Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 25

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan

وه یونیورسٹی کے کیفے ٹیریا میں کرسی گهسیٹ کر اس پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھا تھا۔۔ بلیک پینٹ گرین ہاف سلیو ٹی شرٹ میں وه بے حد ڈیشنگ لگ رہا تھا۔۔ تنگ شرٹ اسکے سینے سے چپکی اسکے کسرتی سینے کو نماياں کررہی تھی۔۔ وه ببل گم چباتا موبائل پر ٹائپنگ کررہا تھا۔۔ سرمئی آنکھیں کبھی کبھار ارد گرد کا جائزہ لے رہی تھیں۔۔ گردن تک آتے سٹائلش بالوں کی ایک موٹی سی لٹ ماتھے پر گررہی تھی۔۔

بھری بھری داڑھی اور اطراف سے مڑتی مونچھیں اسکے دبدبے میں اضافہ کررہی تھیں۔۔ وه اپنی یونیورسٹی میں “ہاٹ بوائے” کے نام سے مشہور ہو چکا تھا۔۔ وه وہاں بیٹھا کافی کا کپ پکڑے صالح سے بات کررہا تھا جو دو تین دن کی چھٹیوں پر تھا۔۔

ایک ماڈرن سی لڑکی اس کے ساتھ آ کر بیٹھ گئی۔۔ “ہائے!!!” وه مسکرا کر اس سے مخاطب ہوئی تو ماہ بیر نے مغرور نظریں اٹھا کر اسکی جانب دیکھا۔۔ “جی؟؟؟۔۔۔” وه موبائل پاكٹ میں ڈال کر اس کی جانب متوجہ ہوا۔۔ “آپ کے دوست نہیں آئے آج؟؟۔۔۔” وه ارد گرد نگاہ دوڑا کر شیریں لہجے میں بولی۔۔

ماہ بیر نے او شیپ میں ہونٹ گھمائے۔۔ “نہیں وه چھٹی پر ہے” وه لاپرواہی سے بولا۔۔ “آپ پلیز میری مدد کریں گے؟؟۔۔۔ میری دوستی کروا دیں ان سے پلیز!!!۔۔۔” اسکی بات پر ماہ بیر نے مسکراہٹ دبائی۔۔ “اوکے کروا دوں گا۔۔۔” وه لڑکی خوش ہوتے ہوئے کہنے لگی۔۔ “آ۔۔۔تھینک یو سو مچ یو آر ریلی سویٹ۔۔۔!!!” میں چلتی ہوں وه ہینڈ بیگ پکڑ کر کھڑی ہوئی۔۔ “جب وه آ جائیں تو مجھے انفارم کر دیے گا پلیز۔۔۔” وه اپنے بال جھٹکتی ایک ادا سے چلتی ہوئی کیفے ٹیریا سے نکل گئی۔۔

کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ وہاں بھگدر مچ گئی۔۔ ماہ بیر چونک کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔ تمام سٹوڈنٹس ہڑبڑی میں باہر نکل رہے تھے۔۔ وه بھی جلدی سے باہر آیا۔۔ کیا ہوا یہ افراتفری کیوں ہو رہی ہے؟؟ وه ایک لڑکے کو بازو سے پکڑ کر روکتا ماتھے پر بل ڈالے بولا۔۔ وه لڑکا بہت گھبرایا ہوا تھا جلدی سے کہنے لگا۔۔

“راکی گروپ نے فساد برپا کر دیا ہے یونیورسٹی میں وه اپنے ناجائز مطالبات منوانا چاہتے تھے لیکن انتظامیہ کے انکار کے بعد انہوں نے آج فساد برپا کر دیا ہے۔۔۔ہر طرف لوٹ مار کررہے ہیں۔۔۔ تم بھی جان بچا کر نکلو!!!” وه جلدی جلدی بولتا باہر کی طرف بھاگا تھا۔۔ ماہ بیر جلدی سے اندر گیا کہ سیڑھیوں کی طرف سے نسوانی چیخ سن کر وه جلدی سے اس طرف بھاگا۔۔

راستے میں ایک لڑکے سے وه بری طرح ٹکراتا گرتے گرتے بچا۔۔ سیڑھیوں پر ایک لڑکی ٹانگ پکڑے بری طرح رو رہی تھی۔۔ اسکا پیر زخمی تھا۔۔ وه بار بار خوفزدہ سی پیچھے دیکھ رہی تھی۔۔ وه جلدی سے اسکے پاس آیا۔۔

