Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 1

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan

“حویلی بارود خانہ”۔۔۔ انیسویں صدی میں سکھ فوج کے كمانڈر کی تعمیر کردہ “دو سو سال” پرانی حویلی۔۔۔ بلوچستان کے معروف شہر “خضدار” میں واقع لال اینٹوں سے بنی خستہ عمارت جو کسی زمانے میں آباد تھی آج ہر طرف سے ویرانی ٹپکتی تھی۔۔۔

زمانے کے ہیر پھیر کے بعد یہ حویلی “میروں” کے قبضے میں آئی تھی۔۔۔ ان کے برے چال چلن کی وجہ سے یہاں کے گدی نشین ” سید محمد عبدالله شاہ” نے انہیں یہاں سے در بدر ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔۔

تب سے اس جگہ سے ایسی ویرانی اور منحوسیت ٹپکتی تھی کہ لوگ اس حویلی کے قریب سے بھی گزرنا اپنے لئے معیوب سمجھتے تھے۔۔۔ کہنے والے تو دبی زبان میں کہتے کہ اس جگہ پر جنات کا بسیرا ہے۔۔۔

حویلی کے لکڑی کے بڑے سے داخلی دروازے سے داخل ہو تو تو چھ فٹ چوڑی راہداری کے اطراف میں جابجا درخت اور پودے لگے ہوئے تھے جن کو دیکھ کر ہی وحشت ہوتی تھی۔۔

اندر جاؤ تو عقل کو حیران کردینے والے عجیب و غریب، منفرد اور قیمتی نوادرات جا بجا نظر آتے تھے جن پر زمانوں کی گرد پڑی ہوئی تھی۔۔

اطراف میں بنی قدآور لکڑی کی کھڑکیوں سے باہر جھانکو تو دور اوپر تک جاتی تین فٹ چوڑی اور پانچ فٹ لمبی سیڑھیوں کے ساتھ اوپر دائیں جانب بنے کمرے سے نسوانی چیخ بلند ہوئی۔۔

خاموشی میں کسی کے بھاری جوتوں کی آواز ابھری۔۔ رات کی سیاہی میں اپنے اعمال کی طرح سیاہ چادر اوڑھے وه بھاری بھرکم وجود سیڑھیوں کے بلکل ساتھ بنے کمرے سے باہر نکلا۔۔

وه زمین کی جانب جھکا اور چند قدموں کی دوری پر گرے بےسدھ نسوانی وجود کو سیڑھیوں سے گھسیٹتا نیچے لانے لگا۔۔ جس کی نسوانیت کو وه شراب کے نشے میں چور تار تار کر چکا تھا۔۔

وه ایک لمحے کو لڑکھڑایا۔۔ دیوار پر ہاتھ رکھ کر اس نے سر کو جھٹکا دیا۔۔ آخری سیڑھی پهلانگ کر وه اسے حویلی کے عقب میں لے آیا جہاں بیچوں بیچ سفید پتھروں سے مرصع ایک قدیم قبر بنی ہوئی تھی جس کو چاروں جانب سے سفید جالی سے ڈھکا گیا تھا۔۔

اس نے زمین پر بکھرے خشک پتوں پر قدم رکھا تو ان کی آواز سے خاموشی میں ذرا سا ارتعاش پیدا ہوا۔۔

اس نے جھک کر تیزی سے پتے ہٹائے اور خود پر لپیٹی سیاہ چادر اتار کر زمین پر گرے وجود کو اس میں باندھ دیا جس کی سانسوں کی ڈور کب کی ٹوٹ چکی تھی۔۔

اسکے قبر کے نزدیک پیچھے کی جانب لٹا کر اس نے کانپتے ہاتھوں سے ارد گرد بکھرے پتے اس پر ڈال دیے۔۔

