Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 33

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan

صبح کی تر و تازہ ٹھنڈی ہوا میں اس نے آنکھیں موند کر گہرا سانس لیا۔۔

اس کا چہرہ دمک رہا تھا۔۔ آنکھیں کھول کر اس نے ساتھ واک کرتے اورهان کو دیکھا جو اس کا ہاتھ پکڑے اس کے ساتھ چھوٹے چھوٹے قدم بڑھا رہا تھا۔۔

“کتنا خوبصورت ہے یہ سب!!!۔۔۔”

اینارا نے بچوں کی سی خوشی سے کہا۔۔۔

اورهان نے چلتے ہوئے چہرہ موڑ کر اسے دیکھا۔۔۔

“ہمم بہت خوبصورت!!!۔۔۔”

اس کی نظروں کے ارتکاز پر وہ مسکرا کر نظریں جھکا گئی۔۔

“آپ کو پتہ ہے؟؟

آپ کی آنکھیں کتنی پیاری ہیں!!!

اور آپ کی آواز ۔۔۔۔۔!!!

آپ کی آواز مجھے بےحد پسند ہے ،،، آپ کو دیکھ کر،،، آپ کی مسکراہٹ کو دیکھ کر آپ کی صدقے جانے کو ہی جی چاہتا ہے!!!

وہ اس کے مقابل آتا اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامتا بےخود سا کہتا گیا۔۔

نرمی سے،، محبت سے،، عقیدت سے!!!

اینارا کی آنکھوں میں نمی چمکی پھر وہ نم آنکھوں سمیت دھیرے سے ہنس دی۔۔

اور آپ کو پتہ ہے ۔۔۔۔۔

وہ اس کے گال پر ہاتھ رکھتی محبت سے لبریز آنکھوں سے اسے دیکھتی کہتی گئی۔۔۔

آپ دنیا کے حسین ترین مردوں میں سے ہیں

کیونکہ۔۔۔!!!

آپ کے دل میں وفا دھڑکتی ہے۔۔

میں دنیا کی حسین ترین عورتوں میں سے ہوں۔۔!!!

کیونکہ جس دل میں وفا دھڑکتی ہے اس دل پر میری حکمرانی ہے!!!

الفاظ کو محبت کی چاشنی میں بھگو کر وہ اسے اسکی اپنی خوش قسمتی اپنی محبت اپنی وفا کا یقین دلا رہی تھی۔۔

اور ضروری تھوڑی ہے کہ۔۔۔

محبت کسی مکمل انسان ہی سے ہو۔۔ یہ انسان کا کردار، رنگ، نسل، صورت کب دیکھتی ہے۔۔ محبت صرف کسی کی خوبی پر اسے چاہنے کا نام تو نہیں یہ تو خامیوں سے بھی ہوجاتی ہے۔۔۔

“بارات آ گئی ہے!!!۔۔”

ایک نوجوان کی آواز پر سب الرٹ سے بارات کے استقبال کے لیے کھڑے ہوگئے۔۔

لڑکیوں نے ہاتھوں میں پھول پکڑ رکھے تھے۔۔ ڈھول پیٹنے کی آواز اور لوگوں کے ملے جلے شور میں چند دوستوں کے نرغے میں دلہا صاحب نے اینٹری ماری۔۔

سیہ کرتے پاجامے پر سیاہ شیروانی پہنے دائیں کندھے پر خوبصورت مردانہ شال ڈالے وہ صالح اور عبدالله شاہ کے ساتھ چلتا ہوا راہداری میں آگے بڑھنے لگا۔۔۔

ڈھول کی آواز کانوں کے پردے پھاڑ رہی تھی۔۔۔ صالح نے مہرون چیک کا پینٹ کوٹ زیب تن کر رکھا تھا۔۔

مغرور تاثرات چہرے پر سجائے وہ موبائل پر کسی سے بات کررہا تھا۔۔ ماہ بیر کی سرمئی آنکھوں کی چمک دیدنی تھی۔۔

بالاخر آج وہ دن آ گیا تھا جب اس کی محبّت ہمیشہ کی لیے اس کی دسترس میں آنے والی تھی۔۔

ایک بار وہ اسکے پاس آ جاۓ پھر وہ اسے ہر دکھ تکلیف،، ہر بری نظر سے بچا کر رکھے گا لیکن کیا وہ ایسا کر پائے گا۔۔۔؟؟؟

ہال میں داخل ہوتے ہی ان پر پھول گرنے لگے۔۔ صالح نے ناک سکیڑ کر تیکھی نظروں سے دائیں طرف کھڑی لڑکی کو دیکھا جو مسکرا مسکرا کر اسے دیکھتی اس پر پھول پھینکتی جارہی تھی۔۔۔

سر جھٹک کر اس نے چہرہ سیدھا کر لیا۔۔ وہ لوگ سٹیج کی جانب بڑھے۔۔ ایک جانب مردوں کا انتظام تھا جبکہ دوسری جانب عورتوں کا۔۔۔