“چلیں یہاں سے آپ کا یہاں رہنا سیف نہیں ہے!!!۔۔” اس نے ہاتھ بڑھایا تو وه اس کا ہاتھ تھام کر لڑکھڑاتی ہوئی اسکی معیت میں آگے بڑھنے لگی۔۔ “وه اوپر بھی کوئی ہے میں نے آواز سنی تھی آپ اسکی مدد کریں مم۔۔۔میں یہاں سے چلی جاؤں گی!!!۔۔۔”

آر یو شیور۔۔؟؟؟ ماہ بیر تیز قدموں کی آوازیں سنتا اسے لیے سائیڈ پر ہوتا دهیمی آواز میں بولا۔۔ “جی آپ جائیں۔۔۔” وه خوفزدہ نظروں سے چاروں اوڑھ دیکھتی باہر کو جانے والے راستے کی طرف بڑھ گئی۔۔ ماہ بیر دوڑتا ہوا سیڑھیوں تک آیا اور تیزی سے سیڑھیاں پهلانگنے لگا۔۔ نیچے تقریباً ساری یونیورسٹی خالی ہو چکی تھی۔۔

وه جیسے ہی اوپر آیا کسی لڑکی کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔۔ “چھوڑو مجھے جاہل انسان!!!۔۔” وه چیخی تھی۔۔ کھینچا تانی میں اسکی چادر ڈھلک کر نیچے گر گئی تھی۔۔ ماہ بیر نے زور سے آنکھیں میچی تھیں۔۔ وه دانت پیس کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا ان کے پاس آیا جہاں ایک ہٹا کٹا لڑکا کٹے پھٹے حلیے میں ارشما کو زبردستی گهسیٹ کر لے جا رہا تھا۔۔

ماہ بیر نے اسے گدی سے پکڑ کر کھینچا اور اسکے گریبان میں ہاتھ ڈالتا لگاتار کئی گھونسے مار مار کر اسے ادھ موا کر گیا۔۔ “چلیں یہاں سے!!!۔۔۔” کئی قدموں کی چاپ سن کر وه حواس باختہ کھڑی ارشما کا ہاتھ تھامتا وہاں سے بھاگا۔۔ “اوہ شٹ!!!۔۔۔” اگلے راستے پر دو لڑکوں کی پشت دیکھ کر وه ان کی نظر میں آنے سے پہلے اسے لیے کلاس روم میں گھس گیا۔۔

اسکے کھینچنے پر ارشما کٹی پتنگ کی طرح اسکے سینے سے آ لگی۔۔ ماہ بیر نے اسے اپنے پیچھے چھپاتے آہستہ سے دروازه بند کیا۔۔ باہر قدموں کی چاپ سن کر ارشما دم سادھے ماہ بیر کو دیکھنے لگی۔۔ اچانک زوردار آواز سے دروازه کھلا۔۔ یہ دیکھ ادھر چھپے بیٹھے ہیں!!! دو لڑکے لوہے کا راڈ پکڑے انکی طرف بڑھے۔۔

ماہ بیر نے ارشما کو اپنے پیچھے کرتے لہو رنگ آنکھوں سے انہیں دیکھا۔۔ “دور رہو ورنہ پچھتاؤ گے!!!۔۔۔” اس نے مٹھیاں بھینچ کر انہیں وارن کیا لیکن انہیں جوش چڑھا ہوا تھا۔۔ ان میں سے ایک لڑکا آگے آیا اور راڈ پوری قوت سے ماہ بیر کی اوڑھ پهینكا۔۔ وه بروقت جھکا تھا۔۔ راڈ اسکے پیچھے گلاس وال سے ٹکرایا تھا۔۔ چھناکے کی آواز سے شیشے کی دیوار ٹوٹی تھی۔۔

ارشما بےساختہ چیخ پڑی۔۔ کانچ کے دو ٹکڑے اڑتے ماہ بیر کے کندهے میں پیوست ہوئے تھے۔۔ گرین شرٹ کا رنگ سرعت سے بدلا تھا۔۔ ماہ بیر لہو رنگ آنکھیں میج کر کھولتا خطرناک تیوروں سے ان کی جانب بڑھا تو وه وہاں سے بھاگ گئے۔۔