سیدھے ہو کر اس نے ہاتھ کی پشت سے ماتھے پر چمکتا پسینہ صاف کیا۔۔

موبائل نکال کر اس نے ایک فون نمبر ڈائل کیا۔۔

“وه مر گئی ہے ۔۔ نہیں!! تمہیں پتہ ہے میں زبردستی نہیں کرتا ۔۔ لڑکیاں خود آتی ہیں میرے پاس۔۔ بس میں شراب کے نشے میں تھا مجھے پتہ نہیں چلا ۔۔”

“میں نے یہاں چھپا دیا ہے اسے لیکن کل صبح کا اجالا ہوتے ہی شاہوں کو خبر ہوجائے گی۔۔ اپنے کسی وفادار کو بھیجو قربانی کا بكرا بنا کر ۔۔ میرا نام ہرگز نہیں آنا چاہئے ابھی ان کے ہتھے نہیں چڑھنا چاہتا ابھی بہت حساب بے باق کرنے ہیں ان سے ۔۔”

سرد لہجے میں بول کر اس نے کال کاٹ دی۔۔

پھر ارد گرد نگاہ ڈالتا وه بھاری قدموں سے لکڑی کے قدآور دروازے کی دہلیز عبور کر گیا۔۔

حویلی کے صحن میں لگے دیوار گیر آئینے نے اس کا عکس اپنے اندر محفوظ کیا تھا۔۔

سنہری صبح بھیگ رہی تھی۔۔ وه صحن میں لگے نلکے سے منہ ہاتھ دھوتا چند قدم کی دوری پر بچھی چارپائی پر جا کر بیٹھ گیا۔۔

اماں کتنی دیر ہے ناشتے میں؟ مجھے سفید حویلی پہنچنا ہے جلدی۔۔ شاہ سائیں نے کل کہلوایا تھا۔۔

وه سیاہ شلوار قمیض میں ملبوس تھا جس کے بازو عادتاً کہنیوں تک موڑ رکھے تھے۔۔

انجم نے اپنے خوبرو بیٹے کو دیکھا۔۔

تیکھے بےحد خوبصورت مگر مغرور نقوش، ہر وقت بھنچے ہوتے عنابی لب اور ماتھے پر پڑے مستقل بل۔۔ سیاہ گہری سرد سی آنکھیں مقابل کی روح تک جھانکنے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔۔

“بس بس بن گیا ناشتہ” وه جلدی سے اسکے سامنے ناشتہ رکھتیں باقی کام نبیٹنے لگیں۔۔

“صالح پتر روٹی ٹھنڈی ہو رہی ہے پہلے ناشتہ کر لے بعد میں موئے موبائل کو پکڑ لئیں۔۔”

اسے اچانک چونک کر موبائل میں کچھ دیکھتے پا کر وه كلس کر بولیں۔۔

انھیں صالح کی ہر وقت موبائل میں گھسے رہنے کی عادت سے سخت چڑ تھی۔۔

وه ناشتہ وہیں چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔ “اماں میں چلتا ہوں ضروری کام ہے۔۔”

اسکے ماتھے کے بلوں میں اضافہ ہو چکا تھا۔۔

اس کے جانے کے بعد وه بڑبڑا کر برتن سمیٹنے لگیں۔۔

مجھے تو لگتا ہے یہ میرا نہیں شاہوں کا بیٹا ہے۔۔ کاش تیرے ابے کے جانے کے بعد میں نے تجھے سفید حویلی نہ بھیجا ہوتا۔۔

وه تلملا کر سوچتی رہ گئیں۔۔

یہ بلوچستان کے شہر “خضدار” سے دو گھنٹوں کی مسافت پر واقع “سونارا” نامی ایک گاؤں تھا جہاں متوسط اور نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ مقیم تھے۔۔

یہ گاؤں خوبصورت پہاڑوں، ہرے بھرے درختوں، دریاؤں اور قدرتی آبشاروں کی دولت سے مالا مال تھا۔۔

صالح یوسف کا تعلق متوسط طبقے سے تھا۔۔ جہاں وه باپ کے گزر جانے کے بعد اپنی اماں انجم کے ساتھ رہتا تھا۔۔

