Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan NovelR50479 Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 15
No Download Link
Rate this Novel
Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 15
Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan
ڈاکٹر کے جانے کے کچھ دیر بعد ہی بی جان آ گئیں۔۔ ارے مدحت کہاں گئی؟؟ وه کمرے میں نگاہ دوڑاتی بولیں تو ارشما آہستہ سے کہنے لگی۔۔
“وه باہر گئی ہے بور ہو جاتی ہے نہ یہاں!! میری وجہ سے آپ لوگوں کو اتنی زحمت کرنی پڑ رہی ہے۔۔ ” وه شرمندہ سی بولی تو بی جان اسکے پاس آئیں۔۔
نہ بیٹا ایسا نہ سوچو تم اللّه جانتا ہے میں نے تمہیں اپنی بیٹی تسلیم کر لیا ہے۔۔!! وه محبت سے بولیں تو ارشما عقیدت سے ان کا ہاتھ تھامتی چوم گئی۔۔
آپ بہت اچھی ہیں!!! وه احساسِ تشکر سے انہیں دیکھنے لگی۔۔
تم بھی بہت اچھی ہو!! وه نرمی سے مسکرائیں پھر کچھ سنجیده ہوتیں بولیں ” بیٹا تم اپنے گھر جانا چاہو گی؟
ان کی بات پر ارشما خوف زدہ سی پیچھے ہٹی!! نن نہیں میں وہاں نہیں جاؤں گی آپ مجھے يتیم خانے بھیج دیں۔۔
وه سسکنے لگی تھی۔۔
ارے ارے چپ کرو کیوں جاؤ گی تم يتیم خانے۔۔ بس ٹھیک ہوگیا تم ہمارے ساتھ رہنا اب سے۔۔ بہت جگہ ہے ہمارے گھر میں بھی اور دل میں بھی!!
وه پیار سے اسے ڈپٹ گئیں تو وه شوں شوں کرنے لگی۔۔ اس وقت وه انھیں اتنی پیاری لگی کہ انہوں نے بے ساختہ آگے بڑھتے اسکا سر چوم لیا۔۔
ٹھا کی آواز سے دروازه کھلا تو دونوں دہل کر اس سمت دیکھنے لگیں جہاں سے ڈاکٹر کے پیچھے مدحت اندر داخل ہورہی تھی۔۔ لیڈی ڈاکٹر کے چہرے پر تفکرات کے سائے منڈلاتے دیکھ کر بی جان بھی پریشان ہو گئیں۔۔
کیا ہوا آپ اتنی پریشان کیوں ہیں؟ انکی بات سنتے لیڈی ڈاکٹر جلدی سے سنگل بیڈ کے پاس آئی۔۔”کوئی شمع کے بارے میں معلومات لے رہا ہے ریسپشن پر۔۔ مجھے لگتا ہے وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے اسے اس حال میں پہنچایا۔۔”
وه جلدی سے ایک کاغذ پر قلم گهسیٹتی عجلت میں بولیں۔۔ ارشما کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔۔ وه تھر تھر کانپنے لگی تو مدحت اسکے پاس آ کر کھڑی ہوتی اسکا ہاتھ تھام گئی۔۔ بی جان کو بھی صورتحال کی سنگینی کا احساس ہوا۔۔
ڈاکٹر نے کاغذ بی جان کی طرف بڑھایا۔۔ “یہ میں نے کچھ دوائیاں لکھ دی ہیں۔۔ آپ لوگ جلدی نکل جائیں یہاں سے۔۔ جلدی کریں ہسپتال کے پچھلے دروازے سے نکل جائیں کسی کو پتہ نہیں چلے گا۔۔”
مدحت نے جلدی سے ارشما کو چادر اوڑھائی اور سہارا دے کر کھڑا کیا۔۔ چادر سے منہ کو ڈھک کر وه تینوں لیڈی ڈاکٹر کی ہمراہی میں ہسپتال کے پچھلے دروازے سے باہر نکل گئیں۔۔