درميان میں سٹیج بنایا گیا تھا۔۔ ماہ بیر کے سٹیج پر بیٹھنے کے بعد صالح نیچے اترا اور عورتوں والی سائیڈ آتا مشائم کو ڈھونڈنے لگا جسے اس نے اب تک دیکھا تک نہیں تھا۔۔

دل اسے دیکھنے کے لیے بےچین ہورہا تھا۔۔ جانے وہ کیسی لگ رہی ہوگی۔۔۔ اسے وہاں نہ پا کر وہ واپس سٹیج کی جانب چلا گیا۔۔

برائیڈل روم میں رش لگا تھا۔۔ ارشما نروس سی سر جھکائے بیٹھی تھی۔۔ ڈیپ مہرون لهنگے کے ساتھ بمشکل کمر تک آتی کرتی زیب تن کئے جس کے کناروں پر موتی لٹک رہے تھے۔۔

ہاتھوں میں بھر بھر کر مہرون چوڑیاں ،، کانوں میں جهمکے ،، ماتھے پر ٹیکا،، ناک میں پهنی نتھ اور جھکی کانپتی گھنی پلکوں کا رقص دیکھنے والوں کو مبہوت کر رہا تھا۔۔

مہرون لپ سٹک سے سجے تراشیدہ لب آپس میں پیوست تھے۔۔ مشائم اس کے سامنے جھکی کھڑی اس کا دوپٹہ درست کررہی تھی۔۔۔

گرے ریشمی لهنگے کرتی میں وہ بلا کی حسین لگ رہی تھی۔۔ سیدھے ہوتے اس نے اپنے دوپٹے کو کندھے پر ٹھیک کیا تو ہاتھوں میں پہنے گلاب کے گجرے نمایاں ہوئے۔۔

گھنے بالوں کو اس نے سٹائلش سے جوڑے میں باندھ رکھا تھا جو اسکی گردن کو چھو رہا تھا۔۔ سامنے سے چند لٹیں گرتیں اس کے مہرون لپ سٹک میں ڈھکے لبوں کو چھو رہی تھیں۔۔

بی جان ارشما کے پاس آ کر بیٹھیں اور اس کے سر پر پیار دیا تو وہ آبدیدہ ہوتی ان سے لپٹ گئی۔۔

“میری بیٹی مجھ سے بہت پیار کرتی ہے!!!۔۔۔”

بی جان نے انجم اور عارفہ کو دیکھ کر کہا تو وہ مسکرا دیں۔۔

“بیٹیاں ہوتی ہی اتنی پیاری ہیں کس کا دل کرتا ہے خود سے دور کرنے کو لیکن انہیں بياہنا تو پڑتا ہے نہ ۔۔۔یہی دنیا کی ریت ہے!!!۔۔۔”

انجم نے محبت سے کہا۔۔

“آپ بلکل فکر نہ کریں اب یہ میری بھی بیٹی ہے انشااللہ بہت خوش رکھیں گے ہم اپنی بیٹی کو!!!۔۔۔”

عارفہ نے بی جان کو یقین دہانی کروائی تو وہ مطمئن ہوتیں مسکرا دیں۔۔

نگہت نے مشائم کو ٹہوکہ دیا ۔۔

“مشی بی بی ایسی ساس میرے لیے بھی “بک” کروائیں۔۔۔۔” وہ منہ بنا کر بولی تو مشائم کو بری طرح ہنسی آئی۔۔

“بس کہیں بھی شروع ہوجایا کرو تم!!!۔۔۔”

اس کے سر پر چپت لگاتی وہ ارشما کے بلانے پر اس کی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔

کچھ وقت کے بعد اسے سٹیج کی طرف لے جایا جانے لگ۔۔ سب خواتین اٹھ اٹھ کر دلہن کو دیکھنے کی کوشش کررہی تھیں لیکن اس کے چہرے پر گھونگھٹ تھا۔۔

اسے گھونگھٹ لیے آتا دیکھ کر ماہ بیر مسکراتی نظروں سے اسے دیکھتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔ اس کے بن کہے ارشما نے چہرے کو غیر مردوں سے چھپایا تھا حلانکہ وہ پرده نہیں کرتی تھی۔۔

اس کے اس عمل سے ماہ بیر سلطان کے دل میں اس کے لیے عزت مذید بڑھ گئی تھی۔۔

سٹیج سے نیچے اترتا صالح یوسف اپنی کم سن بیوی کو دیکھ کر وہیں ساکت ہوا تھا۔۔۔ آج وہ اس قدر حسین لگ رہی تھی کہ اس پر سے نظریں ہٹانا صالح یوسف کے لیے محال ہوا تھا۔۔۔

نظروں کی تپش پر مشائم نے سامنے دیکھا تو ۔۔۔ اسکی سانسوں کا دشمن اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔ اسے مہرون پینٹ کوٹ میں نک سک سا تیار دیکھ کر مشائم کی آنکھوں میں ستائش نماياں ہوئی۔۔۔

وہ لوگ سٹیج کے پاس پہنچے تو ماہ بیر نے آگے ہوتے ارشما کی جانب ہاتھ بڑھایا جسے کچھ پس و پیش کے بعد اس نے تھام لیا۔۔۔