اسی گاؤں میں چند منٹوں کی مسافت پر ایک کچی بستی آباد تھی جہاں لوگ منہ اندھیرے جاگ کر اپنے کاموں کاجوں میں مصروف ہوجاتے تھے۔۔

یہ نچلے طبقے کے لوگ تھے جو بڑی مشکل سے گزر بسر کرتے زندگی کی گاڑی کو گھسیٹ رہے تھے۔۔۔

کچے گھروں میں ایک گھر ایسا بھی تھا جہاں سے معمول کی طرح صبح سویرے ہی کھلکھلاہٹوں کی آوازیں آنے لگی تھیں۔۔

اینارا، سوئی ہوئی ازنا پر پانی پھینکتی کمرے سے باہر بھاگی تھی۔۔

“اماں!!”

ازنا سر تک تانی چادر کھینچ کر اتارتی زور سے چیخی ۔۔

تن فن کرتی وه کمرے کی دہلیز پر کھڑی کھا جانے والی نظروں سے اینارا کو گھورنے لگی۔۔

“کیوں تنگ کرتی ہے بہن کو ؟”

شائستہ نے اسے ترچھی نظروں سے دیکھ کر کہا۔۔۔

وه اثر لئے بغیر جلدی جلدی ناشتہ کرتے عبدالمنان کی طرف پانی کا گلاس بڑھا گئی۔۔

عبدالمنان نے شفقت سے اسکے سر پر ہاتھ رکھا تو اس نے جتاتی مسکراہٹ سے ازنا کو دیکھ کر آنکھ ماری۔۔

اباں آپ اسے کبھی کچھ نہ کہنا ، روز میری نیند خراب کرتی ہے یہ ۔۔۔

نیند ٹوٹنے کے باعث وه سخت خفا لگ رہی تھی۔۔۔

تو تم بھی تو فجر کی نماز کے لئے نہیں اٹھتی ۔۔۔ جب تک تمہیں اٹھنے کی عادت نہ پڑ جائے میں ایسے ہی تمہاری نیند خراب کروں گی۔۔

وه زبان چڑاتی بولی۔۔

شائستہ نے سر پیٹ لیا ۔۔۔ جوان ہو گئی تھیں دونوں لیکن ابھی تک بچوں کی طرح لڑتی تھیں۔۔

ازنا بڑی تھی جبکہ اینارا اس سے تین سال چھوٹی۔۔ گڑیا جیسی دکھنے والی اینارا کا نام عبدالمنان نے بہت محبت سے رکھا تھا۔۔

اس کے چہرے پر از حد معصومیت تھی۔۔ وه اپنے ابا کی لاڈلی تھی جس سے ازنا کبھی کبھی چڑ جاتی۔۔ حالانکہ وه شائستہ سے شروع سے لاڈ اٹھواتی آئی تھی۔۔

یہ دونوں بیٹیاں عبدالمنان کے گھر کی رونق تھیں۔۔۔

“بیٹا بڑی ہے تم سے ، تنگ نہ کیا کرو اسے ۔۔”

وه اٹھتے ہوئے بولے تو وه فرمانبرداری سے سر ہلا گئی۔۔۔

ازنا منہ بناتی واپس جا کر بستر پر گر گئی۔۔ اب دوبارہ وه اپنے تصوراتی شہزادے کے خواب دیکھنے کے لئے سونے کی کوشش کرنے لگی۔۔

تند چہرے کے ساتھ وه “سفید حویلی” میں داخل ہوا۔۔۔

“کہاں جا رہے ہو شاہ سائیں کا حکم ہے بغیر اجازت کسی کو اندر داخل نہ ہونے دیا جائے ۔۔”

بنے خان نے اسے لوہے کے بڑے سے گیٹ کے پاس روکتے ہوئے کہا۔۔

شاہ سائیں کا یہ حکم “صالح یوسف” کے علاوہ ہر شخص کے لئے ہے۔۔!!

