Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan NovelR50479 Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 20
No Download Link
Rate this Novel
Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 20
Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan
آج اسکا نکاح تھا۔۔ اس کے من پسند شخص کے ساتھ جسے اس نے بےحد چاہا تھا۔۔ آناً فاناً نکاح کی تاریخ پکی کر کے نکاح کی تیاریاں شروع کردی گئی تھیں۔۔ آج پھر حویلی کو سجایا گیا تھا۔۔ دلہن بھی وہی تھی لوگ بھی وہی تھے بدلہ تھا تو دولہا اور احساسات۔۔
نگہت بےحد خوش تھی۔۔ چمکتے دمكتے کپڑوں میں اٹھلاتی وه مشائم کے کمرے میں آئی۔۔ ماشاءالله ماشاءالله !! وه ستائشی نظروں سے اسے دیکھ کر آگے بڑھی اور اسکی بلائیں لینے لگی۔۔ گہرے مہرون رنگ کے لهنگے کرتی میں دوپٹہ سر پر ٹکائے وه بے حد خوبصورت لگ رہی تھی۔۔ اس پر ٹوٹ کر روپ آیا تھا۔۔ بھوری بڑی بڑی آنکھوں میں كاجل کی لیکر نے انہیں دوآتشہ کر دیا تھا۔۔
مہرون لپ سٹک سے رنگے ہونٹوں سے ناک میں پہنی نتھ مس ہو رہی تھی۔۔ مانگ میں سجا ٹیکا اسکی پیشانی کی زینت بنا ہوا تھا۔۔ کلائیوں میں پہنے گجروں سے بھینی بھینی خوشبو اٹھ رہی تھی۔۔ آج اسکی چھب ہی نرالی تھی۔۔
“مشی بی بی بہت خوش ہوں میں آج رب سوہنے نے آپ کی سن ہی لی!! ہائے مجھے سوچ کر ہی مزا آرہا ہے اس کھڑوس سے آپ کی شادی ہونے والی ہے” مشائم نے اسے گھور کر دیکھا تو وه زبان دانتوں تلے دبا گئی۔۔
“ساری ساری” اسکی گلابی انگلش پر مشائم ہلکا سا ہنس دی۔۔ کچھ دیر تک مولوی صاحب آنے والے ہیں خود کو تیار كرلیں جی!! نگہت اسے چھیڑنے لگی تو وه شرما گئی۔۔ وقت تھا کہ دوڑا جا رہا تھا۔۔ ماہ بیر مولوی صاحب کے ساتھ اندر داخل ہوا۔۔ مشائم نے گھونگھٹ نکال لیا تھا۔۔ نگہت نے ماہ بیر کو دیکھا۔۔ براؤن کرتا شلوار پر براؤن ہی شال کاندھوں پر پھیلائے وه بہت وجیہہ لگ رہا تھا۔۔ وه جان بوجھ کر اسے تنگ کرنے کی نیت سے اسے ٹکٹکی باندھے دیکھے گئی۔۔
بیٹھیں مولوی صاحب!! نکاح خواں کو بیٹھنے کا کہتے اس نے نگہت کو گھورا تو وه معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتی مشائم کی دائیں جانب کھڑی ہوگئی۔۔ چند سیکنڈ بعد عارفہ اور عبدالله شاہ بھی کمرے میں داخل ہوئے۔۔ عارفہ نے دوپٹے سے چہرے کو ڈھانپ رکھا تھا پھر بھی ان کی آنکھوں میں خوشی صاف دیکھی جا سکتی تھی۔۔ ان کے برعکس عبدالله شاہ تھوڑے سنجیده تھے۔۔
بسم اللّه کریں!! ماہ بیر نے مشی کے سر پر ہاتھ رکھتے نکاح خواں کو اشارہ کیا۔۔
سيده مشائم عبدالله شاہ ولد سید محمد عبدالله شاہ کیا آپ کو صالح یوسف ولد ابراہیم یوسف سے پانچ لاکھ سکہ رائج الوقت کے یہ نکاح قبول ہے؟ مشائم کی آنکھیں نم ہوئیں۔۔ کتنی شدت سے انتظار کیا تھا اس نے اس لمحے کا۔۔ اس نے گہری سانس لی۔۔
قبول ہے!! اس ہلکی سی آواز گونجی۔۔
نکاح خواں نے دو بار دوبارہ یہی الفاظ دوہرائے۔۔ ایجاب و قبول کے بعد نکاح نامے پر مشائم کے دستخط لئے گئے۔۔ ماہ بیر نے جھک کر مشائم کا سر چوما۔۔
بہت مبارک ہو مشی!! جواباً وہ اسکے گرد بازو حائل کرتی رونے لگی۔۔
عبدالله شاہ نکاح خواں کو لیے کمرے سے باہر چلے گئے۔۔ ان کے جانے کے بعد عارفہ جلدی سے آگے آئیں۔۔ انہوں نے مشائم کا گھونگھٹ اٹھا کر اسکا سر چوما۔۔
ماشاءالله اللّه تمہارے نصیب اچھے کرے!!