ارشما پھرتی سے اسکے قریب آئی۔۔ وه رو رہی تھی۔۔ “آپ کا خون نکل رہا ہے!!!۔۔۔” وه اسکی سرخ ہوتی شرٹ کو پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھتی کانپتے لہجے میں بولی۔۔ ماہ بیر نے اپنی تکلیف نظر انداز کرتے تفكر سے دروازے کی جانب دیکھا۔۔ وه بس ارشما کو جلد از جلد یہاں سے باحفاظت نکالنا چاہتا تھا۔۔ وه لڑکے ضرور جا کر باقیوں کو بھی آگاہ کر دیں گے۔۔

“آپ چلیں میرے ساتھ ہمیں نكلنا ہے جلدی یہاں سے پوری یونیورسٹی خالی ہو چکی ہے آئی تھینک۔۔ اس سے پہلے باقی لوگ ہم تک پہنچیں ہمیں نکل جانا چاہیے!!!۔۔۔۔” وه اپنی مسلسل سرخ ہوتی شرٹ کو دیکھتا لب بھینچ گیا۔۔ خون نکلنے سے اسے نقاہت محسوس ہونے لگی تھی۔۔

اسے دیکھ دیکھ کر ارشما کی حالت غیر ہورہی تھی۔۔ ماہ بیر نے اسکا ہاتھ تھاما اور پھونک پھونک کر قدم رکھتا راہداری میں آگے بڑھنے لگا۔۔ جب اسے لگا کہ اوپر کوئی نہیں ہے تو اس نے سیڑھیوں سے نیچے جهانکا۔۔ راستہ صاف تھا۔۔ وہ دونوں جلدی سے سیڑھیاں اتر کر گراؤنڈ فلور پر آ گئے۔۔ ان کے قدموں کی چاپ سن کر کوئی اس طرف آ رہا تھا۔۔

ارشما نے اسکے بازو پر گرفت مظبوط کی تھی۔۔ ماہ بیر نے دائیں بائیں دیکھا۔۔ دائیں جانب لائبریری تھی جبکہ بائیں جانب یونیورسٹی کی بیک سائیڈ کو جاتا راستہ تھا۔۔ وقت کم تھا۔۔ قدموں کی چاپ جیسے ہی نزدیک آئی وه سرعت سے اس کے ساتھ لائبریری میں گھس گیا۔۔ وہ دونوں بک ریكس کے پیچھے جا کر کھڑے ہوگئے۔۔

ارشما اس قدر گھبرائی ہوئی تھی کہ سانس بھی رک رک کر لے رہی تھی۔۔ اسکی بہادری کا خول پل میں ٹوٹا تھا۔۔ کوئی لائبریری کے دروازے پر آ کر رکا۔۔ اس نے ایک پل کو اندر دیکھا پھر اپنا وہم خیال کرتا واپس جانے لگا کہ وه رکا۔۔ وہیں ارشما کی سانس اٹکی جبکہ ماہ بیر ارد گرد کچھ تلاش کرنے لگا۔۔

وه لڑکا تھوڑا آگے آیا اور لائبریری کا دروازه بند کر کے چلا گیا۔۔ ارشما نے بےيقینی سے نفی میں سرہلاتے کچھ کہنا چاہا کہ ماہ بیر نے سرعت سے اس کے منہ پر اپنا بھاری ہاتھ رکھ کر اسکی آواز کا گلا گھونٹ دیا۔۔ اس سب میں دونوں بےحد قریب آ گئے۔۔ ارشما نے ڈبڈبائی آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔

اسکی چادر تو کب کی کہیں گر گئی تھی۔۔ شہد رنگ بالوں کے جوڑے سے نکلتی لٹیں چہرے کے اطراف میں جابجا بکھری ہوئی تھیں۔۔ پہلی بار ماہ بیر نے اسے یوں چادر کے بغیر دیکھا تھا۔۔ بادامی نم آنکھوں میں دیکھتے وه ایک پل کو ساکت ہوا۔۔۔ ایسا لگتا تھا جیسے اس نے پہلی بار اسے دیکھا ہو۔۔

