Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 31

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan

“اللہ میں بہت خوش ہوں ہم سب واپس جا رہے ہیں۔۔۔چند دن تک بھائی جان کی شادی ہے کتنا مزہ آئے گا!!!۔۔۔”

وہ ڈرائیو کرتے صالح کو دیکھتی پرجوش سی کہنے لگی۔۔۔ سیاہ جینز شرٹ میں ملبوس صالح نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔۔

ماتھے پر آتے بال جھٹک کر اس نے ایک ہاتھ سے ڈرائیو کرتے دوسرے ہاتھ سے شرٹ کے اوپر والے دو بٹن کھولے۔۔

” اف بہت گرمی ہوگئی ہے اچانک!!!۔۔۔”

اس نے ترچھی نظروں سے مسلسل بولتی مشائم کو دیکھتے نچلا لب دانتوں تلے دبا لیا۔۔

وہ بولتے بولتے رکی۔۔

” کہاں۔۔؟؟ نہیں تو!!!

اس نے پورے وثوق سے کہا۔۔

صالح نے ایک نظر سامنے دیکھ کر مشائم کے ہونٹوں پر انگوٹھا پھیر کر جھٹکے سے اسے قریب کیا۔۔

وہ اس کے اچانک کھینچنے پر جھٹکے سے اس کے سینے سے آ لگی۔۔

اسکے لب صالح کے کھلے گریبان سے جھانکتے كسرتی سینے سے ٹکرائے۔۔

صالح نے بےساختہ آنکھیں موندیں۔۔۔ یہ لڑکی تو دن بدن اسے پاگل کررہی تھی۔۔

مشائم نے گھبرا کر اس کے سینے سے سر اٹھایا۔۔

“یوسف کیا کررہے ہیں ایکسیڈنٹ ہوجائے گا!!!۔۔۔”

صالح نے اس بات کو نظرانداز کرتے کہا ” اب بتائیں گرمی ہے یا نہیں؟؟؟۔۔۔”

وہ اسکے چہرے پر جھکا گرم سانسیں اسکے چہرے پر چھوڑتا ہوا بولا۔۔

وہ حلق تر کرتی جلدی سے دور ہوئی۔۔۔ اس بندے کا کیا بھروسہ بیچ سڑک میں رومینس جھاڑنے لگے۔۔

اسکے یوں دور جانے پر صالح کے ماتھے پر بل پڑے۔۔

اس نے مشائم کی کمر میں ہاتھ ڈال کر کار کی سپیڈ سلو کی اور جھٹکے سے اسکے چہرے کے قریب اپنا چہرہ لاتے وہ اسکے ہونٹوں پر لب رکھتا پوری شدت سے انہیں اپنے لبوں میں بھینچ گیا۔۔

مشائم کی آنکھیں پھیلیں۔۔ اس نے صالح کی شرٹ دبوچ کر سانس لینی چاہی جو قطرہ قطرہ اسکی سانسیں پی رہا تھا۔۔۔

ٹرن ٹرن کی آواز پر وہ سیدھا ہوا اور اسکے گیلے لبوں کو انگوٹھے سے صاف کیا۔۔

“آئندہ مجھ سے دور جانے کی کوشش مت کیجیے گا۔۔۔!!! اس کی گردن سے نیچے انگلی ٹریس کرتا وہ گہری سانس لے کر نظریں پھیر گیا۔۔۔

گردن سے نیچے تک اس کے لمس اور ہونٹوں پر اس ستمگر کی شدتوں پر اس کے پسینے چھوٹ گئے۔۔

دل یوں دھڑک رہا تھا جیسے پسلیاں توڑ کر باہر نکل آئے گا۔۔ اسکی بکھری حالت کو گہری نظروں سے دیکھتے صالح نے گاڑی کی رفتار تیز کی تھی۔۔

ان کی گاڑی سے کچھ آگے ماہ بیر کی گاڑی تھی جس میں وہ ارشما اور بی جان کے ساتھ سفر کررہا تھا۔۔

بیک ویو مرر میں ارشما کا پریشان چہرہ دیکھ کر اس نے موبائل پر میسج لکھا “کیا ہوا؟ آپ پریشان کیوں ہیں؟؟؟۔۔۔” لکھ کر اس نے میسج بھیج دیا۔

ارشما نے فون کی سكرین روشن ہونے پر میسج کھولا ۔۔ ماہ بیر کا میسج پڑھ کر گہری سانس لیتے اس نے جواب لکھا۔۔ “میں اس لیے پریشان ہوں آپ کی مما بابا پتہ نہیں کیسا رد عمل دیں گے مجھے دیکھ کر۔۔۔ گهبراہٹ ہورہی ہے بہت!!!۔۔۔” میسج سنڈ کرنے کے بعد فوراً سین ہوا تھا۔۔

ماہ بیر ایک ہاتھ سٹیئر رنگ پر رکھتا دوسرے ہاتھ سے ٹائپنگ کرنے لگا۔۔

“آپ خوامخواہ میں پریشان ہورہی ہیں۔۔ وہ بہت محبّت سے ملیں گے آپ سے آخر کو ان کا اکلوتے بیٹے کی محبّت ہیں آپ!!!

اور ایک بات وہ بس میرے نہیں آپ کے بھی مما بابا ہیں جو آپ کا ہے وہ میرا ہے اور جو میرا ہے وہ آپ کا ہے!!!

نرمی سے اسے سمجھاتا وہ بیک ویو مرر سے اسکے تاثرات دیکھنے لگا۔۔

ارشما ہلکا سا مسکرائی تھی۔۔ اسکی مسکراہٹ سے وہ مطمئن ہوتا سامنے دیکھنے لگا۔۔

ان کی گاڑی جیسے ہی حویلی کے گیٹ سے اندر آئی سب ملازمین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔۔۔

نگہت جلدی سے اندر بھاگی تاکہ بڑے سائیں اور بی بی جی کو خبر کر سکے۔۔

بنے خان نے آگے بڑھ کر ماہ بیر کی گاڑی کا دروازہ کھولا جبکہ صالح کو دیکھ کر ہی اس کا حلق تک کڑوا ہوگیا تھا۔۔ صالح نے باہر نکل کر اسے گھور کر دیکھا۔۔

“نظر نہیں آ رہا ساتھ بیبیاں بھی ہیں۔۔ جاؤ یہاں سے!!!۔۔۔” اس کا کہنے پر بنے خان غصے سے واپس چلا گیا۔۔

مشائم باہر نکل کر ارشما اور بی جان کے پاس آئی اور وہ سب حویلی کے اندرونی دروازے کی جانب بڑھ گئے۔۔

اندر آتے ہی ان کا سامنا عبدالله شاہ اور عارفہ سے ہوا۔۔ مشائم جلدی سے آگے جاتی امی جان کے گلے لگ گئی۔۔

وہیں عبدالله شاہ نے ماہ بیر اور صالح کو باری باری گلے لگایا۔۔ مشائم سے مل کر عارفہ آگے بڑھیں اور بی جان سے نرمی سے ملیں۔۔

پھر وہ ڈری ڈری سے کھڑی ارشما کے سامنے آئیں جو سیاہ چادر سے خود کو ڈھکے ڈری ڈری سی کھڑی تھی۔۔ انہوں نے آگے بڑھ کر اس کی پیشانی چومی۔۔

“ماشاءالله!!!۔۔۔”

اسکے چہرے کی پیار سے چھوتیں وہ انھیں مہمان خانے میں لے آئیں۔۔۔

نگہت نے اشارہ کیا تو مشائم “میں ابھی آئی” کہہ کر باہر چلی آئی۔۔

وہ دونوں زور سے گلے ملیں۔۔ “مشی بی بی میں نے آپ کو بہت یاد کیا۔۔۔۔”

اس کے پرخلوص لہجے پر وہ مسکرائی۔۔

“میں نے بھی تمہیں مس کیا نگہت!!!۔۔۔”

وہ پیار سے بولی۔۔

اپنے کھڑوس صاحب کا بتائیں جی وہ کیسے ہیں؟؟؟

اسکے شرارت سے پوچھنے پر وہ مسکراتی ہوئی نگاہیں جھکا گئی۔۔

“وہ بہت اچھے ہیں!!!۔۔۔”

اسکے انداز دیکھ کر نگہت اٹھلائی۔۔

“ا وہو!!!۔۔۔ بڑی بات ہے جی۔۔۔”

مشائم شرمگیں مسكان چہرے پر سجاتی اس جانب جھک کر سرگوشی میں بولی

” ہاں نہ ۔۔۔۔ وہ۔۔۔بہت۔۔۔رومینٹک ہیں!!!۔۔۔”

اسکا کہنا ہی تھا کہ نگہت کھانسنے لگی۔۔

“وہ کھڑوس رومینٹک ہے۔۔ اللّه!!! مجھے یقین کیوں نہیں آ رہا ؟؟

وہ پراندہ جھلاتی دانت نکال کر بولی۔۔

مشائم نے اس کی کمر میں ہلکا سا مکا مارا۔۔۔

“تم یقین دلاتی رہو خود کو ۔۔۔ میں جاتی ہوں اندر یوسف کو برا نہ لگ جائے!!!۔۔۔

طے یہ پایا کہ ٹھیک ایک ہفتے بعد “ماہ بیر اور ارشما کی شادی کی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔۔۔ تب تک بی جان اور ارشما ، مشائم کے ساتھ جائیں گی۔۔

کھانے سے فارغ ہو کر وہ وقت سے ہی حویلی سے نکل گئے تھے تا کہ اندھیرا ہونے سے پہلے ہی گاؤں پہنچ جائیں۔۔ انجم نے بہت محبّت سے ان کا استقبال کیا تھا۔۔

سفر سے تھکے ہارے وہ جلد ہی آرام کی غرض سے بستروں میں گھس گئے۔۔

بی جان کے ساتھ چت لیٹی ارشما نے سر اٹھا کر انہیں دیکھا اور ان کے سونے کا اطمینان کرتی دبے قدموں باہر چلی آئی۔۔

باہر قدم رکھتے ہی وہ ٹھٹھڑ گئی۔۔ رات کی کالی سیاہ زلفوں میں بدلیوں کے ٹکڑے جیسے اٹھکیلیاں کرتے پھر رہے تھے۔۔

اس نے موبائل پر وقت دیکھا۔۔ بارہ بج رہے تھے۔۔ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ چھت پر چلی آئی۔۔

اس کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔۔ وہ ٹھنڈی ہوا کو محسوس کرتی خود کو یقین دلانے کی کوشش کررہی تھی کہ اس کی زندگی میں بھی خوشیاں ہوں گی ماہ بیر کی صورت میں۔۔

کتنا چاہتا تھا وہ اسے۔۔ اس نے چھت پر ٹہلتے موبائل آن کرتے یونہی ماہ بیر کی چیٹ کھولی۔۔

اس کی پروفائل پکچر زوم کر کے دیکھتی وہ دھیما سا مسکرائی۔۔ دل میں میٹھا میٹھا سا احساس جاگنے لگا تھا۔۔۔ ماہ بیر کو آن ہوتے دیکھ کر وہ ہڑبڑا گئی۔۔

ماہ بیر کا فورا میسج آیا۔۔ “آپ جاگ رہی ہیں؟ چلیں اچھا ہے،، آ کر آپ کو جگانا نہیں پڑے گا!!!۔۔۔”

ارشما ناسمجھی سے اس کے میسج کو دیکھے گئی۔۔ اس نے جواباً لکھا۔۔

” کیا مطلب؟؟۔۔۔”

ماہ بیر : “مطلب یہ کہ میں دو منٹ تک پہنچ رہا ہوں آپ کے پاس آپ چھت پر چلی جائیں۔۔ بی جان کی موجودگی میں میں آپ سے ٹھیک طرح مل نہیں پاؤں گا نہ اور شال لے کر جائیے گا!!!۔۔۔”

ارشما کی دھڑکن تیز ہوئی۔۔ وہ رات کے اس پہر اس سے ملنے آ رہا تھا۔۔

اپنے کہے کے مطابق وہ ٹھیک دو منٹ بعد وہ آہستہ سے چابی لگا کر دروازه کھول کر چھت پر چلا آیا۔۔

بلیک لیدر کی جیكٹ جینز میں وہ اس کے سامنے تھا۔۔ ارشما نے ملگجے اندھیرے میں اسے دیکھا۔۔

وہ اس کی جانب بڑھا تھا اور اسکی کمر میں بازو حائل کرتے اسے سینے سے لگاتا اسکے بالوں میں منہ چھپا گیا۔۔ ارشما نے اسکا لمس محسوس کرتے سرور سے آنکھیں موندیں اور اس کی کمر کے گرد بازو کا نازک حصار قائم کر دیا۔۔

اسے محض دوپٹہ لاپرواہی سے کاندھے پر ڈالے دیکھ کر ماہ بیر نے افسوس سے نفی میں سر ہلایا۔۔

“میں نے کہا تھا شال اوڑھ لیجیئے گا”

اپنی جیکٹ کھول کر اسے سینے میں بھینچ کر وہ اس کا چہرہ بلند کرتا نرمی سے کہنے لگا۔

“میں آپ کے کہنے سے پہلے سے ہی چھت پر موجود تھی!!!۔۔۔”

وہ اس کی آنکھوں میں ایک پل کو دیکھتی نظریں جھکا گئی۔۔

ہوا سے اس کے ہونٹ پر آ کر ٹھہرتی لٹ کو ماہ بیر نے انگلی کی پور سے پیچھے ہٹایا۔۔

“آپ سوئی کیوں نہیں ؟ کیا میری یاد آ رہی تھی ہممم؟؟؟۔۔۔۔”

وہ جھک کر زور سے اس کا گال چومتا کہنے لگا۔۔۔ اس کے کس کرنے پر وہ اس کی شرٹ مٹھی میں دبوچتی حیا سے آنکھوں پر پلکوں کی جھالر گرا گئی۔۔

“یار ویسے تو آپ بہت بولتی ہیں لیکن تنہائی میں میرے ساتھ آپ کی آواز کیوں بند ہوجاتی ہے؟؟”

وہ کہتا شرارت سے لب کا کونہ دانتوں میں دبا گیا۔۔۔

ارشما نے حلق تر کرتے اسے دیکھا۔۔۔ اس کے حلق تر کرنے پر ماہ بیر نے گہری نظر سے اسکی گردن کو دیکھا۔۔

“مجھے شرم آتی ہے!!!۔۔۔۔”

وہ اسکی شرٹ کے بٹن سے کھیلتی معصومیت سے بولی تو اس کی اس ادا پر ماہ بیر سلطان گهايل ہوا تھا۔۔

“کیوں شرم آتی ہے؟؟ میرے چھونے پر؟؟

وہ اس کے چہرے کو قریب کرتا بوجھل آواز میں بولا۔۔ ارشما نے اسکی گہری بولتی نظروں سے چھپنے کے لیے اسی کے سینے میں منہ چھپايا تھا۔۔

ماہ بیر کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ آئی۔۔ اس نے ارشما کا چہرہ اوپر اٹھایا اور اسکی گردن کو دیکھتا یک دم جھکا تھا۔۔

اسکی شاہ رگ کو شدت سے لبوں سے چھوتا وہ مدہوش ہونے لگا۔۔۔

شدید سردی میں دو پرحرارت جسموں کو آپس میں مگن پا کر رات کی رانی شرمائی تھی۔۔

ارشما آنکھیں سختی سے میچے گردن پر اسکی داڑھی کی چبھن اور ہونٹوں کا لمس محسوس کرتی لڑکھڑائی تھی۔۔ ماہ بیر نے اس کی گردن پر جھکے ہی اسکی کمر میں ہاتھ گاڑتے اسے خود میں بھینچا۔۔۔

ارشما کی سانسیں پھولنے لگیں۔۔

“ماہ بیر ۔۔کوئی ۔۔ آ ۔۔۔جائے گا۔۔۔!!!”

وہ اس کے سر کے بال ہاتھ میں نوچتی اسکا سر اٹھانے کی کوشش کرنے لگی جو اس کی گردن پر جھکا پیچھے ہٹنا ہی بھول گیا تھا۔۔۔

رات لمحہ بہ لمحہ گزر رہی تھی۔۔ وقت کا احساس ہوتے وہ نہ چاہتے ہوئے بھی پیچھے ہٹا۔۔

“آپ ایک بار مکمل میری دسترس میں آئیں پھر ماہ بیر کی شدتوں کی انتہا دیکھئے گا اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ تب آپ کو کوئی رعایت نہیں ملے گی!!!۔۔۔”

اس کا ہونٹ سہلاتے وہ پلٹ گیا اور جس خاموشی سے آیا تھا اسی خاموشی سے چلا گیا۔۔۔

اس کے جاتے ہی ارشما نے نیچے کی طرف دوڑ لگا دی۔۔۔ وہ جلدی سے بیڈ پر چت لیٹتی اپنی سانسیں ہموار کرنے لگی۔۔ سردی میں بھی اس کا جسم پسینے سے بھیگ چکا تھا۔۔۔ اس کی باتیں یاد آنے پر اس نے شرما کر چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپایا تھا۔۔

صالح نے کروٹ بدلی۔۔ اس کی آنکھوں میں نیند کا نام و نشان تک نہ تھا۔۔ ہمیشہ کی طرح وہ شرٹ سے بےنیاز لیٹا ہوا تھا۔۔

اس سے برابر لیٹی مشائم سفر کی تكان کے باعث گھوڑے گدھے بیچ کر سو رہی تھی۔۔

اس کے ادھ کھلے لبوں نے صالح کو بےچین کر رکھا تھا۔۔ “مجھے بےچین کر کے خود سکون سے سورہی ہیں!!!۔۔۔”

اس نے بلینکٹ کھینچ کر دونوں پر اوڑھائی اور اس کے قریب ہوتا اس کی کمر سے شرٹ اٹھا کر اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرنے لگا۔۔

وہ نیند میں کسمساتی اس کی جانب کروٹ بدل گئی۔۔

یوں کروٹ بدلنے سے اس کا گہرا گلا مزید نمایاں ہونے لگا۔۔ صالح کی آنکھوں میں خمار اترا۔۔

اس نے مشائم کی گردن کے نیچے سے ہاتھ گزار کر اسے ذرا بلند کیا یوں کہ اس کا سر نیچے جبکہ گردن اور سینہ اسکے سامنے تھا۔۔

وہ مذید برداشت نہ کرتے بےخود سا جھکا اس کی گردن پر ناک سہلانے لگا۔۔

اسکی گردن میں گہرے سانس بھرتے وہ اس کی خوشبو کی اپنے اندر اتارنے لگا۔۔

اچانک گرمی کا احساس ہونے اور اپنے اوپر بوجھ محسوس کرتے مشائم نے آہستہ آہستہ آنکھیں وا کیں۔۔۔

صالح کے لب گہرے گلے کی جانب جاتے محسوس کر کے اس کی سانسیں منتشر ہوئیں۔۔

اس نے نظریں جھکا کر کانپتے ہاتھوں سے اس کے بال پکڑتے اس کا سر اوپر اٹھایا۔۔

صالح نے سرخ خمار زدہ آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔ اپنے سر سے اس کا ہاتھ ہٹا کر اس نے جھٹکے سے بلینکٹ پیچھے پھینکی۔۔

بلینکٹ ہٹتے ہی اس کی نگاہ مشائم کے پیٹ پر پڑی جہاں سے وہ پہلے ہی شرٹ ہٹا چکا تھا۔۔

مشائم کی آنکھیں پھیلیں ۔۔۔ اس نے گهبرا کر اٹھنا چاہا کہ اس سے پہلے ہی وہ اس کی کمر کے گردن دونوں ہاتھ رکھتے جھکا اور اس کے پیٹ پر لو بائیٹس کرنے لگا۔۔

اس کی شدتوں کے سرخ نشان مشائم کے پیٹ پر نقش ہوتے جا رہے تھے۔۔۔

اس کے زور سے کاٹنے پر مشائم کے منہ سے سسكی نکلی۔۔۔ “یوسف ۔۔۔ مجھے سانس ۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔ وہ بات ادھوری چھوڑتی گہرے گہرے سانس لینے لگی۔۔

“اف”۔۔۔!!! اس کے سینے کے زیر و بم کو دیکھ کر صالح نے گردن پر ہاتھ پھیرتے سر جھٹکا۔۔

اپنے بےلگام ہوتے جذبات کو لگام ڈال کر وہ اٹھا اور مشائم کو بٹھا کر ساتھ لگاتا اسکی پیٹھ سہلانے لگا۔۔۔

“سب ٹھیک ہے،،، گہرے گہرے سانس لیں!!!۔۔۔”

اسے نرمی سے کہہ کر اس نے پانی کا گلاس پکڑ کر اس کے ہونٹوں سے لگایا۔۔

وہ گھونٹ گھونٹ پانی پینے لگی۔۔ پیاس بجھا کر اس نے منہ پیچھے کیا تو صالح نے گلاس واپس سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔۔۔