مشی۔۔۔کچھ تو کھا لو کل سے بھوکی ہو ایسے کیسے ٹھیک ہوگی طبیعت؟؟ عارفہ اسکے سامنے سوپ کا پیالہ کرتے ہوئے نرمی سے بولیں۔۔
نہیں کھانا مجھے کچھ چلی جائیں یہاں سے!! وه سوپ کے پیالے کو ہاتھ مارتی چختی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ پیالہ نیچے گرتا چھناکے سے ٹوٹ گیا۔۔
اچانک اٹھنے سے اسے زوردار چکر آیا۔۔ وه پیشانی پر ہوئی پٹی پر ہاتھ رکھتی لڑکھڑائی تو عارفہ نے جلدی سے اسے تھام لیا۔۔
پیچھے ہٹیں ہاتھ مت لگائیں مجھے!! مشائم ان کا ہاتھ جھٹکتی درشتگی سے بولتی بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔
اللّه کا واسطہ ہے جائیں یہاں سے میں کسی سے نہیں ملنا چاہتی۔۔ کر لی نہ سب نے اپنی منمانی اب کیا چاہتے ہیں مجھ سے مر جاؤں میں؟؟
وه حلق کے بل چلائی تو عارفہ نم آنکھوں سے اسے دیکھتیں کمرے سے باہر جانے لگیں کہ مشائم کی آواز پر رکیں۔۔
“اور اب اگر کسی بھی ملازمہ کے ہاتھ آپ نے کچھ بھی بھیجا تو میں سر پھاڑ دوں گی اسکا۔۔” وه جنونی ہوتی بدتمیزی سے بولی۔۔
اتنا سب تو ہوگیا تھا سکے ساتھ۔۔ بھری محفل میں اسے رسوا کر دیا گیا اس پر طلاق یافتہ ہونے کا ٹھپا لگ گیا اب کیا چاھتے تھے وه اس سے۔۔ وه اس سب کا قصوروار ان سب کو سمجھ رہی تھی جنہوں نے اسکے جذبات و احساسات کی پرواہ کیے بغیر اسے جہنم میں جھونکنے کا فیصلہ کیا تھا۔۔ ہاں جہنم ہی تو تھی وه اسکے لیے۔۔
کسی احساس کے تحت اس نے سرخ روئی روئی آنکھیں اٹھا کر دروازے کی سمت دیکھا جہاں چوکھٹ سے دو قدم کے فاصلے پر ماہ بیر کھڑا شرمندہ سا اسے دیکھ رہا تھا۔۔
جب سے وه گھر آئی تھی اسکی ہمت نہ پڑی تھی کہ اپنی چھوٹی اپنی مشی کا سامنا کر پاتا۔۔ اب بھی وه وہاں سے گزر رہا تھا کہ مشائم کی تڑپ زدہ آواز سن کر بےچین ہوتا چلا آیا۔۔
مشائم آہستہ سے اٹھی اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی دروازے تک آئی۔۔ چند سیكنڈ ماہ بیر کو دیکھنے کے بعد اس نے ماہ بیر کے منہ پر دروازه بند کر دیا۔۔
چٹخنی چڑھا کر وه واپس بستر تک آئی اور بے جان سی اوندھی گرتی پھپھک پھپھک کر رونے لگی۔۔ اوندھے گرنے سے اسکی پیشانی پر دباؤ پڑا تو زخم سے ٹیسیں اٹھنے لگیں لیکن وه ڈھیٹ بنی لیٹی رہی۔۔
دوپٹہ سر پر درست کرتی وه رشید کے ساتھ بس سے نیچے اتری۔۔ رشید اسکا بیگ کندھے پر ڈالتا اسے ساتھ لئے ارد گرد دیکھتا سڑک پار کرتا فٹ پاتھ پر چلنے لگا۔۔
اینارا سپاٹ چہرے سے اس کے قدموں سے قدم ملاتی سیدھ میں دیکھتی چلنے لگی۔۔ کچھ دور پیدل چل کر رشید نے رکشہ رکوایا اور وه دونوں اس میں بیٹھ کر اسلام آباد کے ڈیفنس ایریا میں آ گئے۔۔
ایک پر تعیش بنگلے کے سامنے اترتے رشید نے رکشے والے کو کرایا دیا اور گیٹ پر موجود گارڈ سے حال احوال دريافت کرتا اینارا کو اشارہ کرتا اسکے ساتھ اندر چلا آیا۔۔
زمین پر بیگ رکھتے وه اینارا کو وہیں کھڑے رہنے کا کہتے اوپن کچن میں چلا آیا جہاں ملازمہ کھانا بنا رہی تھی۔۔ اورهان صاحب کہاں ہیں؟؟ اسکا پوچھنا تھا کہ اورهان سیڑھیاں اترتا ہوا دکھائی دیا۔۔
اسکی نظر ایک کونے میں کھڑی لڑکی پر پڑی تو وه بھنویں اچکاتا کچن سے کچھ فاصلے پر موجود ٹی وی لاؤنج میں آ کر بیٹھ گیا۔۔ اسے دیکھ کر اینارا کی آنکھیں سرد ہوئیں۔۔ اس کے اندر ابال اٹھنے لگے۔۔ بہت مشکل سے اس نے خود پر قابو کرتے چہرے پر معصوم تاثر قائم کیا۔۔
رشید جلدی سے اس کے پاس آتا مؤدب سا کھڑا ہو کر سلام کر گیا۔۔
ہمم!! اورهان نے سر کے اشارے سر جواب دیا۔۔ ہر وقت نک سک سا تیار رہنے والا اس وقت عام سے حلیے میں بیٹھا تھا۔۔
صاحب آپ سے ایک بات کرنی تھی!! وه ہچکچاتا ہوا بولا تو اورهان نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔
“وه اصل میں میری منہ بولی بہن بھی ساتھ آئی ہے۔۔ اسے نوکری کی اشد ضرورت ہے۔۔ بیچاری کا باپ گزر گیا ہے کچھ دن پہلے۔۔ آپ مہربانی کر کے اسے نوکری پر رکھ لیں۔۔”
وه منت کرتے ہوئے بولا تو اورهان نے چہرہ موڑ کر ایک نظر اینارا کو دیکھا جو باپ کے ذکر پر نم آنکھوں سے زمین کو گھور رہی تھی۔۔ اس کا دل تو کررہا تھا ابھی جا کر اس گھٹیا انسان کا منہ نوچ لے۔۔
ٹھیک ہے تم جاؤ!!! اورهان کی رضامندی پر وه خوش ہوتا پلٹا اور اینارا کو آنکھوں ہی آنکھوں میں تسلی دیتا اپنی ڈیوٹی کرنے چلا گیا۔۔
ادھر آؤ تم!!! سگریٹ سلگا کر اس نے اینارا کو بلایا تو وه چپ چاپ چلی آئی۔۔ اسکے سامنے کھڑی ہوتی وه معصومیت سے پلکیں جهپکا کر اپنے پیروں کو دیکھنے لگی۔۔
کیا نام ہے تمہارا؟؟ وه سنجیدگی سے اسے دیکھ کر پوچھنے لگا۔۔
اینارا!!!
جواباً وه بھی سنجیدگی سے بولی۔۔ البتہ نظریں ابھی بھی نہ اٹھائی تھیں۔۔ اسے ڈر تھا کہ وه اسکی آنکھوں میں جهلکتی نفرت نہ بھانپ لے۔۔
“اپنا بیگ لے کر آؤ” نیا حکم ملا۔۔ وه نا سمجھی سے اسے ایک نظر دیکھتی کچھ دور پڑا بیگ اٹھا لائی۔۔
ادھر دو!!! اب کی بار اسکے نئے حکم پر وه بڑی بڑی آنکھوں میں حیرت سموئے اسے ہونقوں کی طرح دیکھنے لگی۔۔
آئی سیڈ گیو می دا بیگ،، چیک کرنا ہے مجھے!!! اب کی بار وه اکتاہٹ بھرے لہجے میں بولا تو وه فورا سے بیگ سینے سے لگا کر سر نفی میں ہلانے لگی۔۔
اورهان نے اچنبھے سے اسے دیکھا۔ عجیب بےوقوف لڑکی تھی۔۔ اگر وه پہلے کی طرح ہوتا تو رکھ کر دو چماٹ اس کے چہرے پر لگاتا۔۔
نن۔۔ نہیں آپ یہ ۔۔نہیں ۔۔دیکھ سکتے۔۔ اس ۔۔ میں ۔۔میری کچھ ۔۔ پرسنل ۔۔ چیزیں ہیں!!! وه شرم سے سرخ پڑتا چہرہ جھکائے اٹک اٹک کر بولی۔۔
اوکے جاؤ!!! ہیڈ سرونٹ سے مل لو۔۔ تمہیں تمہارا كمره دکھا دے گا اور کام بھی سمجھا دے گا۔۔
