Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan NovelR50479 Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 32
No Download Link
Rate this Novel
Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 32
Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan
بلڈ ریڈ لهنگے میں سر پر گھونگھٹ ڈالے وہ اورهان کے کمرے میں روایتی دلہنوں کی طرح بیٹھی اس کا انتظار کررہی تھی۔۔
کچھ پل کے انتظار کے بعد بلیک چیک پینٹ اور بلیک شرٹ میں کوٹ دائیں بازو پر ڈالے وہ کمرے میں داخل ہوا اور دروازه لاک کر دیا۔۔
کلک کی آواز پر اینارا نے گهبراہٹ سے دونوں ہاتھ آپس میں بھینچے تھے۔۔
گھونگھٹ میں سکڑی سمٹی بیٹھی اپنی کچھ منٹ پہلے بنی بیوی کو اسنے گہری مسکراتی نظروں سے دیکھا تھا۔۔ کوٹ کو بیڈ پر ڈال کر وہ ایک ٹانگ موڑ کر بیڈ پر اس کے مقابل بیٹھا۔۔
اس کے بدن سے اٹھتی خوشبو پر اینارا خود میں مذید سمٹی تھی۔۔۔ اورهان نے ہاتھ بڑھا کر اس کا گھونگھٹ اٹھا دیا۔۔
اسکی نگاہیں جامد ہوئی تھیں۔۔ وقت جیسے وہیں رک گیا تھا۔۔ وہ بےخود سا اس کے چہرے کو تکنے لگا۔۔ مومی گڑیا جیسے نقوش میں گالوں پر لالی اور ہونٹوں پر بلڈ ریڈ لپسٹک نمایاں تھی۔۔
ناک میں پہنی نتھ نے اورهان کو عجیب سے انداز میں اپنی جانب کھینچا تھا۔۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر انگلی کی پور سے اسکی نتھ کو چھوا۔۔
“مجھے یہ سب خواب لگ رہا ہے!!!۔۔۔”
وہ اسکا ہاتھ تھام کر اسکی مهندی کی خوشبو سانسوں میں اتارتا آنکھیں موند گیا۔۔۔
اینارا نے کانپتی پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا جو آنکھیں موندے اس کا ہاتھ چوم رہا تھا۔۔۔
اس کی آنکھیں نم ہوئیں۔۔۔
“اورهان؟؟؟۔۔۔۔”
اس نے سرگوشی کی تو وہ آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگا جس کی آنکھیں نم تھیں۔۔۔
وہ آگے بڑھتی اس کے سینے سے لگتی اس کے گرد بازو حائل کر گئی۔۔
اورهان نے نرمی سے اسکے گرد حصار بناتے اس کے کندھے پر چہرہ ٹکا لیا۔۔۔
“یہ خواب نہیں حقیقت ہے کہ میں اس وقت آپ کی بیوی کی حیثیت سے آپ کی دسترس میں ہوں!!!۔۔۔”
اینارا نے اس کے سینے سے سر اٹھا کر اس کی نیلی آنکھوں میں دیکھتے مسکرا کر کہا۔۔۔
اورهان کے سوئے جذبات اس کی قربت میں جاگ اٹھے تھے۔۔۔
“ہمم!!!۔۔۔۔
بیوی کی حیثیت سے!!!