بیڈ پر چت لیٹ کر سر کے نیچے دونوں ہاتھ رکھتے وہ اسے دیکھے گیا۔۔

“کیا ہوا تھا آپ کو؟؟؟۔۔۔”

اسکی بات پر مشائم خفگی سے اس کی طرف مڑی۔۔۔

خود سب کر کے کہہ رہے ہیں کیا ہوا تھا۔۔۔؟؟؟

وہ اس کے پھولے کسرتی سینے پر مکا مارتی خفا لہجے میں بولی۔۔

“میں نے؟؟ میں نے کیا کیا؟؟۔۔۔”

وہ از حد معصومیت سے بولا۔۔

اس کے اس قدر معصوم بننے پر مشائم عش عش کر اٹھی۔۔۔ “آپ نے میری نیند خراب کر کے وہ سب کیا جس کی وجہ سے مجھے سانس نہیں آرہی تھی ٹھیک سے!!!۔۔۔”

وہ اسکی داڑھی کھینچ کر پیچھے ہٹنے لگی کہ صالح نے اسکی کمر تھامتے اسے اپنے سینے پر گرایا۔۔

“کیا سب کیا میں نے جس کی وجہ سے آپ کو سانس نہیں آرہی تھی؟؟؟۔۔۔”

وہ بھاری لہجے میں کہتا ہلکا سا مسکرایا۔۔

مشائم نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے نظریں جھکائیں۔۔

اف اف!!! نظریں جھکانے پر اسکا كسرتی پھولا ہوا سینہ اسے دکھائی دیا جبکہ نظریں اٹھانے پر اس کی لو دیتی نظروں کا سامنا کرنا اس کے لیے محال تھا۔۔

وہ نظریں جھکائے دھیمی آواز میں کہنے لگی۔۔۔

“آپ نے۔۔ ٹچ کیا ۔۔ اور۔۔۔ کس ۔۔ بھی ۔۔۔ اور بائٹ بھی!!!۔۔۔” وہ اٹک اٹک کر اسے اسکی سب خطائیں بتانے لگی۔۔

صالح اس کی معصومیت پر دلکشی سے ہنس پڑا۔۔ وہ سر اٹھا کر یک ٹک سی اسے ہنستا دیکھے گئی۔۔

“خود آپ مجھے اس مقام تک لاتی ہیں جہاں مجھے آپ کو “ٹچ اور کس” کرنا پڑتا ہے۔۔ یہ دیکھیں اب کس طرح مجھ معصوم کو دیکھ رہی ہیں آپ پھر کیسے نہ میں بہکوں؟؟؟۔۔۔”

وہ معصومیت سے بولا تو مشائم عش عش کر اٹھی۔۔۔ اس نے صالح داڑھی پر ہاتھ رکھتے ہلکے سے اس کی داڑھی کے بال کھینچے۔

” سب جانتی ہوں میں کتنے معصوم ہیں آپ،،، سو جائیں اب دو بجنے والے ہیں!!!۔۔۔”

آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھتی وہ اس کے سینے سے اٹھنے لگی کہ صالح نے کہا۔۔

” آپ کی وجہ سے میری نیند اڑی ہے اب آپ ہی سلائیں گی مجھے!!!۔۔۔”

وہ اطمینان سے کہتا اسکے تاثرات دیکھنے لگا جو ہونقوں کی طرح اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔

“میں نے خراب کی؟؟؟۔۔۔”

اس کے پوچھنے پر صالح نے آرام سے اثبات میں سر ہلایا۔۔ مشائم نے گہری سانس خارج کی اور تکیے سے ٹیک لگا کر بازو پھیلا لیے۔۔

صالح نے ابرو اچکا کر اسے دیکھا۔۔۔

“آ جائیں اب سلاؤں آپ کو!!!۔۔۔”

اس کے بازو پهیلانے پر صالح ذرا سا اٹھ کر اس کے قریب ہوا تو مشائم نے اس کا سر سینے سے لگا لیا اور اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی۔۔۔

صالح نے سرور سے آنکھیں موندتے اس کے سینے میں چہرہ چھپایا اور اس کے گرد بازو حائل کر دیے۔۔

مشائم نے حیا آمیمز مسکراہٹ سے اسے دیکھا اور جھک کر اس کا سر چومتی خود بھی آنکھیں موند گئی۔۔۔