وه بے تاثر چہرے سے بولتا موبائل نکال کر وال پیپر پر لگی ارشما کی تصویر دیکھنے لگا۔۔ اسکی آنکھوں میں نمی چمکی۔۔ ذہن پر بوجھ بڑھنے لگا تو وہ یکدم اٹھا اور گاڑی کی چابی پکڑتا کلب کے لیے نکل گیا۔۔
دوائیوں کا پیكٹ ہاتھ میں پکڑے وہ “پیر الٰہی بخش کالونی” میں داخل ہوئیں۔۔ وه پیدل چل کر سڑک پر موجود میڈیکل سٹور سے ارشما کے لیے دوائیاں لینے گئی تھیں۔۔
کراچی کا موسم کچھ گرم تھا۔۔ وه گرمی سے ہانپتی ہوئیں تنگ سی گلی میں داخل ہوئیں۔۔ ایک چھوٹے سے دو کمروں پر مشتمل گھر کا دروازه کھول کر وه اندر آئیں اور دروازه بند کر کے چھوٹا سا برآمدہ پار کر کے سیدھ میں ایک ساتھ بنے دو کمروں میں سے دائیں جانب والے کمرے میں آئیں۔۔
ارشما بچے طبیعت ٹھیک ہے تمہاری؟؟ وه جو چہرے پر بازو رکھے لیٹی ہوئی تھی بی جان کی آواز سن کر بازو چہرے سے ہٹا کر آہستہ سے اٹھ بیٹھی۔۔
ٹھیک ہوں بی جان!!! آپ بیٹھیں یہاں دیکھیں تو کیسے ہانپ رہی ہیں۔۔ میں پانی لاتی ہوں آپ کے لیے۔۔
پیار سے انہیں دیکھتی وه پانی لینے باہر چلی آئی۔۔ چھوٹے سے سرخ اینٹوں والے باورچی خانے میں آ کر اس نے شلف پر رکھے کولر سے پانی کا گلاس بھرا اور واپس کمرے میں آ کر بی جان کو تهما گئی۔۔
ان کے برابر بیٹھ کر وه سیمنٹ زدہ دیوار پر نظریں جما گئی۔۔ وہ ایسے ہی بیٹھی بیٹھی کھو جاتی تھی۔۔
بچے دوائی کھا لو!! اس کے سر پر پیار کرتیں وه پانی پینے لگیں تو وه بھی سر جھٹک کر اٹھی۔۔ دوائیوں کا پیکٹ اٹھا کر پانی لینے دوبارہ کچن میں آئی۔۔
برے برے منہ بناتی وه ایک ایک کر کے گولی پانی کے ساتھ نگلنے لگی۔۔ الجھی ہوئی وه واپس کمرے میں آئی اور الجھے بالوں کو کھول کر دوبارہ سے جُوڑا کرنے لگی۔۔
بی جان؟؟ وه پر سوچ انداز میں انہیں دیکھتے ہوئے بولی۔۔
ہاں بیٹا بولو!!! وه بستر پر لیٹتے ہوئے اسکی جانب دیکھ کر گویا ہوئیں۔۔
اتنی رقم سے کب تک گزارا ہوگا ہمارا؟؟ اور گھر کا کرایہ؟؟ وه کنپٹی دبا کر بولی تھی۔۔
(ہسپتال سے نکلنے کے بعد بی جان اسے فیصل کے گھر لے آئی تھیں۔۔ فیصل ان کا پوتا تھا جی بن ماں باپ کے اکیلا رہتا تھا۔۔ وه فیصل کے بے حد اسرار پر اسکے پاس کافی عرصے سے رہ رہی تھیں لیکن ان کا اصل ٹھکانہ کراچی میں تھا جہاں وه ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان میں رہتی تھیں۔۔
ان کا آبائی گھر بےحد شاندار تھا لیکن بٹوارے کے بعد وه اپنے بیٹے اور بہو کے ساتھ ایک کرائے کے مکان میں آ گئیں۔۔ ایک حادثے میں ان دونوں کے گزر جانے کے بعد وه کچھ عرصہ تو وہیں کراچی میں رہیں لیکن پھر فیصل کی ہزار منتوں کے بعد وه اسلام آباد چلی آئی تھیں۔۔
اب یہاں جو صورتحال پیش آئی تھی اس نے انہیں واپس کراچی جانے پر مجبور کر دیا تھا۔۔ وہ ڈر گئی تھیں کہ وه لوگ ارشما کو ڈھونڈ لیں گے اور اسے چھین کر لے جائیں گے۔۔ اور پھر ارشما بھی فیصل پر بوجھ بننے پر راضی نہ ہوئی۔۔
