Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 3

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan

اماں ایک بات پوچھوں؟؟

اینارا ٹھوڑی تلے ہاتھ ٹکا کر معصومیت سے بولی۔۔

ہاں پوچھ !!

شائستہ نے آٹا گوندتے ہوئے اسے سر اٹھا کر دیکھا۔۔

اماں غریب ہمیشہ غریب کیوں رہتا ہے؟؟

اسکی سوچ کی گہرائی پر شائستہ نے پرسوچ نظروں سے اسے دیکھا۔۔ وه ازنا کے مقابلے میں زیادہ سمجهدار ہوتی جارہی تھی۔۔

“ضروری نہیں پتر کہ غریب ہمیشہ غریب ہی رہے۔۔ قسمت نامی چڑیا کس کے سر بیٹھ کر چمک اٹھے کون جانے۔۔”

ان کے گہرے لہجے پر وه گم صم سی انہیں دیکھنے لگی۔۔

” اماں جو پڑھ لکھ جاتے ہیں وه بڑے افسر بھی تو بن جاتے ہیں نہ ، کیا ٹھاٹھ باٹھ، نوکر چاکر ، امیری۔۔”

اسکی بے وقوفی پر وه ہنس دیں۔۔ پرات سے گوندها ہوا آٹا نکال کر ایک سٹیل کے برتن میں ڈال کر وه نلکے کے سامنے آ بیٹھیں۔۔

“نہ میرا پتر یہ سب پڑھائیوں سے نہیں نصیب سے ملتا ہے۔۔ اور تجھے ایک دانش مندی کی بات بتاؤں ؟ یہ کاغذی دولت شہرت كچھ بھی نہیں ہے اصل دولت تو انسان کا اخلاق ہے اس کا وه علم ہے جو اسے صحیح راستے سے نہ بھٹکائے۔۔ لیکن آج کے مادہ پرست دور میں ایسی باتیں کہنے والوں کو لوگ بے وقوف سمجھتے ہیں۔۔ لیکن میں تجھے بتاؤں ایسے عقلمندوں سے بےوقوف ہونا بہتر ہے۔۔”

ان کے لہجے میں تجربہ بول رہا تھا۔۔

اینارا یک ٹک ان کا چہرہ دیکھے گئی۔۔

تو اتنا نہ سوچا کر میری جھلی دھی۔۔ جا بہن کا ہاتھ بٹا کچن میں۔۔

آگے آتی لمبی چوٹی کو پشت پر ڈالتے وه چارپائی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ کچن میں آ کر اس نے دوپٹہ اتار کر دروازے پر لٹکا دیا۔۔

“اف کتنی گرمی ہے یہاں”

وه کھانا بناتی ازنا کو دیکھ کر بولی تو وه ہنس دی۔۔

” بس ابھی سے بس ہوگئی تمہاری۔۔ سسرال جا کر کیا بنے گا تمہارا، وہاں تو اکیلے سب کام۔۔۔”

بس بس !! یہیں رک جاؤ تم اپنے سسرال کا سوچا کرو بس “میں نے تو شادی ہی نہیں کرنی”

وه نلکا کھول کر برتنوں کے ڈھیر کے سامنے کھڑی ہوتی مزے سے بولی۔۔

شُب شُب بولو کوئی وقت قبولیت کا بھی ہوتا ہے۔۔

ازنا نے اسے ڈپٹ دیا۔۔

کچھ نہیں ہوتا جلدی کھانا بناؤ پھر نہر پر چلیں گے باہر موسم بڑا کمال کا ہورہا ہے۔۔

وه تیز تیز ہاتھ چلاتے ہوئے بولی تو ازنا بھی رضامندی ظاہر کرتی جلدی سے کھانا بنانے لگی۔۔

قسمت انہیں آپس میں مگن پا کر چپکے سے مسکرائی تھی۔۔ کون جانے کہ یہ قبولیت کا وقت ہو۔۔ کون جانے ؟

اللّه۔۔۔ کیا غضب کا موسم ہے!!

اینارا سیاہ بادلوں سے ڈھکے آسمان کو دیکھ کر ہاتھ پھیلاتی گول گول گھومنے لگی۔۔

ارے پاگل !!

اسے بچوں کی طرح خوش ہوتے دیکھ کر ازنا نے اس کے سر پر چپت لگائی۔۔

تیز ہوا ان کے لباس کو بار بار اڑا رہی تھی۔۔ دونوں سیاہ شلوار قمیض میں ملبوس تھیں۔۔ نہر کے گرد کسی کو نا پا کر انہوں نے دوپٹہ اتار کر گلے میں ڈال لیا تھا۔۔

دونوں نے لمبے سیاہ گھنے بالوں کی چٹیا کر رکھی تھی جو کمر سے نیچے تک آتی تھی۔۔

ازنا اس کے مقابلے میں زیادہ خوبصورت تھی لیکن اینارا کی معصومیت اور گڑیا جیسے نقش اسے سب میں منفرد بناتے تھے۔۔

“میرا تو نہر میں جانے کا دل کررہا ہے کتنا ٹھنڈہ پانی ہے۔۔”

اینارا بھاگ کر نہر کے قریب گئی اور ہاتھ میں پانی لے کر منہ پر چھینٹے مارنے لگی۔۔

ہوا کا زور تیز ہوا تو وه اٹھ کھڑی ہوئی۔۔

تم بھی آجاؤ یہاں!!