نگہت تم مشی کے پاس رہو۔۔ امی جان آپ باہر آئیں۔۔ ماہ بیر نگہت سے مخاطب ہو کر عارفہ کو اشارہ کرتا باہر چلا گیا۔۔ کچھ دیر بعد کھانا لگوایا گیا تو ملازمہ انہیں بھی کھانا دے گئی۔۔
“مشی بی بی آئیں کھانا کھاتے ہیں بھوک سے تو میرے پیٹ میں چوہے دوڑنے لگے ہیں” نگہت ایک پلیٹ میں چاول نکالنے لگی۔۔
نہیں مجھے کچھ نہیں کھانا بھوک نہیں ہے!! مشائم نے صاف انکار کر دیا اور بیڈ پر آرام سے تکیوں سے ٹیک لگا گئی۔۔
ہائے اللّه آپ کی ابھی سے بھوک مر گئی؟ کچھ کھا لیں جی نہیں تو ہمت کیسے آئے گی۔۔۔یہ نہ ہو ان کی بانہوں میں جاتے ہی آپ بےہوش ہو جائیں!! وہ پوری بتیسی کی نمائش کرتی ہوئی بولی۔۔
مشائم کا چہرہ لال ٹماٹر ہوگیا۔۔ “بدتمیز !! اب بات نہ کرنا مجھ سے تم” وه شرم کو خفگی کے لبادے میں چھپانے کی کوشش کرنے لگی۔۔
“اچھا نہ ۔۔۔ نہیں کہتی آپ کو کچھ، تھوڑا سا تو کھا لیں۔۔ آپ نے صبح سے کچھ نہیں کھایا!!!” نگہت پیار سے بولی تو وه چار و ناچار دو چمچ چاول حلق سے نیچے اتار کر پیچھے ہوگئی۔۔ اسکا دل آنے والے وقت کے خیال سے تیز تیز دھڑک رہا تھا۔۔
وه وقت بھی آ گیا جب اسے رخصت کیا جانا تھا۔۔ مکمل چادر سے ڈھکی وه ماہ بیر اور عارفہ کے ساتھ باہر گاڑی تک آئی۔۔ باہر زور زور سے ڈھول پیٹے جارہے تھے۔۔ عبداللّه شاہ صالح کی جیپ کے پاس کھڑے تھے۔۔ وه انوکھی طرز کا دولہا اپنی دولہن کو جیپ میں لے جانے والا تھا۔۔ انجم جلدی سے آگے بڑھیں اور مشائم کو لیے جیپ تک آئیں۔۔
سب سے پہلے نگہت اس سے ملی۔۔ “میں آپ کو بہت یاد کروں گی مشی بی بی اور آپ سے ملنے بھی آؤں گی۔۔ گھر تو پتہ ہے مجھے اس کا!!!” وہ مشی سے گلے ملتی اداس لہجے میں بولی تو مشائم نے اسے کمر پر دھموکہ جڑا جس سے نگہت دانتوں میں زبان دبا گئی۔۔ شکر تھا شور کے باعث کوئی اس کی آواز نہیں سن سکا تھا۔۔
اسکے بعد وه عارفہ اور ماہ بیر سے ملی۔۔ آخر میں عبدالله شاہ اس کے پاس آئے۔۔ خوش رہو!! وه اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر سنجیدگی سے بھرپور لہجے میں بولے۔۔ وه نم آنکھیں جهپکتی ان سے لپٹ گئی۔۔
پھر وه الگ ہوئی تو انجم نے اسے جیپ کی پچھلی سیٹ پر بٹھایا اور خود بھی اس کے ساتھ بیٹھ گئیں۔۔ وه خوشی سے پھولے نہ سما رہی تھیں۔۔ کچھ فاصلے پر کال میں مصروف صالح نے انہیں دیکھا اور خدا حافظ کہہ کر کال کاٹتا جیپ تک آیا۔۔ وہ ماہ بیر سے بغل گیر ہوا جس نے گرم جوشی سے اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا۔۔
پھر وه عارفہ کے سامنے جھکا تو انہوں نے اسے پیار دیا۔۔ وه جھجھک کر عبدالله شاہ کے سامنے آیا۔۔ کچھ دیر تو وه اسے خاموشی سے دیکھتے رہے پھر انہوں نے اس کے کندھا تهپتهپایا۔۔ وه دهیما سا مسکرا کر پلٹا اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر ایک الوداعی نظر ماہ بیر پر ڈال کر جیپ سٹارٹ کرتا زن سے بهگا لے گیا۔۔