بی جان اپنے کچھ زیورات بیچ کر فیصل کی غیر موجودگی میں ارشما کو لیے کراچی چلی آئیں۔۔ انہوں نے مدحت کو سمجھا دیا کہ فیصل سے طریقے سے بات کر کے اسے بتا دے۔۔۔ انھیں اندازه تھا کہ وه خفا ہوگا اور ایسا ہی ہوا تھا۔۔
بہرحال وه کراچی آ کر سب سے پہلے اپنے پرانے ہمسایوں سے ملیں جنہوں نے انہیں اپنے پاس ایک رات رکنے کی اجازت دے دی۔۔ ارشما نے خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا۔۔ بی جان کی کوششوں سے انہیں “پیر الہی بخش کالونی” میں مناسب کرائے پر گزارے لائق گھر مل گیا۔۔ جہاں وه اپنے مختصر سامان کے ساتھ جلد ہی شفٹ ہوگئی تھیں۔۔)
“تم پریشان نہ ہو فیصل نے کہا تھا کہ وه ماہانہ اخراجات اور کرائے کی رقم بھیج دیا کرے گا!!!”
بی جان کی بات پر اس نے سپاٹ لہجے میں کہا ” مجھے ان کے احسانات کی ضرورت نہیں اور اگر آپ نے مجھ پر دباؤ ڈالا تو میں بغیر بتائے یہاں سے چلی جاؤں گی”
نازوں پلی معصوم سی لڑکی کو حالات نے کس دوراہے پر لا کھڑا کیا تھا۔۔ اسے اس وقت خود پر ترس آیا تھا۔۔
خبردار آئینده ایسی بات منہ سے نكالی تو!!! بی جان تو اسکی بات سن کر دہل گئی تھیں۔۔
پھر آپ بھی مجھ سے وعدہ کریں ان سے کوئی رقم نہیں لیں گے۔۔ میں۔۔۔ کچھ کرتی ہوں !!
ٹھیک ہو جاؤں پھر کہیں جاب کے لیے اپلائے کرتی ہوں۔۔ گریجوایشن تو کی ہوئی ہے میں نے کہیں نہ کہیں جاب مل جائے گی!! وه ایک عزم سے بولی۔۔
ٹھیک ہے نہیں روکتی میں تمہیں!! بس تم خوش رہو۔۔
وه اسکی آنکھوں میں جھانکتی ہوئی بولیں تو وه سر ہلا کر نظریں چراتی باہر چلی گئی۔۔ اب خوشی کا اس سے کیا تعلق تھا؟؟؟
اشہد ان لا الا اللہ
و اشہد ان محمدﷺ عبدہ و رسول
حی اعلی الصلوۃ
حی اعلی الفلاح
الصلوۃ خیر من النوم
آنسو اس کی پلکوں کی باڑ توڑ کر شفاف موتیوں کی مانند گر رہے تھے۔۔ دونوں گال آنسوؤں سے بھیگ چکے تھے۔۔ وه ناف پر ہاتھ باندھے دل کو چھو جانے والی آواز میں فجر کی اذان دے رہا تھا۔۔
اس کے لب کانپے تھے۔۔ اس نے مائیک سے پیچھے ہٹتے ہچکی لی۔۔ نیم اندھیرے میں مسجد کےصحن میں کھلے آسمان تلے کھڑا وه اذان دے رہا تھا۔۔ اسکی آواز میں ایسا سوز ایسا درد تھا کہ اذان کو سننے والا ہر شخص رو رہا تھا۔۔
امام مسجد نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وه گہری گیلی سانس کھینچ کر دوبارہ مائیک کے آگے آیا۔۔
اللّه اک۔۔۔ وه پھر اٹکا تھا۔۔ اللّه اکبر !!!!
لا الا الا اللّه!!!!
اذان دے کر وه نظریں جھکائے پلٹا اور صحن میں لگے نلکے کے سامنے پنجوں کے بل بیٹھ کر منہ پر پانی کے چھینٹے مارنے لگا۔۔ گہری سانس کھینچ کر کھڑا ہوتا وه ایک کمرے سے صفیں لا کر صحن میں بچھانے لگا۔۔