احتیاط سے اسے سٹیج پر چڑھا کر وہ سٹائلش صوفوں کی طرف بڑھا۔۔ ان کے بیٹھنے کے بعد مشائم نے ارشما کا دوپٹہ ٹھیک کیا اور صالح کو نظرانداز کرتی نیچے اتر گئی۔۔

صالح نے دانت پیس کر اسے دیکھا۔۔۔

ماہ بیر نے سر جھکا کر ارشما سے کچھ کہا جس پر صالح ان کی جانب متوجہ ہوا۔۔

“اتنی بھی کیا جلدی ہے واپس جا کر رومینس جھاڑ لینا ،، بھابھی نے تمهارے ساتھ ہی جانا ہے!!!۔۔۔”

اس کے بےدھڑک کہنے پر ارشما کا شرم سے برا حال ہوگیا جبکہ ماہ بیر نے دل جلانے والی مسکراہٹ سے اسے دیکھا۔۔۔ “میری بیوی ہے جہاں مرضی رومینس جھاڑوں تم کیوں جل رہے ہو یوسف صاحب۔۔۔ تم اپنی والی کو سنبهالو جو تمہارے ہاتھ بھی نہیں آ رہی!!!۔۔۔”

اس کے جلے پر نمک چھڑک کر وہ سکون سے بیٹھ گیا۔۔ صالح نے خفگی سے اسے دیکھا اور بڑبڑا کے سٹیج سے اترتا سیدھا مشائم کے پاس آیا۔۔۔

“آج رات آپ کی خیر نہیں اپنا تن من تیار رکھیے گا آج آپ کو کوئی رعایت نہیں ملے گی!!!۔۔۔”

جھک کر اس کے کان میں سرگوشی کرتے اسے ساکت چھوڑ کر وہ وہاں سے جا چکا تھا۔۔۔

مشائم کے دل کی دھڑکن سوا ہوئی تھی۔۔۔ مشکل سے مسکراتی وہ ایک خاتون سے بات کرنے لگی۔۔۔

“رکیں بھائی جااان۔۔۔۔ اتنی بھی کیا جلدی ہے کمرے میں جانے کی پہلے میرے پیسے تو نکالیں!!!!۔۔۔”

وہ دروازے کے سامنے ہاتھ پھیلا کر کھڑی ہوگئی۔۔ ماہ بیر نے صالح کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔۔

“یار یہ اپنی بیوی کو سنبهالو !!!۔۔۔”

وہ مسکراہٹ دباتا بولا۔۔

مشائم کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔۔

صالح نے مسکراتی نظروں سے اسے دیکھا۔۔

“منہ بند کر لیں ورنہ۔۔۔۔”

اسکی دھمکی وہ خوب سمجھ گئی۔۔ خفت سے اس نے منہ بند کیا۔۔

ماہ بیر نے اس کے خفا چہرے کو دیکھ کر آگے بڑھ کر اسکا سر چوما۔۔

“میری جان صبح لے لینا جتنے مرضی پیسے۔۔ ابھی اپنے شوہر کی جیب خالی کرو!!!۔۔۔”

صالح کو پھنسا کر وہ آرام سے دروازه کھول کر اندر چلا گیا۔۔ اس کی چالاکی پر صالح عش عش کر اٹھا۔۔۔

چلیں کمرے میں؟؟

وہ لوگ رات ہونے کی وجہ سے حویلی ہی ٹھہر گئے تھے۔۔ اس کی نظروں کے پیغام پر مشی نے حلق تر کیا۔۔

صالح کو چند پل دیکھنے کے بعد اس نے پیچھے کی طرف دوڑ لگا دی۔۔

وہ بھی دانت پیس کر اس کے پیچھے بھاگا لیکن اسکے ہاتھ میں آنے سے پہلے ہی وہ بی جان کے کمرے میں گھستی دروازه بند کر گئی۔۔

بعد میں اس کی اچھی طرح خبر لینے کی نیت سے وہ فلحال وہاں سے چلا گیا۔۔

جیسے ہی اس نے اندر آ کر دروازه بند کیا ارشما بیڈ پر مذید سمٹ کر بیٹھ گئی۔۔۔ ماہ بیر اس کے مقابل آ بیٹھا اور ایک لمحے کی دیر کئے بغیر اس کا گھونگھٹ اٹھا دیا۔۔۔ آنکھوں میں جزبات کا سمندر لیے وہ حسن کے اس پیکر کو یک ٹک دیکھے گیا۔۔

واللہ آپ عزرائیل نہیں ہیں۔۔

پھر بھی لگتا ہے کسی دن میری جان لے لیں گی!!!