مشائم کی حالت خراب ہورہی تھی۔۔ وه نئی زندگی کی شروعات کرنے جا رہی تھی۔۔ ایسے موقعوں پر گهبراہٹ ہونا فطری بات ہے۔۔
“میری دھی تو پریشان نہ ہو، ہمارے ساتھ رہتے تجھے گھر والوں کی کمی محسوس نہیں ہوگی۔۔ صالح بھی تیرا بہت خیال رکھے گا اگر اس نے تجھے کبھی ڈانٹا نہ تو مجھے بتائیں بس اس کو خود سیدھا کر لوں گی میں۔۔” انجم پیار سے بولیں تو وه سر ہلا گئی۔۔
اپنے ذکر پر صالح نے بیک ویوئر میں نظر آتی مشائم کو دیکھا جو چادر میں مکمل چھپی ہوئی تھی۔۔ اس نے نظروں کا زاویہ موڑ گیا اور گاڑی کی سپیڈ تیز کر دی۔۔ مشائم نے ڈر کر انجم کا ہاتھ تھاما تھا۔۔
مزید ایک گھنٹے کی مسافت کے بعد وه تینوں گھر پہنچے۔۔ انجم کا ہاتھ پکڑ کر جیپ سے اترتی وه اندر چلی گئی۔۔ صالح نے اسکی پشت کو چند پل دیکھا اور پھر گاڑی کو بونٹ پر بیٹھ گیا۔۔ اندر جاؤ تو انجم اسے لیے سیدھا صالح کے کمرے میں آئیں۔۔
كمره بلکل سادہ تھا۔۔ سجاوٹ کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی تھی۔۔ صالح نے جہیز لینے سے سختی سے انکار کر دیا تھا۔۔ انجم نے اسے بیڈ پر بٹھایا۔۔
میری دھی تجھے بھوک تو نہیں لگی؟ مشائم نے چادر اتارتے نفی میں سر ہلایا۔۔
آرام سے بیٹھ تو، صالح آتا ہوگا۔۔ میں چلتی ہوں!!! اسکا سر چوم کر وه باہر چلی گئیں۔۔ انکی اتنی محبت پر وه مسکرا دی۔۔
چادر اتار کر اس نے تہہ کر کے سائیڈ پر رکھ دی اور کمرے کا جائزہ لینے لگی۔۔ سامنے دیوار گیر الماری تھی۔۔ اس سے کچھ فاصلے پر دوسری دیوار کے ساتھ ڈریسنگ ٹیبل رکھا تھا۔۔ بیڈ کے اطراف میں رکھے سائیڈ ٹیبلز اور کھڑکی کی جانب کونے میں رکھے دو صوفے جن کے آگے میز پڑی تھی۔۔ کمرے میں قالین بچھا تھا۔۔ کمرہ سادہ تھا مگر اسے نفاست سے سیٹ کیا گیا تھا۔۔
وه بیڈ پر ٹھیک طرح بیٹھتی گھونگھٹ نکال کر اسکا انتظار کرنے لگی۔۔ انتظار کرتے کرتے وه اونگھنے لگی تھی کہ وه ستمگر دروازه کھول کر اندر آیا۔۔ دروازه بند ہونے کی آواز پر اسکی دھڑکنیں بےترتیب ہوئیں۔۔
“آپ کو یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں ہے اٹھیں یہاں سے” وه ماتھے پر بل ڈالے بولا۔۔ مشائم کی آنکھوں میں نمی چمکی۔۔ وہ آہستہ سے بیڈ سے نیچے اتری اور اس سے کچھ فاصلے پر کھڑی ہوگئی۔۔
اپنے بددماغ یوسف سے تو اسے کوئی امید نہیں تھی کہ وه اس کا گھونگھٹ اٹھائے گا سو اس نے آہستہ سے خود ہی گھونگھٹ اٹھا دیا اور سر اٹھا کر نم آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔ مکمل سفید رنگ اس نے پہلی بار پہنا تھا شاید جو اس پر بہت جچا تھا۔۔ سكن شال کندھوں پر آگے کی طرف گر رہی تھی۔۔
پہلی بار اسکے یوں بےحجاب ہونے پر صالح یوسف ساکت ہوا تھا۔۔ اس نے بے حسین چہرے دیکھے تھے لیکن ایسا حسن؟ واللہ!!! بڑی بڑی بھوری غزالی آنکھوں سے اسکی نظر پهسلتی اس کے ناک میں پہنی نتھ سے ٹکرائی اور نتھ میں لٹکتے موتی سے مہرون لپ سٹک سے رنگے تراشیده لبوں پر آ کر ٹھہر گئی۔۔ سرد رات بند خاموش كمره اور جائز رشتہ!!!