وہ تیز آندھی کے باعث مندی آنکھوں سے ازنا کو دیکھتی ہاتھ سے اشارہ کر رہی تھی۔۔

نہ بابا تم ہی جاؤ مجھے تو ڈر لگتا ہے بہت ۔۔

ازنا ہاتھ اٹھاتی صاف انکار کر گئی۔۔۔

کیا یار تم تو بور کررہی ہو مجھے،، میں آصفہ کو بلا کر لاتی ہوں ہم جب بھی یہاں آتے ہیں اتنا لطف اٹھاتے ہیں تم تو صدا کی بورنگ لڑکی ہو۔۔

منہ بنا کر وه سر پر دوپٹہ ڈالتی تیز قدم اٹھاتی قریب ہی اپنی سهیلی کو بلانے چلی گئی۔۔

“ارے پاگل مجھے یہاں اکیلی چھوڑ کر جارہی ہو،،، اینارا بات سنو۔۔”

وه ٹیڑھے میڑھے راستے سے نیچے آتی اسے پکارتی ہی رہ گئی۔۔

“بلکل پاگل ہے یہ لڑکی گھر جا کر اماں کو بتاؤں گی۔۔” خود سے بڑبڑاتی وه قریب پڑے پتھر پر بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگی ۔۔

“شٹ!! اس گاڑی کو بھی ابھی خراب ہونا تھا۔۔”

اس نے بیزاری سے ادھر ادھر دیکھا۔۔

گاڑی کا بونٹ کھول کر وه جھکتا تاروں کو دیکھنے لگا کہ شاید کچھ سمجھ آ جائے۔۔

جب کچھ بھی پلے نہ پڑا تو اس نے گاڑی کو زوردار ٹھوکر ماری۔۔

وه ابھی ابھی اسلام آباد سے خضدار پہنچا تھا۔۔ اس کا رخ سفید حویلی کی جانب تھا۔۔ جانے کیوں سلطان ماہ بیر شاہ سے رو برو ملاقات کا دل کررہا تھا۔۔ لیکن گاڑی نے دغا کر دیا۔۔

وه نظریں گھماتا کسی کو مدد کے لئے ڈھونڈ رہا تھا کہ اسکی نیلی نگاہیں ایک لڑکی پر جم گئیں جو پتھر پر بیٹھی محویت سے نہر کے پانی کو دیکھ رہی تھی۔۔ جس کی لہریں کبھی بلند ہوتیں تو کبھی پانی میں جا ملتیں۔۔

زوردار آواز سے بادل گرجا تو موسم کے تیور دیکھتے وه اس انجان لڑکی کی جانب دوڑ کر آیا۔۔

سیاہ بادلوں نے دن میں اندھیرا کر دیا تھا۔۔ آرینا کا انتظار کرتے وه بس واپس جانے ہی لگی تھی کہ اپنے سامنے ایک خوش شکل لمبے چوڑے مرد کو دیکھ کر وه جھجھک کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔

یکا یک پانی کی بوندیں گریں اور موسلا دھار بارش شروع ہوگئی۔۔ چند ہی سیكند میں وه دونوں مکمل بھیگ گئے۔۔

ازنا نے جلدی سے دوپٹہ پھیلا کر لیا۔۔ وہ سیاہ جینز شرٹ میں اس اجنبی کو نظر انداز کرتی جانے لگی تھی کہ اس نے ازنا کا ہاتھ تھام لیا۔۔

وه جھٹکے سے ہاتھ چھڑواتی اسے غصے سے دیکھنے لگی۔۔

“آئی ایم سوری ! میرا نام اورهان ہے میری گاڑی خراب ہوگئی تھی اس لئے مدد کے لیے آپ کے پاس چلا آیا۔۔ لیکن یہاں آپ کو دیکھ کر سمجھ میں آیا کہ میری گاڑی کیوں خراب ہوئی۔۔ شاید بہت سی چیزیں صحیح کرنے کے لئے۔۔”

وه سر تا پیر اس کا جائزہ لے چکا تھا۔۔۔ ڈھکا چھپا اتنا مکمل حسن اس نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔

اہم ویسے ایک بات کہوں اگر آپ برا نہ مانیں؟

وه مسکرا کر بولا تو ازنا کی نگاہیں اس کے گال میں پڑتے ڈمپل سے الجھ گئیں۔۔

جی کہیں!!

نا جانے کیوں وه وہاں رک گئی۔۔ یہ خیال کیے بغیر کہ وه مکمل بهیگ چکی تھی۔۔

“آپ بہت خوبصورت ہیں!!”

وه بول کر لب دبا گیا۔۔

ازنا کے گال سرخ ہوگئے۔۔ دل معمول سے تیز دھڑکنے لگا۔۔

وه تیزی سے پلٹی اور وہاں سے جانے لگی کہ اورهان نے اس کا ہاتھ تھامتے اسے اپنا کارڈ تهما دیا۔۔

“یہ رکھ لیں ہوسکتا ہے آپ کو ضرورت پڑ جائے کبھی۔۔”

وه اسے گہری نظروں سے دیکھنے لگا۔۔

ازنا نے کانپتے ہاتھوں سے کارڈ مٹھی میں دبوچا اور کانپتی ٹانگوں سے وہاں سے چلی گئی۔۔

آج تک ایسا کبھی نہیں ہوا تھا اس کے ساتھ۔۔ صنفِ مخالف کے لمس نے اس کے جسم میں کرنٹ دوڑا دیا تھا۔۔

اس کے جانے کے بعد اورهان سیٹی پر رومانوی دھن بجاتا پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتا سر مستی کے عالم میں اپنی گاڑی میں آ بیٹھا۔۔

ڈیش بورڈ سے موبائل اٹھا کر اس نے کسی کو میسج بھیجا اور سیٹ کی پشت سے سر ٹکاتا آنکھیں موند گیا۔۔

لکڑی کے چھوٹے سے دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی اسکی نظر اینارا پر پڑی جو برآمدے میں بیٹھی مزے سے پکوڑے کھا رہی تھی۔۔

اسے نئے سرے سے غصہ آیا۔۔

تم مجھے وہاں اکیلی چھوڑ کر آگئی؟؟

وه اس کے سر پر کھڑی ہوتی نتھنے پھلا کر بولی۔۔

اینارا نے معذرت خواہانہ انداز میں اسے دیکھا۔۔ “وه آصفہ گھر نہیں تھی۔۔ میں واپس نہر پر جانے لگی تو بارش شروع ہوگئی تو میں گھر آ گئی مجھے لگا تھا تم بھی فوراً وہاں سے نکل گئی ہوگی لیکن تمہیں اتنی دیر کیسے ہوگئی؟؟”

وه پکوڑا منہ میں ڈال کر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔

ازنا کا سانس ایک پل کو سینے میں اٹکا لیکن پھر وه خود کو نارمل کرتی گیلا دوپٹہ اتار کر برآمدے میں لگی تار پر ڈالنے لگی۔۔

” ہاں بس بارش بہت تھی آرام سے آنا پڑا کچھ نظر بھی نہیں آ رہا تھا ٹھیک سے۔۔”

وه نظریں چرا گئی۔۔

اماں کہاں ہیں؟؟ وه ہاتھ میں پکڑے کارڈ کو مٹھی میں مزید دبوچ کر بولی جو بارش کے پانی کی وجہ سے مکمل گیلا ہو چکا تھا۔۔

وه پڑوس میں گئی ہیں۔۔ شکیلہ خالہ کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی آج کل۔۔ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ان کے، مجھے بڑا ترس آتا ہے ان پر۔۔

اسکی بات پر دیہان دیے بغیر وه اندر اپنے کمرے میں چلی آئی۔۔ کپڑے بدل کر اس نے اپنا صندوق کھولا اور اس کے سامنے کھڑی ہوتی کارڈ کھول کر دیکھنے لگی۔۔

کیا میں صحیح کررہی ہوں۔۔؟؟ ابا اماں اینارا اگر کسی کو پتہ چل گیا تو۔۔؟

وه لب کاٹتی ایک نظر کمرے سے باہر ڈالتی پرسوچ ہوئی۔۔

چھن سے وه نیلی آنکھیں اسکے سامنے آئیں۔۔ گال میں پڑتا گڑھا،،، اس نے مسکرا کر سر جھٹکا۔۔

کارڈ کو چوم کر اس نے صندوق میں کپڑوں کے نیچے چھپا کر رکھ دیا۔۔

آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر وه گیلے بال سنوارنے لگی۔۔

اس کے چہرے پر مدھم سی مسکراہٹ تھی۔۔ (آپ بہت خوبصورت ہیں) اپنی کلائی کو چھوتی وه زیر لب کوئی گیت گنگنانے لگی۔۔

سفید حویلی میں سنہری صبح بھیگ رہی تھی۔۔ بارش کے بعد ہر چیز نكهر گئی تھی۔۔ آسمان پر سورج بدلیوں سے اٹھکیلیاں کرتا پھر رہا تھا۔۔ کبھی وه اپنا مکھ دکھاتا تو کبھی بادلوں کی اوٹ میں شرما کر چھپ جاتا۔۔

ایسے میں جہاں سفید حویلی میں سب اپنے معمول کے کاموں میں مگن تھے وه اپنے کمرے کی بالکنی میں کافی کا مگ ہاتھ میں تھامے ریلنگ سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔۔

سیاہ ٹراؤزر بنيان میں گردن کو چھوتے بکھرے بالوں میں بھی وه بہت جاذب نظر لگ رہا تھا۔۔

وه پلٹا اور ریلنگ پر ہاتھ ٹکا کر سر اٹھاتا آسمان کو دیکھنے لگا۔۔

کافی کا کپ لبوں سے لگاتے وه سوچتی نظروں سے آسمان پر بکھرے رنگوں کو دیکھ ہی رہا تھا کہ نیچے لان میں اسکی نظر نگہت پر پڑی جو ہاتھ میں کچھ سامان پکڑے اسکی جانب ہی دیکھ رہی تھی۔۔

ماہ بیر کو اپنی طرف دیکھتا پا کر وه گڑبڑاتی وہاں سے چھو منتر ہوگئی۔۔

ماہ بیر نے سے جھٹکا۔۔ “یہ آج کل کی بچیاں بھی نہ ۔۔”

سیدھا ہوتا وه خراماں خراماں چلتا اپنے کمرے میں آیا۔۔ کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر اس نے الماری کھولی۔۔

نیوی بلیو شوار قمیض نکال کر اس نے فریش ہونے کی غرض سے واشروم کا رخ کیا۔۔

فریش ہو کر وه آئینے کے سامنے آتا ڈرائیر سے بال سکھانے لگا۔۔

نیوی بلیو شلوار قمیض میں اسکا کسرتی جسم واضح ہورہا تھا۔۔ یہ رنگ اس پر بہت جچتا تھا۔۔

كف لنکس بند کرتے اس نے کلائی میں گھڑی پہنی۔۔ بالوں کو ہاتھ کی مدد سے پیچھے کی جانب کرتے اس نے آئینے میں ایک آخری نظر اپنے سراپے پر ڈالی۔۔

سرمئی آنکھوں میں مسکراتا تاثر ابھرا۔۔

بھری بھری سیاہ داڑھی پر ہاتھ پھیر کر وه صوفے پر آن بیٹھا۔۔

پیروں کو اس نے سیاہ پشاوری جوتوں میں مقید کر لیا۔۔ جھکنے سے اس کے ماتھے پر سیاہ بالوں کی ایک لٹ آ گری تھی جسے نظر انداز کرتے وه دوبارہ كبرڈ کی جانب بڑھا۔۔

سیاہ شال نکال کر اس نے الماری کے دونوں پٹ بند کردیئے۔۔ مضبوط چوڑے کاندھوں پر شال پھیلا کر وه کمرے سے باہر نکل آیا۔۔

ڈائننگ ہال میں آ کر اس نے کرسی سنبهالتے سلام کیا۔۔

وہاں پہلے سے كرسیوں پر براجمان للہ عارفہ اور محمد عبدالله شاہ نے سر کے خم سے سلام کا جواب دیا۔۔

“مشی بی بی یہ ماہ بیر سائیں کتنے سوہنے ہیں”

نگہت کے شرما کر کہنے پر اس نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔

وه دونوں ڈائیننگ ہال کی جانب آ رہی تھیں جب نگہت کی بات پر اسے شدید حیرت ہوئی۔۔

یہ صبح صبح تمہیں کیا ہوگیا ہے نگہت ؟ کیسی بہکی بہکی باتیں کررہی ہو۔۔

نگہت پر جوش سی اسکی جانب مڑی۔۔

” بی بی وه صبح نہ میں نے ان کو بالکنی میں کھڑے دیکھا تھا۔۔ بہت سوہنے لگ رہے تھے بلکل شہری بابو کی طرح اور ان کے کیا ڈولے شولے ہیں۔۔ میرا تو “کرس” بن گئے ہیں وه۔۔”

اس کے یوں بےشرمی سے بولنے پر مشائم پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔

استغفرالله نگہت بہت بے ہودہ ہوگئی ہو تم ۔۔ اور یہ “كرس” نہیں “کرش” ہوتا ہے۔۔!!

وه سرخ چہرے سے بولی۔۔

گال تهپتهپا کر اس نے ایک نظر نگہت پر ڈالی۔۔

ویسے تمہارا کرش تو یوسف پر نہیں تھا۔۔ ؟؟

نگہت کی تیوری چڑھی۔۔ “توبہ کریں جی میرا دماغ خراب تھا جو اس اکڑو کو کرش بنایا ہر وقت جلا کٹا رہتا ہے۔۔ بڑی اکڑ ہے اس میں جو کسی لڑکی کی طرف دیکھنا بھی گواره نہیں کرتا وه۔۔”

وه منہ بنا کر بولی۔۔

کیوں نہیں دیکھتا وه ؟؟ مشائم دلچسپی سے بولی۔۔ جانے کیوں اس کو مزید جاننے کا دل کررہا تھا۔۔

ڈائننگ ہال کے قریب آ کر نگہت سرگوشی میں کہنے لگی۔۔

” جی وه کہتا ہے سب میری ماں بہنیں ہیں اور جو عورت اپنی نسوانیت کو بھول جائے اسے میں ماں بہن تو کیا کچھ سمجھتا ہی نہیں ہوں۔۔”

اندر داخل ہوتے ہی دونوں شرافت سے سلام کر گئیں۔۔

وعلیکم السلام!! ماہ بیر اور للہ عارفہ نے مسکرا کر جواب دیا جب کہ سید عبدالله شاہ نے سنجیدگی سے محض سر ہلا دیا۔۔

مشائم کرسی کھسکا کر بیٹھ گئی جب کہ نگہت اس کے پیچھے کھڑی ہوگئی۔۔

ماہ بیر کو مسکراتا دیکھ کر وه ٹکر ٹکر اسے دیکھنے لگی۔۔

ماہ بیر نے نظروں کی تپش محسوس کر کے سر اٹھا کر دیکھا تو اسے خود کو دیکھتا پا کر گھوری ڈالی۔۔

یہ لیں نہ مشی بی بی! گڑبڑا کر وه مشائم کے آگے ڈش اٹھا کر رکھ گئی۔۔

وه محض سر ہلا کر رہ گئی۔۔ اسکی سوچوں کا محور صالح یوسف تھا جس کی ذات سے وه متاثر ہونے لگی تھی۔۔ اس کا صالح یوسف کی ذات میں دلچسپی لینا کیا کیا طوفان اٹھانے والا تھا یہ تو آنے والے وقت نے طے کرنا تھا۔۔

کہاں تھی تم۔۔؟؟ کب سے تمہارا ویٹ کررہی ہوں۔۔ ارشما نے اسلام آباد کے اپر کلاس ہوٹل میں قدم رکھا ہی تھا کہ اسکی دوست فوراً آ کر اس سے لپٹ گئی۔۔

اس شاندار ہوٹل میں کالج کی طرف سے فئیر ویل پارٹی کا انتظام کیا گیا تھا۔۔ جس میں شرکت کے لئے وه یہاں آئی تھی۔۔

بلیک کرتے کے ساتھ بلو جینز اور بلیک ہائی ہیلز میں نفاست سے میک اپ کیے وه سب سے منفرد اور پیاری لگ رہی تھی۔۔

شہد رنگ بالوں کو سٹریٹ کر کے پشت پر کھلا چھوڑ دیا گیا تھا۔۔ دوپٹہ لینے کی زحمت اس نے نہیں کی تھی۔۔

اس نے اپنی دوست کو خود سے الگ کیا۔۔ بادامی بڑی بڑی آنکھوں میں ناگواری تھی۔۔

کیا ہوا ہے ارشما ایسے کیوں بی ہیو کررہی ہو؟؟ مقابل نے الجھ کر اسے دیکھا۔۔

میرے بھائی کے بارے میں غلط باتیں کر کے اور تم مجھ سے کس رویے کی امید کررہی ہو؟

خفگی سے کہہ کر وه انٹرنس سے اندر بڑھ گئی۔۔

یہاں کی تو دنیا ہی نرالی تھی۔۔ تیز میوزک کی آواز کانوں کے پردے پھاڑ رہی تھی۔۔ ڈسکو لائٹس میں ایک جانب بنے سٹیج پر کئی لڑکے لڑکیاں ڈانس کر رہے تھے۔۔

ایک جانب بار تھا جہاں ہر قسم کی شراب دستیاب تھی۔۔ پرفیومز کی ملی جلی مہک۔۔ بے اختیار اس کا دل خراب ہوا۔۔ اسے لگا اس نے یہاں آ کر غلطی کردی ہے۔۔

یار سنو تو!!

اس کی دوست اتنے ہجوم میں مشکل سے اسے تلاشتی اس تک پہنچی تھی۔۔

یار میں نے کب کچھ کہا تھا ؟؟

وه بے چارگی سے اسکا بازو پکڑ کر بولی تو ارشما نے جواباً ایسی نظروں سے اسے دیکھا کہ وه شرمندہ ہوگئی۔۔

“اچھا آئی ایم سوری یار آئینده ایسا کچھ نہیں کہوں گی جس سے تمہارا دل دکھے۔۔”

وه التجائیہ بولی تو ارشما نے اسے معاف کردیا۔۔

اوکے!!

اس کے نارمل انداز میں بات کرنے پر وه مطمئن ہوگئی۔۔ چلو وہاں چلتے ہیں وصی کو دیکھو کیسے تمہیں دیدے پھاڑ کر دیکھ رہا ہے لگتا ہے فلیٹ ہوگیا ہے تم پر ۔۔

وه ہستی ہوئی بولی۔۔

ارشما نے جیسے ناک سے مكهی اڑائی۔۔ وه خالی صوفوں کی جانب بڑھ گئیں۔۔

“مجھے سخت زہر لگتے ہیں ایسے مرد جن کا دل ہر لڑکی پر فلیٹ ہوجاتا ہے۔۔”

وه صوفے پر بیٹھتی ہوئی ناگواری سے بولی۔۔

“یار مرد تو نہ کہو بیچارے کو ابھی تو وه لڑکا ہے۔۔”

مقابل اسکی دوست کی ہسی نکل گئی۔۔

جو بھی ہے۔۔! ارشما ارد گرد نگاہ دوڑا کر بولی۔۔

چاروں جانب اس کے کلاس فیلوز موجود تھے۔۔ کوئی خوش گپیوں میں مصروف تھا تو کوئی شراب کے نشے میں گم ۔۔

اس نے بیزاری سے سر جھٹکا۔۔

ویسے کیسے مرد پسند ہیں تمہیں؟؟ اپنی دوست کے سوال پر وه چند لمحے اسے دیکھے گئی۔۔

“ایسا مرد جس کا دل بس ایک عورت کے آگے جھک جائے، جو ہر عورت کو دیکھنا گوارا نہ کرے بلکہ اس کی آنکھیں بس ایک کا عکس اپنے اندر بسائے رکھیں،،، اس کا جو اس کے دل میں بستی ہو۔۔۔ جو عورت کی عزت کرنا جانتا ہو ، جو باوقار ہو جسے دیکھ کر ہی اسکے ساتھ کی خواہش ہو ایسا مرد پسند ہے مجھے۔۔”

وه بے ساختہ بولتی گئی۔۔

مقابل کا منہ کھل گیا۔۔ اوه مائی گاڈ ارشما تم ایسی باتیں بھی کرتی ہو آئی کانٹ بیلیو ویسے ایسا مرد تمہیں ملے گا کہاں۔۔ ؟

اپنی حیرت چھپاتی وه اس سے پوچھ بیٹھی۔۔

“ہوگا اس روئے ارض میں کوئی ایسا بھی جس کا دل صرف “ارشما صمید” کے لئے دھڑکے گا۔۔”

ایک ادا سے کہتی وه اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ کہاں جا رہی ہو ۔۔ ؟؟

اسکی دوست کولڈ ڈرنک کا گلاس اٹھا کر بولی۔۔

فریش ایئر لینے جا رہی ہوں،، اس ماحول میں تو دم گھٹ رہا ہے میرا۔۔!!!

بیگ پکڑ کر پورے كانفیڈنس سے چلتی وه ہوٹل کی بیک سائیڈ آ گئی۔۔

شیشے کا دروازه کھول کر وه بالکنی میں نکل آئی۔۔

سامنے سمندر کا دلکش نظارہ دیکھ کر اسکی روح تک طمانیت چھا گئی۔۔ چاند کی روشنی میں سمندر گہرا نیلا نظر آ رہا تھا۔۔

اسکی نگاہیں سمندر میں بنتے گرداب پر جم گئیں۔۔ پانی گول گول گھومتا درمیان سے گہرا ہوتا جارہا تھا۔۔

ہوا اس کے بالوں سے اٹھکیلیاں کررہی تھی۔۔ وه سب سے بے نیاز کھڑی خاموش رات کا حصہ لگ رہی تھی۔۔

“ڈگری تو ایسی ہونی چاہیے جو آپ کو باوقار ،با حیا ،، با حجاب بنا دے نہ کہ ایسی جو آپ کے سر سے دوپٹہ تک اتروا دے”

ہوٹل کے سامنے چادر میں مقید ایک نچلے درجے کی عورت نے اسے اندر داخل ہوتے دیکھ کر اس کی ذات پر طنز کیا تھا ۔۔

وه اسکی بات سے زیادہ اس کے پر سلیق لہجے پر حیران ہوئی تھی۔۔

اب تنہائی ميسر ہوئی تو اس کا ذہن پھر اسی بات پر اٹک گیا۔۔

کیا میں بےحیا ہوں؟؟

اس نے اپنے لباس پر نظر ڈالی۔۔ آگاہی کے ایک لمحے نے اس کے اندر تک سناٹے بھر دیے۔۔

وه سمندر کی لہروں پر نظریں ٹکائے اپنے آپ سے الجھی کھڑی تھی کہ بالکنی کا دروازه کھلنے کی آواز آئی۔۔

اس نے ذرا کی ذرا گردن موڑی تو اس کا چہرہ ایسا ہوگیا جیسے اس نے کڑوا بادام کھا لیا ہو۔۔

اس کی کلاس کا سب سے فلرٹی بد کردار لڑکا طنزیہ مسکراتا ہوا اسی کی جانب آ رہا تھا۔۔

وہ ضبط کرتی ہوئی زمین سے پرس اٹھاتی وہاں سے جانے کے ارادے سے دروازے کی جانب بڑھی۔۔

کیا ہوگیا ہے جانِ من ہم سے خفا ہو کیا؟؟

وه اسکا ہاتھ پکڑ کر بولا۔۔

اس کی كراہیت آمیز آنکھیں ارشما کے وجود کا تیزی سے جائزہ لے رہی تھیں۔۔

ارشما کے جسم میں غصے کی شدید لہر دوڑگئی۔۔ وه پلٹی اور پوری قوت سے الٹے ہاتھ کا تھپڑ اس کے منہ پر دے مارا۔۔

اسے نفرت سے دیکھ کر اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے جھٹکے سے نکال کر وه پلٹی ہی تھی کہ اس لڑکے نے سارے لحاظ بالائے طاق رکھتے اسے کمر سے پکڑ کر جھٹکا دے کر دیوار سے لگا دیا۔۔

“آہ!!”

“چھوڑو مجھے گھٹیا انسان میں تمہارا منہ نوچ لوں گی۔۔”

وه اس کی گرفت میں پھرپھراتی چیخنے لگی۔۔

“چپ بلکل چپ بڑی بک بک سن لی میں نے تمهاری۔۔”

اس لڑکے نے اس کے منہ پر اپنا بھاری ہاتھ رکھ کر اسکی آواز کا گلا گھونٹ دیا۔۔

ارشما کو سانس لینے میں دقت ہونے لگی۔۔ اس کا رنگ زرد پڑ گیا۔۔

“کب سے ناٹنکی کر رہی ہے سالی جیسے تم جیسوں کے لئے یہ بڑا کوئی نیا کام ہے۔۔”

وه اس کے چہرے کو قریب سے دیکھتا اپنے لفظوں کا زہر اس کے کانوں میں انڈیلنے لگا۔۔

ارشما نے سرخ نظروں سے اسے دیکھتے اپنے دانت اس کے ہاتھ میں پوری شدت سے گاڑ دیے۔۔

“آاہ!!”

وه بلبلا اٹھا۔۔

وه چند قدم پیچھے ہٹا ہی تھا کہ ارشما نے گرتے پڑتے پاس گرا اپنا لیدر کا بیگ اٹھایا اور پوری قوت سے گھما کر اسکے منہ پر دے مارا۔۔

وه منہ پر ہاتھ رکھتا دوہرا ہوگیا۔۔

“یو بچ!!”

تمہارا بھائی تو کھلے عام رنگ رلیاں مناتا پھرتا ہے تم یہ نخرے کس لئے کررہی ہو آج چھوڑوں گا نہیں میں تمہیں!!!

سیدھا ہو کر ہزیان بکتا وه اس کے پیچھے دوڑا جو لڑکھڑاتی ہوئی وہاں سے بھاگی تھی۔۔

ہال میں آ کر اس نے سکھ کا سانس لیا۔۔ اپنے بکھرے حلیے کو درست کرتے وه جلدی سے ہوٹل کی عمارت سے باہر نکلی اور اپنی گاڑی میں آ کر بیٹھی۔۔

کانپتے ہاتھوں سے اس نے چابی لگائی اور کار کے دائیں جانب کھڑی اسے طنزیہ نظروں سے دیکھتی عورت کو نظر انداز کرتی وه زن سے گاڑی بهگا لے گئی۔۔

پورچ میں آ کر اس نے گاڑی روکی۔۔ اندر آ کر وه زور زور سے چلانے لگی۔۔

بھائی؟؟ بھائی؟؟ نیچے آئیں!!

اس کی آواز سن کر چند ملازم ڈرتے ہوئے اسکے پاس آئے۔۔

میڈم!! “سر کسی ضروری کام سے گئے ہیں۔۔ کہہ رہے تھے آپ کو انفارم کر دیں۔۔”

وه مؤدب سے بولے تو وه ناگواری سے سر جھٹکتی پرس زمین پر گھسیٹتی سیڑھیاں تیزی سے پھلانگتی اپنے کمرے میں آئی۔۔

پرس کو زور سے زمین پر مار کر وه شاور لینے کے لئے واش روم میں گھس گئی۔۔

جسم کو زور سے رگڑتی وه جیسے اسکا لمس مٹانے کی کوشش کررہی تھی۔۔

ہلکے پھلکے کپڑوں میں وه باہر نکلی اور اپنے بستر پر اوندھی گرتی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔

اس کا دل بے حد دکھ رہا تھا۔۔ وه اورهان کے بارے میں ایسی باتیں کیوں کررہا تھا۔۔ اور وه مجھے کیسی لڑکی سمجھ رہا تھا۔۔ اس کے سر میں شدید درد ہونے لگا تھا۔۔

لیٹے لیٹے ہاتھ بڑھا کر اس نے سائیڈ ٹیبل سے ٹیبلٹ نکالی اور ذرا سا اٹھتے پانی کا گلاس پکڑ کر گولی منہ میں ڈالتی پانی کے ساتھ نگل گئی۔۔

ہاتھ مار کر کمرے کی بتی بجھاتی وه آنکھیں موند گئی۔۔ اس وقت واحد چیز جو وه چاہتی تھی وہ نیند تھی۔۔

وه اپنے بیڈ پر آڑی ترچھی سی لیٹی کوئی رسالہ پڑھ رہی تھی۔۔ اس کے گیلے لمبے بھورے بال بیڈ کی سفید چادر پر پھیلے ہوئے تھے۔۔

سانولے چہرے پر مدھم مسکراہٹ تھی۔۔ سرخ ریشمی شلوار قمیض میں بیڈ پر لیٹی وه سرخ گلاب لگ رہی تھی۔۔

گهنی پلکیں بھوری آنکھوں پر سایہ فگن تھیں۔۔

وه محويت سے رسالہ پڑھ رہی تھی کہ دروازے پر آہٹ ہوئی اور سید محمد عبدالله شاہ ہلکی سی دستک دے کر اندر داخل ہوئے۔۔

وه ہڑبڑا کر اٹھی اور بیڈ پر گرا دوپٹہ پھیلا کر سر کو ڈھانپا۔۔

السلام علیکم بابا سائیں آئیں بیٹھیں!!

سر جھکا کر وه آہستہ سے گویا ہوئی۔۔

نہیں میں بیٹھنے نہیں آیا۔۔ ضروری کام ہے مجھے۔۔ تم کیسی ہو ؟ آج کل نظر نہیں آتی۔۔

وه پشت پر ہاتھ باندھ کر پورے روعب سے بولے۔۔

مشائم ان کی جانب حیرت سے دیکھنے لگی۔۔

کیا کچھ غلط کہہ دیا میں نے ؟؟

گهنی مونچھوں کی وجہ سے ان کے ہونٹ حرکت کرتے نظر نہ آتے تھے۔۔

نن نہیں بابا سائیں !! میں ٹھیک ہوں۔۔ وه میں کمرے میں ہی رہتی ہوں زیادہ،، آپ نے باہر آنے سے منع کیا تھا اس لئے۔۔

وه انگلیاں چٹخا کر گویا ہوئی۔۔

سید محمد عبدالله شاہ اسے چند لمحے دیکھنے کے بعد کہنے لگے۔۔

“تم آگے پڑھنا چاہتی تھی نہ ؟ پڑھ سکتی ہو لیکن۔۔۔۔ تمہیں بے حیا تعلیمی اداروں میں جانے کی اجازت نہیں ہے جہاں لڑکے لڑکیاں اکٹھے پڑھتے ہیں۔۔۔ ہم اسی شہر میں ایک ماسٹر کو جانتے ہیں جو ایک درس گاہ میں کئی بچیوں کو تعلیم دیتا ہے۔۔ تمهاری بھی وہیں بات کر لیں گے۔۔”

وه پھٹی پھٹی آنکھوں سے انہیں دیکھے گئی جیسے ان کی بات پر اسے یقین نہ آ رہا ہو۔۔

سچ بابا سائیں ؟؟ فرطِ مسرت سے وه کہہ گئی لیکن پھر احساس ہونے پر سے جھکا گئی۔۔

اب ہم اتنے بھی سخت نہیں ہیں جتنا تم سمجھتی ہو۔۔

وه اس کے سر پر ہاتھ رکھتے بولے اور واپس جانے کے لیے پلٹے۔۔

اور ہاں ملازموں کی غیر موجودگی میں تم لان میں جا سکتی ہو لیکن پردے کا خیال رہے۔۔

جاتے جاتے وه اسے ایک اور نوید سنا گئے۔۔

وه اچانک ان کے مہربان ہونے کی وجہ سمجھ نہیں سکی۔۔ خیر مجھے کیا ۔۔ وه ان کی باتیں یاد کرتی خوشی سے جھوم اٹھی۔۔

اس کے بال بکھر کر اس کے کاندھے پر آ ٹھہرے۔۔

یہ بڑے سائیں خیر سے آپ کے کمرے میں آئے تھے مشی بی بی ؟

نگہت اندر آتی نان سٹاپ بولتی جاتی لیکن اسے مسکراتے دیکھ کر اس کی زبان کو بریک لگا۔۔

“ماشاءالله بہت سوہنی لگ رہی ہیں آپ” سچی بہت کھلا ہے یہ رنگ آپ پر۔۔!!

وه بے ساختہ اس کی تعریف کرنے لگی تو مشائم کے گال سرخ ہوئے۔۔

بتائیں نہ مشی بی بی بڑے شاہ سائیں کیوں آئے تھے۔۔ میں تو ان کو آپ کے کمرے میں آتا دیکھ کر گھبرا ہی گئی تھی۔۔

اس کے چہرے پر فکر تھی۔۔ مشائم نے پیار سے اس کا ہاتھ پکڑا اور بیڈ پر اس کے ساتھ بیٹھ کر اسے من و عن ساری بات کہہ سنائی۔۔

نگہت بھی شدید حیرت زدہ ہوئی۔۔ مشائم اسے حیرت زدہ چھوڑ کر کھڑکی کے قریب چلی آئی۔۔ باہر جھانک کر اس نے دیکھا تو ہلکے ہلکے بادل تھے۔۔ دھوپ کا کہیں نام و نشان تک نہ تھا۔۔

خضدار کا موسم آج کل خوشگوار رہتا تھا۔۔ البتہ راتیں ہلکی سی خنک ہوجاتی تھیں۔۔

نگہت لان میں یہ جو اکا دکا ملازم ہیں ان کو وہاں سے بھیج دو واپس كوارٹرز میں۔۔ میں کچھ دیر تک آتی ہوں۔۔

اس کے حکم پر وه سر ہلاتی باہر چلی گئی۔۔

وه مصروف سے انداز میں دروازه بند کرتا تنگ سی گلی سے گزر کر سڑک کی طرف جانے والے راستے پر بڑھ گیا۔۔

لمبے لمبے ڈگ بھرتے وه اپنے دیهان میں جارہا تھا کہ ایک گلی کے نکڑ پر کھڑے دو لڑکوں پر اس کی نظر پڑی جو چادر میں چھپی ایک لڑکی کا راستہ روکے ہوئے تھے۔۔

ارد گرد گزرتے لوگ اس بےبس لڑکی کی مدد کرنے کی بجائے تماشا دیکھ رہے تھے۔۔

صالح کے ماتھے پر پہلے سے پڑے بلوں میں مزید بل کا اضافہ ہوگیا۔۔

اس نے سیاہ بٹنوں والی شرٹ کے بازو کھول کر کہنیوں تک موڑے اور جبڑے بھینچے ان لڑکوں کی جانب آیا۔۔

صالح بھائی !!

ان میں سے ایک لڑکا اسے دیکھ کر گھبرا گیا۔۔

صالح نے آؤ دیکھا نہ تاؤ پوری قوت سے ایک گھونسا اس کے منہ پر دے مارا۔۔

یکے بعد دیگرے اس نے دونوں کو مار مار کر ادھ موا کر دیا۔۔

معافی مانگو بہن سے!!

اس نے کچھ فاصلے پر کھڑی لڑکی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے درشتگی سے کہا جو اس صورتحال سے گھبرا گئی تھی۔۔

معاف کر دیں بہنا!!

وه دونوں ہاتھ باندھ کر لڑکھڑاتے ہوئے کھڑے ہوگئے۔۔ دونوں کا حشر نشر ہو چکا تھا۔۔

شکریہ !! وه لڑکی ان کو جواب دیے بغیر صالح کا شکریہ ادا کرتی وہاں سے نکلتی چلی گئی۔۔

“آج کے بعد کسی نے کسی لڑکی کو چھیڑا تو خدا کی قسم شاہ سائیں کے رو برو پیش کر کے کتوں سے بدتر سلوک کروں گا اس کے ساتھ”

وه مجمع پر نظر ڈال کر انگلی اٹھاتا سرد مہری سے بولا۔۔

“سالے تماشا دیکھنے آ جاتے ہیں سب۔۔۔”

ناگواری سے انہیں دیکھتا وه سڑک پر کھڑی جیپ کے پاس آیا جو وه اکثر اسی راستے کھڑی کر دیتا تھا کیونکہ کچے پکے راستوں پر جہاں بے شمار گڑھے تھے جیپ چلانا مشکل کام تھا۔۔

ڈیڑھ گھنٹے بعد وه حویلی کے سامنے جیپ روکتا اندر داخل ہوا۔۔

اسے بلیک پینٹ شرٹ میں ملبوس دیکھ کر گیٹ پر ڈیوٹی دیتا بنے خان جل کر کوئلہ ہوگیا۔۔ اسے صالح یوسف سے نہایت چڑ ہوتی تھی۔۔

صالح بھینچے لبوں اور سرد نظروں سے ادھر ادھر کا جائزہ لیتا اندر جا رہا تھا کہ اس کی نگاہیں لان میں دوسری جانب کو مڑتی راہ داری میں دیوار کے قریب پھول بوٹوں سے سجی کیاری کے پاس کھڑی لڑکی پر ٹھہر گئیں جو اسکی جانب پشت کئے کھڑی تھی۔۔

وه پل میں جان گیا تھا کہ وه کون ہو ہے۔۔

ابھی ابھی نگہت وہاں سے کچھ کھانے پینے کا سامان لینے گئی تھی جس کی وجہ سے وه لان میں اکیلی رہ گئی تھی۔۔

وه لان سے منسلک تنگ راہداری میں آ گئی تھی جو حویلی کی پچھلی جانب جاتی تھی۔۔ بے شمار پودوں اور نیچے لٹکتی بیلوں کی وجہ سے یہاں سے باآسانی کسی کو دیکھا نہیں جا سکتا تھا۔۔

صالح کے ماتھے پر بل پڑے۔۔ کیونکہ وه اس بات سے با خوبی واقف تھا کہ ملازموں کی وجہ سے یہاں عورتوں کا آنا منع تھا تو پھر بی بی یہاں کیا کررہی ہیں۔۔؟؟

سوچتے سوچتے اسکی نظر دور کوارٹر سے جھانکتے ایک لڑکے پر پڑی جسکی نظریں لان میں ٹکی تھیں۔۔

صالح کو مشائم کی لا پرواہی پر بے حد غصہ آیا۔۔ جبڑے بھنچے وه لان کے اس حصے کی جانب بڑھا جہاں مشائم کھڑی تھی۔۔

اتنے حسین موسم میں وه جو پھولوں کی خوشبو سے مسحور ہوتی اپنے آپ میں گم کھڑی تھی اپنے پیچھے قدموں کی آہٹ پر وه چونکی۔۔

اس نے جلدی سے سرخ آنچل کا پلو چہرے پر ڈال لیا۔۔ ریشمی سرخ لباس میں کھڑی وه پلٹی تو اپنے سامنے یوسف کو دیکھ کر جھجھک کر دو قدم پیچھے ہٹی جو سیاہ سرد آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔

اس کی بھوری بڑی بڑی آنکھوں میں ایک پل کو خوف نظر آیا لیکن پھر وه نارمل ہو گئی۔۔

“بی بی اندر جائیں آپ کو اس وقت یہاں نہیں ہونا چاہیے۔۔”

وه قطعی انداز میں بولا تو مشائم کو پتنگے لگ گئے۔۔

کیوں جاؤں میں اندر ؟؟ تم کون ہوتے ہو مجھے حکم دینے والے؟؟

وه اکھڑ لہجے میں بولی تو یوسف جو پہلے سے تپا ہوا آیا تھا اس کے لہجے پر مذید سیخ پا ہوا۔۔

“آپ بحث میں نہ پڑیں میرے ساتھ بی بی یہاں ملازموں کا آنا جانا ہے شاہ سائیں کو پتہ چلا تو وه مجھ سے سوال کریں گے۔۔ آپ جائیں !!”

بار بار اس کے یہاں سے جانے کی رٹ پر غصے کی شدید لہر اسکے بدن میں اٹھی۔۔

“میں نے کہا نہ میں نہیں جاؤں گی یہاں سے بابا سائیں کی اجازت سے آئی ہوں مجھے اور کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں اور آئندہ مجھ سے اس لہجے میں بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے ملازم ہو ملازم ہی رہو۔۔”

اس نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہا تو یوسف کا ضبط جواب دے گیا۔۔

اس نے مشائم کو بازو سے کھینچ کر جھٹکے سے دیوار سے لگا دیا۔۔

مشائم نے دوپٹہ چہرے سے سرکنے سے پہلے ہی جلدی سے دوپٹے پر ہاتھ رکھ دیا۔۔

“میں شاہ سائیں کا وفادار ہوں آپ کا یا کسی اور کا نوکر نہیں اس لئے آئندہ آپ بھی مجھ سے اس لہجے میں بات کرنے سے اجتناب کیجئے گا۔۔”

وه نیچی آواز میں داڑھا تو مشائم نے خوف سے آنکھیں میچ لیں۔۔

چند سیكنڈ بعد اس نے آنکھیں کھولیں تو بھورے نینوں سے شفاف پانی موتیوں کی مانند باڑ توڑ کر نکلنے پر بیتاب ہوا۔۔

دو آنسو اسکی آنکھوں کے کنارے ٹھہر گئے۔۔

صالح نے جھٹکے سے اسے آزاد کیا۔۔ اس کا چہرہ بےحد سپاٹ تھا۔۔

اس کی آہنی گرفت سے آزاد ہوتے ہی وه درد کرتے بازو کو دیکھ کر منہ پر نقاب درست کرتی اسے شکایتی نظروں سے دیکھتی وہاں سے بھاگتی ہوئی نکلتی چلی گئی۔۔