئے گا۔۔ وه پرسوچ لہجے میں بولا تو صالح کندھے اچکا کر سامنے ونڈو کے پار دیکھنے لگا۔۔

جیسی آپ کی مرضی!! ویسے اس کام کے لیے آپ کو دوسرے شہر جانا پڑے گا۔۔

ماہ بیر نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا۔۔ کیا مطلب ہے تمہاری اس بات کا تم بھی میرے ساتھ جاؤ گے!!

صالح نے چونک کر اسے دیکھا۔۔ نہ سائیں مجھے کیوں پهسا رہے ہیں اپنے چکروں میں، میں یہاں ہی ٹھیک ہوں!! صالح کے صاف انکار پر ماہ بیر نے اسے آڑے ہاتھوں لیا۔۔

کیوں بھئی یہاں تمہاری کوئی معشوقہ ہے جسے چھوڑ کر تم جانا نہیں چاہتے؟؟ صالح کا منہ ایسے ہوگیا جیسے اس نے کڑوا بادام چبا لیا ہو۔۔

کیا سائیں؟ ایسا لگتا ہوں میں آپ کو؟ وہ خفگی سے بولا۔۔

اچھا تو بس ٹھیک ہے تم میرے ساتھ چل رہے ہو اور میں کوئی انکار نہیں سنوں گا۔۔۔ تمہاری امی جان سے میں خود بات کرلوں گا۔۔۔ ماہ بیر نے جیسے بات ختم کی تھی۔۔

معمول کے مطابق وه کلاس میں داخل ہوئی۔۔ اسکے چہرے پر آج معمول سے زیادہ سنجیدگی تھی۔۔ اس نے ڈین سے ایڈوانس پے منٹ کی بات کی تھی جسے دینے سے انہوں نے معذرت کرلی تھی۔۔ کیونکہ یونیورسٹی کا یہ رول تھا۔۔

کچھ وه پہلے ہی سنجیده رہتی تھی اس پر مزید یہ پریشانی۔۔ اسکے اتنے سخت تاثرات دیکھ کر سٹوڈنٹس کا حلق خشک ہورہا تھا۔۔

بكس بند کریں آپ کو یہ کام گھر سے یاد کرنے کے لیے دیا جاتا ہے نہ کہ یہاں آ کر رٹے مارنے کے لیے۔۔ وه کلاس پر نظر دوڑاتی درشتگی سے بولی۔۔

بند کریں بکس!! اسکا کہنا تھا کہ سب سٹوڈنٹس نے فورا بكس بند کردیں۔۔ آج تو انہیں اپنی شامت آتی نظر آ رہی تھی۔۔ جنہوں نے سبق یاد کر رکھا تھا وہ زیر لب دہرا رہے تھے جبکہ باقی دھڑکتے دل سے ارشما کی جانب دیکھ رہے تھے جو ڈائس کے پاس سے ہٹتی آگے آئی۔۔

سیاہ چادر میں چھپی پیشانی بل زدہ ہوئی تھی۔۔ وہ کلاس کے وسط میں آئی اور سب پر نظر ڈال کر لب بھینچتی آخری رو میں بیٹھے لڑکے کے پاس آئی۔۔ اس نے سخت نظروں سے زمین پر گری بكس کو دیکھا جن سے بے نیاز وه سر نیچے کئے سو رہا تھا۔۔

بعض لوگوں پر کتابیں لعنت بھیجتی ہیں!! وه درشتگی سے ذرا اونچا بولی تو وه ہڑبڑا کر سیدھا ہوتا اسے اپنے سامنے پا کر کھڑا ہوگیا۔۔ سب گردن موڑے اسے دیکھنے لگے۔۔ ارشما کی نظروں کے تعاقب میں اس نے زمین پر دیکھا تو وه شرمندہ ہوگیا۔۔

سس ۔۔ سوری میم!! اس نے جلدی سے کتابیں اٹھائیں تو وه سخت نظروں سے اسے گھورتی واپس ڈائس کے پاس آئی۔۔ اس نے باری باری سب سے آج کے ٹاپک پر سوال کرنے شروع کیے۔۔ کچھ دیر بعد اس نے وقت دیکھا تو کلاس ختم ہونے میں پندره منٹ رہ گئے تھے۔۔ اس نے باقی سٹوڈنٹس کی جان بخشتے آج کا تیار شدہ لیكچر دینا شروع کیا۔۔

رات کی تاریکی ہر سو پھیل گئی تھی۔ ایسے میں وه لان میں اندھیرے میں بیٹھی ہوئی تھی۔۔ چاند کی ملگجی روشنی نے ہر چیز کو پراسرار بنا رکھا تھا۔۔ پھول پودے اس روشنی میں عجیب ہیبت ناک لگ رہے تھے۔۔

وه اس سب سے بےنیاز اپنی ذات کے الجھے دهاگے سلجهاتے پھر سے الجھنے لگی تھی۔۔

مشی کیا سوچ رہی ہو؟؟ ماہ بیر اس کے برابر بیٹھتا اس کے اداس چہرے کو دیکھ کر پوچھنے لگا۔۔ وہ محسوس کررہا تھا کہ مشی بظاہر تو نارمل نظر آتی ہے لیکن تنہائی پاتے ہی گم صم ہوجاتی ہے۔۔

سوچ رہی ہوں انسان کتنا بےبس ہوجاتا ہے کبھی کبھی!! وه ہنوز سامنے دیکھتے بولی۔۔

ایسا کیوں سوچ رہی ہو؟ وه اسکے چہرے کے اتار چڑھاؤ بغور دیکھتا بولا۔۔

اب دیکھیں نہ میں کتنی بے بس ہوں!! اس نے چہرہ ماہ بیر کی جانب کر کے کہا۔۔ آواز کی لڑکھڑاہٹ پر قابو پانے کی کوشش میں وه خاموش ہوگئی۔۔

اس نے چند پلوں بعد پھر سے کہنا شروع کیا۔۔ “میری بےبسی کا اندازه اس بات سے لگا لیں کہ مجھ پر زبردستی فیصلے تھوپ دیے جاتے ہیں اور میں کچھ نہیں کر سکتی، کوئی بھی آ کر میری ذات کو روند جاتا ہے میری عزت نفس کو اپنے قدموں تلے مسل دیتا ہے لیکن میں کچھ نہیں کر سکتی۔۔ میری اپنی خواہشات ہیں لیکن میں انھیں پورا نہیں کر سکتی۔۔ یہ میری بےبسی نہیں تو اور کیا ہے بھائی؟ اور ۔۔۔ اسکے گلے میں آنسوؤں کا گولہ اٹکا۔۔ مسلسل آنسو روکنے کی کوشش میں اسکا گلا درد کرنے لگا تھا۔۔

اور بے بسی سے بڑھ کر تکلیف ده احساس کوئی نہیں!! وه بالاخر سسک پڑی۔۔ وه جو گہری سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا اسکے رونے پر تڑپ اٹھا۔۔

اس نے فوراً اسے اپنے حصار میں لیا تھا۔۔ چپ! مت روؤ مشی مجھے تکلیف ہورہی ہے!! وه اسکا سر چوم کر بولا جو اسکے سینے سے لگی بلک بلک کر رونے لگی تھی۔۔ نازک جان آخر کب تک برداشت کرتی۔۔ وه جو درد کا بوجھ برداشت کرتے ہوئے تھکنے لگی تھی مہربان سہارا پاتے ہی بکھر گئی۔۔

مجھے بتاؤ کیا چاہیے تمہیں میں لا کر دوں گا نہ!! وه اسے پچکارتے ہوئے بولا تو وه سیدھی ہوتی اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔۔

دیں گے مجھے جو میں مانگوں گی؟ وه بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھتی استفسار کرنے لگی۔۔

ہاں ضرور!! وه پیار سے اسکے سر پر ہاتھ رکھ گیا۔۔

مجھے صالح یوسف دے دیں!! وه اسکے سامنے ہاتھ جوڑتی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔ میں مر جاؤں گی بھائی اگر وه مجھے نہ ملا ، میں مر رہی ہوں لحہ بہ لمحہ۔۔ مجھے میری زندگی واپس لوٹا دیں۔۔ محبت کی ہے کوئی گناہ نہیں کیا میں نے اگر آپ کے نزدیک یہ جرم ہے تو ابھی اپنے ہاتھوں سے میرا گلا گھونٹ دیں!! وه ہچکیوں سے روتی ہوئی بولی۔۔

ماہ بیر اپنی جگہ ساکت ہوگیا۔۔ اسکے الفاظ کہیں کھو گئے تھے۔۔ اسکی اتنی تکلیف پر ماہ بیر کی سرمئی آنکھوں میں لال ڈورے نمایاں ہوئے۔۔ یہ کیا مانگ لیا تھا اسکی مشی نے اس سے!! کیا وه دے پائے گا اسے؟؟

اندر جا کر سو جاؤ۔۔۔ کل بات کرتے ہیں!! سنجیدگی سے کہتا اسے اسکا ہاتھ پکڑ کر کھڑا کرتا وه اسکے کمرے میں لے آیا اور اسکی پیشانی چوم کر واپس چلا گیا۔۔

اس کے جانے کے بعد وه نڈھال سی بستر پر گر گئی۔۔ اب نیند کسے آنی تھی۔۔ محبت عزت نفس کو مارنے کے بعد نیند ہی تو چھین لیتی ہے۔۔