Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan NovelR50479 Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 26
No Download Link
Rate this Novel
Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 26
Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan
انہی لائبریری میں بند ہوئے کئی گھنٹے گزر گئے تھے۔۔ ارشما جوں کی توں بیٹھی تھی جبکہ ماہ بیر ٹانگیں سیدھی کیے بک ریک سے ٹیک لگا کر بیٹھا تھا۔۔ خون رکنے کے بعد اس نے شرٹ دوبارہ پہن لی تھی۔۔ جس سے ارشما تھوڑی ریلیکس ہوئی تھی ورنہ وه تو اس سے نظریں ملا کر بات تک نہیں کر پا رہی تھی۔۔
“آپ سے ایک بات پوچھوں؟؟؟۔۔۔”
ماہ بیر نے سینے پر ہاتھ باندھتے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔
ارشما نے سر ذرا سا اٹھاتے ٹھوڑی گھٹنوں پر ٹکا لی اور یونہی اسے دیکھتی اسکے بولنے کا انتظار کرنے لگی۔۔
“آپ۔۔۔۔۔ شروع سے اتنی کھڑوس تھیں یا اب ہوئی ہیں؟؟؟۔۔۔۔”
کہہ کر وه نچلا لب دانتوں میں دبا گیا۔۔
ارشما کی پیشانی شکن زدہ ہوئی جسے دیکھ کر وه قہقہہ لگا گیا۔۔ ماتھے کے بلوں سے اسے کوئی بڑی شدت سے یاد آیا تھا۔۔
ارشما نے اسکے قہقہے کا برا مناتے سخت لہجے میں کہا “میں اب بھی آپ کی ٹیچر ہوں!!!۔۔۔ زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔”
اوکے اوکے چھوٹی ٹیچر!!!۔۔۔ وه ہنوز شرارت سے بولا۔۔
ارشما نے غصے سے کچھ کہنا چاہا کہ ماہ بیر فورا بولا۔۔
“میں نے نہیں۔۔۔ یوسف نے کہا یہ اور اس نے یہ بھی کہا کہ۔۔۔۔۔”
وه ایک پل کو رکا اور مسكراہٹ دبا کر اسکے سڑے تاثرات سے محظوظ ہوتا کہنے لگا ۔۔۔
“کہ آپ گھروں کی بیل بجا کر بھاگ جانے والی بچی لگتی ہیں!!!۔۔۔”
وه کہتا پھر سے امڈ آنے والی مسکراہٹ کو نچلے لب کا كنارا دبا کر روک گیا۔۔
ارشما کو شدید قسم کی ہنسی آئی تھی۔۔ لیکن وه ماہ بیر کے سامنے ہنسنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔ ہنسی روکنے کے چکر میں اسکا اجلا مومی چہرہ سرخ پڑ گیا تھا۔۔
ماہ بیر نے اسکے نقوش میں مسكراہٹ کے رنگ گھلتے دیکھ کر اسے چھیڑا۔۔
“اگر ہسی آ رہی ہے تو ہنس لیں کہتی ہیں تو میں منہ پیچھے کر لیتا ہوں۔۔۔”
اسے اس طرح شرارت سے بولتا دیکھ کر کون کہہ سکتا تھا کہ یہ وہی سلطان ماہ بیر شاہ ہے جس سے اسکے دشمن تک خوف کھاتے تھے اور جس کے غصے کے قصے دور دور تک مشہور تھے۔۔ اسکی بات پر ارشما مزید خود پر ضبط نہ کر سکی۔۔
وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔۔ بلکل کسی بچے کی طرح۔۔۔ آنکھوں کو چھوٹی کیے گردن پیچھے پهینک کر ہنستی وہ ماہ بیر سلطان کا دل چرا گئی۔۔