صالح نے اس پر ترچھی نظر ڈالتے ایک ایک لفظ پر زور دے کر بےنیازی و نخوت سے کہا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا اندر چلا گیا۔۔

بنے خان اسکی اس قدر اکڑ پر تلملا کر رہ گیا لیکن وه کچھ نہیں کر سکتا تھا کیونکہ صالح یوسف ، سید سلطان ماہ بیر شاہ کا دستِ راست تھا جس پر وه اندھا اعتبار کرتا تھا۔۔۔

اندر جا کر وه بغیر کسی اور جانب دیکھے مردان خانے کی جانب بڑھ گیا۔۔

یہاں کی خواتین مردوں سے پردہ کرتی تھیں۔۔ سوائے صالح کے کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔۔

راستے میں آتے ایک ملازم کو اس نے روک دیا ۔۔

“شاہ سائیں کو خبر کرو یوسف آیا ہے”

ماتھے پر شکنیں ڈالے وه اسے اشارہ کرتا مردان خانے کی جانب چلا گیا۔۔

ملازم نے اسکے جاتے ہی رکا ہوا سانس بحال کیا ۔۔۔

“یہ یوسف تو نظروں سے ہی بندے کی جان نکال دے”

خودكلامی کرتا وه اپنی بیوی کے پاس گیا جو اسکی طرح حویلی کی ملازمہ تھی۔۔

وه دونوں حویلی کے عقب میں بنے كوارٹرز میں سے ایک میں رہائش پذیر تھے جو ملازموں کے لیے مخصوص تھے۔۔

نجمہ ۔۔؟؟ ماہ بیر سائیں کو خبر کردو یوسف آیا ہے مردان خان میں انتظار کررہا ہے۔۔

اپنی بیوی کو جانے کا کہتے وه اپنے کام میں مصروف ہوگیا۔۔

سفید پیروں تک آتے خوبصورت فراک میں ملبوس وه حویلی کی سیڑھیاں پھلانگتی نیچے آ رہی تھی۔۔

اس کے سانولے چہرے پر بلا کی کشش تھی۔۔

جاذب نظر نقوش ، گہری بڑی بڑی بھوری آنکھوں کی مالک “سیدہ مشائم عبدالله شاہ”۔۔

“سید محمد عبدالله شاہ” کی اکلوتی بیٹی تھی جو “سیدہ للّہ عارفہ” کے بطن سے تھی۔۔

سید محمد عبدالله شاہ “خضدار” کے گدی نشین تھے ۔۔ ان کے اکلوتے بیٹے سید سلطان ماہ بیر شاہ نے انکا سر فخر سے بلند کر رکھا تھا۔۔

علاقے کے بیشتر امور کی ذمہ داری اس نے اپنے مضبوط کاندھوں پر اٹھا رکھی تھی۔۔۔

دشمن اس کے نام سے کانپتے تھے ۔۔ اس نے عہد کر رکھا تھا کہ اس علاقے کے امن و امان کو تباہ کرنے والے ہر شخص پر اس طرح قہر بن کر برسے گا کہ آئندہ کوئی ان کی سلطنت کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرات بھی نہیں کر سکے گا۔۔

اور اسکا یہ غرور اور ارادوں کی پختگی اسکے دستِ راست “صالح یوسف” کی وجہ سے تھی جو ہر موڑ پر اسکے ساتھ تھا۔۔

اس کی دهشت بھی دور دور تک پھیلی تھی۔۔ اپنے شاہ سائیں کے حکم پر وه کچھ بھی کرنے کو تیار تھا۔۔

ان کی محبت مثالی تھی اور ذات کا فرق ہونے کے باوجود دونوں میں دوستی تھی جو مخالفین کو ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔۔

سفید پیروں تک آتے خوبصورت فراک میں ملبوس وه حویلی کی سیڑھیاں پھلانگتی نیچے آ رہی تھی۔۔

اس کے سانولے چہرے پر بلا کی کشش تھی۔۔ جاذب نظر نقوش ، گہری بڑی بڑی بھوری آنکھوں کی مالک “سیدہ مشائم عبدالله شاہ”۔۔

اپنی خاص ملاذمہ کے ساتھ کسی بات پر کھلکھلاتی وه آخری سیڑھی سے نیچے قدم رکھ چکی تھی۔۔

اسکا دوپٹہ سر سے ذرا سا سرک گیا تھا۔۔ اس نے لاپرواہی سے ساتھ چلتی اپنی ملازمہ کو پكارا ۔۔

“نگہت ؟؟ آج میرا باغات کی سیر کا من کررہا ہے۔ کتنے دن ہو گئے ہمیں باہر گئے ہوئے ۔۔۔ جب سے کالج سے فارغ ہوئی ہوں بابا سائیں نے باہر جانے پر جیسے پابندی ہی لگا دی ہے۔۔”

وه منہ بناتی اسے اپنے دل کا حال بتانے لگی۔۔

سامنے سید محمد عبدالله شاہ کو کسی شخص کے ساتھ آتے دیکھ کر اس کے قدموں کو بریک لگا ۔۔

وه خوف ذدہ ہوگئی ۔۔

باتوں میں پتہ ہی نہ چلا کہ وه اپنی بتائی گئی حد سے باہر نکلتی ممنوع جگہ پر آ چکی تھی۔۔

نگہت نے تفكر سے اسکا چہرہ دیکھا۔۔

“بڑے شاہ سائیں میں چلتا ہوں ۔۔”

ادب سے سر جھکا کر وه جلدی سے وہاں سے نکل گیا۔۔

وہ سر جھکا کر کھڑی مشائم کے قریب آئے۔۔

“تمہارا دوپٹہ کیوں سر سے سرکا ہوا ہے ۔۔ اور اس حصے میں آنے کی اجازت تمہیں کس نے دی ہے۔۔؟؟”

وه غیض و غضب سے بولے تو مشائم تھر تھر کانپنے لگی۔۔

“مم۔۔ معافی چاہتی ہوں بابا جان! آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔۔”

وه منمنائی ۔۔۔ اس کی آنکھوں سے آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر بہہ نکلے۔۔

“سید زادی کو ایسی لاپرواہی زیب نہیں دیتی۔۔”

ایک اچٹتی نظر اس پر ڈال کر وه وہاں سے چلے گئے۔۔

ان کے جانے کے بعد وه اندھا دهند دوڑتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی اور دروازه بند کردیا۔۔

نگہت افسوس سے اسے دیکھتی رہ گئی۔۔ اسے اندازہ تھا اب اسکے لاکھ کہنے پر بھی وه دروازه نہیں کھولے گی۔۔

سفید شلوار قمیض پر براؤن مردانہ شال کاندھوں پر ڈالے وه پشت پر ہاتھ باندھے مردان خانے میں داخل ہوا۔۔

السلام علیکم شاہ سائیں !!

ماہ بیر کو دیکھ کر اس نے کھڑے ہو کر ادب سے سلام کیا۔۔

وعلیکم السلام !!

کیسے ہو یوسف؟؟

ماہ بیر اس کے سامنے والے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گیا۔۔

گردن کو چھوتے سیاہ گھنے بال جو اس پر بے طرح جچتے تھے۔۔

سیاہ بھری بھری داڑھی ، عنابی لب ، مغرور اٹھی ناک ، سرمئی حسین آنکھیں جو صنفِ نازک کو پل میں گھائل کرنے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔۔

مونچھیں اطراف سے ذرا سی مُڑتی تھیں جو اس کے دبدبے میں اضافہ کرتی تھیں۔۔

کسرتی جسم کا مالک وہ ایک مکمل اور شاندار مرد تھا۔۔

” اللّه کا کرم ہے سائیں “

وه بھی اسکے بیٹھنے کے بعد واپس اپنی جگہ بیٹھ گیا۔۔۔

اس کے چہرے کی سنجیدگی ماہ بیر کو کچھ غلط ہونے کا بتا رہی تھی۔۔۔

سب خیریت ؟؟ وه جانچتی نظروں سے اسے دیکھ کر بولا۔۔

یوسف کے ہر انداز سے وه خوب واقف تھا۔۔ يقیناً کوئی اچھی خبر نہیں تھی جو یوسف یوں اچانک آیا تھا۔۔