“وه چلے گئے ہمیں بند کر کے اب کیا کریں گے؟؟؟۔۔۔” وه آنکھیں جهپک کر رک رک کر سرگوشی میں بولتی اسے کوئی چھوٹی سی بچی لگی۔۔ ماہ بیر نے سر جھٹکا۔۔۔اسکی آنکھوں کے سامنے کا منظر دھندلایا تھا۔۔ وه کندھے پر ہاتھ رکھے بےاختیار درد سے کراہا۔۔ اس سے پہلے کہ ارشما کچھ سمجھتی ماہ بیر لڑکھڑاتا ایک ہاتھ سے بک ریک کا سہارا لیتا نیچے بیٹھ گیا۔۔

ارشما کا دیهان بھی اسکے زخم کی طرف ہوا۔۔ “نن۔۔نہیں آپ آنکھیں نہ بند کرنا۔۔ ماہ بیر۔۔۔۔!!!” وه گھٹنوں کے بل اسکے سامنے بیٹھتی اسکا چہرہ تهپتهپانے لگی۔۔ اس کے لبوں سے اپنے نام کی پکار پر ماہ بیر نے ہلکی سی آنکھیں کھولیں۔۔ “میں ٹھیک ہوں!!!۔۔۔۔” اس کے لبوں نے محض حرکت کی۔۔ آواز نہ آنے کے باوجود ارشما اسکے لبوں کی حرکت سے اسکی بات سمجھ گئی۔۔

اس نے منہ پر ہاتھ پھیر کر اس کی شرٹ کو دیکھا جو خون سے سرخ ہوئی تھی۔۔ “ماہ بیر!!!۔۔۔؟؟؟ میں۔۔۔ آپ کی۔۔ شرٹ۔۔ نک۔کال۔۔ رہی ہوں۔۔۔ وه شرم محسوس کرتی اسے دیکھے بغیر اٹک اٹک کر بولی۔۔

جواب نہ پا کر اس نے کانپتے ہاتھوں سے اسکی شرٹ کے بٹن کھولنے شروع کیے۔۔ بٹن کھلتے ہی اسکا کسرتی سینہ سامنے آیا۔۔ ارشما نے سرعت سے نگاہیں ہٹائی تھیں۔۔ ماہ بیر نیم وا آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ ارشما نے ہمت مجتمع کی اور درمیانی فاصلہ کم کر کے آگے ہو کر شرٹ اسکے کندھوں سے نیچے اتار دی۔۔

اسکے مظبوط کاندھوں سے انگلیاں مس ہونے پر ارشما کے کے ہاتھ کانپے تھے۔۔ اس نے آنکھیں بند کیں اور ایک جھٹکے میں شرٹ اس کے تن سے جدا کردی۔۔

اب اسکے سامنے ماہ بیر کا زخمی كندها تھا جہاں کانچ کے دو ٹکڑے گھسے ہوئے تھے۔۔ ارشما نے نظروں کو اس کے کندھے پر ٹکاتے باقی عیاں ہوتے کسرتی جسم کو نظر انداز کیا تھا۔۔ اس نے ایک نظر ماہ بیر کے سرخ ہوتے چہرے پر ڈالی جو کب سے تکلیف ضبط کرنے کے چکر میں سرخ پڑ گیا تھا۔۔ اسکا جسم بھی بخار کے باعث گرم ہونے لگا تھا۔۔

ارشما نے گھٹنا زمین پر ٹکا کر اس پر جھکتے ایک ہاتھ اسکے برهنہ کندھے پر رکھا اور تھوک نگل کر دوسرے ہاتھ سے کانچ کے ٹکڑے کھینچ کر باہر نکالے۔۔ رکا خون پھر سے بہہ نکلا تھا۔۔ خون کی ایک پتلی دھار ماہ بیر کے كندھے سے ہوتی سینے سے نیچے جانے لگی۔۔

یوں اچانک کانچ نکلنے سے ماہ بیر نے سختی سے آنکھیں میچتے ارشما کا ہاتھ تھاما تھا جو اسکے جسم سے بہتا خون دیکھ کر رو دینے کو ہوئی۔۔ اس نے جلدی سے ماہ بیر کی شرٹ اٹھائی اور اس کے زخم پر رکھ کر دبايا۔۔

“آہ!!!۔۔۔” ماہ بیر كراه کر بےاختیار ہوتا اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ گیا۔۔ اسکی آنکھیں اس وقت لال انگاڑا ہو رہی تھیں۔۔ اسکے مظبوط بازو کا وزن ارشما کا نازک وجود سہہ نہیں پایا۔۔ اسکا پیر مڑا اور وه توازن کھو کر اسکے سینے پر آ گری۔۔

اسکے نرم گرم لب ماہ بیر کے سینے سے ٹکرائے تو دونوں کو کرنٹ سا لگا۔۔ اسکی گرم سانسیں ماہ بیر کے سینے سے ٹکرائیں تو وه سانس روک گیا۔۔ بنا دوپٹے کے اسکے سینے پر گری وه نادان لڑکی اس کے حواسوں پر چھانے لگی تھی۔۔

ارشما کو بھی معنی خیز لمحات کا اندازه ہوا تھا۔۔ وه جلدی سے پیچھے ہٹی اور اس سے کچھ فاصلے پر ہوتی اسکے مقابل بک ریک کے ساتھ ٹیک لگا کر گھٹنے سینے سے لگا کر ٹانگوں کے گرد بازو حائل کر گئی۔۔۔

ماہ بیر نے اسکے گم صم چہرے کو دیکھا۔۔ “کچھ نہیں ہوگا ہم نکل جائیں گے یہاں سے!!!۔۔۔” وه اسے تسلی دیتے ہوئے دھیمی آواز میں بولا۔۔ ارشما نے آنکھوں سے آنسو پونچھتے نفی میں سر ہلایا۔۔

“یہاں تو کوئی کھڑکی بھی نہیں ہے ہم صبح ہونے سے پہلے یہاں سے نہیں نکل سکتے۔۔” وه لائبریری میں مسلسل بڑھتے اندھیرے کو دیکھ کر مایوس ہوتی ہوئی کہنے لگی۔۔ “اور تب تک میں بدنام ہوجاؤں گی میری بی جان کتنا پریشان ہوں گی۔۔ میرا موبائل بھی گر گیا کہیں۔۔۔۔ اللّه میں کیا کروں؟؟؟۔۔۔” وه گھٹنوں پر سر رکھتے سسکنے لگی تھی۔۔

ماہ بیر کو موبائل کا خیال آیا۔۔ اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو موبائل پا کر اس نے شکر کا سانس لیا۔۔ لیکن جیسے ہی اس نے موبائل آن کرنا چاہا وه بند ملا۔۔ “شٹ!!!۔۔۔” اس نے غصے سے موبائل زمین پر پٹخا۔۔ ارشما نے سر اٹھا کر بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔

“کیوں ہوا یہ میرے ساتھ؟؟۔۔۔” ڈبڈبائی آنکھوں سے اسے دیکھتی وه منہ پر ہاتھ رکھتی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔ ماہ بیر نے بے چینی سے اسے دیکھا۔۔

” آپ روئیں مت پلیز میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں آپ کو کوئی کچھ نہیں کہے گا آپ کی ذات پر ایک حرف تک نہیں آئے گا۔۔ مجھ پر یقین ؟؟؟۔۔۔” وه اسکی آنکھوں میں دیکھتا مظبوط لہجے میں بولا۔۔

ارشما نے میكانکی کیفیت میں سر ہلایا جسے دیکھ کر ماہ بیر کے چہرے پر ہلکی مسکراہٹ آئی۔۔ وه بلا اراده اسکی مسکراہٹ کو دیکھے گئی۔۔۔ اس نے پہلی بار ماہ بیر کو مسکراتے دیکھا تھا۔۔ بلاشبہ اسکی مسکراہٹ دل موہ لینے والی تھی۔۔

اینارا کیا ہوا۔۔۔؟؟؟ شائستہ نے اسے گھٹنوں میں سر دے کر بیٹھے دیکھا تو فکر مندی سے پوچھ بیٹھیں۔۔ اس نے سر اٹھایا ۔۔ متورم آنکھیں جو مسلسل رونے سے بری طرح سوجھی ہوئی تھیں۔۔

“اماں!!!۔۔۔” وه پھر سے سسکنے لگی تھی۔۔ “کیا ہوا میری دھی بتا مجھے۔۔” وه اینارا کو كندھوں سے تھام کر پیار سے پوچھنے لگیں۔۔ “اماں ۔۔۔۔ تیری بیٹی اپنے باپ اور بہن کے قاتل سے محبت کر بیٹھی ہے!!!۔۔۔” وہ منہ پر ہاتھ رکھتی بلک بلک کر رونے لگی۔۔

کیسا روگ تھا جو اس نازک جان کو لگ چکا تھا۔۔ وہ خود پر فاتح پڑھ چکی تھی۔۔ کیونکہ یہ عشق محبّت ۔۔۔۔ آہاں۔۔۔۔ “لا حاصل محبت” انسان کو جیتے جی مار دیتی ہے۔۔ شائستہ کے ہاتھ اسکے كندھوں سے بےجان ہوتے گرے تھے۔۔

ان کے لب جامد تھے۔۔ وه خاموشی سے وہاں سے چلی گئیں تو اینارا بھی پلنگ پر اوندھی گر گئی۔۔ اس نے آنکھیں بند کیں تو آنسو ٹوٹ کر نیچے گرے۔۔ وه تصور میں اورهان سے مخاطب ہوئی۔۔

“تم سے اتنی شدید نفرت تھی کہ تمہیں اپنے سامنے تک نہ دیکھنا چاہوں اور محبت ایسی ہے کہ تمہیں نہ سوچوں تو مر جاؤں۔۔۔ تم نے مجھے مسلسل عذاب میں مبتلا کر دیا ہے!!!۔۔۔”

کافی دیر وہیں پڑے رہنے کے بعد جب وه تھک گئی تو اٹھ بیٹھی۔۔ اچانک اس کی نگاہ سامنے رکھے ازنا کے صندوق سے ٹکرائی۔۔ اسکی آنکھ میں نمی چمکی۔۔ کیا کیا نہ یاد آیا تھا۔۔ وہ اٹھی اور صندوق کھول کر اسکی چیزیں دیکھنے لگی۔۔ اسکی پسندیده قمیض کو ہاتھ میں پکڑتے اس نے چوما تھا۔۔ عبدلمنان سے کتنی ضد کر کے اس نے یہ سوٹ بنوايا تھا۔۔ قمیض واپس رکھتے اسکی نگاہ ایک ڈائری پر پڑی۔۔

اس نے اچنبھے سے ڈائری نكالی اور واپس بیڈ پر بیٹھ کر ڈائری کھول کر پڑھنے لگی۔۔ جوں جوں وه پڑھتی گئی اسکی آنکھیں حیرت سے پھیلنے لگیں۔۔ اس نے بےیقینی سے دوبارہ وه الفاظ پڑھے۔۔ تم نے دھوکا دیا ہمیں۔۔۔؟؟ تم اس سب میں اپنی مرضی سے شامل تھی۔۔؟ اماں۔۔۔اماں؟؟؟ جلدی آئیں یہاں۔۔۔۔ وه زور سے چیخی تھی۔۔

شائستہ گھبرا کر اندر آئیں۔۔ “یہ دیکھیں کیا گل کھلائے تھے آپ کی بیٹی نے میرے ابا کو بھی مار دیا کاش وه میری بہن نہ ہوتی!!!” وه بھیگی آنکھوں سے انہیں دیکھتی نفرت سے بولی۔۔۔

شائستہ ہقا بقا سی اس دیکھنے لگیں۔۔ کیا اول فول بک رہی ہے؟؟ یہ دیکھیں یہ ڈائری اس میں سب لکھا ہے اس نے پہلی بار کب اورهان سے ملی اور کیا کیا گل کھلاتی رہی،، اپنی مرضی سے گئی تھی وه اسکے پاس ہمارے منہ پر کالک ملنے۔۔ اماں اورهان نے نہیں ازنا نے مارا ہے میرے ابا کو۔۔۔ ابا ۔۔۔!!! وه انکی شفقت بھری باتیں یاد کر کے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔

شائستہ بت بنی کھڑی تھیں۔۔۔انہیں جیسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ انکی ازنا نے یہ سب کیا تھا۔۔ دفعتاً ان کی آنکھیں نم ہوئیں۔۔۔ “کاش اسے پیدا ہوتے ہی مار دیتی میں۔۔ تو پیدا ہوتے ہی مر جاتی ازنا!!!۔۔۔۔” وہ ماتھا پیٹنے لگیں۔۔