اس کا مطلب سمجھ رہی ہیں آپ؟؟؟۔۔۔”
وہ اس کے چہرے پر جھکتا پھونک مار کر بولا تو اینارا سرعت سے پیچھے ہٹی۔۔۔
اورهان کی زو معنی بات پر اسکی دھڑکنیں منتشر ہوئی تھیں۔۔
“یہ آپ کی منہ دکھائی!!!۔۔۔”
اورهان نے ایک خوبصورت سا ڈائمنڈ نیکلیس اس کی جانب بڑھایا۔۔ اینارا نے اس کا شکریہ ادا کرتے باكس تھام لیا۔۔ “بہت پیارا ہے!!!۔۔۔”
وہ نرمی سے بولی۔۔
“آپ سے کم!!!۔۔۔”
اورهان یک ٹک اس کے چہرے کو گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔
اینارا کی جھکی کانپتی پلکوں کو دیکھ کر وہ مذید بولا “نیکلیس اس لیے نہیں پہنایا کہ کچھ دیر بعد پھر اتارنا ہی ہے!!!۔۔۔”
اسکی زو معنی بات پر اینارا کا چہرہ شرم سے مذید سرخ ہوا تھا۔۔
“مم۔۔۔میں چینج کر لوں!!!۔۔۔”
اورهان کو شرٹ کے بٹن کھولتے دیکھ کر وہ گهبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
“اونہوں!!! میں کس لیے ہوں؟؟۔۔۔”
وہ اس کے مقابل کھڑا ہوا اور بھاری کامدار دوپٹے سے پنیں اتار کر دوپٹہ اس کے تن سے جدا کر دیا۔۔
آہستہ آہستہ وہ اس کا زیور اتارنے لگا۔۔ اینارا نظریں جھکائے ہاتھوں میں لهنگا بھینچ کر کھڑی تھی۔۔۔
اس کا دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا کہ اس کی دھڑکنیں اورهان کو بھی سنائی دے رہی تھیں۔۔۔۔
خاموش کمرے میں دونوں کے سانس لینے اور دل دھڑکنے کی آوازیں واضح تھیں۔۔
اپنے انتہائی ضروری کام سے فارغ ہو کر اس نے اینارا کو بانہوں میں بھرا اور نازک پھول کی طرح آرام سے بیڈ کے بیچوں بیچ لٹا دیا۔۔۔
دوپٹے سے بےنیاز سرخ لهنگے کُرتی میں بیڈ پر چت لیٹی وہ اورهان کو اپنی جانب بڑھتے دیکھ کر نظریں جھکا گئی۔۔۔ اس کے قریب پہنچنے تک وہ تن سے شرٹ جدا کر چکا تھا۔۔ اینارا کے دائیں بائیں دونوں ہاتھ ٹکاتے وہ جھکا تو اینارا نے گھبرا کر جھکی نظریں اٹھائیں۔۔
اس کا کسرتی پھولا سینہ سامنے پا کر اس نے پٹ سے آنکھیں بند کر دیں۔۔
اسکی اس حرکت پر اورهان دلکشی سے مسکرا پڑا۔۔
سائیڈ ٹیبل سے ٹشو پکڑ کر اس نے اینارا کے لبوں سے لپسٹک صاف کی۔۔
اس کی گردن میں ہاتھ ڈال کر وہ پوری شدت سے اس کے لبوں کو چومنے لگا۔۔
اینارا کی آنکھیں پوری کھل گئیں۔۔ اس نے اورهان کی گردن کے گرد بازو رکھتے اسے پیچھے دهكیلنا چاہا جو بے خود سا اسکی سانسیں اپنے اندر انڈیل رہا تھا۔۔
اورهان نے اس کے نچلے لب کو ہونٹوں کی گرفت میں لیتے زور سے دبایا تو وہ گہرے گہرے سانس لیتی اس کی گردن پر ناخن مارنے لگی۔۔۔
اس کے لبوں کو آزادی بخشتے وہ اسکی ٹھوڑی کو چوم کر “جاء لائن” تک آیا اور اس پر اپنی ناک سہلاتا اس کی مہک محسوس کرنے لگا۔۔۔