سائیں اپنے بندوں سے خبر ملی ہے کہ حویلی بارود خانہ کے باہر سیاہ چادر میں لپٹی ایک لڑکی کی لاش ملی ہے۔۔

وه ضبط کی انتہا پر بولا۔۔

اسکی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں۔۔ وه اس ریاست کی سب عورتوں کو اپنی ماں بہن سمجھتا تھا لیکن سویرے سویرے جو خبر اسے ملی تھی اس نے صالح یوسف کا سکون تہہ بالا کردیا تھا۔۔

ماہ بیر ٹانگ سے ٹانگ ہٹاتا سیدھا ہو بیٹھا۔۔ اسکے چہرے پر بے يقینی پھیلی ۔۔۔

جس جگہ پر وه انتشار پھیلانے والے معاملات تک حل کرنے کا قائل نہ تھا کہ علاقے کے امن کو خطرہ ہوگا جس جگہ اس نے معمولی مار پیٹ سے بھی اپنے لوگوں کو منع کر رکھا تھا وہاں دھڑلے سے کوئی اسکے علاقے کی لڑکی کو مار گیا تھا۔۔

اس نے مٹھیاں بھینچ لیں۔۔ شدتِ طیش سے اسکی پیشانی اور گردن کی رگیں پھول گئیں۔۔

“اسکے قریب نشے میں دهت ایک آدمی پایا گیا ہے اسکو جبار نے اپنی خاص جگہ پہنچا دیا ہے راتوں رات۔۔”

اس نے ماہ بیر کے تاثرات دیکھتے بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔۔

“اور اس لڑکی کے ساتھ زیادتی بھی ہوئی ہے۔۔”

وه سرخ آنکھوں سے زمین کو گھورتا بولا تو ماہ بیر طیش سے صوفے پر ہاتھ مارتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔

گاڑی تیار کرواؤ ہم ابھی کہ ابھی روانہ ہوں گے۔۔ بکواس کرتا ہے وه،، اتنا بڑا جرم کر کے وه شاہوں کے عتاب کا نشانہ بننے کے لئے وہاں کیوں رکے گا۔۔ ضرور اسکے پیچھے کوئی اور سازش ہے۔۔

غیض و غضب سے گرجتا وه آندھی طوفان بنا مردان خانے سے نکل گیا۔۔

اسکے جاتے ہی صالح نے موبائل پر جبار کا نمبر ڈائل کیا۔۔

ہم ابھی کچھ دیر تک روانہ ہوں گے۔۔ تم یہاں حویلی کی نگرانی کرو گے اور جب تک ہم واپس نہ آئیں یہاں سے پتہ بھی نہیں ہلنا چاہیے سمجھ گئے ہو نہ میری بات کو ۔۔؟

جبڑے بھینچ کر کہتا وه بھاری قدم اٹھاتا سفر کی تیاری کرنے چلا گیا۔۔

ستائیس گھنٹوں کی مسافت بارہ گھنٹوں میں طے کر کے ان کی جیپ “سکردو” میں داخل ہوگئی۔۔

سکردو۔۔۔ شمالی پاکستان کا خوبصورت مقام ، کوہِ قراقرم اور ہمالیہ کے پہاڑوں سے گھرا ، گلگت بلتستان میں واقع قدرے ویران اور پرسکون مقام۔۔