وه مسمرائز سا اسے کھلکھلاتا دیکھنے لگا۔۔ کچھ چہروں کے ہسنے سے دل پر محبت کی ہلکی ہلکی پهوار پڑنے لگتی ہے۔۔
“محکمہ موسمیات کی تمام پیشین گوئیوں کو جھٹلا کر فقط آپ کے ہنسنے سے موسم بدل سکتا ہے!!!۔۔۔”
وه اسکی دلکش مسکراہٹ کو دیکھ کر بےساختہ کہہ گیا۔۔ارشما فورا خاموش ہوئی تھی۔۔ آج کتنے عرصے بعد ہنسی تھی وہ۔۔ یوں کھلکھلا کر۔۔ وه بھی اس شخص کے سامنے۔۔۔
وه نظریں جھکا کر اپنے پیروں کو دیکھنے لگی۔۔ ماہ بیر کا کہا جملہ اس کے ذہن میں گونج رہا تھا۔۔ وہ کیوں اس کی ذات میں دلچسپی لے رہا تھا اگر اسے پتہ چل جائے کہ میری حقیقت کیا ہے تو۔۔؟؟ اس نے سر جھٹکا۔۔
اسکے سنجیدہ ہوتے تاثرات دیکھ کر ماہ بیر نے مزید کچھ کہنا مناسب نہ سمجھا۔۔ باہر رات بهیگ رہی تھی۔۔ لائبریری میں روشن دان سے آتی چاند کی دهندلی سی روشنی تھی بس۔۔
مسلسل خاموشی پا کر ارشما کو لگا کہ ماہ بیر سو گیا ہے۔۔ وه ڈر کر چاروں اوڑھ دیکھنے لگی۔۔ اندھیرے میں قید اسے خاک نیند آتی۔۔
نیند تو دور اس سے تو سکون سے بیٹھا بھی نہیں جا رہا تھا۔۔
اس نے آہستہ آہستہ ٹانگیں سیدھی کیں جو مسلسل ایک ہی حالت میں رہنے سے اکڑ گئی تھیں۔۔ اس نے آنکھیں میچ کر کھولیں۔۔ وه جسم کو سیدھا کرتی زبردست انگڑائی لے ہی رہی تھی کہ خاموشی میں ہلکی سی کھڑاک کی آواز آئی۔۔
ماہ بیر جو کب سے لب سیئے اسے یک ٹک دیکھتا اسکی تمام اداؤں پر گهایل ہورہا تھا اسے یوں ڈرتے دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا۔۔
اب کسی چوہے بلی سے تو وه ڈرنے سے رہا اس لیے مزے سے اپنی جگہ بیٹھا رہا۔۔
جبکہ ارشما کی ڈر سے بری حالت ہورہی تھی۔۔ اگر کوئی چوہا ہوا تو۔۔۔۔۔؟؟؟
یہ سوچتے ہی اسکے پسینے چھوٹ گئے۔۔
“ماہ بیر؟؟۔۔”
اس نے سرگوشی میں پكارا لیکن جواب ندارد۔۔ وه بس چپ چاپ دیکھ رہا تھا کہ وہ کرتی کیا ہے!!!
دوبارہ کھڑاک کی آواز پر وه بجلی کی سی تیزی سے اٹھی اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتی زمین پر ماہ بیر کے ساتھ چپک کر بیٹھ گئی۔۔
اسکی ٹانگیں ماہ بیر کی ٹانگوں کے اوپر تھیں جبکہ اسکا مظبوط بازو بھی وه دونوں ہاتھوں میں تھام گئی۔۔
وه سانس روک گیا۔۔ اپنی نادانی میں وه پھر اسکے بے حد قریب آ گئی تھی۔۔ اتنا کہ اگر وه چہرہ موڑتا تو ضرور اسکے لب ارشما کے چہرے کو چھو جاتے۔۔
وه گہری سانسیں لیتا ساکت بیٹھا تھا۔۔ اس سے پہلے کہ وه اسے پیچھے ہٹنے کا کہتا ارشما نے اندازے سے اسکے چہرے کو چھونا چاہا۔۔
اس کی نرم گرم انگلیاں ماہ بیر کے ہونٹوں کو چھو گئیں۔۔ اس نے سرعت سے ہاتھ پیچھے کرتے اسکی داڑھی کو محسوس کرتے اسکا چہرہ تهپتهپایا۔۔
“ماہ بیر؟؟۔۔۔”
وه ذرا اٹھ کر اسکے کان میں سرگوشی کرنے لگی
کہ عین اسی وقت ماہ بیر نے چہرہ اس کی طرف موڑا۔۔
دونوں کے ہونٹ ایک دوسرے کو چھو گئے۔۔ دونوں کو کرنٹ لگا تھا۔۔ ماہ بیر نے سرعت سے ارشما کو خود سے دور کیا۔۔
وه بھی بےيقینی سے لبوں کو چھوتی اس سے دور جا کر بیٹھ گئی۔۔ اس نے آنکھیں بند کرتے اس احساس کو مٹانا چاہا جو اسکے لبوں کو چھونے پر ہوا تھا۔۔
اسکا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا جس کی تیز دھڑکن کی آواز ماہ بیر بھی باآسانی سن رہا تھا۔۔ وہی جانتا تھا اس نے اپنے جذبات پر کس طرح قابو کیا تھا۔۔
نادانی میں وه لڑکی اسکے جذبات کو ہوا دے گئی تھی۔۔ وه کئی پل خاموش رہنے کے بعد بولا۔۔
“آئندہ کسی اجنبی کے اتنے قریب مت جائیے گا ہر کوئی ماہ بیر شاہ نہیں ہوتا!!!۔۔”
اسکی بات کی گہرائی کو سمجھتے ارشما سن رہ گئی۔۔ وه بھی تو ایک مرد تھا نہ اندھیرے کمرے میں وه اسکے جسم کو نوچ سکتا تھا کون اسکی اواز سنتا کون تھا یہاں جو اسکے کام میں ركاوٹ ڈالتا لیکن اس نے ارشما کی طرف غلط نگاہ تک نہ ڈالی تھی بلکہ اسے خبردار کیا تھا۔۔
“ایسا مرد جس کا دل بس ایک عورت کے آگے جھک جائے، جو ہر عورت کو دیکھنا گوارا نہ کرے بلکہ اس کی آنکھیں بس ایک کا عکس بسائے رکھیں اس کا جو اس کے دل میں بستی ہو جو عورت کی عزت کرنا جانتا ہو ، جو باوقار ہو جسے دیکھ کر ہی اسکے ساتھ کی خواہش ہو ایسا مرد پسند ہے مجھے۔۔”
سالوں پہلے اپنا کہا جملہ اسکے کانوں میں گونجا تھا۔۔
یونہی اپنی سوچوں میں گم وه صبح کا انتظار کررہے تھے۔۔ آسمان پر اجالا ہوگیا۔۔ یونہی وقت گزرتا رہا اور یونیورسٹی کا گیٹ کھلنے کی آواز آئی۔۔
چوکیدار اندر آیا اور چابی کا گچھا لے کر سب کمروں کا تالا کھولنے لگا۔۔ آفس ان لاک کرنے کے بعد وه لائبریری کی طرف آیا۔۔
اس نے دروازه کھولا تو سامنے ہی ماہ بیر کھڑا تھا۔۔ وه ایک پل کو ڈر گیا۔۔ “کون ہو تم؟؟۔۔۔” ساتھ ہی اس کی نگاہ ارشما پر پڑی جو ماہ بیر کے پیچھے چھپی کھڑی تھی۔۔
گارڈ اسے پہچان گیا۔۔ کیا کررہے ہو تم دونوں یہاں بولو؟ شرم نہیں آتی یہاں ایسے کام۔۔۔۔۔ اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی ماہ بیر نے الٹے ہاتھ کا تھپڑ اسکے منہ پر دے مارا۔۔
“اب تم نے بکواس کی تو تمہارا منہ توڑ کر ہاتھ میں پکڑا دوں گا۔۔ کان کھول کر سنو کل جو فساد ہوا تھا یہاں اس وجہ سے ہم یہاں پھنس گئے تھے۔۔۔جب ہمیں مدد کی ضرورت تھی تب کہاں بھاگ گئے تھے تم؟؟۔۔۔”
وه واچ مین کو دیکھتا درشتگی سے بولا۔۔ واچ مین نے منہ پر ہاتھ رکھے پھر بھی مشکوک نظروں سے ان دونوں کو دیکھا۔۔
لیکن یہ تو ٹیچر ہے تمہارے ساتھ۔۔۔؟؟ ماہ بیر کا دماغ گھوما تھا۔۔
“بیوی ہے وہ میری!!!۔۔۔” اسے گریبان سے پکڑتا وه واچ مین کے منہ پر داڑھا۔۔
ارشما نے شاک سے ماہ بیر کو دیکھا لیکن وه اس کی جانب متوجہ نہیں تھا۔۔
“جاؤ چادر لے کر آؤ کہیں سے بھی ابھی اسی وقت!!!۔۔۔”
ماہ بیر کے حکم پر واچ مین بوکھلایا۔۔
میں کہاں سے لاؤں؟؟؟
ماہ بیر نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا تو وه تھوک نگلتا باہر کی جانب بھاگا۔۔
اس کے جاتے ہی ارشما، ماہ بیر کو عجیب نظروں سے دیکھنے لگی۔۔
“کیوں کہا اسے کہ میں بیوی ہوں آپ کی؟؟؟۔۔۔”
ماہ بیر گہری سانس لے کر اسکی جانب پلٹا۔۔ “کیونکہ میں جتنا بھی اسے دهمکاؤں وہ یہ بات کسی نہ کسی کو ضرور بتائے گا۔۔ غیر محرم کے ساتھ رات گزارنے اور محرم کے ساتھ رات گزارنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔۔ آپ کی عزت کی خاطر کہا میں نے یہ!!!”
اسکی بات سمجھ کر ارشما خاموش ہوگئی۔۔ پھر ایک خیال آنے پر بولی۔۔
“لیکن سب کو لگے گا کہ آپ اور میں۔۔۔۔۔” وه بات ادھوری چھوڑ گئی۔۔
ماہ بیر نے مسکراتی نظروں سے اسے دیکھا۔۔ “آپ اپنی نازک جان ہلکان نہ کریں،،، کل کس نے دیکھا ہے؟؟؟۔۔۔”
واچ مین واپس آتا دکھائی دیا اسکے ہاتھ میں چادر تھی جو وہ آس پاس کہیں سے مانگ کر لایا تھا۔۔ اس نے چادر ماہ بیر کی جانب بڑھائی تو وه ارشما کو تهما کر اسکے سامنے ڈھال بن کر کھڑا ہوگیا۔۔
ماہ بیر کی تیکھی نظریں خود پر پا کر گارڈ بوکھلا کر واپس گیٹ پر چلا گیا۔۔
ارشما نے اچھی طرح چادر اوڑھ لی تو وه دونوں تیز قدم اٹھاتے یونیورسٹی سے نکل گئے۔۔ گارڈ نے سر ہلاتے ان کی پشت کو دیکھا تھا۔۔
ماہ بیر اسے کالونی کے شروع میں چھوڑ کر چلا گیا تو وه بار بار چادر درست کرتی تیز تیز قدم اٹھاتی گھر کے دروازے کے سامنے آئی اور جلدی سے اندر داخل ہوگئی۔۔
“بی جان!!!۔۔۔”
سامنے ہی بی جان کو پریشانی سے ٹہلتے دیکھ کر وه انہیں پکارتی ان سے لپٹ گئی۔۔
کہاں تھی تم میں کتنا پریشان ہوگئی تھی؟؟
وه اسکا سر چوم کر خود سے لگاتے بولیں۔۔ “میں آج پولیس میں رپورٹ کروانے لگی تھی میرے بچے کچھ بتاؤ تو؟”
اسے روتے دیکھ کر وه مذید پریشان ہوئیں۔۔ بی جان اسے کمرے میں لے آئیں اور بیڈ پر بٹھا کر جلدی سے پانی کا گلاس لاتے اس کی جانب بڑھایا۔۔
وه غٹا غٹ ایک ہی سانس میں پانی پی گئی۔۔ “بی جان کل یونیورسٹی میں کچھ سٹوڈنٹس نے فساد برپا کر دیا تھا۔۔ مار پیٹ کررہے تھے وه میرے ساتھ بھی بدتمیزی کی کوشش کی لیکن ماہ بیر نے مجھے بچا لیا پھر غلطی سے ہم لائبریری میں بند ہوگئے۔۔ کوئی بھی نہیں تھا وہاں جو ہماری مدد کرتا اس لیے مجبوراً ہمیں وہاں رکنا پڑا۔۔”
انکی سوال کرتی نظروں پر وه دکھی ہوئی۔۔
“بی جان ماہ بیر بہت اچھے ہیں آپ جیسا سوچ رہی ہیں ویسا کچھ نہیں ہے پھر بھی آپ کو نہیں یقین تو!!!۔۔۔”
وه سپاٹ چہرے سے بولی تو بی جان فورا کہنے لگیں۔۔
“نہیں بچے مجھے پورا یقین ہے تم پر اور یہ جان کر مجھے بہت اچھا لگا کہ اس بچے نے تمہاری مدد کی۔۔ میں بس اس وجہ سے پریشان ہوں کہ محلے میں یہ بات نہ پھیل جائے۔۔ کل رخسانہ آئی تھی بار بار پوچھ رہی تھی تمہارا۔۔ اسکی بیٹی بھی جاتی ہے نہ یونیورسٹی تو وه کہہ رہی تھی کہ ارشما ابھی تک کیوں نہیں آئی میری بیٹی تو کب کی آ گئی۔۔ تمہیں پتہ تو ہے لوگ کیسی کیسی باتیں بناتے ہیں۔۔ ہم یہاں کرائے پر رہتے ہیں اپنا گھر نہیں ہے ہمارا اور وه مالک مکان وه تو کب سے موقع تلاش رہا ہے ہمیں یہاں سے نکالنے کا” ان کی پریشانی بھی بجا تھی۔۔
ارشما نے آرام سے ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بٹھا لیا۔۔۔
“اتنا نہ سوچا کریں کچھ نہیں ہوتا”
وه ان کے کندھے پر سر ٹکا کر آنکھیں موند گئی تو بی جان اس کا سر تهپتهپا کر پرسوچ سی سامنے دیکھنے لگیں۔
وه مصروف سے انداز میں کچن سے باہر نکلی۔۔ آسمان کو دیکھ کر اسکی آنکھیں چمک اٹھیں۔۔ کب سے ٹھہرے بادلوں کی گردش شروع ہو چکی تھی۔۔
وه کچھ پوچھنے کے لئے صحن میں آئی تو صالح کہیں جانے کو تیار نظر آیا جبکہ انجم اس کے مقابل کھڑیں کچھ کہہ رہی تھیں۔۔
“مشی پتر ادھر آ صالح نہر پر جا رہا ہے تو نے جانا ساتھ؟”
صالح نے بهنویں سكیڑ کر انجم کو دیکھا۔۔
“اماں یہ وہاں کیا کریں گی اور موسم بھی دیکھیں خراب ہورہا ہے!!!۔۔۔”
مشائم کے بولنے سے پہلے ہی وه کہنے لگا تو انجم نے اسکی اچھی خاصی کلاس لی۔۔
“تو نے کیا اڑ کر جانا ہے ؟ تب موسم خراب نہیں ہوگا اور جو تو کرے گا نہ وہاں جا کر یہ بھی کر لے گی۔۔۔ چل شاباش جا میری دھی تیار ہو جا کر!!!۔۔۔”
انجم کے پیار سے کہنے پر مشائم صالح کو ایک نظر دیکھتی اندر چلی گئی۔۔
“ایسا لگتا ہے آپ اسکی نہیں میری ساس ہیں!!!۔۔۔”
وه بڑبڑایا تو انجم نے اسے گھور کر دیکھا اور ہنکارہ بھر کر اندر چلی گئیں۔۔ وہ گہری سانس لے کر وہیں ٹہلتا اس کا انتظار کرنے لگا۔۔
پانچ منٹ بعد ہی وه چادر لیے باہر آ گئی۔۔ سرخ شلوار قمیض میں سرخ لپسٹک لبوں پر لگائے سیاہ چادر اوڑھے وه اسکے سامنے آ کر رکتی اسکی نظروں سے پزل ہوگئی۔۔۔
“چلیں!!!۔۔۔”
وه بس اس وجہ سے اسے ساتھ نہیں لے کر جانا چاہتا تھا کہ کہیں کسی غیر کی نظر بھی نہ پڑ جائے اس پر ۔۔ وه اسے ہر کسی سے چھپا کر رکھنا چاہتا تھا ایسا ہی پوزیسیو ہونے لگا تھا وہ اسے لے کر۔۔
چہرے پر نقاب کرتے وہ صالح کی ہمراہی میں باہر نکلی۔۔ اس نے جیپ کا دروازہ کھولا تو مشائم ڈرائیونگ سیٹ کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گئی۔۔۔
چند منٹ خاموشی سے ڈرائیو کرنے کے بعد صالح نے نہر کے قریب آ کر جیپ روک دی۔۔
ارد گرد ہریالی، سامنے گرتی آبشار اور آسمان پر بادلوں کا ڈیرا دیکھ کر مشائم خوشی سے پھولے نہ سما رہی تھی۔۔ صالح نے موسم کے تیور دیکھ كر افسوس سے نفی میں سر ہلایا۔۔
“کہا بھی تھا!!۔۔۔” وه بڑبڑایا۔۔
“آپ یہاں ركیں میں ایک منٹ تک آتا ہوں!!!۔۔۔” وہ اسے کہہ کر دروازہ کھولتا باہر نکلا اور آگے بڑھتا ساتھ ارد گرد نگاہ بھی دوڑا رہا تھا۔۔ کچھ آگے ایک لڑکا کھڑا نظر آیا۔۔
صالح اسے پہچان گیا۔۔ “چھوٹے؟؟؟”
آواز پر وه لڑکا پلٹا اور خوشگوار حیرت سے سے اس تک آیا۔۔
“ارے صالح بھائی آپ؟؟۔۔۔”
وہ آ کر اس سے بغل گیر ہوا۔۔
کیسے ہو؟؟
صالح نے اس کی پیٹھ تهپتهپائی۔۔
“رب سوہنے کا شکر آپ بتائیں!!!”
وه لڑکا خوشگواری سے بولا۔۔
اللّه کا کرم ہے اچھا چھوٹے تم فلحال چلے جاؤ بھابھی آئی ہے تمہاری اور خیال رکھنا کوئی اس طرف نہ آئے سمجھ گئے نہ؟؟؟
وہ اپنے مخصوص انداز میں بولا تو وه لڑکا سمجھ کر سر ہلاتا وہاں سے چلا گیا۔۔
اب وہاں صالح اور مشائم کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔۔۔وه جیپ تک آیا اور دروازه کھول کر کھڑا ہوگیا۔۔
مشائم احتیاط سے نیچے اتری۔۔
“ہٹا لیں نقاب یہاں کوئی نہیں ہے!!!” وہ ترچھی نظروں سے اسے دیکھ کر کہنے لگا۔۔ حقیقت میں تو وه اسکے چہرے کو دیکھنا چاہتا تھا اس لیے کہہ گیا۔۔
مشائم نے نقاب ہٹا کر چادر سر سے ذرا سركا لی۔۔ سلكی بھورے بالوں کی چند لٹیں ہوا کے دوش پر لہراتیں اسکے چہرے پر بکھرنے لگیں۔۔
اس نے جهنجهلا کر انھیں کان کے پیچھے اڑسا۔۔
“مجھے ایسا موسم بہتتت اچھا لگتا ہے!!!۔۔۔”
وه صالح کے ساتھ چہل قدمی کے انداز میں چلتی آنکھیں میچ کر پرجوش سی بولی۔۔
صالح نے چہرہ موڑ کر سر جھکایا اور اپنے کندھے سے نیچے تک آتی مشائم کی میچی آنکھوں اور حرکت کرتے لبوں کو دیکھنے لگا۔۔
مشائم نے آنکھیں کھول کر چہرہ گھما کر صالح کو دیکھا جو سر جھکائے اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔ اسکی چلتی زبان کو بریک لگا تھا۔۔
اس نے شرمگیں مسکراہٹ چھپاتے سرعت سے چہرہ موڑا تھا لیکن اسکی مسکراہٹ کی جھلک صالح یوسف دیکھ چکا تھا۔۔
مشائم نے جھجھکتے چور نظروں سے اسے ہاتھ کو دیکھا۔۔ مضبوط مردانہ ہاتھ جن کی نسیں ابھری ہوئی تھیں۔۔
اس نے آہستہ سے اسکا ہاتھ تھام لیا۔۔ صالح نے خاموشی سے اپنے ہاتھ میں موجود اسکے ہاتھ کو دیکھا۔۔ چھوٹا سا نرم گرم ہاتھ!!!
وه دهیرے سے مسکرایا اور اسکے ہاتھ کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پهنسا کر سیدھ میں دیکھنے لگا۔۔
آپ مسکرائی کیوں؟؟
وه کنکھیوں سے اسے دیکھ کر بولا تو مشائم اسکا ہاتھ تھامے ہی اسکے مقابل آئی۔۔
کب؟؟ وه سراپا سوال بنی۔۔
“ابھی!!!”
صالح کے دھیمے لہجے میں کہنے پر وه مسکرائی۔۔
“آپ کیوں دیکھ رہے تھے مجھے؟؟؟۔۔۔”
وه معصومیت سے بولی۔۔
کب؟؟ وه سراپا سوال بنا۔۔
“ابھی!!!”
مشائم کے دهیمے لہجے میں کہنے پر وه مسکراتی نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔۔
“آپ کہتی ہیں تو کسی اور کو دیکھ لیتا ہوں وه ساتھ والی۔۔۔۔”
مشائم نے ایڑھیاں اٹھاتے اسکے لبوں پر ہاتھ رکھ دیا اور خفگی سے اسے دیکھنے لگی۔۔
“بس مجھے دیکھا کریں آپ!!!۔۔۔”
وه ماتھے پر بل ڈالے بولی۔۔
صالح نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے قریب کرتے نچلا لب دانتوں میں دبايا۔۔
“آپ جیلس ہورہی ہیں؟؟۔۔۔”
مشائم نے اسکے کندھوں پر دونوں ہاتھ رکھتے آنکھیں سكیڑ کر اسے دیکھا۔۔
“جیلس کے سپیلنگ تو بتائیں ذرا۔۔۔!!!”
اسکی بات پر صالح نے منہ بنایا۔۔
“اب اتنا بھی نالائق نہ سمجھیں آپ۔۔” منہ بناتے وه مشائم کو اتنا کیوٹ لگا کہ اس نے بےاختیار ہو کر اپنے پیر اسکے پیروں پر رکھے اور اسکے کاندھوں کے گرد بازو کا گھیرا تنگ کرتی آہستہ سے اسکے گال کو چوم گئی۔۔
داڑھی کی ہلکی سی چبھن اسے ہونٹوں پر محسوس ہوئی تو وه جلدی سے پیچھے ہٹنے لگی کہ صالح نے اسکی کمر میں بازو ڈال کر اسکی کوشش کو ناکام کر دیا۔۔
“رومینس” کے سپیلنگ آتے ہیں مجھے،،، سناؤں؟؟ وه اس کا چہرہ اپنے چہرے کے سامنے لاتا مسکراتی نظروں سے اسکے چہرے کا طواف کرتا ہوا بولا۔۔
“با۔۔رش آنے لگی ہے ہم گھر چلتے۔۔۔ہیں!!!”
اسکے بدلے انداز دیکھ کر وه گھبرا کر بولی تو صالح ہنس دیا۔۔
وه بے خود سی اسکی ہسی کو دیکھے گئی۔۔
“چلیں چلتے ہیں واپس یہ موسم کہیں بیمار نہ کر دے آپ کو ویسے بھی بہت نازک ہیں آپ!!!۔۔۔”
وه اسے آزاد کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔ بارش کی ہلکی بوندیں دونوں پر پڑنے لگیں تھیں۔۔ مشائم نے چہرہ آسمان کی طرف اٹھا کر آنکھیں موند لیں۔۔ بارش کے چند قطرے اسے چہرے پر آ گرے۔۔ صالح نے اسکے لاپرواہ انداز کو دیکھا۔۔ دفعتاً بارش تیز ہوگئی۔۔ مشائم کا چہرہ پورا گیلا ہوگیا۔۔
گیلے سرخ لبوں نے عجیب سے انداز میں اسے اپنی طرف کھینچا تھا۔۔
“بس کچھ دیر پھر ہم واپس چلیں گے!!!۔۔” وه دونوں مکمل بهیگ چکے تھے۔۔ مشائم نے اسے دیکھتے التجائیہ انداز میں کہا۔۔
صالح کی نظریں اسکے بهیگتے لبوں پر مرکوز تھیں۔۔ وه یک دم اس پر جھکا تھا۔۔
اسکی گردن میں ہاتھ ڈال کر سر بلند کرتے وه پوری شدت سے اسکے لبوں کو اپنے لبوں میں قید کر گیا۔۔
مشائم کی آنکھیں پوری کھل گئیں۔۔ اس نے صالح کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے دهكیلنا چاہا لیکن وه مسلسل اس پر جھکا رہا یہاں تک کہ مشائم کی سانس اکھڑنے لگی۔۔
وه گہری سانس کھینچ کر پیچھے ہٹا اور اس کا سرخ پڑتا چہرہ دیکھنے لگا۔۔
چلیں؟؟ وه مخمور لہجے میں بولا۔۔
مشائم نے جھکا سر ہلایا اور کانپتی ٹانگوں سے اسکے ساتھ چل پڑی۔۔
وه گھر پہنچے تو انجم نے انہیں تفکر سے بھیگا ہوا دیکھا۔۔۔ “جاؤ جلدی سے کپڑے بدلو بیمار پڑ جاؤ گے دونوں!!!”
وه دونوں سر ہلا کر اندر چلے گئے۔۔ صالح کپڑے نکالتا باتھ روم میں گھس گیا۔۔۔ مشائم نے منہ بنا کر اسکی پشت کو دیکھا اور الماری سے اپنے کپڑے نکلتی انجم کے کمرے میں آ کر کپڑے تبدیل کئے اور جلدی سے گیلی جگہ صاف کرتی کمرے میں آئی۔۔
اتنی دیر میں انجم چائے کے دو کپ انہیں دے گئی تھیں۔۔۔صالح بیڈ پر نیم دراز چائے کا کپ اٹھا کر لبوں سے لگا گیا۔۔
مشائم بھی چائے کا کپ تھام کر صوفے پر آ بیٹھی اور گیلے بال کھول کر انگلیوں کی مدد سے آپس میں جڑی لٹوں کو الگ کرنے لگی۔۔
سکون قلب تم سے ہے،، سکون جاں بھی تم ہو۔۔۔!!!
تعجب ہے کہ سینے میں،، جہاں دل تھا وہاں تم ہو۔۔۔!!!
کیا سوچ رہی ہیں آپ؟؟
وه مشائم کی نظریں خود پر پا کر پوچھ بیٹھا۔۔ وه دھیمے سے مسکرائی۔۔
سوچ رہی ہوں۔۔۔
“آپ کو چن لینا میری روح۔۔!!! کی تڑپ تھی اور شاید ضرورت بھی۔ پتہ نہیں کیوں آپ پر جب پہلی نگاہ پڑی تو دل کو جیسے یقین تھا کہ آپ میری مضطرب روح کا واحد قرار بنیں گے!!!۔۔۔”
وہ ایک جذب سے بولی۔۔
صالح اسے مسلسل دیکھے گیا۔۔ اس نے کب سوچا تھا کہ کوئی یوں اس حد تک اسے چاہنے لگے گا۔۔
“آپ ایسی باتیں دور دور سے ہی کرتی ہیں!!!۔۔۔”
صالح نے شرارت سے اسے دیکھا کر کہا تو مشائم چائے کا آخری گھونٹ لے کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
آپ بہت خراب ہوتے جا رہے ہیں!!!
وه آنکھیں سكیڑتی ہوئی بولی تو صالح نے مزے سے سر کے پیچھے دونوں بازو رکھتے اسے سر تا پیر دیکھا۔۔
“یہی خرابی تو صحیح ہے!!!۔۔۔”
اسکی بات پر مشائم مسکراہٹ دبا کر اسکے ہاتھ سے کپ لیتی باہر چلی گئی تو وه بھی مسکرا کر آنکھیں موند گیا۔۔