اسکا شدت بھرا لمس محسوس کرتے اینارا پاگل ہونے لگی۔۔۔ اس نے تکیے کو زور سے ہاتھ میں بھینچا تھا۔۔
اورهان نے سر اٹھا کر اسکی بکھری حالت کو دیکھا جو آنکھیں زور سے بند کئے گہرے گہرے سانس لے رہی تھی۔۔۔ اس کے دونوں ہاتھوں میں اپنی انگلیاں گاڑ کر اس نے سر سے بلند کرتے بیڈ سے پن کر دیا جس سے اس کے جسم کے نشیب و فراز مذید نمایاں ہونے لگے۔۔
وہ بے خود سا سرخ خمار زدہ آنکھوں سے اس کے نازک بدن پر گہری نظر ڈالتا اس کی شفاف گردن میں منہ دیتا پوری شدت سے جا بجا چومنے لگا۔۔۔
اینارا کی سانس سینے میں اٹکی تھی۔۔۔ اپنے اوپر اسکا بھاری وجود محسوس کرتے اس نے حلق تر کرتے اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے اسے دور دهكیلنے کے لیے زور لگایا لیکن وہ ہر چیز سے بےنیاز اس کی گردن میں گہرے سانس لیتا اسکی خوشبو کو سانسوں میں اتار رہا تھا۔۔۔
“اور۔۔ہان۔۔ بہت ۔۔۔ بھاری ۔۔۔ ہیں ۔۔آپ ۔۔۔ اٹھ۔۔یں ۔۔ میرا سانس ۔۔ بند ۔۔ ہورہا ہے!!!۔۔۔”
اس کی لمحہ بہ لمحہ بڑھتی شدتوں پر بے حال ہوتی وہ پھولتی سانسوں کے بیچ اٹک اٹک کر بولی۔۔۔
اورهان نے اسکی گردن پر ہلکا سا کاٹا اور اس سے کچھ فاصلے پر ہوا۔۔۔ اسکے حصار میں ہی اینارا نے سرعت سے كروٹ بدلی تو اسکی نازک کمر اورهان کے سامنے آ گئی۔۔۔ اس نے لب دبا کر اسکی کمر کو دیکھا اور جھٹکے سے زپ کھول دی۔۔۔
اینارا کی سانس تھمی تھی۔۔
“لائٹ آف کر دیں پلیز!!!۔۔۔”
وہ حلق تر کرتے ہلکی سی آواز میں بولی۔۔
اورهان نے مسکراتی گہری نظر اس پر ڈالی اور لائٹ آف کر کے اس کی پشت پر جا بجا اپنے لب رکھتا اسے سمٹنے پر مجبور کر گیا۔۔۔
وہ اپنی پشت پر اسکے لبوں کے لمس پر بے حال ہوتی آنکھیں میچے اوندھی پڑی تھی۔۔
اچانک اورهان نے اسے کمر سے تھام کر سیدھا کیا اور اس کے پیٹ سے شرٹ اٹھا دی۔۔۔
اس کی پتلی بل کھاتی کمر نے میر اورهان کو پاگل کیا تھا۔۔۔ وہ ضبط کھوتا جھکا اور اس کمر پر ناک سہلا کر جا بجا “لو بائٹس” کرنے لگا۔۔۔
اس کی بیلی پر چہرہ رگڑتے اورهان نے اسکی ناف کو شدت سے چوما۔۔۔
اینارا نے دونوں ہاتھوں میں چادر دبوچتے زور زور سے سانس لیا۔۔۔ اس کے پیٹ سے ناک سہلاتا وہ اوپر کا سفر طے کرنے لگا۔۔
اس کے گہری گلے تک آتے اورهان نے جھٹکے سے اس کے کندھوں سے شرٹ کھسکائی۔۔
اس کے سینے کے مقام پر شدت سے لب رکھتے وہ اسکے وجود کی گہرائیوں میں اترتا چلا گیا۔۔۔۔
اینارا کے اقرار کے بعد اورهان اسے اور شائستہ کو ساتھ لیے واپس چلا آیا تھا اپنے گھر ۔۔۔
یہاں آتے وہ عجیب سے احساسات میں مبتلا ہوا تھا۔۔ اس نے سب سے پہلے ہیڈ سرونٹ سے رابطہ کیا جو بےیقین ہوتا دوڑا چلا آیا تھا۔۔
وہ بہت خوش ہوا تھا اورهان کو دیکھ کر۔۔۔
یوں باقی ملازمین بھی اسکی واپسی کی خبر سن کر اس سے ملنے چلے آئے اور خوشی خوشی اپنے کام سنبهال لیے۔۔ اینارا اور شائستہ کی رضامندی پر آج دونوں کا سادگی سے نکاح کروا دیا گیا۔۔
دونوں ایک دوسرے کو پا کر بے حد خوش تھے۔۔ یوں محبت کا ایک باب مکمل ہوا تھا۔۔۔
وہ ابھی ابھی ارشما اور صالح کے ساتھ شاپنگ کر کے گھر لوٹی تھی۔۔۔ گھر میں قدم رکھتے ہی مہمانوں کا شور ان کے کانوں میں پڑا تھا۔۔
“آپ پچھلی طرف سے چلی جائیں اندر،،، مجھے کام ہے کچھ ۔۔۔ ملتا ہوں بعد میں!!!۔۔۔”
صالح کے جانے کے بعد وہ دونوں اندر چلی آئیں۔۔ فلحال انہوں نے انجم کے کمرے میں ڈیرہ ڈالا تھا۔۔
“ارشما بھابھی آپ فریش ہو کر چینج کر لیں ۔۔۔ پھر میں تیار کرتی ہوں آپ کو،، مہمان آنا شروع ہوگئے ہیں!!!۔۔۔”
وہ شاپنگ بیگز سے ڈھونڈ کر کپڑے نکال کر اسے تھماتی عجلت میں بولی۔۔
ارشما کپڑے تھام کر جلدی سے باتھروم میں گھس گئی۔۔۔ “یار میرے کپڑے کہاں رکھے ہیں آپ نے؟؟؟۔۔۔”
صالح کمرے میں آتا پوچھنے لگا۔۔ پھولوں کے زیورات بیڈ پر پھیلا کر بیٹھی مشائم نے سر اٹھا کر عجلت میں کہا
“کبرڈ میں سامنے ہی تو ہینگ ہیں دیهان سے دیکھیں نہ!!!۔۔۔”
اس کے مصروف انداز پر صالح اس کے پاس آیا اور اسے مقابل کھڑا کر کے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر خود سے لگایا۔۔
“آپ مجھے اگنور کررہی ہیں؟؟۔۔۔”
مشائم نے گھبرا کر واشروم کے دروازے کو دیکھا۔۔
“کیا کر رہے ہیں بھابھی ہیں واشروم میں!!!۔۔۔”
وہ منمنائی۔۔۔
“میری بات کا جواب دیں پہلے۔۔۔”
وہ بضد ہوا۔۔۔
مشائم نے اس کے گال پر ہاتھ رکھا۔۔۔
“میں کیوں اگنور کروں گی آپ کو؟؟”
پیر اٹھا کر اس کی ٹھوڑی چوم کر وہ پیچھے ہٹی تو صالح بھی مطمئن ہوگیا۔۔
“آپ چینج کر لیں نہ اب ۔۔۔ مہمان آ گئے ہیں۔۔۔ میں بھابھی کو تیار کر کے آتی ہوں کمرے میں!!!۔۔۔”
اس کے پیار سے کہنے پر وہ مسکرا کر سر ہلاتا چلا گیا۔۔۔۔اسکے جاتے ہی ارشما باہر نکلی۔۔
نارنجی رنگ کے لهنگے چولی میں وہ آرام سے چلتی اس کے پاس آئی۔۔
“واؤ کتنا جچ رہا ہے آپ پر یہ لهنگا!!!”
مشائم کے ستائشی انداز پر وہ مسکرا دی۔۔ اس نے جلدی سے مهندی کی مناسبت سے ارشما کو ہلکا پھلکا تیار کیا پھولوں کے جهمکے پہنا کر ماتھا پٹی اس کی مانگ میں سجا دی۔۔۔ دوپٹہ اس کے سر پر سیٹ کر کے مشائم نے ایک طائرانہ نگاہ اس پر ڈالی۔۔۔
“اللّه!!! کس قدر پیاری لگ رہی ہیں آپ ۔۔ بھائی تو گئے کام سے!!!۔۔۔”
وہ شرارت سے بولتی اسے چھیڑنے لگی تو ارشما نے چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا لیا۔۔
اس کے یوں شرمانے پر مشی کھلکھلا دی۔۔
“آپ یہیں بیٹھیں میں تیار ہو کر آتی ہوں پھر آپ کی مهندی کی رسم شروع کریں گے!!!”
پیار سے اسے کہتی وہ اپنا شاپنگ بیگ اٹھا کر کمرے میں چلی آئی جہاں صالح آئینے کے سامنے کھڑا سیاہ کرتے کے بٹن بند کررہا تھا۔۔
جسم سے چپکے کرتے میں اس کا کسرتی جسم نمایاں ہورہا تھا۔۔ اسے سیاہ کرتے پاجامے میں دیکھ کر مشائم کو کوئی حیرت نہیں ہوئی تھی۔۔
وہ جانتی تھی اسے سیاہ رنگ بہت پسند تھا اور اس پر بلا کا جچتا تھا۔۔
وہ ڈارک گرین غرارہ شرٹ نکال کر باتھروم میں چلی گئی۔۔۔ پانچ منٹ بعد ہی وہ باہر نکل آئی۔۔ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے سٹول پر بیٹھے صالح نے گردن گھما کر اسے دیکھا جو ڈارک گرین غرارہ شارٹ شرٹ میں دوپٹے سے بےنیاز اس کا دل گھائل کر گئی تھی۔۔۔
اسے جوں کا توں دیکھ کر مشائم اس کے پاس آئی اور اس کے سامنے کھڑی ہوتی برش تھام گئی۔۔
صالح نے سر اٹھا کر اسے دیکھا جو نرمی سے اس کے بال سنوارنے لگی تھی۔۔
اس کے یوں سر اٹھا کر دیکھنے پر مشائم کو اس پر ٹوٹ کر پیار آیا۔۔
“کتنے پالے پالے شے شونے مونے ہیں آپ!!!۔۔۔”
وہ اسکا گال کھینچ کر سیدھی ہوئی کہ صالح نے اسکی بیلی کے گرد بازو حائل کرتے اپنا چہرہ اس میں چھپایا تھا۔۔۔ مشائم نے اس کے بالوں میں انگلیاں چلائیں۔۔۔
“میں تیار ہو جاؤں؟؟”
وہ نرمی سے بولی تو صالح اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
فنکشن کے بعد فرصت سے ملتے ہیں!!!۔۔۔”
اس کے گال پر ہاتھ کی پشت پھیرتا وہ کرتے کے بازو کہنیوں تک موڑتا باہر چلا گیا تو وہ بھی حیا آمیز مسکراہٹ سے آئینے کے سامنے آتی اس کے لیے سنگهار کرنے لگی۔۔۔
لیمن کلر کرتے اور سیاہ کھلے گھیر کی شلوار میں سیاہ شال کاندھوں پر پھیلائے وہ اٹھ کر کسی مہمان سے ملا تھا۔۔۔مهندی کی رسم جاری تھی۔۔۔
ناچ گانے کا تو تصور نہیں تھا البتہ ڈول پیٹے جا رہے تھے وقفے وقفے سے۔۔۔
آخر کو سردار ماہ بیر سلطان کی مهندی تھی۔۔ ہر شخص بے حد خوش تھا۔۔۔
صالح کچھ دیر پہلے حویلی پہنچا تھا اور عبداللّه شاہ کے ساتھ انتظامات دیکھ رہا تھا۔۔
نگہت عارفہ کی ہدایت پر ملازمین کی کڑی نگرانی کررہی تھی تا کہ کہیں گڑبڑ نہ ہوجائے۔۔۔
کھانے کا دور چلا تو صالح ماہ بیر کے پاس چلا آیا۔۔۔ “کیوں ۔۔۔کیسا لگ رہا ہے؟؟؟۔۔۔”
وہ مسکراہٹ دبا کر بولا تو وہاں سے گزرتی نگہت نے دل کے مقام پر ہاتھ رکھا۔۔۔
“ہائے اللّه یہ یوسف سڑا کریلا مسکرا رہا ہے؟؟ نگہت ۔۔۔ تو اپنی گناہگار آنکھوں سے کیا دیکھ رہی ہے؟؟”
وہ انہیں دیکھتی خودکلامی کررہی تھی کہ ماہ بیر کی گھوری پر سٹپٹا کر وہاں سے بھاگ گئی۔۔
ماہ بیر نے صالح کو دیکھتے کہا ” بہت اچھا لگ رہا ہے ۔۔ ٹیچر جی کو اب میں پڑھاؤں گا!!!۔۔۔”
وہ زو معنی مسکراہٹ سے بولا تو صالح کو شدید ہنسی آئی۔۔
“کیا پڑھائیں گے؟؟؟۔۔۔”
ماہ بیر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔
“رومینس کی “اے بی سی” جو تم حفظ کر کے بیٹھے ہو!!!۔۔۔”
وہ صالح کی جانب جھکتا بلا لحاظ بولا تو صالح کا زبردست قہقہہ گونجا۔۔۔
“مجھ معصوم کو ایسے مت دیکھیں مجھے تو پتہ ہی نہیں یہ ہوتا کیا ہے!!!۔۔۔”
ہنسی پر قابو پاتا وہ ماہ بیر کو دیکھتا معصومیت سے بولا۔۔
نظر بچا کر ماہ بیر نے اسکی کمر میں دھموکہ جڑا۔۔
“بےشرم انسان جیسے میں تمہیں جانتا نہیں ہوں!!!۔۔۔” صالح مسکراہٹ دباتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
“میں بھی تمہیں خوب جانتا ہوں اور بھابھی کے شرمانے کا راز بھی!!!۔۔۔”
اس کے جتاتے انداز پر ماہ بیر نے دانت کچکچا کر اسے دیکھا تو وہ وہاں سے چلا گیا۔۔۔
“مشائم اور کتنی دیر ہے میں تھک گئی ہوں بہت!!!۔۔۔”
ارشما کے تھکن زدہ لہجے پر مشائم نے اسے دیکھا۔۔
“بس کچھ دیر پھر میں لے جاتی ہوں آپ کو کمرے میں!!!۔۔۔”
وہ اس کا ہاتھ دبا کر بولی۔۔ انجم کے بلانے پر وہ ان کی طرف چلی گئی۔۔
سب عورتیں ستائشی نظروں سے مشائم اور ارشما کو دیکھ رہی تھیں جو بےحد حسین لگ رہی تھیں۔۔
فنکشن بہت اچھا رہا تھا۔۔ نوجوان لڑکیوں نے خوب ہلا گلا کیا۔۔
کھانے کے بعد مشائم نے یہ انجم کے کمرے میں ٹھہرایا ۔۔ بی جان اور انجم نے اس کے آرام کی غرض سے دوسرے کمرے میں رہنے کا سوچا۔۔
آہستہ آہستہ آدھے سے زیادہ مہمان چلے گئے تب صالح ماہ بیر کے ساتھ گھر کے باہر پہنچا۔۔
ماہ بیر کو باہر رکنے کا کہتے اس نے اندر جھانکا اور مشائم کو ڈھونڈنے لگا۔۔
وہ اسے ایک طرف جاتی نظر آ ہی گئی۔۔
“شش!!” صالح کے دو تین بار بلانے پر اس نے پلٹ کر دیکھا۔۔ اس کے اشارہ کرنے پر وہ ناسمجھی سے اسے دیکھتی اس کے پاس آئی۔۔
“کیا ہوا؟؟”
صالح نے نظروں سے باہر کی جانب اشارہ کیا۔۔۔
“آپ کے بھائی جان آئے ہیں ان سے ملنے!!!۔۔”
مشائم نے مسکراہٹ دبائی۔۔
“تو مجھے کیوں بلایا آپ نے؟؟۔۔۔”
صالح نے گہری سانس لیتے افسوس سے اسے دیکھا۔۔
“یہ خواتین کا اوپر والا خانہ خالی کیوں ہوتا ہے؟؟؟۔۔۔”
اس کی بات پر مشائم نے خفگی سے کہا “میں دیہان بٹاتی ہوں ان کا آپ لے جائیں بھائی کو اندر ،، امی جان کے کمرے میں ہیں وہ!!!۔۔۔”
اسے تیکھی نظروں سے دیکھتی وہ اندر چلی گئی۔۔
صالح نے سر جھٹکا۔۔
“لگتا اب جناب کی خیر نہیں!!!۔۔۔”
ماہ بیر نے مزے سے کہا تو صالح نے زو معنی مسکراہٹ سے اسے دیکھا۔۔
“میں منا لوں گا ان کو!!!۔۔۔”
ماہ بیر نے اسے اندر دهكیلا۔۔ “بدتمیز!!!۔۔۔”
صالح نے اس کے دیے لقب کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیا۔۔
نظر بچا کر وہ ماہ بیر کو اس کمرے کے باہر لے آیا جہاں ارشما تھی۔۔
اس کے اندر جانے کے بعد وہ مشائم کو اشارہ کرتا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
وہ تھکن سے چور کمرے میں آئی۔۔ صالح شاور لے کر نکلا تھا۔۔ اسے دیکھ کر مشائم کی آنکھوں میں خفگی در آئی۔۔ وہ اسے نظر انداز کرتی ڈریسنگ ٹیبل تک آئی اور دوپٹہ پٹخنے کے انداز میں اتار کر جھمکے اتارے۔۔
اس نے ہاتھ سے چوڑیاں اتارنے کے لیے دوسرا ہاتھ بڑھایا۔۔ سر جھکانے سےاس کے بال لہرا کر آگے گرے تھے۔۔
اس نے ہاتھ اٹھا کر بالوں کو ایک ادا سے پیچھے جھٹکا اور چوڑیاں اتارنے لگی کہ صالح نے اس کے پیچھے کھڑے ہوتے ایک ہاتھ اس کے پیٹ پر رکھتے دوسرے ہاتھ سے اسکے بکھرے بالوں کو کندھے سے ہٹایا۔۔
۔۔۔۔۔۔”یہ سوچ کر ستم گر نے زلفوں کو جھٹکا!!!
بہت دن سے دنیا پریشان نہیں ہے!!!”۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی گردن میں گہرا سانس لیتا وہ بھاری آواز میں بولا۔۔۔ اس کے لمس پر مشائم نے آنکھیں موندی تھیں۔۔
پھر اپنی خفگی کا احساس کرتے وہ اسکا ہاتھ پیٹ سے ہٹاتے اسکی جانب پلٹی۔۔
اسکو شرٹ لیس دیکھ کر مشی کی تیوری چڑھی۔۔
“یہ میرے سامنے بغیر شرٹ کے کیوں آتے ہیں آپ ؟ آپ کو لگتا ہے میں شرما جاؤں گی؟ غلط فہمی ہے آپ کی!!!۔۔”
وہ نظریں گھما کر بولی تو صالح نے نچلا لب دانتوں تلے دبایا۔۔۔
“اہاں ایسا ہے کیا؟؟ یہ لیں پھر آرام سے دیکھیں!!!۔۔۔”
وہ اس سے کچھ فاصلے پر ہوتا ٹراؤزر کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر کھڑا ہوگیا۔۔۔
مشائم نے نظریں اس پر ٹکائیں۔۔ سکس پیکس۔۔۔ نظروں نے اوپر کی جانب سفر کیا۔۔ پھولا پھولا سا کسرتی سینہ!!!۔۔۔ اس نے حلق تر کیا۔۔
اس کے چوڑے سینے سے ہوتی اسکی نظر مظبوط توانا بازوؤں پر ٹھہر گئیں۔۔
پھولے مسلز بےحد نمایاں ہورہے تھے۔۔ بازو کی ابھری نسیں دیکھ کر وہ عجیب سے احساسات میں مبتلا ہوگئی۔۔
وہ سرعت سے پلٹی اور کپڑے چینج کرنے کی غرض سے باتھ روم میں گھس گئی۔۔
جب وہ چینج کر کے باہر آئی تو لائٹ آف تھی۔۔
اچنبھیے سے وہ دو قدم آگے بڑھی کہ اندھیرے میں کھڑے صالح نے اسے جھٹکے سے بازوؤں میں اٹھایا۔۔
مشائم نے چیخنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ وہ اس کے ہونٹوں پر جھکتا اسکی چیخ کا گلا گھونٹتا بیڈ کی جانب بڑھا۔۔۔
اسے بیڈ پر لٹا کر وہ اس پر سایہ فگن ہوگیا۔۔
“اب بتائیں ناراض ہیں ؟؟۔۔۔”
وہ اس کی گردن کی نس سہلاتا بھاری آواز میں بولا ۔۔ مشائم گہرے سانس لیتی خاموش لیٹی رہی۔۔
صالح نے اسکی گردن پر جھکتے شدت سے چوما۔۔۔
اب؟؟؟
اسکی گردن سے نیچے ناک سہلاتے وہ گھمبیر آواز میں کہتا اسکی بیوٹی بون پر دانت گاڑ گیا۔۔
سس!!مشائم کے منہ سے سسكی نکلی۔۔
“نن۔۔۔نہیں ناراض!!!۔۔۔”
وہ پھولتی سانسوں کے بیچ بولی۔۔۔
صالح نے اس کے ہونٹوں کو نرمی سے چوما۔۔۔ اور بیڈ پر چت لیٹتا اسے سینے پر گراتا اس کے گرد حصار باندھ گیا۔۔ مشائم نے اس کے سینے میں منہ چھپاتے آنکھیں موند لیں۔۔