شدید برفباری کے کے باعث جیپ جھٹکا کھا کر رک گئی۔۔

وه دونوں اس وقت گرم کپڑوں میں ملبوس تھے۔۔ سویٹرز کے ساتھ جینز اور جیکٹ پہنے۔

سردی سے بچاؤ کے لئے ناک کے گرد مفلر لپیٹ رکھا تھا۔

صالح نے جیپ روکتے دستانوں میں مقید اپنے ہاتھ آپس میں رگڑے۔

سردی کی شدت اس قدر تھی کہ مکمل ڈھکے ہونے کے باوجود بھی سرد ہوا کے تهپیڑے انہیں لرزنے پر مجبور کررہے تھے۔۔۔

ڈرائیونگ سیٹ کے برابر والی سیٹ پر بیٹھے ماہ بیر نے اسے ہاتھ رگڑتے دیکھا تو اس سے مخاطب ہوا۔۔

“میں ڈرائیو کر لیتا ہوں تم میری جگہ آ جاؤ”

وه اٹھنے لگا تو صالح نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔

سائیں تھوڑی دیر ہی رہ گئی ہے ہمیں اپنی جگہ پہنچنے میں ۔۔ میں کر لیتا ہوں ڈرائیو کوئی مسلہ نہیں ۔۔

وه دوبارہ جیپ سٹارٹ کرتے ہوئے بولا تو ماہ بیر نے مسکرا کر اسکے کندھے کے گرد ہاتھ پھیلا لیا جس پر صالح مسرور سا اونچے نیچے راستوں پر ڈرائیو کرنے لگا۔۔

“شاہ سائیں آپ مجھے یوسف کیوں کہتے ہیں میرا مطلب ہے میرے گاؤں کے لوگ اور اماں بھی مجھے صالح کہتی ہے۔۔؟”

اس نے لگے ہاتھوں کئی سالوں سے ذہن میں کلبلاتے سوال کو پوچھ ہی لیا۔۔

ہمم بات تو تمہاری واقعی توجہ طلب ہے۔۔

میں تمہیں اس لیے یوسف کہتا ہوں کیوں کہ تم مجھے اپنے علاقے کے سب سے خوبرو نوجوان لگتے ہو۔۔

وه اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتا ایک نظر اس پر ڈال کر سامنے دیکھتا کہنے لگا۔۔

صالح کا چہرہ سرخ ہوگیا۔۔

اس نے مزید کچھ کہنا مناسب نہ سمجھا۔۔۔

سکردو شہر سے ایک گھنٹے کی دوری پر وادی شغر کے قریب واقع “بلائنڈ لیک”(Blind Lake) کے پاس پہنچ کر اس نے جیپ روک دی۔۔

جیپ سے اتر کر وه دونوں ہاتھ ملتے ہوئے تا حد نظر تک پھیلے دلکش پہاڑی سلسلے کو دیکھنے لگے۔۔

بلائنڈ لیک جسے مقامی زبان میں “جھربسو” کہا جاتا ہے ایک طرف سے دریائے سندھ اور دوسری طرف سے دريائے شغر سے گھری پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے۔۔

اسے بلائنڈ لیک اس لیے کہا جاتا ہے کہ آج تک کوئی نہیں جان سکا اس میں پانی آتا کہاں سے ہے اور جاتا کہاں۔۔۔

انہوں نے ایک لمبے عرصے کے بعد اس سرزمین پر قدم رکھا تھا۔۔

ماہ بیر نے یہاں اپنا خفیہ گھر بنا رکھا تھا۔۔خوبصورت تراشیدہ پتھروں سے بنا گھر۔۔

وه یہاں اپنے خفیہ معملات نبٹانے آتا تھا۔۔ اور اس ٹھکانے کا علم سید محمّد عبدالله شاہ کے علاوہ بس صالح یوسف کو تھا۔۔

دشمنوں کی سوچ اور نظر سے پوشدہ اس مقام پر وه اپنے دشمنوں ، غداروں اور اپنے علاقے کے دشمنوں کو بہت بری موت مارتا تھا۔۔

وه یہ سب کام اپنے علاقے میں نہیں کرنا چاہتا تھا اس لئے اس نے اس جگہ کا انتخاب کیا تھا جہاں دور دور تک ویرانی تھی۔۔

ایک اور وجہ بھی تھی اس جگہ سے دلچسپی رکھنے کی۔۔

وه تھا اسکا “گولڈن ایگل” جو سکردو کے ایشیائی نیشنل پارک میں پرورش پا رہا تھا۔۔

دونوں نے بھاری قدم اٹھاتے سنگِ مرمر کے چمکتے برآمدوں پر قدم رکھا۔۔

چند قدم چل کر وه ایک دروازے سے اندر داخل ہوئے۔۔۔

صالح نے اندر داخل ہو کر ایک دیوار کے ساتھ اونچی سی بنی شیلف پر ہاتھ میں پکڑا کھانے پینے کا سامان اور دیگر ضروری سامان رکھ دیا جو وہ جیپ سے نکال کر لایا تھا۔۔

ناک سے مفلر ہٹا کر ماہ بیر نے دروازه بند کر کے ہیٹر چلا دیا۔۔ دونوں اپنے مخصوص کمروں میں کپڑے تبدیل کرنے کی غرض سے چلے گئے کیوں کہ برفباری کی وجہ سے ان کے لباس گیلے ہوگئے تھے۔۔

مہرون سویٹر کے ساتھ سیاہ پینٹ پہنے ماہ بیر کمرے سے باہر نکلا جہاں لاؤنج میں قدرے کونے میں بنے آتش دان کے سامنے سیاہ سویٹر جینز میں سویٹر کے بازو عادتاً کوہنیوں تک موڑے

پنجوں کے بل بیٹھا وه لکڑیاں جلا رہا تھا۔۔

قریب ہی دو آرام دہ صوفے اور چھوٹی میز رکھی تھی جس پر کپوں میں بهاپ اڑاتا قہوہ رکھا تھا۔۔

راستے میں وه بھوک مٹا چکے تھے لہٰذا اب قہوے کی طلب ہورہی تھی۔۔

وه سنجیدہ تاثرات لیے صوفے پر آ کر بیٹھ گیا۔۔

قہوہ کا کپ اٹھا کر لبوں سے لگاتے وه گہری سوچ میں تھا۔۔

کیا سوچ رہے ہیں شاہ سائیں؟؟

صالح اس کے سامنے بیٹھتا گھونٹ گھونٹ قہوہ پیتا اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھتا استفسار کرنے لگا۔۔

سوچ رہا ہوں میروں کی حویلی کے آگے لاش کا ملنا کوئی اچھا شگن نہیں ہے۔۔ زمانوں سے دبی راکھ کو ہوا دینے کی کوشش کی گئی ہے۔۔

میروں کو بابا سائیں نے جس طرح وہاں سے نکالا تھا مجھے اندیشہ تھا کہ وه انتقام ضرور لیں گے۔

ماہ بیر پر شکن پیشانی سے سامنے خلا میں گھورتا ہوا بولا۔۔

سالوں سے بند پڑی حویلی میں کچھ دوسرے سراغ بھی ملے ہیں سائیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وه واپس آ گیا ہے۔۔

صالح نے اسکی آنکھوں میں جھانک کر کہا تو اس کے لہجے کی گہرائی پر ماہ بیر چونکا۔۔

“بہت شاطر اور چالباز ہوگا وه لیکن وه یہ نہیں جانتا ہوگا کہ سید سلطان ماہ بیر شاہ اپنے لوگوں کو دشمنوں کے برے سائے سے بھی محفوظ رکھنے کے لئے ہر حد سے گزر جائے گا۔۔”

وه سرد لہجے میں بولا۔۔

میں ہر قدم پر آپ کے ساتھ ہوں سائیں!!

وه پرعزم ہو کر گویا ہوا تو ماہ بیر نے کھڑے ہو کر اسکی پیٹھ تهپتهپائی۔۔۔

چند لمحوں بعد وه دونوں تہہ خانے کی سیڑھیاں اتر رہے تھے۔۔