اس سے پہلے کہ وہ اس ہوشربا کے حسین نازک سراپے کے آگے بہکتا وه خود پر قابو پا گیا۔۔ اس نے ماتھے پر بل ڈالے اور پلٹ کر شال اتار کر دور صوفے پر اچھال دی۔۔
آ۔۔آپ ایسا کیوں کررہے ہیں میرے ساتھ ؟ اسکا کہنا ہی تھا کہ وه پلٹ کر اس تک آیا اور اسکے نازک بازوؤں میں اپنی سخت انگلیاں گاڑ کر خود سے قریب کر گیا۔۔ مشائم نے ڈر کر آنکھیں موندی تھیں۔۔ اسکی اتنی سخت گرفت پر دو آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر بہہ نکلے۔۔
صالح نے سختی سے لب بھینچ کر اسکے چہرے کو دیکھا۔۔
“بہت شوق تھا نہ آپ کو صالح یوسف کی زندگی میں آنے کا،، اب سہیں میرے مزاج کے سرد پن کو!!!
وہ اسکے منہ پر درشتگی سے بولا۔۔
درد ۔۔۔ ہور۔۔۔ہا۔۔ ہے!!! مشائم اس کی آہنی گرفت پر روتے ہوئے کہنے لگی۔۔ صالح کی تیوری چڑھی۔۔
او ہو درد ہورہا ہے آپ کو ؟ ارے رو کیوں رہی ہیں؟ آپ کو تو یوسف سے عشق تھا نہ؟ تو پھر گھبرا کیوں رہی ہیں اتنے سے درد پر۔۔ کیا آپ جانتی نہیں ” درد جتنا شدید ہوتا ہے عشق اتنا مزید ہوتا ہے”
اسکے کان کے پاس جھک کر سرگوشی میں کہتا وه جھٹکے سے اسے چھوڑ کر ہٹا۔۔
وه منہ پر ہاتھ رکھتی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔ صالح نے کوفت سے اسے دیکھا اور چینج کرنے چلا گیا۔۔ جب وه واپس آیا تو ڈھیلی سی سلیو لیس شرٹ اور ٹراؤزر میں ملبوس تھا۔۔
کیا اب یہیں جمے رہنے کا اراده ہے؟ وہ ہلکی آواز میں کہتا بیڈ کی جانب بڑھا۔۔ وه شوں شوں کرتی لهنگا اٹھا کر باتھروم میں جانے لگی کہ رک گئی۔۔
میرے کپڑے؟ اسے نئے سرے سے رونا آیا۔۔ “ابھی
الماری سے کچھ نکال کر پہن لیں” وه چت لیٹتا گردن موڑ کر اسے دیکھنے لگا تو وه خفگی سے اسے دیکھتی الماری تک آئی اور دونوں پٹ کھول کر کھڑی ہوگئی۔۔ الماری میں صرف صالح کے کپڑے تھے۔۔ یہ پہنوں میں؟ اس نے دل میں سوچا۔۔ اور کوئی چارہ بھی تو نہیں تھا۔۔ اسکا سامان پتہ نہیں کہاں رکھا تھا۔۔
اس نے درميانے خانے میں رکھی ٹی شرٹس میں سے بلیک ٹی شرٹ نكالی اور بلیک ٹراؤزر نکال کر لهنگا مشکل سے سنبهالتی آہستہ آہستہ چلتی باتھروم میں گئی اور زور سے دروازه بند کیا۔۔
وه جو اسکی ساری کروائی ملاحظہ کررہا تھا اسکے زور سے دروازہ بند کرنے پر ایک پل کو آنکھیں میچ گیا۔۔ يقیناً یہ آواز انجم کے کمرے تک بھی گئی تھی۔۔
ایک منٹ بعد پھر دروازه کھلا اور وه غصے سے اسے دیکھتی باہر آئی۔۔
کیا؟ صالح اسکی غصے سے پھولتی ناک کو دیکھ کر بھنویں اچکا گیا۔۔
یہ سب نہیں اتر رہا۔۔ پنیں بہت لگی ہیں!!! وه غم و غصے کی ملی جلی کیفیت سے بولی۔۔ اسے دیکھ کر لگتا تھا کہ ابھی رو دے گی۔۔
تو میں کیا کروں؟؟ صالح لا پرواہ انداز میں کہتا کروٹ بدل گیا۔۔ میں امی جان سے مدد لے لیتی ہوں پھر!!! وه تن فن کرتی دروازے کی جانب بڑھی۔۔