نرم گرم نگاہوں سے اسے دیکھا وہ دھیمے جذبات سے پر لہجے میں بولا۔۔

ارشما نے بےساختہ جھکی پلکیں اٹھاتے اس کے لبوں پر ہاتھ رکھا۔۔۔

ماہ بیر نے اسکا ہاتھ چوم لیا جس پر وہ گهبرا کر اس کے لبوں سے ہاتھ ہٹا گئی۔۔

اس نے جیب سے ایک کیس نکال کر کھولا جس میں گولڈ کی انتہائی نفیس سی پائل چمک رہی تھی۔۔

یہ آپ کے لیے ادنیٰ سا تحفہ۔۔ کیا میں پہنا دوں آپ کو؟؟؟ وہ اجازت لیتا اسے دیکھنے لگا تو ارشما نے آہستہ سے اپنا پیر آگے کرتے لهنگا اوپر کھسکایا۔۔

اس کے دودھیا نرم و نازک پیر واضح ہوئے جن میں گلابیاں گھلی ہوئی تھیں۔۔ ماہ بیر نے اس کے پاؤں میں پازیب پہنائی اور جھک کر اس کے پیر کو چوما۔۔

ارشما کی دھڑکنیں منتشر ہوئیں۔۔ خضدار کا سربراہ “سلطان ماہ بیر شاہ” جو کسی کے سامنے جهكنا تک نہیں جانتا تھا آج اس کی محبت میں وہ اسکے پیر کو جھک کر چوم رہا تھا۔۔

سیدھا ہو کر وہ اٹھا۔۔

“میں فریش ہو کر آتا ہوں آپ بھی چینج کر لیں یہ سامنے چینجنگ روم ہے!!!۔۔۔”

گہری نظر اس کے نازک وجود پر ڈالتا وہ کبرڈ سے ٹراؤزر نکال کے باتھ روم میں گھس گیا۔۔۔

اسکے جاتے ہی وہ بھی اٹھی۔۔کب سے اتنا بوجھ وہ برداشت کررہی تھی۔۔ مشائم کمرے میں پہلے ہی اسکا بیگ رکھ کر جا چکی تھی۔۔

دل میں اسکی شکرگزار ہوتی وہ سادہ ڈھیلا سا ٹراؤزر شرٹ نکال کر چینجنگ روم میں چلی گئی۔۔

کپڑے تبدیل کرنے کے بعد وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھ کر ٹشو کی مدد سے میک اپ صاف کرنے لگی۔۔ شہد رنگ بال سلجھا کر اس نے ڈھیلے سے جوڑے میں باندھ کر باتھ روم کے دروازے کو دیکھا جو اب تک بند تھا۔۔

اس سے پہلے کہ وہ بیڈ کی طرف جاتی باتھ روم کا دروازه تھوڑا سا کھلا۔۔

“تولیہ پكڑا دیں!!!۔۔۔”

ارشما واپس کبرڈ تک آئی اور تہہ شدہ تولیہ نکال کر دھڑکتے دل سے باتھروم کی طرف آئی۔۔ اس نے تولیے والا ہاتھ آگے کیا ہی تھا کہ ماہ بیر نے اسے اندر کھینچ کر باتھ روم کا دروازه لاک کر دیا۔۔

ارشما کی آنکھیں پھیل گئیں۔۔۔ اس کے حلق سے بےساختہ چیخ نکلی کہ ماہ بیر نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھتے اسے دیوار سے لگایا۔۔

بغیر شرٹ کے اس کے اتنے قریب آنے پر ارشما نے زور سے آنکھیں میچیں تھیں۔۔ وہ آنے والے وقت کا تصور کرتی اس کے تنگ حصار میں کانپنے لگی تھی۔۔

“وہ ۔۔ میں ۔۔۔تھ۔۔ک ۔۔۔گئی ۔۔ ہوں ۔ن۔ بہت ۔۔ سو۔۔سونا ۔۔ چاہتی ہوں!!!۔۔

اسے بھاگنے کے لیے پر تولتے دیکھ کر ماہ بیر نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر جھٹکے سے سینے سے لگایا۔۔ اسکے بھیگے سینے پر گرتی پانی کی بوندیں ارشما کی قمیض میں جذب ہوئی تھیں۔۔

اس کے کان پر جھکتے وہ سرگوشی کرنے لگا۔۔

۔۔۔۔۔۔ان کی نزاكت کا کیا ہی عالم ہے سائیں!!!

ذرا سا سانس لیتے ہیں تھک جاتے ہیں!!!۔۔۔۔۔۔

گال پر اسکی داڑھی کی چبھن پر وہ گہری سانس لیتی کسمسائی۔۔ ماہ بیر اسے کمر سے تھامے شاور کے نیچے کھڑا ہوگیا اور ہاتھ مار کر شاور آن کر دیا۔۔۔

شاور سے گرتا پانی دونوں کو بھگونے لگا۔۔

“ابھی تو میں نے کچھ کیا بھی نہیں ہے اتنی جلدی آپ کی سانس پھول گئی؟؟۔۔۔”

وہ اس کی گردن میں ہاتھ ڈال کر اسکا چہرہ اٹھاتا جھک کر بولا تھا۔۔

اتنے قریب ہو کر بولنے پر اس کے گیلے ہونٹ ارشما کے بھیگے لبوں سے ٹکرائے تھے۔۔ ارشما کو جیسے کرنٹ لگا تھا۔۔ اس نے آنکھیں کھولیں لیکن اوپر سے گرتے پانی پر دوبارہ آنکھیں بند کر گئی۔۔

وہ دونوں مکمل بهیگ چکے تھے۔۔ ارشما کی شرٹ اسکے جسم سے چپک چکی تھی۔۔ اسکی پشت پر ہاتھ پھیر کر اس نے ارشما کو جھٹکے سے اوپر کیا اور اسکی گیلی گردن پر اپنے دہکتے لب رکھ گیا۔۔

ایک ہاتھ سے اسکی کمر تھامے دوسرے ہاتھ سے اس کے بال کھولتا وہ شدت سے اس کی گردن کو جابجا چوم رہا تھا۔۔ ارشما نے سہارا لینے کے لیے اس کی گردن کے گرد بازو کا گھیرا بنا لیا اور اس کے پیروں پر اپنے پیر رکھتی اسکی شدتوں پر ہلکان زور سے سانس کھینچنے لگی۔۔

ماہ بیر نے اسکے کندھے سے شرٹ کھسکا دی اور گردن سے کندھے تک ناک سہلانے لگا۔۔ اسکے بدن کی مہک میں گہرے سانس لیتا وہ اسے پاگل کررہا تھا۔۔

وہ آنکھیں موندے اسکا لمس اپنے بدن پر محسوس کرتی اس کے رحم و کرم پر کھڑی تھی۔۔۔ گردن اور کندھے پر شدتیں لٹا کر ماہ بیر نے جھکا سر اٹھایا۔۔

اسکا حد سے زیادہ سرخ چہرہ دیکھ کر وہ سرخ خمار زدہ آنکھوں سے اسکے لبوں کو دیکھتا جھکا تھا۔۔ ارشما جو اس کے سیدھے ہونے پر سانس ہموار کررہی تھی اپنے ہونٹوں پر اسکے پرحدت ہونٹوں کی سخت گرفت محسوس کر کے وہ آنکھیں پوری کھولتی اسکی پشت پر ناخن مارنے لگی۔۔

وہ تو جیسے صدیوں کا پیاسا اس کے لبوں سے اپنی پیاس بجھا رہا تھا۔۔ کئی لمحے وہ اسکے ہونٹوں کی نرمی محسوس کرتا رہا۔۔۔

اسکا جسم ڈھیلا پڑتا دیکھ کر ماہ بیر نے اسکے لبوں کو آزاد کیا۔۔ ماہ بیر کی گردن پر ناخن مارتی وہ گہرے گہرے سانس لیتی اس سے دور ہو کر دیوار سے لگ کر کھڑی ہوگئی۔۔

گہری سانس لینے سے واضح ہوتے اسکے نشیب و فراز کو دیکھ کر لب دباتا وہ اسکی جانب بڑھا۔۔ اس کے گیلے کسرتی سینے کو دیکھ کر ارشما نے آنکھیں موند لیں۔۔

وہ اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھا اور اسکی شرٹ اوپر سرکا کر اس کے بیلی بٹن کو دیکھا۔۔ اس کے پیٹ پر دو انگلیاں پھیر کر اس نے ارشما کی کمر پر ناک سہلائی۔۔

اس کے نرم و نازک وجود کے لمس اور حدت سے پاگل ہوتا وہ جھکا اور لبوں سے جابجا اسکے پیٹ اور کمر کو چھونے لگا۔۔

ارشما نے زور سے مٹھیاں بھینچ لیں۔۔۔ اس نے اپنے کپکپاتے ہاتھ ماہ بیر کے بھیگے بالوں پر رکھے جو اس کی بیلی پر جھکا اسے پور پور اپنے لمس سے بھگو رہا تھا۔۔

یکدم وہ اٹھا اور اس کے گیلے بال مٹھی میں پکڑ کر اسے بلند کرتے اسکی شاہ رگ پر شدت سے اپنے لب رکھ گیا۔۔ شاہ رگ سے ہوتا وہ لبوں سے نیچے کا سفر طے کرنے لگا۔۔

اسکی بیوٹی بون کو ماہ بیر نے اتنی شدت سے چوما کہ اس پر سرخ نشان واضح ہونے لگے۔۔ ارشما بےساختہ سسک پڑی۔۔ اسے اپنی گردن پر شدید جلن محسوس ہورہی تھی۔۔

ماہ بیر نے باتھ روم کی لائٹ آف کی اور آہستہ آہستہ اس کے تن سے کپڑے جدا کرنے لگا۔۔

ارشما کو اس لمحے اس سے اتنی حیا آئی کہ وہ سرعت سے رخ موڑ گئی۔۔

اس نے اسے باتھروب پہنایا اور خود بھی پہن کر لائٹ آن کرتا اسے بانہوں میں بھر کر باہر نکلا۔۔ کمرے کی بتی بجھا کر اس نے ارشما کو بیڈ پر لٹایا اور اسکی کمر کے گرد لپٹی بیلٹ کھول کر اس کے اوپر جھکتا تمام حدود پھلانگتا چلا گیا۔۔

منا لو جتنی خوشیاں منانی ہیں ماہ بیر شاہ!!!۔۔۔

بہت جلد آؤں گا تم سے اور تمہارے چیلے صالح یوسف سے حساب لینے۔۔

میرے بھائی کو مار کر ۔۔ میرا سکون برباد کر کے تم لوگ جشن منا رہے ہو خوشیاں بانٹ رہے ہو؟؟؟۔۔

میرے دل میں انتقام کی جو آگ جل رہی ہے وہ تمہاری بیویاں بجھائیں گی۔۔۔

ہاہاہا!!! كمینگی سے بھرپور قہقہہ لگاتا وہ شراب کے نشے میں چور بیڈ پر اوندها گرا تھا۔۔

بی جان کے کمرے میں آ کر وہ کچھ دیر کے لیے وہیں صوفے پر بیٹھ گئی تھی۔۔ اس نے دکھتے کانوں سے جهمکے اور باقی جیولری اتار کر وہیں رکھ دی۔۔

ہاتھوں سے گجرے اتار کر وہ ناک کے پاس لاتی ان کی مہک محسوس کرتی آنکھیں موند گئی۔۔ مسکرا کر وہ اٹھی اور باہر جھانکا۔۔

دور دور تک کسی کا نام و نشان نہیں تھا۔۔۔سب اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے۔۔ حویلی کی سب لائٹیں بند تھیں۔۔ محض صحن میں بلب کی ہلکی روشنی تھی۔۔

وہ چینج کرنے کی غرض سے اپنے کمرے کی جانب گئی۔۔ اس نے ابھی تک کپڑے نہیں بدلے تھے۔۔

گرے لهنگے کو اٹھا کر وہ جا رہی تھی کہ بادلوں کی گرج پر اسکی آنکھوں میں خوشگوار حیرت آئی۔۔

“لگتا ہے بارش ہورہی ہے!!!۔۔۔”

ٹپ ٹپ گرتی بوندوں کی آواز پر وہ ایک نظر دیکھنے کو باہر لان میں آئی۔۔ تیز بارش کی بوچھاڑ اس کے چہرے پر پڑی تو وہ ہلکا سا ہنستی ایک قدم آگے بڑھی۔۔۔

دفعتاً اسے محسوس ہوا کہ کوئی اس کے پیچھے آ کر رکا ہے۔۔ اس سے پہلے کہ وہ پلٹتی آنے والے نے اسے دیوار سے لگاتے اسکی پشت اپنے ساتھ لگاتے اس کے منہ پر بھاری ہاتھ رکھا۔۔

اس کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنساتے وہ جھکتا اس کے کان کی لو دانتوں میں دبا گیا۔۔

“کیا لگا تھا آپ کو کہ آج بچ جائیں گی مجھ سے؟؟ اونہوں!!! آج آپ خود کو مجھ سے نہیں بچا سکتیں ۔۔ آج صالح یوسف آپ کے وجود پر گہری چھاپ چھوڑے گا۔۔ جس کے بعد آپ اپنے آپ سے بھی شرماتی پھریں گی۔۔ آپ کو بہت وقت دے دیا میں نے اب ایک پل اور نہیں!!!۔۔۔”

بارش میں بھیگتے وہ اسکی گردن کی نس ناک سے سہلاتا اسے کپكپانے پر مجبور کر گیا۔۔

اس کے نرم و نازک وجود کو بانہوں میں بھر کر وہ کمرے کی طرف بڑھا۔۔ پیر سے دروازه کھول کر وہ اندر آیا اور دروازه بند کر کے اسے نیچے اتارا۔۔

کمرے کی لائٹ آف تھی ۔۔ موم بتیاں جلا کر ہلکی ہلکی روشنی کی گئی تھی۔۔ گلاب کے پھولوں کی دلآویز مہک اس کے نتھنوں سے ٹکرائی تو اسے کمرے میں بنتے رومانوی ماحول کا احساس ہوا۔۔

اسے اپنی جانب بڑھتا دیکھ کر وہ ایک قدم پیچھے ہٹی۔۔ صالح نے گیلی شرٹ اتار کر دور پھینکی۔۔

موم بتیوں کی روشنی میں نظر آتے اسکے كسرتی جسم سے وہ نگاہیں پھیر گئی۔۔

دل زوروں سے دھڑکنے لگا تھا۔۔

صالح اس کے قریب بےحد قریب آ کر کھڑا ہوگیا اتنا کہ اسکی سانسوں کی تپش سے مشائم کو اپنا چہرہ جلتا محسوس ہوا۔۔

“مجھے ڈر لگ رہا ہے!!!۔۔۔”

وہ اس کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھتی سر اٹھا کر معصومیت سے بولی۔۔

“کیوں ڈر لگ رہا ہے میری جان کو؟؟؟۔۔۔”

وہ جھک کر اسکے گال پر بوسہ دیتا اس سے پوچھنے لگا۔۔ “آپ سے ڈر لگ رہا ہے”

وہ شرم کے مارے بات ادھوری چھوڑ گئی۔۔

صالح نے نیم وا آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔۔”

آپ کو برداشت کرنا ہوگا آج آپ کا نازک وجود میری شدتیں جهیلے گا!!!۔۔۔”

اس نے مشائم کی پشت پر ہاتھ لے جاتے اس کی کمر پر بندھی ڈوری کھول دی۔۔

مشائم کی آنکھیں پھیل گئیں۔۔ یوسف۔۔۔؟؟؟ مم ۔۔۔

وہ حلق تر کرتی پیچھے ہٹی تو صالح کے ماتھے پر بل پڑے۔۔

“جیسی آپ کی مرضی!!!”

سنجیدگی سے کہہ کر وہ بغیر اسے دیکھے بیڈ پر جا کر لیٹ گیا۔۔ چہرے پر بازو رکھتے وہ آنکھیں موند گیا۔۔

اسکی ناراضگی پر مشائم کی جان لبوں کو آ گئی۔۔ وہ انگلیاں مسلتی اسے دیکھنے لگی جو اس سے ناراض ہو چکا تھا۔۔

چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ اس کے پاس آئی۔۔ اس کے قریب بیٹھ کر اس نے جھک کر اسکا بازو چہرے سے ہٹانے کی کوشش کی۔۔

مجھے اچھا سا لگتا ہے۔۔۔

تمهارے سنگ سنگ چلنا۔۔۔

تمہیں ناراض کر دینا۔۔

تمہیں خود ہی منا لینا۔۔۔

تمهاری بےرخی پر بھی ۔۔

تمہارے ناز اٹھا لینا۔۔

تم ہی کو دیکھتے رہنا۔۔

تم ہی کو سوچتے رہنا۔۔

بہت گہرے خیالوں میں محبت کے حوالوں میں۔۔

۔۔۔۔۔تمہارا نام آ جانا۔۔۔۔۔

مجھے اچھا سا لگتا ہے!!!

“یوسف۔۔۔؟؟؟ آئی ایم سوری!!!۔۔۔”

وہ ڈبڈبائی نظروں سے اسے دیکھتی اس کا ہاتھ چہرے سے ہٹا گئی۔۔صالح آنکھیں موندے لیٹا رہا۔۔۔

مشائم نے اس کے گال پر ہاتھ رکھتے اسکی داڑھی پر پھیرا۔۔

“بہت محبّت ہے مجھے آپ سے ۔۔ آپ کی یہ ناراضگی میری جان لے لے گی!!!۔۔۔”

وہ اس کے برابر نیم دراز ہوتی اسکے ماتھے پر بکھرے بال سنوارنے لگی۔۔ صالح نے بہت مشکل سے خود پر قابو کیا تھا۔۔ اس کے نازک ہاتھوں کے لمس پر سکون محسوس کرتا وہ آنکھیں موندے پڑا تھا۔۔

“یوسف بس کریں نہ میں اب کچھ نہیں کہوں گی نہ پکا!!!۔۔۔”

وہ اس کے سینے پر انگلی سے اپنا نام لکھتی اسے پاگل کررہی تھی۔۔ صالح نے آنکھیں کھول دیں۔۔

اسے سینے پر گرا کر وہ خاموشی سے اسکے چہرے کے نقوش آنکھوں کے راستے دل میں اتارنے لگا۔۔

ابھی بھی ناراض ہیں؟؟؟

وہ نظریں جھکاتی آہستہ سے بولی۔۔

“ہوں تو آپ نے کونسا منا لینا!!!۔۔۔”

وہ سنجیدگی سے بولا۔۔۔

مشائم نے ایک نظر اسکے خفا چہرے پر ڈالی۔۔

“میں منا لوں گی آپ کو !!!۔۔۔”

صالح نے ابرو اچکائے ۔۔۔

“دیکھتے ہیں!!!”

وہ اس پاگل لڑکی کی قربت میں بھاری ہوتی سانسوں سے بولا۔۔ سر کے نیچے دونوں بازو رکھتا وہ نرم گرم نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا جو اس کی نگاہوں کی حدت پر شرم سے گلنار ہوئی تھی۔۔

وہ اسکی کانپتی پلکوں کے رقص کو فرصت سے دیکھ رہا تھا۔۔

اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھتے وہ سرگوشی میں کہنے لگی ۔۔۔

” آنکھیں بند کریں نہ مجھے شرم آ رہی ہے!!!۔۔”

صالح کے لبوں نے حرکت کی۔۔ “اوکے!!!” ۔۔۔

اس کی بند آنکھوں کا اطمینان کرتے اس نے دوپٹہ اتار کر سائیڈ پر رکھا اور زوروں سے دھڑکتے دل سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر جھکی۔۔

اسکی گردن کی ابھری ہڈی کو لبوں سے چھوتی وہ صالح یوسف کو پاگل کرنے لگی۔۔

آہستہ سے وہ تھوڑا اوپر ہوئی اور اسکی گردن میں بازو ڈال کر آنکھیں بند کرتی دھیرے دھیرے اس کے لبوں پر جھکتی ایک انچ کے فاصلے رک گئی۔۔

اپنے لبوں پر اسکی گرم سانسیں محسوس کر کے وہ بےچین ہوا تھا۔۔ مشائم نے حلق تر کیا۔۔

ہمت مجتمع کرتی وہ مزید جھکی۔۔ دونوں کے لب آپس میں ٹکرائے تو ان کے بدن میں ایک کرنٹ سا دوڑ گیا۔۔

جذبات کی حدت سے آگ اگلتے چہرہ اٹھا کر وہ سرعت سے پیچھے ہٹتی اس کی جانب سے رخ موڑ گئی۔۔

اس کا دل تھا کہ زوروں سے دھڑکے جا رہا تھا۔۔

وہ مذید خود پر قابو نہ رکھ پایا۔۔ یہ لڑکی تو اس کا نشہ بنتی جا رہی تھی۔۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔

ہاتھ بڑھا کر اس نے اسکی پشت سے بال ہٹا کر کندھے پر ڈال دیے۔۔ کھلی ڈوری سے جھانکتی کمر نمایاں ہوئی۔۔

صالح نے جھک کر اس کی پشت پر لب رکھے تو وہ آنکھیں موندتی لب سختی سے دانتوں میں دبا گئی۔۔

اس کے ہاتھوں اور لبوں کی گردش اپنی پشت پر محسوس کرتے وہ خود میں سمٹ گئی۔۔

اس کی گردن سے بال ہٹا کر وہ اسکی گردن میں چہرہ چھپاتا گہری سانسیں کھینچنے لگا۔۔

بےترتیب ہوتی سانسوں میں اس نے گردن پر جھکے صالح کے سر کی پشت پر ہاتھ رکھا۔۔

“اس وقت میرا دل چاہ رہا ہے آپ کو مکمل کھا جاؤں!!!۔۔۔” اس کےدونوں کندھوں سے شرٹ سرکا کر وہ شدت سے لب رکھتا بھاری آواز میں سرگوشی کر گیا۔۔

مشائم نے سوکھا حلق تر کرتے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔۔ “پیاس۔۔ لگ۔۔رہی۔۔ ہے۔۔ بہت!!!۔۔۔”

اس کے لب اپنے گال پر محسوس کرتی وہ اٹک اٹک کر بولی۔۔

صالح نے مسکراتی گہری نظر اس کے گلے پر ڈالی۔۔

“ہاں مجھے بھی بہت پیاس لگ رہی ہے!!!”

اسے گھما کر بیڈ پر لٹاتا وہ اسے سانس لینے کا موقع دیے بغیر اس کی گردن سے نیچے جاتا اس کے نازک بدن پر اپنے دہکتے لب رکھتا اسکی سانسیں بکھیر گیا۔۔

کرتی سے جھانکتی اس کی کمر پر دانت گاڑ کر وہ سیدھا ہوتا اسکے تاثرات دیکھنے لگا جو تکیہ دونوں ہاتھوں میں دبوچے آنکھیں سختی سے میچے گہرے گہرے سانس لے رہی تھی۔۔

سرخ خمار زدہ آنکھوں سے اسے سر تا پیر دیکھتے اس نے بیڈ پر گری گلاب کی کلی اٹھائی اور اسکے ہونٹوں سے گردن تک اور گردن سے ناف تک ٹریس کرنے لگا۔۔

“گلاب بدن اور گلاب مل جائیں تو پتہ کیا ہوتا ہے؟؟

اس کے اوپر سایہ کرتے وہ ایک ہاتھ اس کے برابر رکھ کر دوسرا ہاتھ اس کی پشت پر لے گیا۔۔ آہستہ سے اس کی کمر پر ہک کھول کر وہ جھکا۔۔

“تو نہ ختم ہونے والے جذبات کا طوفان امڈ آتا ہے۔۔۔”

چادر کھینچ کر دونوں پر اوڑھتا وہ اس کے گال پر ہاتھ رکھتا اس کے معصوم چہرے کے نقش نقش کو لبوں سے چھونے لگا۔۔

“بہت چاہنے لگا ہوں آپ کو ،، بے حد محبّت کرنے لگا ہوں،، دل چاہتا ہے آپ کو خود میں چھپا لوں ۔۔ سب سے کہیں دور لے جاؤں۔۔ آپ کو اپنی شدتوں سے روشناس کرواؤں کہ جب آپ کا کمسن حسن میرے سامنے ہوتا ہے دل کی دنیا میں کیا کیا طوفان اٹھتے ہیں!!!

اس کی میٹھی محبت بھری سرگوشیوں پر وہ آنکھیں کھولتی دیوانوں کی طرح اسے تکنے لگی۔۔

دل میں جیسے ٹھنڈی سی پھوار پڑ رہی تھی اس شخص کے “اقرار محبّت” پر جسے اس نے خود سے بھی زیادہ ۔۔ ہر چیز سے زیادہ چاہا تھا۔۔

ایک دوسرے کے وجود میں گم وہ آج مکمل ہوئے تھے۔۔