صالح کا لاپرواہی بھرا انداز پل میں اڑن چھو ہوا۔۔ وه اٹھ بیٹھا اور بھنویں سکیڑ کر جلدی سے بیڈ سے اترا اور اس کی کلائی تھام کر کمرے کے بیچوں بیچ لے آیا۔۔
پاگل ہوگئی ہیں آپ؟ وه خفگی سے بولا۔۔ وه اسے لیے ڈریسنگ ٹیبل کے پاس آیا اور چپ چاپ سر پر لگی پنیں اتارنے لگا۔۔ سب پنیں اتر گئیں تو اس نے دوپٹہ اتار کر سائیڈ پر رکھ دیا۔۔
مشائم کا چہرہ حیا سے سرخ پڑا۔۔ اسکے چہرے پر بکھرتی حیا کی لالی کو اپنی آنکھوں میں محفوظ کرتے اس نے اسکا رخ موڑا اور گردن میں پہنے نكلیس کی ہک کھول دی۔۔
اسکی اتنی قربت اور نرم گرم لمس پر مشائم کی سانسیں تیز ہونے لگیں۔۔ صالح نے تیوری چڑھائے اسکی کمر سے چپکی کرتی کو دیکھا۔۔
“دو منٹ بعد پھر آجائیں گی کہ زپ نہیں کھل رہی۔۔” دل میں سوچتے اس نے جھٹکے سے زپ کھول دی۔۔
وہ جو آنکھیں موندے کھڑی تھی زپ کھلنے پر جھٹکے سے آنکھیں کھول گئی۔۔ وه سرعت سے مڑی۔۔
یی۔۔ یہ کیا کیا آپ نے؟ وه شرم سے سرخ پڑتا چہرہ اٹھا کر بولی۔۔
آپ نے خود ہی تو کہا تھا!! وه بےنیازی سے کہتا واپس بیڈ پر جا کر لیٹ گیا۔۔ وه دوپٹے سے کمر ڈھانپ کر باتھروم چلی گئی تو اس نے آنکھیں کھولیں۔۔
اسکا نازک بےحجاب سراپا اسکی آنکھوں کے سامنے لہرایا۔۔ ایسا لگتا ہے سوچی سمجھی سكیم کے تحت میرا ایمان خراب کرنے کے در پے ہیں!! وه بڑبڑا کر رہ گیا۔۔
وه فریش سی باتھروم سے باہر آئی۔۔ گھٹنوں تک آتی شرٹ کے بازو فولڈ کرنے کے باوجود کلائی سے آگے تک آ رہے تھے۔۔ جبکہ ٹراؤزر کو پانچے سے تین چار دفعہ موڑا گیا تھا۔۔
اس نے باتھروم کی لائٹ آف کی اور انگلیاں چٹخاتی وہیں کھڑی ہوگئی۔۔ پھر وه صوفے کی طرف گئی اور سمٹ کر لیٹ گئی۔۔ اسکی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔۔ اب بھوک بھی شدید محسوس ہورہی تھی۔۔ وه روہانسی ہوتی اٹھ بیٹھی۔۔
اس نے صالح کو دیکھا جو اوندھا لیٹا سو رہا تھا۔۔ وه بےبسی سے رونے لگی۔۔ کمرے میں اسکی سسکیوں کی آواز گونجنے لگی۔۔
کیا مصیبت ہے؟ صالح غصے سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔ اس نے صوفے پر گھٹنوں میں سر دے کر بیٹھی مشائم کو دیکھا۔۔ اب کیا ہوا ہے؟
مشائم نے سر اٹھا کر آنسو صاف کیے۔۔ “بھوک لگی ہے مجھے!!!” وه منہ بسورتے ہوئے بولی۔۔
تو اس میں رونے والی کیا بات ہے کیا آپ کو رونے کے علاوہ کچھ نہیں آتا؟ وه اب کی بار نرم لہجے میں بولا۔۔
آتا ہے بہت کچھ!!! وه خفگی سے اسے دیکھ کر بولی تو اسے بے اختیار ہنسی آئی لیکن اس نے چہرے کو سنجیده رکھا۔۔
میں لاتا ہوں کھانا!!! وه اٹھا اور کمرے کا دروازه کھول کر باہر نکل گیا تو وه بھی صوفے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔۔
